تاج محل

تاج تیرے لیے اک مظہرِ الفت ہی سہی
تجھ کو اس وادیء رنگیں سے عقیدت ہی سہی
میری محبوب کہیں اور ملا کر مجھ سے
بزم شاہی میں غریبوں کا گزر کیا معنی؟
ثبت جس راہ میں ہوں سطوتِ شاہی کے نشاں
اس پہ الفت بھری روحوں کا سفر کیا معنی؟
میری محبوب پس پردہ تشہیرِ وفا
تو نے سطوت کے نشانوں کو تو دیکھا ہوتا
مردہ شاہوں کے مقابر سے بہلنے والی
اپنے تاریک مکانوں کو تو دیکھا ہوتا
ان گنت لوگوں نے دنیا میں محبت کی ہے
کون کہتا ہے کہ صادق نہ تھے جذبے ان کے
لیکن ان کے لیے تشہیر کا سامان نہیں
کیونکہ وہ لوگ بھی اپنی ہی طرح مفلس تھے
یہ عمارات و مقابر یہ فصیلیں یہ حصار
مطلق الحکم شہنشاہوں کی عظمت کے ستوں
سینہء دہر کے ناسور میں کہنہ ناسور
جذب ہے ان میں ترے اور مرے اجداد کا خوں
میری محبوب! انہیں بھی تو محبت ہوگی!
جن کی صناعی نے بخشی ہے اسے شکلِ جمیل
ان کے پیاروں کے مقابر رہے بے نام و نمود
آج تک ان پہ جلائی نہ کسی نے قندیل
یہ چمن زار یہ جمنا کا کنارہ، یہ محل
یہ منقش درو دیوار یہ محراب یہ طاق
اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق
میری محبوب! کہیں اور ملا کر مجھ سے
ساحر لدھیانوی
------------------
اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
کون کہتا ہے غریبوں کا اڑایا ہے مذاق
وہ کسی اور کی تضحیک کرے گا کیسے
جو کہ ہے بے چارا ہو خود کشتئہِ پیکانِ فراق
جس کے ارمان لٹے ، جس کی امیدیں ٹوٹیں
جس کے گلشن کا حسیں پھول اجل نے توڑا
موت کے سامنے جو بے بس و لاچار ہوا
جس کے ساتھی نے بھری دنیا میں تنہا چھوڑا
جسکا ہمدرد نہ مونس نہ کوئی ہمدم تھا
ایسے بے مایہ تہی دست سے جلتے کیوں ہو
اسکی ہستی تو کسی رشک کے قابل ہی نہ تھی
یونہی ان کانٹوں بھری راہوں پہ چلتے کیوں ہو
عمر بھر اسکو تو تسکین کی دولت نہ ملی
یوں تو کہنے کو اسے کہتے ہیں سب شاہِ جہاں
اسکے اندر بھی کبھی جھانک کے دیکھا تم نے
اسکی دنیا تھی کہ رِستے ہوئے زخموں کا جہاں
جب زمانے میں نہ اسکو کوئی غمخوار ملا
اس نے مر مر کو ہی ہمراز بنانا چاہا
اہلِ دنیا سے نہ ھب اس نے محبت پائی
اس نے پھر گمشدہ چاہت کو ہی پانا چاہا
تھا یہ تنہائی کا احساس ہی اسکے جس نے
سنگِ مرمر کا حسیں ڈھیر لگا ڈالا تھا
ناگ تنہائی کے ڈستے رہے اس کو آ کر
وہ کہ جو پیار کا شیدائی تھا دل والا تھا
اصل شئے جذبہ ہے ،گو وہ کسی سانچے میں ڈھلے
تاج کیا ہے ؟ یہ فقط پیار کا اظہار تو ہے
سنگِ مر مر کی زباں میں یہ کہا تھا اس نے
تُو نہیں آج مگر زندہ تیرا پیار تو ہے
تاج اک جذبہ ہے پھر جذبے سے نفرت کیسی
یاں تو ہر دل میں کئی تاج محل ہیں موجود
تاج اک سوئے ہوئے پیار کا ہی نام نہیں
یہ وہ دنیا ہے نہیں جس کی فضائیں محدود
تاج اک ماں کی محبت ہے بہن کا دل بھی
باپ کا بیٹے کا، بھائی کا حسیں پیار بھی ہے
