بلاگ پہ آمد کا بہت بہت شکریہ
Showing posts with label سیاست. Show all posts

پاکستانی طوائف

‎(پیشگی معذرت) تصویر پیج پالیسی سے ہٹکر ہے۔ لیکن یہ تصویر پاکستانی حکومت اور بہادُر پاک فوج کی صحیح عکاسی کررہی ہے۔ ایک دوست نے یہ ٹیگ کردیا تھا اب یہ آپ کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے۔ 

نیٹو سپلائی کھلنے کے اشارے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امریکہ ڈالر دینے پر تیار اور ہمارے حکمران و جرنیل طوائف کی طرح کچھ نخرے کرنے کے بعد دوبارہ بکنے کے لیے دستیاب ۔

پشتو زبان کا محاورہ ہے۔ کہ

 ووگے سل کالہ مڑیگی نہ
  او موڑ سل کالہ ووگے کیگی نہ
 ترجمہ ( بھوکی پیٹ سو سال میں بھرتی نہیں ۔ اور بھری پیٹ سوسال میں خالی ہوتی نہیں ) 

اصل میں یہ محاورہ پاکستانی ارباب اختیار پر پورا آتا ہے۔

بمینو سنیما کے چوری کے ٹکٹ پر پلنے والا زرداری تو یہ کرےگا۔ چاہے اسکو قارون کے خزانے بھی دے دیئے جائیں۔ اسکی پیٹ نہیں بھریگی ۔۔ لیکن سوال اٹھتا ہے ۔ بہادر فوج کے سپہ سالار پر۔

ایک معافی اور 24 جوان ۔۔۔ معافی غلطی پر مانگی جاتی ہے۔ جبکہ زلیل ابلیس نیٹو نے پاکستانی بھادر فوج  کو ۔۔۔۔۔۔۔

آجکل تو افغانیوں نے بھی حملے شروع کردیئے ہیں۔ اور بھی پاکستانی فوج کو سرحد پار لیجاکر زبح کرتی ہے۔ اور پھر ویڈیو یوٹیوب پر جاری کرلیتی ہے۔ تو کل کو وہ بھی صرف معافی پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیونکہ انکے کمر پر بھی تو امریکہ بہادر ہے۔

( اگر کسی کو اس سے کوئی تکلیف پہنچی ہوں تو ہم ان سے معزرت چاہتے ہیں )
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

سات شہزادوں کی کہانی

سات شہزادوں کی کہانی 
اس تصویر میں سات شہزادے ہیں۔ یہ تمام شہزادے دو مختلف ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔


تصویر نمبر 1 میں نظر آنے والے شہزادے کا تعلق برطانیہ سے ہے۔ یہ برطانیہ کے شاہی خاندان کا چشم و چراغ ہے۔ اس کا ملک حالت جنگ میں نہیں لیکن اس کے ملک کا ایک اور ملک ارجنٹائن کے ساتھ تنازع چل رہا ہےیہ اپنی خوشی سے اس سال کے شروع میں محاذ جنگ پر پہنچا۔ 6 ہفتے وہاں تعینات رہا۔ خود ہیلی کاپٹر اڑا کر اپنے وطن کے فوجیوں کے ساتھ میدان جنگ میں شامل ہوا۔

تصویر نمبر 2 میں نظر آنے والے شہزادے کا تعلق بھی اول الذکر شہزادے کے ساتھ ہے، یہ اس کا چھوٹا بھائی ہے۔ اس نے بھی سخت فوجی ٹریننگ حاصل کی اور سنہ 2007ء میں اپنے وطن کے 9500 فوجیوں کے ساتھ افغانستان کے میدان جنگ میں 10 ماہ تک اپنی خوشی سے تعینات رہا۔ وہاں اگلے مورچوں پر جنگ لڑتا رہا۔ 10 ماہ بعد اسے زبردستی واپس بلا لیا گیا۔ اب بھی اس کا کہنا ہے کہ وہ جلد از جلد دوبارہ افغانستان جا کر اپنا مشن مکمل کرنا چاہتا ہے۔
کیا اس کے بغیر اس کے ملک کے فوجی جنگ لڑنے سے انکاری تھے؟
ہرگز نہیں ، وہ صرف دکھانا چاہتا تھا کہ وطن کی خاطر عیش بھری زندگی کو قربان کر سکتا ہے۔

باقی پانچ شہزادوں کا تعلق ایک ملک پاکستان سے ہے۔ جو اس وقت حالت جنگ میں ہے اور چاروں طرف سے دشمنوں سے گھرا ہوا ہے۔ اس ملک پر آئے دن ڈرون حملے ہوتے ہیں، خود کش حملے جہاں کا معمول ہیں، جس کی فوج کے ہزاروں جوان جامِ شہادت نو ش کر چکے ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے کی بات ہےکہ اس ملک کے سینکڑوں فوجی جوان سلالہ چیک پوسٹ حملے میں شہید کر دیئے گئے۔ کسی شہزادے کے دل میں اپنے وطن کے سرفروشوں کے لئے درد کی لہر نہ اٹھی۔ کچھ ہی دنوں بعد 139 فوجی جوان گلیشئر کے نیچے دب کر شہید ہو گئے۔ لیکن ۔۔۔۔ کسی شہزادے کو اپنے عیش و آرام سے اتنی فرصت نہ ملی کہ جا کر اس جائے حادثہ کا دورہ ہی کر سکتا ۔
 ان کا تعلق کسی شاہی خاندان سے تو نہیں۔۔۔لیکن ٹھاٹ کسی بھی شاہی خاندان سے زیادہ ہیں۔ ان کی زندگی کا مقصد وطن کی خاطر جان قربان کرنا نہیں بلکہ صرف اقتدار اور پیسہ ہے۔

