ہم صرف امریکہ کے فرنٹ لائن اتحادی ہیں

سیدھی سے بات ہے زندہ رہنے کے لئے کھانا ضروری ہے۔ سانس لیتی جو مخلوق سبزی، چارہ شوق سے کھاتی ہے وہ سبزی خور کہلاتی ہے اور جس کی نبض چلنے کا دارومدار محض گوشت پے ہوتا ہے وہ مخلوق گوشت خور کہلاتی ہے۔ بھوک انسان کے قابو میں نہیں، اس کے سامنے جو کچھ بھی آئے وہ ہڑپ کر جاتا ہے اس لئے ہمہ خور کہلاتا ہے۔ جو کچھ نہیں کھاتا وہ کوئی ولی، درویش ہا پھر شوگر کا مریض ہی ہو سکتا ہے۔
ہمہ خوری کے باوجود انسان کی گوشت خوری اور سبزی خوری کا تناسب نکالا جائے تو اس کی شرح ٧٠ اور ٣٠ کی بنتی ہے۔ گوشت انسان کے لئے مرغوب ہو چکا ہے جس کی وجہ سے آلودگی نے بھی اس چسکے کا گھر دیکھ لیا ہے جو انسان کو لگ چکا ہے۔ ابتداء جانوروں کے کچے گوشت سے ہوئی جو آہستہ آہستہ آلودہ ہونا شروع ہو گئی۔ نیوٹریشنسٹ بتاتے ہیں کہ جتنی غذائیت، لذت، وٹامنز اور طاقت کچے یا نیم بریاں گوشت میں ہوتی ہے وہ مکمل پکے ہوئے یا گلے ہوئے گوشت میں نہیں ہو سکتی۔ انسان یہی کچا گوشت عرصہ دراز تک کھاتا رہا، آج بھی مچھیرے بھون کر یا پکا کر مچھلی کھانے کو مچھلی کی توہین سمجھتے ہیں، وسطی افریقہ کے بہت سے قبائل آج بھی کچا گوشت کھاتے ہیں یا زیادہ سے زیادہ دھوپ میں خشک کیا ہوا گوشت کھانے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔
وقت نے چند قدم مزید لئے۔ گوشت آگ پر براہ راست بھون کر کھایا جانے لگا، اس سے لذت میں اضافہ ہوا لیکن اس کی تاثیر اور وٹامنز مرنے لگے۔ بھنے ہوئے گوشت کے بعد ہنڈیا میں ڈال کر گوشت کو گھی میں بگھار دیا جانے لگا، اس سے بھی چسکے میں تو اضافہ ہوا لیکن وٹامنز اور غذائیت اسی قدر کم ہو گئے۔ بگھارے ہوئے گوشت میں بعدازاں تیز مرچوں، پیاز لہسن اور ادرک کا اضافہ کر کے اس کی طاقت مزید کم کر دی گئی۔ کھانوں نے مزید ترقی کی۔ مرچ، ادرک، پیاز، ٹماٹر کے ساتھ گھی میں بگھارے ہوئے گوشت کی اصل غذائیت کا مزید ستیاناس مارنے کے لئے گرم مصالحوں نے امریکہ جیسا کردار ادا کیا۔ اب ہنڈیا میں جب چوب چینی، دار چینی، چاروں نمک، ہلدی، فلفل سیاہ، زیرہ سفید، کالی مرچ، مرچ کلاں، لونگ، دھنیا اور دیگر مصالحہ جات کا پسا ہوا آمیزہ ڈالا جاتا ہے تو اس کی لذت میں تو اضافہ ہو جاتا ہے لیکن غذائیت، وٹامنز اور طاقت کا وہی حال ہوتا ہے جو عراق میں صدام حسین یا افغانستان میں طالبان کا ہوا۔
کھانے کا مزید بیڑا غرق ان ککوں، باورچیوں، شیفوں اور فارغ بیٹھی گھریلو خواتین نے کیا جنہوں نے پگمنٹس میں ذرا ذرا سی تبدیلی کر کے لاکھوں رنگ بنا دیئے۔ کمپیوٹر کی انسٹنٹ آرٹسٹ، کورل ڈرا یا اڈوب فوٹو شاپ کھول کر دیکھ لیں چاروں پگمنٹس کے باہمی ملاپ اور ان کے تناسب کو بدل بدل کر آُپس میں ملاتے جائیں تو پچیس لاکھ کے قریب رنگ بن جاتے ہیں۔ گوشت کے ساتھ بھی یہی ہوا، کھانے کی کوئی بھی کتاب اٹھا کر دیکھ لیں سب سے زیادہ ڈشیں گوشت کی ہی ملتی ہیں، ادرک گوشت، آلو گوشت، بھنڈی گوشت، کریلے گوشت، ٹینڈے گوشت، دو پیازہ گوشت، دال گوشت، بینگن گوشت، چنے گوشت وغیرہ وغیرہ حتٰی کہ گوشت گوشت کی ڈش بھی موجود ہے۔
کہا جاتا ہے کہ مغل شہشاہ اکبر اعظم اور شہزادہ سلیم کے دور کا باورچی گوشت کی اڑھائی ہزار مختلف ڈشیں پکا سکتا تھا۔
