پیپلز پارٹی کی (دیدہ) دلیری

HTML clipboard




مکمل تحریر اور تبصرے >>>

پرویز مشرف کی پی پی پی

گلوں میں رنگ بھرے باد نو بہار چلے
میں آ رہا ہوں کہ گلشن کا کاروبار چلے

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

بوٹاں والا

زرداری نے لے لیا پنگا اے
پریشان ہر اک بندہ اے
اس نے کم تاں کیتا گندا اے
ہن ملک دا حال وی مندا

لوگ اک دوجے نوں مارن گے
گدیاں تے ٹائر وی ساڑن گے
ہن مست قلندر ہووے گا
اک بندہ حکومت کھووے گا
او بوٹاں والا ہووے گا

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

اکرم شیخ کی میڈیا سے گفتگو

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

سجن آون تے اکھیں ٹھرن

وہ ‘نہ‘ افتخار کی فصیل جبر ڈھا گئی
وہ حریت کی اک نظر یذیدیت مٹا گئی

عزت مآب چیف جسٹس آف پاکستان جناب افتخار محمد چوہدری اور معزز وکلاء راہنماؤں کو ڈیرہ غازی خان کی دھرتی پر


خوش آمدید



٩مارچ ٢٠٠٧ء جنرل پرویز مشرف نے آزاد عدلیہ کو اپنا غلام بنانے کی مذموم کوشش کی تو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اس جرنیلی سازش کے سامنے آہنی دیوار بن گئے۔
اس فیصلے کے خلاف ملک بھر کے وکلاء، سول سوسائٹی، سیاسی تنظیمیں سراپا احتجاج بن گئیں۔ یہ احتجاج آہستہ آہستہ ایک تحریک کی شکل اختیار کر گیا۔
اس تحریک کے دوران ہزاروں گرفتاریاں، نظربندیاں ہوئیں، لاٹھی چارج، آنسوگیس، تعذیب و تشدد اور قید و بند کی تکلیفیں اس کے علاوہ ہیں۔
١٢ مئی کو افتخار محمد چوہدری کے دورہ کراچی کے موقع پر ایم کیو ایم کی درندگی اور دہشت گردی کے دوران سینکڑوں جانوں کا نذرانہ پیش کیا گیا۔
٣ نومبر ٢٠٠٧ء کو جنرل مشرف نے دورسری بار آئین توڑ کر عدلیہ پر شب خون مارا، ایمرجنسی پلس نافذ کر دی، باضمیر ججوں کو گھروں میں نظربند کر دیا گیا۔
١٨ فروری کے مینڈیٹ کے بعد حکمران اپنے وعدوں سے منحرف ہو گئے، این آر او سے مستفید حکمران اعلان مری، اعلان اسلام آباد، میثاق جمہوریت اور محترمہ بے نظیر کی وصیت کے مطابق افتخار محمد چوہدری کو ان کے منصب پر بحال کرنے کے وعدے سے مکر گئے جس پر وکلاء برادری نے ١٢ جون ٢٠٠٨ء کو لانگ مارچ کا اعلان کیا تو ہزاروں سرفروش چلچلاتی دھوپ میں راولپنڈی پہنچ گئے۔
حکمرانوں کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے وکلاء کو ایک بار پھر لانگ مارچ اور دھرنے کی کال دینی پڑ گئی، افتخار محمد چوہدری اسی لئے شہر شہر کا دورہ کر رہے ہیں تاکہ اس تحریک کو اپنے منتقی انجام تک پہنچایا جائے۔ اس تحریک کا ایک ہی مقصد ہے آزاد عدلیہ۔
ملکی سلامتی، انصاف، عزت نفس کی بحالی، قومی اثاثوں کا تحفظ، سرحدوں کی حفاظت، آزاد اور خود مختیار الیکشن کمیشن، سیاسی عمل میں کالے دھن، چمک اور خرید و فروخت کا سدباب، فوجی آپریشن، فضائی حدود کی خلاف ورزی، غیر ملکی مداخلت کی روک تھام، پارلیمنٹ کی بالادستی، اداروں کی آزادی اور آئین و قانون کی حکمرانی ۔۔۔۔ یہ سب آزاد عدلیہ کے بغیر نا ممکن ہیں۔
لہذا ڈیرہ غازی خان کے غیور شہریوں کا یہ عزم ہے کہ آزاد عدلیہ کی بحالی، باضمیر آزاد منش معزول چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری اور ان کے ساتھیوں کی باعزت بحالی تک وکلاء کے شانہ بشانہ جدوجہد جاری رکھیں گے۔