تاج اک دوست کا بے لوث پیامِ اخلاص
تاج عشق بھی ہے، معشوق بھی دلدار بھی ہے
اس سے بڑھ کر بھی حسیں ہوتے ہیں شہکار یہاں
تاج کو دیکھ کے تُو اے دلِ مضطر نہ مچل
ماں کے دل سے تو ہمیشہ یہ صدا آتی ہے
میرے بچے پہ ہوں قربان کئی تاج محل
صاحبزادی امتہ القدوس بیگم
پاکستان میں بلاگسپاٹ پر پابندی کی وجہ سے اپنا ڈیرہ اردو بلاگ ذیل میں کسی ایک لنک پر کلک کر کے پڑھا جا سکتا ہے۔
http://apnadera.ueuo.com/blog
http://pkblogs.com/apnadera
تجھ کو اس وادیء رنگیں سے عقیدت ہی سہی
میری محبوب کہیں اور ملا کر مجھ سے
بزم شاہی میں غریبوں کا گزر کیا معنی؟
ثبت جس راہ میں ہوں سطوتِ شاہی کے نشاں
اس پہ الفت بھری روحوں کا سفر کیا معنی؟
میری محبوب پس پردہ تشہیرِ وفا
تو نے سطوت کے نشانوں کو تو دیکھا ہوتا
مردہ شاہوں کے مقابر سے بہلنے والی
اپنے تاریک مکانوں کو تو دیکھا ہوتا
ان گنت لوگوں نے دنیا میں محبت کی ہے
کون کہتا ہے کہ صادق نہ تھے جذبے ان کے
لیکن ان کے لیے تشہیر کا سامان نہیں
کیونکہ وہ لوگ بھی اپنی ہی طرح مفلس تھے
یہ عمارات و مقابر یہ فصیلیں یہ حصار
مطلق الحکم شہنشاہوں کی عظمت کے ستوں
سینہء دہر کے ناسور میں کہنہ ناسور
جذب ہے ان میں ترے اور مرے اجداد کا خوں
میری محبوب! انہیں بھی تو محبت ہوگی!
جن کی صناعی نے بخشی ہے اسے شکلِ جمیل
ان کے پیاروں کے مقابر رہے بے نام و نمود
آج تک ان پہ جلائی نہ کسی نے قندیل
یہ چمن زار یہ جمنا کا کنارہ، یہ محل
یہ منقش درو دیوار یہ محراب یہ طاق
اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق
میری محبوب! کہیں اور ملا کر مجھ سے
ساحر لدھیانوی
------------------
اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
کون کہتا ہے غریبوں کا اڑایا ہے مذاق
وہ کسی اور کی تضحیک کرے گا کیسے
جو کہ ہے بے چارا ہو خود کشتئہِ پیکانِ فراق
جس کے ارمان لٹے ، جس کی امیدیں ٹوٹیں
جس کے گلشن کا حسیں پھول اجل نے توڑا
موت کے سامنے جو بے بس و لاچار ہوا
جس کے ساتھی نے بھری دنیا میں تنہا چھوڑا
جسکا ہمدرد نہ مونس نہ کوئی ہمدم تھا
ایسے بے مایہ تہی دست سے جلتے کیوں ہو
اسکی ہستی تو کسی رشک کے قابل ہی نہ تھی
یونہی ان کانٹوں بھری راہوں پہ چلتے کیوں ہو
عمر بھر اسکو تو تسکین کی دولت نہ ملی
یوں تو کہنے کو اسے کہتے ہیں سب شاہِ جہاں
اسکے اندر بھی کبھی جھانک کے دیکھا تم نے
اسکی دنیا تھی کہ رِستے ہوئے زخموں کا جہاں
جب زمانے میں نہ اسکو کوئی غمخوار ملا
اس نے مر مر کو ہی ہمراز بنانا چاہا
اہلِ دنیا سے نہ ھب اس نے محبت پائی
اس نے پھر گمشدہ چاہت کو ہی پانا چاہا
تھا یہ تنہائی کا احساس ہی اسکے جس نے
سنگِ مرمر کا حسیں ڈھیر لگا ڈالا تھا
ناگ تنہائی کے ڈستے رہے اس کو آ کر
وہ کہ جو پیار کا شیدائی تھا دل والا تھا