یہ سب کچھ دیکھ کر مجھے بتایئےکہ کیا آپ کا رب سے شکوہ کرنا مناسب ہےکہ وہ اس امت پر مہربان نہیں ہے؟
اور کیا اس ملک پر کوئی ڈرون حملے کی جرات کر سکتا ہےجس کے شاہی خاندان کے نوجوان اپنی آزادی کی حفاظت کے لئے جان تک دینے کو تیار ہوں؟   از دیوانہ مجنوں

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

آپ کا فیورٹ وزیراعظم کون سا ہے؟


آپ کا فیورٹ وزیراعظم کون سا ہے؟
01۔ لیاقت علی خان
02۔ شیخ خواجہ ناظم الدین
03۔ محمد علی بوگرہ
04۔ چوہدری محمد علی
05۔ حسین شہید سروردی
06۔ ابراہیم اسماعیل چندریگر
07۔ سید فیروز خان نون
08۔ نورالامین
09۔ ذوالفقار علی بھٹو
10۔ محمد خان جونیجو
11۔ محترمہ بے نظیر بھٹو
12۔ غلام مصطفٰی جتوئی
13۔ میاں نواز شریف
14۔ بلخ شیر مزاری
15۔ میاں نواز شریف
16۔ معین الدین احمد
17۔ محترمہ بے نظیر بھٹو
18۔ ملک معراج خالد
19۔ میاں نواز شریف
20۔ ظفراللہ خان جمالی
21۔ چوہدری شجاہٹ حسین
22۔ شوکت حسین
23۔ محمد میاں سومرو
24۔ یوسف رضا گیلانی
یا اپنے موجودہ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف صاحب۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

عزمِ عالی شان

یہ نورا کشتی پہلے سیاست کا خاصا تھی اب میڈیا والوں نے بھی اسکو اپنا لیا ہے۔ خدا غارت کرے ان منافقوں کو۔
کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ جب ایک طوائف فروخت ہوتی ہے تو اس کا صرف جسم بکتا ہے لیکن جب ایک صحافی کا قلم فروخت ہوتا ہے تو اس کے ساتھ پوری قوم بکتی ہے۔


یہ زمیں خریدوں گا، آسماں خریدوں گا
آسماں کے سینے پر اپنا نام لکھوں گا
مے کدہ خریدوں گا، گل ستاں خریدوں گا
گل ستاں کے چہرے پر اپنا نام لکھوں گا

عزم عالی شاں میرا، ہاتھ آہنی میرا
راگ آہنی میرا، ساز آہنی میرا
اپنے ساز کی دھن پر سب کو میں نچاؤں گا
عزم عالی شاں میرا

کس جہاں میں رہتے ہو، خواب دیکھتے ہو تم
ریت کی لکیروں پر آشیاں بناتے ہو تم
پائمال راہوں کو رَہ نما بناتے ہو
کُہنہ ضابطوں کو تم پاس باں بناتے ہو
کس جہاں میں رہتے ہو، خواب دیکھتے ہو تم

ہر اصول کی قیمت میری جیب کے اندر
ہر قماش کے پتے میری جیب کے اندر
چیخنے سے کیا حاصل، رینگنے سے کیا حاصل
اس جہاں میں پیارے، ہر کوئی بکاؤ ہے
مال و زر  کی منڈی میں زندگی بکاؤ ہے
ضابطے خریدوں گا، آئینے خریدوں گا
آئینوں کی دھڑکن کے سلسلے خریدوں گا
کون سی ہے شے جس کے دام لگ نہیں سکتے
ہر ضمیر بکتا ہے، ہر خمیر بکتا ہے

میں قلم خریدوں گا، عدلیہ خریدوں گا
آدمی خریدوں گا، فیصلہ خریدوں گا
یہ زمیں خریدوں گا، آسماں خریدوں گا
آسماں کے سینے پر اپنا نام لکھوں گا
پاک سر زمیں میری، عزم عالی شاں میرا
احفاظ الرحٰمن





Malik Riaz Planted Interview with Mehar Bukhari and Mubashir Lukman on Dunya TV - Part 01

Malik Riaz Planted Interview with Mehar Bukhari and Mubashir Lukman on Dunya TV - Part 02

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

جئے بھٹو

سندھی بچہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی تقریر کرتے ہوئے

Child Is Doing Speech Of Benazir Bhutto ( Must See This Video )
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

صرف پندرہ سیکنڈ


جب یہ جواب آیا "تو سب لوگ پاکستان چھوڑ کے چلے کیوں نہیں جاتے" تو سی این این کی انتہائی حاضر دماغ اینکر "بیکی انڈرسن" کی زبان، چہرے پر حیرت اور نفرت کے ملے جلے جذبات کے ساتھ بند ہو گئی۔
تو سبھی سوچ رہے تھے کہ مسٹر گیلانی کو شاید احساس ہوا ہو اور اب وہ اپنی بات میں تھوڑی اصلاح کریں گے تو پاکستانی قوم کے زخمی چہرے پر ایک اور زناٹے دار تھپڑ رسید ہوا اور الفاظ کچھ یوں ادا ہوئے۔
"انہیں روکا کس نے ہے"
صرف پندرہ سیکنڈ میں پوری قوم کی غیرت اور عزت، قائد کا مان، بوڑھوں کی قربانیاں، اور بحثیت پاکستانی، ہماری پہچان اور پہلے دنیا میں یتیم اس امت محمدی کی سادگی پر ایک طمانچہ رسید ہوا جس کا نشان تو شاید مٹ جائےپر اس کا زخم مدتوں تازہ رہے گا۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

