چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بیان حلفی کا متن

چیف جسٹس آف پاکستان افتخارمحمد چوہدری نے 9مارچ سے 13مارچ تک کے واقعات کے بارے سپریم کورٹ میں ایک بیان حلفی داخل کیا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے 9صفحات پر مشتمل بیان حلفی میں 9مارچ کے واقعات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔


 


بیانِ حلفی جسٹس افتخار محمد چوہدری


 


اے) مدعی نے نو مارچ سن دو ہزار سات تک اس قابل احترام عدالت میں بطور چیف جسٹس آف پاکستان بنچ نمبر ایک کی سربراہی کی اور اس دن ساڑھے دس تک انہوں نے کئی مقدمات کی سماعت کی۔ اس دن وقفے کے بعد مدعی کے سوا باقی بنچ کو دوبارہ مقدمات کی کارروائی شروع کرنی تھی کیونکہ مدعی صدر (مدعا علیہ) سے ملاقات کے لیے آرمی ہاؤس راولپنڈی جا چکے تھے۔


 


بی) مدعی ساڑھے گیارہ بجے اپنے پروٹوکول افسر کے ساتھ آرمی ہاؤس راولپنڈی پہنچا۔ مدعی کو مہمانوں کے کمرے میں لے جایا گیا۔ مدعی کے وہاں پہنچنے کے پانچ منٹ بعد فوجی وردی میں ملبوس مدعا علیہ اپنے ملٹری سیکریٹری اور اے ڈی سی کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئے۔ جیسے ہی مدعا علیہ نے اپنی نشست سنبھالی بہت سے ٹی وی کیمرہ مین اور فوٹو گرافر کمرے میں داخل ہوئے۔ انہوں نے بہت سی تصاویر اتاریں اور فلم بنائی۔


 


سی) مدعا علیہ نے سارک لاء کانفرنس، سارک چیف جسٹس کانفرنس اور سپریم کورٹ کی گولڈن جوبلی کے اختتامی اجلاس کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسے مدعی کے خلاف پشاور ہائی کورٹ کے ایک جج کی طرف سے شکایت موصول ہوئی ہے۔ اس پر مدعی نے کہا کہ یہ حقیقت پر مبنی نہیں ہے کیونکہ اس کیس کا فیصلہ دو ججوں نے کیا تھا اور اب یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ دوسرے ججوں کو بدنیتی سے اس میں کسی طرح ملوث کیا جائے۔ جواب میں مدعا علیہ نے کہا کہ مدعی کے خلاف کچھ اور شکایات بھی ہیں۔ یہ کہنے کے بعد مدعا علیہ نے اپنے عملے کو حکم دیا کہ کچھ اور لوگوں کو بلایا جائے۔


 


ڈی) مدعا علیہ کی ہدایت پر کچھ اور لوگ کمرے میں داخل ہوئے۔ ان میں وزیر اعظم، ڈی جی ایم آئی، ڈی جی آئی ایس آئی، ڈی جی آئی بی اور چیف آف سٹاف اور کچھ دیگر حکام شامل تھے۔ تمام سرکاری اہلکار ( ڈی جی آئی بی اور چیف آف سٹاف کے علاوہ) وردی میں تھے۔


 


ای) مدعا علیہ کے ہاتھوں میں چند کاغذ کے ٹکڑے تھے جسے انہوں نے پڑھنا شروع کیا۔ان کے پاس کوئی جامع مسودہ نہیں تھا۔ جو الزامات مدعی کے سامنے پیش کیئے گئے وہ نعیم بخاری کی طرف سے ایک بدنام زمانہ خط سے لیے گئے تھے جس میں کوئی صداقت نہیں تھی۔ مدعی نے ان بے بنیاد اور من گھڑت الزامات کی سختی سے تردید کی اور اسے ذاتی طور پر انہیں اور پوری عدلیہ کو بدنام کرنے کی کوشش قرار دیا۔ مدعی نے فوری طور پر ان الزامات کی صداقت اور ان کے معتبر ہونے کی سختی سے تردید کی۔


 


ایف) اس پر مدعا علیہ نے کہا کہ مدعی نے سپریم کورٹ سے اپنے خاندان والوں کے لیے گاڑیاں حاصل کیں۔ اس الزام کی مدعی نے سختی سے تردید کی۔ مدعا علیہ نے مزید کہا کہ مدعی نے مرسیڈیزگاڑی استعمال کی جس پر مدعی نے فوراً جواب دیا کہ وزیر اعظم یہاں موجود ہیں اور ان سے پوچھا جائے کیونکہ انہوں نے یہ گاڑی بھجوائی تھی۔ وزیراعظم نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا حتی کہ کوئی اشارہ تک نہیں کیا۔ مدعا علیہ نے اپنا بیان جاری رکھا اور کہا کہ مدعی نے لاہور ہائی کورٹ کے معاملات میں مداخلت کی ہے اور لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی طرف سے تجویز کردہ بہت سی سفارشات کو ماننے سے انکار کیا یا ان کے اثر کو بالکل زائل کر دیا۔


 


جی) مدعا علیہ نے اصرار کیا کہ مدعی کو استعفٰی دے دینا چاہیے۔ مدعا علیہ نے کہا کہ مدعی کی طرف سے استعفی پیش کرنے کی صورت میں انہیں کسی دوسرے عہدے پر ’اکاوموڈیٹ‘ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ استعفی نہ دینے کی صورت میں مدعی کو ریفرنس کا سامنا کرنا پڑے گا جو اس کے لیے زیادہ شرمناک بات ہوگی۔ مدعی نے بالاخر سختی سے کہا’میں استعفی نہیں دوں گا اور ریفرنس کا سامنا کروں گا کیونکہ میں معصوم ہوں; میں نے کسی ضابطۂ اخلاق یا قانون کی خلاف ورزی نہیں کی ہے; میں سمجھتا ہوں کہ میں خود قانون کا رکھوالا ہوں۔ میں خدا پر مکمل یقین رکھتا ہوں جو میری مدد کرے گا۔‘ اس پر مدعا علیہ غصے میں آ گیا اور وہ غصے میں اپنے ملٹری سیکرٹری، چیف آف آرمی اسٹاف اور وزیراعظم کے ہمراہ کمرے سے یہ کہتے ہوئے نکل گیا کہ دیگر افراد مدعی کو ثبوت دکھا دیں گے ۔(مدعا علیہ نے اس بات کا اعتراف آج ٹی وی چینل سے ایک انٹرویو میں بھی کیا ہے)۔ یہ ملاقات تیس منٹ سے زیادہ جاری نہیں رہی۔


 


ایچ) ڈی جی ایم آئی، ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی آئی بی مدعی کے ساتھ کمرے میں رہ گئے۔ انہوں نے مدعی کو کوئی ثبوت نہیں دکھایا۔ درحقیقت ڈی جی آئی ایس آئی کے علاوہ کسی سرکاری اہلکار کے پاس کوئی کاغذات نہیں تھے لیکن ڈی جی آئی ایس آئی نے بھی مدعی کو کوئی ثبوت نہیں دکھایا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ مدعی نے بلوچستان ہائی کورٹ میں بحیثیت جج تعیناتی کے دوران اپنے بیٹے کے لیے بولان میڈیکل کالج میں داخلہ حاصل کیا۔ ڈی جی آئی بی کے علاوہ وہ اس بات پر اصرار کرتے رہے کہ مدعی کو استعفی دے دینا چاہیے جبکہ مدعی نے اس بات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ الزام بے بنیاد ہے اور اس کا مقصد کوئی اور ہے۔


 


آئی) اس کے بعد کئی گھنٹوں تک مدعی کو کمرے میں رکنے پر مجبور کیا گیا۔ کئی مواقع پر مدعی کو کمرے میں تنہا چھوڑ دیا گیا لیکن اسے کمرے سے جانے نہیں دیا گیا۔ یہ بالکل واضح تھا کہ مدعی کی کلوز سرکٹ ٹی وی کیمرے کے ذریعے نگرانی کی جارہی ہے جب کبھی اس نے کمرے سے باہر جانے کی کوشش کی اسے ایک فوجی افسر نے نے باہر جانے سے روک دیا۔ کئی مرتبہ مدعی نے باہر جانے کی خواہش ظاہر کی اور ہر مرتبہ انہیں فوجی حکام نے انتظار کرنے یا رکنے کے لیے کہا۔ ایک مرحلے پر مدعی کو یہ بھی کہا گیا کہ مدعا علیہ ان سے دوبارہ ملاقات کرے گا۔ ایک اور موقع پر مدعی نے درخواست کی کہ وہ اپنے پرٹوکول افسر سے بات کرنا چاہتے ہیں اس لیے کم از کم انہیں اندر آنے کی اجازت دے دی جائے لیکن مدعی کو بتایا گیا کہ وہ اندر نہیں آ سکتے۔ اس پر مدعی نے کہا کہ ان کے سٹاف افسر کو یہ پیغام دے دیا جائے کہ وہ ان کے گھر والوں کو بتا دیں کہ وہ آرمی ہاؤس راولپنڈی میں موجود ہیں اور ان کا لاہور جانے کا پروگرام منسوخ ہو گیا ہے۔


