بلاگ پہ آمد کا بہت بہت شکریہ
Showing posts with label تاریخ. Show all posts

طبیب کی نصحیتیں

طبیب کی نصحیتیں
حجاج بن یوسف نے اپنے دور کے مشہور طبیب سے فرمائش کی کہ اسے طب کی کچھ اچھی اچھی باتیں بتائے۔


اُس مشہور طبیب نے کہا؛۔
  1. گوشت صرف جوان جانور کا کھاؤ۔
  2. جب دوپہر کا کھانا کھاؤ تو تھوڑا ٹائم سو جاؤ اور شام کا کھانا کھا کر چلو، چاہیے تمہیں کانٹوں پر چلنا پڑے۔
  3. جب تک پیٹ کی پہلی غذا ہضم نہ کر لو دوسرا کھانا نہ کھاؤ، بھلے تمہیں تین دن ہی کیوں نہ لگ جائیں۔
  4. جب تک بیت الخلاء نہ جاؤ، سونے کے لئے مت لیٹو۔
  5. پھلوں کے نئے موسم میں پھل کھاؤ، جب موسم جانے لگے تو پھل کھانا چھوڑ دو۔
  6. کھانا کھا کر پانی پینے سے بہتر ہے کہ زہر پی لو یا پھر کھانا ہی نا کھاؤ۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

سات شہزادوں کی کہانی

سات شہزادوں کی کہانی 
اس تصویر میں سات شہزادے ہیں۔ یہ تمام شہزادے دو مختلف ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔


تصویر نمبر 1 میں نظر آنے والے شہزادے کا تعلق برطانیہ سے ہے۔ یہ برطانیہ کے شاہی خاندان کا چشم و چراغ ہے۔ اس کا ملک حالت جنگ میں نہیں لیکن اس کے ملک کا ایک اور ملک ارجنٹائن کے ساتھ تنازع چل رہا ہےیہ اپنی خوشی سے اس سال کے شروع میں محاذ جنگ پر پہنچا۔ 6 ہفتے وہاں تعینات رہا۔ خود ہیلی کاپٹر اڑا کر اپنے وطن کے فوجیوں کے ساتھ میدان جنگ میں شامل ہوا۔

تصویر نمبر 2 میں نظر آنے والے شہزادے کا تعلق بھی اول الذکر شہزادے کے ساتھ ہے، یہ اس کا چھوٹا بھائی ہے۔ اس نے بھی سخت فوجی ٹریننگ حاصل کی اور سنہ 2007ء میں اپنے وطن کے 9500 فوجیوں کے ساتھ افغانستان کے میدان جنگ میں 10 ماہ تک اپنی خوشی سے تعینات رہا۔ وہاں اگلے مورچوں پر جنگ لڑتا رہا۔ 10 ماہ بعد اسے زبردستی واپس بلا لیا گیا۔ اب بھی اس کا کہنا ہے کہ وہ جلد از جلد دوبارہ افغانستان جا کر اپنا مشن مکمل کرنا چاہتا ہے۔
کیا اس کے بغیر اس کے ملک کے فوجی جنگ لڑنے سے انکاری تھے؟
ہرگز نہیں ، وہ صرف دکھانا چاہتا تھا کہ وطن کی خاطر عیش بھری زندگی کو قربان کر سکتا ہے۔

باقی پانچ شہزادوں کا تعلق ایک ملک پاکستان سے ہے۔ جو اس وقت حالت جنگ میں ہے اور چاروں طرف سے دشمنوں سے گھرا ہوا ہے۔ اس ملک پر آئے دن ڈرون حملے ہوتے ہیں، خود کش حملے جہاں کا معمول ہیں، جس کی فوج کے ہزاروں جوان جامِ شہادت نو ش کر چکے ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے کی بات ہےکہ اس ملک کے سینکڑوں فوجی جوان سلالہ چیک پوسٹ حملے میں شہید کر دیئے گئے۔ کسی شہزادے کے دل میں اپنے وطن کے سرفروشوں کے لئے درد کی لہر نہ اٹھی۔ کچھ ہی دنوں بعد 139 فوجی جوان گلیشئر کے نیچے دب کر شہید ہو گئے۔ لیکن ۔۔۔۔ کسی شہزادے کو اپنے عیش و آرام سے اتنی فرصت نہ ملی کہ جا کر اس جائے حادثہ کا دورہ ہی کر سکتا ۔
 ان کا تعلق کسی شاہی خاندان سے تو نہیں۔۔۔لیکن ٹھاٹ کسی بھی شاہی خاندان سے زیادہ ہیں۔ ان کی زندگی کا مقصد وطن کی خاطر جان قربان کرنا نہیں بلکہ صرف اقتدار اور پیسہ ہے۔

یہ سب کچھ دیکھ کر مجھے بتایئےکہ کیا آپ کا رب سے شکوہ کرنا مناسب ہےکہ وہ اس امت پر مہربان نہیں ہے؟
اور کیا اس ملک پر کوئی ڈرون حملے کی جرات کر سکتا ہےجس کے شاہی خاندان کے نوجوان اپنی آزادی کی حفاظت کے لئے جان تک دینے کو تیار ہوں؟   از دیوانہ مجنوں

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

تبصرہ: تذکرہ اولیائےکرام چکوال

تاریخ اور صوفیانہ تذکرات دو جدا مناظر ہے۔ دونوں میں مشترکہ بات ذکر کی ہے۔مگر ذکر مشترکہ نہیں۔ تاریخ کا حقائق پر مبنی ہونا ضروری ہے۔ یہ بحث جدا ہے کہ وہ حقائق مخصوص نقطہ نظر بھی رکھ سکتے ہیں۔ صوفیانہ تذکرات میں اکثر روایات درج ہوتیں ہیں۔ روایات حقیقت بھی ہوتیں ہیں اور حکایت بھی۔ یہاں اصل مقصد نکتہ کھولنا یا نقطہ سمجھانا ہوتا ہے۔ لہذا دونوں میں فرق اپنے اصل مقصد کے سبب آجاتا ہے۔ اسی بنیاد کو سامنے رکھ کر یہ اذکار زیرقلم رہتے ہیں۔

ایسے ہی جب مجھے کتاب اولیائے کرام چکوال کا مسودہ سونپا گیا تو میں نے حسب معمول اعتراضات کی بوچھاڑ کر ڈالی کہ ایک وقت ایسا آیا کہ اشاعت کا مرحلہ ملتوی ہونے کو تھا۔ وجہ یہ تھی کہ میری سرسری نگاہ سے چند واقعات گزرے، جن کے طرز تحریر پر مجھے کچھ باتیں درست معلوم نہ ہوتیں تھیں۔ خیر کچھ کی تصدیق مصنف نے نئے سرے سے کی اور مجھے مطمئن کیا کہ وہ حقیقت پر مبنی ہے۔ دوسری جانب میں نے اپنے ذرائع سے بھی ان کی صحت کو دوبارہ پرکھا۔ جہاں مصنف عابد منہاس نے تاریخی حقائق اور روایات کو ایک ہی سمجھ لیا تھا۔ وہاں میں نے لفظ روایت کا اضافہ کروایا اور عرض ناشر میں بھی اس کو شامل کیا۔ کہ اگر قاری کو کہی، تاریخ اور روایات میں تضاد ملے تو وہ اس میں تمیز کرسکیں کہ روایات مقبول عام قصہ بھی ہوسکتا ہے۔

مجھے ہمیشہ اولیاء کرام کی تذکراتی کتب سے متعلق ایک کمی محسوس رہی ہے۔ کتاب میں ہم اللہ والوں کی کرامات اور قصص بھر دیتے ہیں۔مگر ان کی تعلیم کیا تھی؟ مزید ان کی نثر یا شعر کی تحریر یا قول کیا تھے؟ ملفوظات میں کیا کچھ لکھا گیا؟ ان پر ہمیشہ توجہ کم ہی دی جاتی رہی ہے۔ ہم محترم ہستیوں کے مافوق الفطرت واقعات تو بہت درج کرتے ہیں۔ مگر ایک عام انسان کے طور پر ان کا مزاج، رویہ اورکردار کیسا تھا؟ اس پر ہمیشہ قابل غورتوجہ نہ دی گئی۔ اصل مقصد تو یہ ہے کہ ہم اپنے بزرگان کے وہ حالات بھی جانے جن کو پڑھ کر ہرفرد عمل کرے اور اپنے کردار میں ایک حسین تبدیلی لائے جو ہمیشہ سے صوفیاء کرام کا مقصد رہا۔ مقصد کیا تھا؟ معاشرہ کی اصلاح و تعمیر۔

ایک لسانی محقق کی عینک لگائو تو یہی کمی اس تذکرہ اولیاء چکوال کا معاملہ بھی ہے۔ جس میں شاہ مراد رحمتہ اللہ کا کلام بھی نہ سمویا جاسکا۔ جو اردو زبان کے پہلے غزل گو شاعرہے۔ایسے ہی "اقبال اور بھوپال" کے حوالے سے اسدالرحمان قدسی قلندر الزماں رحمتہ اللہ کا بھی کلام مجھے نہ مل سکا۔جو بھون میں مدفون ہے۔جس سے میں واضح انداز میں سمجھا ہوں کہ مصنف نے احوال و آثار پر توجہ دی مگر اشغال اس کا موضوع نہ تھے۔ لیکن ایسا ہرگز نہیں کہ مصنف اس سلسلہ میں مکمل غافل ہو۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ گزشتہ برس "چکوال دا پنجابی ادب وچ حصہ" اور "چکوال میں نعت گوئی " جیسی دو تخلیقات اسی مصنف کی تحریر کردہ ہیں جو ہمارے ادارہ کے توسل سے منظر عام پر آچکی ہیں۔ لہذا ،ان دونوں کتب نے اس جھول کی جھولی پہلے سے بھر رکھی ہے۔

ناقدانہ رائے کے بعد میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس محنت کی حوصلہ افزائی بھی ازحد ضروری ہے۔ کیونکہ جب میں خود کو مصنف کے مقام پر رکھ کر دیکھتا ہوں تو بہت سے حوصلہ شکن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ خصوصاً جب اس راہ پر گزرگاہ کے باقاعدہ آثار نہ ملتے ہوں۔ تو انجانے راستہ میں راہ تلاش کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ ممکن ہے کہ آپ کو کوئی غلط سمت میں بھٹکا دیتا ہوں۔ مگر مصنف نے مسلسل کوشش جاری رکھی۔ آخر اولیاء، صوفیاء اور پیران کرام کی علاقائی فہرست اور مختصر حد تک حالات دریافت کر لینا بھی دشوار مرحلہ تھا۔ یہاں درج کئی معلومات میرے لیے نئی تھی، جیسے نوگزے مزار، حضرت حام ٰ کا مزار وغیرہ۔ چند روایات کی درستگی تک معترض بھی رہا خصوصاً دندہ شاہ بلاول کی وجہ تسمیہ اور چند دیگر واقعات۔ مگر جاننے کو بہت کچھ ملا۔

اس کتاب میں 398 بزرگان کے حالات درج ہیں، 11 چشموں کا تذکرہ اور 218 نورانی آستانوں کے صرف اسماء گرامی درج ہیں۔ اس سے قبل بھی تذکرہ اولیائے پوٹھوہار، تذکرہ اولیائے پنجاب، تذکرہ اولیائے پاک و ہند بازار میں ملتیں ہیں۔ مگر میں کسی بھی تخلیق کو ہم پلہ نہیں سمجھتا۔ سب اپنی اپنی جگہ درست ہیں۔ ہاں یہ ضرور ہواکہ اس نئے پھول کے کھلنے سے تخلیقی اور تحقیقی راہ میں معاونت بڑھے گی۔

بطور ناشر میری ہمیشہ خواہش رہی کہ کتاب کا صفحہ اور صفحات پر موجود الفاظ اور جملوں کی تزئین دل کو بھائے۔ جلد بندی مضبوطی اور خوبصورتی میں اعلی معیار کی ہو اور قیمت اتنی ہوکہ غریب آدمی کی دسترس میں ہوں۔ تاکہ ملک میں کتاب پڑھنے کا رجحان قیمت کے سبب نہ رکنے پائے۔

آخر میں مصنف عابد منہاس صاحب چاہتے تھے کہ ان کی اس کتاب پر تبصرہ ہونا چاہیے۔ میرا تبصرہ کے حوالے سے مزاج اور طرح کا ہے، میں تعریفوں کے جھوٹے پل باندھنے کا قائل نہیں اور نہ ہی مبالغہ آمیزی سے کام لینا مجھے منظور نہیں۔ مزید جب آپ ناشر ہوں اور کتاب پر تبصرہ کریں تو کاروباری انداز سے ناقدانہ تبصرہ خودکشی سمجھا جاتا ہے۔مگر میرا کتاب سے تعلق ایک سٹوڈنٹ کا ہے۔ اور میں تبصرہ سٹوڈنٹ کے نقطہ نظر سے کرتا ہوں۔ تاکہ ہم متلاشیوں کی پیاس میں کچھ کمی واقع ہوسکے۔ہمارے اذہان میں موجود سوالات کے جوابات کھل سکیں۔ یہی بنیاد میرے معیار کی ابتداء ہے۔

والسلام
فرخ نور

اہم سٹاکسٹ
کشمیر بک ڈپو ، تلہ گنگ روڈ، چکوال
رائف اسٹیشنرز، عمر ٹاور، حق سٹریٹ، اردو بازار، لاہور
علم و ادب کتاب گھر، عمر ٹاور، حق سٹریٹ، اردو بازار، لاہور
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

پاکستانیوں کے لئے ایک اہم خبر

١٩٧١ء
١٩٧١ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے ایک جلسہ عام میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) ہم پر بوجھ ہے، یہ چھے کروڑ بھوکے ننگے لوگ باتھ روم تک نہیں جاتے، ان کے جسموں سے مچھلی کی بُو آتی ہے، ان لوگوں کو سیلاب سے نکال نکال کر ہم تھک چکے ہیں، یہ چار چار اور پانچ پانچ فٹ کو بونے ہیں، سینے کا سائز اور وزن کم ہے اس لئے ہم انہیں فوج اور پولیس میں بھی بھرتی نہیں کر سکتے، ہم بنگالیوں کی وجہ سے ترقی نہیں کر پا رہے

٢٠١١ء
انہی چار چار اور پانچ پانچ فٹ کے بونوں نے سندھ کے سیلاب متاثرین کے لئے پاکستان کو ٢٠ لاکھ ڈالر امداد دے دی۔


یہ ہے چالیس سال بعد دونوں ملکوں فرق، کبھی وہ لینے والے تھے آج ہم بھیک منگے بن چکے ہیں۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

عبدالستار ایدھی احمدیوں کا ایوارڈ واپس کریں، جمعیت علماء برطانیہ

ویکفیلڈ (پ ر) جمعیة علماء برطانیہ کے قائدین مولانا عبدالرشید ربانی، مفتی محمد اسلم، مولانا اسلم زاہد، مولانا اسلام علی شاہ، مولانا امداد اللہ قاسمی، حافظ محمد اکرام، قاری ممتاز، قاری غلام نبی، مولانا قاری شمس الرحمن، مولانا ادریس، مولانا خورشید، مولانا خالد محمود حسین، مولانا رفیق احمد شاہ، مفتی خالد محمود، فیض الحسن، مفتی محمد حسین، قاری عبدالرشید رحمانی، مولانا محمد حسین، مولانا ابراہیم خان، مولانا عزیز الحق ہزاروی، مولانا نصیب الرحمن، مولانا جمیل احمد، بابو مشتاق، ایوب لہر، حاجی قمر عالم، مفتی عزیز الرحمن، حافظ انور، قاری حفیظ الرحمن، مفتی طارق، حافظ عمر فاروق، مولانا رشید راجہ، قاری محمد نیاز، ڈاکٹر اشرف لہر، مفتی طارق، شیر اعظم، مفتی طارق علی شاہ، قاری حضرت علی، مولانا شاہ رفیع الدین، مولانا عبدالشکور، حافظ صفدر و دیگر نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ اپنے آپ کو احمدی کمیونٹی کہنے والوں کا اسلام اور مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسلئے انہیں اسلام اور مسلمانوں کا نام استعمال نہیں کرنے دیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے بہادر اور نڈر قائد عوام مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں بغیر کسی دباؤ کے قائد ملت اسلامیہ مفتی محمود کی جانب سے پیش کردہ دلائل کے انبار کی روشنی میں تمام ممبران پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر مرزا غلام احمد قادیانی کو غیر مسلم قرار دیا تھا۔ انہوں نے مسلم ممبران پارلیمنٹ سے درخواست کی کہ وہ پارلیمنٹ کے ممبران اور وزرا کو ان کے بارے میں آگاہ کریں ۔انہوں نے کہا کہ عبدالستار ایدھی کے نمائندے نے ان سے ایوارڈ لیکر زیادتی کی ہے۔ اس لئے عبدالستار ایدھی کو فی الفور ایوارڈ واپس کردینا چاہئے۔ دریں اثناء ختم نبوت اکیڈمی لندن کے سربراہ مولانا عبدالرحمن باوا، ختم نبوت ایجوکیشن سینٹر برمنگھم کے مولانا امداد الحسن نعمانی، ختم نبوت سینٹر فارسٹ گیٹ لندن کے مولانا خالد محمد، اشفاق احمد، حاجی رفیق، یوکے اسلامک مشن علماء کونسل کے سیکرٹری مولانا اقبال اعوان، جمعیة العلمائے برطانیہ کے امیر قاری رضا الحق، مولانا گل محمد، مولانا احسان میر، قاری تصور الحق، مولانا قاسم، مولانا اکرام الحق خیری، اسلامک اکیڈمی مانچسٹر کے سیکرٹری مولانا مفتی فیض الرحمن اور برطانیہ بھر کے علمائے کرام اور آئمہ مساجد نے مرزا غلام احمد قادیانی کی جماعت کے پانچویں سربراہ مرزا مسرور کے پیس سمپوزیم کے خطاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مرزا مسرور کو چاہئے کہ وہ دنیا میں امن قائم کرنے کی بات کرنے سے پہلے اپنے شہر چناب نگر میں امن قائم کریں۔ انہوں نے کہا کہ مرزا مسرور کو شکایت ہے کہ پاکستان کی اسمبلی نے مولویوں کے حق میں فتوے دیئے۔ ضیاء الحق مرحوم نے ان کے خلاف آرڈیننس نافذ کیا تویہ سب کچھ پاکستان کے مسلمانوں کے مطالبے پر کیا گیا اور انصاف کا تقاضا پورا کرتے ہوئے مرزا ناصر کو پارلیمنٹ میں آکر اپنا موقف پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا اور پھر غیر مسلم اقلیت ہونے کا اعلان کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مرزا مسرور اور ان کی جماعت کو چاہئے کہ وہ امت مسلمہ کے فیصلے کو تسلیم کریں اور اسلام اور مسلمانوں جیسے ٹائٹل کا استعمال نہ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عقیدہ ختم نبوت اسلام کی بنیاد اور ہمارے ایمان کا حصہ ہے اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ بشکریہ جنگ


