08 November, 2007

شادی بیاہ کی رسمیں ۔ حصہ اول



جنرل مشرف کی طرف سے ملک میں لگائی گئی ایمرجنسی کی وجہ سے کنواروں کے مزے ہو گئے ہیں۔ ہر طرف سے بینڈ، باجوں اور شہنائیوں کی آوازیں آ رہی ہیں۔ ماحول اور موسم کے مطابق آجکل شادیوں کی رسمیں زوروں پر ہیں۔ یہاں ڈیرہ غازی خان میں ہر جمعرات، جمعہ اور ہفتے کی راتوں میں آدھے شہر کی سڑکیں ٹینٹوں اور قناعتوں کی وجہ سے بند ہوتی ہیں۔ خود مجھے ایک ماہ سے مسلسل ہر ہفتے دو تین شادیوں میں شرکت کرنی پر رہی ہے، اس وجہ سے میں نے سوچا کہ کیوں نہ آپ کو سرائیکی خطے میں شادی کی خوبصورت رسمیں متعارف کرائی جائیں۔
شادی ایک خوبصورت بندھن اور مقدس فریضہ ہے۔ سرائیکی خطے کے لوگ عرصہ دراز سے اس کی ادائیگی اپنے روایتی طریقے سے کرتے چلے آ رہے ہیں۔ سائنس اور کمپیوٹر کے اس تیز رفتار دور میں جہاں خود انسان متاثر ہوا ہے وہاں ان  رسموں میں بھی بڑی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں مگر ان رسموں کی بنیاد وہی زمانہ قدیم والی ہی ہیں۔
جس گھر میں لڑکی پیدا ہوتی ہے ماں، باپ اسی دن سے اس کی رخصتی کی تیاریاں شروع کر دیتے ہیں کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ بیٹیاں پرایا دھن ہوتی ہیں۔ ماں ہر وقت بیٹی کے اچھے نصیب کی دعائیں کرتی رہتی ہے۔ سرائیکی خطہ پسماندگی اور غربت کا شکار ہے اس لئے دیہی خواتین اپنی جمع پونجی اور مال مویشی پال کر آہستہ آہستہ ‘ڈاج‘ یعنی جہیز اکٹھا کرتی رہتی ہیں، کیونکہ ایک ہی وقت میں وہ پورا انتظام نہیں کر سکتے۔ اس کے ساتھ ساتھ بیٹی کی تربیت، اسے ہنرمند بنانے اور کھانے پینے میں مہارت پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ جب لڑکی جوان ہو جاتی ہے تو ماں باپ پہلی فرصت میں مناسب ‘ور‘ یعنی رشتہ ملتے ہی اپنی بیٹی کے ہاتھ پیلے کر دیتے ہیں۔ شادی کی رسومات کئی مرحلوں اور دنوں پر مشتمل ہوتی ہیں لیکن مل جل کر کام کرنے کی وجہ سے بڑی آسانی سے تمام مراحل طے ہو جاتے ہیں۔ سب سے پہلے لڑکے کے گھر سے اس کی ماں یا کوئی قریبی رشتے دار عورت لڑکی والوں کے گھر جاتی ہے۔ لڑکی کو ہر لحاظ سے دیکھ کر، گھر اور دیگر چیزوں کا جائزہ بھی لیا جاتا ہے۔ اگر لڑکی پسند آ جائے تو اپنے گھر والوں خصوصاََ شوہر کو رضا مند کیا جاتا ہے۔ ادھر لڑکی کی ماں اپنے شوہر سے رشتے کے بارے میں بات کرتی ہے۔ اس کے بعد خواتین کا ایکدسرے کے گھر میں آنا جانا، تحفے تحائف دینا شروع ہو جاتا ہے۔ بالآخر جب دونوں خاندان رشتہ کرنے پر راضی ہو جاتے ہیں تو ایک رات مخصوص کر دی جاتی ہے، اُس رات لڑکے والے اپنے چند قریبی رشتے داروں کے ہمراہ لڑکی والوں کے گھر آتے ہیں اور اس رات شادی کی تاریخ طے کی جاتی ہے جسے گنڈھیں باندھنا کہتے ہیں۔ اس موقع پر گڑ، بتاشے یا لڈو بانٹتے ہیں۔ تاریخ ایک سے دو ماہ کے اندر رکھی جاتی ہے اور زیادہ تر چاند کی تاریخ پر شادیاں رکھی جاتی ہیں، چاند کی چودھویں کو سب سے زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔
سردی اور گرمی میں مہمانوں کو ٹھہرانے کے لئے مسئلہ ہوتا ہے اس لئے کوشش کی جاتی ہے کہ شادی ٹھنڈے میٹھے موسم یعنی اکتوبر، نومبر یا فروری، مارچ میں کی جائے۔ تاریخ طے ہوتے ہی دونوں طرف سے شادی کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ مکانوں کو چکنی مٹی یا رنگ روغن سے سجایا جاتا ہے۔ شادی سے چند دن قبل لڑکے کے گھر والے، لڑکی کے گھر والوں کو لیکر بازار جاتے ہیں جہاں سے لڑکی اور لڑکے کے لئے کپڑے، میک اپ کا سامان اور زیور وغیرہ خریدا جاتا ہے۔ اس سامان کو ‘وڑی‘ کہتے ہیں اور یہ لڑکے والوں کے خرچے پر ہوتا ہے۔ لڑکی والے بھی باقی ماندہ جہیز کی چیزیں خریدتے ہیں۔
