١٢ ربیع الاول
آج ١٢ ربیع الاول کا دن ہے، ہم تمام مسلمانوں کے لئے انتہائی بابرکت اور پاکیزہ دن، یہ دن صرف ایک دن یا رسم نہیں بلکہ یہ تجدید عہد کے ساتھ ساتھ خود کا احتساب کرنے کا بھی دن ہے، اس میں صرف رنگ برنگی برقی قمقمے، جھنڈیاں لگانا یا جلوس نکالنا کافی نہیں ہے۔ بلکہ اس دن کہیں اکیلے بیٹھ کر سوچنا چاہیے کہ ہم کیا ہیں؟ اور کیا کر رہے ہیں؟ گزری زندگی کا جائزہ لینا چاہیے، آنے والے دنوں کے بارے میں سوچنا چاہیے اور سیرت مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں اپنے دن و رات کو ڈھالنے کا عہد کرنا چاہیے۔ اللہ تعالٰی قرآن مجید میں فرماتے ہیں کہ
لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃحسنۃ لمن کان یرجوااللہ والیوم الآخر۔ (پارہ 21 ع 18 الاحزاب)
بیشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہترہے ۔ ہراس شخص کیلئے جو اللہ اور آخرت کے دن پر یقین رکھا ہے۔
جب سے انسان نے اس دھرتی پر قدم رکھا ہے رحمت خداوندی نے اسے اکیلا اور سرگرداں نہیں چھوڑا، بلکہ نوع انسانی کی رہنمائی کے لئے مختلف زمانوں میں، مختلف علاقوں میں اللہ تعالٰی نے اپنے برگزیدہ بندے بھیجے تاکہ لوگوں کو ہدایت ربانی سے بہرہ ور کرتے رہیں۔ اس سلسلہ انبیآء کی آخری کڑی خاتم النبیین رحمتہ اللعالمین، للعٰلمین تدیرا سراجاََ منیرا، محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے جن کی شریعت قیامت آنیوالی نسلِ انسانی کے لئے ایک کامل، جامع، محفوظ، روشن اور دائمی ضابطہ حیات ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم انسانیت کے معلم اور رہبر و رہمنا ہیں۔ آپ نے امت مسلمہ کو ایسے ضابطہ ہدایت سے نوازا ہے جو ہدایت کے مدارجِ اربعہ، ہدایتِ حسی، ہدایتِ عقلی اور ہدایت ربانی پر استوار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب مغرب میں الحاد و زندقہ کی ظلمیتیں وہاں کی تہذیب و تمدن پر گھٹاٹوپ اندھیروں کی صورت چھائی ہوئی ہیں اور یہ معرکہ ،سائنس و مذہب، اور معرکہ ، عقل و مذہب، جیسے تصورات ابھر رہے ہیں۔ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا پیغامِ ہدایت آج بھی اعتدال و توازن پر مبنی، مادی اور روحانی تقاضوں کی تکمیل کرتا، اور عقلی و دینی تقاضوں کا حسین امتزاج پیش کرتا ہوا نظر آتا ہے۔
آج کا یہ دن ہم سے یہ تقاضا کرتا ہوا نظر آتا کہ ہم اسلامی معاشرے کے فردِ کامل اور مصلح ہونے کی حثیت سے اپنے طرزِ عمل سے کائناتِ انسانی کو ایسی اثر انگیز فضا مہیا کریں جس سے یہ دنیا اُلفتوں اور محبتوں کا گہوارہ بن جائے اور صلاح و فلاح کا وہ عملی نمونہ پیش کریں جو محبت و الفت، حسنِ اخلاق، غم خواری و مواسات و رواداری و مدارات اور صدق و صفا کا پیکر ہو کیونکہ ایک مومن کی شخصیت ایک شجر سایہ دار کی سی ہے جس کی گھنی چھاؤں میں ہر محروم و مظلوم کو پناہ ملتی ہے۔


1 comments:
اللہ تعالی عزوجل ہمیں 12 ماہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے محبت اور آپ کی سیرت حسنہ پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
3/22/2008 12:46:00 AMحضور سے محبت کے کے دعوی کی دلیل آپ کی سیرت حسنہ پر عمل ہے۔
ڈاکٹر اقبال علیہ الرحمہ کے اس شعر خصوصا اس کے پہلے مصرع پر تمام مسلمانوں کی نظر ہونی چاہیے:
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
الف نظامی's last blog post..خوشبو ہے دو عالم میں تری اے گُلِ چیدہ
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