مکمل تحریر اور تبصرے >>>

لاؤ تو قتل نامہ مرا

"لاؤ تو قتل نامہ مرا"
بھٹو کا عدالتی قتل انصاف کے نام پر ہی نہیں تاریخ پر بھی ایک دھبہ ہے۔ عدالت کے پاس اب یہ موقع ہے کہ ریکارڈ کو درست کرے۔
__________________________________

فیض کی نظم " لاوّ تو قتل نامہ مرا"

"بھٹو کی سزائے موت پر لکھی گئی"

سننے کو بھیڑ ہے سر محشر لگی ہوئی
تہمت تمہارے عشق کی ہم پر لگی ہوئی
رندوں کے دم سے آتش مے کے بغیر بھی
ہے میکدے میں آگ برابر لگی ہوئی
آباد کرکے شہر خموشاں ہر ایک سو
کس کھوج میں ہے تیغ ستمگر لگی ہوئی
آخر کو آج اپنے لہو پر ہوئی تمام
بازی میان قاتل و خنجر لگی ہوئی
لاوّ تو قتل نامہ مرا میں بھی دیکھ لوں
کس کس کی مہر ہے سر محضر لگی ہوئی
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

بنگال کی نوابی سے پاکستان کی گورنر جنرلی

برصغیر کی گزشتہ ہزار سالہ تاریخ میں ہمیشہ ایک دہائی اہم رہی، وُہ ہرصدی کی ساٹھویں دہائی تھی۔

الپتگین کو سامانی حکمرانوں نے 950ءمیں اقتدار عطاءکیا۔ جس نے ہندوستان کے نئے دور کی بنیاد رکھی۔ سبکتگین اور محمود غزنوی اسی سلسلہ کی کڑی بنے۔غزنوی خاندان نے نوشتگن کو1052ءمیںہندوستان کا باضابطہ سرکاری حاکم مقرر کیا۔1151ءمیں غزنی کی بربادی غوری اقتدار کا اعلان تھا۔ خاندانِ غلاماں کے دور میں بلبن نے 1257ءمیںہلاکو خان کو بدترین شکست دی۔جس نے دِلی میں مسلمان اقتدار کو ایک نیا دوام بخشا۔1351 ءمیں محمد بن تغلق کی وفات کے بعد ہندوستان کی تاریخ میں فیروز شاہ تغلق کا ایک طویل رفاہی دور شروع ہوا۔1451ءمیں لودھی خاندان برسر اقتدار آیا تو پہلی مرتبہ ہندوستان میں پٹھان اقتدار کو دوام نصیب ہوا۔ 1557ءمیں مغلوں کوہندوستان میں مستقل اقتدار حاصل ہوا۔1657ءمیں ہندوستان کی مشہور زمانہ تخت نشینی کی ایسی جنگ چھڑی ۔ جس میں شہزادے بھائی قتل ہوئے،بادشاہ باپ قید ہوا۔دو بہنوں(جہاں آراءاور روشن آراء) کی جنگ نے مغل استحکام کی بنیادیں کمزور کر ڈالی۔1757 ءہماری تاریخ میں وُہ فیصلہ کن موڑ تھا۔ جس نے انگریزوں کو معاشی اور انتظامی استحکام بخشا اور دو صدیوں کے اقتدا ر کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ 1857ءہماری نااہلی اور کوتاہیوں کی کوتاہ اندیشی کاانجام تھا۔ 1947ءاس ترتیب سے شائید کچھ ہٹ کر اہم واقعہ ہو گیا۔ مگر-ء1955-58 کا عرصہ ہماری تاریخ کو 1757ءکی کڑی سے ایک بار پھر ملاتا ہے۔

جنگ پلاسی1757ء کوئی بڑا معرکہ نہ تھا۔ مگر اس کی اہمیت ایسی ہے۔ جیسے ہماری تاریخ، تہذیب اور ثقافت پر کوئی بڑا ہی زہر آلود گھاﺅ لگا ہو۔ جس نے رفتہ رفتہ سرطان(کینسر) کے مرض کی صورت اختیار کر لی اور ہمارے تاریخی تسلسل کو موت کی گہری نیند سلایا۔

اس جنگ سے قبل فرانسیسی اور برطانوی تجارتی کمپنیوں کے مابین ہندوستان کی سیاست میں کشمکش جاری تھی۔ جن میںفرانسیسی ”ڈوپلے“ کے باعث طاقتور حریف تھے۔ مگر جنگ پلاسی نے فرانسیسی اقتدار کے خواب کا ہمیشہ کے لیے نہ صرف خاتمہ کیا۔ بلکہ بنگال کی معیشت برطانوی اقتدار کا سرچشمہ بنی۔ یہ دولت ہندوستان میں کمپنی ملازمین کوچند برسوں میںمالدار کرتی، غدار خریدتی، زیادہ تنخواہ پر ہندوستانی فوج میں بھرتی کرتی، دولت فرنگستان بھی بھیجی جاتی تھی۔

آج ہم پیسے کے پُتر ہونے کو لعن طعن کرتے ہیں۔ زیادہ تنخواہ کے لالچ میں صدیوں پہلے لاکھوں ہندوستانی برطانوی فوج کا حصّہ بنے اور ہندوستان کا قبضہ انگریز کے لیے ممکن ہوا۔ سینکڑوں ہندوستانی ریاستیںچڑھتے سور ج کی پجاری رہی۔ اِن میں سے کچھ وہی کمپنی مہاراج کے مِتر تھے، جنھوں نے 1857ءکی جنگ آزادی میں حصّہ اپنی اپنی محرومیوں اور خودداریوں کے لیے لیا۔ اِس تحریک کو دفن کرنے والوں میں ہندوستانی بھی شامل تھے۔

2000ء میں ایک کتاب"From Plassy to Pakistan"امریکی ریاست میری لینڈ سے چھپی۔ جس کا مصنف میرہمایوں مرزا تھا۔ جو تیس برس تک ورلڈ بینک میں وائس پریذیڈینٹ کے سنیئر ایڈوائیزر رہے اور1988ءمیں ریٹائرڈ ہوئے۔ ان کا بڑا اہم تعارف یہ تھا کہ یہ پاکستان کے پہلے صدر میجر جنرل میرسید سکندر علی مرزا کے برخوردار ہے۔جو پاکستان کے58-1955ءمیںحکمران تھے۔اس کتاب کے دو حصے ہیں۔ پہلے حصہ میں خاندانی پس منظر ہے۔ جو کہ 1757ءسے لیکربیسویں صدی کے آغاز تک ہے۔ جس میں یہ انکشاف کیا گیا کہ سکندر مرزاکا سلسلہ ء نسب1757ءکی جنگ پلاسی کے اہم کردار اوربنگال کے نواب میر جعفر سے ملتا ہے۔دوسرے حصہ میں سکندر مرزا اور ہمایوں مرزا کی یاداشتوں کا تذکرہ ہے۔

آج سے دس برس قبل جب میں نے یہ سنا تھا تو میرے لیے یہ بات من و عن قبول کرنے کے لیے کافی نہ تھی۔ میں نے خود اس صحت کو جانچنے کے لیے تلاش جاری رکھی۔ کئی مقامات پر تاریخ میں گھناﺅنے کھیل دیکھے۔ یہ بات درست ثابت ہوئی کہ ہم سات نسلوں سے غلام چلے آرہے ہیں۔ سکندر مرزا کی آٹھویں پشت میر جعفر سے ملتی ہے۔ اس کے لیے نجفی خاندان (میر جعفر کا خاندان) کا مستند شجرہ درکار تھا۔

کچھ سوال بھی ذہن میں اُبھرے۔ میر جعفر کا خاندان کہاں سے آیا؟ پس منظر کیا تھا؟ مرزا ، میر اور سید خطابات یکساں کیوں استعمال ہوئے؟ 1757 ءکے بعد یہ خاندان کہاں رہا؟ یہ خاندان نجفی کیوں کہلاتا ہے؟

جب کچھ خاندان اقتدار میں آتے ہیں تو اُنکا کچھ پس منظر بھی تاریخ میں شامل ہو جاتا ہے۔ میر جعفر کے دادا کا نام سید حسین نجفی تھا۔ جو نجف سے آبائی تعلق رکھتے تھے اور روضہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خادم ِ نگران تھے۔ کہتے ہیں کہ اورنگ زیب عالمگیر شہنشاہ ہندوستان 1677ءمیں جب حج پر مکہ گیا تو سید حسین نجفی کو ہندوستان لایا۔ اور اِس کے علم سے متاثر ہوا۔ مجھے ابھی تک ایسا کوئی تاریخی حوالہ نہیں مل سکا۔مگرایسا ضرو ر ہے کہ یہ خاندان عہد عالمگیری میں دلی آیا اور شاہی ملازمت اختیار کی۔ پھر مزید یہ لکھا گیا کہ شاہی خاندان کے امور کا منتظم بنایا تھا۔مگر اس خاندان کے حوالے سے کچھ لوگ دعوی کرتے ہیں کہ بعد میں یہ چیف جسٹس آف سپریم کورٹ عالمگیری دور میں ہوئے۔ اس دعوٰی میںکمزوری محسوس ہوتی ہے۔ سید حسین نجفی مسلکی اعتبار سے شیعہ تھے۔اور رنگ زیب شیعہ مسلک کے لیے سخت ردّعمل رکھتا تھا۔ جب بنگال میں اُسکے بھائی شجاع نے شیعہ مسلک اختیار کیا تو اور نگ زیب کا رویہ شجاع کے اقتدار کے لیے نرم نہ تھا۔

مغل دور میں اکبر بادشاہ کے اتالیق بیرم خان نے ایک شیعہ شیخ گدائی کمبوہ کوصدر الصدور (چیف جسٹس آف سپریم کورٹ، یہ عہدہ قاضی القضاة سے اُوپر ہوتا تھا، یہ عہدہ 1247ءمیں التمش کے بیٹے سلطان ناصر الدین نے متعارف کروایا تھا۔)مقرر کیا تو اُسکو شدید مزاحمت کا سامنا ہوامزید اقتدار بھی اُسکے ہاتھ سے رخصت ہوا تھا۔مغلیہ خاندانی پس منظراورمزاج ِ عالمگیری کے مطابق یہ دعوٰ ی باطل دکھائی دیتا ہے۔ (نوٹ: عالمگیر کی وفات کے بعد اُسکے بیٹے معظم نے شیعہ علماءکی حمایت کی تھی۔)

میر جعفر کا خاندان اپنا مزید قریبی تعلق مغلوں سے منسلک کرنے کے لیے ایک دعوی مزید رکھتے ہیں۔ سید حسین نجفی کے بیٹے سید احمد نجفی سے شہزادہ دارا الشّکوہ کی ایک بیٹی بیاہی گئی۔ جس سے سید محمد نجفی سرکاری نام میر جعفر علی خان کی پیدائش1691ءمیں ہوئی۔ ایک بے بنیاد دعوی ہے۔اس دعوی کا مقصد خود کو شاہجہاں کا وارث ثابت کرنے کے سواءکچھ نہیں ہوسکتا۔

بیشک مغلوں میں کچھ شادیاں شیعہ مسلک میں سیاسی مصلحت کے تحت ہوتی رہی مگر وُہ ایران کے شاہی خاندان سے منسلک تھی۔ اورنگ زیب عالمگیر کے دور میں شہزادیوں کا بیاہ جانا بھی ایک اور انداز اختیار کر گیا تھا۔ اسکے لیے پہلے میںاورنگزیب کے تمام بھائیوں کی اُولادوں کا ذکر کروں گا۔ پھر اس نکتہ پر بات باآسانی واضح ہوجائے گی۔

شاہجہاں کے ولی عہد بیٹے دارالشکوہ کے چار بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں۔ سلیمان شکوہ،سپہرشکوہ،مہر شکوہ اور ممتاز شکوہ ۔تاریخ میں دارا کی ایک ہی بیٹی کا ذکر ملتا ہے۔ جو حیات بھی رہی۔جہانزیب بیگم عرف جانی بیگم، یہ شہزادی شاہجہاں کی چہیتی پوتی بھی تھی۔دارا کی بڑی بیٹی1634ءمیں نادرہ بیگم(شاہجہاں کے سب سے بڑے بھائی کی بیٹی) کے بطن سے ہوئی مگر کم سنی میں ہی وفات پائی۔ مزیدشہزادی پاک نہاد بیگم ، شہزادی اعمال النساء،شہزادہ مہر شکوہ اورشہزادہ ممتاز شکوہ نے بھی کم عمری میں دُنیا سے کو چھوڑا۔ دارا لشکوہ کے تین بچے زندہ رہے۔سلیمان شکوہ، سپہرشکوہ، جہانزیب بیگم

شاہ شجاع حاکم بنگا ل تھا اور دارا لشکوہ سے چھوٹا تھا۔اس کے تین بیٹے اور پانچ بیٹیاں تھیں۔اس کے تینوںبیٹے زین الدین محمد،زین العابدین،بلند اختر اور ”پیاری بیگم(بیوی شاہ شجاع)“ سے دو بیٹیوں کو راجا اراکان کے حکم سے جولائی1663ءمیں بمقام مروہاﺅنگ میں قتل کر دیا گیا۔دلپذیربانو بیگم کا بچپن میں انتقال ہوا۔گل رُخ بانو بیگم1659ءمیں اورنگزیب کے بیٹے شہزادہ سلطان محمد مرزا سے بیاہی گئی مگر اپنے باپ شجاع کے ساتھ مروہاﺅنگ میں قتل ہوئی۔ شہزادی آمنہ بیگم بھی شجاع کی چہیتی بیوی ”پیاری بیگم“ سے تھی اور1660ءمیں اراکان کے بادشاہ نے شجاع کے خاندان میں سب سے پہلے اس کو اپنے حرم میں داخل کیا اور 1666ءمیں بادشاہ اراکان سنداتھواما نے قتل کروا ڈالی۔ لہذا شجاع کی تمام اولاد، بیگمات مروہاﺅنگ میں قتل ہوگئیں۔

اورنگ زیب کی تین بڑی بیٹیاں زیب االنساء، زینت النساءاوربدر النساءغیر شادی شدہ فوت ہوئیں۔( زیب النساءنے 1702میں وفات پائی، دلی میں اس کا مقبرہ تھا،شہر لاہوربمقام سمن آباد میں جو مقبرہ اس کے نام سے منسوب ہے ، وُہ مناسب ثبوت نہیں رکھتا۔) باقی بیٹیوں میں مہر النساء، زبدةالنساءاورحجةالنساءتھیں اور محمد مرزا، محمد سلطان مرزا،محمد معظم،محمداعظم شاہ، محمد اکبر اور کام بخش بیٹے تھے۔محمد مرزا نے1665ءمیں وفات پائی تھی۔اورنگزیب کے سات بچوں کی نسل باقی رہی۔ مہر النساء، زبدةالنساء،سلطان مرزا،محمد معظم،محمداعظم شاہ، محمد اکبر اور کام بخش

مراد گجرات کا حاکم تھا اور سب سے چھوٹا بھائی تھا۔ سلطان یارمحمد اور ایزد بخش دو بیٹے اور چار بیٹیاں تھیں۔بڑی بیٹی بلخ کے پیرزادہ سے بیاہی گئی۔ اس کے علاوہ دوستدار بانو بیگم، شہزادی عائشہ بانو بیگم اور شہزادی ہمراز بانو بیگم تھیں۔

دارالشکوہ کومرتد قرار دیکر60-1659 ءمیں قتل کر دیا گیا، مراد کے ذمہ دیوانِ گجرات کا قتل ٹھہرا جس میںاُس کو 1660ءمیں سزائے موت ہوئی۔شجاع کو1661ءمیں اراکان کے بادشاہ نے قتل کروایا۔

