18 July, 2009

میرے پرندے میرے بچے

میرے ننھے گھر کے اندر
اک ننھا سا پیڑ لگا ہے
پیڑ کا سایہ تھوڑا ہے پر بہت گھنا ہے
کچھ دن پہلے، نیلے پیلے لال پروں والی دو چڑیاں
نازک نازک گھاس کے تنکے ڈھونڈ کے لائیں
اک گھر کی بنیاد بنا کر گھونسلا اک ننھا سا بنا کر
چڑیا دن بھر بیٹھی رہتی اور چڑا محنت سے دن بھر دانہ لاتا
چڑیا کے دو بچوں کی آوازیں سن کر
میں اور میرا ساتھی دونوں خوش ہو گئے
گھونسلے کو آفت سے بچاتے
آج صبح وہ دونوں چڑیاں بچے لیکر
گھونسلا چھوڑ کے چلی گئی ہیں
ہم دونوں خاموش کھڑے ہیں
اک دوجے کو دیکھ رہے ہیں سوچ رہے ہیں
ہم دونوں جب بوڑھے ہوں گے
بچے اپنے ہی اس گھر کے کمرے میں
ایک نئے ننھے گھر کی بنیاد رکھیں گے
اور پھر ان چڑیوں کی مانند
اپنے بچے لے جائیں گے
گھر کو سونا کر جائیں گے
میں اور میرا ساتھی اس دن مر جائیں گے
اک ننھے سے گھر کے اندر ایک اور ننھے گھر کا منظر
کتنا پیارا لگتا ہے
لیکن جب اس گھر کے باسی اور کسی منزل کی جانب اڑ جائیں
تب گھر ویرانہ لگتا ہے
دل بھی رونے لگتا ہے
گھر بھی رونے لگتا ہے
عظمٰی گوہر

2 comments:

بلوُ نے لکھا ہے

حیرت ہے کہ ابھی تک کسی نے اس تحریر پر ایک تبصرہ بھی نہیں کیا؟؟؟؟
تحریر بہت اچھی ہے مجھے بہت پسند آئی
.-= بلوُ´s last blog ..شاہ رخ خان یا کچھ اور؟ =-.

7/19/2009 07:31:00 PM
لالے کی جان نے لکھا ہے

اب کی بار جو کٹ کے گرا ہے ایندھن کے لئے
چڑیوں کو بڑا پیار تھا اس بوڑھے شجر سے۔۔۔
.-= لالے کی جان´s last blog .. =-.

7/27/2009 04:18:00 AM

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


بلاگر حلقہ احباب