پاکستانی ملک چھوڑ کیوں نہیں دیتے ۔ گیلانی

 پاکستانی ملک چھوڑ کیوں نہیں دیتے ۔ گیلانی
وزیراعظم گیلانی کا امریکی ٹی وی سی این این کو دیا گیا حالیہ انٹرویو جس میں انہوں نے قوم کو یہ نیک مشورہ دیا۔

کوئی پاکستانی پاکستان نہیں چھوڑے گا، گیلانی صاحب اس قوم پر احسان کریں آپ ہی پاکستانیوں کی جان چھوڑ دیں۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

چاچا جی زندہ باد


پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نے عوام کی دل کھول کر خدمت کی ہے۔ کھانے پینے کی چیزیں انتہائی سستی ہو گئی ہیں، کھا کھا کر عوام کو موشن لگ گئے ہیں۔
سوئی گیس اور بجلی کے بل بہت سستے ہو گئے ہیں، بل کو پڑھ کر عوام ڈانس کرتے ہیں، زرداری زندہ باد کا نعرہ لگاتے ہیں۔
آئندہ بھی مسلم لیگ اور پی پی پی کو ووٹ دیں تاکہ خدمت میں جو کمی رہ گئی ہے وہ پوری ہو جائے۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

سیاست کیا ہوتی ہے؟

بچہ
پاپا یہ سیاست کیا ہوتی ہے؟
باپ
بیٹا سمجھو میں گورنمنٹ ہوں، تمھاری ماں اپوزیشن ہے، ہماری نوکرانی غریب عوام ہے اور تمھارا چھوٹا بھائی مستقبل ہے۔

رات کو بچے نے دیکھا چھوٹا بھائی رو رہا ہے، ماں سو رہی ہے اور باپ نوکرانی کے پاس ہے۔

صبح ناشتے کی میز پر بچہ بولا
پاپا مجھے سمجھ آ گیا کہ سیاست کیا ہوتی ہے۔
باپ
ویری گڈ بیٹا ایکسپلین کرو کیا سمجھے
بچہ
گورنمنٹ غریب عوام کو (سنسر) رہی ہے، اپوزیشن سو رہی ہے اور مستقبل رو رہا ہے۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

مسلم لیگ (ن) کا اندرونی تنازعہ ۔ باپ بیٹا صدر کے امیدوار


پارٹی ذرائع کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن صوبائی صدور کے انتخابات کے معاملے پر شدید اندرونی اختلافات کا شکار ہو گئی، پنجاب میں صدر کے عہدے کے لئے شہباز شریف اور حمزہ شہباز، باپ بیٹا دونوں صدر کے امیدوار بن گئے۔
میاں نواز شریف حمزہ شہباز کو مسلم لیگ ن صوبہ پنجاب کا صدر بنانے کے خواہاں ہیں جبکہ شہباز شریف خود یا ذوالفقار کھوسہ کو صدر بنانے کے حق میں ہیں۔ ایک اور امیدوارخواجہ سعد رفیق کو پہلے ہی دوڑ سے باہر کر دیا گیا ہے ۔ دوسری طرف سندھ میں سلیم ضیاء کو صوبائی صدر بنانے کے نواز شریف کے فیصلے پر بھی پارٹی میں اختلافات ہیں۔ اورخیبر پختونخواہ میں سردار مہتاب عباسی نواز شریف کے منظور نظرشخص ہیں جن کو سملم لیگ ن خیبر پختونخواہ کا صدر بنانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں جس پر پیر صابر شاہ گروپ ناراض ہے۔ صوبائی سطح کے علاوہ میاں برادارن کے اپنے ضلع لاہورکی نئی تنظیم اور صدر کا بھی تا حال فیصلہ نہ ہو سکا ہے اورابھی تک اختلافات برقرارہیں۔ مسلم لیگ ن کے ارکان اسمبلی اور سرکردہ راہنماوں سعد رفیق، میاں مرغوب اور بلال یامین کے آپس میں شدید اختلاف ہیں۔ سعد رفیق اپنے بھائی سلمان رفیق کو ضلع لاہور کا صدر بنانے کے خواہاں ہیں۔ جبکہ میاں مرغوب اور بلال یامین خود ضلع لاہور کے صدر کے امیدوار ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظرمیاں نواز شریف نے 17 ستمبر کو پارٹی کے مرکزی راہنماوں کا اجلاس پنجاب ہاوس طلب کر لیا گیا ہے۔ جس میں اختلافات دور کرنے کی حکمت عملی طے ہوگی اور معاملہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

آج ناک کٹی ہے کل کو گردن کٹ جائے

عام زندگی کے ساتھ چلنے کی کافی کوشش کی لیکن حکومتی دباؤ نے پریشانیوں اور مسائل میں ایسا اضافہ کیا کہ اب یہ بھی نہیں سوچتا کہ مجھے کوئی پچھتاوا ہوا ہے۔ بلکہ خوشی ہے اور چاہتا ہوں کہ آج ناک کٹی ہے کل کو گردن کٹ جائے کیونکہ پاکستان واپسی پر درپیش مسائل کی وجہ سے لگتا ہے کہ شاید ہم جیسے لوگ اسی کام کے لیے بنے ہیں اور کر بھی کیا سکتے ہیں۔‘

