امریکی سفیر سے ڈگری نہ لینے والا طالب علم غائب


روٹس کالج کی تقریب میں امریکی سفیر کے ہاتھوں ڈگری لینے سے انکار کرنے والے طالب علم صمد خرم کا نیشنل لائبریری سے انتظامیہ کے ہمراہ جانے کے بعد کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ دارالحکومت کے صحافی گزشتہ روز صمد خرم سے رابطہ کرنے کی کوشش کرتے رہے مگر نہ اس کا کوئی اتہ پتہ معلوم ہوسکا نہ روٹس ہیڈ آفس راولپنڈی سے کوئی اطلاع مل سکی جبکہ طالب علم کے انکار کے بعد خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اسے ہارورڈ یونیورسٹی کی ڈگری سے محروم کردیا جائے گا جہاں اس نے امریکی سکالرشپ پرتعلیم حاصل کی۔ ’’جناح‘‘ نے گزشتہ روز روٹس ہیڈ آفس رابطہ کیا تو ایک خاتون نے بتایا کہ یہاں چھٹیاں ہیں اور کوئی ذمہ دار شخص بات کرنے کے لئے میسر نہیں۔ ان سے کہا گیاکہ گھر کا یا موبائل نمبر فراہم کر دیں تو انہوں نے ٹال دیا تاہم اس سوال پر کہ کیا روٹس کالج نے طالب علم کے خلاف کوئی انضباطی کارروائی کرلی ہے خاتون نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ایسی کوئی بات نہیں۔ ایکشن کی ضرورت نہیں۔ علاوہ ازیں معلوم ہوا ہے کہ صمد خرم انتہائی غیر معمولی صلاحیتوں کا حامل طالب علم ہے کیمبرج انٹرنیشنل امتحان 2005ء میں اس نے A لیول میں  7 اے حاصل کئے۔ بعدازاں ہارورڈ یونیورسٹی سے اسے 2 لاکھ  50 ہزار ڈالر کی فل سکالرشپ ملی جہاں وہ 4 سال تک زیر تعلیم رہا۔ اب وہ یونیورسٹی کی ڈین لسٹ میں شامل ہے اور شمالی امریکہ کے انگلش پارلیمانی مقررین میں اس کا دوسرا نمبر ہے۔ ہارورڈ فاؤنڈیشن اسے ایوارڈ دے چکی ہے۔ فزکس اولمپیڈ 2005ء  کے لئے اسے پاکستان سے بہترین فزیشسٹ کے طورپر منتخب کیا گیا تھا۔


رپورٹ - روزنامہ جناح


 


وڈیو لنک


 


 



 


 



 

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

وزیر اعلٰی شکایت سیل

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

لاہور کی پیداوار

لاہور کی سب سے مشہور پیداوار یہاں کے طلباء ہیں جو بہت کثرت سے پائے جاتے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں دساور کو بھیجے جاتے ہیں۔ فصل شروع سرما میں بوئی جاتی ہے۔ اور عموماً اواخر بہار میں پک کر تیار ہوتی ہے۔

طلباء کی کئی قسمیں ہیں جن میں سے چند مشہور ہیں، قسم اولی جمالی کہلاتی ہے، یہ طلباء عام طور پرپہلے درزیوں کے ہاں تیار ہوتے ہیں بعد ازاں دھوبی اور پھر نائی کے پاس بھیجے جاتے ہیں۔ اور اس عمل کے بعد کسی ریستوران میں ان کی نمائش کی جاتی ہے۔ غروب آفتاب کے بعد کسی سینما یا سینما کے گردونواح میں:

رُخِ روشن کے آگے شمع رکھ کر وہ یہ کہتے ہیں
اُدھر جاتا ہے دیکھیں یا اِدھر پروانہ آتا ہے

