دو خوشخبریاں
کل کے اخبارات میں قوم کے لئے دو خوشخبریان تھی کہ اپریل اور مئی میں بجلی کے نرخ پھر بڑھائے جائیں گے اور چینی بھی مہنگی کرنا پڑے گی۔ نہ جانے حکومت چاہتی کیا ہے ایک طرف آئی ایم ایف سے قرض پہ قرض لیا جا رہا ہے دوسری طرف تمام اشیاء کے باری باری نرخ بڑھائے جا رہے ہیں، پیٹرول جو اس وقت عوام کو ٢٥ سے ٣٠ روپے لیٹر ملنا چاہیے وہ اس وقت تقریبا ٥٨ روپے مل رہا ہے۔ اس سے اچھے پرویز مشرف تھے جس کے دور میں اشیاء کے نرخ ایک طویل وقفے سے بڑھتے تھے مگر نئی قائم ہونے والی پی پی کی عوامی حکومت نے تو غریب عوام کے ساتھ اعلان جنگ کر رکھا ہے، اس جنگ میں عوام کو ایک لمحہ سانس لینے کی بھی فرصت نہیں مل رہی، ایک مہینے بجلی کے نرخ تو دوسرے مہینے کھاد اور گیس کے نرخ پھر بجلی، چینی اور نہ جانے کیا کیا ۔۔۔ یقینا اس وقت عوام کی بیشتر تعداد خودکشی کی طرف بڑھ رہی ہے۔کل میں نادرا کیاسک فرنچائز پہ بیٹھا تھا کہ ایک عورت گیس کا بل ادا کرنی آئی جو کہ ٢٣٢٠ روپے کا تھا، اُس بیچاری نے روتے ہوئے انتہائی دکھ اور کرب سے کہا کہ ابھی لوگوں کے کپڑے دھوئے ہیں کچھ روپے وہاں سے ملے اور کچھ مانگ تانگ کے لائی ہوں کہ کسی طرح بل ادا ہو جائے، ابھی واپس جا کے بچوں کے لئے روٹی کا انتظام بھی کرنا ہے انہوں نے صبح سے کچھ نہیں کھایا۔
ایک اور عورت آئی کہنے لگی اس ماہ کی ساری تنخواہ ٹیلی فون، بجلی اور گیس کے بلوں میں چلی گئی ہے اب معلوم نہیں گھر کا خرچہ کیسے چلے گا، مرد بیچارے پریشان ہیں کہاں جائیں اور کون کون سا خرچہ پورا کریں۔
اندازہ کریں ایک طرف عوام کا یہ حال ہے کہ روٹی کے لئے ترس رہے ہیں اور دوسری طرف حکمرانوں کے اللے تللے ختم نہیں ہوتے، پنجاب میں اپنی حکومت قائم کرنے کے لئے خزانے کا منہ کھول دیا گیا ہے، بڑی بڑی گاڑیاں، ہیلی کاہٹر خریدے جا رہے ہیں۔ اپنے خرچے پورے کرنے کے لئے عوام پر بوجھ کے اوپر بوجھ لاڈا جا رہا ہے۔ مزے کی بات یہ کہ حکمران ٹولا نرخ بڑھنے کو تسلیم ہی نہیں کرتا بلکہ اسے سبسڈی کا حسین نام دیا جاتا ہے۔
اللہ پاکستانی عوام کا حامی و ناصر ہو۔

1 comments:
حکومت چاہتی ہے ۔کہ ایک دفعہ میں عوام کو کیوں مارا جائے ۔ تکلیف دے دے کر اور اذیت میں عوام کو دیکھ کر خوشی ہوتی ہو گئی ۔
3/06/2009 03:28:00 AMآپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