وقت نہیں !!!!

ہر خوشی ہے لوگوں کے دامن میں
پر اک ہنسی کے لئے وقت نہیں
دن رات دوڑتی دنیا میں
زندگی کے لئے ہی وقت نہیں

ماں کی لوری کا احساس تو ہے
پر ماں کو ماں کہنے کا وقت نہیں
سارے رشتوں کو تو ہم مار چکے
ان انہیں دفنانے کا بھی وقت نہیں

سارے نام موبائیل میں ہیں
پر دوستی کے لئے وقت نہیں
غیروں کی کیا بات کریں
جب اپنوں کے لئے ہی وقت نہیں

آنکھوں میں ہے نیند بندھی
پر سونے کے لئے وقت نہیں
دل ہے غموں سے بھرا ہوا
پر رونے کا بھی وقت نہیں

پیسوں کی دوڑ میں ایسے دوڑے
کہ تھکنے کا بھی وقت نہیں
پرائے احساسوں کی کیا قدر کریں
جب اپنے سپنوں کے لئے ہی وقت نہیں

تو ہی بتا اے زندگی
اس زندگی کا کیا ہو گا
کہ ہر پل مرنے والوں کو
جینے کے لئے بھی وقت نہیں
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

احمدی نژاد اور لی بولنگر کے درمیان خطابی مکالمہ

Columbia University
ایران کے صدر محمود احمدی نژاد ان دنوں امریکہ کے دورے پر ہیں۔ پچھلے دنوں انہوں نے نیویارک میں کولمبیا یونیورسٹی میں خطاب کیا۔ کولمبیا یونیورسٹی میں کولمبیا یونیورسٹی کے صدر لی بولنگر اور ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے درمیان ایک تاریخی خطابی مکالمہ سننے کو ملا جو آپ کی خدمت میں پیش ہے۔

کولمبیا یونیورسٹی کے صدر لی بولنگر

میں مسلمان ملک کے صدر کو دنیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سب سے بڑا مرتکب قرار دیتا ہوں کیونکہ آپ کے دور میں لوگوں کو پھانسی پر لٹکایا اورشہری اور سیاسی آزادی پر قدغن لگایا جا رہا  ہے، سچ بولنے کی پاداش میں عوام پابند سلاسل ہیں، طلبا کے خلاف آپریشن جاری ہے اور علما کرام، صحافیوں اور وکلا پر زمین تنگ کی جارہی ہے۔ آپ میں وہ تمام خامیاں موجود ہیں جو کسی ڈکٹیٹر میں پائی جاتی ہیں۔ بہائی فرقے سے تعلق رکھنے والے، خواتین اور ہم جنس پرست خصوصی طور پر آپ کے ظلم کا نشانہ بن رہے ہیں۔ دسمبر2005ء میں آپ نے اپنے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں ہولوکاسٹ کی تردید کرتے ہوئے اُسے جھوٹ کا پلندہ قرار دیا، حالانکہ ہولوکاسٹ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی دستاویزی حقیقت ہے اور اِس کو جھوٹ قرار دے کر آپ نہ صرف تاریخ کا مذاق اڑا رہے ہیں بلکہ انسانیت کی بھی توہین کررہے ہیں۔ اسرائیل کے حوالے سے بھی آپ نے دو ہفتے قبل ایک تباہ کن بیان دیا کہ اِسے صفحہ ہستی سے مٹادینا چاہیے۔ اس بات کے بھی دستاویزی شواہد موجود ہیں کہ ایرانی حکومت لبنان میں اسرائیل سے برسر پیکار حزب اللہ کی مالی معاونت کر رہی ہے اور اسے ایران ہی نے 1980ء میں قائم کیا تھا اور اس تنظیم کا قیام حماس اور اسلامی جہاد نامی فلسطینی تنظیموں کے ساتھ عمل میں آیا تھا۔ امریکی انٹیلی جنس کے مطابق حزب اللہ کے لیے بڑے پیمانے پر فنڈز مختص کیے گئے ہیں �%
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

بے نظیر بھٹو کا انداز تکلم

ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی جانشین اور ان کی بیٹی دختر مشرق محترمہ بے نظیر بھٹو کی افتاد طبع میں چار باتیں واضح ہیں۔
١۔ وہ اپنی کامیابی تو اپنے پلے باندھے رہتی ہیں مگر اپنی غلطیوں اور ناکامیوں کا دوش دوسروں کو دیتی ہیں۔
٢۔ وہ ہمیشہ اپنے استحقاق کا تحفظ تو خوب کرتی ہیں مگر انہیں اپنی استعدادی حقیقت محل نظر نہیں آتی۔
٣۔ انہیں قانون اور جمہوریت سے دور کا بھی واسطہ نہیں مگر وہ اپنے آپ کو انہیں دو عوام کا مربی سمجھتی رہتی ہیں۔
٤۔ اقتدار انہیں بے حد عزیز ہے، اس کے لئے وہ کسی حد تک بھی جا سکتی ہیں۔
بے نظیر صاحبہ کے بیانات اور انداز تکلم کا بے نظیر مشرف ڈیل زیرو فیصد سے نوے فیصد تک کا جائزہ لے لیں، اس وقفے میں انہوں امریکہ سے آشیرباد حاصل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور اب جب ڈیل ہاتھ سے نکلی جا رہی ہے تو محترمہ نے امریکہ کے سامنے ایک نیا کارڈ پھینکا کہ “ میری حکومت قائم ہونے کی صورت میں، میں عالمی ایجنسی برائے جوہری توانائی یعنی آئی اے ای اے کو تفتیش کے لیے ڈاکٹر قدیر خان تک رسائی دے دوں گی“
ایسے بیانات سے محترمہ امیج مزید خراب ہو رہا ہے بلکہ اب تو ان کے ووٹر بھی سوچنے پر مجبور ہو رہے ہیں کہ آخر محترمہ امریکہ سے کس قسم کا رشتہ بنانا چاہ رہی ہیں کیونکہ اس طرح کے رشتوں کا تعلق صرف مفادات کی ہڈی تک ہوتا ہے، آج ایک طرف سے ہڈی پڑ رہی تو چچوڑنے والوں کا ہجوم ادھر دکھائی دے رہا ہے، جیسے ہی ہڈی ختم ہوئی ہجوم تتر بتر ہو جائے اور جہاں ہڈی نظر آئی اس طرف کا رخ کرے گا۔ یہی ہوتا آ رہا ہے، یہی ہو رہا ہے اور یہی ہوتا رہے گا۔


