بلاگ پہ آمد کا بہت بہت شکریہ
Showing posts with label اسلام. Show all posts

نام نہاد مسلم عورتوں کے منہ پر طمانچہ


ایک باپردہ عورت نے فرانس کی ایک سپرمارکیٹ سے خریداری کی اور اس کے بعد وہ عورت پیسوں کی ادائیگی کیلئے لائن میں کھڑی ہو گئی۔ اپنی باری آنے پر وہ چیک آؤٹ کاؤنٹرآئی، جہاں اسے رقم ادا کرنا تھی، وہاں اس نے اپنا سامان ایک ایک کر کے کاؤنٹر پر رکھ دیا۔ چیک آؤٹ پر کھڑی ایک بے پردہ مسلم لڑکی نے اس خاتون کی چیزیں ایک ایک کر کے اٹھائیں، اور ان کی قیمتوں کا جائزہ لینے لگی۔

تھوڑی دیر بعد اس نے نقاب والی خاتون گاہک کی طرف ناراضی سے دیکھا اور کہنے لگی! ہمیں اس ملک میں کئی مسائل کا سامنا ہے، ان مسائل میں ایک مسئلہ تمہارا نقاب ہے۔ ہم یہاں تجارت کرنے کے لئے آئے ہیں نہ کہ اپنا دین اور تاریخ دکھانے کے لئے۔ وہ مسلم عرب عورت جو نام نہاد روشن خیال تھی اپنی بے ہودہ تقریر جھاڑے جا رہی تھی کہ اگر تم اپنے دین پر عمل کرنا چاہتی ہو اور نقاب پہننا ضروری سمجھتی ہو تو اپنے ملک واپس چلی جاؤ، جہاں جو تمہارا دل چاہے کر سکتی ہو۔ وہاں نقاب پہنو، برقع پہنو، ٹوپی والا برقع پہنو، جو چاہے کرو مگر یہاں رہ کر ہم لوگوں کے لئے مسائل مت پیدا کرو....
نقاب پہننے والی خاتون ایک مسلم عورت کے منہ سے نکلنے والے الفاظ پر دم بخود ہو کر رہ گئی۔ اپنے سامان کو بیگ میں رکھتے ہوئے اس کے ہاتھ رک گئے اور اچانک اس نے اپنے چہرے سے نقاب الٹ دیا، کاؤنٹر پر کھڑی لڑکی اس کا چہرہ دیکھ کر حیران رہ گئی کیونکہ نقاب والی لڑکی کے بال سنہری اور آنکھیں نیلی تھیں، اس نے کاؤنٹر والی سے کہا ”میں فرانسیسی لڑکی ہو نہ کہ عرب مہاجر، یہ میرا ملک ہے، میں مسلمان ہوں.... اسلام میرا دین ہے، یہ نسلی دین نہیں ہے کہ تم اس کی مالک ہو، یہ میرا دین ہے اور میرا اسلام مجھے یہی سبق دیتا ہے جو میں کر رہی ہو۔ میرا دین مجھے پردے کا حکم کادیتا ہے تم نسلی مسلمان ہو کر ہمارے یہاں کے غیر مسلموں سے مر عوب ہو، دنیا کی خاطر خوف میں مبتلا ہو، مجھے کسی کا خوف نہیں ہے۔مجھے صرف اپنے اللہ کا خوف ہے اور اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے محبت ہے ، اور حکم کو پورا کرنے میں مجھے کسی کی پرواہ نہیں ہے
اس فرانسیسی نو مسلم عورت کے یہ لفظ تو بے پردہ مسلم عورتوں کے منہ پر طمانچہ تھے کہ تم پیدائشی مسلمانوں نے دنیا کے بدلے اپنا دین بیچ دیا ہے اور ہم نے تم سے خرید لیا ہے۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

سکندراعظم کون؟

مغرب کے نام نہاد مفکرین نے مقدونیہ کے الیگزینڈرکو سکندراعظم کا لقب دیا ہے جو تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہے ، اگر تعصب کا عینک ہٹا کرتاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ہم یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہوں گے کہ دنیا کا سکندراعظم عمربن خطاب رضى الله عنه  ہے۔ الیگزینڈربادشاہ کا بیٹا تھا، دنیا کے بہترین لوگوں نے اس کوگھوڑسواری سکھائی، جب وہ بیس سال کا ہوا تو اس کو تخت وتاج پیش کیا گیا۔ 23سال کی عمر میں مقدونیہ سے نکلا ۔ ایران، شام، یونان، ترکی اورمصر کو فتح کرتے ہوئے ہندوستان پہنچا ۔ 323قبل مسیح 33سال کی عمرمیں انتقال کرگیا ۔ اس کی فتوحات کا عرصہ دس سال پر محیط ہے، ان دس سالوں میں اس نے 17لاکھ مربع میل کا علاقہ فتح کیا، ان فتوحات میںاس کو آرگنائزڈ آرمی کی خدمات میسرتھیں۔

جبکہ عمرفاروق رضى الله عنه نے دس سالوں میں 22لاکھ مربع میل کا علاقہ بغیرآرگنائزڈ آرمی کے فتح کیا ۔ آپ نے کسی تیرانداز سے تیراندازی نہیں سیکھی۔ آپ کی ان فتوحات میں اس وقت کی دو سپرپاورطاقتیں روم اور ایران بھی ہیں۔  آج سیٹلائٹ میزائل اورآبدوزوں کے دور میں دنیا کے کسی حکمراں کے پاس اتنی بڑی سلطنت نہیں ہے ۔

اس نے صرف فتوحات کیں اور مفتوح علاقوں کو کوئی نظام نہیں دیا بلکہ فتوحات کے دوران بے شمار جرنیل قتل کروائے ، بے شمارجرنیلوںاورنوجوانوں نے اس کا ساتھ چھوڑ دیا ۔ جبکہ حضرت عمرفاروق رضى الله عنه کے کسی ساتھی نے ان کی حکم عدولی نہیں کی وہ ایسے عظیم مدبرومنتظم تھے کہ عین میدان جنگ میں اسلام کے مایہ ناز کمانڈرسیدناخالدبن ولیدص کومعزول کردیا اورکسی کو یہ حکم ٹالنے اور بغاوت کرنے کی جرأت نہ ہوئی ۔

 الیگزینڈرنے جو سلطنت بنائی وہ اس کے مرنے کے پانچ سال بعد اس کے نظریے سے نکل گئی اورآج اس کا تاریخ کی کتابوںمیں صرف نام ملتا ہے ۔ حضرت عمرفاروق رضى الله عنه نے جن علاقوں کوفتح کیا وہاں آج بھی سیدنا عمرفاروق کا نظریہ موجود ہے ،دن رات کے پانچ اوقات میںمسجد کے میناروں سے اس نظریے کا اعلان ہوتا ہے ۔ عمرفاروق رضى الله عنه نے دنیا کوایسے سسٹم دئیے جو آج تک دنیا میں موجود ہے ۔ آپ کے عہد میں باجماعت نماز تراویح کا باقاعدہ سلسلہ شروع ہوا،آپ کے دورمیں شراب نوشی کی سزا 80 کوڑے مقررہوئی ، سن ہجری کا اجراءکیا، جیل کاتصور دیا، مؤذنوںکی تنخواہیں مقررکیں،مسجدوںمیں روشنی کا بندوبست کروایا،باوردی پولس، فوج اورچھاؤ نیوں کاقیام عمل میں لایا، آپ نے دنیا میں پہلی بار دودھ پیتے بچوں، معذوروں، بیواو ں اور بے آسرا لوگوںکے وظائف مقررکئے ۔ آپ نے دنیامیں پہلی بار حکمرانوں، گورنروں، سرکاری عہدے داروںکے اثاثے ڈکلیر کرنے کا تصور دیا ۔ آپ جب کسی کو سرکاری عہدے پر فائز کرتے تھے تواس کے اثاثوںکا تخمینہ لگواکر اپنے پاس رکھ لیتے اوراگرعرصہ ¿ امارت کے دوران عہدہ دار کے اثاثوں میں اضافہ ہوتا تواس کی تحقیق کرتے ۔ جب آپ کسی کوگورنر بناتے تو اس کونصیحت کرتے کہ ترکی گھوڑے پرمت بیٹھنا ، باریک کپڑا مت پہننا،چھنا ہوا آٹا مت کھانا، دروازے پر دربان مت رکھنا ۔
آپ کی مہر پر لکھا ہوا تھا : ”عمر !نصیحت کے لیے موت ہی کافی ہے “۔
یہ وہ سسٹم ہے جس کو دنیا میںکوئی دوسرا شخص متعارف نہ کروا سکا، دنیا کے 245ممالک میںیہ نظام کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے ۔ان حقائق کی روشنی میں زبان وقلم بے اختیار گواہی دیتا ہے کہ دنیا کا سکندر اعظم عمرفاروق رضى الله عنه ہیں۔

آپ کے عدل کی مثال دنیا کے کسی دوسرے حکمراں میں نہیں ملتی ، آپ کے عدل کی یہ حالت تھی کہ جب آپ کا انتقال ہوا تو آپ کی سلطنت کے دوردراز علاقہ کا ایک چرواہا بھاگتا ہوا آیا اورچینخ کربولا: لوگو!حضرت عمرفاروق کا انتقال ہوگیا ہے ۔ لوگوںنے پوچھا : تم مدینہ سے ہزاروں میل دور جنگل میں رہتے ہو‘تمہیں کس نے خبردی ؟ چرواہا بولا: جب تک عمر فاروق رضى الله عنه زندہ تھے میری بھیڑیں جنگل میں بے خوف چرتی پھرتی تھیں ،کوئی درندہ ان کی طرف آنکھ اٹھاکر نہیں دیکھتا تھا لیکن آج پہلی بار ایک بھیڑیا میری بھیڑ کا بچہ اٹھاکر لے گیا ہے ۔ میں نے بھیڑئیے کی جرا ¿ت سے جان لیا کہ آج عمررضى الله عنه دنیا میں نہیں ہیں ۔