گوشت کی آلودگی کا یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔ آئے روز کوئی نہ کوئی نئی ڈش تیار ہوتی ہے اور انجام کار یہ ہوا کہ دن بدن امراض معدہ، اور دل کے مریضوں کی تعداد بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ شوگر کنٹرول سے باہر ہوتی چلی جا رہی ہے، کولیسٹرول قابو میں نہیں آتا، بلڈ پریشر نے الگ ناک میں دم کر رکھا ہے، مستقل سر درد کی شکایت بڑھ گئی ہے، جگر خون پیدا کرنا بھولتا جا رہا ہے اور ہر چوتھا آدمی جوڑوں کے درد کا رونا روئے جاتا ہے۔ معدے کا السر اور بواسیر اس کے علاوہ ہیں۔ انسان کا یہ انجام صرف اس لئے ہوا ہے کہ یہ لذت اور چسکا بڑھانے کے چکر میں گوشت سے سارے وٹامنز اور غذائیت نچوڑے چلا جا رہا ہے۔ قدرت کی دی ہوئی نعمتوں میں اپنی فنکاری کرنے کا یہ انجام تو ہونا ہی تھا۔ آپ کسی بھی چیز کو آلودہ کر کے دیکھ لیں ان کا انجام برا ہی ہو گا۔ مثال کے طور پر بدلتے ہوئے موسموں کو لیجیئے یہ قدرت کا سب سے حسین اور انمول تحفہ ہے۔ گرمیوں میں ائیر کنڈیشنروں نے گرمی کو آلودہ کر دیا اور سردیوں میں ہیٹروں نے سردی کو آلودہ کر دیا۔ انٹرنلی ائیر کنڈیشنڈ یا انٹرنلی ہیٹیڈ دفاترمیں کام کرنے والے اور کنٹرول ٹمپریچر کی گاڑیوں میں سفر کرنے والے افراد کی قوت مدافعت ایک عام آدمی کے مقابلے میں پچاس فیصد کم ہوتی ہے۔
بات صرف کھانے پینے اور موسموں تک محدود رہتی تو کوئی بات نہیں تھی لیکن ہم نے تو بہت آگے بڑھ کر موسمی تہواروں کو بھی آلودہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ کبھی شب برات پر رات بھر عبادت کی جاتی تھی اور موم بتیاں روشن کی جاتی تھیں لیکن آج آتش بازی کو ہی دعاؤں کی قبولیت کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔ کبھی عید کو محمود و ایاز کا مٹانے کا تہوار سمجھا جاتا تھا لیکن آج عیدیں محض غریب طبقے کے لئے خود کشی اور خود سوزی کا تہوار بنتی جا رہی ہیں۔ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تہوار انتہائی عقیدت و محبت کا تہوار ہے لیکن اس میں بھی جھمر اور دیگر لوازمات شامل کر کے اسے آلودہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے یوم پیدائش پر ڈھول کی تھاپ پر جھمر مارتے اور ایک دوسرے پر نوٹ نچھاور کرتے ہوئے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ خدارا آنے والی نسلوں کے لئے عقیدت، محبت اور احترام کے ان تہواروں کو تو اپنی اصل شکل میں رہنے دیں، انہیں تو آلودہ نہ کریں۔
کسانوں کے لئے جشن بہاراں کا تہوار تھا لیکن اس کی نسبت بسنت سے جوڑ کر اسے بھی آلودہ کر دیا گیا اور یہ ویلنٹائن ڈے تو کبھی ہمارے تہواروں میں شامل ہی نہ تھا۔
قارئین کرام! خود شکار کر کے کچا گوشت کھانے والے شیر کو صرف پانچ مرتبہ کسی فائیو سٹار ہوٹل کا “آلودہ“ یعنی روسٹ گوشت کھلا دیں تو وہ بلی بن جاتا ہے اور پھر عمر بھر کسی پر ہاتھ اٹھانے کے قابل نہیں رہتا۔ یہ ایام ویلنٹائن اور بسنت بھی آلودہ تہوار ہیں۔ ہم نے اگر اپنے تہواروں کی حفاظت نہ کی اور یہ آلودہ تہوار پانچ مرتبہ ہی منا لئے تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں بلی بننے سے روک نہیں سکے گی۔
لیکن ٹھہریے مجھے یہ بتائیے، کیا پہلے ہم شیر ہیں؟؟
جی نہیں ہم تو صرف امریکہ کے فرنٹ لائن اتحادی ہیں۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

