بلاگ پہ آمد کا بہت بہت شکریہ
Showing posts with label متفرق. Show all posts

طبیب کی نصحیتیں

طبیب کی نصحیتیں
حجاج بن یوسف نے اپنے دور کے مشہور طبیب سے فرمائش کی کہ اسے طب کی کچھ اچھی اچھی باتیں بتائے۔


اُس مشہور طبیب نے کہا؛۔
  1. گوشت صرف جوان جانور کا کھاؤ۔
  2. جب دوپہر کا کھانا کھاؤ تو تھوڑا ٹائم سو جاؤ اور شام کا کھانا کھا کر چلو، چاہیے تمہیں کانٹوں پر چلنا پڑے۔
  3. جب تک پیٹ کی پہلی غذا ہضم نہ کر لو دوسرا کھانا نہ کھاؤ، بھلے تمہیں تین دن ہی کیوں نہ لگ جائیں۔
  4. جب تک بیت الخلاء نہ جاؤ، سونے کے لئے مت لیٹو۔
  5. پھلوں کے نئے موسم میں پھل کھاؤ، جب موسم جانے لگے تو پھل کھانا چھوڑ دو۔
  6. کھانا کھا کر پانی پینے سے بہتر ہے کہ زہر پی لو یا پھر کھانا ہی نا کھاؤ۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

پینشنرز حضرات پینشن وصولی کو آسان بنائیں


نہ قطار نہ انتظار، اب پینشن کی وصولی ہوئی آسان
پینشنرز حضرات کو مطلع کیا جاتا ہے کہ حکومت پاکستان نے پینشن کی وصولی میں درپیش مشکلات کے ازالے کے لئے ماہانہ پینشن براہ راست پینشنرز کے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا ایک نیا نظام متعارف کرایا ہے۔ اکاؤنٹ کے ذریعے پینشن کی وصولی کے نئے نظام کو اختیار کرنے کے خواہش مند پینشنرز حضرات اب کسی بھی بینک کی برانچ میں “پینشن اکاؤنٹ“ کھلوا سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں اسٹیٹ بینک نے ملک میں کام کرنے والے تمام شیڈول بینکوں کو بغیر سروس چارجز کے پینشن اکاؤنٹ کھولنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں، تاہم پینشنر حضرات متعارف کروائے گئے نئے نظام سے متعلق شکوک و شبہات دور کرنے کے لئے متعلقہ اکاؤنٹس آفس کے عملے یا  متعلقہ بینک کے کسٹمر سروسز آفیسر سے مزید معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

نئے نظام کی خصوصیات
١۔ پینشن کی ماہانہ ادائیگی تنخواہ کی طرز پر ہو گی۔
٢۔ ماہانہ پینشن کی براہ راست پینشنر کے بینک اکاؤنٹ میں منتقلی۔
٣۔ پاکستان بھر میں کسی بھی بینک کی برانچ میں “پینشن اکاؤنٹ“ کھلوانے کی سہولت۔
٤۔ پینشن کی وصولی اب پینشن بل کے جھنجھٹ کے بغیر۔
٥۔ چیک یا اے ٹی ایم کارڈ کے ذریعے کسی بھی وقت پینشن نکلوانے کی سہولت۔

نئے نظام کو اختیار کرنے کا طریقہ
١۔ اکاؤنٹ کے ذریعے پینشن کی وصولی کے خواہش مند پینشنر حضرات اپنا ‘آپشن فارم‘ متعلقہ اکاؤنٹس آفس سے بغیر کسی معاوضے کے حاصل کر سکتے ہیں۔
٢۔ جن پینشنرز حضرات کے اکاؤنٹ پہلے سے کسی بینک برانچ میں کھلے ہوئے ہیں ان کے لئے بھی نیا پینشن اکاؤنٹ کھلوانا ضروری ہے۔
٣۔ آپشن فارم کی تصدیق متعلقہ بینک کی برانچ (جہاں آپ کا پینشن اکاؤنٹ کھولا گیا ہے) سے کروانا لازم ہے۔
٤۔ تصدیق شدہ آپشن فارم اپنے متعلقہ اکاؤنٹس آفس میں ضروری کاغذات کی نقول کے ساتھ جمع کروائیں۔
٥۔ جمع شدہ فارم کی جانچ پڑتال کے بعد اگلے ہی ماہ سے پینشن کی رقم آپ کے متعلقہ بینک اکاؤنٹ میں منتقل ہونا شروع ہو جائے گی جسے آپ چیک یا اے ٹی ایم کارڈ کے ذریعے کسی بھی وقت نکال سکتے ہیں۔