کہتے ہیں کہ اگر صبح کا بھولا شام کو گھر لوٹ آئے تو اسے بھولا نہیں کہتے۔ لیکن اٹھائیس سالہ محمد فاروق کی باتیں سن کر بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ الٹ ہوا۔

کراچی کے علاقے گلشن کی ایک کچی آبادی میں ایک کمرے پر مشتمل مکان کے انتہائی مختصر صحن میں بیٹھے محمد فاروق کا مسخ شدہ چہرہ جہاں ان کے تلخ ماضی کی عکاسی کر رہا تھا تو وہیں ان کی آنکھوں میں مایوسی بھی نمایاں تھی۔

محمد فاروق امریکہ میں نائن الیون حملوں سے پہلے ہی پاکستان میں شدت پسندانہ سوچ رکھنے والے عناصر کی جکڑ میں آ چکے تھے۔

انھوں نے کہا ’گلشن اقبال کے ایک مدرسے میں زیر تعلیم تھے تو جہاد کا شوق ہوا۔ اسی دوران طالبان کے ایک ساتھی سے ملاقات ہوئی۔ ان کے توسط سے پہلی بار سنہ انیس سو ننانوے میں سترہ سال کی عمر میں کابل گیا اور وہاں تقریباً سات ماہ تک قیام کے دوران عسکری تربیت حاصل کی اور اس کے بعد واپس پاکستان آ گیا۔‘

محمد فاروق کے مطابق نائن الیون حملوں کے فوری بعد افغانستان چلے گئے تھے تاکہ امریکی حملے کے خلاف مزاحمت کی جا سکے۔ تاہم جلد ہی نومبر دو ہزار ایک میں طالبان مخالف فورسز شمالی اتحاد کے نرغے میں آنے کے بعد اپنے دیگر ساتھیوں اور طالبان سمیت ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو گئے۔ بعد میں قلعہ جنگی جیل منتقل کر دیے گئے جہاں جیل میں طالبان کی بغاوت کے بعد امریکہ اور شمالی اتحاد کی کارروائی میں شدید زخمی ہو گئے۔

’جیل میں مسلسل سات سے آٹھ روز تک جاری رہنے والی کارروائی کے دوران میرے چہرے اور سر پر بم کے ٹکڑے لگنے سے گہرے زخم آئے۔ بعد میں کچھ عرصہ زخمی حالت میں کسی نامعلوم زیر زمین جگہ پر قید رکھا گیا اور اس دوران طبی امداد بھی فراہم کی جاتی رہی۔ بعد میں پاکستانی فوج نے ایک طیارے کے ذریعے ان سمیت ڈیڑھ سو کے قریب افراد جو تمام بیمار یا زخمی تھے کو پشاور منتقل کیا۔ پشاور جیل میں چار ماہ جیل میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا گیا۔‘

محمد فاروق کے مطابق کراچی واپس پہنچنے پر ایک تو زخموں کی وجہ سے شدید پریشانی کا سامنا تھا کیونکہ جیل میں نہ ہونے کے برابر طبی علاج ہوا تھا اور دوسرا گزر بسر کرنے کے لیے جیب میں کچھ نہیں تھا۔

انھوں نے کہا’افغانستان جانے سے پہلے جس فیکڑی میں کام کرتا تھا اس کے مالک سے جان پہچان تھی۔ اسے مجبوری بتائی تو اس نے علاج کرانا شروع کر دیا۔ تاہم سکیورٹی اداروں نے ان کو یہ کہہ کر علاج بند کروا دیا کہ یہ دہشت گرد ہے اور کل کو اگر کسی جگہ دہشت گردی کی کوئی کارروائی کر دے تو کون ذمہ دار ہو گا۔‘

محمد فاروق کے مطابق علاج بند ہونے کے کچھ عرصے کے بعد بین الاقوامی امدادی ادارے عالمی ریڈ کراس نے رابط کیا کیونکہ انھوں نے افغانستان میں دوران قید میری تمام معلومات حاصل کیں تھیں اور میرا اعلاج شروع کروایا۔

’پانچ سال میں راولپنڈی کے فوجی ہسپتال میں میرے چہرے کی اٹھارہ بار سرجری ہو چکی ہیں لیکن اب انھوں نے بھی جواب دے دیا ہے کہ آپ کا مزید کچھ نہیں ہو سکتا۔‘

محمد فاروق کے مطابق ’ریڈ کراس والے بھی پیچھے ہٹ گئے کہ اس کا اب کچھ نہیں ہو سکتا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ میرے پاس مہنگے علاج کے لیے رقم نہیں ہے اور چہرہ خاص طور پر ناک کاعلاج نہ ہونے کی وجہ سے انفیکشن ہو چکا ہے اور سانس لینے میں مشکل کا سامنا ہے۔‘

’چہرے کی وجہ سے کوئی روز گار نہیں ملتا تھا، اگر ملتا تھا تو پولیس اہلکار تفتیش کے لیے پیچھے پہنچ جاتے تھے اور مالکان کو ماضی کا پتہ چلتا ہے تو ملازمت دینے سے انکار کر دیتے ہیں۔‘

