سرائیکستان ۔ ای میلی مکالمہ
سارے احباب دوستاں کوں عید مبارک!
سرائیکستان کوں جلدی توں پہلے صوبے دا درجہ ݙوایا ونڄے تاں جو اِتھاں دے لوکاں دی تعلیمی اتے معاشی حالت بہتر تھی سڳے۔
جیویں سرائیکیاں نے آپدی زبان دا ہکو ناں سرائیکی رواج ݙتا ہے ایویں آپدے خطے کوں سرائیکستان دے ناں نال یاد کیتا کرن صرف سرائیکستان دے ناں نال۔
جیوو پئے سرائیکی سارے، جیوے سرائیکستان ۔۔۔۔۔۔ صوبہ سرائیکستان، صوبہ سرائیکستان
دعا گزار و طالب دعا ۔۔ جی رضا
منیر طاہر شٹ اپ اپنا منہ بند کر ۔سرائیکستان ہماری منزل کی پہلی سیڑھی ہے باقی یہ جاگیر دار وڈیرے اور نام نہاد سردار تم کو موریوں پر لٹکے ںظر آئے گئے۔اور وہ وقت دور نہیں ہے۔
جام سعید احمد
جب لاتوں کے بھوت باتوں سے نہ مانئیں تو شَٹ اپ کال دینی پڑتی ہے اور ہم نے طے کر لیا ہے جو سرائکستان کا غدار موت کا حقدار ہے تم ہم سے نہیں ہو میں یقین نہیں کر سکتا ابھی میں صرف تمیز سے بات کر رہا ہوں ورنہ میرے سڳتی جانتے ہیں کہ میں کون سی قبیل کا انسان ہوں یہ میرے سڳتی جانتے ہیں کہ میں بلا ضرورت کسی چیز کی نشانداہی نہیں کرتا تم کو عید مبارک کہنا بھی سرائیکی وسیب کے ساتھ غداری ہے تمھاری شرافت اسی میں ہے کہ تم اپنا محاسبہ کرو ورنہ کسی موری پر ایسا نہ تمھاری لاش بھی لٹکی نظر آئے بہت ہو گیا میری جان بہت ہو گیا۔
جام سعید احمد
جناب منیر طاہر صاحب ............... اس میں کوئی شک نہیں ہے کے آپ کے الفاظ میں نفاست ضرور تھی مگر یہ حقیقت ہے جو سب کو اب جان لیننی چاہئیے کہ صوبہ سرایکستان کی تحریک اب ایک اور مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں اب اس طرہاں کے معاملات پیچھے رہ گے ہیں میں جانتا ہوں ایک وقت تھا ہمارے سب کومریڈ ساتھی یہی کہتے تھے کے کامریڈ َ یہ ابھی طبقاتی جدو جہد کرنے کا وقت ہے قومیتی جدو جہد کا وقت نہیں آیا ..............اور میں ہمیشہ تمام کامریڈ ز سے اب تک یہی پوچھتا رہا کے مجھے طبقاتی جدو جہد اور قومی جدو جہد کا فرق تو سمجھائیں............ جو آج تک کوئی نہ بتا سکا مگر اس فرق کو ہم سرائیکی قوم پرست نہ صرف جانتے ہیں بلکے یہ سمجھتے بھی ہیں کہ کس ترہان قومی تحریک کے ذریے ہی طبقاتی جدو جہد کا آغاز ہونا ہے ..........ہم یہ بھی جانتے ہیں کے جاگیرداریت کی آخری پناہ گاہ قوم پرستی ہے مگر یہی وہ گڑھا بھی ہے جہاں ہم نے ان سب کو گھیر کر لانا ہے اور سرائیکی دھرتی پر طبقاتی جدو جہد کا آغاز ہونا ہے .......... ہمیں انقلاب لانے کی کوئی جلدی بھی نہیں ہے ہر تحریک کا ایک مناسب وقت اور جگہ ہوتی ہے بس ہمیں مناسب وقت کا انتظار ہے اور اندازہ بھی ہے ........... اس وقت صرف سرائیکی قومی جدو جہد کرنے کی ضرورت ہے جسکا مطلب ہے ہمیں پاکستان میں ایک مکمل اکائی سمجھتے ہوے ہمیں سیاسی صوبائی حد بندی دی جاتے .... اسکے بعد جو بھی معملات ہونگے وہ سرائیکی عوام ہی طے کرے گی ناکہ لاہور کا کوئی دانش کدہ جس نے آج تک ہزاروں سرائیکی نو جوانو کو سرائیکی قومی جدو