لاہور پولیس ٹریننگ سینٹر پر حملہ

لاہور کے علاقے مناواں میں واقع پولیس کے ٹریننگ سینٹر پر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کرنے کے بعد وہاں موجود افراد کو یرغمال بنا لیا ہے۔ جیو ٹی وی کے مطابق ٹریننگ سینٹر میں گھمسان کی جنگ جاری ہے، علاقے میں کرفیو لگا دیا گیا ہے۔
مزید تفصیل ۔۔۔ جیو ٹی وی، بی بی سی اردو
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

نامعلوم دہشتگرد


مکمل تحریر اور تبصرے >>>

طالبان سے صلح کراؤ، کشمیر لو، امریکی پیشکش

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

اطلاع عام

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

اُمید سحِر



مکمل تحریر اور تبصرے >>>

لانگ مارچ مشن























مکمل تحریر اور تبصرے >>>

حلال میں حرام

آئے روز مذہبی حلقوں کی جانب سے ایسی تحریریں پڑھنے کو ملتی ہیں، کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ ان باتوں میں کتنی صداقت ہے اور ان روزمرہ اشیاء میں حرام اجزاء کی کس قدر ملاوٹ ہے؟


مکمل تحریر اور تبصرے >>>

سارہ سکول فنگشن میں

سارہ منیر اپنے سکول کی ایک پارٹی میں


مکمل تحریر اور تبصرے >>>

پاکستان میں کرکٹ اسسریز کا مستقبل

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

وزیراعظم کی جج بحالی کی مکمل تقریر

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

تم آؤ ہمارے ساتھ چلو

ہم معصوموں کے ساتھی
آواز ہیں ہم مظلوموں کی
انصاف کی خاطر نکلے ہیں
تم آؤ ہمارے ساتھ چلو

نہ لوٹوں سے کچھ آس رکھو
نہ جھوٹوں سے امید رکھو
ہم سچ کی خاطر نکلے ہیں
تم آؤ ہمارے ساتھ چلو

ہم اپنے رہبر خود ہوں گے
ہم اپنی منزل خود ہوں گے
امید کی خاطر نکلے ہیں
تم آؤ ہمارے ساتھ چلو

انصاف کا سورج نکلے گا
ہاں کوچہ کوچہ بدلے گا
ہم عدل کی خاطر نکلے ہیں
تم آؤ ہمارے ساتھ چلو

ہم جھکنے والے لوگ نہیں
ہم بکنے والے لوگ نہیں
اقدار کی خاظر نکلے ہیں
تم آؤ ہمارے ساتھ چلو

ہم سب کا ایک ہی رستہ ہے
ہم سب کی ایک ہی منزل ہے
دھرتی کی خاطر نکلے ہیں
تم آؤ ہمارے ساتھ چلو

اب جینا مرنا دھرنا ۔۔۔ ہے
دم مست قلندر کرنا ہے
تم آؤ ہمارے ساتھ چلو
عینی سیدہ
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

بچی سے ہی کچھ سیکھ لیں

کچھ دن پہلے سکول سے واپسی پہ میری بیٹی سارہ مجھ سے کہنے لگی ‘بابا ایک لڑکی مجھے مارتی رہتی ہے، میں اسے کچھ بھی نہیں کہتی وہ پھر بھی مجھے مارتی رہتی ہے‘۔ میں نے کہا آپ ٹیچر سے کہا کرو کہ ٹیچر دیکھو یہ مجھے مار رہی ہے۔ سارہ نے جواب دیا ‘جب ٹیچر نہیں ہوتی وہ پھر مجھے مارتی ہے‘۔ میں نے کہا اچھا آپ ایسا کرو اس سے دوستی کر لو وہ پھر آپ کو نہیں مارے گی۔ بات ختم ہو گئی اور میں اسے بچوں کی عام بات سمجھ کر بھول گیا مگر ننھے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی، اُس کے ذہن میں نجانے کیا چلتا رہا اور معلوم نہیں یہ سب اس نے کیسے کر لیا۔ آج جب میں اُسے سکول سے لینے گیا تو اُس نے آتے ہی مجھے خوشخبری سنائی کہ ‘بابا میں نے اُس لڑکی سے دوستی کر لی ہے، اب وہ مجھے مارتی بھی نہیں ہے، ہم اکھٹے کھیلتے ہیں اور کھانا بھی اکھٹے کھاتے ہیں‘۔
اندازہ کریں اس بچی نے وہ کام کر دکھایا ہے جو ہمارے حکمران اور سیاسی لیڈر نہیں کر سکتے، ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں، مار رہے ہیں، برداشت اور حوصلہ نام کی کوئی چیز ان کے پاس ہے ہی نہیں، پورا ملک داؤ پہ لگا، اکانومی برباد ہو چکی ہے مگر ان کی حوس میں کمی نہیں آ رہی، اس بچی نے بتا دیا ہے کہ انسان مشکل کام کرنا چاہیے تو با آسانی کر سکتا ہے، بس اُسے اپنے کام سے مخلص ہونا چاہیے۔
خدارا اب بس کر دو بس، اس ملک کی معصوم عوام پہ رحم کرو اس بچی سے ہی کچھ سیکھ لو اور آپس میں دوستی کر لو۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

