(پیشگی معذرت) تصویر پیج پالیسی سے ہٹکر ہے۔ لیکن یہ تصویر پاکستانی حکومت اور بہادُر پاک فوج کی صحیح عکاسی کررہی ہے۔ ایک دوست نے یہ ٹیگ کردیا تھا اب یہ آپ کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے۔
نیٹو سپلائی کھلنے کے اشارے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امریکہ ڈالر دینے پر تیار اور ہمارے حکمران و جرنیل طوائف کی طرح کچھ نخرے کرنے کے بعد دوبارہ بکنے کے لیے دستیاب ۔
پشتو زبان کا محاورہ ہے۔ کہ
ووگے سل کالہ مڑیگی نہ
او موڑ سل کالہ ووگے کیگی نہ
ترجمہ ( بھوکی پیٹ سو سال میں بھرتی نہیں ۔ اور بھری پیٹ سوسال میں خالی ہوتی نہیں )
اصل میں یہ محاورہ پاکستانی ارباب اختیار پر پورا آتا ہے۔
بمینو سنیما کے چوری کے ٹکٹ پر پلنے والا زرداری تو یہ کرےگا۔ چاہے اسکو قارون کے خزانے بھی دے دیئے جائیں۔ اسکی پیٹ نہیں بھریگی ۔۔ لیکن سوال اٹھتا ہے ۔ بہادر فوج کے سپہ سالار پر۔
ایک معافی اور 24 جوان ۔۔۔ معافی غلطی پر مانگی جاتی ہے۔ جبکہ زلیل ابلیس نیٹو نے پاکستانی بھادر فوج کو ۔۔۔۔۔۔۔
آجکل تو افغانیوں نے بھی حملے شروع کردیئے ہیں۔ اور بھی پاکستانی فوج کو سرحد پار لیجاکر زبح کرتی ہے۔ اور پھر ویڈیو یوٹیوب پر جاری کرلیتی ہے۔ تو کل کو وہ بھی صرف معافی پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ انکے کمر پر بھی تو امریکہ بہادر ہے۔
( اگر کسی کو اس سے کوئی تکلیف پہنچی ہوں تو ہم ان سے معزرت چاہتے ہیں )
بات سے بات آزاد ذرائع کا کہنا ہےکہ نااہل قرار دیے جانے کے بعد سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کچھ ہی دنوں میں قوم کا لوٹا ہوا پیسہ جب ہضم کر بیٹھے تو زندگی كى گاڑی چلانے کے لیے موصوف کو بادل ناخواستہ گداگری کا پیشہ اختیار کرنا پڑا ویسے تو محترم تھے پہلے ہی اس میدان کے شہسوار، فرق بس اتنا ہے كہ کرسی پر بیٹھ کر عوام سے بھیک مانگنا روایتی گداگری سے نسبتاً آسان اور پبلک کو لوٹنے کا ايك مہذب طریقہ ہوتا ہے یہ بات تو بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ کرسی پر بیٹھ كرعوام کا خون و پسینہ چوسنے والے اقتدار کے نشہ میں مست ان بین الاقوامی فقیروں کا کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں ہوتا ''ادھر نکلے اُدھر ڈوبے اُدھر ڈوبے ادھر نکلے ''کا عملی نمونہ ہوتے ہیں کرسی تک رسائی سے پہلے ہی قابل رحم ہوتے ہیں حال ہی میں ایک اور فقیر راجا رینٹل کے بارے میں بھی کچہ ایسی ہى اطلاعت ہے کہ کشکول سمیت وزارتِ عظمی کی کرسی پر قبضہ جمانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ انٹرنیشنل فقیرآصف علی زرداری کا جن کی بدولت ان فقراء کے لیے کرسی تک رسائی ممکن ہوئی ورنہ چیف جسٹس تو پہلے سے ہی موت کا فرشتہ بن کر ان لاچار فقیروں کے پیچہے ہاتھ دھو کر پڑے ہوئے ہیں بات بہت دور نکل گئی ہم نے تو بتانا صرف یہ تھا کہ