 

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

ڈر

شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے '' اس سے دڑو جو تم سے ڈرتا ہے''


ہمیشہ جاہل عالم سے، بے وقوف عاقل سے، نااہل قابل سے اور کم چور محنتی سے ڈرتا ہے اور ہر وقت اسے نقصان پہنچانے کے لئے موقع کی تلاش میں رہتا ہے اور جیسے ہی اسے موقع ملتا ہے خوفزدہ بلی کی طرح اپنے سے بہتر کو نقصان پہنچانے کے لئے کاری ضرب لگانے کی کوشش کرتا ہے اس دوران وہ اخلاقیات و اقدار کو پامال کرنے میں کوئی عار نہیں محسوس کرتا۔


آجکل ہمارے ملک میں اسی ڈر کا بہت عمل دخل ہے۔ سیاستدان مشرف سے، مشرف سیاستدانوں سے اور عوام مہنگائی سے ڈر رہے ہیں۔


اسی ڈر نے عدالت کے حکم کے باوجود نواز شریف کو ملک بدر کر دیا۔


اسی ڈر کی وجہ مشرف بے نظیر ڈیل نوے فیصد سے واپسی زیرہ پر آ گئی۔


اسی ڈر نے مشرف کو ایک بار پھر چوہدری برادران کا سہارہ لینا پڑا۔


اسی ڈر کی وجہ سے سیاسی گرفتاریاں عمل میں آ رہی ہیں۔


اسی ڈر کی وجہ سے مشرف کو یہ اعلان کرنا پڑا کہ وہ صدارتی الیکشن کے بعد وردی اتاریں گے۔


یہی ڈر ہر محب وطن پاکستانی کے ذہن میں چھایا ہوا ہے جو پاکستان کی موجودہ صورتحال سے پریشان ہیں نجانے ڈر اور خوف کے سائے کب ہمارا پیچا چھوڑیں گے اور کب ہم بے خطر اور آزاد فضا میں سانس لے سکیں گے۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

سا رے گا ما پا SA RE GA MA PA

آج رات زی ٹی وی پر زی ٹی وی کے پروگرام سا رے گا ما پا چیلنج 2007 (Sa Re Ga Ma Pa Challenge 2007) کا ایک سپیشل شو دکھایا گیا جس میں کرینہ کپور (Kareena Kapoor) گیسٹ تھیں، اسی پروگرام کے ذریعے کرینہ کی نئی فلم ‘‘Jab We Met‘‘ کو بھی promote  کیا گیا اور ساتھ ہی لگے ہاتھوں کرینہ کی سالگرہ کا کیک بھی کاٹا گیا۔
سا رے گا ما پا چیلنج ٢٠٠٧ پروگرام جوں جوں اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے اس میں thrill اور tension  کا اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس وقت اس میں چار گلوکاروں کے درمیان مقابلہ جاری ہے
١۔ امانت علی
٢۔ انیک
٣۔ راجہ حسن
٤۔ پونم
یاد رہے کہ امانت علی کا تعلق پاکستان سے ہے جو گلوکاری کے میدان میں انڈیا میں اپنے جھنڈے گاڑ رہا ہیں اور پچھلے دو ہفتوں سے مسلسل نمبر ون کی پوزیشن لئے ہوئے ہیں۔
اس وقت دیکھا جائے تو اصل مقابلہ پاکستان کے امانت علی اور انڈیا کے انیک کے درمیان ہی ہے اور اگلے پرگراموں میں یہ مقابلہ مزید سخت ہونے کا امکان ہے۔ اس لئے اس وقت انہیں آپ کے ووٹ کی اشد ضرورت ہے، انہیں ووٹ کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیئے۔

پروگرام کی چند تصویری جھلکیاں

اسی حوالے سے ایک پوسٹ .  ہیرو ہنڈا سا رے گا ما پا چیلنج
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

عام آدمی

ابے او عام آدمی کیوں صبح صبح چیخ رہے ہو آرام سے بات نہیں کر سکتے کیا؟


میں چیخ نہیں رہا جناب، آج ایک ماہ بعد آپ سے ملنے آیا، اسی لئے پوچھ رہا ہوں کہ آپ بجلی کا بل کیسے دیتے ہیں اگر دیتے ہیں تو گھر کا خرچہ کیسے چلاتے ہیں؟