جہد سے دور رکھا اور اخیر میں انقلاب ک بڑے بڑے فلسفے دے کر چرس کا عادی کیا ........... یہ جاگیردار بھی سرائیکی قوم کا حصّہ ھیں ان سے نبڑنا بھی ہم نے ہے مگر ابھی نہیں ابھی تاریخ کے اس مرحلے پر آگے چل کر یہ جاگیردار سرائیکی قوم اور سرائیکی تحریک کے ہاتھوں استعمال ہونگے ہمیں ان کی ضرورت پڑے گی ہم جانتے ہیں کے ہمارے پاس وہ ضروری اوزار نہیں ہیں جن کی ضرورت آگے ہمیں پڑے گی ان کی جاگیریں ان کا سرمایا بل آخر سرائیکی قوم اور سرائیکی تحریک میں کام ے گا .............. جو کچھ سرائیکی جاگیردار کے پاس ہے وہ سرائیکی تحریک کے پاس نہیں ہے بس سرائیکی تحریک کو سرائیکی صوبے کے حصول کے لیے سرایکستان بنا نے کے لیے وہ سب اس سے چھین کر کام میں لانا ہے ......کیا آپ سرائیکی جاگیرداروں کو اندرہی اندر پنجابیوں کے خلاف لابی کرتا نہیں دیکھ سکتے یہ سب کوئی سرائیکی عوام کے لیے نہیں کر رہے یہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے انھیں غریب پسماندہ سرائیکی عوام کی پسماندگی سے کوئی غرض نہیں ہے انھیں لاہور اور اسلام آباد کی اشرافیہ میں بے حیثیت اور بے عزت ہونے کا ڈر ہے بندر بانٹ بڑھ گئی ہے ان کا حصہ ختم کردیا گیا ہے اقتدار میں ان کی حیثیت صفر ہو چکی جاوید ہاشمی سے لے کر کھوسہ تک فاروق لغاری سے لے کر یوسف رضا گیلانی تک سب اسٹبلشمنٹ کے ادنا غلام ھیں جن کو ابھی اجازت ہی نہیں ہے خود سے کچھ بھی سوچنے کی ......... ہم جانتے ھیں کہ یہ جب آزاد ہونگے یہ ان کے لیے وقت نکل گیا ہو گا۔
شہزاد عرفان
SaraikiWorld
مکمل تحریر اور تبصرے >>>
سرائیکستان کوں جلدی توں پہلے صوبے دا درجہ ݙوایا ونڄے تاں جو اِتھاں دے لوکاں دی تعلیمی اتے معاشی حالت بہتر تھی سڳے۔
جیویں سرائیکیاں نے آپدی زبان دا ہکو ناں سرائیکی رواج ݙتا ہے ایویں آپدے خطے کوں سرائیکستان دے ناں نال یاد کیتا کرن صرف سرائیکستان دے ناں نال۔
جیوو پئے سرائیکی سارے، جیوے سرائیکستان ۔۔۔۔۔۔ صوبہ سرائیکستان، صوبہ سرائیکستان
دعا گزار و طالب دعا ۔۔ جی رضا
جب آپ لوگ سرائیکستان کا نعرہ لگاتے ہیں تو میری ناقص عقل میں آپ کی یہ منطق نہیں آتی کہ اس سے کیا ہو گا۔ سمجھ لیجیئے سرائیکستان بن گیا تو اس علاقے میں کیا تبدیلیاں رونما ہو جائیں گی؟
یہاں کے حکمران، یہاں کے ارباب و اختیار تو وہی ہی رہیں گے جو آج ہیں اور ان کے ہوتے ہوئے آپ یا ہم لوگ کون سی ترقی کر رہے ہیں یا سرائیکستان کے بعد کر پائیں گے۔
میرے بھائی اگر اس علاقے کے لئے آپ کچھ کرنا ہی چاہتے ہیں تو یہاں کی عوام میں شعور بیدار کیجیئے تاکہ ہمیں جلد از جلد ان جاگیردار اور وڈیروں سے چھٹکارا مل سکے۔ کیونکہ ان جاگیردار اور وڈیروں کے ساتھ ترقی کا سوچنا بھی حماقت ہے۔
منیر طاہر
منیر طاہر شٹ اپ اپنا منہ بند کر ۔سرائیکستان ہماری منزل کی پہلی سیڑھی ہے باقی یہ جاگیر دار وڈیرے اور نام نہاد سردار تم کو موریوں پر لٹکے ںظر آئے گئے۔اور وہ وقت دور نہیں ہے۔
جام سعید احمد
واہ سبحان اللہ کیا اسی زبان کیساتھ آپ سرائیکستان بنائیں گے؟
