جوؤں کا کاروبار اور پاکستانی خواتین
جنگ کے مطابق سعودی عرب میں ایک تحقیق کے مطابق جوئیں صرف جسم کا فاسد خون ہی نہیں پیتی بلکہ ان کی موجودگی میں خون کی گردش تیز رہتی ہے اور کھجانے سے سر کا قدرتی طور پر مساج ہوتا رہتا ہے۔ اس تحقیق کے سامنے آنے کے بعد سعودی عرب میں جوؤں کا دھندہ عروج پر ہے۔ جوئیں بیجنے کے لئے ویب سائٹ اور اشتہارات کا سہارا لیا جا رہا ہے۔ سعودی خواتین پچاس ریال تھوڑی سی جوئیں خریدتی ہیں ان سعودی خواتین کو شاید یہ معلوم نہیں کہ پاکستان جوؤں میں خودکفیل ملک ہے۔ پاکستانی خواتین جذبہ خیرسگالی کے طور پر انہیں کروڑں اربوں جوئیں مفت دینے کو تیار ہے ۔۔۔۔۔۔ تو ہے کوئی لینے والا؟
نوٹ ۔ جو پاکستانی خواتین بطور تحفہ سعودی خواتین کو جوئیں دینا چاہتی ہیں وہ یہاں اپنا اندراج کرائیں۔
گوانتا موبے بند نہیں منتقل کی جا رہی ہے
ایک اخباری اطلاع کے مطابق اوباما کی کی نئی حکومت کی جانب سے کیوبا کے ساحل پر قائم بدنام زمانہ گوانتا موبے جیل کو بند کرنے کا اعلان ایک ڈھونگ ہے کیونکہ اسے بند نہیں منتقل کیا جا رہا ہے، افغانستان میں بگرام ہوائی اڈے میں چھے کروڑ امریکی ڈالر سے قائم نیا گوانتا موبے جنم لے چکا ہے۔ گوانتا موبے کے قیدیوں کو اس جیل میں منتقل کیا جائے گا۔ افغانستان کی دیگر جیلوں میں موجود سینکڑوں بے گناہ قیدیوں کو بھی بگرام ہوائی اڈے میں قائم اس نئی جیل میں منتقل کیا جائے گا۔ بگرام ہوائی اڈے میں قائم یہ جیل نئی امریکی حکومت کی دوغلی پالیسی کا مظہر ہونے کے ساتھ ساتھ پوری دنیا کو بیوقوف بنانے کی کوشش ہے۔
ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں
ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
تعبیر ہے جس کی حسرت و غم اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم
میں حیرت و حسرت کامارا خاموش کھڑا ہوں ساحل پر
دریائے محبت کہتا ہے آ کچھ بھی نہیں پایاب ہیں ہم
لاکھوں ہی مسافر چلتے ہیں منزل پہ پہنچتے ہیں دو ایک
اے اہل زمانہ قدر کرو نایاب نہ ہوں کمیاب ہیں ہم
مرغانِ قفس کو پھولوں نے اے شاد یہ کہلا بھیجا ہے
آجاؤ جو تم کو آنا ہے ایسے میں ابھی شاداب ہیں ہم
شاد عظیم آبادی
مسلم اُمہ کا امریکہ سے شکوہ
علامہ اقبال کی روح سے معذرت کے ساتھ
(کلام ۔ نامعلوم)
کب تلک خوف زدہ صورتِ خرگوش رہوں
وقت کا یہ بھی تقاضا ہے کہ خاموش رہوں
ہمنوا! میں کوئی مجرم ہوں کہ روپوش رہوں
شکوہ امریکہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کو
