09 May, 2009

عمار افضل، ہم شرمندہ ہیں

ammarafzal


HTML clipboard

3 comments:

عبداللہ نے لکھا ہے

سبحان اللہ ،ماشاء اللہ،
سچ تو یہ ہے کہ اس ملک میں کبھی میرٹ اور ٹیلنٹ کو پوچھا ہی نہیں گیا اور اسی وجہ سے ملک سے برین ڈرین ہوتا رہا اور ادارے تباہی کا شکار ہوتے رہے اب بھی وقت ہے مملکت ہوش میں آئے اور اس بچے کو اون کرے وہ کہیں بھی رہے ہے تو ایک پاکستانی بچہ ہی اللہ اس کی زہانت میں دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی عطا فرمائے آمین،

5/10/2009 04:10:00 AM
احمد نے لکھا ہے

یہ بچہ خیالی لگ رہا ہے کیونکہ فی الحال اس کا کوئی ثبوت میسر نہیں برین بینچ پر اس نام کا کوئی ریکارڈ نہیں ۔۔ اور ہمارے صحافی جب چھوڑنے پر آتے ہیں‌‌تو بس۔۔۔کمپیوٹر کا سب سے مشکل کورس اوریکل۔۔

5/10/2009 05:38:00 AM
راشد کامران نے لکھا ہے

صاحب۔۔ ذہانت کسی کی میراث نہیں ہوتی۔۔ لیکن کچھ باتیں خیالی معلوم ہوتی ہے۔۔ کسی بھی پروفیشنل کی رائے لے لیں۔۔۔ بینک کے اے ٹیم کا کوڈ چند منٹوں میں سیٹ اپ ہی نہیں ہوسکتا ٹھیک ہونا تو دور کی بات ہے چاہے آپ اس سسٹم کے چیف آرکیٹیکٹ ہی کیوں نہ ہوں۔۔ اس بچے کی قابلیت میں کوئی شبہ نہیں لیکن کالم نگار نے مبالغہ آرائی میں کچھ ایسی باتیں کردی ہیں جن کے لیے غالبا یہ کہا جاسکتا ہے کہ "ٹو گڈ ٹو بی ٹرو"۔ مثلا نیٹ ورک سسٹم کی خرابی کے لیے سافٹ ویر کے کوڈ کا طلب کیا جانا ہی بے معنی ہے۔

5/10/2009 07:13:00 PM

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


بلاگر حلقہ احباب