04 November, 2007

عبوری آئینی حکم 2007ء کا متن

چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف کی طرف سے ہفتہ کے روز عبوری آئینی فرمان جاری کیا گیا ہے، جس کا متن حسب ذیل ہے۔

”حکم نامہ 3 نومبر 2007ء  کی پیروی اور اس ضمن میں حاصل تمام اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے چیف آف آرمی سٹاف نے 3 نومبر 2007ء کے ہنگامی حالت کے فرمان کے تحت درج ذیل حکمنامہ جاری اور نافذ کیا ہے۔




(1) اس حکم کو عبوری آئینی حکمنامہ نمبر (1) آف 2007ء کہا جائے گا۔
(2) یہ پورے پاکستان پر محیط ہوگا۔
(3) یہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔




(1) اسلامی جمہوریہ پاکستان کی دفعات کے التواء کے باوجود پاکستان کا نظم و نسق اس حکم اور صدر مملکت کی جانب سے جاری کیے جانے والے کسی دوسرے حکم کے تابع جس حد تک بھی ممکن ہوا، آئین کے مطابق چلایا جائے گا۔
بشرطیکہ، صدر مملکت وقتاً فوقتاً حکم کے ذریعے آئین میں ضروری سمجھی جانے والی ترمیم کر سکیں گے۔
بشرطیکہ، آرٹیکلز 9,10,15,16,17,19 اور 25 کے تحت بنیادی حقوق معطل رہیں گے۔
(2) باوجود یہ کہ3 نومبر 2007ء کے حکمنامے یا اس حکم یا نافذ کیے جانے والے کسی اور قانون میں بیان کردہ کوئی چیز، اسلامی جمہوریہ پاکستان میں آرٹیکلز2 2A, 31, 203A سے,203J 227  سے 231 اور 260 (3) a اور(b) سمیت اسلامی احکامات کی حامل تمام شقیں نافذ العمل رہیں گی۔
(3) حکمنامے کی کلاز(1) اور عہدے (ججز)کے حلف حکمنامہ 2007ء سے مشروط اس آرڈر کے نفاذ سے قبل موجود تمام عدالتیں کام کرتی رہیں گی اور اپنے متعلقہ اختیارات اور دائرہ اختیار کو بروئے کار لاتی رہیں گی۔ بشرطیکہ سپریم کورٹ یا ہائیکورٹ اور کسی دیگر عدالت کو صدر مملکت وزیراعظم یا ان کی اتھارٹی کے تحت اختیارات بروئے کار لانے والے کسی اور شخص کے خلاف کوئی حکم جاری کرنے کا اختیار نہیں ہوگا۔
(4) تمام افراد جو اس حکمنامے کے نفاذ سے فوری قبل سپریم کورٹ، وفاقی شرعی عدالت یا ہائیکورٹ کے ججز کی حیثیت سے عہدے پر تھے، عہدے (ججز) کے حلف آرڈر 2007ء اور صدر کی طرف سے جاری کئے جانے والے ایسے کسی مزید حکم کے تحت اور تابع ہونگے۔
(5) کلاز (1) سے مشروط مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) اور صوبائی اسمبلیاں کام کرتی رہیں گی۔
(6) تمام افراد، جو اس حکم کے نفاذ سے عین قبل وفاق یا کسی صوبے بشمول آل پاکستان سروس، مسلح افواج میں سروس اور سروس آف پاکستان یا مجلس شوریٰ کے ایکٹ یا صوبائی اسمبلی یا چیف الیکشن کمشنر یا آڈیٹر جنرل قرار دی جانے والی کوئی اور سروس کے حوالے سے کسی سروس، عہدے یا منصب پر تھے، انہی شرائط پر مذکورہ خدمات سر انجام دیتے رہیں گے اور انہیں وہی مراعات حاصل ہونگی جب تک کہ صدر کے احکامات کے تحت تبدیل نہیں کی جاتیں۔




(1) سپریم کورٹ وفاقی شرعی عدالت اور ہائیکورٹس سمیت کوئی بھی عدالت یا کوئی ٹربیونل یا کوئی اور اتھارٹی اس حکم، 3 نومبر 2007ء کے ہنگامی حالت کے نفاذ، عہدے (ججز) کے حلف حکمنامہ 2007ء یا اس حوالے سے جاری کردہ کسی اور حکم پر سوال نہیں اٹھائے گی اور نہ ہی اس کی اجازت دیگی۔
(2) صدر، وزیراعظم یا صدر کی طرف سے نامزد کی جانے والی کسی اتھارٹی کے خلاف کسی عدالت یا ٹربیونل کی طرف سے کوئی فیصلہ، ڈگری، حکم یا کارروائی نہیں کی جائیگی۔




(1) آئین کی دفعات کے التواء کے باوجود لیکن صدر کے احکامات سے مشروط آئین کے علاوہ تمام قوانین، تمام آرڈیننس، آرڈرز، رولز، بائی لاز، ریگولیشنز، نوٹیفکیشنز اور دیگر قانونی دستاویزات جو پاکستان کے کسی حصے میں نافذ العمل ہوں خواہ صدر یا کسی صوبے کے گورنر کی طرف سے جاری کی گئی ہوں، صدر یا ان کی نامزد کردہ کسی شخصیت کی طرف سے تبدیلی، ترمیم یا منسوخی تک نافذ العمل رہیں گی۔




(1) صدر یا کسی صوبے کے گورنر کی طرف سے نافذ کردہ کوئی آرڈیننس آئین میں مقرر کردہ دورانیے کے حوالے سے کسی تحدید سے مشروط نہیں ہوگا۔
(2) کلاز(1) کی شقیں صدر یا گورنر کی جاری کردہ کسی آرڈیننس جو 3 نومبر 2007ء کے ہنگامی حالت کے نفاذ سے فوری پہلے نافذ العمل تھا، پر بھی لاگو ہونگی۔
بشکریہ روزنامہ جنگ

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


بلاگر حلقہ احباب