بڑا مبارک جہاد ہے یہ سحر کی امید رکھنا زندہ
نہ چین کی ظلمت کو لینے دینا شبوں کی نیندیں اڑائے رکھنا


انشاء اللہ ٢٥ فروری ٢٠٠٩ء بروز بدھ کو ڈیرہ غازی خان کے غیور شہری چیف جسٹس آف پاکستان جناب افتخار محمد چوہدری کا شایان شان استقبال کریں گے۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

شام ہے دھواں دھواں

شام ہے دھواں دھواں
جسم کا رواں رواں
الجھی الجھی سانسوں سے
بہکی بہکی دھڑکن سے
کہہ رہا ہے آرزوؤں کی داستاں

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

واہگہ بارڈر کی یادگار تصویریں





مکمل تحریر اور تبصرے >>>

اندرونِ خانہ کعبہ

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

آزادی

صرف بالغوں کے لئے

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

جھمر

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

مشرف اور زرداری کا قوم کے لئے تحفہ

پاکستان میں سی آئی اے کا خفیہ بیس کیمپ





گوگل سیٹلائٹ  لنک
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

جسٹس افتخار کے جرائم

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

موبائل واچ


چائنہ کمپنی Cect کی اس مسکین سی، سادہ سی گھڑی کو دیکھ کر آپ اس کی سادگی پر فدا نہ ہو جائیے! اس میں بہت ساری خصوصیات ہیں یعنی یہ صرف گھڑی ہی نہیں ہے بلکہ عمران سیریز اور دیگر جاسوسی ناولوں میں جس ‘واچ فون‘ یا ‘واچ ٹرانسمیٹر‘ کا ذکر قدم قدم پر ملتا ہے اور جس کے بغیر جاسوس صاحب کا دھندا چل ہی نہیں سکتا، وہ اس میں سچ مچ موجود ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے آپ خود کو جیمز بانڈ، فریدی، حمید بلکہ علی عمران بھی تصور کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں ٹچ سکرین ڈسپلے کی سہولت بھی موجود ہے۔ ایک گیگا بائٹ فلیش میموری کے ساتھ اس میں ایک انٹیگریٹیڈ ایف ایم ریڈیو اور ١۔٣ میگا پکسل کا کیمرہ بھی ہے۔ اور ابھی کہاں ۔۔۔۔۔۔۔ ٹھہرئیے، اس میں ایم پی ای جی فور MPEG4 فائل فارمیٹ بھی ہے۔ جبکہ ہاتھوں کے استعمال کے بغیر فون پر گفتگو کرنے کے لئے بلیو ٹوتھ ٹیکنالوجی بھی اپنی کارکردگی دکھا رہی ہے۔ اتنی مختصر جسامت میں اتنی بہت ساری چیزوں کا ایک ساتھ وجود ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہیئے کیا خیال ہے؟
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

ڈیرہ لہو لہو

ڈیرہ غازی خان بم دھماکے کے بعد آج تیسرے روز بھی سوگ میں ڈوبا ہوا ہے۔ اس دوران شہر بھر میں تمام کاروباری مراکز، تعلیمی ادارے، سرکاری و غیر سرکاری ادارے بند رہے۔ مشتعل مظاہرین نے پتھراؤ  اور توڑ پھوڑ  کی جبکہ اکا دکا فائرنگ کے واقعات بھی سامنے آئے۔ پولیس جائے وقوع سے ملنے والے اعضاء کی مدد سے حملہ آور کی تصویر مکمل کر کے میڈیا کو جاری کر دی ہے۔
ڈیرہ غازی خان کا جڑواں شہر ڈیرہ اسماعیل خان پہلے ہی لہو لہو ہے، اب یہ امن کے دشمن ڈیرہ غازی خان کے پیچھے پڑ گئے ہیں، ڈیرہ کی تاریخ میں یہ پہلا واقعہ ہے جس میں اتنی زیادہ جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ گو حکومت کی طرف سے امدادی رقوم کا اعلان کیا گیا لیکن یہ قیمتی جانوں کا ہرگز نعم البدل نہیں ہے۔
اس وقت جب ڈیرہ لہو میں ڈوبا ہوا ہے، سیاستدان ان بیگاہوں کے خون پر اپنی سیاست چمکانے میں مصروف ہیں، ایسے نازک وقت میں ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاستدان ذاتی مفاد سے بالاتر ہو کر ملک و قوم کی بہتری کے لئے کردار ادا کریں، اس واقعہ میں جو سیکورٹی خامیاں نظر آئی ہیں ان کا سدباب کریں اور ذمہ دار افسران کی غلطی اور کوتاہی کو نظر انداز نہ کریں کیونکہ ان کی ذرا سے غلطی کی وجہ سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہو گئی ہیں۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