میرا گزارہ ہو جاتا ہے میں تمھاری طرح عام آدمی نہیں ہوں۔


آلو کس بھاؤ خریدتے ہیں؟ پھر وہی عام انسانوں جیسی چھوٹی بات، آلو بھی خرید لیتے ہیں۔


گھر کا خرچہ؟


تمہیں صبح صبح کیا ہو گیا ہے؟ انسان اتنے دنوں بعد ملتا ہے تو ایک دوسرے کا حال احوال پوچھتا ہے، اپنی خیریت سے آگاہ کرتا ہے، ملکی حالات پر بات کرتا ہے، تم نے آتے ہی عام آدمی جیسے سوالات شروع کر دئیے۔


کیا کروں جناب، نہ حال احوال کا ہوش ہے، نہ ملک سے دلچسپی بس پریشانی کھائے جا رہی کہ بجلی کا بل کیسے ادا کروں گا اگر وہ دے دوں تو گھر کی دال روٹی کا کیا ہو گا، روٹی کھائی تو بچوں کی فیس، ماہ رمضان ہے حکومت نے عام استعمال کی اشیاء کو سستا کرنے کا اعلان کیا ہے مگر بازار جاؤ تو ٹماٹر، آلو، گھی، چینی، آٹا غرض ہر چیز کے نرخ آسمان کو چھو رہے ہیں، سحری کریں تو افطاری کے لئے کچھ نہیں ہوتا، افطاری کر لیں تو سحری کے لئے کچھ نہیں بچتا، آگے عید آ رہی ہے بچوں کے کپڑے اور جوتے خریدنے ہیں پریشانی ہی پریشانی ہے، ایسے حالات میں کسی بات کا کہاں ہوش رہتا ہے۔


تمہیں پتہ ہے الیکشن کمیشن نے صدارتی انتخاب کی تاریخ دے دی ہے اور خیر سے ہمارے صدر مشرف صاحب ایک بار پھر صدر بننے جا رہے ہیں۔


میری بلا سے صدر مشرف بنے یا مولانا فضل الرحمٰن مجھے اس سے کیا فرق پڑے گا، کیا اس سے میری آمدنی میں اضافہ ہو جائے گا یا خوردنوش کی اشیاء سستی ہو جائیں گی؟


ہٹ عام آدمی، جاہل، گنوار!!! تم نے آج کا اخبار پڑھا ہے؟


نہیں، کیوں؟


امریکہ افغانستان اور عراق میں مسلمانوں کا قتل عام کر رہا ہے؟


تو کیا کروں؟


مقابلہ کرو!!!


ٹماٹر میں خرید نہیں سکتا امریکہ کا مقابلہ کیسے کروں۔


دیکھ لینا ایک دن امریکہ تباہ ہو کر رہے گا۔


اس سے میرا بجلی کا بل ادا ہو جائے گا یا معاف کر دیا جائے گا؟


عام آدمی واقعی گھٹیا سوچ کے مالک ہوتے ہیں اور تم بھی ٹہرے ایک عام آدمی! میں تاریخ بدلنے کی بشارت دے رہا ہوں اور تم اپنی دال روٹی میں پڑے ہو، اپنے اندر ایک عظیم قوم والی خصوصیات پیدا کرو۔


عظیم قوم میں کیا خصوصیات ہوتی ہیں؟


ان کے اردے بلند اور کردار مضبوط ہوتے ہیں اور وہ دشمن کے آگے جھکنے سے انکار کر دیتی ہیں۔


عظیم قوم روٹی بھی کھاتی ہیں؟


وہ تو ہر کوئی کھاتا ہے۔


عظیم قومیں وہی بنتی ہیں جو مسائل میں نہیں جھکڑی ہوتیں، میں بجلی کا بل ادا کرتا ہوں تو بچوں کی فیس نہیں بچتی، فیس دیتا ہوں تو گھر کی دال روٹی کی فکر کھائے جاتی ہے، میری کمر روز بروز بڑھتی مہنگائی نے جھکا دی ہے، آپ دشمن کے آگے نہ جھکنے کی بات کرتے ہیں، مجھ سے تو سیدھے کھڑا نہیں ہوا جاتا۔


یہ سب تمھارے لیڈروں کا قصور ہے جو اس ملک کو لوٹ رہے ہیں۔


جو لیٹرے ہیں انہیں پکڑا جائے میری جیب پر کیوں ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے؟


تم نے انہیں ووٹ جو دئیے تھے؟


کہاں دئیے جناب! بس ایک بھٹو کو ووٹ دیا تھا اسے پھانسی پر چڑھا دیا گیا اس کے بعد ووٹ دینے سے توبہ کر لی، ساری عمر مہنگائی سے لڑتے گزری مجھے تو ووٹ کا ہوش ہی نہیں رہا، میرے فرشتوں کو بھی پتہ نہیں کہ لیٹرے کون ہیں اور کون نہیں؟


تو اتنے وزرائے اعظم کہاں سے آئے، تمھارے جیسے دوسرے عام آدمیوں نے انہیں ووٹ دئیے ہوں گے؟


اللہ جانے کہاں سے آئے کیونکہ بھٹو کے بعد تو اقتدار کا فیصلہ کبھی ووٹروں نے کیا ہی نہیں۔