مروا دیا آپ کی رجائیت پسندی نے مروا دیا

ہم آپ کے مداح اور قارئین آپ کے کالم پڑھ کر یہ سمجھنے لگے تھے کہ مشرف کے منظر سے ہٹتے ہی خوش منظر سویرا ہوگااور سفینہ غم دل ساحل مراد پر لنگرانداز ہو جائے گامگر معاملہ منیر نیازی کے شعر کی طرح نکلا… ایک اور دریا کا سامنا تھا منیرمجھ کو۔
ہم لوگ مشرف کے بعد کا منظر نامہ نہ دیکھ سکے۔ نہ صرف یہ کہ مشرف کو Scotfree چھوڑ دیا گیا بلکہ اس کی جگہ جو ذات شریف تخت طاؤس پر متمکن ہوئی ہے۔ اس کے خیال سے خوف آتا ہے کیا صدر پاکستان کا آفس اس قدر بے توقیر ہوگیا ہے کہ اس میں سیاسی مسخرے بیٹھا کریں گے؟
رشک سے بھارت کو دیکھتا ہوں، جہاں رادھا کرشنن اور ذاکر حسین خان جیسے عظیم المرتبت خدام وطن نے اس کرسی کو رونق اور عزت بخشی جبکہ ہمارے ملک میں کبھی مفلوج غلام محمد، مردود یحییٰ خان یا مجبور فضل الٰہی اس آفس کوبے وقار کرتے رہے۔ لگتا ہے پیپلز پارٹی کی قیادت اندھی اور گونگی ہوگئی ہے جسے صدارت کے لئے اعتزاز احسن نظر آئے نہ رضا ربانی۔
پیپلز پارٹی پر قبضہ جمانے کے بعد زرداری نے سب سے پہلے دونوں مخدوموں کو چت Out smart کیا، پھر مشرف والی کرسی پر قبضہ کرنے کے لئے الطاف حسین کی پارٹی سے مل کر ایک Un Hoby Alliance بنا لیا۔ امامت کے لئے انہوں نے ایسے مولانا کو منتخب کیا جو سیاسی بلیک میلنگ کے امام ہیں۔ اس ٹرائیکا کے کارناموں کو دیکھ کر لوگ مشرف کو بھول جائیں گے پاکستان کی زمین میں پوشیدہ خزانوں کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے اس قدر لوٹ مار کے باوجود ختم ہونے میں نہیں آرہے۔ کیا زیر زمین دولت کا دریا اُبل رہا ہے؟ لیکن یہ ٹرائیکا اس سونے کا انڈہ دینے والی مرغی کو ذبح کرکے ہی دم لے گا اور ہم آپ کے مداحین و قارئین آپ کے لئے عمر خضر کی دعا مانگیں گے۔ تاکہ آپ تا قیامت سچی جمہوریت کے قیام کے لئے کالم لکھتے رہیں۔
پاکستان کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں نہ کبھی آئین نافذ رہا نہ آئین کے تحت بننے والے اداروں (پارلیمینٹ، عدلیہ، الیکشن کمیشن) کو تسلسل اور آزادی سے کام کرنے کی اجازت دی گئی۔ آئین روح اور ادارے اعضائے رئیسہ کی مانند ہوتے ہیں۔ پاکستان اس لحاظ سے ایک سیاسی معجزہ ہے کہ روح اور اعضائے رئیسہ کے بغیر ہی چل رہا ہے۔ گو نمائش کے لئے یہ ادارے موجود ہوتے ہیں لیکن ان کی کنپٹی پر پستول رکھ کر یا چمک دکھا کر ان سے مرضی کے مطابق فیصلے (یا فتوے) حاصل کرلئے جاتے ہیں۔ وزیراعظم پارلیمینٹ کو خود مختار بنانے کے دعوے کرتے رہتے ہیں لیکن جانتے ہیں کہ پارلیمینٹ سے باہر بیٹھیں ہوئی طاقتوں کی موجودگی میں پارلیمینٹ کو خود مختار نہیں بنایا جاسکتا۔ اخبار والے اشاروں اشاروں میں ان طاقتوں کو AA کہتے ہیں (یعنی آرمی اور ا مریکہ)۔ اس کے علاوہ ایک طاقت اور بھی ہے وہ سیاسی کھلاڑی جن کے پاس زر کے بڑے بڑے انبار ہیں، جنہیں دیکھ کر ممبران پارلیمینٹ کی آنکھیں خیرہ ہو جاتی ہیں، یہ تینوں طاقتیں ایک پاور فل الیکٹرومیگنیٹ کی طرح پارلیمینٹ پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ پارلیمینٹ کی آزادی جو عوام کی امنگوں اور خواہشوں کا دوسرا نام ہے ایک موہوم خواب کی طرح تعبیر کی تلاش میں بھٹکتی رہتی ہے۔
اس وقت ملک میں زبردست سیاسی اور معاشی بحران ہے، سماجی افراتفری ہے، بے یقینی ہے Confusion ہے۔ ملک کے حالات تیزی سے بے قابو ہوتے جا رہے ہیں۔ بیڑہ تباہی کے قریب آن لگا ہے یعنی ٹائی ٹینک چٹانوں میں گھرگیا ہے۔ اب پھر کوئی طالع آزما، سفاک مسیحا، یا عصا بردار موسیٰ کے روپ میں آن دھمکے گا سانپ اور سیڑھی کا کھیل پھر شروع ہوجائے گا۔ یعنی گردش تیز تر اور سفر آہستہ۔
محترم حقانی صاحب! لگتا ہے گلشن کا کاروبار یونہی چلتا رہے گا اور یہ چمن یونہی رہے گا۔ اجڑا، اجڑا، دنیا جہاں کے جانور یہاں چرتے پھریں گے۔
ہم احمقان چمن ہر روز جیئں گے، ہر روز مریں گے۔ گھبرا گھبرا کے کہا کریں گے: مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے؟ البتہ دانشمندان چمن اپنے آئینہ ادراک میں بہت کچھ دیکھ رہے ہیں۔
اے حکمرانو! اے طبقہ اعلیٰ کے لوگو!
ڈرو اس وقت سے… پڑیں گے جب جان کے لالے… اور کوئی نہ ہوگا جو بچالے۔
خیر اندیش…عادل اختر، راولپنڈی
کالم ۔ ارشاد احمد حقانی
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