 


جے) مدعی نے کئی مرتبہ کمرے سے نکل کر آرمی ہاؤس سے باہر آنے کی کوشش کی لیکن اسے کوئی نہ کوئی بہانہ بنا کر وہاں رہنے پر مجبور کیا گیا۔ ان کی گاڑی کو پورچ میں بلوانے کی درخواست کو بھی نظر انداز کر دیا گیا۔ مدعا علیہ کے ساتھ آدھ گھنٹہ کی ملاقات کے بعد مدعی کو پانچ بجے تک بالکل اس کی مرضی کے خلاف وہاں رکھا گیا۔


 


کے) پانچ بجے کے بعد ڈی جی ایم آئی دوبارہ کمرے میں آئے اور انہیں بتایا کہ ان کی کار تیار ہے اور وہ گھر جاسکتے ہیں۔ ڈی جی ایم آئی کمرے سے باہر آئے اور کمرے سے باہر آنے کے بعد مدعی کو کہا کہ یہ ان کے لیے ایک برا دن تھا، اب آپ کو ایک مختلف راستہ اختیار کرنا ہوگا اور آپ کو مطلع کیا جاتا ہے کہ آپ کو بطور سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس کے طور پر کام کرنے سے روکا جاتا ہے۔


 


ایل) مدعی نے جب اپنی گاڑی دیکھی تو اسے معلوم ہوا کہ اس کی کار سے پاکستان اور عدلیہ دونوں کے جھنڈے اتار لیے گئے ہیں ۔ مدعی کے سٹاف افسر نے اسے مطلع کیا کہ جسٹس جاوید اقبال نے قائم مقام چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھالیا ہے اور یہ ٹی وی پر دکھا دیا گیا ہے۔ مدعی کے ڈرائیور نے بتایا کہ اسے حکم دیا گیا ہے کہ وہ مدعی کو سپریم کورٹ نہ لے جائے بلکہ سیدھا گھر جائے۔


 


ایم) مدعی نے راستے میں ڈرائیور کو سپریم کورٹ جانے کو کہا لیکن سپورٹس کمپلیکس کے پاس ایک فوجی افسر نے اس کی گاڑی کو آگے جانے سے روک دیا۔ دریں اثناء ایس پی اسلام آباد طارق مسعود یاسین بھی آگئے۔ انہوں نے مدعی کے ڈرائیور کو باہر آنے کا حکم دیا اورگن مین کو بھی گاڑی سے اتر جانے کو کہا۔ مدعی نے اس پر کہا کہ’میں سپریم کورٹ نہیں جاؤں گا لیکن میرا ڈرائیور گاڑی چلائےگا اور میرے گن مین کو میرے ساتھ جانے دیا جائے‘۔ جب کہیں طارق مسعود یاسین ایس پی اس بات پر تیار ہوئے کہ مدعی کا ڈرائیور ہی گاڑی چلاتا رہے۔


 


این) مدعی پانچ بج کر پینتالیس منٹ پر گھر پہنچا اور وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ ان کے گھر پر سادہ کپڑوں میں پولیس اور ایجنسیوں کے اہلکار بڑی تعداد میں موجود تھے۔ مدعی کو یہ بھی پتا چلا کہ ان کے گھر کے فون کاٹ دیئے گئے ہیں، موبائل فون، ٹی وی کیبل اور انٹرنیٹ لائن کو جام کر دیا گیا تھا۔ مدعی اور اس کے اہلخانہ کئی دن تک باہر کی دنیا سے بالکل کٹے رہے۔


 


او) نو مارچ کو دس بجے رات تک مدعی کے زیرِاستعمال تمام گاڑیوں کو جن میں مرسیڈیز بھی شامل تھی، لفٹر کے ذریعے اٹھوا لیا گیا۔ اسی رات ایک گاڑی واپس کر دی گئی لیکن اس کی چابیاں نہ مدعی کو نہ ہی اس سے متعلق کسی اور شخص کو دی گئیں۔


 


پی) دس مارچ دوہزار سات کو مدعی کو سپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے ایک نوٹس موصول ہوا جس سے مدعی کو معلوم ہوا کہ مدعا علیہ کی طرف سے کونسل کے سامنے ان کے خلاف ریفرنس نمبر 43/2007 دائر کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کونسل کے ایک حکم کی کاپی بھی تھی جس کے تحت مدعی کو سپریم کورٹ کے جج کے طور پر اور چیف جسٹس کے طور پر کام کرنے سے روک دیا گیا تھا۔ اس نوٹس کے ساتھ سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے کی کاپی بھی نتھی تھی لیکن اس کے ساتھ مدعی کی آگاہی کے لیے کوئی معاون دستاویز مہیا نہیں کی گئی تھی۔


 


کیو) مدعی کے لیے یہ امر بھی حیران کن تھا کہ مذکورہ ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے نو مارچ سن دو ہزار سات کو شام چھ بجے ’غیر مہذب جلد بازی‘ میں سماعت کے لیے پیش کیا گیا۔ کونسل کے دو ارکان کو جیسا کہ نوائے وقت کے مارچ دس دو ہزار سات کے شمارے میں شائع ہونے والی ایک خبر میں کہا گیا، خصوصی پروازوں کے ذریعے لاہور اور کراچی سے اسلام آباد پہنچایا گیا تاکہ وہ کونسل کی کارروائی میں شرکت کر سکیں۔حقیقتاً کونسل کے سیکرٹری فقیر حسین کی طرف سے کونسل کے اجلاس کے بارے میں کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا تھا۔ کسی کو کونسل کے اجلاس کا ایجنڈہ اور اس کا نوٹس جاری نہیں کیا گیا تھا۔


 


آر) کونسل نے مواد کی جانچ پڑتال اور مدعی کو نوٹس بھیجنے کی بجائے(مدعی کے حقوق سے تعصب برتے بنا جیسا کہ مدعی کی پٹیشن میں کہا گیا) ایک حکم جاری کیا جو نہ صرف مدعی بلکہ اس ادارے کے حق میں نقصان دہ تھا۔مدعی کو بطور جج سپریم کورٹ آف پاکستان اور بطور چیف جسٹس آف پاکستان کام کرنے سے روک دیا گیا۔


 


ایس) مدعی کے مطابق اسے اس کے اہلِ خانہ سمیت جن میں سات برس کا ایک بچہ بھی تھا، نو مارچ 2007 کی شام سے تیرہ مارچ 2007 تک زیرِ حراست رکھا گیا۔ مدعی اور اس کے خاندان کی ذاتی اور نجی زندگی کو دھچکا پہنچا اور ایسا محسوس ہوا کہ لفظ پرائیویسی کا کوئی مطلب ہی نہیں۔ مدعی کوئی گاڑی بھی استعمال نہیں کر سکتا تھا کیونکہ کوئی گاڑی تھی ہی نہیں۔ مدعی کو سڑک کے دوسرے کنارے تک پیدل جانا پڑا جہاں پولیس افسر نے اسے روکا اور اس سے بدسلوکی کی جیسا کہ جوڈیشل انکوائری میں ثابت ہو چکا ہے۔


 


ٹی) مدعی کے ساتھ کام کرنے والا سپریم کورٹ کا عملہ لاپتہ ہو گیا اور اسے کسی نامعلوم مقام پر رکھا گیا اوراس عملے کی مدد سے مدعی کے خلاف ثبوت گھڑنے کی کوشش بھی کی گئی۔ یہاں تک کہ مدعی کی رہائش گاہ پر کام کرنے والے افراد کو بھی کچھ ایجنسیوں کے حکام کے سامنے پیش کیا گیا۔ انہیں دو یا تین دن بعد رہا کردیا گیا۔ سبزی والے کو سبزی لانے کی اجازت نہ دی گئی اور اسے انتظار کرنا پڑا یہاں تک کہ ایجنسی کا آدمی اس کے ساتھ بازار گیا اور واپس آیا۔


 


یو) مدعی کے چیمبر یا کمرے کو سربمہر کیا گیا اور وہاں رکھی کچھ فائلیں اٹھا لی گئیں اور کچھ کو نئے رجسٹرار کی زیر نگرانی آئی ایس آئی کے حوالے کر دیا گیا۔ اس طرح کا عمل عدلیہ کی روایات اور اقدار کے خلاف ہے۔ مدعی کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہونے کے ناطے اپنا کمرہ اور سٹاف رکھنے کا حق حاصل ہے۔


