مروا دیا آپ کی رجائیت پسندی نے مروا دیا
ہم آپ کے مداح اور قارئین آپ کے کالم پڑھ کر یہ سمجھنے لگے تھے کہ مشرف کے منظر سے ہٹتے ہی خوش منظر سویرا ہوگااور سفینہ غم دل ساحل مراد پر لنگرانداز ہو جائے گامگر معاملہ منیر نیازی کے شعر کی طرح نکلا… ایک اور دریا کا سامنا تھا منیرمجھ کو۔ہم لوگ مشرف کے بعد کا منظر نامہ نہ دیکھ سکے۔ نہ صرف یہ کہ مشرف کو Scotfree چھوڑ دیا گیا بلکہ اس کی جگہ جو ذات شریف تخت طاؤس پر متمکن ہوئی ہے۔ اس کے خیال سے خوف آتا ہے کیا صدر پاکستان کا آفس اس قدر بے توقیر ہوگیا ہے کہ اس میں سیاسی مسخرے بیٹھا کریں گے؟
رشک سے بھارت کو دیکھتا ہوں، جہاں رادھا کرشنن اور ذاکر حسین خان جیسے عظیم المرتبت خدام وطن نے اس کرسی کو رونق اور عزت بخشی جبکہ ہمارے ملک میں کبھی مفلوج غلام محمد، مردود یحییٰ خان یا مجبور فضل الٰہی اس آفس کوبے وقار کرتے رہے۔ لگتا ہے پیپلز پارٹی کی قیادت اندھی اور گونگی ہوگئی ہے جسے صدارت کے لئے اعتزاز احسن نظر آئے نہ رضا ربانی۔
پیپلز پارٹی پر قبضہ جمانے کے بعد زرداری نے سب سے پہلے دونوں مخدوموں کو چت Out smart کیا، پھر مشرف والی کرسی پر قبضہ کرنے کے لئے الطاف حسین کی پارٹی سے مل کر ایک Un Hoby Alliance بنا لیا۔ امامت کے لئے انہوں نے ایسے مولانا کو منتخب کیا جو سیاسی بلیک میلنگ کے امام ہیں۔ اس ٹرائیکا کے کارناموں کو دیکھ کر لوگ مشرف کو بھول جائیں گے پاکستان کی زمین میں پوشیدہ خزانوں کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے اس قدر لوٹ مار کے باوجود ختم ہونے میں نہیں آرہے۔ کیا زیر زمین دولت کا دریا اُبل رہا ہے؟ لیکن یہ ٹرائیکا اس سونے کا انڈہ دینے والی مرغی کو ذبح کرکے ہی دم لے گا اور ہم آپ کے مداحین و قارئین آپ کے لئے عمر خضر کی دعا مانگیں گے۔ تاکہ آپ تا قیامت سچی جمہوریت کے قیام کے لئے کالم لکھتے رہیں۔
پاکستان کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں نہ کبھی آئین نافذ رہا نہ آئین کے تحت بننے والے اداروں (پارلیمینٹ، عدلیہ، الیکشن کمیشن) کو تسلسل اور آزادی سے کام کرنے کی اجازت دی گئی۔ آئین روح اور ادارے اعضائے رئیسہ کی مانند ہوتے ہیں۔ پاکستان اس لحاظ سے ایک سیاسی معجزہ ہے کہ روح اور اعضائے رئیسہ کے بغیر ہی چل رہا ہے۔ گو نمائش کے لئے یہ ادارے موجود ہوتے ہیں لیکن ان کی کنپٹی پر پستول رکھ کر یا چمک دکھا کر ان سے مرضی کے مطابق فیصلے (یا فتوے) حاصل کرلئے جاتے ہیں۔ وزیراعظم پارلیمینٹ کو خود مختار بنانے کے دعوے کرتے رہتے ہیں لیکن جانتے ہیں کہ پارلیمینٹ سے باہر بیٹھیں ہوئی طاقتوں کی موجودگی میں پارلیمینٹ کو خود مختار نہیں بنایا جاسکتا۔ اخبار والے اشاروں اشاروں میں ان طاقتوں کو AA کہتے ہیں (یعنی آرمی اور ا مریکہ)۔ اس کے علاوہ ایک طاقت اور بھی ہے وہ سیاسی کھلاڑی جن کے پاس زر کے بڑے بڑے انبار ہیں، جنہیں دیکھ کر ممبران پارلیمینٹ کی آنکھیں خیرہ ہو جاتی ہیں، یہ تینوں طاقتیں ایک پاور فل الیکٹرومیگنیٹ کی طرح پارلیمینٹ پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ پارلیمینٹ کی آزادی جو عوام کی امنگوں اور خواہشوں کا دوسرا نام ہے ایک موہوم خواب کی طرح تعبیر کی تلاش میں بھٹکتی رہتی ہے۔
اس وقت ملک میں زبردست سیاسی اور معاشی بحران ہے، سماجی افراتفری ہے، بے یقینی ہے Confusion ہے۔ ملک کے حالات تیزی سے بے قابو ہوتے جا رہے ہیں۔ بیڑہ تباہی کے قریب آن لگا ہے یعنی ٹائی ٹینک چٹانوں میں گھرگیا ہے۔ اب پھر کوئی طالع آزما، سفاک مسیحا، یا عصا بردار موسیٰ کے روپ میں آن دھمکے گا سانپ اور سیڑھی کا کھیل پھر شروع ہوجائے گا۔ یعنی گردش تیز تر اور سفر آہستہ۔
محترم حقانی صاحب! لگتا ہے گلشن کا کاروبار یونہی چلتا رہے گا اور یہ چمن یونہی رہے گا۔ اجڑا، اجڑا، دنیا جہاں کے جانور یہاں چرتے پھریں گے۔
ہم احمقان چمن ہر روز جیئں گے، ہر روز مریں گے۔ گھبرا گھبرا کے کہا کریں گے: مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے؟ البتہ دانشمندان چمن اپنے آئینہ ادراک میں بہت کچھ دیکھ رہے ہیں۔
اے حکمرانو! اے طبقہ اعلیٰ کے لوگو!
ڈرو اس وقت سے… پڑیں گے جب جان کے لالے… اور کوئی نہ ہوگا جو بچالے۔
خیر اندیش…عادل اختر، راولپنڈی
کالم ۔ ارشاد احمد حقانی

0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