حقیقتِ زمانہ

نشوونما ایسا باقاعدہ عمل ہے، جو کبھی ٹھہرتا نہیں۔ مسلسل اپنی مخصوص رفتار سےچلتا رہتا ہے۔ قدرت کےعوامل میں ٹھہراؤ بالکل نہیں۔ اِن کےمشاہدہ کےلیئے نگاہ کا ٹھہراؤ ضروری ہے۔نشوونمائی عمل کو اگر روکا جائے تو وُہ بگاڑ لاتے ہیں۔ ایسی رکاوٹیں بربادی کا سبب بھی بن جایا کرتی ہیں۔ یہ ایسےعوامل ہیں جو قدرت کےرنگوں میں زندگی کی دانش کو سمجھنے کے لیئے لازم ٹھہرے۔ بیج کا پودا بننا ہر موسم میں ایک سا دِکھائی دیتا ہے مگر ہر دانہ ایک ہی ذائقہ نہیں رکھتا۔ یونہی بیرونی موسم اور حالات بھی افزائش پر اثر انداز ہوتےہیں۔
انسان کی نشوونما اُسکے مخصوص حالات کےمطابق ہو رہی ہے۔ جیسا کہ بیشمار نباتات مصنوعی ماحول سے مصنوعات کی بہترین صورت بن چکی ہیں۔ اسی طرح قدرتی ماحول سے ناواقفیت، مخصوص پیدا کردہ نظریات اِنسان کی افزائشی سوچ کو مخصوص اور محدود کر رہے ہیں مگر نتائج اُلجھنوں، بیماریوں اور رکاوٹوں کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔
گنوار اقوام عروج حاصل کر کےمہذب ہوجایا کرتی تھی، نئی تہذیبوں کا جنم ہوا کرتا تھا۔ آج کی مہذب دُنیا وحشت سے دہشت پیدا کر رہی ہے۔ حقیقی تہذیبیں ختم ہو رہی ہیں۔ اِنکی موت اَصل دانشور کی موت ہے۔ دانشور اپنی حکمت سے ہر دور میں تہذیب کو حالات کے تحت نئی روح بخشتا ہے۔ یوں وُہ اقوام اپنی بنیادوں پر ٹھہرتے ہوئےتعمیری مراحل سےگزرتی ہیں۔
آج کا intellectual دانا و بینا نہیں رہا۔ وُہ اپنی intellectual ہونے کے زعم میں اسقدر مبتلا ہے کہ وُہ قوم کو تعمیر نہیں بخش رہا۔ وُہ انوکھی بات پیش کرنے کی عادت سے ملت کو مایوسی اور اضطراب دے رہے ہیں۔
تجزیہ خیالات کو فروغ دیتا ہے، دروغ پن چاشنی کے باوجود بیزاری پیدا کرتا ہے۔ واویلے حکمت سے عاری ہوتے ہیں۔وُہ بس سامعین کی رائے بدلتے ہیں۔ لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ ایک سچ کہتا ہے ننانوے کچھ اور ہی کہتے ہیں، حقیقت حقائق سے کچھ اور ہی حقیقت بن جاتی ہے۔ پیش آنےوالی نہیں، پیش کی جانے والی افواہ بیش بہاء انداز سے کی جاتی ہیں۔ آج انسان حقیقت سے محروم ہو رہا ہے، حقیقی چہرے معدوم ہو چکے ہیں۔ ہم کیا جانے حقیقی خوشی، حقیقی غمی کیا ہیں؟
ہم اصل حقائق سے بےخبر رکھے تو گئے ہی ہیں، اب غافل بھی ہو چکے ہیں۔ آزادیِ خیال ہی غلامیِ افکار ثابت ہوئی ہے۔ اِنسان آزادی کا خواہاں رہا ہے مگر آج ہنگامی خبر کی سرُخیوں نے انسانی سوچ کو مائوف کر ڈالا ہے۔ منفی پروپیگنڈہ کا رجحان انگریز نے برصغیر میں یوں پیدا کیا کہ جس قبیلہ نے انگریز کی غلامی قبول نہ کی، اُسکو معاشی و معاشرتی بدحالی سے دوچار کیا، جرائم پیشہ اور نکمے افراد حالات سے پیدا کیئے، ذاتوں کی تحقیق کے نام پر ایسے قبائل کےخلاف منفی اور غیر حقیقی آراء پیش کیں۔ مزید معاشرہ میں کردار کشی اور مکروہ القاب کےذریعہ سے اُنکے لیئےایسے حالات پیدا کر ڈالے کہ انگریز کا یہ افسانہ حقیقت کا روپ دھار گیا۔ آج بھی ہم ایسے پروپیگنڈہ کا شکار قبائل سے نفرت، اُنکی مسخ شدہ تاریخ سے کرتے ہیں۔ جبکہ اصل تاریخ سے ہم ناواقف ہو چکے ہیں۔ کھرل سپت رائےاحمد خان کھرل صاحب کی انگریز کے خلاف مزاحمت کا سامنا آج بھی کر رہے ہیں۔
پروپیگنڈہ expire ہو کر بھی کسی اور انداز سے سامنے آیا ہے۔ رِیت وہی رہی، مذہب کے نام پر اپنے مفاد کی جنگ، دین کی اشاعت کے نام پر اقتدار کی ہوس، حصول تخت کی خاطر مستحکم سلطنت کے نام پر نامزد ولی عہد بھائیوں کا قتل، آج جارحیت کے نام پر ہر طرح کی جارحیت۔ نعرے بدل چکے، امن اور سکون کے نام پر نیندیں کروٹیں بدلنے لگیں۔
جب ہم کسی کا سکون تباہ کرتے ہیں تو اپنا سکون بھی برباد کر ڈالتے ہیں۔ سوال تو اب یہ آن ٹھہرا ، اِن حالات میں امن، محبت، بھائی چارہ اور رواداری کا درس دینے والوں کے ہاں اب خیال کیا پرورش پائےگا؟ انقلاب یا انتقام جو بھی نتیجہ ہو تعمیر نہیں غارت گری ہے۔ ”صوفیاء کی سرزمین تعمیر“ کے حالات ہٹلر یا نپولین پیدا کرنے چل پڑے ہیں۔ منصوبہ ساز بہت کچھ طے کر چکے ہیں، جبکہ تقدیر ملت کچھ اور ہی طے ہے۔ (فرخ )
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