مدینہ کے بازارمیں گشت کے دوران ایک موٹے تازے اونٹ پر نظر پڑی ، پوچھا: یہ کس کا اونٹ ہے ؟ بتایا کہ یہ آپ کے صاحبزادے عبداللہ رضى الله عنه  کا ہے ۔ آپ نے گرجدار آواز میں کہا کہ عبداللہ کو فوراً میرے پاس بلاؤ،  جب سیدناعبداللہ رضى الله عنه آئے توپوچھا: عبداللہ! یہ اونٹ تمہارے ہاتھ کیسے لگا؟ عرض کیا : اباجان !یہ اونٹ بڑا کمزورتھا اورمیں نے اس کو سستے داموں خرید کرچراگاہ میںبھیج دیا تاکہ یہ موٹا تازہ ہوجائے اور میں اس کو بیچ کر نفع حاصل کروں۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا: تمہاراخیال ہوگا کہ لوگ اس کو چراگاہ میں دیکھ کر کہیں گے : یہ امیر المومنین کے بیٹے کا اونٹ ہے، اسے خوب چرنے دو، اس کو پانی پلاو ¿ ، اس کی خدمت کرو۔ سنو! اس کو بیچ کر اصل رقم لے لو اور منافع بیت المال میںجمع کرادو۔ سیدنا عبداللہ رضى الله عنه نے سرتسلیم خم کردیا ۔

امیرالمو منین سیدنا عمر فاروق رضى الله عنه  کے دربار میں ایک نوجوان روتے ہوئے داخل ہوا ۔ آپ نے رونے کی وجہ پوچھی :اس نے روتے روتے عرض کیا کہ میں مصر سے آیا ہوں، وہاں کے گورنر کے بیٹے سے دوڑ کے مقابلے میں جیت گیا تو محمد بن عمروبن عاص  رضى الله عنه نے میری کمر پر کوڑے برسائے جس سے میری کمر چھلنی ہوگئی ۔ وہ کوڑے مارتا رہا اور کہتا رہا کہ تمہاری یہ جرأت کہ سرداروںکی اولاد سے آگے بڑھو۔ آپ نے یہ داستان سننے کے بعد مصر کے گورنر اور ان کے بیٹے کو بلابھیجا، جب وہ آگئے توکہا: یہ ہیں سردار کے بیٹے ، پھرمصری کو کوڑا دیا اور کہا کہ اس کی پیٹھ پرزورسے کوڑے ماروتاکہ اس کو پتہ چلے کہ سرداروںکے بیٹوںکی بے اعتدالیوںپر ان کا کیا حشر ہوتا ہے ۔ اس نوجوان نے جی بھر کر بدلہ لیا ۔ پھر آپ نے فاتح مصرسیدناعمروبن عاصؓ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:
” اے عمرو! تونے لوگوں کو کب سے غلام بنایا ہے جبکہ ان کی ماو ¿ںنے ان کو آزاد جنم دیا ہے ۔“
یہ ہے وہ بے لاگ عدل جس میں قوموں کی عزت اورترقی کا راز پنہاں ہے ۔

آج اسلام پر شبخون مارنے والے یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ بگڑتی ہوئی صورتحال کا ذمہ دار اسلام ہے ، جبکہ اسلام امن وامان کا داعی ہے، عدل ومساوات کاپیکر ہے اورعروج وترقی اس کی خمیر میں داخل ہے جس پر تاریخی حقائق گواہ ہیں۔ آج اسلام غریب الدیار ہے ،آج اسلام کو عمرکی ضرورت ہے ،اسلام کے غلبہ کے لیے کردار کی اعلی مثالیں درکار ہیں ،آج مسلمان اپنے نفس کے غلام بن کر رہ گئے ہیں اوراپنے رب کو بھول گئے ہیں ،نجات کا واحد راستہ نفس کی غلامی سے نکل کر رب العزت کی رضا مطلوب ومقصود ہے : وَلِلَّہِ العِزَّةُ وَلِرَسُولِہِ وَلِلمُومِنِینَ (المنافقون 8) ”سنو! عزت توصرف اللہ تعالی اوراس کے رسول اورایمان والوںکے لیے ہے “۔
حافظ حفیظ الرحمن کویت
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

رمضان کریم مبارک

عشق قاتل سے بھی، مقتول سے ہمدردی بھی
یہ بتا کس سے محبت کی جزاء مانگے گا ۔۔؟
سجدہ خالق کو بھی، ابلیس سے یارانہ بھی
حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا۔۔؟


تمام عالم اسلام کو رمضان شریف کی رحمتیں اور برکتیں مبارک ہوں۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

پاکستانی اور امریکی مسلمان میں فرق

پاکستانی اور امریکی مسلمان میں فرق

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

حضرت علی کرم اللہ وجھہ کے اقوال

زندگی ہے ہر موڑ ہر صلح کرنا سیکھو
کیونکہ جھکتا وہی ہے جس میں جان ہوتی ہے، اکڑنا تو مردے کی پہچان ہے۔



دسترخواں پر کھانے کے بعد دیر تک بیٹھا کرو
کیونکہ یہ مدت تمھاری عمر میں شمار نہیں کی جاتی۔



آسمان پر نظر ضرور اٹھاؤ
مگر یہ کبھی نہ بھولو کہ پیر تو ہمیشہ زمین پر ہی رکھے جاتے ہیں۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

Allah is Always with you

Allah is Always with you when

You are Happy
He is Al-Rehman

You are Hungry
He is Al-Razzaq

You call Him
He is Al-Sami

You are Unsafe
He is Al-Hafeez

You are Jobless
He is Al-Moqeet

You Pray
He is Al-Mujeeb

You are Upset
He is Al-Wakeel

You are Gifted
He is Al-Kareem

You are Forgiven
He is Al-Ghafoor

You are Hopeless
He is Al-Noor

You Thank Him
He is Al-Shakoor

You are Alone
He is Al-Qayoum

Subhanallah
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم مبارک ہو


١٢ ربیع الاول، وہ دن جب عرب کے آسمان پر وہ آفتابِ نبوت صلی اللہ علیہ وسلم طلوع ہوا جس نے انسانیت کو جہالت کے اندھیروں سے نکالا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی ایک قوم، جماعت، فرقے یا زبان سے تعلق رکھنے والوں کے لئے نہیں بلکہ تمام بنی نوع انسانیت کے لئے نبی بنا کر بھیجا گیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے کہ قومیت، فرقہ بندی، لسانی تعصبات کے تمام بت گرا کر تمام مسلمانوں کا احترام کیا جائے


جب زلف کا ذکر ہے قرآن میں
رخسار کا عالم کیا ہو گا

جس وقت تھے خدمت میں اُن کی
ابوبکر، عمر، عثمان و علی
اُس وقت رسول اکرمً کے دربار کا عالم کیا ہو گا

ایک سمت علی، ایک سمت عمر
صدیق اِدھر، عثمان اُدھر
ان جگ مگ تاروں میں
ماہتاب کا عالم کیا ہو گا

چاہیں تو اشاروں سے اپنے
کایا ہی پلٹ دیں دنیا کی
یہ شان ہے اُنً کی صحابہ کی
تو سرکارً کا عالم کیا ہو گا

عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم مبارک ہو
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

ہندو شاعرہ دیوی روپ کماری کا کلام

نثارِ مرتضٰی ہوں، پنجتن سے پیار کرتی ہوں
خزاں جس پہ نہ آئے، اُس چمن سے پیار کرتی ہوں

عقیدہ مذہبِ انسانیت میں کب ضروری ہے
میں ہندو ہوں مگر اِک بت شکن سے پیار کرتی ہوں

بے دین ہوں، بے پیر ہوں
ہندو ہوں، قاتل شبیرّ نہیں
حسینّ اگر بھارت میں اُتارا جاتا
یوں چاند محمدً کا، نہ دھوکے میں مارا جاتا
نہ بازو قلم ہوتے، نہ پانی بند ہوتا
گنگا کے کنارے غازیّ کا علم ہوتا
ہم پوجا کرتے اُس کی صبح و شام
ہندو بھاشا میں وہ بھگوان پکارا جاتا

اگر علیّ کی ولایت کا تجھے اعتراف نہیں
تو خطائیں تیری حضورِ خدا معاف نہیں
تن پہ جامہ احرام، دل میں بغضِ علیّ
یہ تیرے نصیب کے چکر ہیں طواف نہیں

اللہ سے اِک حرفِ جلی مانگ رہی ہوں
یزداں کی ولایت سے وَلی مانگ رہی ہوں
لو کر دیا کونین کا دیوالیہ میں نے
میں اس کے خزانے سے علیّ مانگ رہی ہوں

(برائے خوشنودی محمد و آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم)
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