سب لیٹرے ہیں۔


میں مان لیتا ہوں سب لیٹرے ہیں مگر مجھے سزا کیوں مل رہی ہے؟


تمہیں کیا سزا مل رہی ہے؟


کوئی ایک سزا ہو تو کہوں! میں اپنے آئینی حقوق لے نہیں سکتا کیونکہ رشوت دینے کی مجھ میں سکت نہیں ہے، میں کسی ناظم کی مدد نہیں مانگ سکتا کیونکہ وہ میرے ووٹ سے بنا ہی نہیں، میں لازمی اشیائے ضرورت کے روز بروز بڑھتے ہوئے نرخوں پر اجتجاج نہیں کر سکتا کیونکہ حکومت الیکشن میں مصروف ہے، سیاستدان مشرف فوفیا میں مبتلا ہیں وہ سپریم کورٹ کی نہیں مانتے مجھ غریب کی کیا سنیں گے۔ میرا بچہ قتل ہو جائے تو میں قاتلوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا کیونکہ میرے پاس پولیس اور عدالت کا خرچ نہیں، میں بس میں کھڑے ہو کر سفر کرتا ہوں کیونکہ سیٹ چھین لینے کی مجھ میں طاقت نہیں، یہ سب کچھ میرے ساتھ ہو رہا ہے، جن لیڈروں کے جرائم آپ بتا رہے ہیں ان کا کیا بگڑا؟ سبھی آزادی سے اندرون و بیرون ملک مزے کر رہے ہیں اور میں آزاد ہوتے ہوئے بھی ایک قیدی کی زندگی گزار رہا ہوں، اؤ! ٹائم ہو گیا آج آخری تاریخ ہے مجھے بجلی کا بل ادا کرنا ہے، اگر آج ادا نہ ہوا تو میرے گھر کا بجلی کا میٹر کاٹ دیا جائے گا پھر واپڈا کے دھکے کھانے پڑیں گے میرے پاس تو کوئی سفارش بھی نہیں، اچھا اللہ حافظ پھر ملیں گے۔


اللہ حافظ عام آدمی بشرط زندگی پھر ملاقات ہو گی۔


 


مکمل تحریر اور تبصرے >>>

تونسہ بیراج Taunsa Barrage




پاکستان میں بیشمار بیراج ہیں، جن میں چند مشہور جناح بیراج، چشمہ بیراج، گدو بیراج، سکھر بیراج اور کوٹری بیراج شامل ہیں۔ تونسہ بیراج کالا باغ ہیڈ ورکس سے ٨٠ کلو میٹر جنوب کی طرف دریائے سندھ پر واقع ہے جو کوٹ ادو شہر سے ١٨ کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ پاکستان کا پندرھواں اور دریائے سندھ کا چوتھا بیراج ہے۔ اس کی تعمیر پر ساڑھے بارہ کروڑ روپے صرف ہوئے تھے، اس سے دو نہریں نکالی گئی جن میں سے ایک نہر مظفر گڑھ اور دوسری ڈیرہ غازی خان کو سیراب کرتی ہے۔ بلوچستان کی خشک سالی دور کرنے کے لئے تونسہ بیراج سے ابھی حال ہی میں سوا تین ارب روپے کی لاگت سے ٥٠٠ کلومیٹر طویل ‘کچھی کینال‘ نامی ایک اور نہر نکالی گئی۔ جس سے سات لاکھ ایکڑ زمین سیراب ہوتی ہے۔
تونسہ بیراج سے نکالی گئی ان نہروں سے نہ صرف لاکھوں ایکڑ زمین سیراب ہوتی ہے بلکہ کئی دوسرے فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔ ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ اس کی تکمیل سے ڈیرہ غازی خان تک جانے کے لئے خشکی کا راستہ نکل آیا اور پختہ سڑک کی تعمیر سے ڈیرہ غازی خان کا دوسرے حصوں سے براہ راست تعلق قائم ہو گیا ہے۔
ڈیرہ غازی خان کی خوش قسمتی ہے کہ تونسہ بیراج جیسا عظیم الشان منصوبہ ١٩٥٨ء کو پایہ تکمیل تک پہنچا ہے۔ پل کے نیچے پانی بڑی تند و تیزی سے رواں دواں ہے۔ پل کے ساتھ ساتھ ریلوے لائن بھی موجود ہے، دوسرے کئی افادی اور تفریحی مقامات بھی موجود ہیں۔ دریائے سندھ پر اس وقت تک جتنے پل تعمیر ہوئے ہیں ان سب میں سے عظیم الشان پل تونسہ بیراج ہے۔
تونسہ بیراج کا کام ١٩٥٤ء کو شروع ہوا اور ١٩٥٨ء کو پایہ تکمیل تک پہنچا، افتتاح ١٩٥٩ء کو فیلڈ مارشل محمد ایوب خان مرحوم نے کیا تھا۔ پل پر فٹ پاتھ (دونوں سائیڈوں پر) چھ چھ فٹ ہے۔ سڑک کی چوڑائی ٢٢ فٹ ہے۔
ڈیرہ غازی خان محکمہ انہار کے (ریٹائرڈ) سرکل ہیڈ ڈرافسٹمیں خان خدا بخش خان کے مطابق تونسہ بیراج کے نقشہ جات اور ڈیزائن کی تیاری میں تقریبا پانچ برس کے عرصہ تک میں نے بیراج کے مختلف حصے اور ریگولیٹر کے نقشے ڈیزائن انجیئر آئی اے خالق اور ڈائریکٹر محی الدین خان کی سرپرستی میں تیار کئے تھے جبکہ میرے ساتھ سب انجیئر یعقوب خان مرحوم اور ہیڈ ڈرافسٹمیں بشیر حسین شاہ مرحوم بھی میرے ساتھ کام کرتے تھے۔ مجھے اس کارکردگی کے صلے میں ١٩٥٩ء کو فیلڈ مارشل ایوب خان نے بیراج کی افتتاحی تقریب میں میڈل سے نوازا اور ایک ایک میڈل سب انجیئر اور ہیڈ ڈرافسٹمین کو بھی عطا کیا گیا جبکہ پہلا میڈل پی ایس ای لنک (بمقام بلوکی) ١٩٥٣ء کو منسٹر آف ایریگیشن سردار محمد خان لغاری کے دور حکومت میں عطا کیا گیا تھا۔