کیا ہم بے ایمان قوم ہیں؟

We are corrupt as a nation.
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

یوزر ایجنٹ ۔ میڈیا پارٹنر

pakiez.blogspot.com  کو گوگل پر سرچ کرنے پر یہ میسج آ رہا ہے۔

User-agent: Mediapartners-Google
Disallow: 

User-agent: *
Disallow: /search
Allow: /

Sitemap: http://pakiez.blogspot.com/feeds/posts/default?orderby=UPDATED

یہ کیا ہے؟  کس وجہ سے آ رہا ہے؟ 
اور یہ سب ختم کیسے ہو گا، برائے مہربانی میری مدد کیجیئے ۔۔۔۔ شکریہ
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

جئے بھٹو

سندھی بچہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی تقریر کرتے ہوئے

Child Is Doing Speech Of Benazir Bhutto ( Must See This Video )
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

صرف پندرہ سیکنڈ


جب یہ جواب آیا "تو سب لوگ پاکستان چھوڑ کے چلے کیوں نہیں جاتے" تو سی این این کی انتہائی حاضر دماغ اینکر "بیکی انڈرسن" کی زبان، چہرے پر حیرت اور نفرت کے ملے جلے جذبات کے ساتھ بند ہو گئی۔
تو سبھی سوچ رہے تھے کہ مسٹر گیلانی کو شاید احساس ہوا ہو اور اب وہ اپنی بات میں تھوڑی اصلاح کریں گے تو پاکستانی قوم کے زخمی چہرے پر ایک اور زناٹے دار تھپڑ رسید ہوا اور الفاظ کچھ یوں ادا ہوئے۔
"انہیں روکا کس نے ہے"
صرف پندرہ سیکنڈ میں پوری قوم کی غیرت اور عزت، قائد کا مان، بوڑھوں کی قربانیاں، اور بحثیت پاکستانی، ہماری پہچان اور پہلے دنیا میں یتیم اس امت محمدی کی سادگی پر ایک طمانچہ رسید ہوا جس کا نشان تو شاید مٹ جائےپر اس کا زخم مدتوں تازہ رہے گا۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے


اگر پاکستان ملک کی بجائے ایک بہت بڑی پرائیویٹ کمپنی ہو تو آپ کس کو اس کا ڈائیرکٹر لگانا پسند کریں گے۔

آصف علی زرداری
تعلیم انڈر میٹرک (کراچی)
کرپشن میں ورلڈ ریکارڈ
پاکستان سے بھاری رقوم باہر لے گئے
یوکے اور پاکستان کی دوہری شہریت
چار سال میں ملک کا کباڑہ کر دیا


اسفند یار ولی
تعلیم بی اے (ہشاور)
تین نسلوں سے پاکستان کے خلاف
کرپشن، غنڈہ گردی وجہ شہرت
قوم پرست اور اسلام کے خلاف مشہور