 


وی) بھاری نفری کی تعیناتی کی وجہ سے کسی کو مدعی سے آزادانہ طور پر ملنے کی اجازت نہ دی گئی۔یہاں تک کہ اس کے ساتھ کام کرنے والے افراد کو بھی اس تک رسائی نہ تھی۔ اسی عدالت کے ایک ریٹائرڈ جج جسٹس منیر اے شیخ کو بھی مدعی سے ملنے نہ دیا گیا۔


 


ڈبلیو) ان مشکل حالات کو مدعی نے اکیلے نہیں سہا۔ اس کے بچوں کو سکول، کالج، اور یونیورسٹی جانے کی اجازت نہ تھی۔ مدعی اور اس کے اہلِ خانہ کو بنیادی ادویات اور ڈاکٹرز جیسی بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محروم کر دیا گیا۔


 


ایکس) کونسل کے احکامات کے باوجود مدعی کو ریفرنس کے قانونی معاملات پر اپنے وکلاء کے مشورے کے حق سے محروم رکھا گیا۔مدعی اور اس کے خاندان کو ایسی سخت ذہنی، جسمانی اور جذباتی مشکلات، ٹارچر، شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جسے بیان کرنے لیے الفاظ میسر نہیں۔


 


وائی) یہ تمام چالیں مدعی پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کی گئی تھیں کہ شاید وہ دباؤ میں آ کر چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے سے استعفی دے دے لیکن تیرہ مارچ 2007 کے بعد کونسل کے سامنے مختصر حاضری کے دوران مدعی کم از کم اپنے وکلاء کی ٹیم سے رابطہ قائم کرنے میں کامیاب ہو گیا اور سولہ مارچ 2007 کے بعد اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے لیے ڈالے جانے والے دباؤ میں کسی قدر کمی آگئی۔


 


زیڈ) مدعی کو یقین ہے کہ ان کے پورے گھر میں جاسوسی کے آلات نصب ہیں اور ان کی رہائش گاہ کے بالکل سامنے سندھ ہاؤس میں خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں اور پولیس نے مستقل جگہ بنا لی ہے جہاں سے وہ ان کے گھر آنے جانے والوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔


 


اے اے) اوپر بیان کیے گئے تمام حقائق کی روشنی میں مدعی کے بچے اس قدر خوف زدہ ہیں کہ وہ اسکول یا یونیورسٹی نہیں جا سکے ہیں۔ اس کے نتیجے میں جہاں میری بیٹیوں میں سے ایک فیڈرل بورڈ کے فرسٹ ائیر کے امتحانات نہیں دے سکی وہاں میری دوسری بیٹی کو جو بحریہ یونیورسٹی کی طالب علم ہے، دوران تعلیم حاضری میں کمی کے باعث اپنے فرسٹ سمسٹر میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ میں جن حالات سے گزر رہا ہوں اس کی وجہ سے میرا نوعمر بیٹا بھی اس قابل نہیں ہے کہ وہ اپنے سکول جا سکے۔


 


 


 


بشکریہ ۔ رزونامہ جنگ، بی بی سی اردو


 


 

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

امریکی نائب صدر ڈک چینی کی بیٹی بغیر باپ کے ماں بن گئی

امریکی نائب صدر ڈک چینی کی بیٹی میری چینی بغیر باپ کے ماں بن گئی ڈاکٹروں نے پیدا ہونے والے بچے کے ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ اس کی پیدائش میں کسی مرد کا کوئی کردار نہیں، 38 سالہ میری چینی ہم جنس پرست ہے اس نے 15سال سے اپنی شریک حیات ہیتھر پوئی کے ساتھ زندگی گزارنے کا اعلان کیا تھا گزشتہ روز اس کے ہاں ریاست مونٹونا کے شہر فراسٹ بائٹ فال کے نکسن ہسپتال میں لڑکا پیدا ہوا تو وہ خود بھی نہیں جانتی تھی کہ وہ حاملہ کس طرح ہوئی اس پر پورے ہسپتال میں تھرتھلی مچ گئی۔ بچے کا فوری ڈی این اے ٹیسٹ کرایا گیا تو مزید سنسنی خیز انکشافات سامنے آئے امریکی نائب صدر نے ایئرفورس 2طیارے بھیج کر ڈاکٹروں کو بلوایا اور ان سے ہنگامی ملاقات کی ڈاکٹر فلیز برگ نے ملاقات کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ بچے کا ڈی این اے ٹیسٹ مکمل طور پر ماں سے بنا ہے اس میں کسی مرد کا عمل دخل نہیں ڈاکٹروں کے مطابق ماحولیاتی تبدیلیوں سے عورتوں میں ایسی تبدیلیاں ہو رہی ہیں عالمی درجہ حرارت اس کا ذمہ دار ہے ڈاکٹر فلیزبرگ کے بقول رینگنے والے جانوروں (سانپ ، چھپکلی) وغیرہ میں ایسی پیدائشیں ہوتی رہتی ہیں لہٰذا انسانوں میں اس پیدائش کو بھی غیر معمولی واقعہ نہیں سمجھنا چاہیے نومولود کا وزن ساڑھے8 پونڈ ہے اس کا نام مموئیل ڈیوڈ چینی رکھا گیا ہے نانا نانی نے اسے قبول کر لیا ہے۔


 


بحوالہ روزنامہ جناح

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

آئین کی دفعہ ٢٠٩ ۔ جس کے تحت چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر کیا گیا۔

دفعہ ٢٠٩ اعلٰی عدالتی کونسل
١۔ پاکستان کی ایک اعلٰی عدالتی کونسل ہو گی، جس کا حوالہ اس باب میں کونسل کے طور پر دیا گیا ہے۔
٢۔ کونسل مندرجہ ذیل پر مشتمل ہو گی۔
الف۔ چیف جسٹس پاکستان
ب۔ عدالت عظمٰی کے دو مقدم ترین جج اور
ج۔ عدالت ہائے عالیہ کے دو مقدم ترین چیف جسٹس۔

 



تشریح
اس شق کی غرض کے لئے عدالت ہائے عالیہ کے چیف جسٹوں کا باہم دیگر تقدیم چیف جسٹس کے طور پر (بجز بہ حیثیت قائم مقام چیف جسٹس) ان کے تقرر کی تاریخوں کے حوالے سے اور اگر ایسے تقرر کی تاریخیں ایک ہی ہوں تو کسی عدالت عالیہ میں ججوں کے طور پر ان کے تقرر کی تاریخوں کے حوالے سے متعین کیا جائے گا۔

 



٣۔ اگر کسی وقت کونسل کے ایسے جج کی اہلیت یا طرز عمل کی تحقیقات کر رہی ہو، جو کونسل کا رکن ہو، یا کونسل کا کوئی رکن حاضر نہ ہو، یا بوجہ علالت یا کسی دوسری وجہ سے کام کرنے کے قابل نہ ہو تو۔۔۔
الف۔ اگر ایسا رکن عدالت عظمٰی کا ہو، تو عدالت عظمٰی کا وہ جج جو شق (٢) کے پیرا (ب) میں محولہ ججوں کے بعد مقدم ترین ہو، اور
ب۔ اگر ایسا رکن کسی عدالت عالیہ کا چیف جسٹس ہو، تو کسی دوسری عدالت عالیہ کا اس کی بجائے کونسل کے رکن کی حیثیت سے کام کرے گا۔

 


٤۔ اگر کسی ایسے معاملے پر جس کی تحقیق کونسل نے کی ہو، اس کے ارکان میں کوئی اختلاف رائے ہو، تو اکثریت کی رائے غالب رہے گی اور صدر کو کونسل کی رپورٹ اکثریت کے نقطہ نظر کے اعتبار سے پیش کی جائے گی۔


 



٥۔ اگر کونسل کی طرف سے یا کسی اور ذریعے سے موصول شدہ اطلاع پر، صدر کی یہ رائے ہو کہ ممکن ہے کہ عدالت عظمٰی یا کسی عدالت عالیہ کا کوئی جج ۔۔۔
الف۔ جسمانی یا دماغی معذوری کی وجوہ سے اپنے عہدے کے فرائض منصبی کی مناسب انجام دہی کے قابل نہ رہا ہو، یا
ب۔ بدعنوانی کا مرتکب ہوا ہو!
تو صدر کونسل کو ہدایت کرے گا کہ وہ معاملے کی تحقیقات کرے۔

 