ان عورتوں پر لعنت



محمد بن یوسف، سفیان، منصور، ابراہیم، علقمہ، حضرت عبداللہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ان عورتوں پر لعنت کی جو بدن کو گودتی ہیں اور گودواتی ہیں اور چہرے کے بال اکھڑواتی ہیں حسن کے لئے دانتوں کو کشادہ کراتی ہیں اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی صورت کو بدلنے والی ہیں۔
بنی اسد کی ایک عورت کو جس کا نام ام یعقوب تھا یہ خبر ملی تو وہ آئی اور کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تو نے اس طرح لعنت کی ہے تو انہوں نے کہا میں کیوں اس پر لعنت نہ کروں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور جو کتاب اللہ میں بھی ہے
اس عورت نے کہا کہ میں نے اس کو پڑھ لیا ہے جو دو لوحوں کے درمیان ہے (یعنی پورا قرآن پڑھا ہے) لیکن جو تم کہتے ہو وہ میں نے اس میں نہیں پایا
تو انہوں نے کہا کہ اگر تو پڑھتی تو ضرور اس میں پاتی
کیا تو نے یہ آیت نہیں پڑھی کہ رسول جو کچھ تمہیں دے اس کو لے لو اور جس سے روکے باز آ جاؤ،
اس نے کہا ہاں!
عبداللہ نے کہا کہ آپ نے اس سے منع فرمایا ہے
اس عورت نے کہا کہ تمہاری بیوی ایسا کرتی ہے
انہوں نے کہا جا کر دیکھ آ،
چنانچہ وہ گئی اور دیکھا تو کچھ نہ پایا
عبداللہ نے کہا کہ اگر وہ ایسا کرتی تو میرے ساتھ نہ رہتی۔
Bukhari 2 H:2028
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

کیوں آ کے رو رہا ہے محمد کے شہر میں



جب میرا جذب جنون آج کا زینہ ہو گا
ٹھہرنے اور سیمٹنے کا قرینہ ہو گا
یا مدینے میں سما جائے گی ساری دنیا
یا زمانے میں مدنیہ ہی مدنیہ ہو گا
یا نبی آپ جلوؤں میں وہ رعنائی ہے
دیکھنے پر بھی میری آنکھ تمنائی ہے
حق تعالٰی بھی کریم اور محمد بھی کریم
دو کریموں میں گناہگار کی بن آئی ہے

کیوں آ کے رو رہا ہے محمد کے شہر میں
ہر درد کی دوا ہے محمد کے شہر میں



نعت شریف البم
Online Naats Shareef - Urdu, Panjabi, Sindhi, Pashto, English, Arabic Naat Albums

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

قرآن سمجھ کر جیو

ہر آیت و سورۃ پہ تھا ہم کو عمل کرنا
جو چھوڑ دیا ہم نے وہ سر چشمہ ہدایت

جو ہم کو سمجھنا تھا، ہم اُس کو بھلا بیٹھے
اور سمجھے یہ خزانہ، ہے خالی ہاتھ پھیلانے کو

ہر استعارہ، تشبیہ، تسبیح کے دانوں پہ
دن رات گھومتے ہیں، ہر وقت پوچھتے ہیں

سوچو تو ذرا لوگو!


مکمل تحریر اور تبصرے >>>

عبدالستار ایدھی احمدیوں کا ایوارڈ واپس کریں، جمعیت علماء برطانیہ

ویکفیلڈ (پ ر) جمعیة علماء برطانیہ کے قائدین مولانا عبدالرشید ربانی، مفتی محمد اسلم، مولانا اسلم زاہد، مولانا اسلام علی شاہ، مولانا امداد اللہ قاسمی، حافظ محمد اکرام، قاری ممتاز، قاری غلام نبی، مولانا قاری شمس الرحمن، مولانا ادریس، مولانا خورشید، مولانا خالد محمود حسین، مولانا رفیق احمد شاہ، مفتی خالد محمود، فیض الحسن، مفتی محمد حسین، قاری عبدالرشید رحمانی، مولانا محمد حسین، مولانا ابراہیم خان، مولانا عزیز الحق ہزاروی، مولانا نصیب الرحمن، مولانا جمیل احمد، بابو مشتاق، ایوب لہر، حاجی قمر عالم، مفتی عزیز الرحمن، حافظ انور، قاری حفیظ الرحمن، مفتی طارق، حافظ عمر فاروق، مولانا رشید راجہ، قاری محمد نیاز، ڈاکٹر اشرف لہر، مفتی طارق، شیر اعظم، مفتی طارق علی شاہ، قاری حضرت علی، مولانا شاہ رفیع الدین، مولانا عبدالشکور، حافظ صفدر و دیگر نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ اپنے آپ کو احمدی کمیونٹی کہنے والوں کا اسلام اور مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسلئے انہیں اسلام اور مسلمانوں کا نام استعمال نہیں کرنے دیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے بہادر اور نڈر قائد عوام مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں بغیر کسی دباؤ کے قائد ملت اسلامیہ مفتی محمود کی جانب سے پیش کردہ دلائل کے انبار کی روشنی میں تمام ممبران پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر مرزا غلام احمد قادیانی کو غیر مسلم قرار دیا تھا۔ انہوں نے مسلم ممبران پارلیمنٹ سے درخواست کی کہ وہ پارلیمنٹ کے ممبران اور وزرا کو ان کے بارے میں آگاہ کریں ۔انہوں نے کہا کہ عبدالستار ایدھی کے نمائندے نے ان سے ایوارڈ لیکر زیادتی کی ہے۔ اس لئے عبدالستار ایدھی کو فی الفور ایوارڈ واپس کردینا چاہئے۔ دریں اثناء ختم نبوت اکیڈمی لندن کے سربراہ مولانا عبدالرحمن باوا، ختم نبوت ایجوکیشن سینٹر برمنگھم کے مولانا امداد الحسن نعمانی، ختم نبوت سینٹر فارسٹ گیٹ لندن کے مولانا خالد محمد، اشفاق احمد، حاجی رفیق، یوکے اسلامک مشن علماء کونسل کے سیکرٹری مولانا اقبال اعوان، جمعیة العلمائے برطانیہ کے امیر قاری رضا الحق، مولانا گل محمد، مولانا احسان میر، قاری تصور الحق، مولانا قاسم، مولانا اکرام الحق خیری، اسلامک اکیڈمی مانچسٹر کے سیکرٹری مولانا مفتی فیض الرحمن اور برطانیہ بھر کے علمائے کرام اور آئمہ مساجد نے مرزا غلام احمد قادیانی کی جماعت کے پانچویں سربراہ مرزا مسرور کے پیس سمپوزیم کے خطاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مرزا مسرور کو چاہئے کہ وہ دنیا میں امن قائم کرنے کی بات کرنے سے پہلے اپنے شہر چناب نگر میں امن قائم کریں۔ انہوں نے کہا کہ مرزا مسرور کو شکایت ہے کہ پاکستان کی اسمبلی نے مولویوں کے حق میں فتوے دیئے۔ ضیاء الحق مرحوم نے ان کے خلاف آرڈیننس نافذ کیا تویہ سب کچھ پاکستان کے مسلمانوں کے مطالبے پر کیا گیا اور انصاف کا تقاضا پورا کرتے ہوئے مرزا ناصر کو پارلیمنٹ میں آکر اپنا موقف پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا اور پھر غیر مسلم اقلیت ہونے کا اعلان کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مرزا مسرور اور ان کی جماعت کو چاہئے کہ وہ امت مسلمہ کے فیصلے کو تسلیم کریں اور اسلام اور مسلمانوں جیسے ٹائٹل کا استعمال نہ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عقیدہ ختم نبوت اسلام کی بنیاد اور ہمارے ایمان کا حصہ ہے اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ بشکریہ جنگ


مکمل تحریر اور تبصرے >>>

اللہ پر بھروسہ کیجیئے


فضیلۃ الشیخ محمد حسان دورِ حاضر کے محبوب ترین عرب علماء میں سے ایک ہیں۔ آپ نے اپنی زندگی کو اِسلام کی اشاعت اور تبلیغ کیلئے وقف کر رکھا ہے۔ انٹر نیٹ پر روزانہ لاکھوں کی تعداد میں اُنکے بیانات سُنے اور ڈاؤنلوڈ کیئے جاتے ہیں۔ ہر عمر اور طبقہ کے لوگ ٹیلویژن چینلز پر اُنکے بیانات کا بے چینی سے انتظار کرتے ہیں، اُنکا ہر بیان اور خطاب ایک تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ لہجے کی مٹھاس اور اثر کا اندازہ اِس امر سے لگا یا جا سکتا ہے کہ نیویارک کی ایک کانفرنس میں اُنکے بیان سے متاثر ہو کر 75 لوگوں نے اپنے اسلام لانے کا اعلان کیا۔ بیسیوں کتابوں کے مصنف ہیں اور اُنکے ہزاروں کیسٹ بیانات بازار میں موجود ہیں۔ 37 سے زیادہ عالمی اور سینکڑوں ملکی کانفرنس اور اجتماعات میں شرکت کر چکے ہیں۔ یہودی لابی اِس مردِ مجاہد سے ہر لمحہ خائف اور لرزاں رہتی ہے، ایک ٹیلیویژن چینل کو مسلسل اُن کے بیانات نشر کرنے کی وجہ سے بندش کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ بہر حال ’الناس‘ , ’الرحمۃ‘ ، ’المجد‘ اور ’اقراء‘ چینلز اُن کے بیانات اور فتاویٰ جات کو باقاعدگی سے نشر کر کے عوام الناس کی فلاح کر رہے ہیں۔ شیخ صاحب کے بارے میں مزید معلومات اُنکی ویب سائٹ پر دیکھی جا سکتی ہیں۔ جبکہ اُن کے خطابات ’طریق الاسلام‘ ، ’الشبكۃ الا سلاميۃ‘ اور ’نداء الايمان‘ جیسی مشہورِ زمانہ ویبسائٹس پر ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں اور سُنے جا سکتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالٰی شیخ صاحب کے علم اور اُنکی عمر میں برکت عطا فرمائے۔ مندرجہ ذیل قصہ شیخ صاحب نے اپنے ایک بیان میں سُنایا، آپ کیلئے پیش خدمت ہے۔