ملتان کا سجادہ نشین وزیر اعظم ہاوس سے ایوان صدر کیسے پہنچا؟
تو قصہ مختصر یہ کہ موصوف فقیر راندہ درگاہ ہونے كے بعد جب روایتی گداگری کی پٹڑی پر نہ چل سکے تو فقیر اعظم '' زرداری'' نے انہیں اپنے کوٹے میں جگہ دے کر ایثار اورقربانی کی ایک اعلی مثال قائم کی نیز زرداری نے سکورٹی حالات کے پیش نظردیگر عملہ کو فارغ کر کے جوتے پالش اور برتن دہلائی کی ذمہ داری اپنے نئے مہمان کے حوالے کر دی ہے ایوان صدر میں قدم رکھنے والے فقیر نے اپنے میزبان کی اعلی ظرفی کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوستی کا یہ سفر جاری رہے گا۔ فیس بک
یہ نورا کشتی پہلے سیاست کا خاصا تھی اب میڈیا والوں نے بھی اسکو اپنا لیا ہے۔ خدا غارت کرے ان منافقوں کو۔
کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ جب ایک طوائف فروخت ہوتی ہے تو اس کا صرف جسم بکتا ہے لیکن جب ایک صحافی کا قلم فروخت ہوتا ہے تو اس کے ساتھ پوری قوم بکتی ہے۔
یہ زمیں خریدوں گا، آسماں خریدوں گا
آسماں کے سینے پر اپنا نام لکھوں گا
مے کدہ خریدوں گا، گل ستاں خریدوں گا
گل ستاں کے چہرے پر اپنا نام لکھوں گا
عزم عالی شاں میرا، ہاتھ آہنی میرا
راگ آہنی میرا، ساز آہنی میرا
اپنے ساز کی دھن پر سب کو میں نچاؤں گا
عزم عالی شاں میرا
کس جہاں میں رہتے ہو، خواب دیکھتے ہو تم
ریت کی لکیروں پر آشیاں بناتے ہو تم
پائمال راہوں کو رَہ نما بناتے ہو
کُہنہ ضابطوں کو تم پاس باں بناتے ہو
کس جہاں میں رہتے ہو، خواب دیکھتے ہو تم
ہر اصول کی قیمت میری جیب کے اندر
ہر قماش کے پتے میری جیب کے اندر
چیخنے سے کیا حاصل، رینگنے سے کیا حاصل
اس جہاں میں پیارے، ہر کوئی بکاؤ ہے
مال و زر کی منڈی میں زندگی بکاؤ ہے
ضابطے خریدوں گا، آئینے خریدوں گا
آئینوں کی دھڑکن کے سلسلے خریدوں گا
کون سی ہے شے جس کے دام لگ نہیں سکتے
ہر ضمیر بکتا ہے، ہر خمیر بکتا ہے
میں قلم خریدوں گا، عدلیہ خریدوں گا
آدمی خریدوں گا، فیصلہ خریدوں گا
یہ زمیں خریدوں گا، آسماں خریدوں گا
آسماں کے سینے پر اپنا نام لکھوں گا
پاک سر زمیں میری، عزم عالی شاں میرا
احفاظ الرحٰمن
Malik Riaz Planted Interview with Mehar Bukhari and Mubashir Lukman on Dunya TV - Part 01
Malik Riaz Planted Interview with Mehar Bukhari and Mubashir Lukman on Dunya TV - Part 02
ککلی کلیر دی پینٹ میرے ویر دی شرٹ پاء بشیر دی تے ٹائی چاچے نصیر دی کوٹ وڈے پائی دا لنڈے توں لیائی دا فٹ شٹ کرا کے دھوبی توں تہائی دا سینٹ شینٹ لائی دا شوق نال پائی دا بس دو سو روپے وچ بابو بن جائی دا فٹے منہ مہنگائی دا بھٹو دے جوائی دا
