دلچسپ ملک

اس ملک میں حمود الرحمان کمیشن نام لے لے کر ذمہ دار ٹھہراتا ہے کہ فلاں کا مشرقی پاکستان میں یہ کردار تھا، فلاں نے یہ کیا اور فلاں نے کس کس موقع پر انتہائی غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا۔لیکن ہوا کیا۔کچھ ملزم خاموشی سے ریٹائر ہوگئے۔کچھ وزیر یا سفارتکار بن گئے اور کچھ نے اپنی یادداشتیں لکھ کر صفائی پیش کی اور کتاب کی رائلٹی بھی وصول کرلی۔

یہاں انیس سو اٹھاسی میں آئی جے آئی بنوانے والے اور مہران گیٹ سکینڈل کے سب کردار ماسوائے غلام اسحاق خان زندہ ہیں۔ان میں سے کچھ حضرات شواہد اور عدالتی گواہیوں کے باوجود مختلف اداروں کے کنسلٹینٹ ہیں۔کچھ حالاتِ حاضرہ کے مبصرین کی کھال اوڑھے بیٹھے ہیں اور بعض تھنک ٹینکس بنا کر ملک و قوم کی حالت پر آنسو بہا رہے ہیں۔

یہاں مرتضی بھٹو قتل کیس گیارہ برس سے عدالتی فائیلوں میں سو رہا ہے۔اس کیس میں ماخوذ بیشتر اہلکار اور شخصیات یا تو ترقی پا چکے ہیں، یا ریٹائر ہوچکے ہیں یا پھر فوت ہوگئے ہیں۔نہ کوئی بری ہوا نہ کسی کو سزا ملی۔

انیس سو ننانوے میں کارگل کے پہاڑوں پر کیوں چڑھائی کی گئی۔اتنے فوجی کس مقصد کے لئے مرے۔حکمتِ عملی کا خالق کون تھا ۔سب کردار زندہ ہیں بلکہ پہلے سے زیادہ باعزت اور طاقتور انداز میں زندہ ہیں۔کارگل تحقیقاتی کمیشن نہیں بننے دیا گیا۔ویسے بن بھی جاتا تو کیا کرلیتا۔

وزیرستان میں قبائلیوں پر چڑھائی کی حکمتِ عملی کس نے بنائی۔پھر انہی قبائلیوں کے رہنماؤں کو دہشت گرد قرار دے کر ہار پھول پہنا کر امن معاہدے کس کے کہنے پر ہوئے اور یہ معاہدے کس کے حکم پر توڑے گئے۔

ان دھشتگرد سرغنوں کو خفیہ فنڈ سے لاکھوں روپے کس نے ادا کئے اور پھر یہ رقم حاصل کرنے والوں نے فوجیوں کو کیوں اغوا اور قتل کرنا شروع کردیا۔اور سوات میں ایک حجرے سے نشریات شروع کرنے والے ایف ایم ریڈیو ٹرانسمیٹر نے پورے ضلع کو کس کی آنکھوں کے سامنے ایک جہادی کش مکش میں جھونک دیا۔کیا آج تک مذکورہ مہم جوئی اور بد انتظامی کی ذمہ داری کسی کمانڈر یا پولٹیکل ایجنٹ یا سرکاری سیاستداں نے اپنے سر لی۔کیا کسی سے پوچھ گچھ ہوئی۔

لال مسجد اسلام آباد میں اسلحہ جمع کرنے والوں کو سات ماہ تک کس نے سلیمانی ٹوپیاں فراہم کیں۔اور جب رائی کا پہاڑ بن گیا اور سو سے زائد لوگ مارے گئے تو کیا یہ سب خود بخود ہوگیا یا کوئی ادارہ یا اہلکار بھی تھوڑا بہت ذمہ دارتھا۔کیا سب کچھ مرنے والوں کے ساتھ قبر میں دفن ہوگیا۔

سٹاک ایکسچینج میں مارچ دو ہزار پانچ میں تیرہ ارب روپےڈوب گئے۔وزیرِ اعظم شوکت عزیز یہ وضاحت کئے بغیر کیسے ملک چھوڑ گئے کہ اس بدقسمت مالیاتی دن کا ریکارڈ کہاں اور کس نے کس کے حکم پر غائب کردیا۔

