تنہا ایک میں
سینکڑوں لاکھوں مسائل اور تنہا ایک میں
آندھیوں گرداب موجوں اور طوفانوں کے ساتھ
در پئے آزاد ساحل اور تنہا ایک میں
میں جنہیں اپنا سمجھتا تھا انہیں ہمراہ لئے
آ رہا تھا میرا قاتل اور تنہا ایک میں
ایسے عالم میں کہاں جاؤں کسے آواز دوں
آگ صحرا دور منزل اور تنہا ایک میں
درد آنسو بیقراری یاس اور دیوانگی
کاوش پیہم کا حاصل اور تنہا ایک میں
ایک تو ۔۔ کہ زندگی دراصل تجھ پر ختم ہے
آبلہ پا روح گھائل اور تنہا ایک میں
فرحت شہزاد
عجیب ہے
سرشاریء وصال حسین تر سہی مگر
جو ہجر نے عطا کی وہ لذت عجیب ہے
امید کی ہر ایک کلی نوچ لی گئی
مایوسیوں کی دل میں بغاوت عجیب ہے
خود زندگی عطا کی مگر خود ہی چھین لی
انسان پر خدا کی عنایت عجیب ہے
خوشیوں سے بچ کر رہنا غموں کی تلاش میں
اپنے ہی آپ سے یہ عداوت عجیب ہے
فرحت شہزاد
زخموں کی بات
خالق کائنات کی بات رہنے دے
کیسے گزری حیات رہنے دے
تیری رحمت پہ حرف آئے گا
میرے زخموں کی بات رہنے دے
فرحت شہزاد
یہ آگ کیسے ٹھنڈی ہو؟
جین مائیکل کارا دیش فرانس کا ایک معروف صحافی ہے۔ اس نے حال ہی میں پاکستان میں طالبان کے سابق سفیر ملا عبدالسلام ضعیف کی کتاب کا فرنچ زبان میں ترجمہ کیا ہے۔ یہ چھوٹی سی کتاب دو سال قبل پشتو میں شائع ہوئی تھی اور پھر اس کا فارسی ترجمہ بھی شائع ہوا۔ جین کا خیال ہے کہ بظاہر یہ کتاب ملا عبدالسلام ضعیف کی بگرام، قندھار اور گوانتا ناموبے جیل میں گزری یادوں پر مشتمل ہے لیکن یہ صرف ایک قیدی کی یادیں نہیں بلکہ وہ وجوہات ہیں جن کے باعث افغانستان میں طالبان کی مزاحمت ختم ہونے میں نہیں آرہی ۔ جین نے ملا عبدالسلام ضعیف کی کتاب کا ترجمہ محض اس لئے کیا ہے کہ مغرب میں رہنے والے عام لوگوں کو پتہ چلے کہ مسلمانوں کا ایک گروہ ان سے شدید نفرت کیوں کرتا ہے۔ گوانتا ناموبے جیل کے قیدی نمبر تین سو چھ کی یاداشتیں پڑھ کر ہر سچے پاکستانی کا سرشرم سے جھک جاتا ہے کیونکہ ملا عبدالسلام ضعیف کی تذلیل بگرام سے نہیں بلکہ اسلام آباد اور پشاور سے شروع ہوئی تھی۔
ملا عبدالسلام ضعیف نے اپنی کتاب کا آغاز ایک خواب سے کیا ہے۔ پاکستان میں گرفتاری سے چھ دن قبل انہوں نے خواب دیکھا کہ ان کا بڑا بھائی ہاتھ میں چھری تھامے آیا اور انہیں کہا کہ وہ ذبح ہونے کیلئے تیار ہوجائیں۔ ضعیف نے بھائی کو بہت سمجھایا لیکن بھائی انہیں ذبح کرنے پر بضد تھا۔ آخر کار ضعیف اس خیال سے زمین پر لیٹ گئے کہ بھائی کے دل میں رحم آجائے گا لیکن بھائی نے ان کے گلے پر چھری پھیر دی، اس خواب نے ضعیف کو پریشان کردیا۔ چھ دن کے بعد 2جنوری 2002 کو ملا عبدالسلام ضعیف کو اسلام آباد میں گرفتار کیا گیا۔ سیاہ رنگت والے ایک بھاری بھرکم فوجی افسر نے ضعیف سے کہا کہ امریکہ ایک بہت بڑی طاقت ہے، کوئی اس کا حکم ماننے سے انکار نہیں کرسکتا۔ امریکہ کو پوچھ گچھ کیلئے آپ کی ضرورت ہے لہٰذا آپ کو ہمارے ساتھ چلنا ہوگا۔ ضعیف نے اس سیاہ رنگ شخص سے بحث شروع کردی لیکن اس ”فہیم“ شخص سے بحث کا کوئی فائدہ نہ ہوا۔ ضعیف کو گرفتار کرکے پشاور لے جایا گیا۔ تین دن کے بعد انہیں آنکھوں پر پٹی باندھ کر ایئرپورٹ لے جایا گیا جہاں ایک ہیلی کاپٹر تیار کھڑا تھا۔ پاکستانی حکام نے اپنے قیدی کو جیسے ہی امریکیوں کے حوالے کیا تو انہوں نے ملا عبدالسلام ضعیف پر لاتوں اور گھونسوں کی بارش کردی۔ پھر چاقوؤں سے اس باریش قیدی کے تمام کپڑے پھاڑ دیئے گئے اور زمین پر الٹا لٹا کر مارا گیا۔ تشدد کے دوران ضعیف کی آنکھوں پر بندھی پٹی اتر گئی تو انہیں نظر آیا کہ ایک طرف قطار میں پاکستانی فوجی اور ان کی گاڑیاں کھڑی تھیں اور دوسری طرف امریکی انہیں بے لباس کرکے مار رہے تھے۔ ضعیف لکھتے ہیں کہ ”ان لمحات کو میں قبر تک نہیں بھول سکوں گا۔“
پشاور سے بگرام لے جاکر ملا عبدالسلام ضعیف کو بغیر کپڑوں کے برف پر پھینک دیا گیا اور امریکہ کی فوجی خواتین ایک بے لباس مسلمان کے سامنے کھڑے ہو کر تین گھنٹے تک گانے گاتی رہیں۔ بگرام میں کئی دن کی مار پیٹ کے بعد ضعیف کو قندھار بھجوایا گیا۔ قندھار میں ایک دفعہ پھرضعیف اور دیگر قیدیوں کو ننگا کرکے سب کی تصاویر لی گئیں۔ایک دن قندھار جیل میں ضعیف نماز فجر کی امامت کروا رہے تھے جیسے ہی وہ سجدے میں گئے تو ایک امریکی فوجی ان کے سر پر بیٹھ گیا۔ یہ نماز ضعیف کو دوبارہ پڑھنی پڑی۔ اپنی کتاب میں ملا عبدالسلام ضعیف لکھتے ہیں کہ امریکیوں کو جلد ہی معلوم ہوگیا کہ ہم ہر قسم کا تشدد برداشت کرلیتے ہیں لیکن قرآن مجید کی توہین برداشت نہیں کرتے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ قندھار جیل میں امریکی فوجی (نعوذباللہ) قرآن مجید پر پیشاب کرکے اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتے تھے اور قیدی یہ منظر دیکھ کر روتے تھے۔ آخر کار قیدیوں نے اپنے تمام قرآن اکٹھے کرکے ہلال احمر کو دے دیئے تاکہ ان کی توہین نہ ہو۔ عبدالسلام ضعیف نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ قندھار جیل سے انہیں گوانتا ناموبے جیل منتقل کیا گیا اور بد قسمتی سے یہاں بھی قرآن مجید کی توہین کا سلسلہ جاری رہا۔ اس امریکی جیل میں ساڑھے تین سالہ قید کے دوران کم از کم دس مرتبہ قرآن مجید کی توہین ہوئی۔ ضعیف کے بقول ”امریکی قرآن کی بے حرمتی کرکے مسلمانوں کو یہ پیغام دیتے تھے کہ تم ہمارے غلام اور تمہارا دین و قرآن ہمارے لئے قابل احترام نہیں۔“
گوانتا ناموبے جیل میں امریکی فوجیوں کے ظلم و زیادتی کے خلاف ملا عبدالسلام ضعیف نے کئی مرتبہ بھوک ہڑتالیں کیں۔ ایک سے زائد مرتبہ کرزئی حکومت کے نمائندے انہیں ملنے جیل آئے اور مشروط رہائی کی پیشکش کی، ضعیف انکار کرتے رہے۔ آخر کار انہوں نے خود ایک تحریر لکھی… ”میں مجرم نہیں ہوں، میں نے کبھی کوئی جرم نہیں کیا، ایک مظلوم مسلمان ہوں جس کے ساتھ پاکستان اور امریکہ نے ظلم کیا اور چار سال قید میں رکھا میں یقین دلاتا ہوں کہ امریکہ کے خلاف سرگرمیوں میں حصہ نہیں لوں گا۔“ اس تحریر کے بعد انہیں رہا کرکے کابل بھیج دیا گیا اور ایک سرکاری گیسٹ ہاؤس تک محدود کردیا گیا۔ یہاں ملا عبدالسلام ضعیف نے خفیہ طور پر اپنی یاداشتیں سپرد قلم کیں اور ایک دوست کی مدد سے کتابی صورت میں شائع کروا دیں۔ آج افغان طالبان اس کتاب کے اقتباسات خود شائع کرکے اپنے ہم وطنوں میں تقسیم کرتے ہیں تاکہ انہیں باور کرایا جا سکے طالبان اور امریکہ کی اصل جنگ کیا ہے؟ سات سال سے یہ جنگ جاری ہے اور سات سال کے بعد افغان صدر حامد کرزئی کی کوشش ہے کہ ملا عبدالسلام ضعیف، وکیل احمد متوکل اور فضل ہادی شنواری کے ذریعے ملا محمد عمر سے مذاکرات کریں۔ اب کرزئی کو بھی یقین ہوچکا ہے کہ جب تک امریکی فوج افغانستان میں موجود ہے امن قائم نہیں ہوگا۔ پاکستانیوں کو اب یہ سوچنا ہے کہ اگر امریکی فوج افغانستان سے واپس چلی گئی تو کیا پاکستان میں امن قائم ہو جائے گا؟ ہمیں وہ وجوہات تلاش کرنے کی ضرورت ہے جن کے باعث افغانستان میں لگنے والی آگ ہمارے گھر میں بھی داخل ہوگئی۔ ہم نے اپنا گھر بچانے کیلئے ایک ملا عبدالسلام ضعیف نہیں بلکہ سیکڑوں مسلمان امریکہ کے حوالے کئے لیکن امریکہ کی تسلی نہ ہوئی۔ اس تسلی کیلئے اسلام آباد کی لال مسجد پر راکٹ برسائے گے۔ حالات و واقعات بتاتے ہیں کہ پاکستان میں مسلمان کے ہاتھوں مسلمان کے قتل میں تیزی لال مسجد آپریشن کے بعد آئی۔ افغان طالبان امریکہ کے خلاف نفرت کو ہوا دینے کیلئے ملا عبدالسلام ضعیف کی کتاب سے حوالے دیتے ہیں اورپاکستانی عسکریت پسند اپنی ہی فوج کے خلاف لڑائی کیلئے لال مسجد آپریشن کو جواز بناتے ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ ہم خود کش حملوں کی مذمت کے ساتھ ساتھ ان غلطیوں کا اعتراف بھی کریں جن کے باعث ہم نے اپنے گھر کو خود ہی آگ لگائی۔
ہماری قیادت کو اعتراف کرنا چاہئے کہ ملا عبدالسلام ضعیف کو پشاور میں بے لباس کرکے امریکہ کے حوالے کرنا ایک غلطی تھی، وزارت داخلہ کو بے خبر رکھ کر لال مسجد میں آپریشن ایک غلطی تھی اور قبائلی علاقوں میں کارروائیوں کے دوران معصوم عورتوں اور بچوں کا مارا جانا افسوسناک تھا۔ ان تمام غلطیوں کے ذمہ دار اشخاص خواہ آج حکومت میں ہیں یا نہیں لیکن ان کے خلاف کارروائی کے بغیر پاکستان میں نفرتوں کی آگ کو ٹھنڈا کرنا بہت مشکل ہوگا۔
کالم ۔۔ حامد میر
بشکریہ روزنامہ جنگ
کالکی اوتار
حال ہی میں بھارت میں شائع کی جانے والی کتاب ‘کالکی اوتار‘ نے بھارت سمیت دنیا بھر میں ہلچل مچا دی ہے۔ اس کتاب میں یہ کہا گیا ہے کہ ہندوؤں کی مذہبی کتابوں میں جس کالکی اوتار کا تذکرہ ہے وہ آخری رسول محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
اس کتاب کا مصنف اگر کوئی مسلمان ہوتا تو اب تک بھونچال آ چکا ہوتا، مصنف جیل میں اور کتاب پر پابندی لگ چکی ہوتی مگر پنڈٹ وید پرکاش برہمن ہندو ہیں اور الہ باد یونیورسٹی کے ایک اہم شعبے سے وابستہ ہیں۔ انہوں نے اپنی تحقیق کا نام بھی‘کالکی اوتار‘ رکھا ہے یعنی تمام کائنات کا رہنما۔
پنڈت وید پرکاش سنسکرت کے معروف محقق اور سکالر ہیں۔ انہوں نے اپنی اس تحقیق کو ملک کے آٹھ مشہور و معروف محققین پنڈتوں کو پیش کیا ہے کہ کتاب میں پیش کئے گئے حوالہ جات مستند اور درست ہیں۔
