قرآن اور ہمارے دل ۔ 2
نوٹ۔ یہ تحریر مجھے تصویری اردو کی صورت میں ایک میل کے ذریعے سے موصول ہوئی ہے، جسے میں یونیکوڈ اردو میں لکھ کر حصہ اول پہلے ہی آپ کی خدمت میں پیش کر چکا ہوں اب حصہ آخر پیشِ خدمت ہے۔
اللہ تعالٰی نے قرآن میں دلوں کی مختلف اقسام بیاں کی ہیں۔ آیئے ہم جائزہ لیں کہ ان میں سے ہمارا دل کون سا ہے۔
مطمین دل ۔ اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے، جس سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ (الرعد۔٢٨)
مجرم دل ۔ جن کے دلوں میں اللہ کا ذکر، قلب کی ٹھنڈک اور روح کی غذا بن کر اترے وہ اہلِ ایمان کے دل ہیں مگر جن کے دلوں میں شتابہ بن کر لگے اور اسے سن کر ان کے اندر آگ بھڑک اٹھے، گویا ایک گرم سلاخ تھی کہ سینوں سے پار ہو گئی وہ مجرمین کے دل ہیں۔
‘مجرمین کے دلوں میں تو ہم اس ذکر کو اس طرح (سلاخ کی مانند) گزارتے ہیں وہ اس پر ایمان نہیں لایا کرتے‘۔ (سورہ زمر)
کانپ اٹھنے والے دل ۔ اللہ کا ذکر سن کر جس کا دل کانپ اٹھے وہ مومن ہے۔
‘اور اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! بشارت دیدے عاجزانہ روش اختیار کرنے والوں کو جن کا حال یہ ہے کہ اللہ کا ذکر سنتے ہیں تو ان کے کانپ اٹھتے ہیں۔ جو مصیبت ان پر آتی ہے اس پر صبر کرتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، اور جو کچھ رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں‘۔ (الحجر۔٣٤-٣٥)
اندھے دل ۔ جو عبرت حاصل نہ کرے، اس کا دل اندھا ہوتا ہے۔
‘کتنی ہی خطا کار بستیاں ہیں جن کو ہم نے تباہ کیا ہے، اور آج وہ اپنی چھتوں پر الٹی پڑی ہیں، کتنے ہی کنویں بیکار اور قصر کھنڈر بنے ہوئے ہیں۔ کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ ان کے حل سمجھنے والے یا ان کے سننے والے ہوتے، حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں، بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں‘۔ (الحج۔ ٤٥-٤٦)
قلبِ سلیم ۔ حشر کے دن صرف قلبِ سلیم فائدہ دے گا۔
‘(اس دن) جبکہ نہ کوئی مال فائدہ دے گا نہ اولاد۔ بجز اس کے کہ کوئی شخص قلبِ سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور ہو‘۔ (الشعراء۔ ٨٨-٨٩)
بے ایمان دل ۔ خدائے وحدہ لاشریک کا ذکر سن کر جس کا دل کڑھنے لگے سمجھ لو کہ وہ بے ایمان اور منکر آخرت ہے۔
‘جب اکیلے خدا کا ذکر کیا جاتا ہے تو آخرت پر ایمان نہ رکھنے والے کے دل کڑھنے لگتے ہیں اور جب اس کے سوا دوسروں کا ذکر ہوتا ہے تو یکایک وہ خوشی سے کھل اٹھتے ہیں‘۔ (الزمر۔٤٥)
متکبر دل ۔ اللہ ہر متکبر اور جبار کے دل پر ٹھپہ لگا دیتا ہے۔
‘اس طرح ان سب لوگوں کو گمراہی میں دال دیتا ہے، جو حد سے گزرنے والے اور شکی ہوتے ہیں۔ اور اللہ کی آیات میں جھگڑتے ہین۔ بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سند یا دلیل آئی ہو یہ رویہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے نزدیک سخت مبغوض ہے۔ اس طرح اللہ ہر متکبر اور عیار کے دل پر ٹھپہ لگا دیتا ہے‘۔ (المومن ٣٤-٣٥)
ایمان والے دل ۔ جن لوگوں کے دل اللہ کے ذکر پر پگھلتے ہیں، وہ اللہ والے ہیں۔
،کیا ایمان لانے والوں کے لئے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کے ذکر سے پگھلیں اور اس کے نازل کردہ حق کے سامنے جھکیں۔ اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں، جنہیں پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر ایک لمبی مدت ان پر گزر گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے اور آج ان میں سے اکثر فاسق بنے ہوئے ہیں‘۔ (الحدید۔١٦)

3 comments:
sahib e tehreer nain apnay dil ko kis khanay main daala hai? :)
12/04/2007 10:43:00 PMمی! پہلی بات تو یہ کہ یہ تحریر میری نہیں دوسری بات یہ کہ اگر آپ کا اشارہ میری طرف سے ہے تو میں واضح کر دوں کہ میں ایک انتہائی گناہگار بندہ ہوں اور اس کی رحمت کا طلب گار ہوں اور وہ بڑا رحمان و رحیم ہے۔
12/06/2007 09:49:00 PMjinaab mazah kay saath siraf udbee sense main keh raha hoonn..koi serious baat nahain...aap nain konsa mujeh jaan denee hai :)
12/08/2007 01:20:00 AMsiraf yeah baat keh ju doosroon ku bata rahay hain kiyya apnay haal say bhee waqif hain...emoticon laga diy yatha lekin chala nahain... :)
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