صدر پرویز مشرف نے سینہ ٹھونک کر کہا کہ تین نومبر کو ایمرجنسی کا نفاز ایک غیر آئینی اقدام تھا لیکن اس کا نفاز ایک مجبوری تھی۔کس عدالت میں ہمت ہے کہ صدر کے اس بیان کا ازخود نوٹس لیتی۔

بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد جائے حادثہ کو دو گھنٹے میں فائر بریگیڈ کے پانی نے دھو دیا۔صدر مشرف نے کہا یہ غلطی تھی۔آج تک یہ کیوں نہیں پتہ چل سکا کہ کس کی غلطی تھی اور اس کے خلاف کیا کاروائی ہوئی۔

صدر مشرف نے کہا بینظیر کو بینظیر کی غلطی نے مار ڈالا۔وزیرِ داخلہ نے کہا گولی لگنے سے موت ہوئی۔ان کی وزارت کے ترجمان نے کہا لینڈ کروزر کا لیور لگنے سے موت ہوئی۔پھر کہا گیا کہ ترجمان ایک سیدھے سادے فوجی ہیں لہذا جلد بازی میں یہ سب کہہ گئے۔کوئی اور ملک ہوتا تو ان تینوں سیدھے سادے فوجیوں کو تحقیقات غلط رخ پر ڈالنے کے الزامات کا سامنا کرنا پڑتا لیکن سب اپنی اپنی جگہ موجود ہیں۔

اگر یہاں کسی کا احتساب ہوسکتا ہے تو افتخار چوہدری اور اعتزاز احسن جیسوں کا ہوسکتا ہے جنہوں نے اس نظام کی نفسیات سمجھنے میں شدید غلطی کی ۔

اگر کسی نے صحیع معنوں میں اس نظام کو سمجھا ہے تو وہ بیت اللہ محسود اور مولانا فضل اللہ جیسے لوگ ہیں۔۔۔۔۔ہے نا پاکستان ایک دلچسپ ملک !!!