اصل شئے جذبہ ہے ،گو وہ کسی سانچے میں ڈھلے
تاج کیا ہے ؟ یہ فقط پیار کا اظہار تو ہے
سنگِ مر مر کی زباں میں یہ کہا تھا اس نے
تُو نہیں آج مگر زندہ تیرا پیار تو ہے
تاج اک جذبہ ہے پھر جذبے سے نفرت کیسی
یاں تو ہر دل میں کئی تاج محل ہیں موجود
تاج اک سوئے ہوئے پیار کا ہی نام نہیں
یہ وہ دنیا ہے نہیں جس کی فضائیں محدود
تاج اک ماں کی محبت ہے بہن کا دل بھی
باپ کا بیٹے کا، بھائی کا حسیں پیار بھی ہے
تاج اک دوست کا بے لوث پیامِ اخلاص
تاج عشق بھی ہے، معشوق بھی دلدار بھی ہے
اس سے بڑھ کر بھی حسیں ہوتے ہیں شہکار یہاں
تاج کو دیکھ کے تُو اے دلِ مضطر نہ مچل
ماں کے دل سے تو ہمیشہ یہ صدا آتی ہے
میرے بچے پہ ہوں قربان کئی تاج محل
صاحبزادی امتہ القدوس بیگم
پاکستان میں بلاگسپاٹ پر پابندی کی وجہ سے اپنا ڈیرہ اردو بلاگ ذیل میں کسی ایک لنک پر کلک کر کے پڑھا جا سکتا ہے۔
http://apnadera.ueuo.com/blog
http://pkblogs.com/apnadera
کل اور آج
1980
لڑکی۔ ماں میں جینز پہنو گی!
ماں۔ نہیں بیٹی لوگ کیا کہیں گے!
2006
لڑکی۔ ماں میں منی سکرٹ پہنو گی!
ماں۔ پہن لے بیٹی کچھ تو پہن لے
لڑکی۔ ماں میں جینز پہنو گی!
ماں۔ نہیں بیٹی لوگ کیا کہیں گے!
2006
لڑکی۔ ماں میں منی سکرٹ پہنو گی!
ماں۔ پہن لے بیٹی کچھ تو پہن لے
سزا اور جزا
روایت ہے کہ خلیفہ ہارون الرشید عباسی کے دربار میں ایک شخص پیش ہوا اور اپنا کمال دکھایا۔ اس نے صحن میں ایک سوئی گاڑی دور جا کر دوسری سوئی پھینکی تو یہ سوئی اس کھڑی سوئی کے ناکے میں پہنچ گئی۔ لوگ عش عش کرنے لگے۔ ہارون الرشید نے حکم دیا کہ اسے ایک دینار انعام دیا جائے اور دس درے مارے جائیں۔ لوگوں نے اس اس جزا اور سزا کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا ‘اس کی ذہانت اور مشاقی ضرور قابل داد ہے لیکن اس نے اپنا ذہن ایسے فضول کام میں لڑایا، لہذا یہ سزا کا مستحق بھی ہے‘
آجکل ہمارے سیاستدانوں کا بھی یہی حال ہے وہ حتی المقدار اپنا فن دکھلا رہے ہیں لیکن ترجیحات مقرر کرنے میں غلطی کھا رہے ہیں۔ مشرف کے اس جدید دور میں کوئی ہارون الرشید ہے نہیں جو سزا اور جزا کا فیصلہ سنائے۔
آجکل ہمارے سیاستدانوں کا بھی یہی حال ہے وہ حتی المقدار اپنا فن دکھلا رہے ہیں لیکن ترجیحات مقرر کرنے میں غلطی کھا رہے ہیں۔ مشرف کے اس جدید دور میں کوئی ہارون الرشید ہے نہیں جو سزا اور جزا کا فیصلہ سنائے۔
سوچن والی گل اے
دور اکبری میں ایک امیر نے مکان بنوایا اور اسے آراستہ کر کے دوست بلوائے جن میں بیربل اور ملادوپیادہ بھی شریک ہوئے۔ لوگوں نے مکان کی بہت تعریف کی تو بیربل نے کہا ‘عمارت تو خوب ہے لیکن دروازہ تنگ ہے، مردے کی چارپائی بھی مشکل سے نکل سکے گی۔‘ امیر کو یہ بات ناگوار گزری تو اس نے موقع پا کر ملادوپیادہ سے داد چاہی اس نے امیر کو جواب دیا ‘بیربل تو احمق ہے دروازہ تنگ کہاں ہے؟ وہ تو اتنا بڑا ہے کہ آپ کا سارا کنبہ بھی مر جائے تو لاشیں بلا تکلف نکل جائیں گی۔‘
