بش، مشرف اور پاکستان
امریکی صدر بش، صدر پرویز مشرف کو پاکستان سمجھتے ہیں، جب وہ پاکستان کی تعریف کریں تو اس کا مطلب ہے کہ صدر مشرف کو شاباش دی جا رہی ہے۔ اس کے برعکس جن لوگوں کو پاکستان سے محبت ہے وہ یہاں کی عوام کو پاکستان سمجھتے ہیں۔
ایمرجنسی سے چند دن پہلے ایک ٹی وی پروگرام میں صدر بش کا یہ بیان سنا کہ ‘پاکستان نے دنیا کو دکھا دیا کہ آزاد معاشرہ، متحرک پارلیمنٹ اور اسلام کا احترام بیک وقت کیسے ہو سکتا ہے‘
آزاد معاشرے کا ذکر کریں تو ہر جگہ وڈیرے اور جاگیردار نظر آتے ہیں جو عوام کا خون چوسنے اور اس کی تذلیل کرنے میں لگے ہیں، سیاستدان ان کا روپیہ اور ڈانڈے الیکشن میں برؤئےکار لاتے ہیں اور اقتدار ملتے ہی سود کے ساتھ حساب چکا دیتے ہیں۔
آزاد معاشرے کی ایک اور مثال جس میں فوج اور فوجی سربراہ کرپٹ سیاستدانوں کی سرپرستی کرتے ہیں اور ‘متحرک پالیمنٹ‘ جہاں ہر فیصلہ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لئے بغیر کیا جاتا ہے۔ عدلیہ کو خود انصاف کی راہ دیکھنی پڑتی ہے۔
اور اسلام کا احترام ایسا ہے کہ تعلیمی نصاب میں اسلام کا نام اسلام کے احترام میں خارج کیا جا رہا ہے۔
اوپر درج کیا گیا صدر بش کا بیان ناقابل تردید نظر آتا ہے، ایسا لگتا ہے کہ صدر بش اسلامی دنیا کو ہدایت دے رہے ہیں کہ وہ پاکستان کی تقلید کریں۔

0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