ڈیرہ غازی خان میں بم دھماکہ

تازہ ترین اطلاع کے مطابق ابھی کچھ دیر پہلے یہاں ڈیرہ غازی خان میں تھانہ صدر کے علاقے وڈانی امام بارگاہ کے قریب ایک ماتمی جلوس میں بم دھاکہ ہوا جس میں 20 سے زائد افراد ہلاک اور معتدد افراد زخمی ہیں، زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے، پولیس نے علاقے کو گھیر لیا ہے اور مزید  تحقیقات جاری ہیں۔


کمیشنر حسن اقبال کے مطابق بم کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں اس سلسلے میں کچھ کہنا ابھی قبل از وقت ہے بہرحال یہاں عوام میں بہت اشتعال ہے تمام بڑے بازار بند کر دیئے گئے ہیں۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>
٥ فروری کشمیری مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کا دن قرار پاہا ۔۔۔
اس دن بے ہمتی اور بزدلی کی چادر اتار کر متحد اور منظم ہو کر اپنے جذبات کا بھر پور اظہار کریں ۔۔۔۔۔۔۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ مسلماناں کشمیر کے ناحق بہنے والے خون کی ذمہ داری آپ کے سر آ جائے!!!
٥ فروری کو اگر ہم یوم تجدید کہیں تو غلط نہ ہو گا۔ جموں و کشمیر کی سیاسی تاریخ میں کئی اہمیت کے دن اور بھی ہیں جن میں
١٦ مارچ ١٨٤٦ء کا وہ مخصوص دن جب ‘معاہدہ امرتسر‘ کے تحت کشمیر کو ٧٥ نانک شاہی سکوں کے عوض مہاراجہ گلاب سنگھ کو فروخت کر دیا۔
١٣ جولائی ١٩٣١ء کو یومِ شہدائے کشمیر منایا جاتا ہے۔ اس روز سرینگر میں بائیس فرزندان توحید نے جامِ شہادت نوش فرما کر تحریک حریت کشمیر کو اپنے انقلابی دور میں داخل کیا۔
١٤ اگست ١٩٣١ء کو علامہ اقبال کی تحریک پر یوم کشمیر منایا گیا۔
٣٠ اکتوبر ١٩٣١ء کو آزادی کشمیر میں پہلا پنجابی (پاکستانی) مسلمان شیخ الہی بخش چنیوٹی شہید ہوا۔
یکم جنوری ١٩٤٨ء کو بھارت مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل میں لے کر گیا۔
اگست ١٩٤٨ء اور جنوری ١٩٤٩ء کو سلامتی کونسل نے کشمیر میں رائے شماری کرانے کی قراردادیں منظور کیں۔
دسمبر ١٩٦٩ء میں موئے مبارک کی تحریک چلی۔
جنوری ١٩٦٥ء بھارت نے شیخ محمد عبدللہ کو گیارہ سال کی اسیری کے بعد رہا کیا۔
شیخ محمد عبداللہ کا دورہ پاکستان ١٩٦٥ء میں ہوا، غیر ملکی دورہ اور وطن واپسی پر گرفتاری
٥ فروری ١٩٨٦ء میاں نواز شریف وزیراعظم پاکستان کی طرف سے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لئے ہڑتال کی اپیل، اس کے بعد اسی روز جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے ٥ فروری کو ہر سال یوم یکجہتی منانے کی اپیل کی۔ اس وقت سے ہر سال پاکستان آزاد جموں و کشمیر اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے سرکاری اور عوامی حلقے ہڑتال کرتے ہیں۔
آج ٥ فروری کشمیری مسلمانوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کا دن قرار پاہا ۔۔۔
