31 August, 2010

کتا کیسے نکلے گا؟

پاکستان پے منحوسیت کا سایہ ہے کہ کیا ہے؟ کہ ہر طرف سے منحوس اور نحوست بھری خبریں آ رہی ہیں۔
ڈرون حملے، خودکش دھماکے، ٹارگٹ کلنگ، آفات، سیلاب، سیالکوٹ واقعہ اور اب یہ میچ فکسنگ ایک ترتیب سے منحوسیت کے پے در پے حملے ہو رہے ہیں۔
پاکستان سے آخر ان منحوس دنوں اور نحوسیت بھری شاموں کے سائے کب دور ہوں گے؟

ایک کنویں میں کتا گر گیا تو کچھ لوگ کنویں کو پاک کرنے کے لئے ایک مولوی صاحب کے پاس گئے مولوی صاحب نے سارا ماجرا جاننے کے بعد اس کا حل یہ بتایا کہ “کنویں سے دو سو بالٹی پانی نکالو کنواں پاک ہو جائے گا“
دو سے بالٹی پانی نکال دی گئی مگر کچھ دنوں بعد پانی سے بدبو آنی شروع ہو گئی لوگ پریشان ہو گئے کہ یہ کیا ماجرا ہے تو وہ اس کے لئے اور ایک اور مولوی کے پاس گئے تو انہوں نے کہا “ کنویں سے چار سو بالٹی پانی نکال دو، سب ٹھیک ہو جائے گا“ چار سو بالٹی پانی نکال دی گئی مگر پانی سے بدبو نہ گئی۔
لوگوں کی پریشانی بڑھی تو وہ اس کے حل کے لئے تیسرے مولوی کے پاس گئے۔ مولوی صاحب نے ساری صورتحال جاننے کے بعد سوال کیا “ پانی سے کتا نکالا تھا“ لوگوں نے کہا “نہیں“
مولوی نے کہا “جاہلو! پہلے کنویں سے کتا تو نکالو، پھر کنواں بھی پاک ہو جائے گا اور پانی بھی صاف ہو گا“۔

ہمارا حال بھی انہی لوگوں جیسا ہے ہم پانی سے کتا نکالے بغیر ہی پانی کو پاک صاف کرنا چاہتے ہیں اور اپنی تمام تر بد اعمالیوں کے ساتھ پاکستان کو ایک صاف ستھرا ملک بنانا چاہتے ہیں۔ جُہل کا نچوڑ جو ٹھہرے، نہیں جانتے کتا نکالے بغیر کچھ بھی ٹھیک نہیں ہو گا۔ نحوست بھی تبھی ختم ہو گی جب کتا کنویں سے باہر آئے گا۔
مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کتا نکلے گا کیسے اور نکالے گا کون؟ کسی کے پاس اس کا کوئی حل ہے؟ تمام اردو بلاگرز کو اس پے لکھنے کی دعوت دی جاتی ہیں، لکھیں اور بتائیں کہ کتا کیسے نکلے گا؟

8 comments:

Kashif Naseer نے لکھا ہے

Ha Ha Ha
Bohat Khoob.

Kuttey ko nikalney k lia kuch na kuch to kerna parey ga

8/31/2010 12:36:00 PM
یاسر خوامخواہ جاپانی نے لکھا ہے

لیکن صاحب۔
کتے کتے کو کیسے کنویں سے نکالیں گے؟
یہ اسی ہی بات ھے کہ کانٹوں سے کہا جائے کہ رستہ صاف کردو!!۔

8/31/2010 06:04:00 PM
عادل بھیا نے لکھا ہے

ہاہاہا بہت خوب مثال دی جناب
ہاں کُتا نکل سکتا ہے اگر ہم سب استغفار کریں اور اللہ سے اپنے کئے گئے گناہوں کی معافی مانگیں۔ مُجھے سو فیصد اُمید ہے کہ اگر پوری قوم سچے دِل سے معافی مانگ لے تو یہ کتا ایک دن نہ رہے ہمارے درمیان۔

8/31/2010 09:51:00 PM
Abdullah نے لکھا ہے

ووٹ دو راشن لو
شہزاد ملک

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ڈیرہ غازی خان


امداد کی تقسیم کے طریقہ کار پر اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں

جنوبی پنجاب کے علاقوں ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور تونسہ شریف میں شدید سیلاب سے متاثرہ افراد کو بلا امتیاز امداد کی فراہمی میں ان علاقوں کا سرداری نظام سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سیلاب سے متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ جن افراد کے پاس اپنے اپنے علاقوں کے ارکان قومی اور صوبائی اسمبلی یا علاقے کے وڈیرے کی پرچی ہے اُن کو تو نہ صرف حکومتی راشن مل جاتا ہے بلکہ دیگر غیر سرکاری تنظیموں کی طرف سے امداد مل جاتی ہے لیکن جن افراد کے پاس کوئی سفارشی پرچی نہیں ہے وہ سورج نکلنے سے پہلے جہاں جہاں امداد ملتی ہیں وہاں پر پہنچ جاتے ہیں اور شام گئے خالی ہاتھ واپس گھروں کو لوٹ آتے ہیں۔