سیدھی سے بات ہے زندہ رہنے کے لئے کھانا ضروری ہے۔ سانس لیتی جو مخلوق سبزی، چارہ شوق سے کھاتی ہے وہ سبزی خور کہلاتی ہے اور جس کی نبض چلنے کا دارومدار محض گوشت پے ہوتا ہے وہ مخلوق گوشت خور کہلاتی ہے۔ بھوک انسان کے قابو میں نہیں، اس کے سامنے جو کچھ بھی آئے وہ ہڑپ کر جاتا ہے اس لئے ہمہ خور کہلاتا ہے۔ جو کچھ نہیں کھاتا وہ کوئی ولی، درویش ہا پھر شوگر کا مریض ہی ہو سکتا ہے۔ ہمہ خوری کے باوجود انسان کی گوشت خوری اور سبزی خوری کا تناسب نکالا جائے تو اس کی شرح ٧٠ اور ٣٠ کی بنتی ہے۔ گوشت انسان کے لئے مرغوب ہو چکا ہے جس کی وجہ سے آلودگی نے بھی اس چسکے کا گھر دیکھ لیا ہے جو انسان کو لگ چکا ہے۔ ابتداء جانوروں کے کچے گوشت سے ہوئی جو آہستہ آہستہ آلودہ ہونا شروع ہو گئی۔ نیوٹریشنسٹ بتاتے ہیں کہ جتنی غذائیت، لذت، وٹامنز اور طاقت کچے یا نیم بریاں گوشت میں ہوتی ہے وہ مکمل پکے ہوئے یا گلے ہوئے گوشت میں نہیں ہو سکتی۔ انسان یہی کچا گوشت عرصہ دراز تک کھاتا رہا، آج بھی مچھیرے بھون کر یا پکا کر مچھلی کھانے کو مچھلی کی توہین سمجھتے ہیں، وسطی افریقہ کے بہت سے قبائل آج بھی کچا گوشت کھاتے ہیں یا زیادہ سے زیادہ دھوپ میں خشک کیا ہوا گوشت کھانے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔ وقت نے چند قدم مزید لئے۔ گوشت آگ پر براہ راست بھون کر کھایا جانے لگا، اس سے لذت میں اضافہ ہوا لیکن اس کی تاثیر اور وٹامنز مرنے لگے۔ بھنے ہوئے گوشت کے بعد ہنڈیا میں ڈال کر گوشت کو گھی میں بگھار دیا جانے لگا، اس سے بھی چسکے میں تو اضافہ ہوا لیکن وٹامنز اور غذائیت اسی قدر کم ہو گئے۔ بگھارے ہوئے گوشت میں بعدازاں تیز مرچوں، پیاز لہسن اور ادرک کا اضافہ کر کے اس کی طاقت مزید کم کر دی گئی۔ کھانوں نے مزید ترقی کی۔ مرچ، ادرک، پیاز، ٹماٹر کے ساتھ گھی میں بگھارے ہوئے گوشت کی اصل غذائیت کا مزید ستیاناس مارنے کے لئے گرم مصالحوں نے امریکہ جیسا کردار ادا کیا۔ اب ہنڈیا میں جب چوب چینی، دار چینی، چاروں نمک، ہلدی، فلفل سیاہ، زیرہ سفید، کالی مرچ، مرچ کلاں، لونگ، دھنیا اور دیگر مصالحہ جات کا پسا ہوا آمیزہ ڈالا جاتا ہے تو اس کی لذت میں تو اضافہ ہو جاتا ہے لیکن غذائیت، وٹامنز اور طاقت کا وہی حال ہوتا ہے جو عراق میں صدام حسین یا افغانستان میں طالبان کا ہوا۔ کھانے کا مزید بیڑا غرق ان ککوں، باورچیوں، شیفوں اور فارغ بیٹھی گھریلو خواتین نے کیا جنہوں نے پگمنٹس میں ذرا ذرا سی تبدیلی کر کے لاکھوں رنگ بنا دیئے۔ کمپیوٹر کی انسٹنٹ آرٹسٹ، کورل ڈرا یا اڈوب فوٹو شاپ کھول کر دیکھ لیں چاروں پگمنٹس کے باہمی ملاپ اور ان کے تناسب کو بدل بدل کر آُپس میں ملاتے جائیں تو پچیس لاکھ کے قریب رنگ بن جاتے ہیں۔ گوشت کے ساتھ بھی یہی ہوا، کھانے کی کوئی بھی کتاب اٹھا کر دیکھ لیں سب سے زیادہ ڈشیں گوشت کی ہی ملتی ہیں، ادرک گوشت، آلو گوشت، بھنڈی گوشت، کریلے گوشت، ٹینڈے گوشت، دو پیازہ گوشت، دال گوشت، بینگن گوشت، چنے گوشت وغیرہ وغیرہ حتٰی کہ گوشت گوشت کی ڈش بھی موجود ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مغل شہشاہ اکبر اعظم اور شہزادہ سلیم کے دور کا باورچی گوشت کی اڑھائی ہزار مختلف ڈشیں پکا سکتا تھا۔ گوشت کی آلودگی کا یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔ آئے روز کوئی نہ کوئی نئی ڈش تیار ہوتی ہے اور انجام کار یہ ہوا کہ دن بدن امراض معدہ، اور دل کے مریضوں کی تعداد بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ شوگر کنٹرول سے باہر ہوتی چلی جا رہی ہے، کولیسٹرول قابو میں نہیں آتا، بلڈ پریشر نے الگ ناک میں دم کر رکھا ہے، مستقل سر درد کی شکایت بڑھ گئی ہے، جگر خون پیدا کرنا بھولتا جا رہا ہے اور ہر چوتھا آدمی جوڑوں کے درد کا رونا روئے جاتا ہے۔ معدے کا السر اور بواسیر اس کے علاوہ ہیں۔ انسان کا یہ انجام صرف اس لئے ہوا ہے کہ یہ لذت اور چسکا بڑھانے کے چکر میں گوشت سے سارے وٹامنز اور غذائیت نچوڑے چلا جا رہا ہے۔ قدرت کی دی ہوئی نعمتوں میں اپنی فنکاری کرنے کا یہ انجام تو ہونا ہی تھا۔ آپ کسی بھی چیز کو آلودہ کر کے دیکھ لیں ان کا انجام برا ہی ہو گا۔ مثال کے طور پر بدلتے ہوئے موسموں کو لیجیئے یہ قدرت کا سب سے حسین اور انمول تحفہ ہے۔ گرمیوں میں ائیر کنڈیشنروں نے گرمی کو آلودہ کر دیا اور سردیوں میں ہیٹروں نے سردی کو آلودہ کر دیا۔ انٹرنلی ائیر کنڈیشنڈ یا انٹرنلی ہیٹیڈ دفاترمیں کام کرنے والے اور کنٹرول ٹمپریچر کی گاڑیوں میں سفر کرنے والے افراد کی قوت مدافعت ایک عام آدمی کے مقابلے میں پچاس فیصد کم ہوتی ہے۔ بات صرف کھانے پینے اور موسموں تک محدود رہتی تو کوئی بات نہیں تھی لیکن ہم نے تو بہت آگے بڑھ کر موسمی تہواروں کو بھی آلودہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ کبھی شب برات پر رات بھر عبادت کی جاتی تھی اور موم بتیاں روشن کی جاتی تھیں لیکن آج آتش بازی کو ہی دعاؤں کی قبولیت کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔ کبھی عید کو محمود و ایاز کا مٹانے کا تہوار سمجھا جاتا تھا لیکن آج عیدیں محض غریب طبقے کے لئے خود کشی اور خود سوزی کا تہوار بنتی جا رہی ہیں۔ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تہوار انتہائی عقیدت و محبت کا تہوار ہے لیکن اس میں بھی جھمر اور دیگر لوازمات شامل کر کے اسے آلودہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے یوم پیدائش پر ڈھول کی تھاپ پر جھمر مارتے اور ایک دوسرے پر نوٹ نچھاور کرتے ہوئے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ خدارا آنے والی نسلوں کے لئے عقیدت، محبت اور احترام کے ان تہواروں کو تو اپنی اصل شکل میں رہنے دیں، انہیں تو آلودہ نہ کریں۔ کسانوں کے لئے جشن بہاراں کا تہوار تھا لیکن اس کی نسبت بسنت سے جوڑ کر اسے بھی آلودہ کر دیا گیا اور یہ ویلنٹائن ڈے تو کبھی ہمارے تہواروں میں شامل ہی نہ تھا۔ قارئین کرام! خود شکار کر کے کچا گوشت کھانے والے شیر کو صرف پانچ مرتبہ کسی فائیو سٹار ہوٹل کا “آلودہ“ یعنی روسٹ گوشت کھلا دیں تو وہ بلی بن جاتا ہے اور پھر عمر بھر کسی پر ہاتھ اٹھانے کے قابل نہیں رہتا۔ یہ ایام ویلنٹائن اور بسنت بھی آلودہ تہوار ہیں۔ ہم نے اگر اپنے تہواروں کی حفاظت نہ کی اور یہ آلودہ تہوار پانچ مرتبہ ہی منا لئے تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں بلی بننے سے روک نہیں سکے گی۔ لیکن ٹھہریے مجھے یہ بتائیے، کیا پہلے ہم شیر ہیں؟؟ جی نہیں ہم تو صرف امریکہ کے فرنٹ لائن اتحادی ہیں۔
قلم اٹھانے سے پہلے بلند آواز میں کہیں کہ ملک اس وقت نازک حالات سے گزر رہا ہے۔ اگر ملک کا خیال نہیں ہے تو لکھنے سے پہلے اپنے جسم کے نازک حِصوں کے بارے میں سوچیں، ان پر اگر نازک وقت آگیا تو کیا ہوگا؟
اگر کسی خبر میں مسلح افواج کا ذکر آئے تو اس کے لیے فوج کا لفظ استعمال مت کریں، عسکری یا مقتدر حلقوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں۔ بلکہ آپ کی اور آپ کے اخبار کی صحت کے لیے بہتر ہوگا کہ لفظ مقتدرہ استعمال کریں۔ بزرگ پڑھنے والے سمجھیں گے کہ آپ مقتدرہ قومی زبان جیسے اداروں میں فخرزمان یا افتخار عارف کاحوالہ دے رہے ہیں ، نوجوان سوچیں گے کوئی نئی عربی ڈش ہے۔ اسے کہتے ہیں کہ رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی۔
اگر آپ کی طبیعت شاعری کی طرف مائل ہے تو یہ شعر خوشخط لکھ کر اپنے سامنے آویزاں کرلیں۔
لےسانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کار گہہِ شیشہ گری کا
کیا پلاٹ لے لیا ہے؟ اگر کل مرجاؤ گے تو بچے کیا تمہارے ضمیر کا اچار ڈال کر کھائیں گے؟
ہمارا خیال ہے کہ اگر کراچی میں صحافت کرتے ہیں تو وہ آفاق والا شعر اتار دیں۔ کہیں کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ آپ آفاق گروپ کے آدمی ہیں۔
جیسے ہی کسی خبر میں لفظ بلوچ، بلوچی یا بلوچستان آئے تو اس کو کاٹ کر لفظ نامعلوم ڈال دیں۔ مثلاً َ کچھ نامعلوم افراد ایک نامعلوم شخص کو اغواء کر کے ایک نامعلوم مقام پر لے گئے جہاں اس پر نامعلوم طریقے سے تشدد کر کے نامعلوم جگہ پر پھینک دیا گیا۔