وسعت اللہ خان، بی بی سی اردو

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

کربلا کا پیغام

آج یوم عاشور ہے، آج کے دن کربلا میں کرب و بلا کی ایک انمٹ داستان رقم ہوئی تھی۔ میرا عقیدہ ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے ایک بار جنم لینا تھا لیکن یزید بار بار جنم لیتا رہے گا، کیونکہ اس کے نصیب میں بار بار رسوائی لکھی ہوئی ہے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے جان نثاروں کی قربانی انسان کے عظمت کردار کی ایک ناقابل فراموش گواہی بن کر ابد تک مینارہ نور رہے گی۔ جبکہ یزید کے حصے میں جو رسوائی آئی اس کے نقوش بھی رہتی دنیا تک تاریخ انسانی کے سینے پر ثبت رہیں گے اور ہر دور کا یزید بالآخر دائمی ہزیمت سے دوچار ہو گا۔
امام عالی مقام اور خانوادہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم قربانی آج بھی مصحلت کوش دنیاداروں کو حیران کرتی ہے انہیں یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ یزید کی ایک معمولی سی خواہش پوری کر دینے سے جب پورے قافلے کی جانیں بچ سکتی تھیں، تو حضرت امام حسین نے ایسا کیوں کیا؟ ہم جس دنیا میں جی رہے ہیں اس میں اصول پرستی اور سچائی کی اہمیت نہیں رہی، بلکہ اس کی جگہ ڈپلومیسی نے لے لی ہے۔ ڈپلومیسی درحقیقت منافقت کا دوسرا نام ہے۔ حضرت امام حسین نے تو جان تک بچانے کے لئے یزید کی بیعت نہیں کی تھی، موجودہ عہد میں تو اقتدار بچانے کے لئے یزید وقت کی بیعت سے انکار نہیں کیا جاتا۔ اگر تاریخ انسانی کے دامن میں کربلا والوں کی قربانی نہ ہوتی تو آج انسانیت یکطرفہ طور پر ایک گھٹیا نظریہ حیات کی مالک ہوتی، مگر اس عظیم قربانی کے باعث انسانیت اور حیوانیت کے درمیان ایک ناقابل تنسیخ لائن کھینچ دی گئی ہے۔ جس کے ذریعے قیامت تک حق و باطل میں تمیز کرنا بہت آسان ہو گیا ہے۔
حضرت امام حسین اور خانوادہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ قربانی نہ کسی وقتی فیصلے کا نتیجہ تھی اور نہ تاریخ کے پاس اس سے پہلے اور نہ واقعہ کربلا کے بعد کوئی ایسی قربانی ہے جس کے ذریعے اس عظیم نظریے کو زندہ رکھنے کے لئے رہنمائی ملتی ہو جسے حق کے لئے کٹ مرنے کا نام دیا جاتا ہے۔ فوری اور وقتی فیصلے بھی صرف جان بچانے کے لئے کئے جاتے ہیں جان دینے کے لئے نہیں۔ جان دینے کے لئے تو مصمم ارادے اور دائمی جذبے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس قربانی میں تو فنا فی الذات ہونے کا عمل پیش نظر تھا۔ جب کوئی ہستی اپنی ذات سے بالاتر ہو کر اللہ تعالٰی کی خوشنودی اور اپنے نظریے کی حفاظت کے لئے جان نثاری کا راستہ اختیار کرتی ہے تو اس کا عمل سوائے کربلا والوں کے اور کسی کے مماثل نظر نہیں آتا۔