پنڈت وید پرکاش اپنی تحقیق ‘کالکی اوتار‘ میں لکھتے ہیں کہ ‘ہندوستان کی اہم مذہبی کتب میں ایک عظیم رہنما کا ذکر ہے جسے ‘کالکی اوتار‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس سے مراد حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو مکہ میں پیدا ہوئے۔ چنانچہ تمام ہندو جہاں کہیں بھی ہوں ان کو مزید کسی کالکی اوتار کا انتظار نہیں کرنا ہے بلکہ محض اسلام قبول کرنا ہے اور آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنا ہے جو بہت پہلے اپنے مشن کی تکمیل کے بعد اس دنیا سے تشریف لے گئے ہیں۔‘
اپنے اس دعوے کی دلیل میں پنڈت وید پرکاش نے ہندوؤں کی مذہبی مقدس کتاب وید سے مندرجہ ذیل حوالے دلیل کے ساتھ پیش کئے ہیں۔
١۔ وید میں لکھا ہے کہ ‘کالکی اوتار‘ بھگوان کا آخری اوتار ہو گا جو پوری دنیا کو رستہ دکھائے گا۔ ان کلمات کا حوالہ دینے کے بعد پنڈت وید پرکاش یہ کہتے ہیں کہ صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملہ میں درست ہو سکتا ہے۔
٢۔ مقدس کتاب کی پیشگوئی کے مطابق ‘کالکی اوتار‘ جزیرہ میں پیدا ہوں گے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم جزیرہ العرب میں پیدا ہوئے۔
٣۔ ہندوؤں کی مقدس کتاب میں لکھا ہے کہ ‘کالکی اوتار‘ کے والد کا نام ‘وشنو بھگت‘ اور والدہ کا نام ‘سومانب‘ ہو گا۔ سنسکرت زبان میں ‘وشنو‘ کا مطلب ‘اللہ کا بندہ‘ ہے اور ‘سومانب‘ کا مطلب ‘امن‘ ہے جو کہ عربی زبان میں آمنہ ہو گیا۔ اور آخری رسول کے والد کا نام عبداللہ اور والدہ کا آمنہ ہے۔
٤۔ ہندوؤں کی بڑی کتاب میں یہ لکھا ہے کہ ‘کالکی اوتار‘ زیتون اور کھجور استعمال کرے گا۔ اپنے قول میں سچا اور دیانت دار ہو گا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں یہ ساری خوبیاں موجود ہیں۔
٥۔ وید میں لکھا ہے کہ ‘کالکی اوتار‘ اپنی سرزمین کے معزز خاندان میں سے ہو گا اور یہ بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں سچ ثابت ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے معزز قبیلے میں سے تھے جس کی مکہ میں بے حد عزت تھی۔
٦۔ یہ بھی لکھا ہے کہ بھگوان ‘کالکی اوتار‘ کو اپنے خصوصی قاصد کے ذریعے ایک غار میں پڑھائے گا۔ اس معاملے میں یہ بھی درست ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم وہ واحد شخصیت ہیں جنہیں اللہ نے غارِ حرا میں جبرائیل کے ذریعے تعلیم دی۔
٧۔ یہ بھی لکھا ہے کہ بھگوان ‘کالکی اوتار کو ایک تیز ترین گھوڑا عطا فرمائے گا جس پر سوار ہو کر وہ زمین اور سات آسمانوں کی سیر کرے گا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا براق پر معراج کا سفر کیا یہ ثابت نہیں کرتا ہے؟
٨۔ یہ بھی لکھا ہے کہ بھگوان ‘کالکی اوتار‘ کی بہت مدد کرے گا اور اسے قوت عطا فرمائے گا۔ ہم جانتے ہیں کہ جنگ بدر میں اللہ نے فرشتوں کے ذریعے مدد فرمائی۔
٩۔ ہندوؤں کی مذہبی کتابوں میں یہ بھی ذکر ہے کہ ‘کالکی اوتار‘ گھڑ سواری، تیراندازی اور تلوار زنی میں ماہر ہو گا۔