ایک عورت کہتی ہے کہ میرا خاوند کسی وجہ سے لمبی مدت کیلئے غائب ہو گیا۔ اُس وقت میں ایک کم عمر بچی کی ماں بھی تھی جبکہ میرا ضعیف العمر باپ بھی ہمارے ساتھ ہی رہتا تھا۔ ہماری غربت اور مُفلسی اپنی انتہا کو تھی اور اکثر اوقات ہمارے گھر میں کھانے کیلئے کُچھ نہیں ہوتا تھا، اگر دوپہر کو کُچھ کھالیتے تو رات کو بھوکا سونا پڑتاتھا۔ صبر کے ساتھ ہم ہر حال میں اللہ کا شُکر ادا کرتے تھے۔

ایک رات کو تو بھوک اور افلاس نے ہمارا وہ امتحان لیا جو اس سے پہلے کبھی نہیں لیا تھا۔ میری بیٹی کو شدید بُخار نے آ لیا۔ بچی کی بُخار اور بھوک سے بنی حالت سے مُجھے اپنی اور اپنے والد کی بھوک بھول گئی۔ ایسی بے کسی اور لاچاری تو کبھی نہ دیکھی تھی، بے قراری حد سے بڑھی تو مجھے اللہ تبارک و تعالٰی کا یہ قول یاد آ گیا: أَمَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ- بھلا کون بیقرار کی التجا قبول کرتا ہے جب وہ اُس سے دُعا کرتا ہے اور (کون اُسکی) تکلیف کو دور کرتا ہے۔ جی ہاں ہر قسم کی تکلیف چاہے وہ بھوک کی ہو یا بیماری کی یا غربت و افلاس اور گناہوں کی، کون ہے اُس ذاتِ پاک کے سوا جو ان سب تکلیفوں کو دور کر سکتا ہے؟

یہ سب سوچ کر میں اُٹھی اور جا کر وضوء کیا، واپس آ کر بچی کے ماتھے پر پانی سے بھیگی ہوئی پٹی رکھی اور اللہ کے حضور نماز کی ادائیگی کیلئے کھڑی ہو گئی۔ مختصر سی نماز پڑھنے کے بعد ہاتھ اُٹھا کر بچی کیلئے دُعا کی، اُس کے ماتھے سے پٹی اُتار کر دوبارہ پانی سے بھگو کر رکھی اور ایک بار پھر نماز کیلئے کھڑی ہو گئی۔ نماز کے بعد ایک بار پھر بارگاہِ الٰہی میں دُعا کیلئے ہاتھ اُٹھائے، دعا سے فراغت پر پانی کی پٹی تبدیل کی اور دوبارہ نماز کیلئے کھڑی ہو گئی۔ اور یہ عمل میں نے کئی بار کیا۔

جب میں یہ سب کُچھ بار بار دُہرا رہی تھی تو کسی نے دروازہ کٹھکٹھایا، اِس حیرت کے ساتھ بھلا رات کے اِس پہر کون ہو سکتا ہے میرے والد نے پوچھا: کون؟ اور جواب آیا کہ میں ڈاکٹر ہوں۔ میں اور میرا والد ہم دونوں ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھ رہے تھے کہ اِسکو کِس نے بُلایا ہے، میرے والد نے جا کر دروازہ کھولا۔ ڈاکٹر نے آتے ہی پوچھا کہ مریضہ کِدھر ہے اور ہم نے سادگی سے بچی کی طرف اِشارہ کردیا۔ ڈاکٹر نے بچی کو چیک کیا، کاغذ پر ایک نُسخہ لکھ کر میرے ہاتھ میں تھماتے ہوئے بولا؛ لائیے میری فیس دیجیئے اور میں چلتا ہوں۔ میں نے آہستگی سے جواب دیا؛ ڈاکٹر صاحب ہمارے پاس تو آپکو دینے کیلئے فیس کے پیسے نہیں ہیں بلکہ ہمارے پاس تو کُچھ بھی نہیں ہے۔ میرا یہ جواب سُنتے ہی ڈاکٹر جھلا اُٹھا اور غصے سے تقریبا ڈھاڑتے ہوئے بولا کہ اگر فیس دینے کیلئے پیسے نہیں تھے تو مجھے آدھی رات کو فون کر کے کیوں بُلایا تھا، کیوں مُجھے اِس طرح بے آرام کیا ہے تُم لوگوں نے؟ ڈاکٹر کے منہ سے ٹیلیفون کا سُن کر مجھے لگا کہ ڈاکٹر غلطی سے ہمارے گھر آ گیا ہے۔ میں نے ہمت کرتے ہوئے جواب دیا؛ ڈاکٹر صاحب، ہم نے آپکو ٹیلیفون کر کے نہیں بُلایا، بلکہ ہمارے پاس تو ٹیلیفون ہے ہی نہیں۔ یہ سُن کر ڈاکٹر نے مُجھ سے پوچھا اچھا تو کیا یہ فلان شخص کا گھر نہیں ہے؟ میں نے کہا نہیں ڈاکٹر صاحب، فلان صاحب ہمارا ہمسایہ ہے۔ یہ سُن کر ڈاکٹر تھوڑا سا خاموش ہوا اور پھر ہمارے گھر سے نکل کر ہمارے ہمسائے کے گھر چلا گیا اور ہم خجالت اور شرمندگی سے خاموش بیٹھے رہے۔ تھوڑی دیر ہی گُزری تھی کہ ڈاکٹر ایک بار ہمارے گھر آ گیا۔ آنکھوں میں آنسو اور رُندھی ہوئی آواز میں بولا؛ اللہ کی قسم تمہارے گھر سے اُس وقت تک نہیں جاؤنگا جب تک تمہارا پورا قصہ نہیں سُن لوں گا۔ اور میں نے ڈاکٹر کو پنا پورا قصہ سُنا ڈالا کہ کسطرح میں بچی کے ماتھے پر پانی کی پٹیاں رکھ رہی تھی اور اللہ کے حضور دعاء بھی مانگ رہی تھی۔ ڈاکٹر جلدی سے اُٹھ کر باہر چلا گیا اور کُچھ دیر کے بعد ہمارے لئے رات کا کھانا اور بچی کیلئے دوائیں اور کُچھ گھریلو ضروریات کے سامان کے ساتھ لوٹا۔ ساتھ ہی اُس نے ہمیں بتایا کہ اُسکی طرف سے ہر مہینے ایک تنخواہ ہمیں اُس وقت تک ملتی رہے گی جب تک اللہ چاہے گا۔ جی ہاں، یہ اللہ پر بھروسے کی کہانی ہے۔

صرف یاد دہانی کیلئے اللہ تبارک و تعالٰی کی ذات پر اِس سے بھی بڑے بھروسے کی کہانی سُنیئے کہ جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام اپنے تعاقب میں آنے والے دشمنوں سے خوفزدہ جان بچاتے ہوئے اھل مدین کی طرف پہنچے اور کنویں پر کھڑی دو لڑکیوں کے ریوڑ کو پانی پِلا چُکے تو اُنہوں نے کوئی معاوضہ طلب نہیں کیا تھا حالانکہ اُس وقت وہ بھوک سے بے حال تھے۔ اُنہوں نے بقول قُرآن مجید صِرف اتنا کہا تھا (رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ- پروردگا میں اس کا محتاج ہوں کہ تو مجھ پر اپنی نعمت نازل فرمائے) اور پھر اِس کے بعد کا قصہ آپ جانتے ہیں کہ اللہ کی طرف سے جواب یوں تھا کہ: ایک لڑکی سے مفت میں شادی اور دس سال کیلئے کام کا معاہدہ۔

جی ہاں: اللہ پر بھروسہ کیجیئے؛ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہی تو الکریم، الرحیم، القریب، المجیب اور الواحد الاحد ہیں، وہ ہمیں ہماری جنم دینے والی ماؤں سے بھی زیادہ پیار اور رحم کرنے والے ہیں۔ اللہ آپ کا بھلا کرے اِس ایمیل آگے اپنے دوستوں کو بھیج دیجیئے اور اللہ آپ کو اِسکے اجر سے نوازے۔
محمد سلیم/شانتو-چائنا
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

شامت اعمال

مرد ہویا عورتیں سب کا یہی حال ہے کہ اپنے گناہوں پرنظرنہیں، جب تک انکو ترک نہ       کروگے شامت اعمال طاری رہیگی. دنیا میں کوئی اسکا تدارک نہیں کرسکتا سوا اسکے کہ گناہ چھوڑدو اور توبہ کرو، یہ عمل بھی کر کے دیکھلو. انشاءاللہ صورت حال ضرور بدل جائیگی اور سکون قلب حاصل ہوگا.