مکمل تحریر اور تبصرے >>>

پاکستان اور سعودی حکمران












کنگ سود


سابق وزیرِ اعظم نواز شریف دس ستمبر کو وطن پہنچنے پر توقع کے مطابق ایئر پورٹ ہی سے سعودی عرب روانہ کر دیے گئے۔ چند ہفتے قبل عدالتِ عظمٰی کے فیصلہ کے بعد نواز شریف نے پاکستان واپس آنے کا اعلان کیا تھا۔
مشکلات کا شکار مشرف حکومت نے خود کو ایک اور سیاسی بحران میں پا کر سعودی حکومت سے رابطہ کیا۔ ابتدائی طور پر سعودی ردِ عمل زیادہ واضح نہیں تھا۔ لیکن ستمبر کے پہلے ہفتے میں سعودی ترجمان کے بیان اور پھر پرنس مقرن اور سعد حریری کی پاکستان آمد سے آئندہ واقعات کا رُخ بڑی حد تک طے ہو گیا۔ بلکہ سعودی مداخلت کے پسِ پردہ کارفرما بین الاقوامی جادوگر کی شناخت بھی مشکل نہ رہی۔
پاکستانی عوام کا عمومی سیاسی رویہ حقائق کی بجائے جذباتیت سے عبارت ہے۔ لیکن سعودی عرب کے بارے میں تو یہ جذباتیت مذہبی عقیدت کو جا پہنچتی ہے۔ حالانکہ اس تعلق کی تاریخ مذہبی رشتے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
سنہ انیس سو دس میں سلطنتِ عثمانیہ کے جنوب مشرقی کونے میں ایک لق و دق صحرا تھا۔ خلیج فارس اور بحیرہ قلزم کے درمیان واقع اس خطے پر دو حکومتیں قائم تھیں۔ نجد کا حاکم ابنِ سعود انگریزوں کا حامی تھا جب کہ حجاز کا حکمران شریفِ مکہ عثمانی ترکوں کا اتحادی تھا۔
پہلی عالمی جنگ میں ترکوں کو شکست ہوئی اورخلافت کا دھڑن تختہ ہوگیا۔ حجاز کے حاکم شریفِ مکہ کی کیا حیثیت تھی۔ حجاز پر ابنِ سعود نے قبضہ کر لیا۔
سنہ انیس سو بتیس میں حجاز اور نجد کو ملا کر سعودی عرب نامی ملک کا اعلان کر دیا گیا۔اس مملکت کے قیام میں مقامی سمجھوتہ عبدالوہاب کے پیروکار مذہبی پیشواؤں سے تھا اور سیاسی سرپرستی برطانیہ بہادر کی تھی۔ سنہ انیس سو تینتیس میں ابنِ سعود نے امریکی کمپنی آرامکو کو ساٹھ برس کے لیے سعودی عرب میں تیل کی تلاش پر اجارہ داری سونپی۔ تفصیل کا یارا نہیں، عبدالعزیز ابنِ سعود کی شخصی اور سیاسی قامت جاننا ہو تو چرچل کی خود نوشت کے متعلقہ حصے پڑھ لیں۔
ہندوستانی مسلمان تحریک خلافت کی دُنیا میں بستے تھے۔ ترکی خلیفہ کے ساتھی شریفِ مکہ کی شکست پر بہت جزبز ہوئے۔ عبدالوہاب کے پیروکاروں نے مقدس ہستیوں کی قبریں مسمار کر دیں تو بےچینی اور بڑھی۔ بالآخر خلافت کمیٹی کا ایک وفد حجاز روانہ کیا گیا۔
وفد میں دیگر افراد کے علاوہ نامور صحافی ظفر علی خاں بھی شامل تھے۔ جنہوں نے ارکانِ وفد کی مخالفت کے باوجود ابنِ سعود سے تنہائی میں ملاقات کی اور واپس آ کر خلافت وفد سے الگ رپورٹ پیش کی۔ دو جملے ملاحظہ ہوں۔’خالص دینی زاویۂ نگاہ سے عبدالعزیز ابنِ سعود میرے نزدیک دنیائے اسلام کا بہترین فرد ہے ۔۔۔ وہ ایک روشن ضمیر مدبر، الوالعزم جرنیل، خدا کا سپاہی، معاملہ فہم حکمران، پُرجوش مذہبی مبلغ اور قوم کا سچا خادم ہے۔‘
اس رپورٹ کے بعد مسلمانانِ ہند میں پھوٹ پڑ گئی۔ خلافت کمیٹی اور مجلسِ احرار پنجاب کے راستے الگ ہوگئے۔ مولانا ظفر علی خاں نے نیلی پوش تنظیم بنا لی۔ مولانا داؤد غزنوی کے خانوادے کی آلِ سعود سے یاد اللہ کے ڈانڈے بھی اسی مناقشے سے ملتے ہیں۔
ابن سعود کی کھلی حمایت پر مؤرخ رئیس احمد جعفری کے مطابق، ظفر علی خان کو بھاری معاوضہ ملا۔ اسی رقم کی تقسیم پر جھگڑے میں مولانا غلام رسول مہر اور عبدالمجید سالک نے زمیندار سے الگ ہوکر سنہ انیس سو ستائیس میں ’روزنامہ انقلاب‘ نکالا تھا۔