یزید حضرت امام حسین اور اس کے جان نثاروں کو شہید کر کے کتنے برس جی لیا یا حضرت امام حسین وقتی مصحلت کی خاطر یزید کے ہاتھ پر بیعت کر کے مزید کتنے برس جی لیتے، چاہے کتنے ہی برس جی لیتے لیکن آج ہمارے دلوں میں محبت و عقیدت کا سرچشمہ بن کر موجود نہ ہوتے، دوسری طرف یہ بھی نہ ہوتا کہ یزید ہمارے دلوں میں نفرت کا استعارہ بن کر اسی طرح معتوب کردار ہوتا، جیسا کہ اب ہے۔ اس سے دو باتیں ظاہر ہوتی ہیں اول یہ کہ حضرت امام حسین نگاہ بصیرت سے مالامال تھے اور دوسرا یہ کہ یزید کوتاہ نظر تھا۔ حضرت امام حسین کو اپنے قافلے والوں کے کٹے ہوئے سروں کی فکر نہیں تھی بلکہ فکر یہ تھی کہ جس دین کی حفاظت کا بار ان کے کاندھوں پر آن پڑا ہے اس کوئی نقصان نہیں پہنچنا چاہیے، وہ اپنے فیصلے کو کربلا کی زمین تک محدود نہیں رکھ رہے تھے بلکہ ان کی نظر آنے والے زمانوں پر تھی۔ وعدہ معاف گواہوں، لوٹوں، وفاداریاں تبدیل کرنے والوں اور امریکہ کی گیڈر بھبھکیوں سے ڈر کر بزدلانہ فیصلوں کے جس دور میں ہم زندہ ہیں اس میں حضرت امام حسین کے اس فیصلے کی آسانی سے سمجھ نہیں آتی۔ اس میں دنیاداروں کے اندر رہ رہ کر یہ سوال سر ابھارتا ہے کہ کربلا میں یزید کی اطاعت قبول کر کے حضرت امام حسین نے اپنی جان کیوں نہ بچائی اور یزید سے بدلہ لینے کے لئے کسی مناسب وقت کا انتظار کیوں نہ کیا؟ اگر خدانخواستہ حضرت امام حسین ایسا کر گزرتے تو آج انسانی تاریخ کے دامن میں کچھ بھی نہ ہوتا۔ حضرت امام حسین نے قربانی دیکر نہ صرف اپنے عظیم المرتبت نانا کے دین کی لاج رکھی بلکہ انسانیت کو بھی ندامت اور شرمندگی سے بچا لیا۔
آج اگر کمزروں کی طرف سے وقت کے یزیدوں کے خلاف مزاحمت جاری ہے تو اس کا درس بھی واقعہ کربلا نے دیا ہے یہ قربانی نہ ہوتی تو دنیا میں یزید غالب آ چکا ہوتا۔ ہر دور میں اس کی بیعت کرنے والے دست بستہ اس کے سامنے جھک جاتے۔ یہ حضرت امام حسین کی عظیم قربانی کی ہی اعجاز ہے کہ یزید چودہ سو سال پہلے بھی شرمندہ تھا اور آج کا یزید بھی بظاہر فتح یاب ہونے کے باوجود شرمندگی سے دوچار ہے۔ واقعہ کربلا کا یہ پیگام بھی دائمی ہے کہ ہر دور کا یزید طاقت کے لحاظ سے برتر ہو گا۔ مگر اس کی اخلاقی اور اصولی طاقت حسینیت کے پیروکاروں کی نسبت انتہائی کمتر ہو گی۔ وہ اپنی طاقت کے بل بوتے پر ممکن ہے فتوحات حاصل کر لے مگر وہ اپنے مخالفین کو سر جھکانے پر مجبور نہیں کر سکے گا۔ آج ملت اسلامیہ کے مقابلے میں وقت کا یزید کون ہے؟ ظاہر ہے یہ کردار تقدیر نے امریکہ کو سونپ دیا ہے لیکن قابل غور نکتہ یہ ہے کہ وہ زمینوں اور ملکوں کو فتح کرنے کے باوجود مسلمانوں کو اپنی بیعت پر مجبور نہیں کر سکا۔ سر کٹانے والے اس کے سامنے کسی بھی حالت میں سر جھکانے کو تیار نہیں۔ آج نہیں تو کل یزید وقت نے بھی اسی ذلت و خجالت سے دوچار ہونا ہے جو اصل یزید سے لیکر اس کے پیروکار یزید وقت کا مقدر رہنی ہے۔ یہی واقعہ کربلا کا پیغام ہے جو کل بھی سچ تھا، آج بھی سچ ہے اور آنے والے کل میں بھی اسی طرح سچ ہو گا۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