شمعیں کئی ہوتی ہیں، لیکن سب کی تصاویر ایک البم میں جمع کرکے اپنے رکھ چھوڑتے ہیں، اور تعطیلات میں ایک ایک کو خط لکھتے رہتے ہیں۔ دوسری قسم جلالی طلباء کی ہے۔ ان کا شجرہ جلال الدین اکبر سے ملتا ہے، اس ليے ہندوستان کا تخت وتاج ان کی ملکیت سمجھا جاتا ہے۔ شام کے وقت چند مصاحبوں کو ساتھ ليے نکلتے ہیں اور جودوسخا کے خم لنڈھاتے پھرتے ہیں۔ کالج کی خوارک انہیں راس نہیں آتی اس ليے ہوسٹل میں فروکش نہیں ہوتے۔ تیسری قسم خیالی طلباء کی ہے۔ یہ اکثر روپ اور اخلاق اور اداگون اور جمہوریت پر باآواز بلند تبادلہٴ خیالات کرتے پائے جاتے ہیں اور آفرینش اور نفسیات جنسی کے متعلق نئے نئے نظریئے پیش کرتے رہتے ہیں، صحت جسمانی کو ارتقائے انسانی کے ليے ضروری سمجھتے ہیں۔ اس ليے علی البصح پانچ چھ ڈنٹر پیلتے ہیں، اور شام کو ہاسٹل کی چھت پر گہرح سانس لیتے ہیں، گاتے ضرور ہیں، لیکن اکثر بےسرے ہوتے ہیں۔ چھوتھی قسم خالی طلباء کی ہے۔ یہ طلباء کی خالص ترین قسم ہے۔ ان کا دامن کسی قسم کی آلائش سے تر ہونے نہیں پاتا۔ کتابیں، امتحانات، مطالعہ اور اس قسم کے خرخشے کبھی ان کی زندگی میں خلل انداز نہیں ہوتے۔ جس معصومیت کو ساتھ لے کر کالج میں پہنچتے تھے، اسے آخر تک ملوث ہونے نہیں دیتے اورتعلیم اور نصاب اور درس کے ہنگاموں میں اس طرح زندگی بسر کرتے ہیں جس طرح بتیس دانتوں میں زبان رہتی ہے۔

پچھلے چند سالوں سے طلباء کی ایک اور قسم بھی دکھائی دینے لگی ہے، لیکن ان کو اچھی طرح سے دیکھنے کےليے محدب شیشے کا استعمال ضروری ہے، یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ریل کا ٹکٹ نصف قیمت پر ملتا ہے اور اگر چاہیں تو اپنی انا کے ساتھ زنانے ڈبے میں بھی سفر کرسکتے ہیں۔ ان کی وجہ سے اب یونیورسٹی نے کالجوں پر شرط عائد کر دی ہے کہ آئندہ صرف وہی لوگ پروفیسر مقرر کئے جائیں جو دودھ پلانے والے جانوروں میں سے ہوں۔

پطرس بخاری کی "لاہور کا جغرافیہ" سے اقتباس
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

مسلم دنیا کے دو صدور

ایرانی صدر احمدی نژاد


 









 


 پاکستانی صدر پرویز مشرف


 









مکمل تحریر اور تبصرے >>>

پاکستانی سیاست ۔ کارٹونسٹ کی نظر میں









 


کالم
ظل الہی سے ملاقات
کشمیر پر پاک انڈیا ڈائیلاگ ٠١، ٠٢

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

درِ دل کشا

وقت اور حادثات ہماری شخصیت پر تعمیری اور تخریبی تجربے کرتے رہتے ہیں۔ ہر لحظہ ہم کچھ کھوتے، کچھ پاتے ہیں لیکن کیا جبلی طور پر ہم بدل بھی جاتے ہیں؟
شاید یہ کہا جا سکے کہ ایک اہم حادثہ ہو جانے کے بعد ہم وہ نہیں رہتے جو پہلے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ وقت گزر جاتا ہے یا ہم خود گزر جاتے ہیں؟
اگر تم آئیڈیل کی تلاش میں ہو تو اسے اپنی ہونے والی بیوی میں نہ ڈھونڈنا۔ اگر پا بھی لو گے تو کچھ عرصہ بعد سوچو گے کہ دھاکا ہوا حالانکہ اس میں وہ سب خوبیاں موجود تھیں جو تم نے چاہی تھیں۔
 دوسروں کی تکریم وہی کرتا ہے جسے اپنی عزتِ نفس کا پاس ہو، جس شخص کی نظر میں اپنی ذات لائق احترام نہیں وہ دوسروں کو ذلیل کرنے میں پیش پیش ہو گا۔


منظور الہی، درِ دل کشا

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

جو قاتل تھے مقتول ہوئے

جو قاتل تھے مقتول ہوئے جو صید تھے صیاد ہوئے
ہم تم سے پہلے بھی یہاں منصور ہوئے فرہاد ہوئے
فیض نہ ہم یوسف نہ کوئی یعقوب جو ہم کو یاد کرے
اپنی کیا کنعاں میں رہے یا مصر میں جا آباد ہوئے
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