وکلاء کا لانگ مارچ ترانہ

وکلاء کی طرف سے لانگ مارچ کا ترانہ جاری کر دیا گیا ہے۔ لاہور بار سے خطاب کر تے ہوئے چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ وکلاء اور عوام گرفتاریوں سے ڈرنے والے نہیں، پچھلی مرتبہ بھی وکلاء ہی نے سیکیورٹی کے انتظامات کئے تھے، اس مرتبہ بھی وکلاء موجود ہونگے۔ اس موقع پر لانگ مارچ کے حوالے سے چوہدری اعتزاز احسن کے مشہور نظم پر مشتمل ترانہ سنایا گیا۔ چوہدری اعتزاز احسن نے کہا کہ ترانے کا منشور انصاف کا حصول ہے، یہ ترانہ صدر زرداری سمیت تمام پاکستانیوں کیلئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس افتخار چوہدری بحال ہونگے یا نہیں، ہم اعلانات پر نہیں جائینگے۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء نے جو ضابطہ اخلاق جاری کیا ہے، تمام شرکا ء پر اس کی پابندی لازمی قرار دی گئی ہے۔




عہد جوانی میں دیکھے تھے
کیسے کیسے خواب سہانے
ان خوابوں میں ہم لکھتے
اکثر خوشیوں کے افسانے

ایک نئی دنیا کی کہانی
ایک نئی دنیا کے ترانے
ایسی دنیا جس میں کوئی
دکھ نہ جھیلے بھوک نہ جانے

لگتا تھا ہم سب نے دیکھے
اس دھرتی کے درد انجانے
سوچا تھا کہ سب نکلیں گے
غربت کے سب پاپ مٹانے

ایک طرف تھی جنتا ساری
ایک طرف تھے چند گھرانے
ایک طرف تھے بھوکے ننگے
ایک طرف قاروں کے خزانے

مزید

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

کل، آج اور کل

کل، آج اور کل ..... جیو ٹی وی
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

سرکار کی آمد مرحبا

عالم اسلام کو جشن عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم مبارک ہو۔


عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم ایس ایم ایس

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

سانحہ لال مسجد پر احمد فراز کا کلام

وہ عجیب صبحِ بہار تھی

کہ سحر سے نوحہ گری رہی

مری بستیاں تھیں دُھواں دُھواں

مرے گھر میں آگ بھری رہی

میرے راستے تھے لہو لہو

مرا قریہ قریہ فگار تھا

یہ کفِ ہوا پہ زمین تھی

وہ فللک کہ مشتِ غبار تھا

کئی آبشار سے جسم تھے

کہ جو قطرہ قطرہ پگھل گئے

کئی خوش جمال طلسم تھے

جنھیں گرد باد نگل گئے

کوئی خواب نوک سناں پہ تھا

کوئی آرزو تہِ سنگ تھی

کوئی پُھول آبلہ آبلہ

کوئی شاخ مرقدِ رنگ تھی

کئی لاپتہ میری لَعبتیں

جو کسی طرف کی نہ ہوسکیں

جو نہ آنے والوں کے ساتھ تھیں

جو نہ جانے والوں کو روسکیں

کہیں تار ساز سے کٹ گئی

کسی مطربہ کی رگ گُلُو

مئے آتشیں میں وہ زہر تھا

کہ تڑخ گئے قدح و سَبُو

کوئی نَے نواز تھا دم بخود

کہ نفس سے حدت جاں گئی

کوئی سر بہ زانو تھا باربُد

کہ صدائے دوست کہاں گئی

کہیں نغمگی میں وہ بَین تھے

کہ سماعتوں نے سُنے نہیں

کہیں گونجتے تھے وہ مرثیے

کہ انیس نے بھی کہے نہیں

یہ جو سنگ ریزوں کے ڈھیر ہیں

یہاں موتیوں کی دکان تھی

یہ جو سائبان دھوئیں کے ہیں

یہاں بادلوں کی اڑان تھی

جہاں روشنی ہے کھنڈر کھنڈر

یہاں قُمقُموں سے جوان تھے

جہاں چیونٹیاں ہوئیں خیمہ زن

یہاں جگنوؤں کے مکان تھے

کہیں آبگینہ خیال کا

کہ جو کرب ضبط سے چُور تھا

کہیں آئینہ کسی یاد کا

کہ جو عکسِ یار سے دور تھا

مرے بسملوں کی قناعتیں

جو بڑھائیں ظلم کے حوصلے

مرے آہوؤں کا چَکیدہ خوں

جو شکاریوں کو سراغ دے

مری عدل گاہوں کی مصلحت

مرے قاتلوں کی وکیل ہے

مرے خانقاہوں کی منزلت

مری بزدلی کی دلیل ہے

مرے اہل حرف و سخن سرا

جو گداگروں میں بدل گئے

مرے ہم صفیر تھے حیلہ جُو

کسی اور سمت نکل گئے

کئی فاختاؤں کی چال میں

مجھے کرگسوں کا چلن لگا

کئی چاند بھی تھے سیاہ رُو

کئی سورجوں کو گہن لگا

کوئی تاجرِ حسب و نسب

کوئی دیں فروشِ قدیم ہے

یہاں کفش بر بھی امام ہیں

یہاں نعت خواں بھی کلیم ہے

کوئی فکر مند کُلاہ کا

کوئی دعوٰی دار قبا کا ہے

وہی اہل دل بھی ہیں زیبِ تن

جو لباس اہلِ رَیا کا ہے

مرے پاسباں، مرے نقب زن

مرا مُلک مِلکِ یتیم ہے

میرا دیس میرِ سپاہ کا

میرا شہر مال غنیم ہے

جو روش ہے صاحبِ تخت کی

سو مصاحبوں کا طریق ہے

یہاں کوتوال بھی دُزد شب

یہاں شیخ دیں بھی فریق ہے

یہاں سب کے نِرخ جدا جدا

اسے مول لو اسے تول دو

جو طلب کرے کوئی خوں بہا

تو دہن خزانے کے کھول دو

وہ جو سرکشی کا ہو مرتکب

اسے قُمچیوں سے زَبُوں کرو

جہاں خلقِ شہر ہو مشتعل

اسے گولیوں سے نگوں کرو

مگر ایسے ایسے غنی بھی تھے