مغل تاریخ میں واحد مثال ہے کہ اورنگزیب نے اپنے مقتول بھائیوں کے زخموں کو بھرا۔ اپنی نگرانی میں اپنے بچوں کی طرح شاہی محل میں پرورش اور تربیت کی۔مزید اپنے بھائیوں کے بچوں میں ہی شادیاں کیں۔

سلیمان شکوہ جانشینی کی جنگ میں اپنے باپ دارا کا دستِ راز تھا۔ لہذا گوالیار کے قلعہ میں بحالت قید مرا۔ سلیمان شکوہ کی دو بیٹیاں تھیں۔چھوٹی بیٹی نواب فاطمہ بانو بیگم کا بیاہ خواجہ بہاﺅ ولد خواجہ پارسا سے 1678ءمیںہوا،1706ءمیں وفات پائی۔ بڑی بیٹی سلیمہ بیگم اور نگ زیب کے بیٹے محمد اکبر سے 1672ءمیںبیاہی گئی۔ جس نے اپنے باپ کے خلاف بغاوت کی اور ناکام ہوکر ایران بھاگا جہاں 1702ءمیں اُس نے وفات پائی۔ جس کے متعلق اورنگ زیب نے کہا تھا۔”میں انتظار کروں گا کہ ہم دونوں میںسے پہلے کون مرے گا۔“ ان دونوں سے پیدا ہونے والا لڑکا نیکو سئیر تھا۔ جو 1681-1721 تک قید میں رہا اور بحالت قید مرا۔1719ءمیں اس شہزادہ کو چند ماہ کی بادشاہت نصیب ہوئی مگر پھر قید میں ڈال دیا گیا۔

سلطان سپہر شکوہ کی شادی اورنگزیب کی بیٹی زبدةالنساءسے1673ءمیں ہوئی۔ جس سے شہزادہ عالی تبار 1676ءمیں پیدا ہوا۔سپہر شکوہ نے 1707ءمیں ترپن برس کی عمر میں وفات پائی۔ مزید زبدة النساءنے بھی اسی برس عالمگیر کی وفات سے قبل داعی اجل کو لبیک کہا۔

دارالشکوہ کی اکلوتی بیٹی جہانزیب(جانی) بیگم کی شادی اورنگ زیب کے بڑ ے بیٹے محمد اعظم شاہ سے1669ءمیں ہوئی۔ یہ شہزادی عالمگیر کی وفات کے تین ماہ بعد تک ملکہ ہندوستان بھی رہی۔

مراد کا بیٹاسلطان یار محمد 1646ءمیں وفات پا گیا تھا۔ ایزاد بخش عالمگیر بادشاہ کی بیٹی مہرالنساءسے 1672ءمیںبیاہا گیا اور 1709ءکو دُنیا سے رخصت ہوا۔ ان سے شہزادہ دیدار بخش اور داور بخش پیدا ہوئے۔دیدار بخش کی پوتی شہزادی عفت النساءتھی۔جو پہلے نصر اللہ مرزا سے بیاہی گئی اور اُنکی وفات کے بعد بادشاہ کابل احمد شاہ ابدالی کے عقد میں آئی۔

مراد کی بڑی بیٹی بلخ کے پیرزادہ سے بیاہی گئی، جبکہ دو شہزادیاں خواجہ محمد طاہر نقشبندی کے گھرانے میں بیاہی گئی۔ شہزادی عائشہ بانو بیگم کی 1672ءمیں خواجہ صالح اورشہزادی ہمراز بانو بیگم کی 1678ءمیں خواجہ صالح کے چھوٹے بھائی خواجہ یعقوب سے میںشادی ہوئی۔شہزادی دوستدار بانو بیگم 1672ء میںعالمگیر بادشاہ کے بیٹے سلطان محمد کی تیسری بیوی بنی۔ جبکہ اسی شہزادہ کی دوسری بیوی شجاع کی بیٹی گل رُخ تھی ۔

موضوع سے ہٹ کر اتنی طویل خشک بحث کا مقصد یہ واضح کرنا تھا کہ مغلوں کا میر جعفر کے خاندان سے کوئی تعلق نہیں۔اس خاندان کا تعلق ایرانی شاہی خاندان سے تو دور ایران سے بھی کسی طرح نہیں تھا۔ نہ میر جعفر کا خاندان ایرانی نژاد تھا۔ یہ اپنے نام کے ساتھ نجفی لکھتے تھے جو نجف سے عراق اور وہاں سے ہندوستان آئے تھے۔

مزید یہ دعوی اس اعتبار سے بھی اپنی اہمیت کھوتا ہے کہ بمطابق خاندانِ نجفی کے اُنکی ہندوستان آمد 1677ءکے بعد ہوئی اور جس شادی کا دعوٰی یہ خاندان 1690ءکے عشرہ میں کرتا ہے۔اُس کو تاریخی تسلسل میں منطق کے ساتھ دیکھ لیا جائے۔اورنگ زیب کے بھائی1660ءتک اس دُنیا سے رخصت ہوجاتے ہیں۔ جس سے اُسکے تمام بھائیوں کے بچوں کی پیدائش1660-61ءکے بعد نہیں رہی۔ مزید ماسوائے تین شہزادیوں کے تمام شہزادیاں 1678ءتک بیاہی جا چکی تھی۔ مزید میر جعفر کی پیدائش بھی 1691ءہے۔ جو بیشتر شہزادیوں کی زندگی کی آخری دہائی تھی۔

ان نکات پر یہ واضح ہوتا ہے کہ میر جعفر عالمگیر کی کسی بھتیجی کی اُولاد نہیں تھا۔ یہ صرف ایک من گھڑت قصّہ ہے(جیسے شہزادہ سلیم اور انارکلی کا فرضی قصہ سر ٹامس کا پیداکردہ ہے۔) ورنہ شہزادی کا نام واضح ہونا چاہیے۔ یہ تحریر میں نہ آئے ، ایک شہزادی یا دارالشکوہ کی ایک بیٹی۔ اس بات کا صرف ایک ہی مقصد ہے خود کو دارالشکوہ کے وارث ٹھہرانا۔اور بنگال کی نوابی کو اپنا حق ثابت کرنا۔

میر جعفر نے علی وردی خان (نواب بنگال، نانا نواب سراج الدولہ) کی سوتیلی بہن سے شادی کی اور سپہ سالار افواج مقرر ہوا۔1757ءمیں غداری کے عوض میر جعفر کو بنگال، بہار، اوڑیسہ کی نوابی حاصل ہوئی۔اس طرح یہ خاندانِ نجفی کے نام سے بنگال میں دوصدیوں سے زائدنواب رہے۔

میر کا عہدہ عموماً مغل امیروں ہی کے لیے تھا۔مغل دور میں مرزا خطاب بھی رہا۔ اس بناءپر ان کے ناموں میں مرزا، میر، سلطان جیسے القابات کی شمولیت ہوئی۔خاندانی اعتبار سے سادات سے اپنا تعلق بتاتے ہیں۔انگریزوں کی جانب سے خان بہادر کا خطاب بھی اِنکے ناموں کی زینت بنا۔

میر جعفر علی خان1757-60ءتک بنگال کا نواب رہا مگر انگریزوں کے معیار پر مکمل نہ اُتر سکنے کے باعث معزول ہوا۔ اب تین برس کے لیے میر قاسم 1760-63ءتک نواب مقرر ہوا۔ میر قاسم مغل صوبیدار گجرات”سید امتیاز“کا پوتا تھا۔آخر یہ اقتدار سے محروم ہوا ۔میرجعفر دوبارہ انگریزوں کے نظر کرم میں آیا اور وفات تک نواب بنگال، بہار، اوڑیسہ رہا۔میر قاسم نے مغلوں سے مل کر بکسر کے مقام پر آخری مزاحمت کی مگر شکست کھائی اور کسمپرسی کی حالت میں باقی ماندہ زندگی بسرکرتے ہوئے دلی میں انتقال کیا۔1765ءمیں بنگال کے آخری خود مختار نواب میر جعفر کا انتقال ہوا۔

بڑے بیٹے کی وفات کے باعث میر جعفر کے دوسرا درجہ کا بیٹا نجیم الدین علی خان اٹھارہ برس کی عمر میں نواب بنا مگرایک سال بعد 1766ءمیں وفات پائی۔ پھر تیسرا درجہ کا بیٹا نجابت علی خان1766-70ءچار سال نواب رہ کر فوت ہوگیا۔سید اشرف علی خان چوتھا بیٹا تھا، جو نواب بننے کے تین روز بعد خسرہ سے مر گیا۔اب میر جعفر کا پانچواں بیٹاسید مبارک علی خان1770-93ءتک صاحب اقتدار رہا۔ اس کے بارہ بیٹے اور تیرہ بیٹیاں تھیں۔

سید مبارک علی خان کی وفات کے بعد اقتدار اگلی نسل میں متنقل ہوا۔ اُسکا بڑا بیٹا نواب بابر علی خان (بابر جنگ) نواب بنگال، بہار، اوڑیسہ ہوا۔جس نے 28اپریل 1810ءکو وفات پائی۔

اب نواب سید محمد زین العابدین خان عالی جاہ21-1810نواب مقرر ہوا۔16اگست1821ءکو وفات پائی مگر نرینہ اُولا د نہ پائی۔ تین بیٹیا ں تھی۔ جس میں رئیس النساءبیگم کی شادی چچازاد بھائی مبارک علی خان دوم، ہمایوں جاہ ولی عہد بنگال سے ہوئی۔نواب زین العابدین خان عالی جاہ کی وفات کے بعد اُنکے چھوٹے بھائی نواب سید احمد علی خان والا جاہ نئے نواب مقرر ہوئے۔1824ءمیں اِنکی وفات کے بعد رئیس النساءبیگم کے شوہر اور والا جاہ کے اکلوتے صاحبزادے نواب سید مبارک علی خان ، ہمایوں جاہ1838ءتک نواب رہے۔3اکتوبر1838ءکو وفات پائی۔

ہمایوں جاہ کے بعد بنگال ، بہار، اوڑیسہ کے آخری نواب سید منصور علی خان، فیردون جاہ تھے۔ جو 1880ءتک نواب کی حیثیت سے رہے اور 1884ءمیں وفات پائی۔ اِنکے ایک سو ایک بچے بیس بیگمات سے تھے۔ جن میں اُنیس بیٹوں اور بیس بیٹیوں کی اولاد ابھی بھی موجود ہے۔

جولیا لیوس اور سارہ وینیل میں کو بھی انگریز حکومت نے اِنکی عیش پرستانہ زندگی بیگمات کا درجہ دیا۔

1880انگریز حکومت نے نواب بنگال، بہار، اوڑیسہ کا عہدہ ختم کر کے اس خاندان کو ءمیں نسبتاً کم درجہ کی نوابی سے نوازا۔ تب یہ خاندان نواب آف مرشدآبادکہلایا جانے لگا۔ مرشد آباد کے پہلے نواب سید حسن علی مرزا خان بہادر تھے۔جومیجر جنرل سکندر مرزا کے دادا نواب سید سکندر علی مرزا کے سب سے بڑے بھائی تھے۔ انکی وفات 1906ءمیں ہوئی۔ پھریہ نوابی اُنکے بیٹے نواب سید واصف علی مرزاخان بہادر1906-59ءکے حصہ میں آئی۔ اور مزید دس سال1969ءتک کے لیے اس خاندان کا آخری نواب وارث علی مرزا خان بہادر مقرر ہوتا ہے۔ بالآخر حکومت ہندوستان مرشد آباد کے نوابی سلسلہ کو ختم کرتی ہے۔قیام پاکستان کے عرصہ میں مرشد آباد پاکستان میں شامل تھا۔ مگر چند دِن بعد (غالباً دو یوم بعد) کھلنا پاکستان میں شامل ہوا اور مرشد آباد ہندوستان میں ہی رکھا گیا۔

اب سوال ذہن میں یہ اُمڈتا ہے کہ یہ شجرہ کتنا مستند ہے۔ 1757ءتا1880ءتک جو صاحب اقتدار نواب رہے۔ وُہ نام تو تاریخ میں مستند حوالوں سے درج ہے۔ نواب آف مرشد آباد کیا واقعی سکندر مرزا کے دادا جان کے بھائی تھے؟

سید حسن علی مرزا کا خطاب مرشد زادہ علی قادرتھا اورعموماً بڑا صاحب بھی پکارا جاتا تھا۔ اُنکی ماں کا نام مہر لیکھا بیگم تھا۔یہ فیردون جاہ کے سب سے بڑے بیٹے تھے۔ جبکہ سید سکندر علی مرزا کا خطاب خورشید قادر تھا اور سلطان صاحب کے نام سے بھی مشہور تھے۔14جنوری1857ءکو ہزاردواری محل مرشد آباد میں پیدا ہوئے۔ جو شمس جہاں بیگم المعروف گدی نشین بیگم کے بطن سے تیرھواں بچہ تھا۔ اور بھائیوں میں چودھواں درجہ تھا۔ان کی وفات 1902ءسے قبل ہوئی۔ سید سکندر علی مرزا کے بیٹے محمد فتح علی مرزا(1948ء -1875ء) کی شادی دلشاد بیگم(1879 ء- 1925ء )سے ہوئی۔ جن کے بطن سے سکندر مرزا15نومبر1899ءکو مرشد آباد میں پیدا ہوا۔ تعلیم وتربیت بمبئی میں حاصل کی۔ابتدائی تعلیم ایلفنسٹن کالج اور پھرسندھرسٹ اکیڈمی انگلستان سے فوجی تربیت حاصل کی اور ہندوستانی فوج میں بھرتی ہوا۔ 1926ءمیں پولیٹیکل سروس میں شمولیت ہوئی۔ بطور اسسٹنٹ کمشنر اوربعد میں ڈپٹی کمشنر کے عہدہ پر 1931ءمیں رسائی ہوئی۔وزارت دفاع میں جوائنٹ سیکریٹری کی حیثیت سے کام کیا۔آزاد ی کے بعدپاکستان کے پہلے سیکریٹری دفاع بنے اور سات سال اس عہدہ پر کام جاری رکھا۔ مئی 1954ءکو گورنر بنایا گیا۔اکتوبر1954ءتااگست1955ءمیں وزیر داخلہ، وزیر خارجہ اور پھر وزیر اعظم محمد علی بوگرا کی کابینہ کے ممبر رہے۔ اور بعد ازاں ملک کے اقتدار پر قابض ہوئے۔ملک کا پہلا آئین بنایا اور خود ہی تسلیم نہ کیا۔ملک میں سیاسی بساط کو ذاتی مفادات کے تحت لپیٹا۔ ایوب خان نے جلا وطن کیا اور جلاوطنی میں 12نومبر1969ءکو لندن میں انتقال کیا۔ یحییٰ خان نے میت کو پاکستان میں دفن ہونے کی اجازت نہ دی اور سکندر مرزا کی معیت کو تہران میںدفنایا گیا۔ان کی پہلی بیوی رفعت شیرازی سے ہمایوں مرزا9دسمبر1928ءکو پونا ہندوستان میں پیدا ہوا۔ جس کی پہلی شادی پاکستان میں امریکی سفیر1953ء57ء کی بیٹی Hoarace A. Hilderathe سے ہوئی۔ Josephine Hildreth (Dodie Begum)

میرجعفر<---سید مبارک علی خان<---نواب بابر علی خان<---نواب احمد علی خان،والا جاہ<--- نواب مبارک علی خان دوم،ہمایوں جاہ<---نواب منصور علی خان، فیردون جاہ<---نواب سید اسکندر علی مرزا<--- سیدمحمد فتح علی مرزا<---سید سکندر علی مرزا

یہ آٹھ نسلوں کا دو سو سالہ دور اقتدار تھا۔ وُہ دور جس میں مسلمانان ہند غلام بنے اور ظلم کا شکار رہے۔ بڑی ہی المناک داستان۔ آخر کیا وجہ تھی کہ ہمایوں مرزا نے امریکہ و یورپ میں کتاب چھپوا کر اپنا تعلق میر جعفر سے علی الاعلان سنایا۔ کہیں پرانے آقاﺅں کو یہ یقین دلانا تو نہیں کہ وُہ پرانے خادم اور وفادار رہے۔ اُ ن پر بھروسہ کیا جائے۔ وُہ نسل آج بھی پرانے آقاﺅں کے لیے سو دمند ہے۔ ایک ایسی شخصیت جو ہماری تقریروں اور تحریروں میں عموماً غدارِ ملت کی حیثیت سے استعمال ہوتی ہے۔اقبال نے کہا تھا:

میر جعفر بنگال و میر صادق دَکن
ننگ آدم، ننگ دین، ننگ وطن

اُس کی نسل آزادی کے بعد میں بھی پر مسلط رہی اور ہم لاعلم رہے۔ اس ملک کی کشتی آغاز سے ہی جن طوفانوں کی لپیٹ سے متاثر ہوئی۔ اُن میں ایک نام سکندر مرزا بھی تھا۔

ہم مستقبل میں اپنے بچوں کو کیا جواب دے گے کہ غدارکی اُولاد ہی اس ملک پر حکمرانی کر گئی اور اس ملک کو نئے طوفانوں کی زد میں ڈال گئی۔ میں جانتا ہوں کہ ایسے سوال ہمارے ذہنوں میں آئے گے۔ مگر آج شائید ہم اپنی تاریخ سے جتنی نفرت کرتے ہیں، اُس پر کیچڑ اُچھالتے ہیں، اس کا حلیہ بگاڑتے ہیں، تاریخ کے مضمون کو فضول سمجھتے ہیں۔ ایسی اقوام کو تاریخ بھی بھُلا دیتی ہے۔ تاریخ کا مضمون ہمیں ایک تسلسل سے جوڑے رکھتا ہے۔ چونکہ آج ہم تاریخ سے بہت دور ہے۔ اس لیے ہمارے پاس کوئی جواب نہیں۔ مستقبل کا مورخ دو سوسال بعد اس کا جواب تحریر کرے گا۔ تلخ حقائق میں سے تلخ ترین سچ کی دریافت!