مکمل تحریر اور تبصرے >>>

سلمان بٹ برطانوی جیل میں ہفتہ وار 1800 پاؤنڈز کماتے رہے


کرکٹر سلمان بٹ نے سپاٹ فکسنگ کی سزا کے عوض سات ماہ برطانوی جیل میں گزارے لیکن خوش قسمتی تو دیکھیئے قید کے دوران روزانہ چھے گھنٹے جم میں معاون کی حیثیت سے کام کرنے پر وہ ہفتہ واری معاوضہ اٹھارہ سو پاؤنڈز کماتے تھے۔
سلمان بٹ کی تعیناتی جم کے استقبالیہ پر تھی تاہم وہ خود کو فٹ رکھنے کے لئے روزانہ جسمانی ورزش کرتے تھے۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

اکیلی جان اور دشمن ہزار


اس تصویر کو دیکھ کر پہلا خیال جو آپ کے ذہن میں آتا ہے اسے تبصرے میں شامل کیجیئے۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

دیپاچہ: تشکیل پاکستان اور تائید ایزدی

دنیا کی پہلی نظریاتی حکومت عہد نبویؐ میں دیکھی گئی جو عظیم فلاحی ریاست تسلیم کی جاتی ہے۔ سترھویں صدی میں یورپ بہت سی تبدیلیوں اور پیش رفتوں سے گزرا۔ جن میں سماجی سطح پر نظریہ قومیت نے جنم لیا۔ اس قومیت نے ایک تخریبی بیج بویا۔ وہ لسانی اور نسلی قومیت کا بیج تھا۔ اس سے قبل پورپ مذہبی ومسلکی نفاق کے خطرناک نتائج بھگت رہا تھا۔

پاکستان کا نظریہ قومیت درحقیقت دنیا میں نظریہ قومیت کا حسن لایا۔ قومیں نسل، زبان، یا مسلک کی نمائندہ نہیں۔ وہ تو ایک عقیدہ سے وجود میں آتی ہے۔ جس کے آگے انسانی تفریق کی حیثیت معنی نہیں رکھتی۔ 1930ء میں مسلم ریاست کا مطالبہ ہوا۔ آخر پہلی مرتبہ علیحدہ وطن کی قرار داد مسلم لیگ نے 1940ء میں پیش کی۔ لیکن اس سے قبل قائد اعظم کی بصیرت کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ 1928ء میں جب موتی لال نہرو نے نہرو رپورٹ میں صوبوں کی لسانی بنیادوں پر تشکیل نو کی تجویز پیش کی تو قائد اعظم نے اپنے چودہ نکات میں اس کو ردّ کیا۔ ہندوستان نے آزادی کے بعد اپنے صوبوں کو لسانی بنیادوں پر قائم کیا اور قائد اعظم نے ہمیشہ لسانی و نسلی اختلاف کی حوصلہ شکنی کی۔ یہ بات غور طلب ہے کہ بیاسی برس قبل ہمارے بابائے قوم کیا دیکھ رہے تھے اور آج کیا ہم ان کے نظریات کی اس بصیرت کو سمجھ رہے ہیں یا اس سوچ کو نظر انداز فرما رہے ہیں۔ اس پر غور کیجیے تو آپ محسوس کریں گے کہ پاکستان ایک تسلسل ہے۔ اب کا دور تشکیل اور تکمیل کے مابین ٹھہراؤ کا دور ہے۔ تشکیل ہوچکا ہے اور تکمیل ابھی باقی ہے۔


تشکیل پاکستان اور تائید ایزدی صوبیدار (ر)پائندہ خان کی ایک ذاتی ڈائری ہے۔ جو ان کے ذاتی خیالات و مشاہدات پر مبنی ہے۔ اپنی اس تحریر میں انہوں نے قیام پاکستان اور بعد میں ہونے والے واقعات پر اس نقطہ نظر کی نمائندگی پیش کی ہے۔ جو عوامی سطح پر عام ہے۔ اس بات سے قطعہ نظر کے ان کی صحت کیا ہے؟ ہاں ایک نقطہ جو قابل ذکر ہے کہ پاکستان کو کم علاقے ملنا بھی خدا کی حکمت سے خالی نہ تھے۔ آسان لفظوں میں یہ سمجھ لیجیے کہ تمام واقع ہونے والی زیادتیوں میں اللہ کی مصلحت پنہاں ہوسکتی ہے۔


