11 February, 2008

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی بم سے ہو محفوظ خدایا میری

میں جو دفتر کے لئے گھر سے نکل کر جاؤں
روز مرہ کی طرح خیر سے واپس آؤں

نہ کوئی بم کے دھماکے سے اڑا دے مجھ کو
مفت میں جام شہادت نہ پلا دے مجھ کو

جو اڑا دے مجھے خودکش تو دعائیں دونگا
بے وضو پو کے چچا بش کو دعائیں دونگا

بیوی بچوں کو میری جان کی قیمت مل جائے
بیٹھے بیٹھے مرے گھر والوں کو دولت مل جائے

ہائے جن لوگوں سے کل تک تھی وطن کی زینت
آج وہ لوگ ہوئے قبر و کفن کی زینت

گھر مرا ہو گیا ویرانے کی صورت یارب
اور بدلی نہ کسی تھانے کی صورت یارب

ان پہ جائز ہے زبردستی حکومت کرنا
اور ہے جرم مجھے اپنی حفاظت کرنا

روزی ہم سب کی بچا روز کی ہڑتالوں سے
جان اور مال ہو محفوظ پولیس والوں سے

جب نہ اسکول کھیلیں گےتو پڑھیں گے کیسے
اور زندہ نہ رہیں گے تو بڑہیں گے کیسے

میرے اللہ لڑائی سے بچانا مجھ کو
اور سکھا دے کوئی بندوق چلانا مجھ کو

خیر سے لوٹ کے آئیں میرے ابو گھر میں
اڑ نہ جائیں دھماکے سے کہیں دفتر میں

رات دن جام ٹریفک نہ رہے سڑکوں پر
کوئی نالہ نہ گٹر بھر کر بہے سڑکوں پر

کلمہ گو کو مسلمان بنا دے یارب
نیک اور صاحب ایمان بنا دے یارب

نام اسلام کی حرمت کی بچا لے یارب
وقت کے سارے یزیدوں کو اٹھا لے یارب

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری




محشرلکھنوی

1 comments:

محمد قیصر فاروق نے لکھا ہے

جناب،

اوپر کی نظم کو کچھ یوں درست کریں-


جو اڑا دے مجھے خودکش تو دعائیں دونگا
بے وضو پو کے چچا بش کو دعائیں دونگا



جو اڑا دے مجھے خودکش تو دعائیں دونگا
بے وضو ہو کے چچا بش کو دعائیں دونگا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب نہ اسکول کھیلیں گےتو پڑھیں گے کیسے
اور زندہ نہ رہیں گے تو بڑہیں گے کیسے

جب نہ اسکول کھلیں گےتو پڑھیں گے کیسے
اور زندہ نہ رہیں گے تو بڑہیں گے کیسے

6/09/2008 04:23:00 AM

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


بلاگر حلقہ احباب