03 December, 2007

صدر کا کانٹری بیوشن

“ تردید“ جدید سیاسی کلچر کا ایک موثر ہتھیار ہے۔ ”تردید“ ‘ ”انکار“ ”مسترد“ یہ سب جدید سیاست اور صحافت کی اصطلاحات ہیں اور ان کے آسرے بے شمار کام نکال لئے جاتے ہیں۔ مثلاً موجودہ حکومت نے کہا کہ ہم نے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو تیس چالیس کروڑ کی پستی سے سولہ ارب ڈالر کی بلندی پر پہنچادیا ہے۔حزب اختلاف والے اس کی تردید کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے عوام کو کیا ملا؟ گویا تردید کا انداز یوں ہے کہ خزانہ بھرا ہوا نہیں بلکہ خالی ہے۔ تاہم بعض حقائق کی گواہی تاریخ دیتی ہے اور اس طرح دیتی ہے کہ آپ اس کا انکار نہیں کرسکتے۔ صدر پرویز مشرف نے پاکستان کی60سالہ تاریخ میں بعض ایسی کامیابیاں حاصل کی ہیں‘ جن پر تاریخ گواہ ہے اور ان کی کوئی تردید نہیں کرسکے گا۔ اس سے پہلے کہ ہم صدر مشرف کی کانٹری بیوشن کے بارے میں تاریخ کی گواہی پر بات کریں‘ یہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ بعض دوسرے ایسے حقائق کا ذکر کریں‘ جن پر تاریخ گواہ ہے اور وہ حقائق ہماری تاریخ سے بھی بہت متعلق ہیں۔
انڈونیشیا کے صدر سوئیکارنو اپنے عوام میں بہت مقبول تھے۔ 1966میں انہیں تاحیات صدر مقرر کیا گیا۔ لیکن انڈونیشیا کی کیمونسٹ پارٹی(PKI)اور فوج کے مابین کشمکش بہت بڑھ گئی اور بالآخر دونوں کے مابین تصادم ہوا اور ”تنگ آمد بجنگ آمد“ فوج نے کیمونسٹ پارٹی کے خلاف کارروائی کی اور لاکھوں کیمونسٹوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ سوئیکارنو ”بابائے قوم“ تھے‘ ان کا احترام ملحوظ رکھا گیا لیکن جنرل سوہارتو نے اقتدار اپنے ہاتھوں میں منتقل کرلیا اور1967ء میں وہ انڈونیشیا کے فوجی حکمران بن گئے۔ وہ 32سال تک اقتدار میں رہے اور21مئی1998ء کو اقتدار سے دستبردار ہوئے۔ 1955کے بعد7جون1999ء کو پہلی دفعہ انڈونیشیا میں آزادانہ انتخابات ہوئے۔ ان32برسوں میں انڈونیشیا کی معاشی تقدیر بدل گئی اور اس نے معاشی واقتصادی پسماندگی سے نجات حاصل کرلی۔
ملائیشیا‘ انڈونیشیا کا ہمسایہ ملک ہے۔ اس میں1981میں جناب مہاتیر محمد نے اقتدار سنبھالا اور نہایت سختی کے ساتھ کاروبار حکومت چلانا شروع کیا۔ وہ22سال اقتدار میں رہے اور ملائیشیا دنیا کے نقشے پر ایک خوشحال معاشی طاقت کے طور پر ابھرا‘ ہم جن صحافتی آزادیوں کو اپنا فطری حق تصور کرتے ہیں‘ ان کا ملائیشیا میں آج بھی تصور نہیں کیا جاسکتا۔
اب آپ تائیوان کی طرف آئیں‘ جو ایک چھوٹا جزیرہ ہونے کے باوجود ایشیا کی بڑی اقتصادی طاقت ہے۔ اس جزیرے پر ماوزے تنگ کے مخالف چیانگ کائی شیک نے دستمبر1949میں ”قبضہ“ کرکے حکومت شروع کی۔ جنرل چیانگ کائی شیک کا انتقال 15اپریل1975ء میں ہوا‘ گویا وہ24 سال اقتدار میں رہے۔ ان کے بعد ان کے بیٹے نے وزیراعظم کی حیثیت سے اقتدار اپنے قبضے میں رکھا۔ چیانگ کائی شیک تائیوان میں داخل ہوئے تو انہوں نے ملک میں ایمرجنسی کا اعلان کیا اور اپریل1991میں یہ ایمرجنسی ختم کرنے کا اعلان کیا گیا۔ گویا ملک میں41سال ایمرجنسی رہی اور پہلا انتخاب بھی1991ء میں ہی ہوا۔ 41سال کی ایمرجنسی اور سخت حکومت کے بطن سے ایک خوشحال اور طاقتور تائیوان برآمد ہوا۔
سنگاپور میں1959ء میں ”لی کوان یو“ سخت گیر وزیراعظم بنے۔ وہ قانون کی خلاف ورزی پر اپنے ہم وطنوں کو ہی نہیں‘ غیر ملکیوں کو بھی کوڑوں کی سزا دیتے تھے۔ سنگاپور16ستمبر1963ء سے 19اگست1965ء تک ملائیشیا کا حصہ رہا۔ 1999ء تک لی کوان یو سخت گیر وزیراعظم رہے۔ یہ پورے چالیس برس ہیں اور ان چالیس برسوں میں سنگاپور دنیا کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملکوں میں شمار ہوتا ہے۔
