23 April, 2009

تمھیں کیا خبر

راتوں کو اٹھ کر، خیالوں سے ہو کر، یادوں میں کھو کر، تمھیں کیا خبر
اپنے خدا سے ۔۔۔۔۔۔!
میں کیا مانگتا ہوں، ویرانوں میں جا کر، دکھڑے سنا کر، دامن پھیلا کر
آنسو بہا کر، تمھیں کیا خبر
اپنے خدا سے میں کیا مانگتا ہوں
تم کہو گے، صنم مانگتا ہوں، زر مانگتا ہوں
میں گھر مانگتا ہوں، زمیں مانگتا ہوں، نگیں مانگتا ہوں ۔۔۔!
تم تو کہو گے، ہم کو خبر ہے کہ راتوں کو اٹھ کر، خیالوں سے ہو کر
یادوں میں کھو کر، آنکھیں بھگو کر، کسی دلربا کی، کسی دلنشیں کی
وفا مانگتا ہوں، یہ بھی غلط ہے، وہ بھی غلط ہے، جو بھی ہے سوچا
سو بھی غلط ہے، نہ صنم مانگتا ہوں، نہ زر مانگتا ہوں
نہ دلربا کی، نہ دلنشیں کی، نہ ماہ جبیں کی وفا مانگتا ہوں
تمھیں کیا خبر ۔۔۔ اپنے خدا سے کیا مانگتا ہوں
میں اپنے خدا سے
آدم کے بیٹے کی آنکھوں سے جاتی ۔۔۔۔ حیا مانگتا ہوں
حوا کی بیٹی کے سر سے اترتی ۔۔۔۔۔ ردا مانگتا ہوں
اس کڑے وقت میں ۔۔۔۔ پاک وطن کی بقا مانگتا ہوں
تمھیں کیا خبر، میں کیا ماگتا ہوں

1 comments:

اظہرالحق نے لکھا ہے

ہاں اس وقت اسی دعا کی ضرورت ہے

4/23/2009 03:13:00 AM

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


بلاگر حلقہ احباب