اس تاریخی تسلسل کے تحت ہمیں کم از کم یہ سوچنا ہوگا کہ ہمارے صاحب اقتدار افراد کے خاندان کہیں غداری کا پس منظر تو نہیں رکھتے۔ مگر اِنکی نسلوں سے نفرت نہیں کرنی چاہیے۔ وفادار کا بیٹا غدار ہوسکتا ہے۔ تو غدار کی نسل وفادار اور محب وطن بھی ہوسکتی ہے۔

میں اپنی تحریر کا اختتام ایک مصنف ”سلطنت خدداد از محمود بنگلوری“کی تحریر پر ختم کرتا ہو ں۔

”جن لوگوں نے غدار ی کی ۔ وُہ آج اِس دُنیا میں نہیں رہے۔ بے شک خاندان ملک میں باقی ہیں۔ لیکن ان پر کیا الزام دھرا جاسکتا ہے۔ باپ کا الزام بیٹے پر یا بیٹے کا الزام باپ پر اور بھائی کا الزام بھائی پر آنہیں سکتا۔ ہر انسان جو کچھ کرتا ہے ۔ اُ س کے لیے وُہ خود کے آگے جوابدہ ہوتا ہے۔ دوسرے جوابدہ نہیں ہوسکتے۔ مذہب بھی یہی سکھلاتا ہے اور ضمیر بھی یہی کہتا ہے۔“

(فرخ نور)

نوٹ: ہر لفظ، جملہ اور نام میں نے خاصی احتیاط اور غورو فکر سے لکھا۔ مگر انسان خطاءکا پُتلا ہے۔ انجانے میں کوتاہی اور جانبداری واقع ہوسکتی ہے۔ اُس کے لیے معذرت۔ کہیں معلومات میں خامی ےا غلطی محسوس ہو تو ضرور آگاہ فرمائیے گا۔اس تحریر کو اپنے نام سے کوئی ظاہر نہ کرے ورنہ اگر کوئی کوتاہی واقع ہوئی تو وُہ فرد ذمہ دار ہوگا۔ کیونکہ یہاں ایک ایک لفظ معنی رکھتا ہے۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

دُنیا میں اَمن

بقول خواجہ دل محمد دل
شبنم لٹا رہی ہے پھُولوں میں بھر کے موتی۔
بِکھرے ہیں کیا چمن میں ہر سُو سحر کے موتی۔
اٹھکھیلیوں سے تیری بادِ صبا یہ ڈر ہے۔
مٹی میں مل نہ جائیں سب برگِ تر کے موتی۔

امن کی تلاش میں کوئی ہماری امان میں نہیں۔ ایمان تو ہیں مگرمَن سکون میں نہیں۔دُنیا کی ہر تعلیم انسان کے مَن میں اَ من کے گُلشن کھلاتی ہے۔بہار میںکھلتے پھولوں کی خوشبو، چمن کوخوب مہکاتی ہے۔

مسائل کو حل کرنے کے لیے طویل مباحث کی ضرورت نہیں۔ اگردرکار ہے تو صرف ایک نکتہ کی پہچان محبت،کدورت نہیں۔جیسے کل زندگی ایک ہی نقطہ پر گھوم کرآغاز و اختتام ہوئی۔کلمہ توحیدکے نکتہ ئِ تسلیم سے زندگی میں راہ سلیم آئی۔جس سے انسان کی انفرادی زندگی کے ساتھ ساتھ اجتماعی زندگی بھی حسین ہوئی ۔جس روز ہم رضا ئے الہی کے تابع ہوئے، اُسی لمحہ زندگی اُلجھنوں سے نکل کر سلجھن بن گئی۔بقول خواجہ میر درد:

شادی کی اور غم کی ہے دُنیا میں ایک شکل
گل کو شگفتہ دِل کہو تم یا شکستہ دِل

آج اس دُنیا میں سکون و امن کیوں نہیں؟ تعلیم بہت ہے مگر رویوں میں بد امنی کیوںہیں؟ کہیںمعاش کی فکر نے ہمیں اُلجھا یا ،کبھی تعیش کی تمنا میںمضطرب مزاج بنایا۔ عجب بات ہے تمام مذاہب اخلاقیات کی تعلیم دیتے ہیں۔ مگر ہمارے رویے اخلاقیا ت سے عاری کیوںٹھہرتے ہیں؟ معاشروں میں رعونت پروان چڑھ چکی، مسلکی اختلاف پر مسائل کیوں؟ عبادت گاہوں میں نفرت کی اُٹھان اُٹھی۔ محبت نفرت میں کیسے ڈھلی؟ مفاد نے رنگت کچھ یوں بدلی۔دُنیا میں بکھیڑے دوسروں میں اپنے واسطے پیدا کیے۔

کچھ عاقل فرماتے ہیں، اپنے اندر امن پیدا کیجیے، دُنیا میں سکون دیکھ لیجیے۔ انسان کی ذات میں امن مذہب کی اخلاقی تعلیم اُبھارتی ہے۔انسانی شخصیت کی مرصع سازی مثبت تہذیبی سوچ، تربیت اور رویوں سے بنتی ہے۔جو معاشرہ کو رواداری،برداشت،محبت اور صداقت کا مرقع بنا کر اُجاگر کرتی ہے۔

  تعلیم صرف کسی سکول میں حاصل کرلینے کا نام نہیں۔ خاندانی ماحول سے معاشرتی ماحول میں جو رویے ہم پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ وُہ ہماری سوچ اور اذہانی کیفیات پر مسلسل منفی و مثبت تبدیلی پیدا کر تے ہیں۔آج میں جس معاشرہ میں رہتا ہوں۔ وُہ دولت کمانے سے جڑا ہے۔ تعلیم انسان اپنے آپ کو بنانے اور بدلنے کے لیے حاصل نہیں کر رہا،بلکہ ڈگریاں معاشی حالات بدلنے کے لیے اکٹھی کررہا ہے۔ اسی وجہ سے معاشرتی حالات تہذیبی اوراخلاقی تنزلی کا شکار ہیں۔

شیر شاہ سوری اِک اَن پڑھ مگر مثالی حکمران تھا۔ مذہبی رواداری و عدل میں اپنی مثال آپ تھا۔ عوام سے ٹیکس وصول کرنے میں سختی برتتا تھا۔رعایا کے جان و مال، عزت و آبرو کا خود کو ذمہ دار سمجھتا تھا۔ اگر کسی گاؤں میں کوئی چوری ہوتی تو تمام سرکاری اہلکار جیب سے نقصان پورا کرتے ۔ اگر کوئی قتل ہوتا اور قاتل گرفت اور سراغ سے بچ رہتا تو سربرائہ گاؤں کے سر قتل تصور ہوتا اور سزا کا حق دار ٹھہرتا۔

اِک مرتبہ شہزادہ پان منہ میں ڈالے ، ہاتھی پر سوار ہوکر شہر سے گزرا ۔ اس دوران ایک کسان کی بیوی کو غسل خانہ میں نہاتا دیکھ کر اُس پر پان کی پچکار پھینک ڈالی۔ وُہ غریب خاتون شرم سے پانی پانی ہوگئی۔ کسان نے ڈرتے ڈرتے شہنشائہ ہند شیر شاہ سوری سے فریاد کی۔ بادشاہ بڑا نادم ہوا۔ آخر یہ انصاف کیا، شہزادہ کی بیوی جو کہ بادشاہ کی بڑی بہو بھی تھی۔ اُس ہی غسل خانہ میں نہائے گی اور کسان ہاتھی پر سوار ہوکر گزرتے ہوئے اُسی طرح پان کی پچکار پھینکے گا۔ کسان نے فوری طور اپنی درخواست واپس لے لی ۔اس خیال سے کہ بادشاہ کی بہواُ س کی بھی عزت ہے۔

شیر شاہی عہد میں باہر سے جب کوئی تاجر ہندوستان میں داخل ہوتا تو دو فیصد ٹیکس تجار ادا کرتے تھے اور حکومت اُنکے تمام جان ومال کے تحفظ کی ذمہ دار ہوتی تھی۔کسی بھی نقصان کی صورت میں حکومت خصارہ پورا کرنے کی ذمہ دار تھی۔ پشاور سے بنگال تک پانچ مختلف شاہراہیں بنوائیں، بیشمار شاہرات مرمت بھی ہوئیں۔ ان تمام گزرگاہوں کے کنارے سایہ دار اور پھل دار درخت سہولت سفر کی غرض سے لگوائے۔ ہر چند کوس کے فاصلے پر مساجد و مدارس کے ساتھ سرائیں بنوائیں۔ عوام کے تحفظ کے لیے پولیس پیٹرولیم (گشت) کو اس قدر چاک و چوبند رکھا جاتا کہ ایک اکیلی خاتون رات کے اندھیرے میں بلا خوف و خطر سفر کر سکتی تھی۔

امن کے لیے سربراہان مملکت اور انتظامیہ پر لازم ذمہ داری ہے کہ عدل و انصاف، روزگار اور معاشی سہولیات میسر کریں۔

کبھی کبھی قومی مفادات کمزور قوتوں میں بدامنی رکھتے ہیں۔ بڑی طاقتیں خود تو امن کی زندگی بسر کرتی ہے۔ مگر امن کے نام پر کمزور اقوام پر یلغار جاری رکھتی ہے۔ وسائل کے حصول کی جنگ ہمیں آپس میں لڑائے ہوئے ہیں۔ کشمکش کی یہ پالیسی کیا دُنیا کی خارجہ پالیسی بدلنے کی جرات رکھتی ہے؟ دُنیا میں بدامنی دو طرح کے خطوں میں پیدا کی گئی ہے۔ جہاں وسائل کی دولت ریل پیل رکھتی ہے، وہاں سیاسی ناسور بویا گیا۔ جو ممالک ذہانت کی دولت رکھتے ہیں، اُن میں علمی اور علاقائی تنازعات پید اکر رکھے ہیں۔ کسی کے جذبات کو کسی اور کے خلاف بڑھکایا جا رہا ہے۔

حالت تو یہ کہ مجھ کو غموں سے نہیں فراغ  دِل سوزش درونی سے جلتا ہے جوں چراغ
(سینہ تمام چاک ہے، سارا جگر ہے داغ ہے مجلس میں نام میرا میر بے دماغ (میر تقی میر

دُنیا میں یہ امن کیوں قائم نہیں؟ ایک خاندان میں دو اَن پڑھ عورتیں جو سازشیںبُنتی ہیں۔ اپنے اَنجانے وقتی خیال کی تکمیل کی خاطررشتوں میں خلیج پیدا کرتی ہیں۔ ویسے ہی دُنیا کی بین الاقوامی سیاست ہے۔

اگرتعلیم رشتوں میں پڑی دراڑوں کو بھر سکتی ہے تو دُنیا میں امن بھی لاسکتی ہے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب آپ کی سوچ مثبت اور تعمیری ہو۔ ہم سب اپنی اپنی کپیسٹی میں خود کو امن سے رکھے اور ماحول کو بھی پُر امن بنائے۔بقول حیدر علی آتش

اپنے ہر شعر میں ہے معنیِ تہ دار آتش وُہ سمجھتے ہیں جو کچھ فہم و ذکا رکھتے ہیں
کمیں ہر معنی روشن، مکاں ہر بیتِ موزوں ہے غزل کہتے نہیں، ہم چند گھر آباد رکھتے ہیں

ادیب ،شاعر جنسیاتی موضوعات کی بجائے حقیقی محبت کی پرتیں کھولیں، علماءو فقہاءمسلکی مباحثی اختلافات کو ہوا دینے کی بجائے ادائیگی ارکانِ اسلام و اخلاقی تعلیم دیں، اساتذہ کرام علمی فوقیت کے ساتھ ساتھ عملی تاثیر کا اثر بھی پیدا کریں۔ والدین سکول میں داخل کروا کر ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے کی بجائے عملی تربیت کا فریضہ سر انجام دیں۔ کیونکہ ایک صحت مند دماغ اَمن قائم رکھتا ہے۔ دولت کی کمائی کی بجائے ، مخلص لوگوں کو کمائے اور رشتوں کے احترام کو نبھائے ۔ یہ رحمت خداوندی ہے۔

امن کی ابتداءاپنے مَن سے شروع کیجیے،ذمہ داریوں کو اللہ کی پوچھ گچھ کے خوف سے احسن طریقہ سے نبھائے، دوسروں کو دیکھ کر جلنے کی بجائے، اُن  کے ساتھ مل کر تعمیری عمل کا حصہ بنے۔ دُنیا کی ہر قوم کو اُس کی روایات ، اقدار اور مذہب کے فخر اور شان سے جینے دیں۔ میرا گھر میں جو خوبصورت رویہ بھائی کے ساتھ ہے۔ ویسا خوب سیرت رویہ میرا ہمسایوں کے ساتھ بنے۔ یہی عمل ریاستوں کی سطح پر درکار ہے۔ دُنیا میں چند تخریبی ذہن اپنے مفاد کے حصول کی خاطر اس راہ میں رکاوٹ ہے۔ بقول میر تقی میر:

چلتے ہو تو چمن کو چلئے، سنتے ہیں کہ بہاراں ہے
پات ہرے ہیں، پھول کھِلے ہیں، کم کم بادو باراں

(فرخ نور)

 مشکل الفاظ کے معنی
برگ: پتا
تجار: تاجر کی جمع
ذکا: ذہانت
سرائیں: ریسٹ ہاؤس
مرصع: نگینوں کا جڑاؤ، آراستہ کرنا، خوش بیانی
مرقع:مجموعہ، فوٹو البم، خطاطی کے قطعات (نمونہ) رکھنے کی کتاب ،ایسی مرمت شدہ شے جس میں پیوند لگے ہو
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

کسنجر کا جہاز اور ملک فیصل کی دو رکعتیں


عربوں کی اسرائیل کے ساتھ 1973  میں لڑی گئی مشہورِ زمانہ جنگ یوم کپور  یا  جنگِ اکتوبر  میں امریکہ اگر پسِ پردہ اسرئیل کی امداد نہ کرتا تو مؤرخین لکھتے  ہیں کہ فلسطین کا مسئلہ حل ہو چکا ہوتا۔ فخر کی بات یہ ہے کہ اس جنگ میں پاکستان نے بھی مقدور بھر حصہ لے کر تاریخ میں پنا نام امر کیا۔ اس جنگ کا مختصر احوال ویکیپیڈیا پر موجود ہے

اس جنگ کے دوران ملک فیصل مرحوم نے ایک دلیرانہ فیصلہ کرتے ہوئے تیل کی پیداوار کو بند کردیا تھا، ان کا یہ مشہور قول (ہمارے آباء و اجداد  نے اپنی زندگیاں  دودھ اور کھجور کھا کر گزار ی تھیں، آج اگر ہمیں بھی ایسا کرنا پڑ جاتا ہے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا) اپنی ایک علیٰحدہ ہی تاریخ رکھتا ہے۔

ملک فیصل مرحوم  کا  یہ فیصلہ امریکہ کیلئے ایک کاری ضرب کی حیثیت رکھتا تھا جس کو تبدیل کرنے کی ہر امریکی تدبیر ناکام ہو رہی تھی۔  امریکی وزیرِ خارجہ کسنجر  نے ملک فیصل مرحوم  سے 1973 میں اسی سلسے  میں جدہ میں ایک ملاقات کی۔

تیل کی پیداوار کو دوبارہ شروع کرنے میں قائل کرنے کی ناکامی کے بعد کسنجر نے گفتگو کو  ایک جذباتی موڑ دینے کی  کوشش کرتے ہوئے ملک فیصل مرحوم سے کہا کہ  اے معزز بادشاہ، میرا جہاز ایندھن نہ ہونے کے سبب  آپ کے ہوائی اڈے پر ناکارہ کھڑا ہے، کیا آپ اس میں تیل بھرنے کاحکم  نہیں دیں گے ؟

دیکھ لیجئےکہ میں آپ کو  اسکی ہر قسم کی قیمت ادا کرنے کیلئے تیار بیٹھا ہوں۔

کسنجر خود لکھتا ہے کہ میری اس بات سے ملک فیصل مرحوم کے چہرے پر کسی قسم کی کوئی مسکراہٹ تک نہ آئی، سوائے اس کے کہ انہوں نے اپنا  جذبات سے عاری چہرہ اٹھا کر میری طرف دیکھا اور کہا،

میں ایک عمر رسیدہ اور ضعیف آدمی ہوں، میری ایک ہی خواہش ہے کہ مرنے سے پہلے مسجد اقصی میں نماز کی دو رکعتیں پڑھ لوں، میری اس خواہش کو پورا کرنے میں تم میری کوئی مدد کر سکتے ہو؟

حضرات محترم: میری ایمیلز میری ذاتی پسند ہوتی ہیں، جنکا مقصد آپ سے رابطہ، دوسری ثقافتوں سے آگاہی، علم اور معلومات کا پھیلانا مقصود ہوتا ہے، اگر آپ کو ناگوار گزرتی ہوں تو ضرور آگاہ کیجیئے۔ حسبِ سابق یہ مضمون بھی عربی سے  اردو میں ترجمہ کرکے آپکی خدمت میں پیش کیا ہے، آپکی دعاوں کا طالب ہوں۔ محمد سلیم شانتو
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