ضلع راجن پور کی تحصیل جام پور کے علاقےمحمد پور دیوان کے رہائشی حضور بخش کہتے ہیں کہ وہ گُزشتہ پندرہ روز سے صبح پانچ فُٹ گہرا پانی کراس کرکے اپنے بچوں کے لیے راشن لینے کے لیے لائن میں لگ جاتا ہے لیکن سرکاری اہلکار پہلے اُسے یہ کہتے رہے کہ متعلقہ پٹوری سے لکھوا کرلاو کہ تم اسی علاقے کے رہنے والے ہو تب ہم تمہیں راشن دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری اہلکار اُس کے شناختی کارڈ کو بھی ماننے کو تیار نہیں تھے۔ حضور بخش کے مطابق دو دن تو وہ متعلقہ پٹورای کو ڈھونڈتا رہا نہ ملنے پر وہ اپنے علاقے کے رکن صوبائی اسمبلی کے پاس گیا لیکن انہوں نے یہ کہہ کرکوئی امداد یا سفارشی رقعہ دینے سے انکار کردیا کہ سنہ دوہزار آٹھ میں ہونے والے عام انتخابات کے دوران اُن کے خاندان نے اُن کی مخالفت کی تھی لہذا اب وہ اُن کے لیے کچھ نہیں کرسکتے۔

دریائےسندھ کے کنارے پر واقع ڈیرہ غازی خان کے علاقے غازی گھاٹ کی کہانی بھی کوئی مختلف نہیں ہے یہاں پر بھی صرف اُنہی متاثرہ افراد کو امداد مل رہی ہے جن کا تعلق یا تو کھوسہ اور یا پھر لغاری قبیلے سے ہے۔

ان افراد کے پاس ان قبیلوں کے اہم افراد کی چٹیں ہوتی ہیں جن کو دیکھا کہ وہ نہ صرف خشک راشن لے رہے ہیں بلکہ اس کے علاوہ وہ اپنے اپنے گھروں کے قریب ٹینٹ لگا کر بھی دے رہے ہیں۔
فضلو بلوچ کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد کو قریبی علاقے سے ہی امداد مل رہی ہے لیکن اُس کا شناختی کارڈ دیکھ کر سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ چونکہ اُن کا شناختی کاررڈ دوسرے علاقے سے بنا ہوا ہے اس لیے وہ اپنے علاقے میں جاکر امداد لیں۔

فضلو بلوچ کے مطابق مظفر گڑھ کے علاقوں سے بڑی تعداد میں سیلاب سے متاثرہ افراد اُن کے علاقے میں آئے ہیں جنہیں مقامی سرکاری اہلکار اُنہیں راشن اور ٹینٹ بھی فراہم کررہے ہیں وجہ صرف یہ ہے کہ یہ افراد لغاری یا کھوسہ قبیلے سے ہے۔

ڈیرہ غازی خان میں کھوسہ اور لغاری قبلیوں کا ہولڈ ہے۔ سابق صدر فاروق احمد خان لغاری اور سابق وزیر اعلی پنجاب دوست محمد کھوسہ کا تعلق اس علاقے سے ہے جبکہ ضلع راجن پور میں لغاری اور مزاری قبیلے سب سے زیادہ بااثر ہیں۔
تونسہ شریف میں خواجگان اور قیصرانی قبیلے سب سے زیادہ بااثر ہیں جبکہ ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے ضلعے مظفر گڑھ میں کھر، دستی، قریشی اور ہنجرا شامل ہیں۔ مظفر گڑھ کا ڈیرہ غازی خان سے ابھی تک زمینی رابطہ بحال نہیں ہے جس کی وجہ سے حکام کے مطابق ان علاقوں میں امدادی سامان بہت کم آرہا ہے۔

ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں جن افراد کےپاس مقامی بااثر افراد کی پرچیاں نہیں ہیں اُن کی کچھ نہ کچھ امداد مخیر حضرات اور یا پھر غیر سرکاری تنظیمیں کر رہی ہیں۔

9/01/2010 02:58:00 AM
Abdullah نے لکھا ہے

راجن پور کی تحصیل رُجحان مزاری کے ایک سیلاب سے متاثرہ شخص نور الدین کا کہنا ہے کہ سب سے پہلےسرکاری امداد علاقے کے منتخب نمائندوں اور باثر افراد کے ڈیروں پر جاتی ہے جہاں پر سب سے پہلے اُن افراد کو امداد دی جاتی ہے جو اُن کے حمایتی ہیں یا انتخابات کے دوران اُن کے لیے کام کرتے ہیں۔