حج اور عمرہ کرایوں میں اضافہ

پی آئی اے کے ایم ڈی اعجاز ہارون نے کہا ہے کہ رواں سال حج اور عمرے کے کرایوں میں سو فیصد اضافے کا امکان ہے۔ اس کی وجہ انہوں نے عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قرار دیا ہے۔ اس بارے انہوں نے مزید کہا کہ پی آئی اے پہلے ہی خسارے میں ہے اور مزید خسارہ برداشت نہیں کیا جاسکتا۔
پی آئی اے کے ایم ڈی اعجاز ہارون کا یہ بیان انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے کہ حج اور عمرے کے کرایوں میں سو فیصد اضافہ ہو گا اور ان کی یہ منطق بھی سمجھ سے باہر ہے کہ یہ سب کچھ عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے ہے جو انتہائی غیر معقول اور ناقابل قبول ہے۔ موصوف سے پوچھنے والا کوئی نہیں کہ تیل کی قیمتوں تو ابھی ایک دو ماہ سے بڑھنا شروع ہوئی ہیں اور پھر ان میں کمی کا اندیشہ بھی بدستور موجود ہے۔ آپ ان سے آج کی بڑھی ہوئی تیل کی قیمتوں سے کرایہ وصول کر رہے ہیں جبکہ حاجیوں کی روانگی چھے ماہ بعد ہو گی۔
ابھی یکم مئی کو پی آئی اے نے عمرہ کرایوں میں ٦٣٠٠ اور اس کے بعد ٢٦ مئی کو ٧٨٠٠ روپے کا یکمشت اضافہ کیا ہے۔ جس کی وجہ سے عمرہ کرایہ ٣٤٠٠٠ سے بڑھ سے ٤٨٠٠٠ ہو گیا ہے اور ٹھیک انہی دنوں میں پی آئی اے کے ایم ڈی کا یہ کہنا کہ کرایوں میں سو فیصد اضافہ یعنی ٤٨٠٠٠ کا دگنا ٩٦٠٠٠ کر دیا جائے، انتہائی ظالمانہ سوچ اور استحصالی نظام کی عکاس ہے۔ جو پی آئی اے کے ارباب و اختیار کی لوٹ مار اور کرپشن کو واضح کرتی ہے۔
حیران کن بات یہ کہ بنگلہ دیش کی ائیرلائن بیمان ائیر اور انڈیا کی ائیرلائن ائیرانڈیا بھی اسی مارکیٹ اور آئل کمپنیوں سے تیل خرید کرتی ہیں جہاں سے پی آئی اے کرتی ہے مگر ان ائیرلائیز کا کرایہ پاکستان سے انتہائی کم ہے جبکہ سفر پاکستان سے بہت زیادہ۔ انتہائی اہم بات یہ بھی کہ انڈیا نے گزرے سال میں ایک لاکھ دس ہزار عازمین کو حج کے لئے روانہ کیا اور اس پر تین ارب کی سبسڈی دی جو پاکستان جیسے اسلامی ملک کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ خود میں بارہ سال سے اس فیلڈ سے منسلک ہوں۔ ان بارہ سالوں میں میں نے لندن، پیرس، نیویارک اور دیگر سیکٹر کے کرایوں میں اتنی تیزی اور تسلسل سے اضافہ کبھی نہیں دیکھا جتنی تیزی سے حج اور عمرے کے کرایوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
کیا تیل کی بڑھتی ہوئی قیمت کا اطلاق صرف حج اور عمرے کی سعادت حاصل کرنے والوں پر ہوتا ہے؟
کیا لندن، پیرس، نیویارک اور دیگر سیکٹر کی پروازوں خصوصی ڈسکاؤنٹ ملتا ہے؟
پی آئی اے کے ایم ڈی کا یہ بھی کہنا ہے کہ پی آئی اے پہلے ہی خسارے میں ہے اور مزید خسارہ برداشت نہیں کیا جاسکتا تو کیا یہ سارا خسارہ مذہبی فریضے کی ادائیگی کرنے والوں سے پورا کیا جائے گا؟۔ پی آئی اے نے دگنے اضافے کی جو سمری بھجوائی ہے اس میں صرف حج اور عمرے پر جانے والی پروازوں میں دگنے اضافے کا ذکر ہے جبکہ دیگر ممالک میں جانے والی پروازں کے کرایوں میں اضافے کا کوئی ذکر نہیں۔
انتہائی افسوسناک صورتحال ہے۔ مقامی سطح پر چلنی والی ائیرلائیز ائیربلیو اور شاہین ائیر پی آئی اے سے انتہائی کم کرایہ لینے کے باوجود انتہائی منافع بخش کاروبار کر رہی ہیں جبکہ پی آئی اے اپنے زیادہ کرایہ کے ساتھ بھی نقصان میں جا رہی ہے۔ اصل میں اس وقت پی آئی اے وہ سونے کی مرغی بن چکی ہے جسے ہر کوئی ہڑپنے کے لئے تیار بیٹھا ہے۔ اس وقت کرایوں میں اضافے کی بجائے ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک تحقیقاتی کمیٹی بنائی جائے جو پی آئی اے کی آمدنی، اخراجات اور گوشواروں کا جائزہ لے اور یہ پتہ لگائے کہ عوام کے خون پسینے کی کمائی آخر کہاں جا رہی ہے۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

آئینی پیکیج

نئے آئینی پیکیج کے تحت تمام معزول ججوں اورچیف جسٹس صاحبان کو2نومبر والی پوزیشن پر بحال کر دیا جائے گا۔نئے آئینی پیکیج میں صدر مشرف کے3 نومبر2007کے اقدامات کوآئینی تحفظ دینے کی تجویز دی گئی ہے۔