٦۔ اگر معاملے کی تحقیقات کرنے کے بعد کونسل صدر کو رپورٹ پیش کرے کہ اس کی یہ رائے ہے۔
الف۔ کہ وہ جج اپنے عہدے کے فرائض منصبی کی انجام دہی کے نا قابل ہے یا بدعنوانی کا مرتکب ہوا ہے، اور
ب۔ کہ اسے عہدے سے برطرف کر دینا چاہیے۔
تو صدر اس جج کو عہدے سے برطرف کر سکے گا۔

 


٧۔ عدالت عظمٰی یا کسی عدالت عالیہ کے جج کو، بجز جس طرح اس آرٹیکل میں قرار دیا گیا ہے، عہدے سے برطرف نہیں کیا جائے گا۔


 


٨۔ کونسل ایک ضابطہ اخلاق جاری کرے گا، جس کو عدالت عظمٰی اور عدالت ہائے عالیہ کے جج ملحوظ رکھیں گے۔


 



شرح
اعلٰی عدالتی کونسل چیف جسٹس پاکستان، عدالت عظمٰی کے دو مقدم ترین ججوں اور عدالت ہائے عالیہ کے دو مقدم ترین چیف جسٹسوں پر مشتمل ہے اور اس کے دو طرح کے فرائض ہیں۔
الف۔ عدالت عظمٰی اور عدالت ہائے عالیہ کے ججوں کے لئے ضابطہ اخلاق تیار کرنا۔
ب۔ عدالت عظمٰی یا عدالت عالیہ کے کسی جج جسمانی یا دماغی معذوری یا بدعنوانی کے الزام پر مشتمل صدارتی ریفرنس ملنے پر اس معاملے کی تحقیقات کرنا۔
اگر صدر مملکت کو کونسل کی جانب سے یا کسی اور ذریعے سے یہ اطلاع ملے کہ عدالت عظمٰی یا کسی عدالت عالیہ کا کوئی جج جسمانی یا ذہنی طور پر معذور ہونے کی صورت میں اپنے فرائض کی انجام دہی کے قابل نہیں رہا، یا وہ بدعنوانی کا مرتکب ہوا ہے تو صدر اس کی تحقیقات کے لئے کونسل کو حکم دے گا۔ ایسی تحقیات کے نتیجے میں الزام ثابت ہو جانے پر صدر مملکت ایسے جج کو برطرف کر سکے گا۔ عدالت عظمٰی یا عدالت عالیہ کے کسی جج کو صرف اس آرٹیکل کے بیان کردہ طریقہ کار کے مطابق ہی برطرف کیا جا سکتا ہے۔
اگر اس آرٹیکل کے مطابق ریفرنس کسی رکن کونسل کے بارے میں ہو تو کسی دیگر مقدم ترین جج کو اس کونسل کا رکن مقرر کیا جائے گا۔ اسی طرح اگر ریفرنس کسی رکن چیف جسٹس عدالت عالیہ کے بارے میں ہو تو اس کی جگہ پر کسی دوسری عدالت عالیہ کے جج کو جو دوسرے پر مقدم ہر رکن مقرر کیا جائے گا۔

 


نوٹ۔ یہ متن کتاب ‘شرح اسلامی جمہوریہ پاکستان کا دستور‘ سے لیا گیا ہے، جس کا مفہومی ترجمہ جسٹس (ر) محمد منیر، سابق چیف جسٹس آف پاکستان نے کیا ہے۔


 


 

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

کیا حال سناواں دل دا

کیا حال سناواں دل دا
کوئی محرم راز نہ ملدا
منہہ دھوڑ مٹی سر پایم
سارا ننگ نمود ونجایم
کوئی پچھن ویہڑے نہ آیم
ھتھوں الٹا عالم کھلدا


کیا حال سناواں دل دا
کوئی محرم راز نہ ملدا


 


آیا بار برہوں سِر باری
لگی ھو ھو شہر خواری
روندے عمر گذاریم ساری
ناں پایم ڈس منزل دا


 


کیا حال سناواں دل دا
کوئی محرم راز نہ ملدا


 


دل یار کِتے کرلاوے
تڑپھاوے تے غم کھاوے
ڈکھ پاوے سُول نہاوے
ایہو طَور تیڈے بیدل دا


 


کیا حال سناواں دل دا
کوئی محرم راز نہ ملدا


 


کئی سہنس طبیب کماون
سئے پڑیاں گھول پیاون
میڈے دل دا بھید پاون
پوے فرق نہیں ھِک تِل دا


 


کیا حال سناواں دل دا
کوئی محرم راز نہ ملدا


 


پنھو ہوت نہ کھڑ مو کلایا
چھڈ کلہڑی کیچ سدھایا
سوہنے جان پچھان رُلایا
کوڑا عذر نبھایم گھلدا


 


کوئی محرم راز نہ ملدا
کیا حال سناواں دل دا


خواجہ غلام فرید

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

چلو چلو سٹیڈیم چلو


آج صدر جنرل پرویز مشرف ڈیرہ غازی خان ایک جلسے سے خطاب فرمائیں گے، پورا شہر خوش آمدید کے بینروں سے بھرا ہو ہے، ہر طرف چلو چلو سٹیڈیم چلو کے نعرے لکھے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ ڈیرہ غازی خان میں خطاب کے بعد صدر صاحب راجن پور میں فرید بیس پر معززین سے ملاقات کریں گے اور ساتھ ہی انڈس ہائے وے کا افتتاح بھی کریں گے۔
ہمارے صدر صاحب نے جو خطابوں کا سلسلہ شروع کیا ہے اس سے اور کچھ ہو نا ہو حکومتی خزانے پر بہت برا اثر پڑے گا۔ اب یہی دیکھ لیں صدر کے جلسے میں تیار کے گئے ائرکنڈیشنز پنڈال پر تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے لاگت آئی ہے، شرکاء میں پارسل کھانے کی تقسیم اور دیگر اخراجات اس کے علاوہ ہیں۔
جسلہ گاہ انتظامات مکمل طور پر پاک فوج نے سنبھالے ہوئے ہیں۔ کل شام اور آج صبح اسلام آباد ہیلی کاپٹر پر عملہ آیا اور جلسہ گاہ کے انتظامات کا جائزہ لیکر واپس چلا گیا۔ جلسہ گاہ کے اطراف کی رہائشی آبادیوں ماڈل ٹاؤن، رکن آباد کالونی، بھٹہ کالونی اور پروفیسرز کالونی میں سیکڑوں پولیس اہلکار مسلسل گشت کر رہے ہیں۔ آنے جانے والے تمام افراد کو مکمل طور پر چیک کیا جا رہا ہے۔ جبکہ آج علی الصبح فیصل چوک آؤٹ ایجنسی سے گدائی چوک تک، نیو کالج روڈ چوک سے پل ڈاٹ تک اور جام پور روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لئے مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔
سابق صدر سردار فاروق احمد خان لغاری اور ضلع ناظم سردار مقصود احمد خان لغاری میں ‘ان بن‘ کی وجہ سے جلسہ گاہ جلسہ گاہ کے پنڈال کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جس میں دائیں طرف سردار فاروق احمد خان لغاری گروپ اور بائیں طرف ضلع ناظم گروپ اپنے خیر مقدمی بینروں سمیت موجود ہوں گے۔ سٹیج پر پانچ کرسیاں فرنٹ پر اور باقی کرسیاں پیچھے کی طرف لگائی گئی ہیں جو ایم این اے اور ایم پی ایز کے لئے مختص ہوں گی۔ سٹیج پر صدر کے لئے گرین لائن اور ہاٹ لائن فون بھی نصب کر دیئے ہیں۔ ضلع ناظم سردار مقصود احمد خان لغاری صدر مشرف کو مقامی بلوچی ثقافت کے حوالے سے پگڑی پہنائیں گے۔
جلسے میں عوم کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کے لئے ہر ناظم کو دس گاڑیاں دی گئی ہے، ہمارے ایک جاننے والے ناظم صاحب نے کہا ہے کہ دس گاڑیاں تو مل گئی ہیں پر اس میں بیھٹنے والے لوگ کہاں سے لاؤں، کوئی بھی جلسہ گاہ جانے کو تیار نہیں، میں نے اپنے علاقے کے لوگوں سے جب اس بارے میں کہا تو انہوں نے جواب دیا کہ ‘گوڈا توں ساکوں مرواون چاہدیں (جناب آپ ہمیں مروانا چاہتے ہیں کیا؟)۔
صدر کا خطاب اپنی جگہ، مگر اس کی وجہ سے عوام جو مسلسل پانچ چھ روز سے ذلیل و خوار ہو رہے ہیں ان کی ذمہ داری کس پر عائد ہو گی۔ شہر کی پوری ٹرانسپورٹ سرکاری قبضے میں ہونے کی وجہ سے مسافر بیچارے ١٠ روپے والے سفر پر ١٠٠ روپے کرایہ دینے پر مجبور ہیں، ان کی دعائیں اور بددعائیں کس کے سر ہوں گی جسلہ گاہ میں آج اگر اس کا بھی حساب ہو جائے تو ۔۔۔۔۔۔ ؟