بطور ناشر کسی کتاب کا ناقدانہ دیباچہ لکھنا خاصا دشوار ہوتا ہے۔ لیکن دیانتداری کا تقاضا یہی ہے کہ ابتدائیہ حقائق بیان کرسکیں۔ مجھے جو جھول اور سقم محسوس ہوئے، ان کو بلا جھجھک تحریر میں لایا اور جہاں انداز میں حسن پایا۔ اس کی تعریف بھی پیش کر رہا ہوں۔

جب کتاب کا مسودہ میرے سامنے آیا تو مجھے کچھ جملوں اور واقعات کی صحت و انداز بیان پر خاصے اعتراضات تھے۔ کہیں موضوع کے اعتبار سے تحریر میں ٹکراؤ تھا۔ خیر ایک پینل پر چند افراد سے مشاورت کی اور طے پایا کہ اس محبّ وطن بزرگ سپاہی کی یادداشتوں کو من و عن چھاپا جائے اور آخر میں ان ادھورے جملوں کی وضاحت کردی جائے۔ جیسے فیلڈ مارشل آکنلک کے لیے تعریفی کلمات کا پس منظر کس سبب سے تھا، ایک جملہ اقبال اور قائد کے حوالے سے ادھورا رہ گیا اور اس طرح کے چند نقاط کی پرتوں پر سے دھول کو ہٹایا۔


دوسرا میرا اعتراض یہ تھا کہ چند مقامات پر یہ لکھا گیا کہ چند اہم شخصیات تحریک پاکستان اور قائد کے خلاف تھیں۔ مزید چند فتویٰ بھی صادر فرماتیں رہیں۔ ان کے نام تحریر نہیں۔ کیونکہ نئی پود ایسے ناموں سے ناواقف ہے۔ لیکن یہاں طے پایا کہ تحریر کے متن کو نہ چھیڑا جائے۔

یہ کتابچہ دستاویز نہیں ہے۔ یہ تحریک پاکستان کے اثرات قبول کرنے والے سپاہیانہ سطح کی سوچ اور دیہاتی کلچر کی عکاسی ہے۔ ہمارے معاشرہ کی بھی کچھ نظریاتی نمائندگی کرتی ہے۔ یہ سماجی اور ثقافتی سوچ اور زمانہ کا ایک بیان ہے کہ لوگ کیسے دیکھتے ہیں اور کیا سمجھتے ہیں۔

اگر دیکھا جائے تو سماجی خوبصورتی نظریہ پاکستان عوامی سطح پر ماتھے کے جھومر کی مانند ہے۔ مگر ماتھے پر یہ جھومر کیسے سجایا جائے ہر فرد کا اپنا انداز بیان ہے۔ جس کے طریقہ کار سے پاکستانی معاشرہ میں اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ مگر اس کے قیام پر اتفاق موجود ہے۔

سماجی سطح پر ایک عیب مجھے بھلا نہ لگا۔ یہ ماتھے کے جھومر پر موجود میل ہے۔ جس کو صاف کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ عیب یہ ہیں کہ ہم بہت سی سنی سنائی باتوں کو حقیقت سمجھتے ہیں۔ مزید عوام میں ان کو تحقیق کیے بغیر پھیلا دیتے ہیں۔ یوں افواہیں اور غیر معیاری باتیں جنم لینے لگتی ہے۔ اسی سے نفرت اور شر انگیزباتیں معاشرے میں ناسور کی طرح پھیلتی ہے۔ ایسا ہی انداز معاشرہ کی سوچ کو سیکنڈلائز بناتا ہے۔ آج یہ بات پاکستانی یا کم ترقی یافتہ ممالک کے معاشروں میں عام ہوچلی ہے اور نہایت معمولی عیب سمجھا جاتا ہے۔ مگر غور کیجیے! یہ عیب معاشرہ میں تخریب پھیلاتا ہے۔