محمد فاروق کے مطابق ملازمت کے حصول میں ناکامی کے بعد کچھ لوگوں کی امداد سے ایک چھوٹی سی دکان شروع کی لیکن اب اسے ایک عزیز کو پچاس ہزار روپے میں فروخت کر دیا ہے تاکہ کم از کم تھوڑا بہت علاج تو شروع کروایا جا سکے۔

انھوں نے بتایا کہ چہرے اور سر کے زخموں کا علاج کافی مہنگا ہے اور موجودہ صورتحال میں زندہ رہنے کے لیے رقم نہیں ہے تو ادویات خریدنے کے لیے رقم کہاں سے آئے گی۔

’کسی بھی دہشت گردی کے واقعے کے بعد پولیس والے گھر پہنچ جاتے ہیں کہ آپ تفتیش کے لیے فلاں جگہ پہنچ جائیں۔ مجھے سمجھ نہیں آتی ہے کہ یہ لوگ میرے سے کیا چاہتے ہیں۔ کیا میں نے ہمیشہ یہ ہی کام کرنا ہے۔ یا تو ہمیں جیل میں بند کر دیں یا تو مار دیں۔‘

محمد فاروق نے اپنے زخمی ناک کو ایک کپڑے کی مدد سے صاف کرتے ہوئے مایوسی کے عالم میں کہا کہ وہ چاہتے تھے کہ ان کا علاج ہو جائے، چہرہ ٹھیک ہو جائے اور وہ معاشرے میں ایک عام انسان کی طرح زندگی گزاریں۔ ’میرا ایک چھوٹا سا کاروبار یا ملازمت ہو اور ایک خاندان ہو، اس کے لیے میں نے کافی کوشش کی لیکن مجھے اب لگتا ہے کہ اب اس طرح کی زندگی گزارنے کی مزید کوشش نہیں کر سکتا ہوں۔‘

محمد فاروق نے ماضی میں کیے پر پچھتاوے کے بارے میں سوال پر کہا ’اصل میں مجھے اب کوئی پچھتاوا محسوس نہیں ہوتا ہے کیونکہ یہاں واپس آ کر میں نے کافی پریشانیوں کا سامنا کیا ہے۔ حکومت کے رویے اور اس کی جانب سے بار بار دباؤ ڈالنے اور یہاں تک کہ میرا علاج بند کروا دیا۔ تو اس صورت میں مجھے ان سے کیا ڈرنا ہے۔ یہاں بھی گھٹ گھٹ کر مر رہا ہوں تو وہاں بھی (لڑائی کرتے ہوئے) مرنا ہی ہے تو مجھے اس پر خوشی ہے کہ میرا ناک کٹا ہے کل کو گردن کٹ جائے۔ شاید ہم لوگ بنے ہی اس کام کے لیے ہیں۔‘

محمد فاروق کی مجبوری اور بے بسی دیکھ کر اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ کس کرب سے گزر رہیں ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اگر کوئی اپنے ماضی کو بھلا کر ایک بہتر مستقبل کی جانب بڑھنا چاہتا ہو تو اس کی ہمت بندھانی چاہیے نہ کہ مشکلات میں اضافے سے اس کو اسی مقام پر دوبارہ لا کھڑا کیا جائے جہاں سے اس نے شدت پسندی کی جانب سفر شروع کیا تھا۔ ذیشان ظفر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

شفاف اصولوں کی پاکیزہ سیاست

میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں
کہ سارے شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے




یہ بجا کہ سجدوں کے داغ ہیں جبینوں میں
یہ تو دیکھیئے کیا ہے، دل کا حال سینوں میں
میرے کارواں والے بت کدے تو چھوڑ آئے
اُن بتوں کا کیا ہو گا، جو ہیں آستینوں میں
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

اب جو قاتل ہے بس جستجو اس کی ہو

ممکن ہے زمانہ رُخ بدلے یہ دور ہلاکت مٹ جائے

یہ ظلم کی دنیا کروٹ لے یہ عہد ضلالت مٹ جائے

دولت کے فریبی بندوں کا یہ کبرونخوت مٹ جائے

برباد وطن کے محلوں سے غیروں کی حکومت مٹ جائے
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

Budget 2011 - 2012

پاکستان کی تاریخ میں موجودہ بدترین کرپشن اور این آر او کی برکات کی وجہ سے معیشت تباہ ہوئی ہے، موجودہ بجٹ میں جو بھی ترقیاتی منصوبہ جات رکھے گئے ہیں وہ کمیشن ہولڈر کھا جائیں گے۔

خود حضرت محترم جناب عزتمآب حفیظ شیخ صاحب نے پچھلے تین سال سے ایک پیسہ بھی انکم ٹیکس نہیں دیا لیکن وہ عوام سے ایک ایک پائی وصول کرنے کے خواہش مند ہیں۔


آخری آواز
عوام کی لب بستگی کو نہیں مناسب یوں آزمانا
جس گھڑی یہ سکوت ٹوٹا نئے سِرے سے حساب ہوگا
ڈرو کہ جب ہر گلی عدالت ہر ایک کُوچہ بنے گا مقتل
کون حق پہ تھا کون جھوٹا نئے سِرے سے حساب ہوگا
ڈرو کہ جب ہر آنکھ پوچھے گی کس نے چھینے تھے خواب ہمارے
ان ساٹھ سالوں کو کس نے لُوٹا نئے سِرے سے حساب ہو گا
اس میکدے میں کتنی مے سے لہو کے چھینٹے دھلے تھے فارس
اور کتنے ہاتھوں سے جام چُھوٹا نئے سِرے سے حساب ہوگا
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