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

میڈا عشق وی توں میڈا یار وی توں

[youtube:http://www.youtube.com/watch?v=fW234ZYvHAM]



میڈا عشق وی توں میڈا یار وی توں
میڈا دین وی توں میڈا ایمان وی توں
میڈا جسم وی توں میڈا روح وی توں
میڈا قلب وی توں،جند جان وی توں
میڈا کعبہ قبلہ مسجد ممبر مُصحف تے قرآن وی توں
میڈے فرض فریضے حج زکوٰتاں ، صوم صلاۃ اذان وی توں
میڈا ذکر وی توں میڈا فکر وی توں ، میڈا ذوق وی توں وجدان وی توں
میڈا سانول مٹھڑا شام سلونڑا من موہن جانان وی توں
میڈا مرشد ھادی پیر طریقت شیخ حقائق دان وی توں
میڈی آس امید تے کھٹیا وٹیا تکیہ مانڑ تے ترانڑ وی توں
میڈا دھرم وی توں میڈا بھرم وی توں میڈی شرم وی توں مینڈی شان وی توں
میڈا ڈُکھ سُکھ رووَنڑ کھلنڑ وی توں میڈا درد وی توں درمان وی توں
میڈا خوشیاں دا اسباب وی توں ، میڈے سولاں دا سامان وی توں
میڈا حُسن تے بھاگ سُہاگ وی توں میڈا بخت تے نام و نشان وی توں
میڈا ڈیکھنڑ بھالنڑ جاچنڑ جوچنڑ ، سمجھنڑ جانڑ سُنجانڑ وی توں
میڈے تھدڑے ساہ تے مونجھ مُنجھاری ہنجنڑوں دے طوفان وی توں
میڈے تلک تلوے سیندھاں مانگھاں ناز نہورے تان وی توں
میڈی مہندی کجل مُساگ وی توں، میڈی سُرخی بیڑا پان وی توں
میڈی وحشت جوش جنون وی توں ، میڈا گِریہ آہ و فغان وی توں
میڈا شعر عروض قوالی وی توں، مینڈا بحر وی توں اوذان وی توں
میڈا اول آخر اندر باہر ، ظاہر تے پنہاں وی توں
میڈا فردا تے دیرزوی وی توں ، الیوم وی توں الان وی توں
میڈا بادل برکھا ، کھمڑیاں گاجاں بارش تے باران وی توں
میڈا ملک ملیر تے مارو تھلڑا روہی چولستان وی توں
جے یار فرید قبول کرے سرکار وی توں سلطان وی توں
نہ تاں کہترا کمترا حقر ادنےٰ ، لاشئے لا امکان وی توں


کلام ۔ حضرت خواجہ غلام فرید کوٹ مٹھن شریف
آواز ۔ پٹھانے خان مرحوم


مکمل تحریر اور تبصرے >>>

پہلا دھچکا

١٢ مئی کے بعد حکومت کو پہلا دھچکا، سابق وزیراعظم میرظفراللہ خان جمالی نے ٢١ مئی کو مسلم لیگ کی بنیادی رکنیت سے استعفٰی دے دیا ہے، میرظفراللہ خان جمالی نے اپنے استعفٰی کے ساتھ چار صفحات پر مشتمل چارج شیٹ بھی پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ وہ پارٹی کے ہم رکن ہیں انہیں کسی بھی معاملے پر اعتماد میں نہیں لیا جاتا اور تمام فیصلے یکطرفہ کئے جا رہے ہیں انہوں نے پارٹی کی تمام پالیسیوں پہ عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کے بحران کے بعد پارٹی کی ساکھ خراب ہوئی ہے، ١٢ مئی کو جب کراچی میں لاشیں گر رہی تھیں تو اسلام آباد میں جشن کا سماں تھا۔
واضع رہے کہ میرظفراللہ خان جمالی حکومتی صفحوں میں سے وہ پہلے شخص ہیں جہنوں نے ١٢ مئی کے واقعہ پر حکومتی پالیسی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے ورنہ تو تمام وزراء جی حضوری میں میں نمبر بنانے کے چکر میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش میں ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ جمالی صاحب آگے کا کیا لائحہ عمل ہے، کیا وہ کھل کر حکومت کے سامنے آتے ہیں یا کچھ ‘لےدے‘ کے آنے والے الیکشن کی تیاری میں لگ جائیں گے۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

ندائے غیب


1979ء میں لکھی گئی فیض احمد فیض کی نظم ”ندائے غیب“


ہر اِک اُولیِ الامر کو صدا دو
کہ اپنی فردِ عمل سنبھالے
اُٹھے گا جب جَمّ سرفروشاں
پڑیں گے دارو رَسن کے لالے
کوئی نہ ہوگا کہ جو بچا لے
جزا سزا سب یہیں پہ ہوگی
یہیں عذاب و ثواب ہوگا
یہیں سے اُٹھے گا شورِ محشر
یہیں پہ روزِ حساب ہوگا
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

ہم ہیں اسلام کی بیٹیاں



اس بارے میں آپ کی کیا سوچ ہے، اپنی سوچ کو تبصرے کی صورت دیجئے۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

ندائے غیب

1979ء میں لکھی گئی فیض احمد فیض کی نظم ”ندائے غیب“



ہر اِک اُولیِ الامر کو صدا دو
کہ اپنی فردِ عمل سنبھالے
اُٹھے گا جب جَمّ سرفروشاں
پڑیں گے دارو رَسن کے لالے
کوئی نہ ہوگا کہ جو بچا لے
جزا سزا سب یہیں پہ ہوگی
یہیں عذاب و ثواب ہوگا
یہیں سے اُٹھے گا شورِ محشر
یہیں پہ روزِ حساب ہوگا

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

عوام کس کے ساتھ ہیں

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

پرویز مشرف کی والدہ کے نام

سعودیہ عرب سے جناب شوکت محمود علوی صاحب کا ایک کھلا خط، صدر جنرل پرویز مشرف کی والدہ ماجدہ کے نام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب کوئی کسی کی نہ سنے اور برے لوگوں کی صحبت میں بیٹھے تو اس کے بڑوں کو شکایت کی جاتی ہے آج ہم آپ کے پاس آپ کے بیٹے کی شکا یت لے کر آیۓ ہیں آپ کے بیٹے نے اس ملک پر فوج کی مدد سے قبضہ کیا اور تمام سیاستدانوں کو برا کہا سب کو لائن پر لگا کران کے خلاف کیس بناۓ آج آپکا بیٹا اپنے اقتدار کو طول دینے کیلیے ان برے سیاستدانوں کے ساتھ مل کر سارے ملک میں پنگے کر رہے ہیں پتہ نہیں کس نے آپ کے بیٹے کو یہ سبق پڑھا دیا روشن خیالی ہونی چاہیے اور آپ کے صاحبزادے نے ٹی وی پر بھنگڑے ڈالے اس کے نتیجے میں ساری قوم بھنگڑے ڈال رہی ہے آپ کا بیٹا اپنی من مانی کیلئے فوجی قوت کا استعمال کر رہا ہے اور فوج کو خوش کرنے کیلئے ان کو نوکریاں دے رہا ہے اور ان کو غنڈہ گردی کے لیے استعمال کر رہا ہے ملتان میں شہزاد گارمنٹس ،اوکاڑہ میں غریب کسان لاہور میں کسانوں کی زمینوں سے بے دخلی کسی سے چپھی ہوئی نہیں جب آپ کے بٹیے اور اس کے خراب دوستوں کو بڑی والی عدالت کے بڑے والے صاحب نے ڈانٹ ڈپٹ کی تو ان سب نے مل کر ان کو نکال باہر کیا تاکہ کوئی ان کو کچھ نہ کہے اور یہ آرام سے سٹیل مل بیچ کے کھا جائیں زمینں اپنے نام کرا لیں لوگوں کو اٹھا لیں گم کر دیں ان کو اور کوئی ان سے پوچھے نہ – اب حالات اور خراب ہو رہے ہیں کھیل کود ، گانے باجے اور جلسے جلسے کھیلتے اب یہ مار دھاڑ پر اتر آئے ہیں کراچی میں اپنی طاقت کا سکہ جمانے کیلئے بے گناہوں کے خون سے ہولی کھیلی ساری دنیا نے ٹی وی پر دیکھا کہ ایک طرف لوگ مر رہے ہيں اور اس جگہ سے کچھ دور آپ کے بیٹے کا غیر ملکی دوست ٹیلی فون پر لوگوں سے بات کرہا تھا اور لوگ ڈھول بجا بجا کر ناچ رہے تھے – آپ کے بیٹے کے اور اس کے دوستوں کے حکم کے مطابق کسی پولیس والے نے کسی فوجی نے اس خونریزی کو نہیں روکا – اس دھرتی کی ماؤں نے غلام محمد ، سکندرمرزا،یحیی خان ،ایوب خان ، ضیاالحق ہی دیے اور جو کسر رہ گئی تھی وہ آپ کا بیٹا پوری کر رہا ہے ہم آپ سے ہاتھ جوڑ کر التجا کرتے ہیں آپ کو اللہ اور اس کے رسول کا واسطہ دیتے ہیں اپنے بیٹے کو سمجھا ئیے جس راستے پر یہ چل رہے ہیں اس کا انجام اچھا نہیں اللہ کی غیرت جوش میں آئی تواس چشم فلک نے دیکھا سکندر مرزا لندن میں کمپسری کی حالت میں مرا جس ملک کا بےتاج بادشاہ تھا اس ملک کی زمین بھی نصیب نہ ہوئی جھاز ہوامیں پھٹ گئے اور مرنے والوں کی لاشیں بھی نہ ملی - قوم نوح قوم عاد قوم ثمود اورپچھلے گزرے حکمرانوں کے انجام سے سبق سکھیں – جن کے گھر کے چراخ بجھے جن ماؤں کي گود اجڑی جن بہنوں کے بھائی نہ رہی ان کی آہ کوئی اور سنے نہ سنے اللہ سن رہا ہے وہ انصاف کرے گا – اب بھی وقت ہے آپ ان کو سمجھا ئیے ورنہ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔

ان کی داستاں بھی نہ ہو گی داستانوں میں






شوکت محمود علوی، الخبر ، سعودی عرب
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

قائداعظم دیکھ رہے ہو اپنا پاکستان

بی بی سی اردو کے ایک تھریڈ ‘آپ کی آواز‘ میں ‘ پوچھے گئے ایک سوال ‘کراچی کے حالات کا ذمہ دار کون؟‘ میں سے چند تبصرے ملاحظہ کجیئے۔

ايم کيو ايم اور مرکزی حکومت اسلم پرويز, جامشورو

اس سب کی ذمہ دار ايم کيو ايم ہے، اس کو کيا ضرورت ہے آج کے دن ريلی نکالنے کی؟ Z.A.Shah, Lahore
ميں اپنی اور اپنے احباب کی جانب سے جناب پرويزمشرف اور جناب الطاف حسين کو کامياب رياستی دھشت گردی پر مبارک باد پيش کرتا ہوں۔ جو کچھ ميں نے اپنی آنکھوں سے ديکھا اس کے بعد کچھ کہنے کی سکت نہيں رہی۔ کراچی میں فيصل کالونی اور ملير ميں بہنے والا خون ايم کيو ايم اور پرويز مشرف تمہاری گردن پر ہے۔ آج طاقت کے نشے ميں جو کر رہے اس کا حساب اللہ کی عدالت ميں ہوگا۔ شوکت محمود علوی, الخبر, سعودی عرب


مشرف حکومت اور اس کے حواری اس وقت ہارے ہوئےجواری ہيں اگر آپ لاشيں دیکھیں اور وہ بھی معصوم۔ بےگناہ نہتےشہر يوں کی گرا کر اپنے آمرانہ اقتدار کودوام دينا چاہتے ہيں، يہ ہی ٹولہ اس سب کاذمہ دارہے۔ Abdul Waheed Khan, Birmingham, برطانیہ

کراچی کے حالات کے ذمہ دار ايک صدر ہونے کے ناطے پرويزمشرف ہی ہيں۔ Abu Fuzail Ansari Ishrat, Bhairahwa, نیھال

تاريخ گواہ ہے کہ ايم کيو ايم کی ڈکشنری ميں امن کا لفظ نہيں ہے۔ Ghulam Mustafa, Sydney, آسٹریلیا

حکومت اگر آج کراچی ميں ريلی نہ کرتی تو يہ تماشہ نہ بنتا۔ محمد وقاص, اسلام آباد

حکو مت اعلی عہدے داروں کو تحفط فرابم نہيں کرسکی، يہ مشرف کي روشن خيالي کا ايک عملي نمونہ ھے۔ حپيپ, اسلام اپاد

کوئی بھی ادارہ ہو يا شخص اس پہ سب سے پہلی ذمہ دای ملک و قوم کی عزت اور سلامتی ہوتی ہے۔کراچي”= جس کے حالات پہلے ہی اتنے دگرگوں ہيں وہاں چيف جسٹس صاحب کا جلسہ کرنا ہی ملک وقوم کی سلامتی کے منافی ہے۔ اگر خدا نخوستہ کوئی بڑا واقعہ پيش آتا ہے تو اس کا قصوروار صرف جسٹس صاحب کو ٹہرايا جائے گا کيوں حکومت نے پہلے ہی ’الٹی ميٹم‘ دے کر اپنی گردن بچا لی ہے نقصان صرف حق کی لڑائی لڑنے والے جسٹس اور ان کا ساتھ دينے والے بے گناہ لوگوں کا ہوگا۔ خدا سب کی حفاظت کرے۔ طاہر نذير, alfarwaniya, کویت

افسوس صدآفسوس - جس ادارے کے ذمے امن وامان اور سيکيورٹی فراھم کرنا ھے وہ خود چيف جسٹس کيخلاف ھے وہ کيا سيکيورٹی فراھم کريگي۔ سيد ايم شاہ, Guildford, برطانیہ

آج ایک جماعت نے پھر ثابت کردیا کہ وہ ایک آمر کی پيداوار تھے ’پہنچی وہيں پہ خاک جہاں کا خمير تھا‘ ابرار سيد, گجرات, پاکستان

میرا خیال ہے کہ اس کی ذمہ دار ایم کیو ایم ہے۔ وہ حکومت میں ہیں اور انہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔ Mudassir, Karachi

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری کی کراچی آمد کے موقع پر صدر مشرف کي حمایتي جماعت متحدہ قومی موومنٹ کا جلوس نکالنا ایمرجنسی کے لیے راہ ہموار کرنے کی پریکٹس ہے اور یہ کام متحدہ قومی موومنٹ کو سونپا گيا ہے۔ حکومت جان بوجھ کر حالات کو اس نہج پر لے جا رہی ہے کہ چیف جسٹس کراچی بار کاؤنسل میں خطاب نہ کرسکيں اور حکومت چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چودھری اوراسکے دوستون کو حراساں کرنےکي کوشش ہے۔ یہ میڈیا اور عوام کی توجہ کیس سے ہٹانے کی کوشش ہے۔ شکيل احمد, سکھر

اس سب کے ذمےدار مشرف ہیں، مشرف صاحب خدا کے ليے اب اس ملک کی جان چھوڑ دو۔ Muhammad Irfan, Sialkot

کراچی کے حالات خراب کرنے کے ذمہ دار صدر پاکستان جنرل پرويز مشرف ھيں۔ راجہ طاہر رباني, پشاور / پاکستان

خدا اہليانِ کراچی کی جان و مال کی حفاظت فرمائے۔ سيد رضا, surrey, برطانیہ

يہ سب حکومت کروا رہی ھے۔ عثماں بٹ, لاھور

اپنے ایک رشتہ دار کو رات کو گلستانِ جوہر سے ایئرپورٹ پہنچنے میں ہمیں چار گھنٹے لگے اور اس کے لیے جس کوفت اور پریشانیوں سے گزرنا پڑا وہ ناقابلِ بیان ہے۔ ہمارے سامنے کئے لوگ مایوس ہو کر اپنے گھروں کو لوٹے اور جب ایئرپورٹ پہنچے تو سب پوچھ رہے تھے کہ آپ کیسے آگئے۔ اس قسم کے حالات پیدا کرنے والوں کو سوچنا چاہیئے کہ جب وہ پبلک ٹرانسپورٹ کی گاڑیاں اور ٹرک اغواء کر کے راستوں میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں، تو عوام پر کیا تاثر چھوڑ رہے ہیں؟ صاف ظاہر ہے کہ حکومت نے غنڈہ گردوں کو پھر سے چھوٹ دے دی ہے۔ عقیق, کراچی

اگرچہ اس معاملے ميں حکومت کی بھی غلطی ہے ليکن اپوزيشن بھی بري الزمہ نہيں ھے۔ ان کو تو بہانہ چاہيے۔ اب تو ہر کوئی اپنی سياست چمکانے کے ليے با ضابطہ طور پر ميدان عمل ميں آيا ہے۔ کسی کو بھی عوام کی فکر نہيں۔ مہنگائی کے بو جھ تلے دبے عوام کا جينا اب ان بار بار ہڑتالوں کی وجہ سے دو بھر ہو گيا ہے۔ اsajjadmalik, karachi

