موجودہ حکومت کی پالیسیاں بھی مشرف حکومت کی طرح چل چلاؤ اور حکومت کرو کی طرح ہیں، نہ کوئی واضع پالیسی نہ کوئی ٹھوس اقدامات۔ اب یہی دیکھ لیں لوڈشیڈنگ پر قابو پانے کے موجودہ حکومت نے بھی مشرف حکومت کی طرح گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس سے ٢٥٠ میگا واٹ بجلی کی بچت ہو گی۔ اس اقدام کے تحت٣٠ اپریل اور یکم مئی کی درمیانی رات کو پاکستان کے معیاری وقت کی بجائے انرجی بچاؤ وقت شروع ہو جائے گا اور پاکستان بھر میں گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے کر دی جائیں گی۔ ان کوڑھ دماغوں کو ذرا مشرف دور کے اعداد و شمار ہی دیکھ لینے چاہیے تھے کہ اس اقدام سے لوڈشیڈنگ پر کس قدر قابو پایا جا سکا تھا۔
2 comments:
میرا خیال ہے کہ 15 اپریل سے گھڑیوں کے ساتھ پنگے بازی شروع ہو گی
4/09/2009 01:17:00 AMکتنا احسن فیصلہ ہے کہ چند دفاتر کے اوقات نئے سرے سے مقرر کرنے کے بجائے پورے ملک کی گھڑیاں آگے کر دی گئی ہیں۔ پتا نہیں کیوں جاہل گنوار لوگ اس پر اعتراضکرتے ہیں۔
4/09/2009 02:36:00 AMآپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