دوسری جانب اسلامی معاشرہ، ایسے انداز کی شدت سے روک تھام کرتا ہے۔ جو حقائق پر مبنی نہ ہو۔ لیکن یہاں چیزیں تحقیق کے ساتھ بھی چلی ہے اور کچھ عوامی سطح پر خاصی مشہور مبہم باتیں بھی حقیقت سمجھ لی گئیں۔ خصوصاً قومی حوالے سے تحریر کے حوالے عیب چھپانے کے مترادف نہیں۔ ان کو سامنے آنا چاہیے۔ تاکہ مجھ جیسی نوجوان نسل اپنی تاریخ کی اس تلخ حقیقت کو بھی جان سکے۔

ساتھ ہی یہ اضافہ کرتا چلوں۔ نظریات سمجھنے کا ایک فرق بھی ہوتا ہے۔ دیکھیے ہر مذہب انسانیت کی بات کرتا ہے۔ ہر فرد اپنے اپنے عقیدہ میں خوش ہے۔ جب کسی فرد کو کوئی دوسرا عقیدہ متاثر کرتا ہے تو وہ مذہب تبدیل کر لیتا ہے۔ یہ تبدیلی کا اثر محبت سے آتا ہے، نفرت سے نہیں۔ ایسے ہی ہماری تاریخ کی عہد ساز شخصیات کا آپس میں اختلاف تو ہے مگر وہ قابل نفرت نہیںَ کیونکہ سمجھ کا فرق ہے۔ اگر کانگریسی رہنما نفرت کے بیج اپنے تلخ رویوں سے نہ بوتے تو شاید قائد اعظم پر ان کی حقیقت واضح نہ ہوپاتی۔ یہ سب وسیلے اللہ کی طرف سے بنے اور پاکستان کا مطلب کیا؟ لاالہ الا اللہ ہوا۔ محبت، امن اور رواداری کا مذہب۔

میں قائد اعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ کی اس سوچ سے متاثر ہوں کہ ان کی ہر بات کی بنیاد اور ابتداء اسلام تھی۔ ان کے پاکستان کے حوالے سے بیشمار خطبات اور تقاریر کو پڑھا۔ سب اللہ کی حاکمیت اعلیٰ، خوف خدا اور اسلامی نظریہ حیات کے ترجمان ہے۔

اب یہ قارئین پر منحصر ہے کہ وہ اس کتابچہ سے کیا اثر قبول کرتے ہیں اور اس کو کیا حیثیت دیتے ہیں۔ میں یہاں گزارش کروں گا کہ نفرتوں کے بیج اگر آپ کو ملیں تو ان کو مت چنیے مگر محبتوں کے بیج اکٹھے کرکے اپنی اور معاشرہ کی زندگی بنائیے اور خیال رکھے، آپ کا نظریہ حیات ہی آپ کا عقیدہ توحید ہے۔ یہی نظریہ پاکستان ہے۔

فرخ نور
یکم جنوری ۲۰۱۲ء
۷ صفر ۱۴۳۴ھ


ہمارے سٹاکسٹ
· کشمیر بک ڈپو تلہ گنگ روڈ چکوال
· رائف اسٹیشنرز، ۳ عمرٹاور، حق سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور
· علم و ادب کتاب گھر، عمر ٹاور، حق سٹریٹ ، اُردو بازار، لاہور
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

بیٹیاں احساس ہوتی ہیں

بیٹیاں احساس ہوتی ہیں

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

ظلمی سیلاب آیا

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

نیپال میں اسلام کا کرشمہ



نیپال میں ایک مسجد کا مینار بنایا گیا، اُس پے ایک چھوٹا گنبد رکھنے کے لئے کرین مانگی گئی تو غیر مسلموں نے کرین دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اپنے رب سے کہو وہ تمھاری مدد کرے۔
وہاں کے امام صاحب کو خواب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گنبد پے سفید کپڑا ڈال دو اور دیکھو گنبد ہوا میں تیرتا ہوا کیسے مینار پے فٹ ہوتا ہے۔
اس وڈیو میں جذبات میں آ کر لوگوں کی چیخیں نکل گئیں اور ہر طرف سے اللہ اکبر کی صدائیں بلند پونے لگیں ۔۔۔۔ سبحان اللہ



یقین کرنا نا کرنا، جہالت، گمراہی، ایمان کی تازگی  یا ایمان کی کمزوری کو ایک طرف رکھ کے کیا کوئی اس وڈیو کی حقیقت سے پردہ اٹھا سکتا ہے؟۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

