سبحان اللہ ،ماشاء اللہ، سچ تو یہ ہے کہ اس ملک میں کبھی میرٹ اور ٹیلنٹ کو پوچھا ہی نہیں گیا اور اسی وجہ سے ملک سے برین ڈرین ہوتا رہا اور ادارے تباہی کا شکار ہوتے رہے اب بھی وقت ہے مملکت ہوش میں آئے اور اس بچے کو اون کرے وہ کہیں بھی رہے ہے تو ایک پاکستانی بچہ ہی اللہ اس کی زہانت میں دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی عطا فرمائے آمین،
یہ بچہ خیالی لگ رہا ہے کیونکہ فی الحال اس کا کوئی ثبوت میسر نہیں برین بینچ پر اس نام کا کوئی ریکارڈ نہیں ۔۔ اور ہمارے صحافی جب چھوڑنے پر آتے ہیںتو بس۔۔۔کمپیوٹر کا سب سے مشکل کورس اوریکل۔۔
صاحب۔۔ ذہانت کسی کی میراث نہیں ہوتی۔۔ لیکن کچھ باتیں خیالی معلوم ہوتی ہے۔۔ کسی بھی پروفیشنل کی رائے لے لیں۔۔۔ بینک کے اے ٹیم کا کوڈ چند منٹوں میں سیٹ اپ ہی نہیں ہوسکتا ٹھیک ہونا تو دور کی بات ہے چاہے آپ اس سسٹم کے چیف آرکیٹیکٹ ہی کیوں نہ ہوں۔۔ اس بچے کی قابلیت میں کوئی شبہ نہیں لیکن کالم نگار نے مبالغہ آرائی میں کچھ ایسی باتیں کردی ہیں جن کے لیے غالبا یہ کہا جاسکتا ہے کہ "ٹو گڈ ٹو بی ٹرو"۔ مثلا نیٹ ورک سسٹم کی خرابی کے لیے سافٹ ویر کے کوڈ کا طلب کیا جانا ہی بے معنی ہے۔
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔
3 comments:
سبحان اللہ ،ماشاء اللہ،
5/10/2009 04:10:00 AMسچ تو یہ ہے کہ اس ملک میں کبھی میرٹ اور ٹیلنٹ کو پوچھا ہی نہیں گیا اور اسی وجہ سے ملک سے برین ڈرین ہوتا رہا اور ادارے تباہی کا شکار ہوتے رہے اب بھی وقت ہے مملکت ہوش میں آئے اور اس بچے کو اون کرے وہ کہیں بھی رہے ہے تو ایک پاکستانی بچہ ہی اللہ اس کی زہانت میں دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی عطا فرمائے آمین،
یہ بچہ خیالی لگ رہا ہے کیونکہ فی الحال اس کا کوئی ثبوت میسر نہیں برین بینچ پر اس نام کا کوئی ریکارڈ نہیں ۔۔ اور ہمارے صحافی جب چھوڑنے پر آتے ہیںتو بس۔۔۔کمپیوٹر کا سب سے مشکل کورس اوریکل۔۔
5/10/2009 05:38:00 AMصاحب۔۔ ذہانت کسی کی میراث نہیں ہوتی۔۔ لیکن کچھ باتیں خیالی معلوم ہوتی ہے۔۔ کسی بھی پروفیشنل کی رائے لے لیں۔۔۔ بینک کے اے ٹیم کا کوڈ چند منٹوں میں سیٹ اپ ہی نہیں ہوسکتا ٹھیک ہونا تو دور کی بات ہے چاہے آپ اس سسٹم کے چیف آرکیٹیکٹ ہی کیوں نہ ہوں۔۔ اس بچے کی قابلیت میں کوئی شبہ نہیں لیکن کالم نگار نے مبالغہ آرائی میں کچھ ایسی باتیں کردی ہیں جن کے لیے غالبا یہ کہا جاسکتا ہے کہ "ٹو گڈ ٹو بی ٹرو"۔ مثلا نیٹ ورک سسٹم کی خرابی کے لیے سافٹ ویر کے کوڈ کا طلب کیا جانا ہی بے معنی ہے۔
5/10/2009 07:13:00 PMآپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