باوردی حکومت اور اس کی حمائتی اور طفيلی جماعتيں اس صورت حال کے ذمہ دار ہيں۔ Mian Asif Mahmood

ابھی کراچی ميں ايک دوست سے ميری بات ہوگئی۔ ان کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے ان کی ريلی کو بلوچ کالونی کے راستے پر روک رکھا ہے اور چاروں اطراف سے فائرنگ ہورہی ہے۔ اسد, پشاور

ضياالحق!ا لگتا ہے يہ ايک نام کسی نہ کسی شکل ميں، امن پسند شہري کا اس ملک ميں جينا حرام کیے رکھے گا۔ اے رضا

کراچی کے حالات خراب کرنے ميں سب سياسی جماعتيں شامل ھيں کيونکہ کراچی منی پا کستان ھے۔ کا مر ا ن خان, کر ا جی

آج عوامي آواز نے ثابت کرريا کہ وہ فوجی حکومت کے خلاف ہے اور نام نہاد عوامی جماعت نے بتا ديا کہ حکمرانی ان کا مفاد ہے اور وہ اس ٹولے کے ساتھ ہيں جن کہ دور ميں يہ لاشوں کا سياست پر لڑتے رہے ہيں۔ سعديہ بلوچ, کراچی

جتنا بھی جانی نقصان ہوگا اس کی ذمہ داری سب سیاسی جماعتوں پر عائد ہوتی ہے۔ چیف جسٹس استعمال ہورہے ہیں۔ ہر کوئی صرف جیتنا چاہتا ہے۔ salahuddin, toronto

کراچی ميں حالات خراب ہونے کی سراسر ايم کيو ايم ذمہ دار ہے۔ اب يہ آئی ايس آئی کے پلان کی تکميل کر رہے ہيں۔ ايمرجنسیکے حالات بنائے جارہے ہیں جو کہ حالات کنٹرول ميں نہ رہنے پر بتدريج مارشل لا ميں بدل جائے گي۔ خدا نہ کرے مگر اس دفعہ جرنيلي مارشل لاء ملک کو توڑ دے گا۔ Jawwad

اپنی سیٹ اور حکومت پکی کرنے کے چکر میں حکومت کو اندازہ ہی نہیں کہ حالات کیا رخ اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ سیاست ہمیشہ قومی مفادات پر کی جاتی ہے مگر ہمارے ہاں اسے ہمیشہ ذاتی مفادات کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ جنرل صاحب ہمیشہ کہتے آئے ہیں کہ انہوں نے ہمیشہ ذاتی مفاد کو قومی مفادات پر ترجیح دی مگر ان کے کسی فیصلے میں قومی مفادات کی جھلک نظر نہیں آتی۔ چیف جسٹس افتخار چوہدری کی پر امن ریلی کے جواب میں ایم کیو ایم کو ریلی کی اجازت دینا اور ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلنا، اس میں کون سے قومی مفادات پوشیدہ ہیں یہ سب پر عیاں ہیں۔ حکومت کو ابھی بھی ہوش نہ آیا تو یہ صورتحال مزید بگڑتی چلی جائے گی اور خدا نہ کرے حالات کنٹرول سے باہر ہو جائیں اگر ایسا ہو گیا تو مجھے ان بوٹوں کے پیچھے مزید بوٹوں کی آوازیں سنائی دی رہی ہیں۔

یا اللہ پاکستان کی حفاظت فرما۔

اس وقت مجھے حبیب جالب کا یہ شعر یاد آ رہا ہے کہ

تم نے کہا تھا اب نہ چلے گا محلوں کا دستور
بنے گی وہ قانون جو ہوگی بات ہمیں منظور
ہر اک چہرے پر چمکے گا آزادی کا نور
لیکن ہم کو بیچ رہا ہے اک جابر سلطان
قائداعظم دیکھ رہے ہو اپنا پاکستان

ملتی جلتی تحریریں
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

احمد خان طارق

احمد خان طارق سرائیکی وسیب کا نمائندہ اور تخلیق کار ہے۔ جاگیردرانہ ماحول کا یہ باسی کچلی ہوئی انسانیت کے دکھ درد کی بھرپور عکاسی کرتا نطر آتا ہے۔ ان کے کلام میں نعرہ بازی، پھکڑ پن اور نام نہاد انقلاب کی بات نہیں بلکہ اس میٹھے کرب کا اظہار ہے جس سے صدیوں کی غلامی کی وجہ سے حسِ احتجاج تقریبا ختم سی ہو گئی ہے۔ کھوسہ قبیلے سے تعلق رکھنے والا یہ بلوچ آسان زندگی اور وہ بھی ‘ٹاہلی دی چھاں تلے‘ گزارنے کا خواہش مند ہے، حالانکہ اسے بخوبی علم ہے کہ یہ سایہ بھی اسے حقیقی سکون نہیں بخش رہا۔ ‘ماندی چھاں‘ کا شکوہ ظاہر ہو ہی جاتا ہے۔

اساں کیہل فقیر ہمسائے تیڈے
تیڈے ناں دی چھاں تے پئے ہیں
تیڈے چنتے چوڑھے مترلگن
متراں دی چھاں تے پئے ہیں
تیڈی مونجھ دی گھر دی ٹاہلی ہے
من بھاندی چھاں تے پئے ہیں
پر طارق جھٹ محسوس تھیندے
کہیں ماندی چھاں تے پئے ہیں

احمد خان طارق حقیقتاَ عشق و محبت کا آدمی ہے۔ خلوص و نیاز مندی ہر حرف سے ٹپکتی نظر آتی ہے۔ انہوں نے اپنے خیال سے ایک بے قرار وجود کو مجسم کر دیا ہے۔

اج قاصد گونگا بن کے ونج
مونہو نہ الوائیں، مونجھ ڈسائیں

انہوں اضطراب و بے قراری کا اظہار نہ صرف ڈوہرے میں کیا بلکہ اسے اپنے رس بھرے گیتوں میں بھی خوب استعمال کیا۔

سوئیاں دھاگے پھولے اُچھلاں
مندری کان تعویز لکھانواں
ڈاج کھندانواں سندرے پھولاں

اسی طرز کی بے قراری کا ایک اور شعر بھی ملاحظہ کیجیئے۔

جوسی سڈا جھترے پُھلا
گل باہیں وچ تعویز پا
در تے سدا دھوئیں
دُکھا حرمل دے پُک

احمد خان طارق سرائیکی وسیب کے کلچر کا شاعر ہے۔ بیٹ، ٹاہلی، کاہاں، سر، کاں، گاج، بانگاں یہ سب ہماری وسیبی مزاج کی باتیں ہیں۔ وہ مقامی ثقافت کے کامیاب مصور ہیں۔
مستقبل کے حوالے سے وہ کبھی مایوس نہیں ہوئے۔

طارق غم دا کوئی غم کائینی
ول آسن غمخوار جیہاڑے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پہلے تاں اپنی ذات دا عرفان حاصل کر گھنوں
ول اپنی طارق ذات دے گنبد توں باہر ڈیکھسوں
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

متوجہ ہوں

 


اپنا ڈیرہ اردو بلاگ کو نئے نام کے ساتھ، نئی ڈومین ‘پاکیز ڈاٹ کوم‘ پر منتقل کر دیا گیا ہے، تمام دوستوں سے گذارش ہے نیا ایڈریس نوٹ کر لیں اور پہلی فرصت میں اپنے بلاگ اور ویب کو نئے ایڈریس کے ساتھ اپڈیٹ کر دیں ۔۔۔ شکریہ


 




Blog Address - http://www.pakiez.com
Entries (RSS) - http://www.pakiez.com/?feed=rss2
Comments (RSS) - http://www.pakiez.com/?feed=comments-rss2