حسن بمقابلہ عشق

حسن بمقابلہ عشق ۔ سرائیکی محفل مشاعرہ


مزید
سرائیکی ٹیوب
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

پٹھانے خان

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

چھوٹا ویلہ یاد کر

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

دل تو بچہ ہے جی



ایسی الجھی نظر اُن سے ہٹتی نہیں
دانت سے ریشمی دوڑ کٹتی نہیں
عمر کی کب کی برس کے سفید ہو گئی
کالی بدلی جوابی کی چھٹتی نہیں
ورنہ یہ دھڑکن بڑھنے لگی ہے
چہرے کی رنگت اڑنے لگی ہے
ڈر لگتا ہے تنہا سونے میں جی
دل تو بچہ ہے جی
تھوڑا کچا ہے جی
دل تو بچہ ہے جی

کس کو پتہ تھا پہلو میں رکھا دل ایسا پاجی بھی ہو گا
ہم تو ہمیشہ سجھتے تھے کوئی ہم جیسا حاجی ہی ہو گا
ہائے زور کریں کتنا شور کریں بے وجہ باتوں پہ ایویں غور کریں
دل سا کوئی کمینہ نہیں
کوئی تو روکے
کوئی تو ٹوکے
اس عمر میں اب کھاؤ گے دھوکے
ڈر لگتا ہے عشق کرنے میں جی
دل تو بچہ ہے جی
تھوڑا کچا ہے جی
دل تو بچہ ہے جی

ایسی اداسی بیٹھی ہے دل پہ، ہنسنے سے گھبرا رہے ہیں
ساری جواتی کترا کے کاٹی، پیری میں ٹکرا گئے ہیں
دل دھڑکتا ہے تو، ایسے لگتا ہے وہ، آرہا ہے یہی دیکھ ظاہی نہ ہو
پریم کی ماریں کٹار رے
توبہ یہ لمحے کٹتے نہیں جو
آنکھوں سے میری ہٹتے نہیں جو
ڈر لگتا ہے تجھ سے کہنے میں جی
دل تو بچہ ہے جی
تھوڑا کچا ہے جی
دل تو بچہ ہے جی

راحت فتح علی خان . فلم عشقیہ
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

پاکستان سوسائٹی ڈنمارک

پاکستان سوسائٹی ڈنمارک کی ایک وڈیو، جس میں ہمارے علاقے کی ہردلعزیز شخصیت اور پاکستان مسلم لیگ ن پنجاب کے جنرل سیکرٹری سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ صاحب نمایاں نظر آ رہے ہیں۔


مکمل تحریر اور تبصرے >>>

شٹ اپ

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

کشمالہ طارق اور فردوس عاشق کل تک میں

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

امریکن اردو

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

مسٹر جیم ۔ کتنا بدل گیا انسان

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

اُستاد حامد علی خان بمقابلہ اُستاد پرویز مشرف علی خان

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

اصل حقیقت کیا ہے؟

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

Tell me Why?


In my dream, children sing
A song of love for every boy and girl
The sky is blue and fields are green
And laughter is the language of the world
Then i wake and all i see
Is a world full of people in need

Chorus:
Tell me why(why) does it have to be like this?
Tell me why (why) is there something i have missed?
Tell me why (why) cos i don't understand
When so many need somebody
We don't give a helping hand
Tell me why?

Everyday i ask myself
What will i have to do to be a man?
Do i have to stand and fight
To prove to everybody who i am?
Is that what my life is for
To waste in a world full of war?

Chorus:
Tell me why(why) does it have to be like this?
Tell me why (why) is there something i have missed?
Tell me why (why) cos i don't understand
When so many need somebody
We don't give a helping hand
Tell me why?

Chorus:
(children)tell me why?(declan)tell me why?
(children)tell me why?(declan)tell me why?
(together) just tell me why, why, why?

Chorus:
Tell me why(why) does it have to be like this?
Tell me why (why) is there something i have missed?
Tell me why (why) cos i don't understand
When so many need somebody
We don't give a helping hand
Tell me why?

Chorus:
Tell me why (why,why,does the tiger run)
Tell me why(why why do we shoot the gun)
Tell me why (why,why do we never learn)
Can someone tell us why we let the forest burn?
(why,why do we say we care)
Tell me why(why,why do we stand and stare)
Tell me why(why,why do the dolphins cry)
Can some one tell us why we let the ocean die?
(why,why if we're all the same)
Tell me why(why,why do we pass the blame)
Tell me why (why,why does it never end)
Can some one tell us why we cannot just be friends?
Why,why
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

بلاگر حلقہ احباب