سنہ انیس سو اڑتالیس میں سعودی عرب جہاں سے الگ اک جزیرہ نما تھا۔ جیسے تھرپارکر میں جاگیردار مزارعوں سے مونچھ ٹیکس وصول کرتے ہیں، جدہ بندرگاہ پر حاجیوں سے چھ سو پچاس روپیہ فی کس حج ٹیکس وصول کیا جاتا تھا۔
سعودی عرب کی مسکین اور پسماندہ حکومت کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ یہی حج ٹیکس تھا۔ پچاس کی دہائی میں تیل کی آمدنی شروع ہوئی تو حج ٹیکس بھی ختم ہوا۔
سنہ انیس اکہتر میں پاکستان تقسیم ہو گیا۔ پٹ سن کی کھڑی فصل کو دسمبر انیس سو اکہتر کا پالا مار گیا۔ اب نہ بانس کے پتوں کی ٹوکری تھی، نہ بانس کی بنی ماچس۔ کاغذ کے ٹکڑے پہ موم جما کر گندھک کا بلبلہ رکھا جاتا تھا۔ کئی برس اس موم لگی تیلی سے روشنی کرتے رہے ۔ تجارت کا خسارہ بڑھنے لگا۔
سرگودھا، پسنی اور سوات میں ماؤں کے بچے ابھی باقی تھے۔ یہی تجارت کی جنس ٹھہری۔ عرب کے صحراؤں میں تیل نکلنے سے دولت کا چشمہ پھوٹ بہا تھا۔ ہمارے میٹرک فیل ہزاروں کی تعداد میں کام آئے۔ پیسہ وافر، سیاسی حقوق زیرو، قانون نامعلوم، محمد دین اور دین محمد دونوں خوش۔
سعودی عرب میں پاکستانی مزدوروں کی آمد کے ساتھ ہی پاکستان میں سعودی عرب کی کھلی مداخلت بھی شروع ہوئی۔ شاہ فیصل کی سیاسی بصیرت کا تقاضا تھا کہ پاکستان سے آنے والے ہزاروں نیم تعلیم یافتہ مزدوروں کو درہم و دینار کے علاوہ نظامِ اسلام کی افیون مفت بانٹی جائے۔
خدشہ یہ تھا کہ پاکستان میں تو عوام ووٹ کا حق مانگتے ہیں۔ وکیل بات بات پہ سڑکوں پہ آجاتے ہیں۔ صحافی سینہ تان کر حکومت مخالف اداریے لکھتا ہے۔ بچیاں یونیورسٹیوں میں تعلیم پاتی ہیں۔ عورتیں دفاتر میں کام کرتی اور سڑکوں پہ کار چلاتی ہیں۔ ایک بوڑھی عورت ایوب خان کے مقابلے میں انتخاب لڑتی ہے۔
مال روڈ پہ سلطانہ پشاوری سرِشام رقص کناں ہوتی ہے۔ لاہور میں حبیب جالب نظم لکھتا ہے تو سکھر میں شیخ ایاز ظلم کرنے والوں کی خبر لیتا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ سستے پاکستانی مزدوروں کے ساتھ جمہوریت اور جدیدیت جیسی برائیاں بھی سعودی عرب میں چلی آئیں۔
پاکستان کا مسکین مزدور ٹھیک ہے لیکن پاکستان کا زندہ سیاسی ڈھانچہ اور کھلکھلاتا معاشرتی نظام درست نہیں۔ انہیں اُٹنگے پاجامے، داڑھی، لٹکواں لبادے اور منکوحہ حجاب کی خوراک درکار ہے۔ یہ مرگِ مفاجات پاکستانی غریبوں نے جاپانی ٹیپ ریکارڈر اور کھجوروں کے ہمراہ برداشت کی۔
فروری سنہ انیس سو چوہتر میں لاہور کی اسلامی کانفرنس کا میلہ بنگلہ دیش تسلیم کرنے کے لیے سجایا گیا تھا۔ ملکی اور بین الاقوامی حالات کا تقاضا تھا کہ پاکستان ’بنگلہ دیش نامنظور‘ کے بےمعنی جھگڑے میں الجھنے کی بجائے مستقبل کی فکر کرے۔
چنانچہ کوئی پچپن ملکوں کے سربراہ پاکستان پہنچے۔ اسلامی دنیا کا راگ بار بار الاپا گیا۔ بادشاہی مسجد میں نماز جمعہ، شالامار میں شیخ مجیب اور سٹیڈیم میں کرنل قذافی۔ اس بارات کا دولہا شاہ فیصل تھا۔ جمیل الدین عالی کے ترانے ایسے بلند آہنگ تھے کہ کسی نے پاکستانی خیمے میں گھستے عربی اونٹ کو دیکھا ہی نہیں۔
ہفت روزہ اکانومسٹ نے فروری سنہ انیس سو چوہتر میں لکھا کہ ’سعودی عرب کے حکمران شاہ فیصل نے حکومت پاکستان کو مشورہ دیا ہے کہ احمدی فرقے کو غیر مسلم قرار دیا جائے۔‘
ربوہ کے ریلوے سٹیشن پہ نشتر میڈیکل کالج کے طابعلموں کا جھگڑا تو کہیں تین ماہ بعد ہوا۔ خادمِ حرمین شریفین کا حکم واضح تھا۔ دستور میں پہلی ترمیم کے ذریعے پاکستانی ریاست نے احکامِ الٰہی کی تشریح کا بیڑہ اُٹھا لیا۔