عوام کے خادم زندہ باد

وفاقی وزراء قمرالزماں کائرہ اور نذر گوندل کی یہ وہ تصاویر ہیں جس کے بارے میں خبریں شائع ہو چکی ہیں۔ وزراء اس جدید لیموزین سے نیچے اتر رہے ہیں جس کا کرایہ پانچ سو ڈالر فی گھنٹہ ہے۔ اس پر تقریباََ دو گھنٹے شہر کی سیر کی۔ اس کے علاوہ مختلف تقاریب میں ڈھول، رقص اور ان پر نچھاور کئے جانے والے ہزاروں ڈالروں کی تصاویر بھی ملاحظہ فرمائیے، مزید ١٦٠٠٠ ڈالر بھارتی رقاصاؤں پر وارے گئے۔
ایسے وقت میں جب پاکستان میں ٢٥ لاکھ انسان بے گھر ہیں۔ عوام بجلی، پانی، دوائی، چھت کو ترس رہے ہیں اور ان کے خادم نیویارک عیاشی کر رہے تھے۔
عوام کے خادم زندہ باد
عوام مردہ باد





مکمل تحریر اور تبصرے >>>

اصل حقیقت کیا ہے؟

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

یہانپراسحلہ کرایہ پر رکھا جاتا ہے

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

تعلیم کا فرق

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

سوات، بونیر، منگورہ اور مردان کیپ










مکمل تحریر اور تبصرے >>>

ماں پہچان ہے میری، میں نام اس کا ہوں

میرے خوابوں کی جنت
میری ماں ہے
سراپا عظم و ہمت
میری ماں ہے
مجھے ہر دم دعاؤں میں یاد رکھا
سکون قلب و راحت
میری ماں ہے
مجھے بخشا سرورِ علم و عرفاں
عطائے دستِ قدرت
میری ماں ہے
وہی ہے درسگاہِ علم و حکمت
چراغِ راہِ الفت
میری ماں ہے