شادی سے دو روز قبل خواتین کا ایک فنکشن ہوتا جسے مینڈھی کہتے ہیں۔ لڑکے کے گھر سے بہت بڑی تعداد میں خواتین ڈھولک بجاتی ہوئی اور خوشی کا اظہار کرتی ہوئی لڑکی والوں کے گھر آتی ہیں۔ یہاں پر ‘جھمر‘ یعنی جھومر ڈالی جاتی ہے اور ڈھولک پر خوشی کے گیت گائے جاتے ہیں۔ دلہن کو باہر صحن میں لایا جاتا ہے اور ایک بزرگ خاتون دلہن کے بالوں میں گندھی ہوئی مینڈھی یعنی بالوں کے بل کھولتی ہیں۔ شادی سے قبل لڑکیاں اپنے بالوں کو رسی کی طرح بل دے کر باندھے رکھتی ہیں۔ مینڈھی سے لیکر شادی تک دلہن بلاضرورت کمرے سے باہر نہیں نکلتی۔
لڑکے والوں کے گھر شادی سے ایک دن قبل رشتے دار اکھٹے ہو جاتے ہیں جن  کی رہائش کے لئے نزدیکی ہمسائیوں کے گھروں سے چارپائیاں، بستر اور دیگر سامان اکٹھا کیا جاتا ہے۔ اس خاص موقع پر ہمسائے بہت تعاون کرتے ہیں۔ جن لوگوں کو رات کا بلاوا ہوتا ہے وہ اکثر دور کے رشتے دار ہوتے ہیں، اس لئے وہ سرشام ہی آ جاتے ہیں۔ شادی کے بلاوے کے لئے علاقے کا نائی ہر گھر جا کر دعوت دیتا ہے کہ فلاں دن مینڈھی، فلاں دن جاگا اور فلاں دن رخصتی اور ولیمہ ہے۔
جس دن شادی ہوتی ہے اس رات گھر میں جاگا منعقد کیا جاتا ہے۔ خواتین لڈی، جھومر اور بھنگڑے ڈالتی ہیں اور مراثن گانے گاتی ہے، مرد حضرات باہر چوپال میں ڈھول کی تھاپ پر جھومر اور بھنگڑے ڈالتے ہیں۔
یہ فنکشن رات گئے تک جاری رہتا ہے۔ شادی والے دن گھر والے برات ‘بارات‘  کے لئے کھانے کے انتظام میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ اکثر شادیوں میں دلہن کا گھر نزدیک ہونے کی وجہ سے کھانا اور برات ایک ہی دن ہوتے  ہیں۔ سرائیکی خطے میں اکثر شادیاں اسی وسیب میں کی جاتی ہیں، برادری سے باہر یا دور بہت کم شادیاں ہوتی ہیں۔ کھانے کا انتظام حسب توفیق کیا جاتا ہے۔ عام طور پر سالن روٹی یا گوشت چاول پکائے جاتے ہیں۔ جانور ذبح کرنا، دیگیں پکانا اور تقسیم کرنا سب کام مل جل کر کیا جاتا ہے۔ جوں جوں مہمان آتے جاتے ہیں انہیں عزت و احترام سے بیٹھا کر کھانا پیش کیا جاتا ہے۔ خواتین صحن میں بچھی ہوئی چٹائیوں پر بیٹھ کر کھانا کھاتی ہیں۔ کھانا کھا کر بارات کی روانگی کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل تک دلہا ‘دولہا‘ پھٹے پرانے کپڑوں میں دلہن کے گھر جا کر وہی نئے کپڑے پہنتا تھا مگر اب رواج بدل گیا ہے۔ دلہا کو پوری برادری سر پر خوشبودار تیل لگاتی ہے۔ دلہا کے ساتھ ایک آدمی مستقل طور پر رہتا ہے جسے سربالا کہتے ہیں۔ دلہا کے ہاتھ میں تلوار، کلہاری، بندوق، چاقو، یا لوہے کی کوئی چیز ضرور ہوتی ہے۔ اس کے بعد کسی مسجد کے سامنے جا کر دلہے کے ہاتھ میں اس  کا دادا، چچا یا قریبی بزرگ رشتے دار گانا پہناتے ہیں، یہ لال رنگ کے دھاگوں سے بنا ہوا ہوتا ہے۔ تمام لوگ دعا مانگتے ہیں۔ دلہا کو پوری برادری کے درمیان کھڑا کیا جاتا ہے اور درود شریف پڑھ کر پگڑی کو پھونک ماری جاتی ہے اور نائی دلہے کو نئے کپڑے پہناتا ہے۔ اس موقع پر ڈھول اور نقارہ پر خاص دھن بجائی جاتی ہے۔ مراثی اور نائی کو ہر شخص ویل دیتا ہے اور باقاعدہ باآواز بلند اعلان کیا جاتا ہے کہ دلہے کے نام پر دلہے کے فلاں رشتےدار یا شخص نے اتنے روپے ویل دی۔ دلہا کے کپڑے سفید،  ساتھ میں پگڑی اور ایک لنگی ضرور ہوتی ہے۔ اس موقع پر دلہے کے دوست اور رشتےدار نوٹوں کے ہار ڈالتے ہیں۔ اس کے بعد بارات روانہ ہو جاتی ہے۔
حصہ دوم پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجیئے

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


بلاگر حلقہ احباب