سنہ انیس سو ستتر میں بھٹو صاحب کے خلاف پاکستان قومی اتحاد کی تحریک پاکستان کا داخلی سیاسی تنازعہ تھا۔ پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر ریاض الخطیب تھے۔ بھٹو صاحب نے اُنہیں پاکستان کے داخلی سیاسی مکالمے میں ثالث بنایا۔ اُن کے اپنے ملک میں نہ حزبِ اقتدار نہ حزبِ اختلاف۔ بھٹو صاحب مذہب کے نام پر خطرناک کھیل کھیل رہے تھے۔
افغانستان میں روسی فوجیں اُتر آئیں۔ ضیاءالحق معاملہ فہم تاجر تھا۔ طے پایا کہ امریکہ افغانستان کے بھاڑ میں جو ڈالر جھونکے گا، سعودی عرب اس میں برابر کا حصہ ڈالے گا۔ پاکستانی مذہبی مدرسوں کو افغان جہاد میں اہم کردار دیا گیا تھا۔
سعودی عرب نے موقع سے فائدہ اٹھاکر اپنے پسندیدہ فرقے کو دل کھول کر پیسہ دیا۔ سنہ انیس سو ستتر میں پاکستان میں مذہبی مدرسوں کی تعداد پانچ سو سے کم تھی۔ آج پاکستان میں مدرسوں کی تعداد بیس ہزار سے زیادہ ہے جن کی اکثریت اہلِ حدیث مسلک سے تعلق رکھتی ہے۔
ضیاءالحق کی موت کے بعد بےنظیر وزیر اعظم ہوئیں تو قدامت پسند سعودی حلقوں کی بےچینی قابلِ دید تھی۔ بےنظیر نے خود بیان کیا ہے کہ سنہ انیس سو نواسی میں ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں اسامہ بن لادن مالی اعانت کر رہے تھے، بلکہ اسامہ نے تو انہیں ہلاک کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔
اسامہ کی سعودی حکومت سے مخاصمت تو پہلی خلیجی جنگ کے موقع پر شروع ہوئی۔ سنہ انیس سو نواسی میں تو وہ سعودی ہیرو تھے۔ اکتوبر انیس سو چھیانوے میں بےنظیر کا تختہ الٹنے کی کوشش میں بھی عورت دشمن بین الاقوامی مذہبی حلقے ملوث تھے۔
سنہ انیس سو نوے سے دو ہزار دو تک پاکستان میں فرقہ ورانہ قتل وغارت میں محتاط اندازے کے مطابق پانچ سے چھ ہزار شہری ہلاک ہوئے۔ باخبر حلقوں کے مطابق فرقہ وارانہ خونریزی کے اس کھیل میں شیعہ ایران اور سنی سعودی عرب نے پاکستان کو میدانِ جنگ بنا رکھا تھا۔
یہ لڑائی گیارہ ستمبر دوہزار ایک کے واقعات کے بعد ہی دھیمی پڑ سکی۔ اس دوران پاکستان میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔
افغانستان میں طالبان حکومت کو تسلیم کرنے والے کل تین ملک تھے۔ پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات۔ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے بعد پاکستان ہی نے اپنی پالیسی نہیں بدلی، سعودی حکومت نے بھی یہی کیا۔
پاکستانی حکومت اور نواز شریف میں معاہدہ ملکی اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی تھا، لیکن قانون سے قطع نظر، اس میں نواز شریف بھی اتنے ہی ذمہ دار ہیں جتنی پاکستانی اور سعودی حکومتیں۔ نواز شریف نے مانا ہے کہ انہوں نے سعودی حکومت کی ماورائے قانون مداخلت تسلیم کی تھی۔
ان دنوں تو لاہور اور ملتان کے بازاروں میں ان کے حامی کھکھلا کر کہتے تھے کہ نواز شریف کو مدینے والے نے اپنے گھر بلایا ہے۔ تب سیاسی دباؤ سے نکلنے کے لیے سعودی عرب جانا نواز شریف کی مجبوری تھی۔ اب وطن واپس آنے کی کوشش سیاسی حالات کا تقاضا ہے، لیکن اس بیچ حکومت کی مجبوری آن پڑی ہے کہ انہیں ایک پھر مدینے والا بلا لے۔
یہ سعودی مداخلت کا گلا کرنے کا مقام نہیں، سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس بار کس کس کو بلایا گیا ہے۔ فی الحال تو نواز شریف جدے بیٹھے ہیں۔