اچھی خبر

کیا کسی کو یاد ہے کہ پاکستانی عوام کو آخری بار اچھی خبر کب سننے کو ملی تھی؟

یہ سوال لاہور میں تازہ مبینہ خودکش حملے کی خبر سننے کے بعد ذہن میں آیا۔ ذہن پر کافی زور دیا، ساتھیوں سے دریافت کیا تاہم جواب کسی کو سمجھ میں نہ آیا۔


کچھ دوستوں نے تو طنزیہ طور پر بات قیام پاکستان تک پہنچا دی۔ خیر ملک بننے کے بعد بہت کچھ یقیناً اچھا بھی ہوا ہے لیکن گزشتہ ایک ڈیڑھ برس میں حالات انتہائی دگرگوں ہوئے ہیں۔


سیاسی طور پر اگر دیکھا جائے تو اچھی خبروں میں شاید پیپلز پارٹی کی سربراہ بےنظیر بھٹو اور مسلم لیگ کے رہنماء نواز شریف کی وطن واپسی، معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی گزشتہ برس جولائی میں بحالی یا پھر جنرل مشرف کا ریٹائرڈ جنرل مشرف میں تبدیل ہونا شامل ہیں۔ لیکن بحثیت قوم متفقہ خوشی کے بارے میں سوال پھر سوال ہی رہا۔


اس کے مقابلے میں لوگ ہلاکتوں کی تعدادگن گن کر، صحافی خودکش حملوں کا پس منظر تلاش کرتے کرتے اور تحقیقاتی ادارے ان حملہ آوروں کے سر اکٹھے کرتے کرتے یقیناً تھک گئے ہوں گے۔ لیکن سلسلہ ابھی تھما نہیں۔


جمعرات کی بری خبر لاہور سے آئی۔ انیس پولیس والے اور کئی عام شہری جان کھو بیٹھے ہیں۔