چونکہ اس ملک کا صحرا بھی چمن ہے مجھ کو
گر ترے شہر میں آئے ہیں تو معذور ہیں ہم
وقت کا بوجھ اٹھائے ہوئے مزدور ہیں ہم
ایک ہی جاب پہ مدت سے بدستور ہیں ہم
اوباما سے نزدیک، زرداری سے دور ہیں ہم
یو ایس اے شکوہ، اربابِ وفا بھی سن لے
لبِ توصیٍف سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے
تیرے پرچم کو سرِ عرش اڑایا کس نے؟
تیرے قانون کو سینے سے لگایا کس نے؟
ہر سینیٹر کو الیکشن میں جتایا کس نے؟
فنڈ ریزنگ کی محافل کو سجایا کس نے؟
ہیلری سے کبھی پوچھو، کبھی چک شومر سے
ہر سینیٹر کو نوازا ہے یہاں ڈالر سے
جیکسن ہائیٹس کی گلیوں کو بسایا ہم نے
کونی آئی لینڈ کی زینت کو بڑھایا ہم نے
گوریوں ہی سے نہیں عشق لڑایا ہم نے
کالیوں سے بھی یہاں عقد رچایا ہم نے
آ کے اِس ملک میں رشتے ہی فقط جوڑے ہیں
بم تو کیا ہم نے پٹاخے بھی نہیں چھوڑے ہیں
جب بُرا وقت پڑا ہم نے سنبھالی مسجد
کب تلک رہتی مسلمان سے خالی مسجد
جب ہوئی گھر سے بہت دور بلالی مسجد
ہم نے ‘تہہ خانے‘ میں چھوٹی سی بنا لی مسجد
ہم نے کیا جرم کیا اپنی عبادت کے لئے
صرف میلاد کیا جشنِ ولادت کے لئے
ہم نے رکھی ہے یہاں امن و اماں کی بنیاد
ہر مسلمان کو ‘یو ایس‘ میں پڑی افتاد
اپنی فطرت میں نہیں دہشت و دنگا و فساد
پھر بھی ہم نے ترے شہروں کو کیا ہے آباد
ہر مسلماں ہے یہاں امن کا حامی دیکھو
ہیوسٹن جاؤ، ایل اے دیکھو، میامی دیکھو
گر گیا تیز ہواؤں سے اگر طیارہ
پکڑا جاتا ہے مسلمان یہاں بے چارا
کبھی گھورا، کبھی تاڑا تو کبھی للکارا
کبھی ‘سب وے‘ سے اٹھایا، کبھی چھاپہ مارا
تو نے یہ کہہ کے جہازوں کو کراچی بھیجا
یہ بھی شکلاََ ہے مسلمان اسے بھی لے جا
میڈیا تیرا، دوات اور قلم تیرے ہیں
جتنے بھی ملک ہیں ڈالر کی قسم تیرے ہیں
یہ شہنشاہ یہ اربابِ حرم تیرے ہیں
تیرا دینار، ریال اور درہم تیرے ہیں
تو نے جب بھی کبھی مانگا تجھے تیل دیا
تجھ کو جب موقع لگا تو نے ہمیں پیل دیا
حالتِ جنگ میں ہم لوگ تیرے ساتھ رہے
تاکہ دنیا کی قیادت میں تری بات رہے
یہ ضروری تھا کہ تجدیدِ ملاقات رہے
دیکھیئے کتنے برس چشمِ عنایات رہے
ہم ترے سب سے بڑے حلقہِ احباب میں ہیں
پھر بھی طوفاں سے نکلتے نہیں گرداب میں ہیں
‘ایڈ‘ دیتا ہے تری حوصلہ افزائی ہے
تیرا دستِ کرم سود کا سودائی ہے
اسحلہ دے کے جو غیروں سے شناسائی ہے
یہ بھی اسلام کے دشمن کی پذیرائی ہے
رحمتیں ہیں تری ہر قوم کے انسانوں پر
چھاپہ پڑتا ہے تو بے چارے مسلمانوں پر
آؤ جوتا جوتا کھیلیں!