گمنام رنگ

نگاہ میں خیال تو ہے، مگر منظر کے احساس سے محروم
آمد میں کمال تو ہے، مگر جمال پرواز کے تجسس سے مقدوم

گمنام رنگ دُنیا میں ہر جگہ پھیلے ہوئے ہیں۔ بیشمار نامور رنگ بھی ماضی کے دھندلکوں سے جھلکتے ہوئے؛ انسان کی بے اعتنائی کا شکار! حسن کے شاہکار، ایثار کے پیکر، شجاعت کے کردار، عزم کے مینار رفتہ رفتہ منہدم ہو کر معدوم ہو چلے۔ انسان اپنی وراثت اور ثقافت کو محفوظ رکھنے سے معذور۔ اپنی ہی مٹی سے رشتہ ٹوٹ رہا ہے۔

آج مجھے حقیقی رنگوں کی تلاش ہے،ایاز اور ایبک تو لاہور میں مدفون ہیں۔ غزنوی اور غوری کی آرام گاہوں سے ہم ہی واقف نہیں! شاندارتواریخ رکھنے والے نام آج گمنام اور ادنیٰ غلام وجود کی پہچان میں!پُرانے تاریخی و ثقافتی شہروں کی دیواروں کو ازسر نو تعمیر و مرمت کرنے کا خیال تو اذہان میں آتا ہے، کیادیوارکے اندر کی اصل ثقافت ہی ان دیواروںکا اصل رنگ ہے؟ دیواریں اصل زبان سے محروم، تکیوں(دانش گاہوں) کے دَور سے دُور،پکوان اور اُس کے ذائقہ شناسوں کی محتاجی،علاقائی موسمی مشروب اب ہتک جانے لگے۔پرانے شہر کی صرف دیواریں تعمیر ہونگی، ثقافت لوٹ کر نہ آئے گی۔ ثقافت گمنام لوگوں کے گمنام رنگ ہی پیدا کرتے ہیں۔ تاریخ میں ثقافت ہی گمنام کوٹھڑی کی قیدی رہی۔

ثقافت میں سب سے اہم نمائندہ عنصر تہذیبی رویہ ہوتا ہے۔ لوگ تہذیبوں کاٹکراﺅ پڑھ کراپنی تہذیب برباد ہوتا دیکھتے ہیں۔ تہذیبیں ایک طویل تسلسل اور تنوع کی وسعت کو اپنے اندر سموتے ہوئے نمو پاتی ہیں۔ جس میں افعال اورکارکردگی کے نقوش روایات کا سلسلہ تھامے رکھتے ہیں۔ یہ روایات نسل در نسل منتقل ہو کر انسان کو اُسکی اصل بنیاد سے جوڑے رکھتی ہیں ۔ وقت کے تناسب سے نظام بہتر سے بہترین ہوتا ہے مگر بنیاد قائم رہتی ہے۔

تہذیب کامطالعہ دو پہلوﺅں سے ہوتا ہے۔ تعمیرات کا علم تمدن کاجائزہ لیتا ہے، مگر ساتھ ہی ساتھ ایک فرد سے دوسرے فرد کا مطالعہ وَ موازنہ کر کے تہذیب کی جانب منتقل ہوا جاتا ہے ۔تعمیرات کا انحصار تین عملی احوال: (۱)وجود کی بقا،(۲) موسم اور(۳) مواد پرہوتا ہیں۔کسی بھی عمارت کی تعمیر ہمیشہ دو اُصولوں پرمنحصر رہی؛ منصوبہ بندی اور خاکہ بندی۔اس کے بھی تین درجے رکھے گئے۔اوّل؛ زیر استعمال زمین کا جغرافیائی حالا ت کے تحت جائزہ لینا، دوم؛ عمارتی تعمیر کی منصوبہ سازی کرنا، سوم؛ ڈھانچہ تیار کرنا۔

 تمدن میںعمارات تین اقسام کی ہوسکتی ہیں۔رہائشی تعمیرات، طرز معاشرت کی بنیاد ہیں جو رہن سہن کے انداز واضح کرتی ہیں۔ مذہبی عمارات، عقائدپر روشنی ڈالتی ہیں۔ تیسرا اندازیادگاری عمارات،جو جاہ و جلال کا نمائندہ ہوتا ہے۔اس میںیادگاریں اُن مذہبی، تہذیبی، تمدنی، معاشرتی اور جغرافیائی جڑاﺅکی عکاسی کرتی ہیں۔ جوعلاقائی سلطنتوں اور بیرونی حملہ آوروں کے مابین ٹکراﺅ سے پیدا ہوتے ہیں۔ اُس دور کی عمارات پر نقش و نگارہی اہم اثرات کے ترجمان ہوتے ہیں۔جن سے تعمیراتی نظریات اور معاشرتی تعلقات کی غمازی ہوتی ہے۔

تہذیب کے مطالعہ میں دوسرا اہم پہلو زبان ہے۔جو ثقافت کی غماز اور طرز بودوباش کی عکاس ہوتی ہے۔ انسانی احساسات کی نمائندگی الفاظ ہی پیش کرتے ہیں۔ بقول ڈاکٹر سلیم اختر”ادب خلا میں جنم نہیں لیتا اور نہ ہی ادیب ہوا بند ڈبوں میں زندگی بسر کرتا ہے۔ اس کا عصری تقاضوں سے مثبت یا منفی اثرات قبول کرنا لازم ہے کہ یہ اثرات سانس کی مانند اس کے تخلیقی وجود کے لیے ضروری ہیں۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس کے عہد میں ادب برائے ادب یا ادب برائے زندگی کے مباحث تھے یا نہیں، یا یہ کہ وہ شعوری طور پر کس تصور ادب کا حامی رہا، اس لیے کہ ادب برائے زندگی کے تصور کو مسترد کرنا بھی تو کسی تصور ہی کا مرہون منت ہوتا ہے“۔

موسم جغرافیہ کا ایک جزو ہے،ہر ملک یا خطے کا اپنا جغرافیائی حسن ہے جو اس کے باسیوں کے اعصاب کو بعض مخصوص حسیات سے مشروط کر دیتا ہے۔ایسے ہی برصغیر میں موسم کی مناسبت سے مشروبات اپنے اندر حکمت رکھے ہوئے ہیں۔ مہینوں کی ترتیب بھی موسم سے تھی۔ بہار کے دو مہینوں (چیت اور بیساکھ)کا مشروب کانجی ٹھہرا۔ شدت گرمی کے اگلے دو ماہ (جیٹھ اورھاڑ)کے مشروب سَتو رہا ۔برسات (ساون اور بھادوں)کے نازک حبس زدہ موسم میں نمکین سکنج بین تھی۔ لسی کو برسات کے علاوہ تمام سال مناسب خیال کیا جاتا تھا۔ خزاں (اسو اور کتے)کے موسم میں کسی بھی مشروب سے متعلق احتیاط برتی جاتی تھی۔سردی(مگھر، پوھ ،ماگھ اور پھاگن) میں مشروب کی بجائے خشک میوہ جات کا استعمال رہا ۔

تہواروں کا تعلق بھی موسموں سے منسلک تھا۔ حتی کہ ملکی انتظام کے معاملات بھی موسموں اور تہواروں سے جڑے تھے۔ ربیع اور خریف کی فصل کا ایک موسم تھا۔اگر فصل کے لہلہانے پر بسنت کا تہوار خوشی میں رکھا گیاتو ایسے ہی مالیہ کی وصولی (زرعی ٹیکس)کا آغاز ’ہولی‘ اور’ دَسَہرا‘ کے تہوارسے ہوتا تھا۔

 پانی کے استعمال میں ایک حکمت ہے۔ موسم کا جیسا درجہ حرارت ہو ، ویسا پانی پیا جائے۔ بہت ٹھنڈا پانی انسانی اعصاب پر اثر انداز ہوتا ہے۔ یہ خاصیت گھڑے میں ہیں کہ وُہ پانی کو موسم کے مطابق رکھتا ہے۔

 علاقائی نباتات اور درختوں کے جنگل علاقائی ماحول و آب و ہوا کی نسبت سے ہیں۔انسانی، حیوانی، نباتاتی اور آبی زندگی مٹی کی مناسبت سے تھی۔پرانی سڑکوں کے کنارے لگے درختوں کے جھنڈ دیکھے تو اُس علاقہ کے جنگلات اور ماحولیاتی کیفیت کے اثرات کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہ شناخت انسانی زندگی کی اصل ثقافت سے جڑی ہوئی ہے۔

آج نباتات کے حالات یہ ہیں کہ چوآسیدن شاہ دُنیا کے بہترین گلاب کے لیے مشہور تھا ، آج وہاں گلاب کے باغات ملنا دشوار ہے۔ کیا وجوہا ت ہے؟ہم قدیم ثقافت کو کیا تلاش کرےںگے؟ ہماری تو بہت سی اقدار آج عدیم ہورہی ہے۔

 برصغیر میںبارہ اشیاءکے زیورات مستعمل تھے۔ سونا، چاندی،پیتل (دھات)،نگینہ، موتی، دانت، پنکھ، پھول، پتے ،اناج، لکڑی، مٹی۔

ایک پاکستانی نژاد برطانوی نوجوان اپنے آبائی علاقہ میں آکر ہمیشہ سادہ دیسی لباس پہنتا تھا۔ اُسکا سادہ سا موقف تھا۔ پاکستان میں یہاںکی ثقافت کے تحت رہنا چاہیے۔ اپنے دیس میں پردیسی کیا بننا ۔لباس اور گفتگوسے اپنا ولائیتی پن ظاہر کرنا مناسب نہیں ۔

انگریزی ہماری تخلیقی سوچ سے کنارہ کشی پر تو مہربان ہوئی۔ مگر علاقائی زبانوں کے الفاظ پر قہرمان ٹھہری۔ لوک موسیقی، لوک گیت، لوک کہاوتیں، لوک کہانیاں، میلوں میں علاقائی کھیلوں کا دھیرے دھیرے معاشرہ سے ربط ٹوٹ رہا ہے۔

خیال کو خیال ہی جدا کرے، بات کو بات ہی کاٹے۔
زمانہ کو رشتہ ہی جوڑے، رشتہ کو رشتہ ہی توڑے۔

لفظوں کے رشتوں سے محروم ہوئے،رشتہ کے نام امپورٹ کیے، رشتہ کا مادہ بھرم سے اُٹھا کرشک کے دھرم میں ڈبو دیا۔ آج ہم رشتوں کے ذخیرہ الفاظ سے واقف نہیں۔ مٹی کی پہچان سے کیا واقف ہونگے۔ جو اپنی مٹی کا نہیں، وُہ کہیں کا نہیںرہا۔انسان مٹی کا بنا ہے، اُسکی خوراک مٹی ہے، اُسکا خون مٹی سے ہی دوڑتا ہے۔سکون اور زبان مٹی کے تعلق سے وجود میں آتے ہیں۔ہم نے مر کر مٹی میں مٹی ہونا ہیں۔عجب بات ہے، ہم اپنی مٹی سے ہی وفا نہیں کرتے۔تاریخ میں غداروں کی فہرست تو جاری کرتے ہیں۔ ٹیپو سلطان رحمتہ اللہ علیہ کو سلام پیش کرتے ہیں۔ مگر کبھی ہم نے اپنی ذات کا احتساب کیا۔ ہم کس مقام کو کھڑے ہیں؟ہم دوسروں کے لیے نہیں، صرف اپنے لیے جی رہے ہیں، صرف اور صرف اپنی ذات کے لیے۔ افسوس! جن کا ذکر ہم اپنی گفتگوﺅں میں کرتے ہیں، وُہ دوسروں کے لیے زندگی گزارنا اپنا ایمان سمجھتے ہیں۔ شائید انفرادی سوچ رکھنے والی اکثریت کو مستقبل کا مﺅرخ مٹی کا قاتل ٹھہرائے۔مٹی سے تعلق کوئی مشکل شےءنہیں، حقیقت کا سچائی سے سامنا ؛انسان کا مٹی سے تعلق بنائے رکھتا ہے۔
صرف اپنے لیے جی کر، زمانہ بھر کو پریشان کیا۔
دوسروں کے لیے جی کر، عمر بھر خود کوبے چین کیا۔

مناسب ہے کہ ہم اپنی تہذیب کو اپنائےں اور مٹی کی خوشبو کو پہچان سکیں۔ مغربی طرز زندگی ہمارے موسم، حالات اور مزاج کے مطابق نہیں۔ ہمارا موسم ہمیں بلند چھتوں کی ترغیب دیتا ہے۔مغرب کی قابل قبول اشیاءکو ضرور اپنائےں مگر اس چاہت میں اپنی مٹی سے رشتہ مت توڑےں۔مسجد وزیر خان ہندوستانی، وسط ایشیائی، ایرانی اور عرب اثرات کا امتزاجی شاہکار ہے۔

پاکستان کی تاریخ 712ء سے شروع نہیں ہوتی۔ دُنیا کے اب تک سب سے قدیم ترین دریافت شدہ فاسلز” بن امیر خاتون“ سے ملے ہیں۔جن میں ڈائینو سار کی موجودگی ثابت ہوچکی ہے۔ بلکہ شواہد تولاکھوں برس قبل تہذیبی ارتقاءکا تعلق بھی یہاں سے بتلاتے ہیں۔ایک قدیم انسانی تہذیب دریائے سواں کے کنارے آباد تھی۔یہاںبرف پگھلنے کے دور میں دُنیا کی قدیم ترین ”چونترہ صنعت(پتھر کے ہتھیار)“نے جنم لیا۔ہڑپہ اورموہنجوداڑو کے آثار دریافت ہوئے مگر ہزاروں برسوں سے آباد کچھ ایسے دیہات بھی چلے آرہے ہیں۔ جن کے کنوﺅں کی طرز تعمیر(بیضوی دہانہ) ہڑپہ اور موہنجو داڑو سے ملتی ہے۔ ہمیں اپنی تاریخ، تہذیب اور ثقافت پر تفصیلی تحقیق کی ضرورت ہے۔ اس سے پہلے کہ یہ نشان باقی نہ رہے۔