خوش فہمی سے یہ سمجھ لیا ہے کہ ہم نماز پڑھتے ہیں، روزہ رکھتے ہیں اور بھائی! جن کو اللہ نے دیا ہے ان کو یہ بھی ناز ہے کہ عمرہ کر آئے، دس عمرے کر آئے، عمرے پر عمرہ کر رہے ہیں، لیکن ٹی وی بھی گھر میں جاری ہے. ریڈیو بھی گھر میں چل رہا ہے. عورتیں ننگے سر بے پردہ بازار میں بھی نکل رہی ہیں اور کھلے عام محرم نامحرم مل رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور مسلمان صاحب ایمان ہیں، نمازیں پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں. ارے یہ سب کچھ سہی، جس خدا نے تم پر نماز اور روزہ فرض کیا ہے، حج فرض کیا ہے. زكوة فرض کی ہے. اسی خدا نے دوسرے احکام بھی کلام اللہ میں واضح طور پر ارشاد فرمائے ہیں کہ فلاں فلاں کام گناہ کبیرہ ہیں، جب تک کہ تم ان کو نہیں چھوڑوگے، ہرگز ان کے وبال سے چھوٹ نہیں سکتے اور جب تک تم کفّار و مشرکین کی تقلید کرتے رہوگے، ان کے اعمال، ان کے طرز زندگی اختیار کروگے، ان کی تہذیب، ان کا تمدّن اختیار کرتے رہوگے، ان کی سیاست، ان کا کردار اختیار کرتے رہوگے. ہرگز ہرگز ان کے وبال سے نہیں بچ سکتے، شامت اعمال سے نہیں چھوٹ سکتے. ان کے اوپر خدا کا غضب نازل ہی ہوگا، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی. تم بھی غضب کے تحت آجاوگے (العیازباللہ)  ۔۔۔ بشکریہ مسز روبینہ یاسمین
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

غور کریں!

غور کریں!
سال کے آخری مہینے بھی قربانی
پہلا مہینہ بھی قربانی
وہ بھی دس١٠ کو
یہ بھی دس١٠ کو
اُن پے بھی درود
اِن پر بھی درود
وہ بھی نبی کا لال
یہ بھی نبی کا لال
اُن کی یاد بھی مناتے ہیں
اِن کی یاد بھی مناتے ہیں
وہ ذبح العظیم
یہ شہید العظیم
اُن کی یاد سنت
اِن پے رونا سنت
اُنہوں کی خواب نبھایا
اِنہوں نے وعدہِ طفل نبھایا
وہ صبر کی ابتدا
یہ صبر کی انتہا
وہ کعبہ کو بنانے والے
یہ کعبہ کو بچانے والے




سجدے کو کربلا میں بندگی مل گئی
صبر سے اُمت کو زندگی مل گئی
اک چمن فاطمہ رضی اللہ عنہ کا اجڑا
مگر سارے اسلام کو زندگی مل گئی



جنت کی آرزو میں
کہاں جا رہے ہیں لوگ
جنت تو کربلا میں
خریدی حسین نے
دنیا و آخرت میں
جو رہنا ہو چین سے
جینا علی سے سیکھو
مرنا حسین سے



انجامِ وفا کی ہے یہ سوچا نہیں کرتے
مسلم کبھی حالات سے سودا نہیں کرتے
یہ رسم سیکھائی ہے حسین ابن علی نے
سر سجدے میں ہو تو تیروں کی پروا نہیں کرتے
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

عيد الاضحٰى مبارک

عيد الاضحٰى یاد دلاتی ہے بہت سے مقدس لمحات
ایسے لمحات جن میں کی گئی فرمانبرداری اور دی گئی قربانی امر ہو گئی۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسمائیل علیہ السلام کی فرمانبرداری۔

ان دو معزز و معتبر ہستیوں کا بہت بڑا احسان ہے ہم سب پر اور وہ ہے بیت اللہ شریف کی بنیادیں اٹھاتے ہوئے اللہ کے گھر کی تعمیر مبارک کے وقت میں آپ دونوں کی مانگی ہوئی بہت خوبصورت دُعا۔

“ہمارے رب! ان میں (ہماری نسل میں) ان میں سے ہی ایک رسول بھیج جو انہیں تیری آیتیں سنائے، انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور انہیں پاکیزہ بنائے۔“ سورہ البقرہ آیت١٢٩

اور تمام تعیف اس پاک پروردگار کے لئے جس نے اپنے ان پاکیزہ نبیوں کی دُعا کو قبول فرماتے ہوئے اپنے بندوں پر احسان عظیم فرمایا۔

“ہم نے تم میں سے ہی تم میں ایک رسول بھیجا جو تمہیں ہماری آیتیں سناتا ہے، تمہیں پاک کرتا ہے، تمہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور تمہیں وہ باتیں سکھاتا ہے جو تم جانتے نہ تھے“ سورہ البقرہ آیت١٨١

یہ احساس بہت خوبصورت و معطر ہے کہ ہمیں اس پاک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے کا شرف حاصل ہے
جن صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں ہر پل ہزراہا فرشتے حاضر رہتے ہیں۔
جن صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک ایک بار محسوس کرنے کے بعد آسمان بھی دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا منتظر رہا۔
جس صلی اللہ علیہ وسلم ذات مبارک پر فرشتے درود پاک پڑھتے ہیں۔
جس صلی اللہ علیہ وسلم ذات مبارک کے لئے چرند پرند، انسان سب درود پاک پڑھتے ہیں۔
اور خدائے بزرگ و برتر اپنی مخلوق کے ساتھ خود آپ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتا ہے۔

عید کے اس مبارک موقع پر اللہ سے دعا ہے کہ
وہ ہمیں شعور عطا فرمائے کہ کسی بھی گلہ و ناشکری سے پہلے ہم سوچ لیں کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے احسان عظیم کا شکر ادا کر لیا ہے!!!

تمام مسلمانوں کو عيد الاضحٰى مبارک ہو
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

نماز

“ایک شخص ساٹھ سال تک نماز پڑھتا ہے مگر اسکی ایک نماز بھی قبول نہیں ہوتی"
 پوچھا گیا : وہ کیسے ؟؟
انہوں نے کہا : کیونکہ نہ وہ اپنا رکوع پورا کرتاہے اور نا سجود نا قیام پورا کرتا ہے نا اس کی نماز میں خشوع ہوتا ہے ۔

حضرت عمر رضي اللہ عنہ نے فرمایا :  ایک شخص اسلام میں بوڑھا ہوگیا اور ایک رکعت بھی اسنے اللہ کے لیے مکمل نہیں پڑھی
 پوچھا گیا کیسے یا امیر المومنین ؟
 فرمایا :
اسنے نا اپنا رکوع پورا کیا اور نا سجود

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا  ایک زمانہ  لوگوں پر ایسا آئے گا" لوگ نماز پڑھیں گے مگر انکی نماز نہیں ہوگی  اور مجھے ڈر ہے کہ وہ زمانہ یہی زمانہ ہے"
امام اگر آج کا زمانہ آکر دیکھ سکتے تو کیا کہتے ؟؟

امام غزالی رحمہ اللہ نے فرمایا:  ایک شخص سجدہ کرتا ہے اس خیال سے کہ اس سجدہ سے اللہ کا تقرب حاصل کرے گا  اس اللہ کی قسم اگر اس کے اس سجدے کا گناہ تقسیم کیا جائے تو سارا بلد ھلاک کر دیا جائے۔
پوچھا گیا وہ کیسے ؟؟
فرمایا:
وہ اپنا سر اپنے اللہ کے سامنے جھکاتا ہے مگر اپنے نفس ،گناہوں، اپنی شہوات اور دنیا کی محبت میں مصروف ہوتا ہے تو یہ کیسا سجدہ ہے ؟؟؟

ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری آنکھون کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے
تو کیا کبھی آپ نے ایسی نماز پڑھی جو آپکے آنکھوں کی ٹھنڈک بنی ہو ؟؟؟
 کیا کبھی آپ گھر کی طرف تیزی سے پلٹے صرف دو رکعت کی ادائیگی کی نیت سے  ؟؟
کیا کبھی نماز کی محبت نے آپ کو بے چین کیا  ؟؟
کیا کبھی آپ نماز کے لیے ترسے ؟؟
 کیا کبھی آپ نے رات کا بے چینی سے  انتظار کیا
تاکہ آپ اپنے رب کے ساتھ اکیلے نماز میں ملاقات کر سکیں ؟؟

 اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے :
(( ألم يأن للذين آمنوا أن تخشع قلوبهم لذكر الله ))
کیا ابھی تک مومنوں کے لئے اس کا وقت نہیں آیا کہ اللہ کی یاد سے ان کے دل نرم ہوجائیں؟؟؟؟

ابن مسعود رضي اللہ عنہ فرماتے ہیں ہمارے اسلام لانے کے چار سال بعد یہ آیت نازل ہوئی اس ایت میں اللہ سبحانہ نے ہم سے شکایت کی ہم سب بہت رویے اپنے قلۃ خشوع پر پھر ہم گھروں سے نکلتے تو ایک دوسرے کو عتاب کرتے اور کہتے  کیا تم نے اللہ سبحانہ کا یہ فرمان نہیں سنا ؟؟؟
(( ألم يأن للذين آمنوا أن تخشع قلوبهم لذكر الله ))
 کیا ابھی تک مومنوں کے لئے اس کا وقت نہیں آیا کہ اللہ کی یاد سے ان کے دل نرم ہوجائیں؟؟؟؟
تو لوگ گر جاتے اور رونے لگتے اللہ کے اس عتاب پر تو کیا کبھی آپ نے یہ محسوس کیا اس آیت سے؟؟
کہ اللہ تعالی آپ سے شکوہ کر رہا ہے ؟؟
اپنی نمازوں کو ضائع ہونے سے بچائیں
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