بھائی میرے میں نے تو ایک سیدھا سادھا سوال پوچھا ہے، مگر آپ میں جواب دینے کی ہمت ہی نہیں۔
میں خود سرائیکی ہوں اور میرا تعلق ڈیرہ غازی خان سے ہے مگر میں سرائیکستان کے حق میں نہیں وجہ یہی جو لکھ چکا ہوں۔ آپ دلائل سے بات کرنے کی بجائے بدتمیزی پے اتر آئے ہیں۔ میرے بھائی اس طرح مقاصد حاصل نہیں کئے جاتے اور نہ کبھی پورے ہو سکتے ہیں۔
بہرحال خوش رہیں اور میری طرف سے آپ کو عید مباک
منیر طاہر
جب لاتوں کے بھوت باتوں سے نہ مانئیں تو شَٹ اپ کال دینی پڑتی ہے اور ہم نے طے کر لیا ہے جو سرائکستان کا غدار موت کا حقدار ہے تم ہم سے نہیں ہو میں یقین نہیں کر سکتا ابھی میں صرف تمیز سے بات کر رہا ہوں ورنہ میرے سڳتی جانتے ہیں کہ میں کون سی قبیل کا انسان ہوں یہ میرے سڳتی جانتے ہیں کہ میں بلا ضرورت کسی چیز کی نشانداہی نہیں کرتا تم کو عید مبارک کہنا بھی سرائیکی وسیب کے ساتھ غداری ہے تمھاری شرافت اسی میں ہے کہ تم اپنا محاسبہ کرو ورنہ کسی موری پر ایسا نہ تمھاری لاش بھی لٹکی نظر آئے بہت ہو گیا میری جان بہت ہو گیا۔
جام سعید احمد
جام سئیں، ذرا حوصلہ رکھو۔ منیر طاہر دے ایمیل توں اندازہ تھیندے جو اے بندہ دیرہ دا رہوݨ آلا ہے۔ ممکن ہے ایندے ما پیو سرائیکی ہوون تے ایکوں اردو سکھا چھوڑی ہوونئں۔ تاں ایں صورت اچ منیر طاہر کوں اساں سرائیکی سمجھسوں۔ اگر ݙوجھی صورت اچ اے لوک کتھائوں آکے سرائیکستان اچ رچ وس ڳئن تاں ول وی میں اہداں جو انہاں کوں سرائیکی سمجھا ونڄے۔
میں منیر طاہر کوں اے ڳالھ سمجھاوڑاں چاہساں جو بھرا اساں سرائیکستان کوں پیدا نسے کرئندے پئے بلکہ سرائیکستان تاریخ وچ مختلف نانواں دے نال علیحدہ اکائی دے طور تے موجود رہا ہے۔ جیوئں پہلے زمانے اچ جہڑا خطہ صوبہ لاہور دے ناں نال ڄانڑا ویندا ہائی اڄ اوں خطے کوں پنجاب آکھیا ویندے، ایوئں پہلے زمانے اچ جہڑا خطہ صوبہ ملتان دے ناں نال ڄانڑا ویندا ہائی اڄ اوں خطے کوں سرائیکستان آکھیا ویندے۔ بھل مسلہ اے ہے جو ایں خطے کوں پنجاب نے آپدے نال ملا کے ایندی علیحدہ حیثیت ختم کر ݙتی ہے اتے راتیں ݙینہاں ایندا استحصال کیتا ویندا پئے۔ اساں سرائیکستان دی محض علیحدہ حیثیت بحال کراوڑاں چاہندے ہیں۔ بھرا ڳالھ کوں سمجھݨ دی کوشش کرو۔
باقی ڳالھ جہڑی وݙیرےاں دی ہے جہڑے وئلے سرائیکستان کوں صوبے دی حیثیت ݙے ݙتی ڳئی تاں میں یقین نال اہداں جو اتھوں ایسے رہنما پیدا تھیسن جہڑے نہ صرف آپدے صوبے وچ بلکہ آپدے ملک اتے باقی دنیا وچ انصاف دی ڳالھ کریسن۔ تساں ایں ڳالھوں بے فکر رہوو۔
طاہر منیر، امید ہے تساں آئندہ سرائیکستان دے خلاف ڳالھ کر کے ایندے واسیاں کوں اشتعال کائنا ݙویسو۔
jiivo pae Saraiki saare, jiive Saraikistan
sooba Saraikistan, sooba Saraikistan
G. Raza