حکومت کے لیے تو یقیناً ایک اور آسان راہ فرار شاید قبائلی علاقوں میں موجود شدت پسندوں پر الزام ڈال دینا ہو لیکن آج تک یہ واضع نہیں ہوسکا کہ ان تمام حملوں کے ذمہ دار صرف وہی ہیں یا کچھ اور وجہ بھی ہے۔


یہ دعویٰ کہ ہر حملہ قبائلی شدت پسندوں کی ہی کارروائی ہے، ہضم کرنا روز مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے واضع حقائق اور ثبوت سامنے نہ لانے سے شکوک و شبہات اپنی جگہ قائم ہیں۔


ایسے میں صدر پرویز مشرف کہتے ہیں کہ ذرائع ابلاغ کو اچھی اچھی باتیں بتانی چاہئیں، لوگوں میں ناامیدی نہیں پھیلانی چاہیے۔ ایسی اچھی خبر آخر میڈیا کہاں سے لائے۔ خود فرضی طور پر بنائے؟


اختتام برس حالات ایسے تھے کہ اچھے سال کی امید نہیں کی جاسکتی تھی۔ پہلے دس دن پر نظر ڈالیں تو حالات میں بظاہر کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی۔ایسے میں امید کس چیز کی کرنی چاہیے؟


یقیناً اچھی خبر کی جس کا امکان کم ہی دکھائی دے رہا ہے۔


 


مکمل تحریر اور تبصرے >>>

سائبر کرائم آرڈیننس

روزنامہ جنگ کی خبر کے مطابق سائبر کرائم آرڈیننس نافذکر دیا گیا ہے جو  دسمبر 2007ء سے نافذ العمل ہوگا۔ اس سلسلے میں نگران وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈاکٹر عبداللہ ریاڑ نے کہا ہے کہ سائبر کرائم آرڈیننس نافذکر دیا گیا ہے جس کے تحت سنگین نوعیت کے جرائم کمپیوٹر سے ایٹمی اثاثہ جات کو ہیک کر کے نقصان پہنچانے، دہشت گردی اور فراڈ سمیت موبائل فون کے ذریعے کال یا ایس ایم ایس کے ذریعے جرائم پر زیادہ سے زیادہ موت کی سزا دی جا سکے گی،انٹرنیٹ اور موبائل فون کے ذریعے دھمکی آمیز پیغامات بھی جرائم میں شامل ہوں گے۔ سائبر کرائم کی سماعت کیلئے 7 رکنی ٹربیونل اگلے ماہ قائم کر دیا جائے گا اورجن ممالک کے ساتھ معاہدہ موجود ہے، ان سے سائبر کرائم کے مرتکب مجرمان کا تبادلہ کیا جا سکے گا۔ جوہری اثاثہ جات، آبدوزوں، طیاروں کے کمپیوٹرائزڈ سسٹم کو ہیک کر کے نقصان پہنچانے سمیت سنگین نوعیت کی دہشت گردی پر موت کی سزا دی جا سکے گی جبکہ 18 نوعیت کے مقدمات کا احاطہ کیا گیا جن پر ٹربیونل سزائیں دے سکے گا۔ ان جرائم کی تشریح بہت وسیع ہے جس میں سائبر سے متعلق تمام نوعیت کے جرائم کا احاطہ ہو جاتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ جن جرائم کی ٹربیونل سماعت کریگا، ان میں کمپیوٹر کے ذریعے کسی دوسرے کے کمپیوٹر تک رسائی، ڈیٹا تک رسائی، ڈیٹا کو نقصان پہنچانا، سسٹم کو نقصان پہنچانا، آن لائن فراڈ کرنا جن میں جعلی اے ٹی ایم کارڈز کے ذریعے رقوم نکلوانا اور دوسروں کے کارڈز کے کوڈ استعمال کرنا، الیکٹرونک سسٹم یا آلات کا غلط استعمال، کمپیوٹر اور دیگر آن لائن آلات کے کوڈ تک غیر قانونی رسائی حاصل کرنے، اینکرپشن کا غلط استعمال، کسی کا کوڈ بدنیتی کی بنا پر استعمال کرنا، سائبرا سٹاکنگ، اسپامنگ، اسپوفنگ، بلااجازت مداخلت کرنا، سائبر دہشت گردی میں شامل ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ ریاڑ نے کہا کہ دنیا بھر کے 41 ممالک میں سائبر کرائمز قوانین نافذ ہیں پاکستان 42 واں ملک بن گیا ہے جبکہ اس قانون پر عملدرآمد کیلئے 60 سے زیادہ ممالک سے تعاون حا صل کیا جاسکے گا۔ ایف آئی اے کا سائبر کرائمز ونگ اس قانون کے تحت مقدمات کا اندراج تحقیقات اور پیروی کی ذمہ داری نبھائے گا۔ سینئر مشیر شریف الدین پیرزادہ کی سربراہی میں کمیٹی نے سفارشات پیش کی ہیں ان کی روشنی میں سات رکنی انفارمیشن کمیونیکشن ٹربیونل قائم ہوگا جس میں سیشن جج کی سطح کے ارکان ہونگے۔ ٹربیونل کے فیصلوں کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی جاسکے گی جبکہ سپریم کورٹ میں ایسے مقدمات کی سماعت کا نظام وضع کیا جائیگا جو ایک ماہ کے اندر قائم کر دیا جائیگا۔ صدر پرویز مشرف کے حکم پر سائبر کرائمز آرڈیننس 31 دسمبر 2007ء سے نافذ العمل ہوگا۔ وفاقی وزیر عبداللہ ریاڑ نے بتایا کہ جرائم میں کمپیوٹرز کے ذریعے معلومات ڈیٹا چوری کرنا ویب سائٹس کو نقصان پہنچانا اور خفیہ دستاویزات تک رسائی جیسے جرائم شامل ہیں۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

