07 November, 2007

ان کی ادا نئی نہ ہماری وفا نئی

"معزول" چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ آئین تار تار ہے، قربانیوں کا وقت ہے، لوگ اٹھ کھڑے ہوں۔ ایمرجنسی کو 3 دن اور  22 گھنٹے گزر چکے ہیں لیکن ابھی تک چاروں عالم سناٹا ہیں، صرف وکلاء میدان میں ہیں، اس سارے قصے میں آئین اور جمہوریت کی باتیں کرنے والی سیاسی جماعتیں کہاں ہیں؟ مجھے ان کے اس کردار پر تعجب نہیں ہو رہا کیونکہ یہ میری اور آپ کی دیکھی، بھالی اور آزمائی ہوئی ہیں۔ ان باتوں سے ہٹ کر ہم بات کرتے ہیں عوام کی، کیونکہ اس وقت ہر سے طرف آوازیں آ رہی ہیں کہ
اٹھو!
جاگو!
ہوش کرو!
احتجاج کرو!
میدان میں آؤ!
تو میرے عزیز ہم وطنو! میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ آپ کس عوام اور قوم سے مخاطب ہو اور کسے اپنے بنیادی حقوق سلب ہونے پر جاگنے کی دھائی دے رہے ہو۔ میرے پیارے ساتھیو! بنیادی یا انسانی حقوق معطل ہونے کی بات وہی کہی جاتی ہے جہاں اس کا پہلے سے کوئی وجود ہو، کبھی بنیادی حقوق ملے ہوں تو معطلی کا احساس ہو۔ نہ ان کی ادا نئی نہ ہماری وفا نئی


اڑیں گے کیا وہ پرندے جو اپنے رزق سمیت
سفر کا شوق بھی ٹوٹے پروں میں چھوڑ آئے

یہ چند سرپھرے وکلاء، کچھ ججز اور کچھ صحافی ہیں جنہوں نے ٹھان لی ہے کہ آج جو کچھ ہونا ہے ہو جانے دو، برداشت کر لو مگر کل کو محفوظ کر لو۔ اسی شوقِ شہادت میں یہ سڑکوں پہ پٹ رہے ہیں، لاٹھیاں کھا رہے ہیں، شیل کھا رہے ہیں۔



ان کے جذبوں اور ارادوں کو سلام

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


بلاگر حلقہ احباب