وہ جس کی زباں اردو کی طرح

ان اہل زباں دل والوں کو
ان شعر و ادب کے پالوں کو
دل ڈھو نڈے ان متوالوں کو

ان اردو بولنے والوں کو

اے کاش کہں مل جائیں ہمیں
آداب کہیں،پھر عرض کریں
یہ کیسی روایت ڈالی ہے

کیوں نوک زباں پر گالی ہے

کیوں چھوڑ کہ فن و علم و ادب
تم نے بندوق اٹھا لی ہے
کیوں شاعر ظلم پہ مائل ہے
کیوں شہر کراچی گھائل ہے
کیوں تکیہ بھتہ خوری پر
اس خون سے لتھڑی بوری پر

دانا کہتے ہیں بس بھی کر

تو بھی چپ رہ، آواز نہ کر
جو سب ڈرتے ہیں تو بھی ڈر
تل تل مرتے ہیں ،تو بھی مر

صمُ بکمُ ہیں دانشور
دل کرتا ہے فریاد مگر

کچھ رحم کرو ،الطاف کرو
دل کی آلائش صاف کرو
یہ شہر تمہارا اپنا ہے

اس شہر کو بھیا معاف کرو
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا

انور مسعود صاحب  کا قطعہ
Daily Express
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

پاکستان کا نیا سیاسی کلچر

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

ڈرامے

پاکستان اسلام کے نام پر لاکھوں قربانیوں اور برسوں کی جہد مسلسل کے بعد حاصل کیا گیا تھا۔ مطالبہ پاکستان سے پہلے مسلمان الگ اور آزاد خطے کے لئے سرگرم عمل تو تھے ہی لیکن ١٩٤٠ء میں قرارداد لاہور میں انہیں اپنے سامنے ایک واضح منزل نظر آ گئی اور یہ منزل حصول پاکستان پر ختم ہوئی تھی۔ حصول پاکستان کی بنیاد برصغیر کی ایک بہت بڑی آبادی کا مسلمان ہونا تھا۔ یہ مسلمان چودہ سو سال پہلے والے اس عظیم اور آفاقی مذہب اسلام کے پیروکار تھے جس میں موضوعہ جات اور مفروضات کی قطعی کوئی گنجائش نہیں نکلتی بلکہ راستی اور سلامتی کا مذہب اسلام فطرت اور حقائق کا منبع ہے۔
یہ اصل کا مذہب ہے، اس میں نقل کی کوئی جگہ نہیں ہے۔
یہ حرکت کا مذہب ہے، اس میں جمود کا کوئی مقام نہیں ہے۔
یہ تسلسل کا مذہب ہے، اس میں توقف کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
یہ آگے بڑھے جانے کا مذہب ہے، اس میں پیچھے ہٹنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔
یہ روشنی کا مذہب ہے، اس میں اندھیرے کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔
یہ ہدایت کا مذہب ہے، اس میں گمراہی اور گمراہوں کے لئے کوئی گنجائش نہیں ہے۔
اسی طرح یہ اسلام سچائی اور حقیقت کا مذہب ہے اس میں ڈرامے کی کوئی گنجائش نہیں بنتی لیکن ۔۔۔۔ مقام افسوس یہ ہے کہ اس کے باوجود اسلام کے نام پر حاصل ہونے والے پاکستان کو تھیٹر بنا دیا گیا ہے۔ جس پر اتنے ڈرامے کھیلے جا چکے ہیں کہ یونان اور لندن کے کسی پرانے تھیٹر میں اتنے ڈرامے ‘پلے‘ نہیں کئے گئے ہوں گے۔ ملاحظہ کیجیئے۔
ق لیگ کو قاتل لیگ کہنے والے آج ایک دوسرے پر قربان واری ہو رہے ہیں۔ کیا پہلے ڈرامہ کیا تھا، اب ڈرامہ ہے یا دونوں ڈرامے ہیں۔
بند کمرے میں سازشیں کرنا، عدلیہ بحالی کے ایگزیکٹیو آرڈر کو واپس کرنے کے منصوبے بنانا، سپریم کورٹ کی سترہ رکنی بینچ کا نوٹس لینا اور اٹارنی جنرل کو ایک گھنٹے کے اندر حکومت کی طرف تحریری جواب دینے کا آرڈر دینا مگر دو ڈھائی گھنٹے بعد اٹارنی جنرل کا یہ جواب کہ وزیراعظم مصروف ہیں اُن سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ کیا یہ ڈرامہ نہیں؟۔
پی پی پی کی قیادت کا این آر او کے تحت پاکستان آنا، الیکشن لڑنا اور پھر این آر او کو اسمبلی میں پیش نہ کرنا، عدالت عالیہ کا این آر او کو آئین سے متصادم گردانا۔ اس کے ساتھ تمام مقدمات جو اس فرمان کی وجہ سے ختم ہوئے تھے کو دوبارہ زندہ کرنے کا حکم، حکومت کو زرداری کے خلاف سویٹزرلینڈ میں دائر مقدمات کو دوبارہ کھولنے حکم، حکومت کا عدلیہ کے تمام فیصلوں کو تسلیم کرنا مگر کسی فیصلے پر عمل نہ کرنا کیا یہ سب ڈرامے نہیں؟۔
ق لیگ اپنے دور حکومت میں مشرف کی واہ واہ اور بلے بلے کرتی رہی اور اب دونوں ایک دوسرے کو جھوٹا قرار دے رہے ہیں۔ کیا وہ ڈرامہ تھا؟ یہ ڈرامہ ہے یا دونوں ڈرامے ہیں؟۔
مسلم لیگ ن اور پی پی پی کی مخالفت اور پھر یک جان دو قالب ہونا اور اب پھر ایک دوسرے کو آنکھوں آنکھوں میں تولنا۔ کیا پہلے ڈرامہ تھا یا پھر اب ڈرامہ کیا یا سب ڈرامے ہیں؟۔
مسلم لیگ ن نے آصف زرداری کو صدر بنوانے میں سب سے زیادہ مدد کی اور اب سب سے زیادہ مخالفت کر رہی ہے۔ وہ ڈرامہ تھا؟ یہ ڈرامہ ہے؟ یا سب ڈرامے ہیں؟۔
ایم کیو ایم حکومت میں بھی ہے اور حکومت مخالف نعرے میں لگاتی ہے۔ کیا وہ ڈرامہ ہے یا یہ ڈرامہ ہے یا دونوں ڈرامے ہیں؟۔
صدر آصف زرداری پی پی پی کی حکومت بنوانے اور پھر مخالفت کرنے والوں کو سیاسی اداکار قرار دیتے ہیں۔ کیا یہ سیاسی اداکار ہیں یا وہ یا سبھی اداکار ہیں؟۔
اپنے مولانا صاحب کی تو کوئی حقیقی زندگی ہے ہی نہیں کیونکہ وہ تو کل وقتی ڈرامہ ہیں۔
بچے بچپن میں ٹی وی پر ڈرامے دیکھتے ہیں۔ جب ایک ڈرامے میں میاں بیوی کا کردار ادا کرنے والے فنکاروں کو اگلے ڈرامے میں بھائی بہن اور اس سے اگلے ڈرامے میں ماں بیٹے کا کردار ادا کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو بڑے حیران ہوتے ہیں۔ حیرت سے اپنے والدین سے پوچھتا ہیں ‘بابا! یہ کیسے ممکن ہے‘ والدین پیار سے بچے کو سمجھاتے ہیں ‘بیٹا یہ ممکن ہے کیونکہ یہ حقیقت نہیں بلکہ ڈرامے ہیں، جب تم بڑے ہو جاؤ گے تو سب سمجھ جاؤ گے‘ واقعی پھر جب بچے بڑے ہوتے ہیں تو ڈراموں کی حقیقت کو سمجھ کر اپنے بچپن کی معصومیت پر بڑا مسکراتے ہیں۔
ہماری قوم بھی شاید ابھی بچپن میں ہی ہے۔ اسے ڈرامے کی سمجھ نہیں آتی۔ یہ ڈرامے دیکھتی ہے۔ مزاحیہ ڈرامے دیکھ کر ہنسنے لگتی ہے اور غمگین ڈرامے دیکھ کر اس کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔
آئیے! اس قوم کے بڑا ہونے کا انتظار کریں، جب اسے ان ڈراموں کی سمجھ آنا شروع ہو جائے گی تو پھر یہ اپنے بچپن کی معصومیت اور بھولپن پر خود ہی مسکرائے گی۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