اسی قحط زارِ دمشق میں

جنھیں کوئے یار عزیز تھا

جو کھڑے تھے مقتلِ عشق میں

کوئی بانکپن میں تھا کوہکن

تو جنوں میں قیس سا تھا کوئی

جو صراحیاں لئے جسم کی

مئے ناب خوں سے بھری ہوئی

تھے صدا بلب کہ پیو پیو

یہ سبیل اہل وفا کی ہے

یہ نشید نوشِ بدن کرو

یہ کشید تاکِ وفا کی ہے

کوئی تشنہ لب ہی نہ تھا یہاں

جو پکارتا کہ اِدھر اِدھر

سبھی مفت بر تھے تماشہ بیں

کوئی بزم میں کوئی بام پر

سبھی بے حسی کے خمار میں

سبھی اپنے حال میں مست تھے

سبھی راہروانِ رہِ عدم

مگر اپنے زعم میں ہست تھے

سو لہو کے جام انڈیل کر

مرے جانفروش چلے گئے

وہ سکوُت تھا سرِ مے کدہ

کہ وہ خم بدوش چلے گئے

کوئی محبسوں میں رَسَن بہ پا

کوئی مقتلوں میں دریدہ تن

نہ کسی کے ہاتھ میں شاخ نَے

نہ کسی کے لب پ گُلِ سخن

اسی عرصہء شب تار میں

یونہی ایک عمر گزر گئی

کبھی روز وصل بھی دیکھتے

یہ جو آرزو تھی وہ مرگئی

یہاں روز حشر بپا ہوئے

پہ کوئی بھی روز جزا نہیں

یہاں زندگی بھی عذاب ہے

یہاں موت بھی شفا نہیں
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

بلاول، بختاور اور آصفہ کے نام ممتاز بھٹو کا خط


مکمل تحریر اور تبصرے >>>

A Wednesday

ممبئی حملوں کے تناظر میں منیر احمد بلوچ کا تجزیہ


مکمل تحریر اور تبصرے >>>

دو خوشخبریاں

کل کے اخبارات میں قوم کے لئے دو خوشخبریان تھی کہ اپریل اور مئی میں بجلی کے نرخ پھر بڑھائے جائیں گے اور چینی بھی مہنگی کرنا پڑے گی۔ نہ جانے حکومت چاہتی کیا ہے ایک طرف آئی ایم ایف سے قرض پہ قرض لیا جا رہا ہے دوسری طرف تمام اشیاء کے باری باری نرخ بڑھائے جا رہے ہیں، پیٹرول جو اس وقت عوام کو ٢٥ سے ٣٠ روپے لیٹر ملنا چاہیے وہ اس وقت تقریبا ٥٨ روپے مل رہا ہے۔ اس سے اچھے پرویز مشرف تھے جس کے دور میں اشیاء کے نرخ ایک طویل وقفے سے بڑھتے تھے مگر نئی قائم ہونے والی پی پی کی عوامی حکومت نے تو غریب عوام کے ساتھ اعلان جنگ کر رکھا ہے، اس جنگ میں عوام کو ایک لمحہ سانس لینے کی بھی فرصت نہیں مل رہی، ایک مہینے بجلی کے نرخ تو دوسرے مہینے کھاد اور گیس کے نرخ پھر بجلی، چینی اور نہ جانے کیا کیا ۔۔۔ یقینا اس وقت عوام کی بیشتر تعداد خودکشی کی طرف بڑھ رہی ہے۔
کل میں نادرا کیاسک فرنچائز پہ بیٹھا تھا کہ ایک عورت گیس کا بل ادا کرنی آئی جو کہ ٢٣٢٠ روپے کا تھا، اُس بیچاری نے روتے ہوئے انتہائی دکھ اور کرب سے کہا کہ ابھی لوگوں کے کپڑے دھوئے ہیں کچھ روپے وہاں سے ملے اور کچھ مانگ تانگ کے لائی ہوں کہ کسی طرح بل ادا ہو جائے، ابھی واپس جا کے بچوں کے لئے روٹی کا انتظام بھی کرنا ہے انہوں نے صبح سے کچھ نہیں کھایا۔