بش کو جوتے کیا پڑے ایرانی عوام نے اسے قومی کھیل کا درجہ دے دیا، نیچے دی گئی تصویریں دیکھیئے اور بتائیے کہ کیا اس سے اچھا کوئی اور کھیل ہے دنیا میں؟
ممبئی حملے، ثبوت اور پاکستانی شہری
کچھ دن پہلے ممبئی حملوں کے ثبوت جو بھارت نے امریکہ کے ذریعے پاکستان کو فراہم کئے ہیں کے بارے میں بھارت کا کہنا ہے کہ یہ ناقابلِ تردید ثبوت ہیں اور پاکستان ان ثبوتوں کو جھٹلا نہیں سکتا۔ ان ثبوتوں کے بارے میں اگر بات کی جائے تو دفترِ خارجہ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ان میں ممبئی حملوں کے دوران بنائی گئی وڈیو ریکارڈنگز، دہشت گردوں کی میڈیا کیمروں سے لی گئی تصاویر اور وہ نیٹ کالز کے نمبرز شامل ہیں۔ معلومات کے مطابق ان میں سے ایک نمبر امریکہ کا ہے اور دوسرا نمبر آسٹریا کا (واقعی ناقابل تردید ثبوت ہیں، تردید کی ضرورت ہی نہیں)۔ ممبئی حملوں حملے میں استعمال کیا گیا اسلحہ جس کا تعلق ایک ایسی پاکستانی آرڈیننس فیکٹری سے جوڑا جا رہا ہے جو پاکستان ہے ہی نہیں (ہے نا مزے کی بات) سب کو معلوم ہے کہ پاکستان چھوٹے ہتھیاروں کا ایکسپورٹر ہے جسے وہ بہت سے ممالک کو فراہم کرتا ہے اور ویسے بھی کیا بھارت کے پاس پاکستانی اسلحہ نہیں ہو سکتا؟ اس طرح کا اسلحہ جس پر میڈ ان انڈیا لکھا ہوا ہے ہمارے پاس بھی بہت ہے ہم چاہیں تو ان کے سیریل نمبر بھارت تو دے سکتے ہیں تو کیا اس بنا پر بھارت کو دہشت گرد ملک تسلیم کر لیا جائے گا (کیا بچگانہ ثبوت ہیں، بھارت میں ذہن سے نہیں سوچا جاتا شاید اس لئے ان احمقانہ ثبوتوں کو ناقابل تردید کہا جا رہا ہے)۔ اس کے علاوہ جن چھے لوگوں کا تعلق پاکستان سے جوڑا گیا ہے ان بے چاروں کے چہرے یا پھر ان کی تصاویر اس قدر مسخ کر کے بنائی گئی ہیں جنہیں کوئی پہچان ہی نہیں سکتا کہ دراصل یہ ہیں کون۔ اس کے علاوہ آٹا، میڈی کیم ٹوتھ پیسٹ، ٹچ می کریم اور اسی طرح کی دوسری چیزیں جنہیں بطور ثبوت پیش کیا گیا ہے (اب بندہ پوچھے کہ یہ وہاں دہشت گردی کرنے گئے تھے یا پکنک منانے اور ساتھ میں رنگ گورا کرنے والی ٹچ می کریم ۔۔۔ سبحان اللہ) باقی تو خیر مگر ان دہشت گردوں کو اپنے ساتھ کراچی آٹا لیکر جانے کی کیا ضرورت تھی۔ شاید انہیں معلوم نہیں تھا کہ بیچارے بھارت کے پاس پہلے سے یہ سب چیزیں موجود ہیں یا پھر وہ بھارت کے آٹا خوار نہیں بننا چاہتے تھے یا پھر بھارت میں پاکستانی اشیاء کی مانگ بہت زیادہ ہے۔ بھارت اس لئے بھی پاکستان کے ساتھ تجارت کے ڈھونگ رچاتا رہتا ہے کہ تجارت کے تحت آئی ہوئی ان اشیاء کو ہر دہشت گردی کے بعد بطور ثبوت پیش کر سکے۔
اس سارے واقعہ میں واحد زندہ مبینہ پاکستانی دہشت گرد اجمل قصاب کا ہندی میں لکھا ہوا خط (یہ ہندی اُس نے کہاں سے سکیھی، میرے خیال میں تو اسے ٹھیک طرح سے اردو نہیں آتی ہو گی) کا اعترافی بیان جس کی قانونی حیثیت ہی مشکوک ہے۔ اس کے علاوہ ڈی این اے رپورٹ جو پکار پکار کے بھارت والوں کو کہہ رہی ہے کہ یہ پاکستانی خون ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اجمل قصاب پاکستانی ہے مگر بھارت یہ کیوں چھپا رہا ہے کہ اجمل قصاب کو کب، کیسے اور کہاں سے اغوا کر کے اس بھونڈے ڈرامے کا اہم کردار بنایا گیا ہے۔ بھارت اصل صورتحال سب کچھ واضح کرے پھر ہی بات آگے بڑھائی جا سکتی ہے۔ پاکستانی حکومت بھی اب آئیں بائیں شائیں بہت کر چکی، اب بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کو دو ٹوک جواب دے اور دنیا پر واضح کرے کہ اجمل قصاب کو کب اور کہاں سے اغوا کیا گیا ہے جس کا ریکارڈ وہاں کی عدلیہ میں موجود ہے۔
دنیا کا کوئی بھی ملک ہو وہ اپنی شہری کو پہنچنے والی گزند پر آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے، پاکستان پر یہ سارا نزلہ صرف اس لئے گرا ہے کہ کوئی بھی پاکستانی حکومت اپنے شہریوں کا تحفظ نہیں کرتی۔ اگر اجمل قصاب کے اغوا کے وقت ہی شور مچایا جاتا تو یہ سب بکھیڑا کھڑا ہی نہ ہوتا۔ حکومتیں ہی اپنے شہریوں کے تحفظ کی ضامن ہوتی ہیں جب شہریوں کو کوئی پوچھنے والا نہ ہو پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر اللہ حافظ ہے۔
کربلا ۔ پس منظر
تاریخ میں دین کے نام پر بہت سی لڑائیاں لڑی گئی ہیں، ان سب کا تعلق ایک یا دوسرے طریق عبادت یا نظریہ الوہیت کے اختلاف سے ہوتا تھا۔ اپنے اپنے آباء کے دین کا فروغ یا دفاع اور اپنی اپنی سرزمین پر قبضہ ہی ان کا محرک ہوتا تھا۔ پھر ان میں اکثر اچانک یا وقت کے ایک پیمانے کے اندر چھڑتیں، لڑی جاتیں اور ختم ہو جاتیں، ان میں کوئی لڑائی ایسی لڑائی نہیں جو تمام انسانیت کے لئے کسی بنیادی، اخلاقی، تہذیبی اور معاشرتی قدر کے کے دفاع میں لری گئی ہو۔ ان میں کوئی معرکہ ایسا نہیں جس کے دوران ایک فریق نے جنگ سے پہلے اپنے دشمن کو اس مقصد پر وعظ و تقریر سے نوازا ہو، جس مقصد کے دفاع اور بقاء کے لئے خطیبِ فوج میدان میں اتری ہو۔ ان جوع الارض کے نام خونریز معرکوں میں کوئی ایسا نہیں جس کا پہلا وار کئی صدیاں پہلے، فائنل راؤنڈ کے جرنیل کے آباؤ اجداد نے، ایک شک و شبہ سے بالا اور ایک معتبر آسمانی صحیفے میں درج، اعلٰی تہذیبی اور عمرانی مقصد کے لئے کیا ہو اور پھر اسی نسل کے فرزند جری نے ہزاروں صدیاں بعد معرکے کی تکمیل کی ہو، ۔۔۔ اور ہاں ۔۔ کربلا وہ تنہا معرکہ ہے کہ جس میں رن میں کام آنے والے سپہ سالار اور سپاہی زندہ جاوید ہو گئے ہوں اور فاتح آمروں اور بادشاہوں کی عبرتناک شکست کی یاد دہانی کرہ ارض کے ہر کونے میں ہر سال، ایام مقرہ پر، سرعام، ابن آدم کو یاد دلائی جائے۔ ہاں! ایسا لافانی اور درحقیقت قرآنی معرکہ کربلا ہے، صرف کربلا ۔۔۔۔ ہر آمر کے لئے موت کا پیغام۔
اقبال نے کربلا کے فاتح سپہ سالار، جناب امام حسین رضی اللہ عنہ کے حضور یہ تاریخی ہدیہ پیش کیا۔
موج خون اوچمن ایجاد کرد
یعنی، امام عالی مقام نے اپنے خون سے ایسا چمن ایجاد کیا جس میں قیامت تک آمریت کو کاٹ کے پھینک دیا گیا۔
