جی خاور بھائی آپ کی بات درست ہے، میں خود بھی اپنے ملنے والوں سے یہی کہتا ہوں، دو تین سال پہلے جب میں دبئی گیا تو مجھے یہی لگا یہ کہ محل کسی غبارے پہ قائم ہے جو کسی بھی لمحے 'پھٹ' سکتا ہے۔ اظہر بھائی کی بات بھی درست ہے مگر اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ وہاں اس وقت پراپرٹی کا کوئی حال نہیں۔ میرے کزن دبئی میں جس کپنی میں کام کرتے ہیں ان کے بقول اُن کی کمپنی نے فروری میں ہی تقریبا دو سو لوگوں کے ویزے کینسل کرائے ہیں۔ ویسے میں نے کہیں پڑھا تھا کہ بنکاک میں 1990، 1991 کی دہائی میں پراپرٹی جس عروج پہ گئی وہ قیمت آج تک دوبارہ نہیں بن سکی، دبئی کا بھی یہی حال ہے۔ یہ تحریر میل سے موصول شدہ ہے، لکھنے والے کا نام معلوم نہیں.
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔
2 comments:
سب ٹھیک ہے مگر مانے گا کون؟؟؟
3/04/2009 08:31:00 PMیہ سب جھوٹ ہے ، میں بھی ادھر رہتا ہوں ، مگر اندھا ہوں نا ۔ ۔ ۔ اور خود بھی اسی "جوھڑ" کا حصہ ہوں!!!!
جی خاور بھائی آپ کی بات درست ہے، میں خود بھی اپنے ملنے والوں سے یہی کہتا ہوں، دو تین سال پہلے جب میں دبئی گیا تو مجھے یہی لگا یہ کہ محل کسی غبارے پہ قائم ہے جو کسی بھی لمحے 'پھٹ' سکتا ہے۔
3/04/2009 11:01:00 PMاظہر بھائی کی بات بھی درست ہے مگر اس حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ وہاں اس وقت پراپرٹی کا کوئی حال نہیں۔ میرے کزن دبئی میں جس کپنی میں کام کرتے ہیں ان کے بقول اُن کی کمپنی نے فروری میں ہی تقریبا دو سو لوگوں کے ویزے کینسل کرائے ہیں۔
ویسے میں نے کہیں پڑھا تھا کہ بنکاک میں 1990، 1991 کی دہائی میں پراپرٹی جس عروج پہ گئی وہ قیمت آج تک دوبارہ نہیں بن سکی، دبئی کا بھی یہی حال ہے۔
یہ تحریر میل سے موصول شدہ ہے، لکھنے والے کا نام معلوم نہیں.
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