جناب منیر طاہر صاحب ............... اس میں کوئی شک نہیں ہے کے آپ کے الفاظ میں نفاست ضرور تھی مگر یہ حقیقت ہے جو سب کو اب جان لیننی چاہئیے کہ صوبہ سرایکستان کی تحریک اب ایک اور مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں اب اس طرہاں کے معاملات پیچھے رہ گے ہیں میں جانتا ہوں ایک وقت تھا ہمارے سب کومریڈ ساتھی یہی کہتے تھے کے کامریڈ َ یہ ابھی طبقاتی جدو جہد کرنے کا وقت ہے قومیتی جدو جہد کا وقت نہیں آیا ..............اور میں ہمیشہ تمام کامریڈ ز سے اب تک یہی پوچھتا رہا کے مجھے طبقاتی جدو جہد اور قومی جدو جہد کا فرق تو سمجھائیں............ جو آج تک کوئی نہ بتا سکا مگر اس فرق کو ہم سرائیکی قوم پرست نہ صرف جانتے ہیں بلکے یہ سمجھتے بھی ہیں کہ کس ترہان قومی تحریک کے ذریے ہی طبقاتی جدو جہد کا آغاز ہونا ہے ..........ہم یہ بھی جانتے ہیں کے جاگیرداریت کی آخری پناہ گاہ قوم پرستی ہے مگر یہی وہ گڑھا بھی ہے جہاں ہم نے ان سب کو گھیر کر لانا ہے اور سرائیکی دھرتی پر طبقاتی جدو جہد کا آغاز ہونا ہے .......... ہمیں انقلاب لانے کی کوئی جلدی بھی نہیں ہے ہر تحریک کا ایک مناسب وقت اور جگہ ہوتی ہے بس ہمیں مناسب وقت کا انتظار ہے اور اندازہ بھی ہے ........... اس وقت صرف سرائیکی قومی جدو جہد کرنے کی ضرورت ہے جسکا مطلب ہے ہمیں پاکستان میں ایک مکمل اکائی سمجھتے ہوے ہمیں سیاسی صوبائی حد بندی دی جاتے .... اسکے بعد جو بھی معملات ہونگے وہ سرائیکی عوام ہی طے کرے گی ناکہ لاہور کا کوئی دانش کدہ جس نے آج تک ہزاروں سرائیکی نو جوانو کو سرائیکی قومی جدو جہد سے دور رکھا اور اخیر میں انقلاب ک بڑے بڑے فلسفے دے کر چرس کا عادی کیا ........... یہ جاگیردار بھی سرائیکی قوم کا حصّہ ھیں ان سے نبڑنا بھی ہم نے ہے مگر ابھی نہیں ابھی تاریخ کے اس مرحلے پر آگے چل کر یہ جاگیردار سرائیکی قوم اور سرائیکی تحریک کے ہاتھوں استعمال ہونگے ہمیں ان کی ضرورت پڑے گی ہم جانتے ہیں کے ہمارے پاس وہ ضروری اوزار نہیں ہیں جن کی ضرورت آگے ہمیں پڑے گی ان کی جاگیریں ان کا سرمایا بل آخر سرائیکی قوم اور سرائیکی تحریک میں کام ے گا .............. جو کچھ سرائیکی جاگیردار کے پاس ہے وہ سرائیکی تحریک کے پاس نہیں ہے بس سرائیکی تحریک کو سرائیکی صوبے کے حصول کے لیے سرایکستان بنا نے کے لیے وہ سب اس سے چھین کر کام میں لانا ہے ......کیا آپ سرائیکی جاگیرداروں کو اندرہی اندر پنجابیوں کے خلاف لابی کرتا نہیں دیکھ سکتے یہ سب کوئی سرائیکی عوام کے لیے نہیں کر رہے یہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے انھیں غریب پسماندہ سرائیکی عوام کی پسماندگی سے کوئی غرض نہیں ہے انھیں لاہور اور اسلام آباد کی اشرافیہ میں بے حیثیت اور بے عزت ہونے کا ڈر ہے بندر بانٹ بڑھ گئی ہے ان کا حصہ ختم کردیا گیا ہے اقتدار میں ان کی حیثیت صفر ہو چکی جاوید ہاشمی سے لے کر کھوسہ تک فاروق لغاری سے لے کر یوسف رضا گیلانی تک سب اسٹبلشمنٹ کے ادنا غلام ھیں جن کو ابھی اجازت ہی نہیں ہے خود سے کچھ بھی سوچنے کی ......... ہم جانتے ھیں کہ یہ جب آزاد ہونگے یہ ان کے لیے وقت نکل گیا ہو گا۔
شہزاد عرفان
SaraikiWorld