معرکہ کربلا کب شروع ہوا اور کب تکمیل کو پہنچا؟ آج کا طالب علم جس کی تعلیم آستانہ فرہنگ پہ ہوئی یا جس نے اس معرکہ سے سرسری تعارف ایام عاشورہ کے دوران وعظ و تقریر سے حاصل کیا، اس کا جواب یہ ہو گا کہ کربلا کی لڑائی کا زمانہ یکم محرم الحرام سے دس محرم الحرام ہے۔ یقیناََ امام حسین اور یزید کی فوج میں ظاہری ٹکر انہی دنوں میں ہوئی۔ لیکن اس مجادلہ عظیم کی ابتداء اصل میں ٢٢٦٠ قبل مسیح میں کوہ خاران کی وادی میں ہوئی، جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے فرزند اور نبی حضرت اسماعیل علیہ السلام سے مل کر کعبہ کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو انہوں نے یہ دعا مانگی۔
‘اے میرے رب، میری اولاد سے ایک پیغمبر مبعوث کیجیو، جو ان کو تیری آیتیں پڑھ پڑھ کر سنائے، کتاب اور دانائی سکھائے، ان کے دلوں کو پاک صاف کرے، بیشک تو غالب اور حکمت والا ہے‘۔ سورہ البقرہ
اس عظیم موقع پر جناب ابراہیم علیہ السلام، الوالانبیاء کو خواب میں یہ حکم ملا کہ وہ اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کی راہ میں ذبح کر کے، اللہ کی درگاہ میں قربانی پیش کریں۔ قرآن نے یہ قصہ یوں بیان کیا ہے۔
‘لڑکا حضرت اسماعیل، جب اس عمر کو پہنچا کہ باپ کے ساتھ دوڑ سکے تو باپ نے کہا، فرزند من! میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں، دیکھو اس میں تمھارا کیا خیال ہے، بیٹے نے کہا کہ اے میرے باپ جو حکم ملا ہے اسے کر گزریئے، آپ مجھے انشاءاللہ صابر پائیں گے‘۔ سورہ الصافات
اللہ نے اپنے نبی کی آزمائش کر لی، ان کی قربانی کے عزم کو پسند فرمایا، لیکن چونکہ حضرت اسماعیل کی نسل کو جاری رکھنا اور اس نسل میں خاتم النبین جناب مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور دینِ ابراہیم کی تکمیل منشائے ایزدی میں صبح ازل سے طے پا چکی تھی اس لئے جب جناب ابراہیم علیہ السلام، جناب اسماعیل علیہ السلام کے گلے پر چھری پھیرنے لگے تھے اور آپ نے احتیاطاََ اپنی آنکھوں پر پٹی باندھی ہوئی تھی تو اللہ نے اس چھری کے آگے حضرت اسماعیل کی جگہ جنت کا ایک دنبہ لٹا دیا، وہ ذبح ہو گیا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بچا لیا گیا۔ ہر مسلمان جانتا ہے کہ اس تمام واقعہ کے دوران ابلیس نے اس قربانی کو روکنا چاہا، اللہ نے اپنے کلام میں ابن آدم کو اور خصوصاََ ملت ابراہیمی اور پیروان مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس قربانی کا فلسفہ مزید تشریح کے ساتھ بیان کیا ہے فرمایا ‘ہم نے اس قربانی کو آنے والی نسلوں میں ایک بڑی قربانی کے عوض ملتوی کر دیا‘۔ قرآن کی زبان یہ ہے ‘فدینہ بذبح عظیم‘ لوگوں نے یہی سمجھا اور قرآن کے سطحی علماء نے اس کا یہی مطلب کیا کہ چونکہ عیدالضحٰی پر رسالت مآب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر سنت نبوی کی صورت میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اس قربانی کے بدلے جانور ذبح کئے جاتے ہیں۔ قرآن نے اس مسنون ذبح الحیوان کو ہی ذبح عظیم کہا، لیکن سلسلہ یوں نہیں، قرآن کے عالم اور فکر فی القرآن کے ماہر، قرب مصطفٰی کے مسلم فیضیاب ڈاکٹر محمد اقبال کے یہ شعر سنیئے
١۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور سپہ سالار کربلا امام عالی مقام حسین ابن علی رضی اللہ عنہ کے متعلق فرمایا۔
معنی ذبح عظیم آمد پسر
سبحان اللہ، باپ کو قرآن کے تمام معنی بسم اللہ کی ‘ب‘ میں سمٹے نظر آئے۔ (قول علی)
٢۔ حضرت اسماعیل کی ملتوی شدہ قربانی، میدان کربلا میں شہادت حسین پر پوری ہوئی۔ اقبال کا شعر
نہایت اس کی حسین، ابتدا ہے اسماعیل
یہ ہے معرکہ کربلا کا ابدی، ازلی اور روحانی پس منظر، یہ ایک جنگ ہے حرم اور ابلیس کے درمیان یہ معرکہ ٢٢٦٠ ق م میں شروع ہوا۔ اس کی ابدیت کے خطوط رقم کرنے کے لئے، نینوا کے صحرا میں حسین ابن علی نے حرم اور ابلیس، ابراہیم اور نمرود کی پہلی جھڑپ کے قریباََ سات سو سال ٦٨٠ بعد مسیح آخری اور محکم صف آرائی کی۔ بظاہر نینوا کا معرکہ اولاد ابراہیم نے نینوا کے مقام پر جیتا اور نمرود وقت کو شکست دی، عظیم جنگوں میں کئی معرکے ہوتے ہیں، معرکہ نینوا میں نمرود یزید ہارا لیکن جنگ کربلا ابھی جاری ہے فلسطین میں، کشمیر میں، عراق میں، افغانستان میں اور اصلاََ تمام آمریت تلے سسکتی، اسلامی سرزمینوں میں۔ اقبال نے دور حاضر میں جاری اس ابدی جنگ کے روز و شب برپا معرکے کے متعلق ہمیں خبر دیتے ہوئے یہ کہا۔
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے
نیا سال
اذیتوں بھرا ٢٠٠٨ رخصت ہو رہا ہے، ٢٠٠٨ چیخ وپکار میں گزرا، حکومت پریشان اور عوام بے حال رہے۔ دھماکے، خود کش حملے، دہشت گردی کی وجہ سے ہر طرف قیامت برپا ہے، ایسے عالم میں نئے سال کی کیسی مبارک باد؟
جس دیس کے کوچے کوچے میں
افلاس آوارہ پھرتی ہو
جو دھرتی بھوک اگلتی ہو
اور ۔۔۔!
دکھ فلک سے گرتا ہو
جہاں بھوکے ننگے بچے بھی
آہوں پر پالے جاتے ہوں
جہاں سچائی کے مجرم بھی
زندان میں ڈالے جاتے ہوں
جہاں مظلوم کے خون سے
اپنے محل دھوئے جاتے ہوں
اُس دیس کی مٹی برسوں سے
یہ دُکھ جگر پر سہتی ہو
اُس دیس، اُس ملک میں کیسا سویرا، نئے سورج کی کیسی باتیں
جہاں ماتم ہوتے ہوں وہاں خوشیاں نہیں منائی جاتیں
اس عالم میں تو صرف دعا ہی کی جا سکتی ہے، آئیں اور ہم سب اللہ تبارک و تعالٰی سے گڑ گڑا کر اپنے گناہوں کی معافی مانگیں۔
اے تمام جہانوں کے رب!
وطنِ عزیز کو امن و آشتی کا گہوارہ بنا اور ہمیں ایسے حکمران عطا کر جو ہماری راہنمائی کر سکیں۔
اے ہمارے رب!
ہم سے بھول چوک میں جو قصور ہو جائیں اُن پر گرفت نہ کر ‘مالک‘ ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جو تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے تھے۔
پروردگار!
ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال جس کی ہمیں سہار نہ ہو اور ہمیں معاف فرما اور بخش دے اور ہم پر رحم کر تو ہمارا مولٰی ہے، کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔
اے اللہ!
تو بخش دے میری واقعی بات اور میری ہنسی مذاق کو، خطاؤں کواور جو میں نے جان کر کیا اور اس گناہ کو جو میرے پاس ہے، تو ہی آگے کرنے والا اور پیچھے کرنے والا اور ہر چیز پر تو ہی قادر ہے۔





