لی کوان یو کی چالیس برس کی سختی‘ جسے ہم نظم وضبط اور استحکام کہہ سکتے ہیں‘ تائیوان کی اکتالیس سال کی ایمرجنسی سختی اور ڈسپلن‘ ملائیشیا میں مہاتیر محمد کے سخت بائیس سال اور انڈونیشیا میں سوہارتو کے 32سالوں نے ان ملکوں کی معاشی تقدیر بدل دی۔ یہ تاریخ کے وہ حقائق ہیں‘ جن کی کوئی تردید نہیں کرسکتا۔ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ ملائیشیا اور تائیوان ابھی تک پسماندہ ہیں‘ ساری دنیا کے بے روزگار ان ملکوں میں روزگار کے لیے جاتے ہیں۔ اس کی کون تردید کرسکتا ہے کہ نظم وضبط اور سختی کے نتیجے میں ان ملکوں کی معاشی تقدیر بدل گئی۔ صدر پرویز مشرف صرف تین سال سارے اقتدار کے مالک رہے لیکن ان تین سالوں میں بھی لوگوں کو کوڑے نہیں مارے گئے‘ نظم وضبط کے ساتھ ملکی معیشت کو صحیح راستے پر لانے کی پوری کوشش کی گئی۔ صدر نے باقی پانچ سال ملک کو دوبارہ منتخب جمہوریت کے راستے پر ڈالنے کی جدوجہد کی۔ اگر ہم یہ جائزہ لیں کہ صدر پرویز مشرف کے ان آٹھ سالوں میں پاکستان کو کیا ملا تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں:۔
1۔ پاکستان کی معیشت ایک ناکام معیشت سے ایشیا کی سب سے تیز رفتار سے آگے بڑھنے والی معیشتوں شامل ہوگئی۔
2۔ پاکستان کو آئی ایم ایف کے غلبے سے آزادی مل گئی۔
3۔ پاکستان میں ایک نئے زرعی انقلاب کا آغاز ہوا۔
4۔ پاکستان کا صنعتی شعبہ منفی شرح ترقی سے باہر نکلا اور18فیصد سالانہ کی شرح ترقی کو چھوگیا۔
5۔ پاکستان کی برآمدات دس ارب ڈالر کے پھندے سے باہر نکل گئیں۔
6۔ پاکستان نے نہایت کامیابی کے ساتھ تیل کی قیمتوں میں اضافے کو جذب کیا۔ اگرچہ اس سے ناگزیر افراط زر تو ضرور ہوئی لیکن کمزور معیشت کی صورت میں جو تباہی پھیل سکتی تھی‘ وہ ٹل گئی‘ جو عظیم کامیابی ہے۔
7۔ پاکستان کی ایک نئی خوشحال مڈل کلاس پیدا ہوئی۔
8۔ 2007ء کے ملٹری سٹینڈ آف میں بھارت کے دانت کھٹے ہوئے اور وہ اپناسا منہ لے کر واپس جانے پر مجبور ہوا لیکن پاکستان نے مستقل حالت جنگ اور کشیدگی کو اپنے لیے نقصان دہ تصور کرتے ہوئے امن کی فضا بھی پیدا کی۔
9۔ افغانستان کی حکومت نے پاکستان کو گھیرنے اور ڈکٹیٹ کرنے کی کوشش کی‘ جسے صدر پرویز مشرف ناکام بنادیا۔
10۔ امریکہDO MOREکی گردان کرنے کے باوجود نہ تو پاکستانی علاقے میں آسکا اور نہ ہی پاکستان کو اپنی ٹرم ڈکٹیٹ کرسکا۔
11۔ پاکستانی میڈیا میں وہ توسیع ہوئی جس کا پہلے تصور نہیں کیا جاسکتا تھا اور میڈیا نے وہ آزادی انجوائے کی جس کا اس سے پہلے تصور موجود نہیں تھا۔
12۔ اگرچہ عدلیہ کی آزادی خود عدلیہ کے بعض عناصر کے غیر ذمہ دارانہ رویوں کی وجہ سے اپنے مقام پر نہ رہی لیکن اس کا ایک نشان او رمعیار مقرر ہوگیا۔
13۔ پاکستانی پارلیمنٹ نے تاریخ میں پہلی مرتبہ پانچ سال کی آئینی مدت پوری کی۔
14۔ بلوچستان کی ترقی پر پہلی بار پوری توجہ دی گئی۔
15۔ پاکستان میں فنون لطیفہ مرچکے تھے۔ سینما اور دیگر شعبوں میں آرٹ کی تجدید اور ترقی شروع ہوگئی۔
16۔ پاکستان کی مسلح افواج کو جدید ترین اسلحہ کی فراہمی شروع ہوئی۔
17۔ پاکستان کے ایٹمی اور میزائل پروگرام نے نئی بلندیوں کو چھولیا۔
یہ فہرست طویل ہوسکتی ہے بہت طویل ہوسکتی ہے‘ لیکن یہ بات نوٹ کرلینے کی ہے کہ پاکستان کی معیشت سیاست اور صحافت میں ایسی مثبت تبدیلیاں پیدا ہوئیں‘ جن کو کبھی واپس نہیں موڑا جاسکے گا اور پاکستان ان تبدیلیوں سے زیادہ جمہوری‘ خوشحال اور طاقتور ہوکر ابھرے گا۔ اگر سوہارتو‘ مہاتیر‘ چیانگ کائی شیک اور لی کوان یو کے بیس اور چالیس برس تبدیلی پیدا کرسکتے ہیں تو صدر جنرل پرویز مشرف نے جس تیزی سے منظر تبدیل کیا ہے۔اسے دیکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ وہ پندرہ برس میں وہ تبدیلی پیدا کرسکتے ہیں‘ جس تبدیلی کے لیے دوسرے رہنماؤں نے چالیس پینتالیس سال صرف کئے۔ اب صدر مملکت کہتے ہیں کہ8جنوری کے اتنخابات کے نتائج ناقابل قبول ہوئے تو وہ منظر سے چلے جائیں گے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا ہم اس قیادت سے محروم ہونے کے لیے تیار ہیں جو ہمیں ہر طرح کی پسماندگی سے نجات دلاسکتی تھی۔


