08 June, 2009

تنہا انسان

انسان تنہا ہو رہا ہے، تنہائی میں تنہائی کا شکار خوف میں مبتلا انسان تباہی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ آج کاالمیہ؟ انسان خود نہیں جانتا کہ المیہ کا پیش خیمہ ہی المیہ کا شکار ہوگیا۔
تنہائی کہاں نہیں رہی؛ گھر میں ہر فرد اپنے اندر تنہا ہوگیا۔ اپنے اپنے دائرہ میں محدود انسان نے اپنی سوچ کو دائروں کی حد میں مخصوص کر دیا۔ دائرے ویژن بڑھانےکی بجائے بصیرت کو مفقود کر رہے ہیں۔ انسان اپنے دائروں میں دوسروں کی سوچ محدود کرتے ہوئےخود فنا ہو رہا ہے۔ کل کا انسان دوسروں کی خاطر خود کو محدود کر کے اَمر ہو رہا تھا۔
خدا کی یاد سےغافل ہو کر کاہل انسان تنہائی کے خوف کا شکار، سہارا کی تلاش میں بے آسرا خود کو محسوس کر رہا ہے، حیرت تو یہ ہے عملی طور پر ہر فرد تنہا ہے، بقول قوم اس ملک کا اللہ ہی مالک ہے۔ ملت خود کو تنہا محسوس کرنے لگی۔ اللہ کی یاد انسان کو کامل یقین عطاء کرتی ہے۔
ہر فرد اپنے رویوں میں خود کو تنہا کر چکا ہے۔ رویّے انسان بناتے ہیں، انسان رویہ سے انسان بگاڑ رہے ہیں، حالات موسم کی طرح مزاج خراب کر رہے ہیں۔ رشتوں، الفتوں، محبتوں، خاندانوں، خانوادوں، مملکتوں، قوموں کو کمزور کرنے میں برسر پیکار رویے ہی ہیں ۔
محفل میں مقررین کی باتیں بےموضوع ہونے لگیں، نقطہ نگاہ تنہائی کا منظر پیش کرنےلگی۔ اَن گنت لاچار افراد کی پکاریں صرف صدا تک رہ گئیں۔ بےربط خواہشات تنہائی کا پیش خیمہ بنتی جا رہی ہیں۔ انسان خود کوتنہا تب محسوس کرتا ہےجب وُہ کسی خاص شخص کو کچھ کہنا چاہے اور وُہ نہ سنے۔
ہمارا لوگوں سے اختلاف بڑھنے لگا، ہم ہر فرد سے اعتراض رکھنےلگے۔ہمیشہ دوسرے کے مقابلے پر خود کو مقابل جان کر مفت میں خود کو تنہا کرنے لگے ہیں۔ اس اختلاف کی وجہ یہ ہے، جب ہم خود کو پارٹی سمجھنے لگتے ہیں تو دوسروں میں خامیاں محسوس ہونے لگتی ہیں۔انسان تنہا تب ہوتا ہے جب اُسکی سوچ تنہا ہوجائے۔
وقت کی قلت اور مصروفیات کے بے ہنگم ہجوم نے انسان کو انسان سے تو دور کیا۔ اُسکی اپنی سوچ کو اُسکے خیالات کی دُنیا میں تنہا کر دیا ہے۔ اسقدر تنہا کہ اُسکے پاس سوچنے کا وقت نہیں کہ وُہ چند لمحوں کے لیئے رُک کر یہ طے کر سکے کہ اُسکا فیصلہ درست ہے بھی یا نہیں۔ اکثر یہ خیال ذہن میں وارد ہوتا ہے کہ انسان آتا اور جاتا تو تنہا تھا، مگر دونوں لمحات دعاؤں سےلبریز ہوا کرتےتھے۔ شائد اب دعا سے محروم ہونے لگے ہیں۔ قبرستان فاتحہ خوانوں سے محروم، بچہ والدین کی شفقت کا منتظر تنہائی ہی تنہائی۔ خوشیاں بیچ کر تنہائیاں کما رہے ہیں۔ شائد تنہائی انسان کے خمیر میں تھی تنہا آنا اس دُنیا میں تنہا جانا اورتنہا ہی اپناحساب دینا۔
نفسا نفسی کا عالم اور بےہنگم خواہشات کی دوڑ نے زندگی سے محبت کو چھین کر پُرکیف لمحات کو بےرنگ کر چھوڑا۔ تنہائی بھی تنہائی کا شکار ہے یادوں سے محروم، کتب بھی تنہائی کا ہی درس دے رہی ہیں، نفرت اور اُلجھنوں کا راگ الاپ رہی ہیں۔اداروں کو ملازمین نہیں انسان کی صورت میں مسلسل چلتے رہنے والی disposal مشین چاہیے۔ تنہائی ہی نفسیات کا مرض پیدا فرما رہی ہے۔
ہر فرد کو زندگی کے نشیب و فراز میں ہمدرد و خیرخواہ کی ضرورت ہیں مگر زندگی کی بھیڑ میں انسان تنہا ہو گیا ہے۔ بات سننے کا وقت کسی کے پاس نہیں رہا۔ بڑھاپا میں ہمیں ایک ایسے ملازم کی ضرورت ہوگی جو ہماری گفتگو تو سُن سکے۔ ہمیں اس بات پر غور کرنا ہوگا۔ آج کا انسان تنہا کیوں ہے اور اس تنہائی کا حل کیسے ممکن ہے۔ ڈھائی انچھر پریم کے، پڑھے سو پنڈت ہو۔ (محبت کےچند حروف ہیں جو ان پر عمل کرے گا وہی عالم فاضل ہوگا۔)
(فرخ نور)

1 comments:

جون 2009ء کے بلاگز کا تجزیہ نے لکھا ہے

[...] بھی پیدا کردی ہیں۔ اِس بھری دنیا، بھری محفل میں ’تنہا انسان‘ کا ذکر کررہے ہیں فرخ انور [...]

7/04/2009 07:29:00 PM

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


بلاگر حلقہ احباب