حج نشریات

یا اللہ!
سب زائرین کا حج مقبول فرما
اور جو جانے کی چاہت دل میں لئے منتظر ہیں
ان کو اپنی بارگاہ میں حاضری کا شرف بخش دے
اور ہم سب مسلمانوں کو دنیا و آخرت میں
حبیب پاک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے
اپنی رحمت کے سائے میں جگہ نصیب فرما
آمین

تمام عالم اسلام کو حج مبارک


حج نشریات
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

ایک متأثر کن قصہ

 ایک متاثر کن قصہ آخر تک پڑھیئے

ایک شخص نے یوں قصہ سنایا کہ میں اور میرے ماموں نے حسب معمول مکہ حرم شریف میں نماز جمعہ ادا کی اورگھر کو واپسی کیلئے روانہ  ہوئے۔ شہر سے باہر نکل کر سڑک کے کنارے کچھ  فاصلے پر ایک بے آباد سنسان مسجد آتی ہے، مکہ شریف کو آتے جاتے سپر ہائی وے سے بارہا گزرتے ہوئے اس جگہ اور اس مسجد پر ہماری نظر پڑتی  رہتی ہے اور ہم  ہمیشہ ادھر سے ہی گزر کر جاتے  ہیں مگر  آج جس  چیز نے میری توجہ اپنی طرف کھینچ لی تھی وہ تھی ایک نیلے رنگ کی فورڈ کار جو مسجد کی خستہ حال دیوار کے ساتھ کھڑی تھی، چند لمحے تو میں سوچتا رہا کہ اس کار کا اس سنسان مسجد کے پاس کیا کام! مگر اگلے لمحے میں نے کچھ جاننے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنی کار کو  رفتار کم کرتے ہوئے مسجد کی طرف جاتی  کچی سائڈ روڈ پر ڈال دیا، میرا ماموں جو عام طور پر  واپسی کا سفر غنودگی میں گزارتا ہے اس نے بھی اپنی اپنی آنکھوں کو وا کرتے ہوئے میری طرف حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھتا، کیا بات ہے، ادھر کیوں جا رہے ہو؟

ہم نے اپنی کار کو مسجد سے دور کچھ فاصلے پر روکا اور پیدل مسجد کی طرف چلے، مسجد کے نزدیک جانے پر اندر سے کسی کی پرسوز آواز میں سورۃ الرحمٰن تلاوت کرنے کی آواز آ رہی تھی، پہلے تو یہی اردہ کیا کہ باہر رہ کر ہی اس خوبصورت تلاوت کو سنیں ، مگر پھر یہ سوچ کر کہ اس بوسیدہ مسجد میں جہاں اب پرندے بھی شاید نہ آتے ہوں، اند جا کر دیکھنا تو چاہیئے کہ کیا ہو رہا ہے؟

ہم نے اند جا کر دیکھا ایک نوجوان مسجد میں جاء نماز بچھائے ہاتھ میں چھوٹا سا قرآن شریف لئے بیٹھا  تلاوت میں مصروف ہے اور مسجد میں اس کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔  بلکہ ہم نے تو احتیاطا ادھر ادھر دیکھ کر اچھی طرح تسلی کر لی کہ واقعی کوئی اور موجود  تو نہیں ہے۔

میں نے اُسے السلام و علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کہا،  اس نے نطر اُٹھا کر ہمیں دیکھا، صاف لگ رہا تھا کہ کسی کی غیر متوقع آمد اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی، حیرت اس کے چہرے سے عیاں تھی۔

اُس نے ہمیں جوابا وعلیکم السلام و علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ کہا۔

میں نے اس سے پوچھا، عصر کی نماز پڑھ لی ہے کیا تم نے، نماز کا وقت ہو گیا ہے اور ہم نماز پڑھنا چاہتے ہیں۔

اُس کے جواب کا  انتظار کئے بغیر میں نے اذان دینا شروع کی تو  وہ نوجوان قبلہ کی طرف رخ کئے مسکرا رہا تھا، کس بات پر یا کس لئے یہ مسکراہٹ، مجھے پتہ نہیں تھا۔ عجیب معمہ سا  تھا۔

پھر اچانک ہی اس نوجوان نے ایک ایسا جملہ بولا کہ مجھے اپنے اعصاب جواب دیتے نظر آئے،

نوجوان کسی کو کہہ رہا تھا؛ مبارک ہو، آج تو  باجماعت نماز ہوگی۔

میرے ماموں نے بھی مجھے تعجب بھری نظروں سے دیکھا جسے میں نظر انداز کر تے ہوئے اقامت کہنا شروع کردی۔

جبکہ میرا دماغ اس نوجوان کے اس فقرے پر اٹکا ہوا تھا کہ  مبارک ہو، آج تو  باجماعت نماز ہوگی۔

دماغ میں بار بار یہی سوال آ رہا تھا کہ یہ نوجوان آخر کس سے باتیں کرتا ہے، مسجد میں ہمارے سوا کوئی بندہ و بشر نہیں ہے، مسجد فارغ اور ویران پڑی ہے۔ کیا یہ پاگل تو نہیں ہے؟

میں نے نماز پڑھا کر نوجوان کو دیکھا جو ابھی تک تسبیح میں مشغول تھا۔

میں نے اس سے پوچھا، بھائی کیا حال ہے تمہارا؟ جسکا جواب اس نے ــ’بخیر و للہ الحمد‘ کہہ کر دیا۔

میں نے اس سے پھر کہا، اللہ تیری مغفرت کرے، تو نے میری نماز سے توجہ کھینچ لی ہے۔ ’وہ کیسے‘ نوجوان نے حیرت سے پوچھا۔

میں نے جواب دیا کہ جب میں اقامت کہہ رہا تھا تو نے ایک بات کہی مبارک ہو، آج تو  باجماعت نماز ہوگی۔

نوجوان نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ اس میں ایسی حیرت والی کونسی بات ہے؟

میں نے کہا، ٹھیک ہے کہ اس میں حیرت والی کوئی بات نہیں ہے مگر تم بات کس سے کر رہے تھے آخر؟

نوجوان میری بات سن کر مسکرا تو ضرور دیا مگر جواب دینے کی بجائے  اس نے اپنی نظریں جھکا کر زمین میں گاڑ لیں، گویا سوچ رہا ہو کہ میری بات کا جواب دے یا نہ دے۔

میں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ مجھے نہیں لگتا کہ تم پاگل ہو، تمہاری شکل بہت مطمئن اور پر سکون ہے، اور ماشاءاللہ تم نے ہمارے ساتھ نماز بھی ادا کی ہے۔

اس بار اُس نے نظریں اُٹھا کر  مجھے دیکھا اور کہا؛ میں مسجد سے بات کر رہا تھا۔

اس کی بات میرے ذہن پر بم کی  کی طرح لگی، اب تو میں سنجیدگی سے سوچنے لگا کہ یہ شخص ضرور پاگل ہے۔

میں نے ایک بار پھر اس سے پوچھا، کیا کہا ہے تم نے؟  تم اس مسجد سے گفتگو کر رہے تھے؟ تو پھر کیا اس مسجد نے تمہیں کوئی جواب دیا ہے؟

اُس نے  پھرمسکراتے ہوئے ہی  جواب دیا کہ مجھے ڈر ہے تم کہیں مجھے پاگل نہ سمجھنا شروع کر دو۔

میں نے کہا، مجھے تو ایسا ہی لگ رہا ہے، یہ فقط پتھر ہیں، اور پتھر نہیں بولا کرتے۔

اُس نے مسکراتے ہوئے  کہا کہ آپکی بات ٹھیک ہے یہ صرف پتھر ہیں۔

اگر تم یہ جانتے ہو کہ یہ صرف پتھر ہیں جو  نہ سنتے ہیں اور نہ بولتے ہیں  تو  باتیں  کس سے کیں؟

نوجوان نے نظریں پھر زمیں کی طرف کر لیں، جیسے  سوچ رہا ہو  کہ جواب دے یا نہ دے۔

اور اب کی بار اُس نے نظریں اُٹھائے بغیر ہی کہا کہ ؛

میں  مسجدوں سے عشق کرنے والا انسان ہوں،  جب بھی کوئی پرانی، ٹوٹی پھوٹی یا ویران مسجد دیکھتا ہوں  تو اس کے بارے میں سوچتا ہوں

مجھے اُنایام  خیال آجاتا ہے جب لوگ اس مسجد میں نمازیں پڑھا کرتے ہونگے۔

پھر میں اپنے آپ سے ہی سوال کرتا ہوں کہ اب یہ مسجد کتنا شوق رکھتی ہوگی کہ  کوئی تو ہو جو اس میں آکر نماز پڑھے، کوئی تو ہو جو اس میں بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرے۔  میں مسجد کی اس تنہائی کے درد کو محسوس کرتا ہوں کہ  کوئی تو ہو جو ادھر آ کر تسبیح و تحلیل کرے، کوئی تو ہو جو آ کر چند آیات پڑھ کر ہی اس کی دیواروں کو ہلا دے۔

میں تصور کر سکتا ہوں کہ  یہ مسجد کس قدر اپنے آپ کو باقی مساجد میں تنہا پاتی ہوگی۔ 

کس قدر تمنا رکھتی ہوگی کہ کوئی آکر چند رکعتیں  اور چند  سجدے   ہی اداکر جائے اس میں۔