بشکریہ احمد علی بلوچ، روزنامہ جنگ


ہم لوگ اب تک خوامخواہ صدر پرویز مشرف یا سابقہ صدر جنرل پرویز مشرف کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے اور ان کی پالیسوں سے اختلاف کرتے رہے ہیں، ہم ملکی ترقی سے بے خبر ہیں اور نہ ہی ہمیں حالات سے آگاہی ہے، سب سے بڑھ کر یہ کہ ہمیں معلوم ہی نہیں ہو سکا کہ ہمارے درمیان سوہارتو، مہاتیر، چیانگ کائی شیک اور لی کوان یو سے بھی بہت بڑے لیڈر موجود ہیں۔ بہت شکریہ احمد علی بلوچ صاحب آج آپ نے ہماری آنکھوں پر پڑا اندھیرے کا پردہ ہٹا دیا، اب روشنی میں ہمیں ‘سب اچھا‘ ہی نظر آ رہا ہے۔
بے خبر لوگو! حالات سے آگاہی حاصل کرو، اپنے اردگرد نظریں دوڑاؤ، دیکھو یہ جو تم تک ترقی ثمرات پہنچے ہوئے ہیں، یہ جو موبائیل فون پر گھنٹوں باتیں کرتے ہو، یہ جو سائیکل کی بجائے آج تم موٹرسائیکل کی سواری کر رہے ہو نا، یہ سب اسی عظیم لیڈر کی مرہون منت ہیں۔ اور تم احسان فراموش، تم اس عظیم لیڈر کی قدر نہیں کرتے، گو مشرف گو کے نعرے لگاتے ہو، اپنا گھر جلانے کی باتیں کرتے ہو ۔۔۔۔۔۔ شرم کرو۔