پیپلزپارٹی کی جانب سے تیار کیا گیا 80نکاتی آئینی پیکیج منظرعام پرآگیا ہے جس میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سمیت اعلیٰ عدلیہ کے تمام ججوں کو 2نومبرکی پوزیشن اور سینیارٹی پربحال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔


آئینی پیکیج میں یہ تجویز دی گئی ہے کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس اور ہائی کورٹس کے چیف جسٹسسز سمیت اعلیٰ عدلیہ کے تمام جج جنہیں3نومبر2007کو کام کرنے سے روک دیا گیاتھا،2نومبر2007کی پوزیشن اور سینیارٹی پر بحال ہوجائیں گے تاہم ریٹائرمنٹ کی عمر مکمل کرنے اور کسی سرکاری ادارے میں کام کرنے والے جج صاحبان اس میں شامل نہیں ہوں گے ۔


آئینی پیکیج کے دیگراہم نکات میں یہ تجاویز دی گئی ہیں ۔ایک بار چیف جسٹس رہنے والا دوبارہ یہ عہدہ حاصل نہیں کرسکے گا۔ججز کی مدت ملازمت کا فیصلہ صلاح مشورہ سے ہوگا،آئین توڑنے والوں پرغداری کے مقدمات چلائے جائیں گے۔اہم عہدوں پرتقرری کے اختیارت وزیراعظم کو دینے کی تجویز ہے جبکہ صدر وزیراعظم کے مشورے پر15دن میں عمل کا پابند ہوگا۔سپریم کورٹ میں چاروں صوبوں کو مساوی نمائندگی دینے اورمقامی حکومتوں سے انتظامیہ کے اختیارات واپس لیکرصوبوں کودینے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے ۔جبکہ قدرتی وسائل کی آمدنی کا50فی صد صوبوں کو دینے اور کنکرنٹ لسٹ ختم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے ۔پیکیج میں خواتین اوراقلیتوں کی نشستوں کو چھوڑ کر17ویں ترمیم ختم کرنے اورسینیٹ میں میں اقلیتوں کیلئے5نشستیں مخصوص کرنے کیلئے اوراین ایف سی میں وفاقی محاصل کی تقسیم آبادی اور وسائل کی بنیاد پر کرنے کا نکتہ بھی شامل ہے ۔وزیراعلیٰ کے مستعفی ہونے پرگورنر سینئر صوبائی وزیرکو حلف لینے کی دعوت دیگا وزیراعظم کے مستعفی ہونے پرسینئر وزیر وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالے گا۔کابینہ کے ارکان نئے وزیراعظم کے انتخاب تک فرائض ادا کرتے رہیں گے۔وزیراعظم کیخلاف عدم اعتماد کی قرارداد میں نئے وزیراعظم کا نام بھی دینا ہوگا۔اعلان جنگ کا اختیار وزیراعظم کو دینے کی تجویز ہے۔چیف جسٹس کے از خود نوٹس لینے کے اختیارات پر بعض پابندیوں کی تجویزعدالت عظمیٰ کے از خود نوٹس کے اختیارات پانچ رکنی بینچ استعمال کرسکے گا۔سپریم کورٹ کے ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر68سال مقررکرنے کی تجویز دی گئی ہے۔


آئینی پیکیج کے تحت آئین کی کئی شقوں میں ترمیم اور صدر سے قومی اسمبلی توڑنے کا اختیار واپس لینے کی بھی تجویز ہے ۔ذرائع کے مطابق آئینی پیکیج میں صدر پرویز مشرف کے3 نومبر کے اقدامات کو قانونی تحفظ دینے اور12 جولائی سے15دسمبر2007 کے درمیان کیے گئے اقدامات کو آئینی تحفظ دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے تاہم اسے تحریری طورپر مسودے میں شامل نہیں کیا گیا۔ بحوالہ روزنامہ جنگ

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

لوکل کالز فری

پی ٹی سی ایل نے رات 11 بجے سے لیکر صبح چھ بجے تک تمام لوکل کالز فری کرنے کا اعلان کردیاہے جس کے تحت یہ سروس آج (اتوار) یکم جون سے شروع ہوگی۔ پی ٹی سی ایل کے ایس ای وی پی کمرشل ڈاکٹر صادق الجادرکے مطابق آئی ٹی کے شعبے میں انقلاب کے بعد پی ٹی سی ایل نے گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان پیکج ‘ ملک بھر میں لوکل کالز ‘ کم سے کم کال ریٹس ‘ کم سے کم لائنٹ‘ بہترین سروس مہیا کرنے میں اہم اقدامات کئے۔ بحوالہ روزنامہ جنگ


 

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

بلاگر حلقہ احباب