کوئی بھولا بھٹکا مسافر، یا راہ چلتا انسان آ کر ایک اذان ہی بلند کرد ے۔

پھر میں خود ہی ایسی مسجد کو جواب دیا کرتا ہوں کہ اللہ کی قسم، میں ہوں جو تیرا شوق پورا کرونگا۔

اللہ کی قسم میں ہوں جو تیرے آباد دنوں جیسے ماحول کو زندہ کرونگا۔

پھر میں ایسی مسجدمیں داخل ہو کر دو رکعت پڑھتا ہوں اور قرآن شریف کے  ایک سیپارہ کی تلاوت کرتا ہوں۔

میرے بھائی، تجھے میری باتیں عجیب لگیں گی، مگر اللہ کی قسم میں مسجدوں سے  پیار کرتا ہوں، میں مسجدوں کا عاشق ہوں۔

 میری آنکھوں  آنسوؤں سے بھر گئیں،  اس بار میں نے اپنی نظریں زمیں میں ٹکا دیں کہ کہیں نوجوان مجھے روتا ہوا نہ دیکھ لے،

اُس کی باتیں۔۔۔۔۔ اُس کا احساس۔۔۔۔۔اُسکا عجیب کام۔۔۔۔۔اور اسکا عجیب اسلوب۔۔۔۔۔کیا عجیب شخص  ہے جسکا دل مسجدوں میں اٹکا رہتا ہے۔۔۔۔۔

میرے پاس کہنے کیلئے اب کچھ بھی تو نہیں تھا۔

صرف اتنا کہتے ہوئے کہ، اللہ تجھے جزائے خیر دے، میں نے اسے سلام کیا، مجھے اپنی دعاؤں میں یاد رکھنا کہتے ہوئے اُٹھ کھڑا ہوا۔

مگر ایک حیرت ابھی  بھی باقی تھی۔

نوجوان نے پیچھے سے مجھے آواز دیتے ہوئے کہا تو میں دروازے سے باہر جاتے جاتے رُک گیا،

نوجوان کی نگاہیں ابھی بھی جُھکی  تھیں اور وہ مجھے  کہہ رہا تھا کہ جانتے ہو جب میں ایسی ویران مساجد میں نماز پڑھ لیتا ہوں تو کیا دعا مانگا کرتا ہوں؟

میں نے صرف اسے دیکھا تاکہ بات مکمل کرے۔

اس نے اپنی بات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا  میں دعا مانگا کرتا ہوں کہ

’ اے میرے  پروردگار، اے میرے  رب! اگر تو سمجھتا ہے کہ میں نے تیرے ذکر ، تیرے قرآن کی تلاوت اور تیری بندگی سے اس مسجد کی وحشت و ویرانگی کو دور کیا ہے تو اس کے بدلے میں تو میرے باپ کی قبر کی وحشت و ویرانگی کو دور فرما دے، کیونکہ تو ہی رحم و کرم کرنے والا ہے‘

مجھے اپنے جسم میں ایک سنسناہٹ سی محسوس ہوئی، اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکا اور پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔

پیارے دوست، پیاری بہن

کیا عجیب تھا یہ نوجوان، اور کیسی عجیب محبت تھی اسے والدین سے!

کسطرح کی تربیت پائی تھی اس نے؟

اور ہم کس طرح کی تربیت دے رہے ہیں اپنی اولاد کو؟

ہم کتنے نا فرض شناس ہیں اپنے والدین کے چاہے وہ زندہ ہوں یا فوت شدہ؟

بس اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں  نیک اعمال کی توفیق دے اور ہمارا  نیکی پر خاتمہ کرے، اللھم آمین



ازراہ کرم! اگر آپ کو اس ایمیل  کا موضوع اچھا لگا ہے تو اپنے ان احباب کو بھیج دیجیئے جن کا  آپ چاہتے ہیں بھلا اور فائدہ ہو جائے۔

مت بھولئے کہ نیکی کی ترغیب دلانے والے کو نیکی کرنے والے  جتنا ثواب ملتا ہے۔



کیا کبھی آپ میں سے کسی نے یہ سوچا ہے کہ موت کے بعد کیا ہوگا؟ جی ہاں موت کے بعد کیا ہوگا؟

تنگ و تاریک گڑھا، گھٹا ٹوپ  اندھیرا، وحشت و ویرانگی، سوال و جواب،  سزا و  جزا، اور پھر جنت یا دوزخ۔

یا اللہ، اس ایمیل پڑھنے والے کے دکھ درد اور پریشانیاں دور فرما دے، اور ہر اس شخص کی بھی جو  وعظ و عبرت کیلئے اس ایمیل کو دوسروں کو بھیجے۔
آمین یا رب العالمین۔

 حسب سابق  اس مضمون کو عربی سے اردو میں ترجمہ کرکے آپ تک پہنچایا ہے،  مجھے بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھئے گا، اللہ آپ کو جزائے خیر دے  ۔