اس دن بے ہمتی اور بزدلی کی چادر اتار کر متحد اور منظم ہو کر اپنے جذبات کا بھر پور اظہار کریں ۔۔۔۔۔۔۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ مسلماناں کشمیر کے ناحق بہنے والے خون کی ذمہ داری آپ کے سر آ جائے!!!
٥ فروری کو اگر ہم یوم تجدید کہیں تو غلط نہ ہو گا۔ جموں و کشمیر کی سیاسی تاریخ میں کئی اہمیت کے دن اور بھی ہیں جن میں
١٦ مارچ ١٨٤٦ء کا وہ مخصوص دن جب ‘معاہدہ امرتسر‘ کے تحت کشمیر کو ٧٥ نانک شاہی سکوں کے عوض مہاراجہ گلاب سنگھ کو فروخت کر دیا۔
١٣ جولائی ١٩٣١ء کو یومِ شہدائے کشمیر منایا جاتا ہے۔ اس روز سرینگر میں بائیس فرزندان توحید نے جامِ شہادت نوش فرما کر تحریک حریت کشمیر کو اپنے انقلابی دور میں داخل کیا۔
١٤ اگست ١٩٣١ء کو علامہ اقبال کی تحریک پر یوم کشمیر منایا گیا۔
٣٠ اکتوبر ١٩٣١ء کو آزادی کشمیر میں پہلا پنجابی (پاکستانی) مسلمان شیخ الہی بخش چنیوٹی شہید ہوا۔
یکم جنوری ١٩٤٨ء کو بھارت مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل میں لے کر گیا۔
اگست ١٩٤٨ء اور جنوری ١٩٤٩ء کو سلامتی نے کشمیر میں رائے شماری کرانے کی قراردادیں منظور کیں۔
دسمبر ١٩٦٩ء میں موئے مبارک کی تحریک چلی۔
جنوری ١٩٦٥ء بھارت نے شیخ محمد عبدللہ کو گیارہ سال کی اسیری کے بعد رہا کیا۔
شیخ محمد عبداللہ کا دورہ پاکستان ١٩٦٥ء میں ہوا، غیر ملکی دورہ اور وطن واپسی پر گرفتاری
٥ فروری ١٩٨٦ء میاں نواز شریف وزیراعظم پاکستان کی طرف سے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کے لئے ہڑتال کی اپیل، اس کے بعد اسی روز جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے ٥ فروری کو ہر سال یوم یکجہتی منانے کی اپیل کی۔ اس وقت سے ہر سال پاکستان آزاد جموں و کشمیر اور مقبوضہ جموں و کشمیر کے سرکاری اور عوامی حلقے ہڑتال کرتے ہیں۔

آج ٥ فروری ہے پوری قوم سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے۔
کشمیریوں کی جدوجہد ہماری قومی غیرت اور جذبوں کا نشاں ہے۔ ہمارے بھائی، بہنیں، بچے اور بوڑھے سر پر کفن باندھے اپنے لہو کا نذرانہ دیکر وقت کی کربلا میں رسم شبیری ادا کر رہے ہیں۔
شہیدوں اور غازیوں کی منزل قریب ہے، وہ دن دور نہیں جب ہم کشمیر کو آزاد دیکھیں گے۔
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ایک خدا اور ایک رسول کے ماننے والے زیادہ دیر تک غلامی کی زنجیریں نہیں جکڑ سکتیں۔
کراچی کے ساحلوں سے کشمیر کی لہو رنگ وادیوں تک مکمل ہڑتال، تمام جماعتوں، تنظیموں اور ہر طبقہ فکر بھارتی مظالم کے خلاف سراپا احتجاج بنا ہوا ہے، پوری قوم یک زبان ہے کہ
کشمیر بنے گا پاکستان
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

فیئر اینڈ لولی کا کمال

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

بلاگر حلقہ احباب