06 August, 2007

ٹام ٹینکریڈو اور ابرہہ کا لشکر

American History 150 Years Agoری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ٹام ٹینکریڈو نے اعلان کیا ہے کہ “امریکا پر دہشت گردوں کے امکانی ایٹمی حملے کو روکنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو بتا دیا جائے کہ اگر ایسا کوئی قدم اٹھایا گیا تو مسلمانوں کے مقدس ترین شہروں مکہ اور مدینہ کے خلاف جوابی کارروائی کی جاسکتی ہے اور اگر وہ صدر کے منصب پر براجمان ہونے میں کامیاب ہوگئے تو خود فیصلہ کریں گے کہ ان مقامات کو کس طرح نشانہ بنایا جا سکتا ہے“۔ ٹام ٹینکریڈو جیسے بیمار ذہنوں کی طرف سے یہ ہرزہ سرائی کوئی نئی بات نہیں، وقتاّ فوقتاّ ان کے گندے عزائم سامنے آتے رہتے ہیں۔


ٹام ٹینکریڈو یقینا تاریخ اسلام سے واقف نہیں گا اور اس نے ابرہہ کا واقعہ بھی کبھی کسی سے نہیں سنا ہو گا۔ ٹام کی معلومات کے لئے میں یہاں یہ واقعہ درج کر رہا ہوں۔

ٹام ٹینکریڈو! یہ واقعہ آج سے چودہ سو سال قبل کا ہے، اس وقت امریکا کا وجود نہیں تھا پر تمھاری ذہنیت کا ایک حکمران ‘ابرہہ‘ یمن پر حکمرانی کرتا تھا، اس وقت یہ تمھارے امریکہ سے کئی گنا زیادہ طاقت ور تھا۔ اس نے عرب کے ایک بڑے خطے پر حکومت مستحکم کی ہوئی تھی، طاقت اور غرور کے نشے نے اسے چین نہ لینے دیا۔ اس کے دماغ پر بھوت سوار ہوا کہ پوری سر زمین عرب پر نہ صرف اس کا راج ہو بلکہ دوسرے مذاہب اپنی شناخت و حیثیت ختم کر کے سر زمین عرب کی اکلوتی مستحکم حکومت کا عقیدہ و مذہب اختیار کر لیں۔ اس مقصد کیلئے ابرہہ نے صنعاء میں تمھارے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی طرح ایک نہایت بلند و بالا گرجا تعمیر کیا۔ اس کی تعمیر پر بے پناہ دولت خرچ کی گئی ۔ یہ کلیسا تعمیر کرنے کے بعد ابرہہ نے آرڈر جاری کیا کہ آج کے بعد مکہ والے کعبہ کا طواف کرنے عرب نہیں جائیں گے بلکہ صنعاء والے کلیسا کا طواف کریں گے۔ کچھ ہی دنوں بعد ‘القلیس‘ نامی اس بلند و بالا گرجے میں پراسرار آتشزدگی ہوئی۔ جس کے نتیجے میں آسمان سے باتیں کرتی یہ عمارت بالکل ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی طرح دیکھتے ہی دیکھتے راکھ کا ڈھیر بن کر زمین بوس ہو گئی۔ ٹام ٹینکریڈو! تمھارے امریکا کی طرح یمن کی سپر پاور نے بھی اس کا الزام حجازی عربوں پر رکھتے ہوئے اعلان کر دیا کہ اپنے کلیسا کا انتقام لینے کیلئے ہم بیت اللہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔ ابرہہ جب اپنی طاقتور فوج لیکر نکلا تو پورا عرب اندر سے شدید کرب و الم کا شکار تھا لیکن منتشر ہونے اور ایک قیادت تلے نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس کا مقابلہ نہ کر سکا۔ اکثر عرب قبائل تو آج کے مسلمان ملکوں کی طرح سرے سے خاموش ہی رہے اور جن چند قبائل نے غیرت و حمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تھوڑا بہت مقابلہ کیا ان بے چاروں نے نہ صرف یہ کہ منہ کی کھائی بلکہ ان سب ہی سرداروں کو قیدی بنا کر ابرہہ اپنی فوج کے ساتھ مکہ تک لے آیا۔ ٹام ٹینکریڈو! ٢٨ فروری ٥٧١ء بروز ہفتہ کو ابرہہ نے مکہ پر حملہ کیا، اسے بھی تمھارے امریکا کی طرح اپنی مادی طاقت اور فوجی قوت پر بہت گھمنڈ تھا۔ ابرہہ کے لشکر نے جب حملہ کیا اور مکہ سے کوئی مزاحمت کرنے والا کھڑا نہ ہوا تو اللہ نے اپنے گھر کی حفاظت کے لئے چھوٹے چھوٹے پرندوں کی کچھ ٹولیاں بھیج کر سپر پاور کی فوج اور اس کے ہاتھی، گھوڑوں پر کیمیکل بموں کا ایسا زور دار حملہ کروایا کہ ان پرندوں کی چونچ اور پنجوں سے جو بم گرتا وہ اپنے ہدف کے پورے وجود سے آر پار ہو جاتا اور جس کو لگتا اس کا گوشت اور جوڑ کٹ کٹ کر اس کے وجود سے الگ ہونا شروع ہو جاتے۔
ٹام ٹینکریڈو! یہ تھا قدرتی ایٹمی پلانٹ میں تیار کردہ منی بموں کا ہلکا سا نظارہ جو تمھارے امریکی پلانٹوں سے کئی کروڑ ہزار گنا زیادہ طاقت ور ہے۔
ٹام ٹینکریڈو! اب دل تھام کے ابرہہ کا انجام بھی سن لو! ۔۔۔ ابرہہ وادی مغمس سے بھاگتا ہوا صنعاء جب واپس پہنچا تو اس وقت اس کے جسم سے گوشت کٹ کٹ کر گر رہا تھا۔ اللہ نے اسے نشان عبرت بنانے کیلئے اپنے وطن پہنچ کر اپنی قوم کے سامنے سسک سسک کر دم توڑنے کا موقع فراہم کیا تاکہ دنیا کو معلوم ہو جائے کہ خدا کی نشانیوں سے ٹکر لینے اور انہیں مٹا دینے کی ڈینگیں مارنے والوں کا کیا حشر ہوتا ہے۔
ٹام ٹینکریڈو! اگر تم بھی ابرہہ کا کردار نبھانا چاہتے ہو تو ہو اس کا انجام بھی سوچ لو ۔۔۔ کیونکہ تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔


بلاگر حلقہ احباب