محمدسلیم/شانتو-چائنا
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

ایسے لوگ اب پھر کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے

نوٹ: اسے پڑھتے ہوئے کسی لمحے آپکو اپنی آنکھوں میں نمی سی محسوس ہو تو  جہاں اپنی مغفرت کی دعاء کیجئے وہاں اس خاکسار کو بھی یاد کر لیجیئے گا۔
دو نوجوان  سیدنا عمر  رضی اللہ عنہ  کی محفل میں داخل ہوتے ہی محفل میں بیٹھے ایک شخص  کے سامنے جا کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور اسکی طرف انگلی کر کے کہتے ہیں یا عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ یہ ہے وہ شخص!
سیدنا عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ  ان سے پوچھتے ہیں ، کیا کیا ہے اس شخص نے؟
یا امیر المؤمنین، اس نے ہمارے باپ کو قتل  کیا ہے۔
کیا کہہ رہے ہو، اس نے تمہارے باپ کو قتل کیا ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ پوچھتے ہیں۔
سیدنا عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ اس شخص سے مخاطب ہو کر پوچھتے ہیں، کیا تو نے ان کے باپ کو قتل کیا ہے؟
وہ شخص کہتا ہے : ہاں امیر المؤمنین،  مجھ سے قتل ہو گیا ہے انکا باپ۔
کس طرح قتل کیا ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ  پوچھتے ہیں۔
یا عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ، انکا باپ اپنے اونٹ سمیت میرے کھیت میں داخل ہو گیا تھا، میں نے منع کیا، باز نہیں آیا تو میں نے  ایک پتھر دے مارا۔ جو سیدھا اس کے سر میں لگا اور وہ موقع پر مر گیا۔
پھر تو قصاص دینا  پڑے گا، موت ہے اسکی سزا۔  سیدنا عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کہتے ہیں۔
نہ فیصلہ لکھنے کی ضرورت، اور فیصلہ بھی ایسا اٹل کہ جس پر کسی بحث و مباحثے کی بھی گنجائش نہیں، نہ ہی اس شخص سے اسکے کنبے کے بارے میں کوئی سوال کیا گیا ہے، نہ ہی یہ پوچھا گیا ہے کہ تعلق کسقدر  شریف خاندان  سے ہے، نہ ہی یہ پوچھنے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے کی تعلق کسی  معزز قبیلے سے تو نہیں، معاشرے میں کیا رتبہ یا مقام ہے؟ ان سب باتوں سے بھلا سیدنا عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو مطلب ہی کیا ہے!! کیوں کہ معاملہ اللہ کے دین کا ہو تو عمر رضی اللہ تعالٰی پر کوئی اثر انداز نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی اللہ کی شریعت کی تنفیذ کے معاملے  پر عمر رضی اللہ تعالٰی کو  روک سکتا ہے۔ حتی کہ سامنے عمر رضی اللہ تعالٰی کا اپنا بیٹا ہی کیوں نہ  قاتل کی حیثیت سے آ  کھڑا ہو، قصاص تو اس سے بھی لیا جائے گا۔
وہ شخص کہتا ہے ا ے امیر المؤمنین: اس کے نام پر جس کے حکم سے یہ زمین و آسمان قائم کھڑے ہیں مجھے صحراء میں واپس اپنی بیوی بچوں کے پاس  جانے دیجیئے تاکہ میں انکو بتا آؤں کہ میں قتل کر دیا جاؤں گا۔ ان کا اللہ اور میرے سوا کوئی آسرا نہیں ہے، میں اسکے بعد واپس آ جاؤں گا۔
سیدنا عمر رضی اللہ تعالٰی کہتے ہیں: کون تیری ضمانتدے گا کہ تو صحراء  میں جا کر واپس بھی آ جائے گا؟
مجمع پر ایک خاموشی چھا جاتی ہے۔ کوئی بھی تو  ایسا نہیں ہے جو اسکا  نام تک بھی جانتا ہو۔ اسکے قبیلے، خیمےیا  گھر  وغیرہ کے بارے میں جاننے کا معاملہ تو بعد کی بات ہے۔
کون ضمانت دے اسکی؟ کیا یہ دس درہم کے ادھار یا  زمین کے ٹکڑے  یا کسی اونٹ کے سودے  کی ضمانت کا معاملہ ہے؟  ادھر تو ایک گردن کی ضمانت دینے کی بات ہے جسے تلوار سے اڑا دیا جانا ہے۔
اور کوئی ایسا بھی تو نہیں ہے جو اللہ کی شریعت کی تنفیذ کے معاملے پر عمر رضی اللہ تعالٰی سے اعتراض  کرے، یا پھر اس شخص کی سفارش کیلئے ہی کھڑا ہو جائے۔ اور کوئی ہو بھی نہیں سکتا جو سفارشی بننے کی سوچ سکے۔
محفل میں موجود  صحابہ پر ایک خاموشی سی چھا گئی ہے، اس صورتحال سے خود عمر رضی اللہ تعالٰی  بھی متاثر ہیں۔ کیوں کہ اس شخص کی حالت  نے سب کو ہی حیرت میں ڈال کر رکھ دیا ہے۔ کیا اس شخص کو واقعی قصاص کے طور پر قتل کر دیا جائے اور اس کے بچے بھوکوں مرنے کیلئے چھوڑ دیئے جائیں؟  یا پھر اسکو بغیر ضمانتی کے واپس جانے دیا  جائے؟  واپس نہ آیا تو مقتول کا خون رائیگاں جائے گا!
خود سیدنا عمر رضی اللہ تعالٰی  سر جھکائے افسردہ بیٹھے ہیں  ہیں اس صورتحال پر، سر اُٹھا کر التجا بھری نظروں سے نوجوانوں کی طرف دیکھتے ہیں، معاف کر دو اس شخص کو۔
نہیں امیر المؤمنین، جو ہمارے باپ کو قتل کرے اسکو چھوڑ دیں، یہ تو ہو ہی نہیں سکتا، نوجوان اپنا آخری فیصلہ بغیر کسی جھجھک کے سنا دیتے ہیں۔
عمر رضی اللہ تعالٰی ایک بار پھر مجمع کی طرف دیکھ کر بلند آواز سے پوچھتے ہیں ، اے لوگو ، ہے کوئی تم میں سے جو اس کی ضمانت دے؟
ابو ذر غفاری عمر رضی اللہ تعالٰی اپنے زہد و صدق سے بھر پور بڑھاپے کے ساتھ کھڑے ہو کر کہتے ہیں میں ضمانت دیتا ہوں اس شخص کی!
سیدنا عمر رضی اللہ تعالٰی کہتے ہیں ابوذر ، اس نے قتل کیا ہے۔
چاہے قتل ہی کیوں نہ کیا ہو، ابوذر عمر رضی اللہ تعالٰی اپنا اٹل فیصلہ سناتے ہیں۔
عمر رضی اللہ تعالٰی: جانتے ہو اسے؟
ابوذر عمر رضی اللہ تعالٰی: نہیں جانتا اسے۔
عمر رضی اللہ تعالٰی: تو پھر کس طرح ضمانت دے رہے ہو؟
ابوذر عمر رضی اللہ تعالٰی: میں نے اس کے چہرے پر مومنوں کی صفات دیکھی ہیں، اور مجھے ایسا لگتا ہے یہ جھوٹ نہیں بول رہا، انشاء اللہ یہ لوٹ کر واپس آ جائے گا۔
عمر رضی اللہ تعالٰی: ابوذر عمر رضی اللہ تعالٰی دیکھ لو اگر یہ تین دن میں لوٹ کر نہ آیا تو مجھے تیری جدائی کا صدمہ دیکھنا پڑے گا۔
امیر المؤمنین، پھر اللہ مالک ہے۔ ابوذر اپنے فیصلے پر ڈٹے ہوئے جواب دیتے ہیں۔
سیدنا عمر رضی اللہ تعالٰی سے تین دن کی مہلت پا کر وہ شخص رخصت ہو جاتا ہے، کچھ ضروری تیاریوں کیلئے، بیوی بچوں کو الوداع کہنے، اپنے بعد اُن کے لئے کوئی راہ دیکھنے، اور اس کے قصاص کی ادئیگی کیلئے قتل کئے جانے کی غرض سے لوٹ کر  واپس آنے کیلئے۔
اور پھر تین راتوں کے بعد، عمر رضی اللہ تعالٰی بھلا کیسے اس امر کو بھلا پاتے، انہوں نے تو ایک ایک لمحہ گن کر کاٹا تھا، عصر کے وقت  شہر میں  (الصلاۃ جامعہ) کی منادی پھر جاتی ہے، نوجوان اپنے باپ کا قصاص لینے کیلئے بے چین اور لوگوں کا مجمع اللہ کی شریعت کی تنفیذ دیکھنے کے لئے جمع ہو چکا ہے۔
ابو ذر عمر رضی اللہ تعالٰی بھی تشریف لاتے ہیں اور آ کر عمر رضی اللہ تعالٰی کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں۔
کدھر ہے وہ آدمی؟ سیدنا عمر رضی اللہ تعالٰی سوال کرتے ہیں۔
مجھے کوئی پتہ نہیں ہے یا امیر المؤمنین، ابوذر عمر رضی اللہ تعالٰی مختصر جواب دیتے ہیں۔
ابوذر عمر رضی اللہ تعالٰی آسمان کی طرف دیکھتے ہیں جدھر سورج ڈوبنے کی جلدی میں معمول سے سے زیادہ تیزی کے ساتھ جاتا دکھائی دے رہا ہے۔
محفل میں ہو کا عالم ہے، اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ آج کیا  ہونے جا رہا ہے؟
یہ سچ ہے کہ ابوذر عمر رضی اللہ تعالٰی سیدنا عمر رضی اللہ تعالٰی کے دل میں بستے ہیں، عمر رضی اللہ تعالٰی سے ان کے جسم کا ٹکڑا  مانگیں تو عمر رضی اللہ تعالٰی دیر نہ کریں کاٹ کر ابوذر عمر رضی اللہ تعالٰی کے حوالے کر دیں، لیکن ادھر معاملہ شریعت کا ہے، اللہ کے احکامات کی بجا آوری کا ہے، کوئی کھیل تماشہ نہیں ہونے جا رہا، نہ ہی کسی کی حیثیت یا صلاحیت کی پیمائش ہو رہی ہے، حالات و واقعات کے مطابق نہیں  اور نہ ہی زمان و مکان کو بیچ میں لایا جانا ہے۔ قاتل نہیں آتا تو ضامن کی گردن جاتی نظر آ رہی ہے۔
مغرب سے چند لحظات پہلےوہ شخص آ جاتا ہے، بے ساختہ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی کے منہ سے اللہ اکبر کی صدا نکلتی ہے، ساتھ ہی مجمع بھی اللہ اکبر کا ایک بھرپور نعرہ لگاتا ہے۔
عمر رضی اللہ تعالٰی اس شخص سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں اے شخص، اگر تو لوٹ کر نہ بھی آتا تو ہم نے تیرا کیا کر لینا تھا، نہ ہی تو کوئی تیرا گھر جانتا تھا اور نہ ہی کوئی تیرا پتہ جانتا تھا!
امیر المؤمنین، اللہ کی قسم، بات آپکی نہیں ہے بات اس ذات کی ہے جو سب ظاہر و پوشیدہ کے بارے میں جانتا ہے، دیکھ لیجئے میں آ گیا ہوں، اپنے بچوں کو  پرندوں کے چوزوں کی طرح  صحراء میں تنہا چھوڑ کر، جدھر نہ درخت کا سایہ ہے اور نہ ہی پانی کا نام و نشان۔ میں قتل کر دیئے جانے کیلئے حاضر ہوں۔ مجھے بس یہ ڈر تھا کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں میں سے وعدوں کا ایفاء ہی اُٹھ گیا ہے۔
سیدنا عمر رضی اللہ تعالٰی نے ابوذر کی طرف رخ کر کے پوچھا ابوذر عمر رضی اللہ تعالٰی، تو نے کس بنا پر اسکی ضمانت دے دی تھی؟
ابوذر عمر رضی اللہ تعالٰی نے کہا، اے عمر رضی اللہ تعالٰی، مجھے اس بات کا ڈر تھا کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ ابلوگوں سے خیر ہی اٹھا لی گئی ہے۔
سید عمر رضی اللہ تعالٰی نے ایک لمحے کیلئے توقف کیا اور پھر ان دو نوجوانوں سے پوچھا کہ کیا کہتے ہو اب؟
نوجوانوں نے روتے ہوئے جواب دیا، اے امیر المؤمنین، ہم اس کی صداقت کی وجہ سے اسے معاف کرتے ہیں، ہمیں اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں میں سے عفو اور درگزر ہی اُٹھا لیا گیا ہے۔
سیدنا عمر اللہ اکبر پکار اُٹھے اور آنسو انکی ڈاڑھی کو تر کرتے نیچے گر رہے تھے۔۔۔۔
اے نوجوانو! تمہاری عفو و درگزر پر اللہ تمہیں جزائے خیر دے۔
اے ابو ذر عمر رضی اللہ تعالٰی! اللہ تجھے اس شخص کی مصیبت میں مدد پر جزائے خیر دے۔
اور اے شخص،  اللہ تجھے اس وفائے عہد و صداقت پر جزائے خیر دے۔
اور اے امیر المؤمنین، اللہ تجھے تیرے عدل و رحمدلی پر جزائے خیر دے۔
محدثین میں سے ایک یوں کہتے ہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، اسلام اور ایمان کی سعادتیں تو عمر رضی اللہ تعالٰی کے کفن کے ساتھ ہی دفن ہو گئی تھیں۔

اور اے اللہ، جزائے خیر دینا انکو بھی، جن کو یہ ایمیل اچھی لگے اور وہ اسے آگے اپنے دوستوں کو بھیجیں ۔ آمین یا رب العالمین۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

بلاگر حلقہ احباب