بات ہے سمجھ کی
جو اللہ سے ڈرتا ہے اس سے سب ڈرتے ہیں۔ حسن بصری
ہر مشکل انسان کی ہمت کا امتحان لیتی ہے۔ افلاطون
ہنسی ایک سستی دوا ہے جسے خریدا نہیں جا سکتا۔ محمود غزنوی
جب میں نے اپنے دکھ کو صبر کے کھیت میں بویا تو مجھے مسرت کا پھل ملا۔ خلیل جبران
زندگی کے آدھے غم انسان دوسروں سے امیدیں وابستہ کر کے خریدتا ہے۔
سب سے بڑی بہادری کسی سے بدلہ نہ لینا ہے۔
سب سے اچھی خیرات معاف کر دینا ہے۔
ٹھوکر کے بغیر کوئی بردبار نہیں بنتا اور تجربے کے بغیر کوئی دانا نہیں ہوتا۔
مصیبت میں گھبرانا سب سے بڑی مصیبت ہے۔
سچائی تیل کی طرح سطح پر آ جاتی ہے۔
حکمت ایک ایسا درخت ہے جو دل سے اگتا ہے اور زبان سے پھل دیتا ہے۔
مسکراہٹ ایک ایسا پردہ ہے جس کے پیچھے ہر قسم کا راز پنہاں ہے۔
صبر ایک ایسی سواری ہے جو سوار کو کبھی گرنے نہیں دیتی۔
دل کی آنکھ عبادت سے کھلتی ہے۔ حضرت جعفر صادق
خود کو بدل لو قسمت خودبخود بدل جائے گی۔
مسکراتا ہوا چہرہ کبھی کسی کو برا نہیں لگتا۔
قطرہ دریا میں گر جائے تو قطرہ نہیں رہتا، دریا بن جاتا ہے۔
ہر آدمی اپنی کل کھو چکا ہے، کامیاب وہ ہے جو اپنی آج نہ کھوئے۔
جو زیادہ پیسے والا ہے وہ زیادہ محتاج ہے۔
غصہ کی آگ پہلے غصہ کرنے والے ہی پر پڑتی ہے بعد میں دشمن پر پڑے یا نہ پڑے۔
ہر مشکل انسان کی ہمت کا امتحان لیتی ہے۔ افلاطون
ہنسی ایک سستی دوا ہے جسے خریدا نہیں جا سکتا۔ محمود غزنوی
جب میں نے اپنے دکھ کو صبر کے کھیت میں بویا تو مجھے مسرت کا پھل ملا۔ خلیل جبران
زندگی کے آدھے غم انسان دوسروں سے امیدیں وابستہ کر کے خریدتا ہے۔
سب سے بڑی بہادری کسی سے بدلہ نہ لینا ہے۔
سب سے اچھی خیرات معاف کر دینا ہے۔
ٹھوکر کے بغیر کوئی بردبار نہیں بنتا اور تجربے کے بغیر کوئی دانا نہیں ہوتا۔
مصیبت میں گھبرانا سب سے بڑی مصیبت ہے۔
سچائی تیل کی طرح سطح پر آ جاتی ہے۔
حکمت ایک ایسا درخت ہے جو دل سے اگتا ہے اور زبان سے پھل دیتا ہے۔
مسکراہٹ ایک ایسا پردہ ہے جس کے پیچھے ہر قسم کا راز پنہاں ہے۔
صبر ایک ایسی سواری ہے جو سوار کو کبھی گرنے نہیں دیتی۔
دل کی آنکھ عبادت سے کھلتی ہے۔ حضرت جعفر صادق
خود کو بدل لو قسمت خودبخود بدل جائے گی۔
مسکراتا ہوا چہرہ کبھی کسی کو برا نہیں لگتا۔
قطرہ دریا میں گر جائے تو قطرہ نہیں رہتا، دریا بن جاتا ہے۔
ہر آدمی اپنی کل کھو چکا ہے، کامیاب وہ ہے جو اپنی آج نہ کھوئے۔
جو زیادہ پیسے والا ہے وہ زیادہ محتاج ہے۔
غصہ کی آگ پہلے غصہ کرنے والے ہی پر پڑتی ہے بعد میں دشمن پر پڑے یا نہ پڑے۔
Subscribe to:
Posts (Atom)