ایک اور عورت آئی کہنے لگی اس ماہ کی ساری تنخواہ ٹیلی فون، بجلی اور گیس کے بلوں میں چلی گئی ہے اب معلوم نہیں گھر کا خرچہ کیسے چلے گا، مرد بیچارے پریشان ہیں کہاں جائیں اور کون کون سا خرچہ پورا کریں۔
اندازہ کریں ایک طرف عوام کا یہ حال ہے کہ روٹی کے لئے ترس رہے ہیں اور دوسری طرف حکمرانوں کے اللے تللے ختم نہیں ہوتے، پنجاب میں اپنی حکومت قائم کرنے کے لئے خزانے کا منہ کھول دیا گیا ہے، بڑی بڑی گاڑیاں، ہیلی کاہٹر خریدے جا رہے ہیں۔ اپنے خرچے پورے کرنے کے لئے عوام پر بوجھ کے اوپر بوجھ لاڈا جا رہا ہے۔ مزے کی بات یہ کہ حکمران ٹولا نرخ بڑھنے کو تسلیم ہی نہیں کرتا بلکہ اسے سبسڈی کا حسین نام دیا جاتا ہے۔
اللہ پاکستانی عوام کا حامی و ناصر ہو۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

سری لنکن ٹیم پر حملے کی سی آئی ڈی رپورٹ

سی آئی ڈی نے سری لنکن ٹیم پر حملے کی ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں واضح طور پر اس حملے انڈین انٹیلی جنس ایجنسی 'را' کو ملوث کیا گیا ہے، اس میں کوئی شک نہیں تمام دنیا جانتی ہے کہ یہ 'را' کا ہی کام ہے۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

دبئی کا اجڑتا ہوا شہر

Dubai
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

انڈیا ۔ ہندو، مسلم

دو قومی نظریہ کے مخالف، دوستی کا اراگ الاپنے والے اس وڈیو کو دیکھ لیں اُن پر دو قومی نطریے کی حقیقت واضح ہو جائے گی۔


مزے کی بات یہ کہ تین بار اس وڈیو کو یوٹیوب پر اپلوڈ کیا گیا مگر وہاں فوراََ ہی اس وڈیو کو ختم کر دیا گیا مجبوراََ اسے دوسرے ہوسٹ پر لوڈ کرنا پڑا۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر فائرنگ


بی بی سی کے مطابق لاہور میں سری لنکا کرکٹ ٹیم کو سٹیڈیم لے جانے والی بس پر فائرنگ میں چھ سری لنکا کے کھلاڑی زخمی اور پانچ پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔



سری لنکا کے کرکٹ حکام کے مطابق چھ کھلاڑی زخمی ہوئے ہیں جن میں سمیرا ویرا، اجنتا مینڈس، کمارا سنگاکارا اورتھرنگا پرانا وتھانا شامل ہیں۔ تاہم زخمی ہونے والوں میں دو کھلاڑیوں کو ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔

لاہور سٹی پولیس کے سربراہ حاجی حبیب الرحمان نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس حملے میں چھ سری لنکا کے کھلاڑی زخمی ہو گئے ہیں جبکہ ان کی حفاظت پر تعینات پانچ پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔

یہاں ڈیرہ غازی خان میں کیبل نشریات بند ہے، نیٹ پر بھی جیو، اے آر وائی اور دیگر نیوز چینل نہیں چل رہے۔ آپ اپنے علاقے کے بارے میں بتائیں کہ وہاں کیا صورتحال ہے؟۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

بلاگر حلقہ احباب