عمران خان
سیاست میں ماسٹر ڈگری (آکسفورڈ)
بہترین ٹریک ریکارڈ
ٹیم بنانے اور لیڈر شپ کے دشمن بھی معترف
ایک روپے کی بھی کرپشن نہیں کی
شوکت خانم اور نمل کالج جیسے پروجیکٹس
ملک کی واحد نیک نامی ورلڈ کپ اس کی وجہ سے


میاں نواز شریف
تعلیم ایف اے (لاہور) ۔۔۔ پی اے؟
25 سال کا تجربہ جس میں خسارہ
منی لانڈرنگ، کرپشن کے الزامات
سب کو چھوڑ کے باہر بھاگنے کے لئے مشہور


الطاف حسین
تعلیم بی فارمیسی (کراچی)
قتل، قبضہ اور بھتہ وجہ شہرت
پاکستانی شہریت چھوڑ کے یوکے کی اختیار کی



اگلے الیکشن میں دماغ کے ساتھ ساتھ دل کو بھی استعمال کریں، جس طرح آپ اپنے کاروبار کی باگ دوڑ کسی نااہل شخص کو نہیں سونپ سکتے اُسی پاکستان کی باگ دوڑ بھی کسی اہل، محنتی اور ایماندار شخص کے ہاتھ میں دیں۔ کیونکہ ایک سچی محب وطن قیادت ہی ملک کو اس بھنور سے نکال سکتی ہے۔
اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

پاکستانی ملک چھوڑ کیوں نہیں دیتے ۔ گیلانی

 پاکستانی ملک چھوڑ کیوں نہیں دیتے ۔ گیلانی
وزیراعظم گیلانی کا امریکی ٹی وی سی این این کو دیا گیا حالیہ انٹرویو جس میں انہوں نے قوم کو یہ نیک مشورہ دیا۔

کوئی پاکستانی پاکستان نہیں چھوڑے گا، گیلانی صاحب اس قوم پر احسان کریں آپ ہی پاکستانیوں کی جان چھوڑ دیں۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

چاچا جی زندہ باد


پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نے عوام کی دل کھول کر خدمت کی ہے۔ کھانے پینے کی چیزیں انتہائی سستی ہو گئی ہیں، کھا کھا کر عوام کو موشن لگ گئے ہیں۔
سوئی گیس اور بجلی کے بل بہت سستے ہو گئے ہیں، بل کو پڑھ کر عوام ڈانس کرتے ہیں، زرداری زندہ باد کا نعرہ لگاتے ہیں۔
آئندہ بھی مسلم لیگ اور پی پی پی کو ووٹ دیں تاکہ خدمت میں جو کمی رہ گئی ہے وہ پوری ہو جائے۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

آئی لو یو ماں


ماں نے اپنے بچے کو ایک پل پار کراتے ہوئے کہا
“میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لو“
بچہ بولا  “نہیں ماں، آپ میرا ہاتھ پکڑ لیں“
ماں “اس میں کیا فرق ہے؟“
بچہ “اگر میں نے آپ کا ہاتھ پکڑا تو شاید میں مشکل میں آپ کا ہاتھ چھوڑ دونگا، لیکن اگر آپ نے میرا ہاتھ پکڑا تو مجھے یقین ہے کہ آپ میرا ہاتھ کسی بھی حالت میں نہیں چھوڑیں گی۔

آئی لو یو ماں
اللہ پاک سب کی ماؤں کو سلامت رکھے ۔ آمین
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

دعائے مغفرت کی اپیل


میرا پیارا اور ہردلعزیز بھیتجا زوہیب سعید جو تقریبا 2 سال کینسر سے لڑتے ہوئے آخرکار 22 سال کی عمر میں 6 مئی 2012 کو زندگی کی بازی ہار گیا۔
انا اللہ وانا الیہ راجعون
یہ ہمارے خاندان کے لئے بہت بڑا بڑا سانحہ ہے مگر ہم سب اللہ کی رضا پر راضی ہیں کہ آخرکار سبھی نے اُسی کے پاس لوٹ کے جانا ہے۔
تمام دوست احباب سے زوہیب سعید کے لئے دعاء مغفرت کی اپیل ہے۔



مکمل تحریر اور تبصرے >>>

مزدور ڈے

اس شہر میں مزدور جیسا دربدر کوئی نہیں
جس نے سب کے گھر بنائے اس کا گھر کوئی نہیں
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

بلاگر حلقہ احباب