یہ لکھنا نہ بھولیں کہ نامعلوم افراد کے خلاف ایک نامعلوم مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
اگر بچپن میں کہیں قلم اور تلوار کی طاقت والا لطیفہ سنا تھا تو اسے بھول جائیں اب اس پر کوئی نہیں ہنستا۔
قومی سلامتی کے امور پر لکھنے سے پہلے وضو کر لیں اور اگر ایمان کمزور ہے تو اس طرف مت جائیں۔ اور بہت سے موضوعات ہیں جن پر لکھا جاسکتا ہے ، ہمارے گٹر کے ڈھکن کون چراتا ہے، بھکاری مافیا کے نئے انداز، قبضہ گروپ کی کارستانیاں وغیرہ وغیرہ۔
لیکن یاد رہے کہ قبضہ گروپ اور مقتدرہ کا ذکر ایک ساتھ نہ آئے۔
اس ہدایت نامے کے عنوان میں برادری کے مطلب کہنے کے لیے کسی پنجابی بھائی سے رجوع کریں۔ چیمہ، چٹھہ، کیانی ویسے تو سب برادریاں کہلاتی ہیں لیکن برادری کے اندر چھوٹے بڑے کا احترام ضروری ہے۔ مثلا َ َ کیانی برادری کے اندر ایک فالسے کی ریڑھی لگانے والا بھی ہو سکتا ہے اور ایک میجر بھی۔ پہلے برادری میں اپنے مقام کا تعین کریں۔ اس سے پہلے کہ برادری آپ کو اپنا مقام یاد کرائے، برادری میں اپنا مقام پیدا کریں۔
بعض ناعاقبت اندیش لوگ ہمارے ملک کی خفیہ ایجنسیوں کو ان کے نام سے پکارنے لگے ہیں یا انہیں خفیہ ایجنسیاں کہہ کر بلانے لگے ہیں۔ حالانکہ ان کے بارے میں کوئی بات خفیہ نہیں ہے۔ آپ پرلازم ہے کہ انہیں ہمیشہ حساس ادارے کہہ کر پکاریں۔ اگر آپ اپنے حساس اداروں کے بارے میں لکھتے ہوئے اپنے محسوسات کو ایک طرف نہیں رکھیں گے اور معاملے کی حساسیت کا خیال نہیں کریں گے تو ہوسکتا ہے کہ آپ کے جسم کے کسی حساس حصے پر ضرب آئے اور پھر آپ بلبلاتے ہوئے حساس اداروں کو الزام دینے لگیں، حالانکہ آپ کو پہلے ہی بتا دیا گیا تھا کہ ملک نازک دور سے گزر رہا ہے۔
بجلی آنے کی خوشی
بازار سے خریداری کے بعد زندہ گھر آنے کی خوشی
بس میں سیٹ ملنے کی خوشی
پیٹرول کی قیمت میں آٹھ روپے اضافے کے بعد پچاس پیسے کمی کی خوشی
مسجد میں نماز پڑھنے کے بعد خودکش حملے سے بچنے کی خوشی
بس سے اُترنے کے بعد جیب میں بٹوہ اور موبائل موجود ہونے کی خوشی
مسجد سے نکلتے وقت چپل مل جانے کی خوشی
اور اب سیلاب سے بچ جانے کی خوشی
خوشیوں بھرا پاکستان ۔۔۔ اور کیا چاہیے آپکو
پاکستان ایک ایسا منفرد ملک ہے جہاں
Pizza ایمبولینس اور پولیس سے پہلے پہنچتا ہے۔
چاول سو روپے کلو اور موبائل سم مفت
جوتے ایئرکنڈیشنڈ دکانوں میں اور کھانے کی سبزیاں اور فروٹ فٹ پاتھوں پہ بکتی ہیں۔
نیبو (لیموں) کا مصنوعی عرق کھانا پکانے کے واسطے اور اصلی نیبو برتن دھونے کے صابن میں استعمال ہوتا ہے۔
پڑھے لکھے اور ایماندار خوار اور خستہ ہیں جبکہ جاہل اور چور اچکے حکمران ہیں۔