(فرخ نور)
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

کفر اور اسلام کیسا؟

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

قومی مورال

جذبہ حُریت ہی قوموں کو بیدار رکھتا ہے، آزادی کی تڑپ ہی دِل میں ولولہ پیدا کئے رکھتی ہے۔ جنگیں جدید ہتھیار سے لیس ہو کر یا تعداد کی کثرت سے نہیں، جذبوں سے جیتی جاتی ہیں۔ ملک کا دفاع ایسے ہی ہوتا ہے، جیسے اپنی بقاء کی جنگ۔ آج جنگ میں ہولناک ہتھیار، الفاظ کا پروپیگنڈہ ہے۔ جس قوم کا مورال گِر جائے، وُہ نفسیاتی طور پہ ہمت ہار بیٹھتی ہے۔ مورال قوم کے جذبوں میں خود اعتمادی اور ولولہ کو، حوصلہ اور برداشت کے ساتھ، برقرار رکھتے ہوئے بڑھاتا ہے۔ جس قوم کا مورال بڑھ جائے، وُہ کاغذ کے نقشہ پر بظاہر ہاری ہوئی بازی بھی جیت لیتی ہے۔
قومی مورال کیا ہی؟ ١٩٤٠ء سے لیکر ١٩٤٧ء تک کا سفر قومی مورال کی تشکیل کا مرحلہ تھا۔ اِسکا واضح عملی مظاہرہ ١٩٦٥ء کی جنگ کے شاندار ایام ہیں۔ پاکستانی قوم کا مورال اُن ساعات میں کچھ یوں تھا:
٦ ستمبر کی تاریکی میں بھارت نے لاہور پر اچانک تین اطراف جسٹر، واہگہ اور بیدیاں سے حملہ کر دیا۔ دشمن بھاری مقدار میں جدید ترین اسلحہ سےلیس تھا۔
ملک بھر میں ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا گیا۔ ریڈ کراس کے مرکزی دفتر میں خون دینےوالوں کا بے پناہ ہجوم جمع ہوگیا۔ ریڈ کراس کے مراکز میں خون دینےوالوں کے ہجوم میں دھکم پیل یہ تھی کہ ہر کوئی دوسرے سے پہلےخون دینا چاہتا تھا۔ باوجود اسکےکہ ان ہجوموں میں بہت سےلوگ (مرد اور عورتیں) پہلے بھی خون دے گئے تھے۔ ایک روز ڈاکٹر نے زرد رو عورت کا خون لینے سے انکار کر دیا تو وُہ میک اَپ کر کے ”تندرست“ ہو آئی اور ڈاکٹر کو دھوکہ دے کر خون دےگئی۔
کمسن لڑکے وزن پورا کرنے کے لیئے پتلونوں کی جیبوں میں لوہے کے ٹکڑے ڈال لاتے اور خون دے جاتےتھے۔ کہیں ڈاکٹر نے کسی نو سالہ بچی کا خون نہ لیا تو بچی نےگھر جا کر بلیڈ سے اپنی رگ کاٹ ڈالی اور خون سے پیالی بھرنےلگی۔ گھر والوں نے بر وقت دیکھ لیا اور بچی کا خون روک لیا۔ ہائی کورٹ کے ججوں نے ایک روز مل کر خون دیا۔ خون دینے والوں کی قطاریں روز بروز بڑھتی رہیں، گجرات تک کےلوگ خون دینے لاہور آتے۔ شہری محاذ کا یہ عالم ہوا کہ ریڈ کراس والوں نے اندازہ لگایا ہے کہ پانچ دِنوں میں قوم نے اس مقدار سے کہیں زیادہ خون دے دیا ہے جتنی پچھلے پورے سال میں فراہم نہیں ہوسکی تھی۔
لاہور ”جہاد جہاد“ اور” پاکستان زندہ باد“ کےنعروں سےگونج رہا تھا۔ شہر بھارتی توپوں کے پھٹتےگولوں اور اپنی توپوں کےدھماکوں سے بلتا۔ روزمرہ کی زندگی ہیجانی کیفیت کے باجود روزمرہ کی طرح رواں دواں رہی۔
”داتا دربار عورتوں کی دعاؤں سےگونج رہا ہے۔ آج کوئی عورت داتا سے بیٹا نہیں مانگ رہی، سب آج دوپٹے پھیلائے، رو رو کر قوم کے ان بیٹوں کی سلامتی اور فتح کی دعائیں مانگ رہی ہیں جو بی آر بی کےکنارے ان کی آبرو پر جان کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔“
مغرب پسند خیال اور مشرقی ماحول کی لڑکیاں ایک ہی محاذ پہ کفر کے مقابلے میں سینہ سپر ہوگئی ہیں۔ عورتیں گھروں سے نکل آئیں اور نرسنگ، فرسٹ ایڈ اور شہری دفاع کی تربیت گاہوں میں جمع ہوگئیں۔ گھروں میں وُہ غازیوں اور کشمیری مجاہدین کےلیئےسویٹریں بننے لگیں۔ چٹاگانگ میں ایک نوجوان لڑکی فوج کے بھرتی دفتر میں گئی اور درخواست دی کہ وُہ بھرتی ہونا چاہتی ہے اُسےبتایا گیا کہ فوج میں لڑکیوں کو نہیں رکھا جاتا تو اُسکے آنسو نکل آئے۔ ایک بھکارن نے دِن بھر کا مانگا ہوا آٹا اور پیسے قوم کے حوالے کر دیئے۔ کئی عورتوں نے زیورات اور بیٹیوں کےجہیز دفاعی فنڈ میں دے دیئے۔
دیہات میں لوگوں نے اناج کی بوریاں اور بعض دودھ والی گائے، بھینس دے دیں۔ قوم غازیوں کے لیئے خون کے تالاب اور روپے پیسے کے انبار جمع کر چکی تھی۔
پاکستان کے بڑے بڑے شہروں میں ریڈ کراس کےمراکز میں لوگوں نے خون کے علاوہ سگریٹوں، صابن، خوشبودار تیل، تولیوں، کتابوں، رسالوں اور اس نوع کی ضروریات کی چیزوں کےڈھیر لگا دیئے۔ ٹرانسسٹروں کےانبار الگ تھے۔ دفاعی فنڈ کےاعداد و شمار تیزی سے بڑھتے جا رہے تھے۔ اسی طرح بنکوں اور ریڈ کراس کے بلڈ بنک میں روپیہ، دیگر عطیات اور خون دینے والوں کا ہجوم اور زیادہ بڑھتا ہی گیا۔ بعض افراد کا کہنا تھا کہ ”دفاعی فنڈ اور خون کے ذخیروں میں حیران کن رفتار سےاضافہ ہو رہا ہے“ لیکن پاکستانی حیران نہ تھے کیونکہ زندہ قوموں کے ایثار کی رفتار یہی ہوا کرتی ہے۔
مال بردار پرائیویٹ ٹرکوں کی ایسوسی ایشن نے جنگ کے اگلے روز ہی سارے ملک میں سے چالیس ہزار ٹرک حکومت کے حوالے کر دئیے ان ٹرکوں کی ڈرایئور سینہ تان کر مورچوں تک جنگی سامان پہنچانے میں مصروف ہوگئے تھے۔ ٹرکوں کے علاوہ اس ایسوی ایشن نے مجاہد فنڈ کے لیئے چالیس ہزار روپیہ بھی دیا۔
مغربی اور مشرقی پاکستان میں فضائی حملوں کے بعد شہریوں میں جوش و خروش بڑھ گیا تھا۔ کسی چہرے پر خوف اور گھبراہٹ نہ ہوتی۔ پاکستانیوں کے چہروں کے تاثرات یکساں تھے، جیسے ہر چہرہ بزبان خاموشی سےکہہ رہا ہو پاکستان میرا ہے۔ پاکستان کا دفاع میری ذمہ داری ہے۔“
سکول اور کالج ٦ ستمبر کو ہی بند ہوگئےتھے۔لیکن بچےکھیل کود سے بےنیاز، اے۔آر۔پی کی وردیاں پہنےگلیوں، بازاروں اور میدانوں میں خندقیں کھودنے میں مصروف ہوگئے۔ یہ بچےایک دن میں جوان ہوگئے تھے۔ جن ننھے ننھے بچوں کو اور کچھ نہیں سوجھتا، وُہ ”ہندوستان مردہ باد“ اور ”پاکستان زندہ باد“ کے نعرے لگاتے پھرتے تھے۔ والدین شام کے بعد بچوں کو ڈھونڈتے پھرتےلیکن بچےگلی محلوں میں بلیک آؤٹ کرانے کے لیئے بھاگتے دوڑتے اور وسلیں بجاتے پھرتےتھے۔
بچوں کو طیاروں کی قسمیں، بموں کے وزن، راکٹوں کی مار، توپوں کی قسمیں اور گولوں کے وزن زبانی یاد ہوگئے۔ وُہ طیارے کی آواز سن کر بتا دیتے تھے کہ یہ طیارہ اپنا ہے یا دشمن کا۔راولپنڈی میں ایک لڑکے نےدوسرے کو چاقو مار کر لہولہان کر دیا کیونکہ اُس نےاُسے شاستری کہا تھا۔ چاقو مارنے والےلڑکےنے پولیس کو بیان دیا ہے کہ یہ مجھےہٹلر کہا کرتا تھا لیکن میں نےکبھی برا نہ منایا کیونکہ ہٹلر جنگجو تھا مگر ”شاستری“ جیسی گالی میں برداشت نہ کرسکا۔
گلیوں میں اور سڑکوں پر فلمی گیت الاپنے والے ٹیڈی قوم کی آبرو کے امین بن گئے۔ فلمی گیت مرگئے، دیس کی فضا میں مِلی ترانے اور رزمیہ گیت گونجنےلگے۔ کس قدر ولولہ ہے ان نغموں میں۔ ایک ایک لفظ اور ایک ایک انگ روح میں اتر رہا ہے۔ قوم کو ان نغموں کی کس قدر ضرورت تھی؛ تب پتہ چلا۔
لوگ سڑکوں پرمنتظر کھڑے رہتے۔ پاک فوج کا کوئی مجاہد یا کوئی گاڑی نظر آجاتی تو وُہ اُسےگھیر لیتےتھے۔ ہر کسی کی خواہش ہوتی تھی کہ وُہ اپنےغازیوں کو چائے یا شربت پلانےمیں پہل کرے۔ ہر کوئی انہیں سر آنکھوں پر بٹھانے کو بےتاب ہوتا تھا۔ لیکن جوانوں کو فرصت نہیں کہ دم بھر کر رُک جائیں۔ شہر کےلوگ چلتے ٹرکوں میں مشروب کی بوتلیں، فروٹ، کھانا اور پھول پھینک دیتے ہیں۔ لاہور سیکٹر میں جہاں تک شہریوں کو جانےکی اجازت تھی۔ وہاں انہوں نے فروٹ کے ٹوکروں، زردہ پلاؤ کی دیگوں اور کھانے کے انبار لگا دیئے ہیں۔ وُہ ہر روز ان انباروں میں اضافہ کر آتے۔ سیالکوٹ اور لاہور سیکٹروں میں جو بڑی توپیں پیچھے نصب ہوئیں اُن کےتوپچیوں کو دیہات کی عورتیں کھانا، پانی اور لسی پہنچاتی رہتی۔ توپچی انہیں روکتے۔ کیونکہ انہیں سرکاری طور پر کھانا پہنچتا رہتا تھا۔ اس کےعلاوہ وہاں خطرہ بھی ہوتا تھا لیکن لوگ انہیں ایک ہی جواب دیتے تھے۔”کیا تم کسی ماں کے بیٹے نہیں؟“ لوگ تو اپنی رگوں کا خون نچوڑ کر ان غازیوں کی رگوں میں ڈال دینےکو بےتاب ہوتے۔
ہسپتالوں میں محاذوں کے زخمی مجاہد، ڈاکٹروں اور نرسوں کے لیئے پریشان کن مسئلہ بن گئے ہیں۔ وُہ ہسپتالوں میں رُکنا نہیں چاہتے تھےمحاذ پہ پہنچنا چاہتے تھے۔
ایک روز لاہور والوں نےفضائی جھڑپ دیکھی ۔بھارتی فضائیہ کے چار نیٹ اور دو ہنٹر طیارے پاکستان پر کہیں بمباری کرنے آئےلیکن ہمارے دو ہوا بازوں نے انہیں لاہور کے اوپر ہی روک لیا۔ فضا میں چھ اور دو کا معرکہ ہوا اور زمین پر لاکھوں تماشائیوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ چھتوں اور سڑکوں پر میدانوں اور باغوں میں”پاک فضائیہ زندہ باد“۔ ”وُہ مارا، وُہ مارا“ کےنعرے لگا رہے تھے۔ تھوڑی ہی دیر میں بھارت کا ایک طیارہ جلتا ہوا شالامار سے پرے جا گرا۔ دشمن کا ایک اور طیارہ مجروح ہوا جسے بھارت کی طرف گرتے ہوئے دیکھا گیا۔
کھلے میدانوں میں لاہوریوں کا ہجوم در ہجوم جمع ہو جانا جنگی حماقت تو تھا کہ یہ ہجوم اپنے ہوا بازوں کے لیئےبھی رکاوٹ بنا رہا تھا۔ لیکن اہل شہر کا جذبہ بے پناہ تھا۔ ان لوگوں کا خیال تھا کہ وُہ کونوں کھدروں میں چھپ گئے تو اپنے ہوا باز فضا میں اکیلے رہ جائیں گے اور ان کی ”ہلا شیری“ کرنے والا کوئی نہ ہوگا لاہور والےتماشائی تو نہیں تھے۔ وُہ اس فضائی معرکے میں برابر کے شریک تھے۔
٨ ستمبر کے روز جب ریڈیو نےاعلان کر دیا تھا کہ بھارت پاکستان کے مختلف شہروں میں چھاتہ بردار جاسوس اُتار رہا ہے تو اُس رات پاکستان بھر میں کوئی بھی نہیں سویا۔ لوگ چاقو، چُھریاں، کلہاڑیاں شکاری بندوقیں اور ڈنڈے اُٹھائے رات بھر گلیوں، میدانوں، باغوں اور ریلوے لائنوں پر بھاگتے دوڑتے رہے۔ عورتیں اور بچے بھی ڈنڈوں اور چاقوؤں سے مسلح ہو کر صحنوں میں اور چھتوں پر گھومتے پھرتے رہے۔ تب قوم کو نیند نہیں آتی تھی اور دشمن کو شکست دینے تک قوم کو نیند نہیں آئی۔
نظم و نسق ایسا تھا کہ کوئی فرد بھی کھلےمیدان میں سگریٹ تک نہیں سلگاتا تھا۔ لوگ بلیک آؤٹ کا ”احترام“ دِل و جان سے کر رہے تھے۔ قوم احکام اور ہدایات کا انتظار نہیں کرتی تھی۔ تب بچہ بچہ جان گیا تھا کہ اُسے کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔ کس قدر منظم ہے یہ قوم! بازاروں سےکوئی شے غائب نہیں ہوئی نہ مہنگی ہوئی۔
ملک بھر میں کسی کو خیال نہ تھ اکہ اتوار چھٹی کا دِن ہوتا ہے۔ دفتر بھی کھلے تھے اور بازار بھی قوم بے آرام تھی، بیقرار تھی، بپھری ہوئی تھی، محاذ پر لڑنا چاہتی تھی۔
جمعہ ١١ستمبر قائد اعظم کا یوم وفات تھا ، اُس روز مسجدوں اور گھروں میں قرآن خوانی ہوتی رہی اور ملک کی فضا مجاہدوں کی سلامتی اور فتح کی دعا سےگونج سے رہی تھی توپیں اور طیارےگرج گرج کر اپنے محبوب قائد کی روح کو سلامی دے رہے تھے۔
آج کیا ہم یوم وفات قائد پر قرآن خوانی اپنےگھروں میں کرتے ہیں؟
عرب اپنے مسلمان بھائیوں کے لیئے مرمٹنے کے لیئے بیتاب ہیں۔ خانہ کعبہ میں دعائیں مانگ رہے ہیں اور مالی امداد بھیج رہے ہیں۔
جنگ ختم ہوئی توتمام مساجد میں خدائے ذوالجلال کے حضور شکرانے ادا کیےگئے۔ قوم نے اپنے شہیدوں کی قبروں پر پھول چڑھائے۔ ہسپتالوں میں زخمی مجاہدوں کےگرد تحفوں کے انبار لگا رہے تھے۔ لوگ ایک دوسرے کو مبارک بادیں دے رہے تھے۔ اس لیئے نہیں کہ جنگ ختم ہوگئی تھی۔ بلکہ اس لیےکہ قوم خدا کے حضور سرخرو ہوگئی تھی ۔
رات کی تاریکی میں ، مکمل بلیک آؤٹ میں پاکستانی قوم نے وُہ رموز پالیے تھےجو انہیں اجالوں میں کبھی نظر نہ آئے تھے۔

یہ تمام ایسے واقعات ہے جنھوں نے اس قوم کی تاریخ کو انمول بنا ڈالا۔ ہر فرد نے اپنے حصہ کا وُہ کردار ادا کیا، جو وُہ کر سکتا تھا۔ آج ہمیں اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ وُہ کیا عناصر تھے، کہ اس قوم پاکستان میں ایثار کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ یہ وُہ معاشرتی تاریخ ہے، جس نے پاکستان کو قومی تشخص عطاء کیا۔ قوموں کی عظمت ایثار سے قائم رہا کرتی ہے۔ ١٩٦٥ء میں ہر فرد کا کردار افسانوی کہانی نہ تھا، حقیقت تھا اِس عہد کا کہ اس وطن کی خاطر ہم جان کی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ ایسی ہی لازوال قربانیاں قوم پاکستان کو تا قیامت زندہ و جاوید رکھنے میں اپنا اپنا کردار ادا کریں گی۔ آج ایک بار پھر ایسا وقت آن پڑا ہے کہ ہمیں ایسے ہی اَن مٹ ،اَن گنت جذبوں کی ضرورت ہے۔ ہمارا وطن ایک بار پھر بیرونی سازشوں کا شکار ہے، اندرونی طور پر کمزور تر کیا جا رہا ہے اور اب تو اس ملک کا دفاع بھی خطروں کی زد میں محسوس کیا جانے لگا ہے۔ اَشرافیہ ہوش کے ناخن نہ جانے کب لیں گی؟ شائد یہ باتیں کھوکھلے نعروں تک محدود ہو چلی۔ ممکن ہے کوئی اس بناء پر خاموش ہو کہ اُس کے منظر سے ہٹنے کے بعد پچاسوں افراد اُس کی جگہ وفاداری ثابت کرنے کے لیے تیار موجود ہیں۔ اُسکے باغی ہونے سے حالات مزید نازک ہو جائیں گے۔ ہم مسلسل برسوں سے خطروں میں گھرتے چلے جا رہے ہیں، بلی کےشکار کی زد میں ہونے پر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ خطرے کے وقت، شتر مرغ کی طرح سر ریت میں دبائے ہوئے ہیں۔حالات کا سامنا نہیں کر رہے، حالات کو واقعات سے ٹال رہے ہیں۔ آخر کب تک؟ ایک دن سامنا کرنا ہے۔ عام فرد اپنے حصہ کا کردار ادا کرنے سے ڈرتا ہے۔ حقائق جان کر وُہ کئی سوالوں کی زد میں ہوتاہے۔ ذات کے سوالوں کےجواب میں؟ تحفظ کا خوف ہمارے سروں پر چڑھ دوڑا ہے۔
مجھے ایک فرد نے خصوصی ملاقات میں دفاع پاکستان پر لکھنے کے لیے کہا، بلکہ عملی طور پر١٩٦٥ء کی جنگ کا مواد مہیا بھی کیا، جو ١٩٦٦ء میں مضامین، یاداشتوں، ڈائری کی صورت میں چھپا۔ مگر میں راضی نہ تھا، کہ کیا لکھوں! لوگوں کے دِلوں پر باتیں اثر نہیں کرتیں۔ میں وُہ لکھنا چاہتا ہوں کہ دِل پر چوٹ پڑے۔ پڑھنے والے کے اندر وطن عزیز کی محبت جاگ پڑے۔ مگر لوگ آج صرف واہ، واہ تو کر سکتے ہیں مگر بات سمجھتے نہیں۔ اگر سمجھ لیں تو عذر ہزاروں پیش ہو جاتے ہیں۔ خیر میں نے ماضی کے وُہ حقائق پیش کیے جو شائد وقتی طور پر آپکےخیالات پر اثر تو کر جائیں گے، مگر عمل وہی رہےگا جو آپکا مزاج ہے۔ یہ سوچ کر میں نے یہ مضمون ترتیب دے ڈالا۔ آخری پیرا لکھنا ہنوز باقی تھا کہ کسی کا پیغام موصول ہوا۔ ہم اپنے لیئے ایس ایم ایس کا فیصلہ واپس لے سکتے ہیں، تو کیا اس ملک پر منڈلاتےخطرات کے فیصلے دُرست نہیں کروا سکتے۔ میں تب بھی یہ سطور لکھنے کو تیار نہ تھا۔ مگر میرے دِل کو چین نہ آیا، میرے ضمیر نےمجھےجھنجھوڑا۔ میں قومی مورال پر اتنی باتیں لکھتا ہوں ، اور اس ملک کے بقاء کے لیئے ڈر رہا ہوں، اسی اثناء میں مجھےخیال آیا ۔١٩٦٥ء والے جو جذبات عوامی سطح پر افراد میں تھے، وُہ کیوں تھے؟ اُنکے جذبوں میں ڈرنا اور سوچنا معنی نہیں رکھتا۔ اُنکو بس اللہ پر یقین ہوتا ہے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان لیبارٹریز کے قریب ١٨ ایکڑ جگہ امریکی سفارت خانہ کی توسیع کے لیئےخریدی گئی ہے، جہاں ٧٠٠ میرین موجود ہیں، ١٠٠٠ میرین کی آمد ہیں۔٢٠٠ گھر اسلام آباد میں کرایہ پر حاصل کر کے جدید سیٹلائیٹ سے لیس کیےگئے ہیں۔” امریکی غنڈہ لشکر“ کالا پانی اپنی سیاہ حرکات کے لیئے چارسدہ کےقریب شب قدر میں زمین حاصل کر چکا ہے۔ افسوس! آج آگاہی کے باوجود بدقسمتی سے، ہمارا ایٹمی اثاثہ سازشی چنگلوں کا شکار ہو رہا ہے۔ہمارا معاملہ یہ ہے کہ ہم سلطنت روم کے ماتحت اسرائیلی گورنر ہے، جو ابنیاء کو بھی قیصر روم کے حکم کے ماتحت رہتے ہوئے سولی پر چڑھا ڈالتے تھے۔ کبھی کبھی حالات کو دیکھتے ہوئے سوچتا ہوں، ہمارا حال بنی اسرائیل والا ہی ہے۔ ہم حقائق سے نابلد ہیں۔ مایوسیوں میں اس لیئےگھرتے جا رہے ہیں کہ عملی کوششیں ترک کر چکے۔ اے اللہ اس ملک کے ہر فرد میں موجود جذبہ حب الوطنی کو عملی دھارا بھی عطاء فرما، ہمیں مایوسیوں سے بچا اور وطن کو تحفظ فرمانے میں ہماری مدد فرما۔(آمین)

