23 March, 2008

تم ہنستی اچھی لگتی ہو

اے دوست میری کیوں روتی ہو
کیوں دکھ کو من میں بوتی ہو
یوں دل کو رنجور نہ کرو
اور آنکھوں سے غم دور کرو
غم بن مانگے مل جاتے ہیں
سب جھولی بھر کے پاتے ہیں
تم جوں جوں اس کو پاؤ گی
کندن بنتی جاؤ گی
تم جب بھی دکھ کو سہتی ہو
اور تنہا تنہا رہتی ہو
میں بھی تنہا ہو جاتی ہوں
اور غم کے تحفے پاتی ہوں
یہ جو تمھاری آنکھیں ہیں
یہ مجھ کو کتنی پیاری ہیں
تم جانتی اگر اے دوست میری
یوں چپکے چپکے نہ روتیں
جس کو پی پی کر تم جیتی ہو
یہ تم کو توڑ کے رکھ دیں گے
اور تنہا چھوڑ کے چل دیں گے
میں اسی لئے تو کہتی ہوں
تم ہنستی اچھی لگتی ہو





صباء رشید ۔۔ تونسہ شریف، ڈیرہ غازیخان

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


بلاگر حلقہ احباب