زندگی ملی جس کی بدولت آج مجھ کو
ماں پہچان ہے میری، میں نام اس کا ہوں


ابا جی مجھے مارتے تھے، تو امی بچا لیتی تھیں۔ ایک دن سوچا کہ اگر امی جی پٹائی کریں گی تو ابا جی کیا کریں گے ۔۔۔۔ اور یہ دیکھنے کے لئے کہ کیا ہوتا ہے، میں نے امی کا کہا نہ مانا، انہوں نے کہا بازار سے دہی لا دو میں نہ لایا، انہوں نے سالن کم دیا، میں نے زیادہ پر اصرار کیا۔ انہوں نے کہا پیڑھی پر بیٹھ کر روٹی کھاؤ، میں نے زمین پر دری بچھائی اور اس پہ بیٹھ گیا۔ کپڑے بھی میلے کر لئے، لہجہ بھی گستاخانہ تھا مجھے پوری توقع تھی کہ امی ضرور ماریں گی، مگر انہوں نے یہ کیا کہ مجھے سینے سے لگا کر کہا “کیوں دلاور پتر! ۔۔۔۔۔ میں صدقے، بیمار تو نہیں ہے تُو ۔۔۔۔؟“ اس وقت میرے آنسو تھے کہ رکتے ہی نہیں تھے۔ اب اس کے بعد اور لکھوں تو کیا لکھوں، کہ ماں ایک دعا ہے جو سدا سر پہ سایہ فگن رہتی ہے۔
مرزا ادیب ۔ مٹی کا دیا

میں نے ہوش سنبھالا تو ایک ہی فرد کو گھر میں پایا۔ وہ میرے اور میں اس کے دل و نگاہ کا مرکز بن گیا۔ مجھ پر جوانی اور اُس پر بڑھاپا آتا گیا، لیکن ہم گردش لیل و نہار سے بے نیاز ایک دوسرے کے سہارے زندگی کی شاہراہ پر گامزن رہے۔ ہماری تیس سالہ رفاقت میں مفارقت کی دیوار پہلے بار اس وقت حائل ہوئی جب میں اپنے فرائض منصبی کے سلسلے میں مشرقی پاکستان روانہ ہوا۔ جدائی کے چار برسوں میں، خواہ وہ مشرقی پاکستان کے پُرآشوب ماحول میں گزرے ہوں یا بھارت کے تنگ و تاریک بندی خانوں میں، اُس پیکرِ شفقت کا سایہ ہمیشہ میرے ساتھ رہا، چنانچہ جب کبھی میں یاس و حرماں کی ویرانیوں میں بھٹکنے لگا تو ایک مانوس آواز نے مجھے راہ سجھائی اور جب میں قید و بند کی تاریکیوں کو ہمہ گیر سمجھنے لگا تو ایک ٹھنڈی کرن نے مجھے روشنی مہیا کی۔ قید و بند سے رہا ہو کر واہگہ (لاہور) پہنچا تو استقبال کرنے والوں میں بہت سے لوگ تھے لیکن وہاں وہ آواز تھی نہ وہ کرن، جس کی مجھے تلاش تھی، میں بھاگا بھاگا اس گاؤں پہنچا، جہاں برسوں پہلے ہماری رفاقت کا آغاز ہوا تھا، لیکن وہاں بھی سنسان خاموشی اور مہیب اداسی کے سوا کچھ نہ تھا، البتہ قریبی قبرستان میں ایک تازہ قبر کی مٹی سے سوندھی سوندھی خوشبو پھوٹ رہی تھی۔ یہ مامتا تھی، جو آج بھی میرا استقبال کرنے کو بے قرار تھی۔
صدیق سالک ۔ ہمہ یارانِ دوزخ

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

عمار افضل، ہم شرمندہ ہیں

ammarafzal


HTML clipboard
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

صنم بھٹو انٹرویو









مکمل تحریر اور تبصرے >>>

لاہوریوں کی طالبان کے بارے میں رائے

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

مزدور ڈے





ہے دل کے لئے موت مشینوں کی حکومت
احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات

یوم مئی کا دن مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ دراصل یہ دن شکاگو میں مارے جانے والے مزدروں کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس پورے واقعے کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ مزدور تحریک بنیادی طور پر 1860ء سے شروع ہو چکی تھی جو مختلف جوروستم کے مراحل طے کرتے ہوئے 1886ء کو اسٹارک ہارویسٹر کے 80 ہزار مزدوروں نے اپنے مطالبات حکومت تک پہنچانے کے لئے احتجاج شروع کیا۔ فیکٹریوں میں دوران کام مزدور محنت طلب کام کی زیادتی کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے تھے اور مزدوروں کا یہ بھی مطالبہ تھا کہ تنخواہ میں اضافہ کیا جائے۔ ان مطالبات کے سلسلے میں دوسرے روز یکم مئی 1886ء کو بھی شکاگو کے سارے کارخانوں میں مکمل ہڑتال رہی۔ 3 مئی کو ہڑتالی مزدوروں نے بہت بڑا جلسہ کیا جس میں سرمایہ دار نے اپنا رنگ دکھایا، اس جلسے میں پولیس نے بلاوجہ فائرگ کی جس میں 5 مزدور ہلاک ہو گئے۔
ان مزدوروں کی المناک موت پر 4 مئی کو شکاگو شہر کے مارکیٹ چوک ایک اور بڑا جلسہ اور مزدور ریلی ہوئی۔ مزدور لیڈروں نے اس جلسے میں 3 مئی کو ہلاک ہونے والے مزدوروں کے ضمن میں احتجاجی تقاریر کیں۔ اسی اثناء میں ایک پولیس آفیسر کیپٹن بون اسلحہ سے لیس 180 سپاہیوں سمیت جلسہ گاہ میں داخل ہوا اور جلسہ ختم کرنے کا حکم دیا۔ اس وقت جلسے کے آخری مقرر سیموئیول فلیڈن تقریر کر رہے تھے اور انکی تقریر کے دوران ہی جلسہ گاہ کے قریب ایک بم دھماکہ ہوا جس سے چند پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔ کیپٹن بون نے طیش میں آکر مزدوروں پر گولیاں چلانے کا حکم دیا۔ دہشتگردانہ انداز کی فائرنگ سے مزدوروں کا خون سینوں سے نکل کر زمین پر بہنے لگا۔
ایک مزدور نے اپنی قمیض خون میں ڈبو کر اس کا جھنڈا بنا دیا (اسی وقت سے مزدوروں کے جھنڈے کا رنگ سرخ ہے) ۔ ہر طرف خون ہی خون اور تڑپتی ہوئی لاشیں تھیں لیکن مزدوروں کے عزائم پختہ تھے خون سے تر جھنڈا لہرا رہا تھا۔اس سانحہ میں 11 مزدور ہلاک ہوئے جن میں دو عورتیں اور ایک بچہ بھی شامل تھا۔ پولیس نے آٹھ مزدور لیڈروں کو گرفتار کر لیا۔ عدالتی کاروائی شروع ہوئی تو بیشمار عدالتی بد دیانتیاں سامنے آئیں۔ اس عدالت نے چار مزدور لیڈروں ، 1ڈی فیشر، 2 اینجل، 3 اسپائر اور 4 پرسٹر کو دہشتگرد قرار دے کر چار کو پھانسی اور تین کو عمر قید کی سزا سنائی۔
ان چاروں مزدوروں نے موت کو گلے لگایا، اسپائر نے کہا “ غریب انسانوں کی آواز بلند ہونے دو ورنہ ان کی تلواریں بلند ہوں گی۔“ اینجل کے الفاظ بھی امر ہوگئے “ تم ہمیں مار سکتے ہو مگر ہماری تحریک ختم نہیں کرسکتے“ فیشر نے موت کی سزا تسلیم کرتے ہوئے کہا “ ہم خوش ہیں کہ ایک اچھے مقصد کے لیے جان دے رہے ہیں“ پریسٹر نے مرنے سے پہلے کہا “ تم اس آواز کو بند کر سکتے ہو لیکن وقت بتائے گا کہ ہماری خاموشی ہماری آواز سے زیادہ طاقتور ہو گی“
یوں آج بھی ان مزدروں کی قربانی کی یاد میں یہ دن منایا جاتا ہے۔ بڑے بڑے جلسے جلوس ہوتے ہیں۔ کانفرنسیں ہوتی ہیں۔ لیکن بے چارا مزدرو آج بھی انہی مسائل کا شکار جن سے وہ آج سے صدیوں پہلے دوچار تھا-

source - wikipidia

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

بلاگر حلقہ احباب