مکمل تحریر اور تبصرے >>>

دو ٹھگوں کی کہانی

کسی زمانے میں برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز میں ایک خیالی تصویر چھپی تھی جس میں ایک طرف روس کے سابق صدر اور اُس وقت کے صدارتی امیدوار بورس یلسن اور دوسری طرف کمیونسٹ امیدوار گناڈی زگانوف تھے دونوں میں ایک بدحال روسی خاتون کے سر پر پستول تان رکھے تھے۔ اس تصویر کا عنوان تھا ‘دو ٹھگوں کی کہانی‘ مجھے یہ کہانی صرف روس کی ہی نہیں بہت سارے دوسرے ملکوں کی بھی لگتی ہے، یہی کہانی بنگلہ دیش کی ہے، یہی کہانی اپنے پاکستان کی بھی ہے۔
اس تصویر اور اور اس وقت کے روسی انتخاب پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک تجزیہ نگار نے لکھا تھا کہ ‘یلسن کو اس لئے جیت جانا چاہیے کہ وہ ١٩٩١ء میں سویت یونین کے خاتمے کے بعد سے اقتدار میں ہیں اور ان کے دوستوں، مشیروں اور تاجر برادری میں موجود حامیوں نے پہلے ہی وہ سب کچھ لوٹ لیا ہے جو اقتدار میں آ کر لوٹا جا سکتا ہے۔ وہ توانائی، کانوں اور صنتعی شعبے کو اپنے مفاد کے مطابق ‘پرائیوٹائز‘ کر چکے ہیں، وہ سوئٹزرلینڈ میں بینک اکاؤنٹ کھول چکے ہیں اور نائٹس برج میں مکان خرید چکے ہیں۔ اگر یلسن دوبارہ منتخب ہو جائیں تو مزید کچھ نہیں لوٹیں گے۔ دوسری صورت میں اگر زگانوف اور اوسط درجے کے سیاسی کھڑپینچوں پر مشتمل ان کے حامیوں کی فوج کریملن میں داخل ہو گئی تو وہ ‘خالی پیٹ‘ ہو گی۔ انہیں دوبارہ ‘پرائیوٹائز‘ کرنے قواعد کو ازسرنو منتخب کرنے اور بیوروکریسی کی تنظیم نو کرنے کے عمل سے گزرنا پڑے گا تاکہ وہ بھی سوئٹزرلینڈ بینکوں میں اکاؤنٹ کھول سکیں اور نائٹس برج میں اپنا گھر بنا سکیں۔ ایسا ہو تو روسی ریاست کو بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی‘۔
بالکل یہی صورت حال اس وقت پاکستان میں بھی مجھے نظر آ رہی ہے، ایک طرف موجودہ حکومت جو ‘پرائیوٹائز‘ کے عمل سے جیسے تیسے گزر کر آسودہ ہو چکی ہے اور دوسری طرف میاں نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو ہیں۔ جنہیں ‘بےروزگاری‘ کاٹتے ہو تقریبا سات سال سے اوپر کا عرصہ ہو چکا ہے۔

بتائیے آپ کس کو ووٹ دیں گے؟


رہا کسی چوتھے کا سوال تو وہ نہ آپ کو پسند ہے اور نہ مجھے چاہے وہ مولانا فضل الرحمٰن، قاضی حسین احمد یا عمران خان ہی کیوں نہ ہو۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

ہیرے موتی لوگ

ڈیرہ غازی خان کی دھرتی میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی ہے، اگر کمی ہے تو حوصلہ افزائی کی ہے۔ یہاں اچھے سے اچھا شاعر، اعلٰی سے اعلٰی گلوگار، مصور، مجمہ ساز، خطاط اور دستکار پڑا ہوا ہے۔ لیکن زندگی بھر ان کی شہرت اور پذیرائی ان کی شکستہ، بوسیدہ، جابجا سے آثار قدیمہ کی تصویر پیش کرتی ہوئی چاردیواری کی حدود سے آگے نہیں بڑھ پاتی، یہاں تک کہ یہیں پر گھٹ کر مر جاتی ہے۔ اس علاقے کے فنکاروں کے ساتھ یہ ظلم اور ناانصافی کیوں؟ یہ سوال برسہا برس سے ڈیرہ غازی خان کی گرد کے ساتھ کوچہ و بازار میں رسوا پھرتا ہے، مگر کوئی نہیں جو اسے جواب کے سانچے میں ڈھال کر رنگ و روپ کے اجالوں سے نکھار دے۔ اندھیرے، گمنامیاں اور ناقدری کی دھول نہ جانے کب تک ان کے چہروں کو دھندلائے رکھے گی۔
شمیم خطاط کو کون نہیں جانتا؟ جو اسی سرزمین پر برسہا برس سے خطاطی سکھا کر اپنا پیٹ پال رہا تھا، صرف دو دن پہلے ہی گمنامی کے گھپ اندھیروں میں کہیں گم ہو گیا۔
میڈا عشق وی توں، میڈا دین وی توں‘ گا کر سوز و آواز کا جادو جگانے والے پٹھانے خان مرحوم سے کون واقف نہیں، انتہائی کسمپرسی کی حالت میں اپنی آخری زندگی گزارنے والے پٹھانے خان مرحوم کے گھرانے کو دو وقت کی روٹی کے لئے آخر کار پٹھانے خان مرحوم کے ساز بجانے والے آلات کی بولی لگوانے کا سوچنا پڑا۔
کوئی ایک دکھ ہو تو بندہ رونا بھی روئے، یہاں تو دکھوں کا ایک جہان آباد ہے۔ لوگ تڑپتے پھرتے ہیں لیکن کوئی ایسا نہیں جو ان کے درد کا درماں بنے۔ دکھ تو اس بات کا ہے کہ ہم لوگ جن کو اپنے کندھوں پر بیٹھا کر اسلام آباد کی عظمتوں کے سپرد کرتے ہیں وہ ان فضاؤں میں جاتے ہی زمینی لوگوں کو یوں بھول جاتے ہیں جیسے کبھی ان کے پاس لوٹ کر زمین پر نہیں آنا۔
اپنے ہی مفادات کی ہیبتناکیوں میں گم لوگو! ہوش میں آؤ اور مٹی میں ملے ہوئے ان ہیرے، موتیوں کو مٹی میں دفن ہونے سے بچا لو، ان کی چمک سے دنیا کو خیرہ کرنے کے لئے انہیں بھی وہی مواقع فراہم کرو جو تم نے لاہور، اسلام آباد اور اس جیسے دیگر علاقوں کو فراہم کیئے ہیں۔ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ملک کے ایک علاقے پر تو نوازشات کی بارش اور دوسرا ایک قطرے کو ترستا رہے، مساوات کا دعوٰی کرتے ہو تو اس کی لاج بھی رکھو۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

مزدوروں کا عالمی دن


ہر سال کی طرح آج پاکستان سمیت پوری دنیا میں مزدوروں کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ ہر سال صرف اس دن مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے دنیا بھر میں آواز بلند کی جاتی ہے۔ جسے سننے والے تو سب ہوتے ہیں، مگر ان کے حقوق کی جنگ لڑنا والا کوئی ہوتا، ہر سال اس دن مزدوروں کی فلاح وبہبود کیلئے بڑے بڑے دعوے کیئے جاتے ہیں مگر عملی طور پر اس کے ثمرات کبھی بھی مزدور طبقے تک نہیں پہنچ سکے۔ مزے کی بات یہ کہ اس دن عام تعطیل کی وجہ سے سب ہی اپنے اپنے گھروں میں چین کی نیند لیتے ہیں سوائے مزدورں کے، میرا تجربہ ہے کہ اس دن ایک مزدور عام دنوں کی مناسبت سے زیادہ کام کرتا ہے، شاید اسی خوشی میں کہ آج ان کا دن منایا جا رہا ہے۔
اٹھو زمین سے اے راندگان خاک، اٹھو
خدا نے سر جو دیئے ہیں، انہیں اٹھا کے اٹھو
تمام سجدے بشر پر حرام ہوتے ہیں
( بس ایک سجدہ ہے جائز جو " اس" کو زیبا ہے)
اٹھو زمیں سے اے کشتگان درد کہ اب
وہ بے کسی کے زمانے تمام ہوتے ہیں !

یہ بے بسی کے وظیفے ۔۔۔۔ یہ عاجزی کے درد
ازل سے آج تک کس کے کام آئے ہیں !
حقوق گرتے نہیں کاسئہ گدائی میں
کبھی نہ بھیک کے ٹکڑوں پہ نام آۓ ہیں
اٹھو زمیں سے، اٹھاؤ سروں کو، دیکھو تو
تمھارے واسطے کیا کیا پیام آۓ ہیں !

بھلے دنوں کی توقع میں، جاگتی آنکھیں
بکھر گئیں اس مٹی میں انتظار کے بعد
جو خواب دیکھے ہیں صدیوں تمھارے آبا نے
جو تم بھی دیکھتے جاؤ گے رات دن، یوں ہی
تمھیں بھی خواب ہی واپس ملیں گے اور وہ بھی
بڑی اذیت و ذلت بہت پکار کے بعد !

سو اب جو دیکھو تو زندہ حقیقتیں دیکھو
کہ جن کے ساۓ میں تم کو حیات کرنی ہے
گزارنے ہیں یہی پر تمام آۓ دن
یہی تمھارے عزیزوں نے رات کرنی ہے
ہے سر حرمت آدم، زباں کی آزادی
کرو اے بخت گزیدو، جو بات کرنی ہے
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

بلاگر حلقہ احباب