ایسے موضوعات پر میں لکھنےسے ہمیشہ اس قدر گریز کرتا ہوں کہ کسی کا اصرار بھی مجھ پر اثر نہیں کرتا۔ مگر آج میرے دِل پر چوٹ پڑی اور میں لکھنے پر مجبور ہوا۔ اُس پیغام میں یہ بات بڑی اہم تھی۔ ایس ایم ایس کا ٹیکس ختم ہو سکتا ہے تو کیا ایسے فیصلےدرست نہیں ہوسکتے۔ آج اس قوم کو قومی مورال کی ضرورت ہے۔’ہم زندہ قوم ہے‘، نعرہ لگاتے ہیں، اےاللہ ہمیں زندہ قوم بنا دے۔ ہمیں باضمیر اور غیرت مندی عطاء فرما دے۔
فرخ نور
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

عظیم جناح، نہرو اور گاندھی

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

سوالیہ تحریری حقائق

خیالات کے بےہنگم ہجوم میں سوچتاہوں، کہوں تو کیا کہوں۔ پھول کی خوشبو سحر انگیز تاثیر رکھتی ہے۔ لفظوں کے اثرات ما بعد ضبطِ تحریر کیاگل کھلا رہے ہیں، یہ دُنیا دیکھ رہی ہے۔ تحریر میں خیال اچھا ہو، تو کیا خوب بات ہے۔
آفرین! اِک نقطہ نظر ہے، دُنیا میں انسان کے رُجحانات کتابوں نے بدلے ہیں۔ قوموں کی تقدیر بدلی، ممالک کی قسمت بنی ۔۔۔۔ حتیٰ کہ زمانے کتابوں کے ٹھہر پائے۔ یہ دور کس کتاب کا ہے؟ کتابوں کے انبار میں، شائد کسی بھی کتاب کا دور نہیں چل رہا۔
لکھنے والے رہے نہیں، پڑھنے والےعالم بنے، پڑھانے والے نہ جانے کیا کر رہے ہیں۔ ہُو کا یہ عالم ٹھہرا کہ زمانے کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ دوڑ اپنی اپنی ہوئی، چور پوری قوم ہوئی۔ مایا کی تلاش میں، نام کمایا۔ فاترالعقل نے زمانہ میں، انجانہ خوف بنایا۔
حادثاتی مصنفین کا حادثاتی دور چل پڑا اللہ نہ کرے، یہ قوم بُرے حادثات کا شکار ہو۔اعتراض مصنف نہیں، معترض تو متنفر سوچ کی نفرت اور شر انگیز اشاعت سے ہوں۔ مغرب دشمن ہے، ہمارا مسلمان بھائی لسانی و مذہبی تنازعات کا شکار ہے، ہمارے خلاف ساز ش ہو رہی ہے، محبوب بے مروت ہے، زندگی گلیمر ہے، حقیقت کیا ہے؟ بس! جو مفروضے پیش ہوئے، وُہ حقیقت ٹھہرے۔ آج عام فرد کی دسترس میں ایسی ہی کتب دستیاب ہیں۔ جو مایوسی کا سبب بن رہی ہیں۔ اصل حقیقت غور و فکر سے محروم! حادثاتی دور کا یہ بھی اِک زمانہ ہے۔
محقق قلابے ملاتےہوئے، بنیادیں ہلا رہے ہیں، تحقیق کار تحقیق نہیں کر رہے۔ اشاعتی ادارے اغلاط سے بھرپور چند نشریات بھی چلا رہے ہیں۔ مگرمیں مایوس نہیں۔ اِن حالات میں بھی، اس قوم میں چند نَول کِشور (١) صاحب جیسے ناشر موجود ہیں۔
دو لفظ بولنے والا لکھنے والاہو گیا، چار باتیں جاننے والا محقق بن گیا، کسی کو متاثر کرنے کی کوشش میں ناکام ہو جانے والا شاعر بن بیٹھا۔ سستی شہرت والوں نے بہت کچھ لکھ ڈالا۔ مگر اُنکا مقصد صرف اپنی ذات کی رونمائی ہے۔ کاش! ایسے افراد کا مقصد قوم کی خدمت ہو جائے تو حقیقی مقصد کے حصول میں سمت کا تعین ہو جائےگا۔
عجیب عجیب تماشہ دیکھنے کو مِل رہا ہے۔ چور بے خبر بہروپیا کا انٹرویو لے رہا ہے، کتاب چھپی تو معلوم ہوا، تصوف سے نابلد افراد کی گفتگو مغربی نفسیا ت پہ چل پڑی، ایک اور سنجیدہ مضحکہ خیز حادثہ۔
دامن بچانے کایہ دور ہے، جس میں ہر شےءگنی جا رہی ہے۔ اَگنی کی تعلیم دُگنی، تِگنی، چُگنی سے ہے۔ حادثات ہمارے منتظر ہے، جبکہ ہم کسی خوشنما حادثہ کے انتظار میں ٹھہرگئےہیں۔
حادثہ ہمارا ہو چکا، کتاب ہماری اور ہے۔ تعلیم کسی اور جانب چل پڑی۔ہمارا مصنف آج گنتیوں میں مصروف ہے، مغرب اپنے جن دانشوروں کی تقلید پر ہے، اُنکا نشوونمائی دور محرومیات اور لالچ سے اثر انداز ہوا۔ اُنکے افکار سوالیہ نشان !عربی، فارسی اور ہندی سے ہوئے ناواقف ہم، تکیہ ٹھہرا ہمارا تراجم پہ، بھول چکے اپنےمشاہرین اسلام کی اَصل تعلیم کو۔
(فرخ )
(١) نَول کشور: قیام پاکستان سےقبل برصغیر کےنامور پبلشر، جنھوں نے قرآن پاک کی اشاعت بھی فرمائی۔ اُن پر مسلمانوں نے مقدمہ دائر کیا کہ یہ بےحُرمتی ہے۔ وُہ عدالت میں پیش ہوئے اور فرمانےلگے۔ میں ہندو ہوں، مگر میں چاہتا ہو کہ اس کی اشاعت دیکھو مگر ایسا کر نہیں سکتا۔ کیونکہ اُس جگہ تمام کام کرنے والے افراد مسلمان ہے، کوئی فرد بغیر وضو اور پاک لباس کے داخل نہیں ہو سکتا۔ وہاں استعمال ہونے والے پانی کا نکاس گنگا کی ندی میں ہے (جو ہندوؤں کے نزدیک پاکیزہ ترین ہے)۔ جس کے لئے ایک خصوصی نہر کھدوائی گئی ہے۔ اب بھی اگر مجرم ہو تو سزا دے دیجئیے۔ جس پر تمام حاضرینِ عدالت نادم ہوئے۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

عجیب قوم ہیں ہم!

ابھی [[پرویز مشرف]] کی دھول ختم اور تڑپتی روحوں کو سکون نہیں ملا کہ ایک اور مشرف کی آمد کے نغمے گائے جا رہے ہیں۔
ایسا کیوں ہے؟
یقینا یہ سیاستدانوں کی بہت بڑی ناکامی ہے۔


ان سیاستدانوں کے الیکشن منشور کچھ اور ہوتے ہیں اور اقتدار کا ایجنڈا کچھ اور ہوتا ہے۔ جس سے عوام بہت جلد ان سے بددل ہو جاتی ہیں۔ اس وقت عوام اور سیاستدان دو دھڑوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ ایک دھڑہ طالبان کے نام پر اپنی سیاست چمکا رہا ہے تو دوسرا طالبان کے تصور اسلام کا مخالف اور حکومت کا حامی و مددگار بلکہ وظیفہ خوار بن چکا ہے۔ مگر حقیقت میں دونوں ہی غلط ہیں دونوں ہی پاکستان اور اسلام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
دراصل عوام نے آج تک کسی سیاستدان کا محاسبہ نہیں کیا اور نہ ہی کسی سے یہ پوچھا کہ وہ اپنے الیکشن منشور پر کتنی حد تک عمل پیرا ہے۔ اگر عوام سیاستدانوں کا ‘انٹرویو‘ کرتے تو آج صورتحال قطعی مختلف ہوتی۔ ہمارے نظام کی گندگی بڑھتے بڑھتے اب ایک بہت بڑے گندگی کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اس وقت ہمیں بھل صفائی کی ضرورت ہے کیونکہ جب تک قوم اپنی آستینیں چڑھا کر اور پاجامے تخنوں سے اوپر کر کے اس گندگی کے دھیڑ میں اتر کر اس کی صفائی نہیں کرے گی تب تک آمروں اور مفاد پرست سیاستدانوں سے جان نہیں چھوٹے گی۔
عجیب قوم ہیں ہم !!!!!!!! کنوئیں میں پڑے کتے کو نکالنے کی بجائے پانی نکال کر کنویں کو پاک کرنا چاہتے ہیں۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

مسلمانی




کالم . جاوید چوہدری، روزنامہ ایکسپریس

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

ڈکٹیٹروں کے شوق



کالم نگار کا ٹھیک طرح سے معلوم نہیں، اندازِ تحریر سے لگتا ہے کہ جاوید چوہدری ہی ہیں۔


مکمل تحریر اور تبصرے >>>

قائد کی دلی خواہش

قائد اعظم کی دلی خواہش تھی کہ پاکستان میں عہد فارقی کی تصویر عملی طور پر کھنچی جائے۔ ٢١ مارچ ١٩٤٨ کو آپ نے بدعناصر کو مکاطب کر کے فرمایا کہ
‘‘ پاکستان قائم ہو چکا ہے اور یہ مسلمانوں کی قربانیوں سے بنا ہے۔ پاکستان کے مقاصد میں کامیاب ہونے کے لئے ضروری ہے کہ مسلمانوں میں مکمل اتحاد و اتفاق ہو۔ ہمارا خدا، رسول، کلمہ اور قرآن ایک ہے۔ پھر کوئی وجہ نہیں کہ ہم ایک ہو کر اپنے ملک اور مذہب کی اشاعت اور ترقی کے لئے انتھک جدوجہد نہ کریں اگر آپ نے مکمل اتحاد و تعاون اور صحیح اسلامی جوش و خروش سے کام کیا تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان جلد ہی دنیا کے عظیم ترین ممالک میں شمار ہونے لگے گا۔ تعمیر پاکستان کے لئے مسلمانوں کے تمام عناصر اور طبقوں میں یک جہتی اور اتحاد ضروری ہے۔
میں نے مسلمانوں اور اسلام کی جو خدمت کی ہے وہ اسلام کے ادنٰی سپاہی اور خدمت گزار کی حثیت سے کی ہے اب پاکستان کو دنیا کی عظیم قوم اور ترقی یافتہ ملک بنانے کے لئے آپ میرے ساتھ مل کر جدوجہد کریں۔
میری آرزو ہے کہ پاکستان صحیح معنوں میں ایک ایسی مملکت بن جائے کہ ایک بار پھر دنیا کے سامنے فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کے سنہری دور کی تصویر عملی طور پر کھنچ جائے۔ خدا میری اس آرزو کو پورا کرے۔
پاکستان میں کسی ایک طبقے کو لوٹ کھسوٹ اور اجارہ داری کی اجازت نہیں ہو گی۔ پاکستان میں بسنے والے ہر شخص کو ترقی کے برابر مواقع  میسر ہوں گے۔ پاکستان امیروں، سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور نوابوں کی لوٹ کھسوٹ کے لئے نہیں بنایا گیا۔ پاکستان غریبوں کی قربانیوں سے بنا ہے، پاکستان غریبوں کا ملک ہے اور اس پر غریبوں کو ہی حکومت کا حق حاصل ہے۔ پاکستان میں ہر شخص کا معیار زندگی اتنا بلند کر دیا جائے گا کہ غریب اور امیر میں کوئی تفاوت باقی نہ رہے گا۔ پاکستان کا اقتصادی نظام اسلام کے غیرفانی اصولوں پر ترتیب دیا جائے گا یعنی ان اصولوں پر جنہوں نے غلاموں کو تخت و تاج کا مالک بنایا۔‘‘

آہ! مگر قائد کی زندگی نے وفا نہ کی اور پاکستان کی باگ دوڑ امیروں، سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور نوابوں کے ہاتھوں میں چلا گیا جو ٤٧ سے آج تک عوام کا خون چوس رہے ہیں۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

وفا کا نوحہ

آج ١٦ دسمبر ہے، سقوط ڈھاکہ کا دن۔ بطور قوم ہم نے اس تاریخی المیے کو کس حد تک یاد رکھا اور اس سے سبق سیکھ کر اپنے سیاسی رویوں کو بہتر بنایا، اس بارے کچھ نہ کہا جائے تو بہتر ہے۔ اتنے سالوں بعد بھی اگر وفاق اور صوبوں کے تعلقات کو دیکھا جائے تو شرمندگی ہوتی ہے کیونکہ ہم نے تاریخ کے اس عظیم سانحہ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ ہم ان غلطیوں کا اعادہ نہیں کر رہے جو جمہوری اور سیاسی حوالے سے مشرقی پاکستان کی المیے کا سب سے بڑا سبب تھیں۔
آج کے المناک اور تڑپا دینے والے دن کے حوالے سے پروفیسر شاہدہ حسن کی ایک نظم ‘وفا کا نوحہ‘ اس امید کے ساتھ پیشِ خدمت ہے کہ ہم اپنی تاریخ کے اس المناک واقعے سے سبق سکھیں گے اور ہمارا حال اور مستقبل ہمارے ماضی کے کردار سے بہتر ہو گا۔


وفا کا نوحہ
(١٦ دسمبر ١٩٧١ء کی یاد میں)
ہماری تاریخ کے عقوبت کدے کا سب سے سیاہ لمحہ،
کہ جب ہماری جھکی نگاہیں
زمیں کے پاتال میں گڑی تھیں
ندامتوں کے عرق سے تر ہو گئی تھیں پیشانیاں ہماری
ہمارے ہاتھوں کو پشت سے باندھا جا رہا تھا
ہم اپنے دشمن کے روبرو
بےزبان و بےبس کھڑے ہوئے تھے
اور اُن کے قدموں میں ایک اک کر کے
اپنے ہتھیار رکھ رہے تھے
نہ جانے آنکھوں نے کیسے جھیلے وہ سب نظارے
جب ایک جنت نما جزیرے کی پھول وادی میں
صرف کانٹے اُگے ہوئے تھے
بہت سے مانوس اور غمگسار چہرے
دھوئیں کے بادل لگ رہے تھے
نہ اپنے مانجھی کے گیت دہرا رہی تھی گنگا
نہ بانس کے جنگلوں سے
نغموں کی نرم آواز آ رہی تھی
نہ کھیت میں
دھان کی پنیری لہک رہی تھی
نہ گھاٹ سے کشتیاں
روانہ ہوئیں سفر پر
حسین اور سرسبز مرغزاروں میں
چائے کے باغ کی خوشبوؤں سے بوجھل ہوا میں
اور ریشمی دھان کی کھڑی فصل میں
اچانک
بہت سے شعلے بھڑک اٹھے تھے
یہ آگ بس پھیلتی جا رہی تھی ہر سو
دلوں کے اندر
گھروں کے اندر
تمام چہرے پگھل رہے تھے
اور اس میں مٹتی ہوئی شناسائیوں
اور قربتوں کے
تمام احساس جل رہے تھے
زمین سہمی ہوئی تھی
اور آسمان چپ تھا
تمام لمحوں کو جیسے سکتہ سا ہو گیا تھا
ہزاروں لاکھوں دلوں کی گہری اداسیوں میں
بس ایک عفریت جاگتا تھا
وہ ایک ساعت ۔۔۔۔
کہ ہم نے انیس سو اکہتر کے اُس دسمبر کی
سولہویں شب
جسے خود اپنے وجود میں
موت کے تجربے کی صورت اترتے دیکھا