پنڈت وید پرکاش نے اس پر جو تبصرہ کیا ہے وہ قابل غور ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ گھوڑوں، تلواروں اور نیزوں کا زمانہ بہت پہلے گزر چکا ہے۔ اب ٹینک، توپیں اور میزائل جیسے ہتھیار استعمال میں ہیں۔ لہذا یہ عقلمندی نہیں ہے کہ ہم تلواروں، تیروں اور برچھیوں سے مسلح ‘کالکی اوتار‘ کا انتظار کرتے رہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہماری مقدس کتابوں میں ‘کالکی اوتار‘ کے واضح اشارے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہیں۔
پنڈت وید پرکاش نے اپنی تحقیق میں جن نقاط پر بحث کی ہے اس پر ہندوستان کے مذہبی رہنما اور پنڈت سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ ان کا اگر اپنی مذہبی کتابوں پر یقین ہے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ وہ ان میں دی گئی پیشگوئیوں کو جھٹلائیں ۔۔۔۔۔۔ مگر سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ جس مذہب کو انہوں نے صدیوں سے گلے لگا رکھا ہے اسے چھوڑنے کے لئے جس ہمت اور حوصلے کی ضرورت ہے وہ درکار ہے کیونکہ جس وقت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو دعوتِ اسلام دی تو بہت سے ایسے بھی تھے جو یہ جانتے تھے کہ یہ حق ہے مگر ان کے دل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کو تیار نہ تھے اور انہوں نے اپنے باپ دادا کے دین کو ہی پکڑے رکھا اور اسی کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے انکار اور اختلاف میں استعمال کیا۔
ایمیل سے موصولہ تحریر جسے قارئین کے لئے یونیکوڈ اردو میں یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔ُ
’بیل آؤٹ‘ منصوبہ، کیا ہے، کیوں ہے؟
ٹی وی، ریڈیو اور اخبارات میں آجکل امریکی بیل آؤٹ پلان کا بڑا چرچا ہے لیکن بہت کم لوگوں کو اس پلان کے بارے میں علم ہے کہ یہ دراصل کیا ہے اور کس بارے میں ہے۔ قارئین کی سہولت کے لئے یہاں اس بل کے مندرجات پیش کئے جا رہے ہیں تاکہ قارئین کو اس پلان کو سمجھنے میں آسانی ہو۔

| بینکوں کو بیل آؤٹ بل کی ضرورت کیوں پڑی ہے؟ |
| بل پر سینیٹ میں ووٹنگ کیوں ہو رہی ہے؟ |
| ایوانِ نمائندگان نے بل کو مسترد کیوں کیا؟ |
| بیل آؤٹ پلان میں کن بڑی تبدیلیوں پر غور کیا جا رہا ہے؟ |
| اگر بل منظور نہ ہوا تو کیا ہو گا؟ |
| بیل آؤٹ بل کی منظوری کے بارے میں کتنی امید کی جا سکتی ہے؟ |
| بیل آؤٹ پلان کس طرح کام کرے گا؟ |
| امریکی حکومت قرضے خریدنے کے لیے کیا منصوبہ بندی کر رہی ہے؟ |
| اس ’بیل آؤٹ‘ کا عام امریکی پر کیا اثر ہو سکتا ہے؟ |

بشکریہ بی بی سی اردو
رنجیدہ و دلگیر و حزیں عید مبارک
آزردہ مکان اور مکیں عید مبارک
یہ صبح مسرت ہے کہ ہے شامِ غریباں
رنجیدہ و دلگیر و حزیں عید مبارک
کہنا ہے بصد عجز یہ اربابِ وطن سے
کب آئے گا وہ دور حسیں و عید مبارک
محبوس جوانوں کے عزیزوں سے یہ کہنا
مولا ہے نگہبان و امین عید مبارک
یہ بات قلندر کی قلندر ہی کہے گا
گو بات یہ کہنے کی نہیں عید مبارک
پھر نعرہ تکبیر سے گونجیں گی فضائیں
آ پہنچا ہے وہ وقت قریں عید مبارک
مومن کبھی مایوس نہیں رحمتِ حق سے
مومن کا ہے دل عرشِ بریں عید مبارک
ملت سے شہیدوں کا لہو کہتا ہے واصف
دنیا کے عوض بیچ نہ دیں عید مبارک

