تم ہنستی اچھی لگتی ہو
اے دوست میری کیوں روتی ہو
کیوں دکھ کو من میں بوتی ہو
یوں دل کو رنجور نہ کرو
اور آنکھوں سے غم دور کرو
غم بن مانگے مل جاتے ہیں
سب جھولی بھر کے پاتے ہیں
تم جوں جوں اس کو پاؤ گی
کندن بنتی جاؤ گی
تم جب بھی دکھ کو سہتی ہو
اور تنہا تنہا رہتی ہو
میں بھی تنہا ہو جاتی ہوں
اور غم کے تحفے پاتی ہوں
یہ جو تمھاری آنکھیں ہیں
یہ مجھ کو کتنی پیاری ہیں
تم جانتی اگر اے دوست میری
یوں چپکے چپکے نہ روتیں
جس کو پی پی کر تم جیتی ہو
یہ تم کو توڑ کے رکھ دیں گے
اور تنہا چھوڑ کے چل دیں گے
میں اسی لئے تو کہتی ہوں
تم ہنستی اچھی لگتی ہو
صباء رشید ۔۔ تونسہ شریف، ڈیرہ غازیخان

0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