وہ برہمی کے بھنور میں جکڑے وجود
اک دوسرے کے بہتے لہو سے
ہولی منا رہے تھے
وطن کے پرچم کو، اپنی پلکوں سے تھام کر
چلنے والے ساتھی
وطن کا پرچم جلا رہے تھے


سقوط ڈھاکہ!
سراغ ملتا نہیں ہے
جس کے کسی سسب کا!!!
کہ ہم نے ہونٹوں کو جانے کیوں
مصلحت کے ریشم سے سی رکھا ہے!!!!
نہ جانے کیوں
ہم نے اپنے دل کی عدالتوں پر
لگا لئے قفل خامشی کے
فقط اسی وقت بولتے ہیں
کہ جب ہمیں ایک دوسرے پر بہتان باندھنے ہوں


وہ اوجڑی کیمپ ہو
کہ سی ایک سو تیس (C-130) طیارے کی تباہی
شہید ملت کا خوں ہو، یا
کارگل کا قصہ
نہ جانے کیوں آج بھی ہمارے
تمام ہی المیوں پہ چپ کے دبیز پردے
پڑے ہوئے ہیں
کٹے ہوئے پھل کی طرح جیسے
ہمارے سینے ۔۔۔۔ بہت سے قاشوں میں بٹ گئے ہیں


دہائیاں اب گزر چکی ہیں
وطن کی مٹی کی خوشبوؤں کو ترسنے والے
ابھی تلک ریڈکراس کے کیمپس میں
اذیت کے اور انتظار کے دن بِتا رہے ہیں
اور آتی جاتی رُتوں کو
اپنی وفا کا نوحہ سنا رہے ہیں۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

پاکستان اور سعودی حکمران












کنگ سود


سابق وزیرِ اعظم نواز شریف دس ستمبر کو وطن پہنچنے پر توقع کے مطابق ایئر پورٹ ہی سے سعودی عرب روانہ کر دیے گئے۔ چند ہفتے قبل عدالتِ عظمٰی کے فیصلہ کے بعد نواز شریف نے پاکستان واپس آنے کا اعلان کیا تھا۔
مشکلات کا شکار مشرف حکومت نے خود کو ایک اور سیاسی بحران میں پا کر سعودی حکومت سے رابطہ کیا۔ ابتدائی طور پر سعودی ردِ عمل زیادہ واضح نہیں تھا۔ لیکن ستمبر کے پہلے ہفتے میں سعودی ترجمان کے بیان اور پھر پرنس مقرن اور سعد حریری کی پاکستان آمد سے آئندہ واقعات کا رُخ بڑی حد تک طے ہو گیا۔ بلکہ سعودی مداخلت کے پسِ پردہ کارفرما بین الاقوامی جادوگر کی شناخت بھی مشکل نہ رہی۔
پاکستانی عوام کا عمومی سیاسی رویہ حقائق کی بجائے جذباتیت سے عبارت ہے۔ لیکن سعودی عرب کے بارے میں تو یہ جذباتیت مذہبی عقیدت کو جا پہنچتی ہے۔ حالانکہ اس تعلق کی تاریخ مذہبی رشتے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
سنہ انیس سو دس میں سلطنتِ عثمانیہ کے جنوب مشرقی کونے میں ایک لق و دق صحرا تھا۔ خلیج فارس اور بحیرہ قلزم کے درمیان واقع اس خطے پر دو حکومتیں قائم تھیں۔ نجد کا حاکم ابنِ سعود انگریزوں کا حامی تھا جب کہ حجاز کا حکمران شریفِ مکہ عثمانی ترکوں کا اتحادی تھا۔
پہلی عالمی جنگ میں ترکوں کو شکست ہوئی اورخلافت کا دھڑن تختہ ہوگیا۔ حجاز کے حاکم شریفِ مکہ کی کیا حیثیت تھی۔ حجاز پر ابنِ سعود نے قبضہ کر لیا۔
سنہ انیس سو بتیس میں حجاز اور نجد کو ملا کر سعودی عرب نامی ملک کا اعلان کر دیا گیا۔اس مملکت کے قیام میں مقامی سمجھوتہ عبدالوہاب کے پیروکار مذہبی پیشواؤں سے تھا اور سیاسی سرپرستی برطانیہ بہادر کی تھی۔ سنہ انیس سو تینتیس میں ابنِ سعود نے امریکی کمپنی آرامکو کو ساٹھ برس کے لیے سعودی عرب میں تیل کی تلاش پر اجارہ داری سونپی۔ تفصیل کا یارا نہیں، عبدالعزیز ابنِ سعود کی شخصی اور سیاسی قامت جاننا ہو تو چرچل کی خود نوشت کے متعلقہ حصے پڑھ لیں۔
ہندوستانی مسلمان تحریک خلافت کی دُنیا میں بستے تھے۔ ترکی خلیفہ کے ساتھی شریفِ مکہ کی شکست پر بہت جزبز ہوئے۔ عبدالوہاب کے پیروکاروں نے مقدس ہستیوں کی قبریں مسمار کر دیں تو بےچینی اور بڑھی۔ بالآخر خلافت کمیٹی کا ایک وفد حجاز روانہ کیا گیا۔
وفد میں دیگر افراد کے علاوہ نامور صحافی ظفر علی خاں بھی شامل تھے۔ جنہوں نے ارکانِ وفد کی مخالفت کے باوجود ابنِ سعود سے تنہائی میں ملاقات کی اور واپس آ کر خلافت وفد سے الگ رپورٹ پیش کی۔ دو جملے ملاحظہ ہوں۔’خالص دینی زاویۂ نگاہ سے عبدالعزیز ابنِ سعود میرے نزدیک دنیائے اسلام کا بہترین فرد ہے ۔۔۔ وہ ایک روشن ضمیر مدبر، الوالعزم جرنیل، خدا کا سپاہی، معاملہ فہم حکمران، پُرجوش مذہبی مبلغ اور قوم کا سچا خادم ہے۔‘
اس رپورٹ کے بعد مسلمانانِ ہند میں پھوٹ پڑ گئی۔ خلافت کمیٹی اور مجلسِ احرار پنجاب کے راستے الگ ہوگئے۔ مولانا ظفر علی خاں نے نیلی پوش تنظیم بنا لی۔ مولانا داؤد غزنوی کے خانوادے کی آلِ سعود سے یاد اللہ کے ڈانڈے بھی اسی مناقشے سے ملتے ہیں۔
ابن سعود کی کھلی حمایت پر مؤرخ رئیس احمد جعفری کے مطابق، ظفر علی خان کو بھاری معاوضہ ملا۔ اسی رقم کی تقسیم پر جھگڑے میں مولانا غلام رسول مہر اور عبدالمجید سالک نے زمیندار سے الگ ہوکر سنہ انیس سو ستائیس میں ’روزنامہ انقلاب‘ نکالا تھا۔
سنہ انیس سو اڑتالیس میں سعودی عرب جہاں سے الگ اک جزیرہ نما تھا۔ جیسے تھرپارکر میں جاگیردار مزارعوں سے مونچھ ٹیکس وصول کرتے ہیں، جدہ بندرگاہ پر حاجیوں سے چھ سو پچاس روپیہ فی کس حج ٹیکس وصول کیا جاتا تھا۔
سعودی عرب کی مسکین اور پسماندہ حکومت کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ یہی حج ٹیکس تھا۔ پچاس کی دہائی میں تیل کی آمدنی شروع ہوئی تو حج ٹیکس بھی ختم ہوا۔
سنہ انیس اکہتر میں پاکستان تقسیم ہو گیا۔ پٹ سن کی کھڑی فصل کو دسمبر انیس سو اکہتر کا پالا مار گیا۔ اب نہ بانس کے پتوں کی ٹوکری تھی، نہ بانس کی بنی ماچس۔ کاغذ کے ٹکڑے پہ موم جما کر گندھک کا بلبلہ رکھا جاتا تھا۔ کئی برس اس موم لگی تیلی سے روشنی کرتے رہے ۔ تجارت کا خسارہ بڑھنے لگا۔
سرگودھا، پسنی اور سوات میں ماؤں کے بچے ابھی باقی تھے۔ یہی تجارت کی جنس ٹھہری۔ عرب کے صحراؤں میں تیل نکلنے سے دولت کا چشمہ پھوٹ بہا تھا۔ ہمارے میٹرک فیل ہزاروں کی تعداد میں کام آئے۔ پیسہ وافر، سیاسی حقوق زیرو، قانون نامعلوم، محمد دین اور دین محمد دونوں خوش۔
سعودی عرب میں پاکستانی مزدوروں کی آمد کے ساتھ ہی پاکستان میں سعودی عرب کی کھلی مداخلت بھی شروع ہوئی۔ شاہ فیصل کی سیاسی بصیرت کا تقاضا تھا کہ پاکستان سے آنے والے ہزاروں نیم تعلیم یافتہ مزدوروں کو درہم و دینار کے علاوہ نظامِ اسلام کی افیون مفت بانٹی جائے۔
خدشہ یہ تھا کہ پاکستان میں تو عوام ووٹ کا حق مانگتے ہیں۔ وکیل بات بات پہ سڑکوں پہ آجاتے ہیں۔ صحافی سینہ تان کر حکومت مخالف اداریے لکھتا ہے۔ بچیاں یونیورسٹیوں میں تعلیم پاتی ہیں۔ عورتیں دفاتر میں کام کرتی اور سڑکوں پہ کار چلاتی ہیں۔ ایک بوڑھی عورت ایوب خان کے مقابلے میں انتخاب لڑتی ہے۔
مال روڈ پہ سلطانہ پشاوری سرِشام رقص کناں ہوتی ہے۔ لاہور میں حبیب جالب نظم لکھتا ہے تو سکھر میں شیخ ایاز ظلم کرنے والوں کی خبر لیتا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ سستے پاکستانی مزدوروں کے ساتھ جمہوریت اور جدیدیت جیسی برائیاں بھی سعودی عرب میں چلی آئیں۔
پاکستان کا مسکین مزدور ٹھیک ہے لیکن پاکستان کا زندہ سیاسی ڈھانچہ اور کھلکھلاتا معاشرتی نظام درست نہیں۔ انہیں اُٹنگے پاجامے، داڑھی، لٹکواں لبادے اور منکوحہ حجاب کی خوراک درکار ہے۔ یہ مرگِ مفاجات پاکستانی غریبوں نے جاپانی ٹیپ ریکارڈر اور کھجوروں کے ہمراہ برداشت کی۔
فروری سنہ انیس سو چوہتر میں لاہور کی اسلامی کانفرنس کا میلہ بنگلہ دیش تسلیم کرنے کے لیے سجایا گیا تھا۔ ملکی اور بین الاقوامی حالات کا تقاضا تھا کہ پاکستان ’بنگلہ دیش نامنظور‘ کے بےمعنی جھگڑے میں الجھنے کی بجائے مستقبل کی فکر کرے۔
چنانچہ کوئی پچپن ملکوں کے سربراہ پاکستان پہنچے۔ اسلامی دنیا کا راگ بار بار الاپا گیا۔ بادشاہی مسجد میں نماز جمعہ، شالامار میں شیخ مجیب اور سٹیڈیم میں کرنل قذافی۔ اس بارات کا دولہا شاہ فیصل تھا۔ جمیل الدین عالی کے ترانے ایسے بلند آہنگ تھے کہ کسی نے پاکستانی خیمے میں گھستے عربی اونٹ کو دیکھا ہی نہیں۔
ہفت روزہ اکانومسٹ نے فروری سنہ انیس سو چوہتر میں لکھا کہ ’سعودی عرب کے حکمران شاہ فیصل نے حکومت پاکستان کو مشورہ دیا ہے کہ احمدی فرقے کو غیر مسلم قرار دیا جائے۔‘
ربوہ کے ریلوے سٹیشن پہ نشتر میڈیکل کالج کے طابعلموں کا جھگڑا تو کہیں تین ماہ بعد ہوا۔ خادمِ حرمین شریفین کا حکم واضح تھا۔ دستور میں پہلی ترمیم کے ذریعے پاکستانی ریاست نے احکامِ الٰہی کی تشریح کا بیڑہ اُٹھا لیا۔
سنہ انیس سو ستتر میں بھٹو صاحب کے خلاف پاکستان قومی اتحاد کی تحریک پاکستان کا داخلی سیاسی تنازعہ تھا۔ پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر ریاض الخطیب تھے۔ بھٹو صاحب نے اُنہیں پاکستان کے داخلی سیاسی مکالمے میں ثالث بنایا۔ اُن کے اپنے ملک میں نہ حزبِ اقتدار نہ حزبِ اختلاف۔ بھٹو صاحب مذہب کے نام پر خطرناک کھیل کھیل رہے تھے۔
افغانستان میں روسی فوجیں اُتر آئیں۔ ضیاءالحق معاملہ فہم تاجر تھا۔ طے پایا کہ امریکہ افغانستان کے بھاڑ میں جو ڈالر جھونکے گا، سعودی عرب اس میں برابر کا حصہ ڈالے گا۔ پاکستانی مذہبی مدرسوں کو افغان جہاد میں اہم کردار دیا گیا تھا۔
سعودی عرب نے موقع سے فائدہ اٹھاکر اپنے پسندیدہ فرقے کو دل کھول کر پیسہ دیا۔ سنہ انیس سو ستتر میں پاکستان میں مذہبی مدرسوں کی تعداد پانچ سو سے کم تھی۔ آج پاکستان میں مدرسوں کی تعداد بیس ہزار سے زیادہ ہے جن کی اکثریت اہلِ حدیث مسلک سے تعلق رکھتی ہے۔
ضیاءالحق کی موت کے بعد بےنظیر وزیر اعظم ہوئیں تو قدامت پسند سعودی حلقوں کی بےچینی قابلِ دید تھی۔ بےنظیر نے خود بیان کیا ہے کہ سنہ انیس سو نواسی میں ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں اسامہ بن لادن مالی اعانت کر رہے تھے، بلکہ اسامہ نے تو انہیں ہلاک کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔
اسامہ کی سعودی حکومت سے مخاصمت تو پہلی خلیجی جنگ کے موقع پر شروع ہوئی۔ سنہ انیس سو نواسی میں تو وہ سعودی ہیرو تھے۔ اکتوبر انیس سو چھیانوے میں بےنظیر کا تختہ الٹنے کی کوشش میں بھی عورت دشمن بین الاقوامی مذہبی حلقے ملوث تھے۔
سنہ انیس سو نوے سے دو ہزار دو تک پاکستان میں فرقہ ورانہ قتل وغارت میں محتاط اندازے کے مطابق پانچ سے چھ ہزار شہری ہلاک ہوئے۔ باخبر حلقوں کے مطابق فرقہ وارانہ خونریزی کے اس کھیل میں شیعہ ایران اور سنی سعودی عرب نے پاکستان کو میدانِ جنگ بنا رکھا تھا۔
یہ لڑائی گیارہ ستمبر دوہزار ایک کے واقعات کے بعد ہی دھیمی پڑ سکی۔ اس دوران پاکستان میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔
افغانستان میں طالبان حکومت کو تسلیم کرنے والے کل تین ملک تھے۔ پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات۔ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے بعد پاکستان ہی نے اپنی پالیسی نہیں بدلی، سعودی حکومت نے بھی یہی کیا۔
پاکستانی حکومت اور نواز شریف میں معاہدہ ملکی اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی تھا، لیکن قانون سے قطع نظر، اس میں نواز شریف بھی اتنے ہی ذمہ دار ہیں جتنی پاکستانی اور سعودی حکومتیں۔ نواز شریف نے مانا ہے کہ انہوں نے سعودی حکومت کی ماورائے قانون مداخلت تسلیم کی تھی۔
ان دنوں تو لاہور اور ملتان کے بازاروں میں ان کے حامی کھکھلا کر کہتے تھے کہ نواز شریف کو مدینے والے نے اپنے گھر بلایا ہے۔ تب سیاسی دباؤ سے نکلنے کے لیے سعودی عرب جانا نواز شریف کی مجبوری تھی۔ اب وطن واپس آنے کی کوشش سیاسی حالات کا تقاضا ہے، لیکن اس بیچ حکومت کی مجبوری آن پڑی ہے کہ انہیں ایک پھر مدینے والا بلا لے۔
یہ سعودی مداخلت کا گلا کرنے کا مقام نہیں، سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس بار کس کس کو بلایا گیا ہے۔ فی الحال تو نواز شریف جدے بیٹھے ہیں۔


بحوالہ بی بی سی اردو

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

بلاگر حلقہ احباب