01 May, 2009

مزدور ڈے





ہے دل کے لئے موت مشینوں کی حکومت
احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات
تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں
ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات

یوم مئی کا دن مزدوروں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ دراصل یہ دن شکاگو میں مارے جانے والے مزدروں کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ اس پورے واقعے کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ مزدور تحریک بنیادی طور پر 1860ء سے شروع ہو چکی تھی جو مختلف جوروستم کے مراحل طے کرتے ہوئے 1886ء کو اسٹارک ہارویسٹر کے 80 ہزار مزدوروں نے اپنے مطالبات حکومت تک پہنچانے کے لئے احتجاج شروع کیا۔ فیکٹریوں میں دوران کام مزدور محنت طلب کام کی زیادتی کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے تھے اور مزدوروں کا یہ بھی مطالبہ تھا کہ تنخواہ میں اضافہ کیا جائے۔ ان مطالبات کے سلسلے میں دوسرے روز یکم مئی 1886ء کو بھی شکاگو کے سارے کارخانوں میں مکمل ہڑتال رہی۔ 3 مئی کو ہڑتالی مزدوروں نے بہت بڑا جلسہ کیا جس میں سرمایہ دار نے اپنا رنگ دکھایا، اس جلسے میں پولیس نے بلاوجہ فائرگ کی جس میں 5 مزدور ہلاک ہو گئے۔
ان مزدوروں کی المناک موت پر 4 مئی کو شکاگو شہر کے مارکیٹ چوک ایک اور بڑا جلسہ اور مزدور ریلی ہوئی۔ مزدور لیڈروں نے اس جلسے میں 3 مئی کو ہلاک ہونے والے مزدوروں کے ضمن میں احتجاجی تقاریر کیں۔ اسی اثناء میں ایک پولیس آفیسر کیپٹن بون اسلحہ سے لیس 180 سپاہیوں سمیت جلسہ گاہ میں داخل ہوا اور جلسہ ختم کرنے کا حکم دیا۔ اس وقت جلسے کے آخری مقرر سیموئیول فلیڈن تقریر کر رہے تھے اور انکی تقریر کے دوران ہی جلسہ گاہ کے قریب ایک بم دھماکہ ہوا جس سے چند پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔ کیپٹن بون نے طیش میں آکر مزدوروں پر گولیاں چلانے کا حکم دیا۔ دہشتگردانہ انداز کی فائرنگ سے مزدوروں کا خون سینوں سے نکل کر زمین پر بہنے لگا۔
ایک مزدور نے اپنی قمیض خون میں ڈبو کر اس کا جھنڈا بنا دیا (اسی وقت سے مزدوروں کے جھنڈے کا رنگ سرخ ہے) ۔ ہر طرف خون ہی خون اور تڑپتی ہوئی لاشیں تھیں لیکن مزدوروں کے عزائم پختہ تھے خون سے تر جھنڈا لہرا رہا تھا۔اس سانحہ میں 11 مزدور ہلاک ہوئے جن میں دو عورتیں اور ایک بچہ بھی شامل تھا۔ پولیس نے آٹھ مزدور لیڈروں کو گرفتار کر لیا۔ عدالتی کاروائی شروع ہوئی تو بیشمار عدالتی بد دیانتیاں سامنے آئیں۔ اس عدالت نے چار مزدور لیڈروں ، 1ڈی فیشر، 2 اینجل، 3 اسپائر اور 4 پرسٹر کو دہشتگرد قرار دے کر چار کو پھانسی اور تین کو عمر قید کی سزا سنائی۔
ان چاروں مزدوروں نے موت کو گلے لگایا، اسپائر نے کہا “ غریب انسانوں کی آواز بلند ہونے دو ورنہ ان کی تلواریں بلند ہوں گی۔“ اینجل کے الفاظ بھی امر ہوگئے “ تم ہمیں مار سکتے ہو مگر ہماری تحریک ختم نہیں کرسکتے“ فیشر نے موت کی سزا تسلیم کرتے ہوئے کہا “ ہم خوش ہیں کہ ایک اچھے مقصد کے لیے جان دے رہے ہیں“ پریسٹر نے مرنے سے پہلے کہا “ تم اس آواز کو بند کر سکتے ہو لیکن وقت بتائے گا کہ ہماری خاموشی ہماری آواز سے زیادہ طاقتور ہو گی“
یوں آج بھی ان مزدروں کی قربانی کی یاد میں یہ دن منایا جاتا ہے۔ بڑے بڑے جلسے جلوس ہوتے ہیں۔ کانفرنسیں ہوتی ہیں۔ لیکن بے چارا مزدرو آج بھی انہی مسائل کا شکار جن سے وہ آج سے صدیوں پہلے دوچار تھا-

source - wikipidia

1 comments:

طارق راحیل نے لکھا ہے

یوم مزدور ڈے مبارک ہو

5/03/2010 04:46:00 AM

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


بلاگر حلقہ احباب