کیا پاکستان ٹوٹ رہا ہے

روزنامہ جنگ کے مطابق برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان ٹکڑوں میں تقسیم ہونے کی طرف بڑھ رہا ہے، اسلام آباد سویلین حکومت کے خاتمے اور فوجی بغاوت کے دھانے پر ہے، صدارتی استثنیٰ کے معاملے پر وزیر اعظم گیلانی اور سپریم کورٹ آمنے سامنے ہوں گے ، پاکستانی عوام متواتر بحرانوں سے نبرد آزما ہے لیکن قیادت عملی اقدامات کیلئے تیار نہیں یا قابل نہیں۔ برطانوی اخبار ’انڈیپنڈنٹ‘ نے ایک تفصیلی مضمون ”کیا پاکستان ٹوٹ رہا ہے“ میں لکھا ہے کہ پاکستان کے پاس ایٹمی ہتھیار تو موجود ہیں لیکن اس کے بچے بھوک سے مر رہے ہیں، ملک کا خانہ جنگی کی طرف جانا مسئلہ نہیں بلکہ اتنے بڑے بحرانوں کے باوجود کوئی انقلاب یا تبدیلی نہ آنا اصل مسئلہ ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ پاکستان ایک تباہی کے بعد دوسری تباہی کا سامنا کر رہا ہے، اس کے عوام بحران در بحران سے گزر رہے ہیں اور اس کے رہنما عملی اقدام کیلئے تیار نہیں یا قابل نہیں۔بہت سے لوگوں کے نزدیک پاکستان ایک ناکام ریاست ہے۔ اخبار کہتا ہے کہ پاکستان انتشار کا شکار ہے اور ریاست اور معاشرہ مسلسل قدرتی آفات اور سیاسی بحرانات کے تحت الگ ہونے کی طرف گامزن ہے۔ملک اس وقت حکومت کے جانے اور فوجی بغاوتوں کی افواہوں کی زد میں ہے۔وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے سیلاب کو شہہ سرخیوں سے غائب کردیاگیا ہے۔ لاکھوں کسان اپنے تباہ شدہ دیہاتوں میں بے بسی کی تصویر بنے بیٹھے ہیں۔امریکا پاکستان کے مغربی حصوں میں ڈرونز حملوں میں انتہائی شدت لا چکا ہے۔پاکستان نے نیٹو کی سپلائی لائن معطل کی ہوئی ہے اور امریکی ہیلی کاپٹر سرحد پار کر کے پاکستانی فوجیوں کو شہید کر رہے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان پر برے حالات ہیں۔روس سے زیادہ آبادی کا حامل ملک پاکستان کئی غلطیوں کو برداشت کرنے کی سزا کے قابل ہے تاہم اب یہ ٹکڑوں میں بٹنے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس کے پاس ایٹمی ہتھیار تو ہیں لیکن اس کے بچے بھوک سے مر رہے ہیں۔ پاکستان کی 6 لاکھ 17ہزار فوجیوں پر مشتمل فوج دنیا کی سب سے مضبوط ترین فوج ہے لیکن اس کی حکومت پولیو یا ملیریا جیسی بیماری کو ختم نہیں کرسکتی۔ہر کوئی کہتا ہے کہ پاکستان کو دنیا میں ترقی کیلئے اعلیٰ تعلیم کے حصول کی طرف توجہ دینی چاہیے لیکن یونیورسٹیاں پیسے نہ ملنے کی وجہ سے ہڑتال پر ہیں۔ اخبار کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی آئندہ ہفتوں میں سپریم کورٹ آف پاکستان سے صدر آصف علی زرداری کے دیئے گئے استشنیٰ کے خلاف قانونی جنگ کریں گے، جب کہ صدر بننے سے قبل آصف زردراری کی شہرت ایک کرپٹ شخص کے طور پر جانی جاتی ہے۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