 

3 comments:

محمد شاکر عزیز نے لکھا ہے

اس میں شک نہیں کہ مشرف نے اچھے کام بھی کیے ہیں۔ میرے لائبریرین کہا کرتے ہیں کہ ہمیں کیا چاہیے دو وقت کی روٹی اور رہنے کے لیے مکان۔ چاہے مشرف ہو چاہے کوئی اور۔ مسئلہ تو یہ ہے کہ اگر حکومت کرنی ہے تو انصاف سے کرو۔ لیکن اس نے بھی اپنے ساتھ وہی لوگ ملائے رکھے جو کرپٹ تھے۔ حق تو یہ تھا کہ اس کے پاس جتنی طاقت تھی، فوج تھی، ایجنسیاں تھیں ان کو یہ ایسے استعمال کرتا کہ اچھے لوگ سامنے لائے جائیں۔ پھر ان کو ذمہ داریاں سونپی جاتیں جو نظام مملکت اچھی طرح چلانے میں‌ معاون ہوتے۔ تب ہم اسے پانچ کیا دس کیا تاعمر سر آنکھوں پر بٹھاتے۔ لیکن اسے تو خوشامد نے کھالیا۔ صرف اپنے اقتدار کے لیے اس نے کیا کچھ نہیں کیا۔۔۔۔

محمد شاکر عزیز's last blog post..پی ٹی سی ایل کا پاکستان پیکج

12/04/2007 12:00:00 AM
راشد کامران نے لکھا ہے

آزادی کیا ہوتی ہے اسکا اندازہ آزاد ملکوں‌ میں‌ رہ کر لگایا جاسکتا ہے۔۔ معاشی ترقی اپنی جگہ اہم لیکن فرد کی عزت نفس اور روح‌ کی آزادی وہ دو چیزیں‌ ہیں‌جو فوجی جنرلوں‌ اور سول آمروں‌ کی زیر سایہ ہونے والی معاشی ترقی میں نہیں‌ مل سکتیں ۔۔۔ آمریت کے زیر سایہ ترقی کی تین چار مثالوں‌ کو میں‌ کم از کم مستثنیات ہی گنوں‌ گا کیونکہ افریقہ سے لے کر لاطینی امریکہ تک اور ایشیا کے عمود سے افق تک آمریت نے صرف شدت پسندی اور غربت ہی دی ہے ۔۔ اگر روکھی سوکھی کھا کر مجھے ریاست اس بات کی ضمانت دے کے میرے پیاروں‌ کو کوئی بلا وجہ غائب نہیں‌ کرے گا تو میں اس ریاست کو فوقیت دوں‌ گا ۔۔

راشد کامران's last blog post..نئے پرانے اردو فانٹس اور سفاری میں اردو

12/04/2007 03:53:00 AM
عبداللہ نے لکھا ہے

چہ خوب سب کچھ صحیح ہے مگر پھر بھی وہی مرغے کی ایک ٹانگ!
سچ سچ بتائیں اگر اتنا کام کسی پنجابی جنرل نے کیا ہوتا تو کیا تب بھی آپ لوگ اسی طرح نقص نکالتے یا اس کی تعریف میں زمین و آسمان ایک کردیتے؟
اللہ کا واسطہ ہے آپ لوگوں کو اپنے اپنے تعصب سے باہر نکلیں اور اس ملک کی بھلائی کا سوچیں ،
شاکر صاحب آپ کو یہ اعتراض ہے کہ اس نے کرپٹ لوگوں کو اپنے ساتھ ملائے رکھا تو بھائی دلدل میں صاف پانی کی تلاش کیسے ممکن ہے آپلوگوں نے سدا کرپٹ لوگوں کو منتخب کیا اور انہیں ہی سروں پر بٹھائے رکھا اور آج بھی آپ انہین ہی اپنا نجات دہندہ سمجھ رہے ہیں تو مشرف کیا کرے جو میسر ہو اسی سے کام چلانا پرے گانا!اب ایک بار پھر فیصلہ آپ لو گوں کے ہاتھ میں ہے اپنے درمیان سے اچھے مخلص چاہے غریب ہی کیوں نہ ہوں منتخب کیجیئے!
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

12/04/2007 04:05:00 AM

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


بلاگر حلقہ احباب