معمہ

ہمارے صدر صاحب معمے حل کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے، پہلے بھی وہ قوم کی رہمنائی کے لئے نت نئے نسخے فراہم کرتے رہے ہیں، کچھ عرصہ پہلے ہی کی تو جب ہے جب پوری قوم ٹماٹر مہنگے ہونے کی وجہ سے پریشان تھی تو صدر صاحب نے قوم کی پریشانی کو اپنی بے پناہ ذہانت سے سیکنڈوں میں حل کر دیا اور ارشاد فرمایا کہ اگر ٹماٹر مہنگے ہیں تو دہی استعمال کی جائے۔
اس کے کچھ عرصہ بعد مختاراں مائی کیس اور اُس کے بعد شروع ہونے والے گینگ ریپ کے سلسلے میں صدر صاحب نے اپنے جاسوسوں کے ذریعے فوراََ معلوم کر لیا کہ ایسا کس وجہ سے ہو رہا ہے، ارشاد فرمایا کہ اگر آپ باہر جانا چاہتے ہیں یا آپ کو کیینڈا کا ویزا اور شہریت چاہیے اور آپ کروڑ پتی بننا چاہتے ہیں تو خود کو ریپ کروالیں، یعنی یہ سارا باہر جانے کا بکھیڑا تھا۔
٢٧ دسمبر کی منحوس شام میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے ہونے والے قتل کے سلسلے میں جہاں پوری قوم غم سے نڈھال ہے، وہاں حکومت وقت بظاہر شہادت کی تحقیات میں مصروف نظر آتی ہے، یہاں تک کہ اسکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم بھی یہاں پہنچ کر محدود اختیارات کے ساتھ اپنی تحقیات کا آغاز کر چکی ہے ‘مگر‘ ہمارے صدر صاحب نے یہ مشکل معمہ بھی صدر ہاؤس میں بیٹھے بیٹھے حل کر لیا، اور ایک بار پھر ارشاد ہوا کہ ‘ہ گاڑی میں کھڑے ہونے سے قتل کی ذمہ دار بینظیر خود ہیں کوئی اور نہیں‘ اللہ اللہ خیر صلا
پیپلز پارٹی خوامخواہ حکومت پر الزام تراشی کر رہی کہ حالانکہ انہیں اتنی آسان بات سمجھ جانی چاہیے۔ صدر صاحب کے اس بیان پر جنگ کے معروف کالم نگار جناب ارشاد حسین حقانی صاحب لکھتے ہیں کہ  صدر کے اس ارشاد کی روشنی میں نہ صرف بینظیر کیس بلکہ کئی دیگر تاریخی معمے بھی” حل“ ہوگئے ہیں۔ مثلاً کہا جاسکتا ہے کہ خلیفہ راشد حضرت عمر بن خطاب اگر نماز فجر کے لئے مسجد جانے سے مستقل پرہیز کرتے تو کبھی بھی ایرانی غلام ابولولو فیروز کے خنجر کا شکار نہ ہوتے۔ حضرت علی نے اس واقعہ کے باوجود احتیاط نہ برتی اور محافظوں کے بغیر مسجد جاتے رہے۔ ظاہر ہے انہیں ایک نہ ایک روز ابن ملجم کے زہر میں بجھے خنجر کا نشانہ تو بننا ہی تھا۔ لیاقت علی خان کو کیا سوجھی کہ١٦اکتوبر١٩٥١ ء کو راولپنڈی کے کمپنی باغ میں بھرے جلسے سے خطاب کے شوق میں سید اکبر کے ریوالور کے سامنے آگئے۔ ضیاء الحق کو کس حکیم نے مشورہ دیا تھا کہ وہ سی١٣٠طیارے میں سفر کریں۔ شاید اسی لئے آج تک ان کی موت کا ذمہ دار خود انہیں سمجھا جاتا ہے۔ چھ ماہ قبل سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار حماد رضا اگر اپنے ہی گھر کے بیڈ روم میں سونے سے پرہیز کرتے تو آج ہمارے درمیان ہوتے۔ خود صدر مشرف کو ١٤دسمبر٢٠٠٣ء کو راولپنڈی کے جھنڈا چیچی پل پر سے گزرنے کی کیوں ضرورت پڑی۔ اگر پل کے ساتھ ساتھ خدا نخواستہ ان کی گاڑی بھی اڑ جاتی تو ذمہ دار کون ہوتا۔ لگتا ہے صدر مشرف کو اس وقت کسی نے یہ بتانے کی جرات نہیں کی کہ غلطی آپ کی ہے، ورنہ اس حملے کے دس روز بعد ٢٥دسمبر کو سڑک پر نکل کر دوسرے خود کش حملے کی زد میں نہ آتے۔ حیرت ہے صدر کی غلطی پکڑنے کے بجائے تحقیقاتی ایجنسیوں نے آٹھ افراد کو نہ صرف پکڑا بلکہ کورٹ مارشل کے ذریعے ان میں سے پانچ کو سزائے موت اور تین کو سزائے قید بھی سنادی گئی، لیکن اب جبکہ صدر پرویز مشرف اس نتیجے پر پہنچ ہی گئے ہیں کہ بینظیر بھٹو کا قتل خود بینظیر کی غلطی کے سبب ہوا ہے تو یہ بحث فضول ہے کہ انہیں بیت اللہ محسود نے مارا ، کسی ایجنسی کا شکار ہوئیں یا اپنوں کی بھینٹ چڑھ گئیں۔ صدر کو چاہئے کہ سکاٹ لینڈ یارڈ کی ٹیم کو بھی اب جلد از جلد روانہ کردیں تاکہ قوم اور قومی خزانہ اور زیر بار نہ ہوں۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

نیو ائیر ایس ایم ایس

٢٠٠٧ء اپنی تمامتر حشرسامانیوں کے ساتھ ختم ہو اور ٢٠٠٨ء سر پہ آن پہنچا، اس موقع کے حوالے سے دو ایس ایم ایس حاضر ہیں۔



1-



I
Am
Coming
To
Your
House
To
Give
U
All
Types
of
Happiness
And
Joy
Plz
Wellcome
Me
After
1Day
Know
I
Am

Your’s


****2008****

”HAPPY NEW YEAR”






2-





Tring Tring!
hello
Inbox kholo
Ap k liey Phool bhijay Hain


…;…;…@
…;…;…@
…;…;…@


Jo ap ko kehnay aaye hain

”HAPPY NEW YEAR


مکمل تحریر اور تبصرے >>>

بلاگر حلقہ احباب