پیپلز پارٹی کی (دیدہ) دلیری
HTML clipboard



گلوں میں رنگ بھرے باد نو بہار چلے
میں آ رہا ہوں کہ گلشن کا کاروبار چلے
زرداری نے لے لیا پنگا اے
پریشان ہر اک بندہ اے
اس نے کم تاں کیتا گندا اے
ہن ملک دا حال وی مندا
لوگ اک دوجے نوں مارن گے
گدیاں تے ٹائر وی ساڑن گے
ہن مست قلندر ہووے گا
اک بندہ حکومت کھووے گا
او بوٹاں والا ہووے گا
عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان جناب افتخار محمد چوہدری اور معزز وکلاء راہنماؤں کو ڈیرہ غازی خان کی دھرتی پر
خوش آمدید
شام ہے دھواں دھواں
جسم کا رواں رواں
الجھی الجھی سانسوں سے
بہکی بہکی دھڑکن سے
کہہ رہا ہے آرزوؤں کی داستاں

تازہ ترین اطلاع کے مطابق ابھی کچھ دیر پہلے یہاں ڈیرہ غازی خان میں تھانہ صدر کے علاقے وڈانی امام بارگاہ کے قریب ایک ماتمی جلوس میں بم دھاکہ ہوا جس میں 20 سے زائد افراد ہلاک اور معتدد افراد زخمی ہیں، زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے، پولیس نے علاقے کو گھیر لیا ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔
کمیشنر حسن اقبال کے مطابق بم کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں اس سلسلے میں کچھ کہنا ابھی قبل از وقت ہے بہرحال یہاں عوام میں بہت اشتعال ہے تمام بڑے بازار بند کر دیئے گئے ہیں۔
١٦ مارچ ١٨٤٦ء کا وہ مخصوص دن جب ‘معاہدہ امرتسر‘ کے تحت کشمیر کو ٧٥ نانک شاہی سکوں کے عوض مہاراجہ گلاب سنگھ کو فروخت کر دیا۔
١٣ جولائی ١٩٣١ء کو یومِ شہدائے کشمیر منایا جاتا ہے۔ اس روز سرینگر میں بائیس فرزندان توحید نے جامِ شہادت نوش فرما کر تحریک حریت کشمیر کو اپنے انقلابی دور میں داخل کیا۔
١٤ اگست ١٩٣١ء کو علامہ اقبال کی تحریک پر یوم کشمیر منایا گیا۔
٣٠ اکتوبر ١٩٣١ء کو آزادی کشمیر میں پہلا پنجابی (پاکستانی) مسلمان شیخ الہی بخش چنیوٹی شہید ہوا۔
یکم جنوری ١٩٤٨ء کو بھارت مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل میں لے کر گیا۔
اگست ١٩٤٨ء اور جنوری ١٩٤٩ء کو سلامتی کونسل نے کشمیر میں رائے شماری کرانے کی قراردادیں منظور کیں۔
دسمبر ١٩٦٩ء میں موئے مبارک کی تحریک چلی۔
جنوری ١٩٦٥ء بھارت نے شیخ محمد عبدللہ کو گیارہ سال کی اسیری کے بعد رہا کیا۔
شیخ محمد عبداللہ کا دورہ پاکستان ١٩٦٥ء میں ہوا، غیر ملکی دورہ اور وطن واپسی پر گرفتاری
٥ فروری ١٩٨٦ء میاں نواز شریف وزیراعظم پاکستان کی طرف سے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لئے ہڑتال کی اپیل، اس کے بعد اسی روز جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے ٥ فروری کو ہر سال یوم یکجہتی منانے کی اپیل کی۔ اس وقت سے ہر سال پاکستان آزاد جموں و کشمیر اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے سرکاری اور عوامی حلقے ہڑتال کرتے ہیں۔
آج ٥ فروری کشمیری مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کا دن قرار پاہا ۔۔۔
اس دن بے ہمتی اور بزدلی کی چادر اتار کر متحد اور منظم ہو کر اپنے جذبات کا بھر پور اظہار کریں ۔۔۔۔۔۔۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ مسلماناں کشمیر کے ناحق بہنے والے خون کی ذمہ داری آپ کے سر آ جائے!!!
٥ فروری کو اگر ہم یوم تجدید کہیں تو غلط نہ ہو گا۔ جموں و کشمیر کی سیاسی تاریخ میں کئی اہمیت کے دن اور بھی ہیں جن میں
١٦ مارچ ١٨٤٦ء کا وہ مخصوص دن جب ‘معاہدہ امرتسر‘ کے تحت کشمیر کو ٧٥ نانک شاہی سکوں کے عوض مہاراجہ گلاب سنگھ کو فروخت کر دیا۔
١٣ جولائی ١٩٣١ء کو یومِ شہدائے کشمیر منایا جاتا ہے۔ اس روز سرینگر میں بائیس فرزندان توحید نے جامِ شہادت نوش فرما کر تحریک حریت کشمیر کو اپنے انقلابی دور میں داخل کیا۔
١٤ اگست ١٩٣١ء کو علامہ اقبال کی تحریک پر یوم کشمیر منایا گیا۔
٣٠ اکتوبر ١٩٣١ء کو آزادی کشمیر میں پہلا پنجابی (پاکستانی) مسلمان شیخ الہی بخش چنیوٹی شہید ہوا۔
یکم جنوری ١٩٤٨ء کو بھارت مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل میں لے کر گیا۔
اگست ١٩٤٨ء اور جنوری ١٩٤٩ء کو سلامتی نے کشمیر میں رائے شماری کرانے کی قراردادیں منظور کیں۔
دسمبر ١٩٦٩ء میں موئے مبارک کی تحریک چلی۔
جنوری ١٩٦٥ء بھارت نے شیخ محمد عبدللہ کو گیارہ سال کی اسیری کے بعد رہا کیا۔
شیخ محمد عبداللہ کا دورہ پاکستان ١٩٦٥ء میں ہوا، غیر ملکی دورہ اور وطن واپسی پر گرفتاری
٥ فروری ١٩٨٦ء میاں نواز شریف وزیراعظم پاکستان کی طرف سے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لئے ہڑتال کی اپیل، اس کے بعد اسی روز جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے ٥ فروری کو ہر سال یوم یکجہتی منانے کی اپیل کی۔ اس وقت سے ہر سال پاکستان آزاد جموں و کشمیر اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے سرکاری اور عوامی حلقے ہڑتال کرتے ہیں۔