کسنجر کا جہاز اور ملک فیصل کی دو رکعتیں


عربوں کی اسرائیل کے ساتھ 1973  میں لڑی گئی مشہورِ زمانہ جنگ یوم کپور  یا  جنگِ اکتوبر  میں امریکہ اگر پسِ پردہ اسرئیل کی امداد نہ کرتا تو مؤرخین لکھتے  ہیں کہ فلسطین کا مسئلہ حل ہو چکا ہوتا۔ فخر کی بات یہ ہے کہ اس جنگ میں پاکستان نے بھی مقدور بھر حصہ لے کر تاریخ میں پنا نام امر کیا۔ اس جنگ کا مختصر احوال ویکیپیڈیا پر موجود ہے

اس جنگ کے دوران ملک فیصل مرحوم نے ایک دلیرانہ فیصلہ کرتے ہوئے تیل کی پیداوار کو بند کردیا تھا، ان کا یہ مشہور قول (ہمارے آباء و اجداد  نے اپنی زندگیاں  دودھ اور کھجور کھا کر گزار ی تھیں، آج اگر ہمیں بھی ایسا کرنا پڑ جاتا ہے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا) اپنی ایک علیٰحدہ ہی تاریخ رکھتا ہے۔

ملک فیصل مرحوم  کا  یہ فیصلہ امریکہ کیلئے ایک کاری ضرب کی حیثیت رکھتا تھا جس کو تبدیل کرنے کی ہر امریکی تدبیر ناکام ہو رہی تھی۔  امریکی وزیرِ خارجہ کسنجر  نے ملک فیصل مرحوم  سے 1973 میں اسی سلسے  میں جدہ میں ایک ملاقات کی۔

تیل کی پیداوار کو دوبارہ شروع کرنے میں قائل کرنے کی ناکامی کے بعد کسنجر نے گفتگو کو  ایک جذباتی موڑ دینے کی  کوشش کرتے ہوئے ملک فیصل مرحوم سے کہا کہ  اے معزز بادشاہ، میرا جہاز ایندھن نہ ہونے کے سبب  آپ کے ہوائی اڈے پر ناکارہ کھڑا ہے، کیا آپ اس میں تیل بھرنے کاحکم  نہیں دیں گے ؟

دیکھ لیجئےکہ میں آپ کو  اسکی ہر قسم کی قیمت ادا کرنے کیلئے تیار بیٹھا ہوں۔

کسنجر خود لکھتا ہے کہ میری اس بات سے ملک فیصل مرحوم کے چہرے پر کسی قسم کی کوئی مسکراہٹ تک نہ آئی، سوائے اس کے کہ انہوں نے اپنا  جذبات سے عاری چہرہ اٹھا کر میری طرف دیکھا اور کہا،

میں ایک عمر رسیدہ اور ضعیف آدمی ہوں، میری ایک ہی خواہش ہے کہ مرنے سے پہلے مسجد اقصی میں نماز کی دو رکعتیں پڑھ لوں، میری اس خواہش کو پورا کرنے میں تم میری کوئی مدد کر سکتے ہو؟

حضرات محترم: میری ایمیلز میری ذاتی پسند ہوتی ہیں، جنکا مقصد آپ سے رابطہ، دوسری ثقافتوں سے آگاہی، علم اور معلومات کا پھیلانا مقصود ہوتا ہے، اگر آپ کو ناگوار گزرتی ہوں تو ضرور آگاہ کیجیئے۔ حسبِ سابق یہ مضمون بھی عربی سے  اردو میں ترجمہ کرکے آپکی خدمت میں پیش کیا ہے، آپکی دعاوں کا طالب ہوں۔ محمد سلیم شانتو
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

بلاگر حلقہ احباب