اس قیامت میں بھی سیاست پوری طرح جاری ہے

انہوں نے کہا جو امدادی اشیاء بچ جاتی ہیں وہ مختلف جگہوں پر کیمپ لگا کر دو سے تین سو افراد میں تقسیم کردی جاتی ہیں۔ نوالدین کا کہنا تھا کہ ان امدادی کممپوں میں بھی ان افراد کے حمایت یافتہ لوگ موٹر سائیکلوں پر آتے ہیں اور آٹے کے تین تین اور چار چار تھیلے لیکر جاتے ہیں جبکہ دیگر افراد جن میں بچے ،بوڑھے ، خواتین اور مرد بھی شامل ہیں وہ خالی ہاتھ گھروں کو واپس لوٹ جاتے ہیں۔
نورالدین کا کہنا تھا کہ اگر کوئی سیلاب سے متاثرہ ایسا شخص اُن کے رکن قومی اسبملی کے پاس چلا جائے جو اُن کے حلقے کا ہو اور وہ اُسے شناخت نہ کرتا ہو تو اُس سے پوچھا جاتا ہے کہ اُس کے خاندان کے ووٹ کتنے ہیں اگر اُس کے خاندان میں ووٹ کے اہل پانچ افراد ہیں تو اُس کو اس یقین دہانی کے بعد راشن کی پرچی دی جاتی ہے کہ وہ آئندہ انتخابات میں اُسے ووٹ دے گا۔

ان علاقوں سے منختب ہونے والے ارکان قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے رویے سے سیلاب سے متاثرہ افراد میں شدت پسندی کو رجحان وقت گُزرنے کے ساتھ ساتھ فروغ پاتا جارہاہے اور ان علاقوں میں ایسے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں کہ لوگوں نے نہ صرف امدادی اشیاء کے ٹرک راستے میں ہی لوٹ لیے بلکہ اُن افراد کو بھی مارا پیٹا جو یہ امدادی اشیاء لیکر آرہے تھے۔ راجن پور کی تحصیل جام پور کے سیلاب سے متاثرہ افراد نے علاقے کے رکن صوبائی اسمبلی شیر علی گورچانی کے خلاف نہ صرف سخت احتجاج کیا بلکہ انڈس ہائی وے کو بھی بلاک کردیا۔ ان افراد کا کہنا تھا کہ مزکورہ رکن صوبائی اسمبلی نے نہ تو اُن کی کوئی مدد کی ہے اور نہ ہی مقامی انتظامیہ سے متاثرین کے لیے امدادی اشیاءلینے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔
پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا جس کے جواب میں مظاہرین نے بھی پولیس کے خلاف جوابی کارروائی کی جس کے بعد پولیس آرام سے ایک طرف ہٹ گئی۔

سیلاب سے متاثرہ ان علاقوں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ جب سے سیلاب آیا ہے اُس وقت سے لیکر آج تک کوئی رکن قومی یا صوبائی اسمبلی امداد دینا تو دور کی بات اُن کو تسلی دینے بھی نہیں آیا۔

راجن پور کے لوگ جوسابق نگران وزیر اعظم بلخ شیر مزاری کو بھتار (سردار ) کہتے ہیں اور اُن کا نام تک اپنی زبان پر نہیں لاتے تھے انہوں نے بھی اب یہ کہنا شروع کردیا ہے کہ اُن کے بھتار اب اُن کا خیال نہیں رکھتے اور آزمائش کی اس گھڑی میں انہوں نے ہماری کوئی مدد نہیں کی۔

ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں مہرے والہ، شیرو، کوٹلہ شیر محمد، کوٹلہ اندرون، داجل اور دریائے سندھ کے کچے علاقہ جو تونسہ سے شروع ہوکر گُڈو بیراج تک جاتا ہے اُن علاقوں میں ایسے ہزاروں افراد ابھی تک حکومت اور دیگر اداروں کی امداد کے منتظر ہیں۔

9/01/2010 02:59:00 AM
emran24 نے لکھا ہے

یہ آج ہی ایس ایم ایس پر مجھے موصول ہوا۔
اب کتا ذلیل کر کے نکالنا پڑے گا۔ پانی بدلنے کی تدبیر کر لیں گے کچھ۔

9/01/2010 03:10:00 AM
Abdullah نے لکھا ہے

ویسے اگر کتا کوئیں میں پڑے ہوئے پچاس سال سے ذیادہ ہوگئے ہوں تب کیا کرنا چاہیئے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

9/01/2010 09:46:00 AM
Rehan Sheikh نے لکھا ہے

جناب اعلی۔ اگر بالفرض آپ ایک کتا نکال بھی دیں تو کیا فرق پڑے گا؟ دوسرے کتے کنویں میں کودنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ اور بے وقوف لوگ خود باری باری کتوں کو کنویں میں ڈالتے رہتے ہیں، پھر زہریلے پانی کا رونا روتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ لوگوں کو تعلیم دینے کی ضرورت ہے، تاکہ وہ اپنے لیے اچھا اور برا سمجھداری سے اختیار کر سکیں۔

9/01/2010 02:07:00 PM

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


بلاگر حلقہ احباب