بحوالہ بی بی سی اردو

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

زندگی کیا ہے؟

زندگی کیا ہےعموماً یہ سوال ہم اپنےآپ سےکرتے ہیں اور پھر اِسکےکسی خاص تسلی بخش جواب کی تلاش میں بظاہر اُلجھ سے ہی جاتے ہیں۔ کوئی اِسکو سفر، کوئی عمل تو کوئی کچھ اور ناموں سےنوازتا ہے۔ زندگی عمل کا ہی نام ہے، جب مسلسل عمل میں ٹھہراؤ آ جائے تو انقلاب برپا ہو کر ایک نئی زندگی کےعمل آغاز ہوتا ہے اور اگر مسلسل عمل میں رکاوٹ آ جائے تو بیزاری رونما ہو جاتی ہے، جو اختتام بھی ہوسکتی ہے۔
زندگی کےتین مراحل ہیں: دُنیاوی زندگی کی حیاتی، قبر کی زندگی کا دور اور آخروی زندگی، قبر اور آخروی زندگی ہماری دُنیاوی زندگی کےاعمال پر depend کرتی ہے۔ تبھی اس زندگی کو حیات کہتے ہیں۔ زندگی کے بارے میں ہمارے اپنے اپنے نظریات اور ایک اللہ کا فرمان ”اعمال کے مطابق فیصلہ ہوگا“۔ اعمال کیا ہیں؟” دوسروں کےساتھ برتا گیا رویہّ، اعمال یہ بھی ہے اللہ کےاحکام کےساتھ اختیار کیا گیا عمل“۔
دُنیاوی زندگی میں ہم اللہ کی تلاش بھی کرتے ہیں اور اللہ کہتا ہے کہ میں شہ رگ سے بھی قریب ہوں تو پھر اللہ کو قربت میں ہی تلاش کرنےکی کوشش کریں۔ اللہ کی تلاش انسانیت کی فلاح کےنتیجےمیں ہے۔ اللہ کے بندوں سے محبت کرے اللہ سے تلاش کی منزل مل جائےگی۔ ہم روزمرہ میں” جس سےمحبت کرتے ہیں تو اُسکی محبت سے بھی محبت کرتے ہیں۔ اللہ اپنی مخلوق سےمحبت کرتا ہے۔ تو پھر ہمیں بھی اللہ کی مخلوق سے محبت کرنی چاہیے“۔ ہماری یہ محبت ہمیں اللہ سے قریب کر دے گی۔ دُنیا کے نزدیک ہماری زندگی گھاٹا ہوگی، نقصان تصور ہوگی۔ جب اُس ذات کی جانب سے ہمیں فیض، رازِ حقیقت نصیب ہو پاتا ہے۔ تو پھر ہمارا وجود عِلم (انجام معلوم) ہونےکے باوجود اللہ کی راہ میں سرِخم تسلیم ہوتا ہے۔ اذیتیں، مصائب برداشت کرلینا، آزمائشوں کےکٹھن راہ سےگزرنا اِس محبت کا ایک حصہ ہوتا ہے۔
اکثر سوال اُٹھاتے ہیں، اُلجھتے ہیں مگر جواب نہ تو اکثر ہمیں واضحتاً سلجھائی دیتا ہےاور نہ ہی سجھائی۔ اللہ والےسب کچھ جانتے ہوئے بھی تکالیف کا شکار کیوں ہوتے ہیں۔ واقعہ کربلا میں کیوں پیاروں کےساتھ ایسا ہوا، امام ابو حنیفہ کو قید میں کیوں ڈالا گیا۔ کچھ باتیں اللہ کی مشیت ہوتی ہیں۔ اُن پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ اللہ والےجانتے ہوئے اللہ کے فیصلے کو خاموشی سے بخوشی تسلیم کر تے ہیں۔ وُہ راہ خاموش ضرور ہوتی ہے مگر وُہ خود ایک زندگی ہوتی ہے۔ ہماری زندگیوں کےلئے اِک رہنمائی پیش کرتی ہیں۔
انبیاءعلیہ السلام کی زندگی اسطرح کی خاموشی کا حصّہ رہی ہے۔ حضرت موسٰی، حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل، حضرت یعقوب، حضرت یوسف بظاہر تو تکالیف کا شکار اور آزمائشوں کا حصّہ رہےمگر یہ سب ہمارے سامنے ہیں کہ یہ مشیت الٰہی تھا۔ مجدد الف ثانی کا اکبر کےدور میں قید میں ڈال دیا جانا اور پھر قید سےنکال دیا جانا اللہ کی خاص منشاء تھی۔ حضرت یحیی، حضرت عیسٰی بھی اللہ کی خاص مشیت کا حصّہ بنی، واقعہ کربلا بھی یہی ہے۔ (ذرا غور کیجئیے، کتنا کچھ اِس بات میں پنہاں ہے) ابھی اِس منشاء کا ظاہر ہونا باقی ہے۔ اِن کا ایک پہلو اُجاگر کیا گیا ہے۔ باقی بے شمار اعلیٰ پہلو اجاگر ہو کر نمایاں ہونا باقی ہیں۔
مکّہ کی تکالیف اللہ کی حکمت سے تھیں، جو مدینہ کی زندگی کا باعث بنی۔ بس یہ اللہ کےمعاملات ہیں۔ جو عیاں ہونا باقی ہیں۔ بس ہماری حدود تک ہمیں فہم عطاء کر دیا جاتا ہے۔


زندگی تکالیف کا نام نہیں بندوں سےمحبت کا عمل ہے

جب ہمیں اللہ کی قربت حاصل ہو جاتی ہے تو ہمیں اللہ کےسواء کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ ہر رنگ میں اللہ کا رنگ ہی محسوس ہوتا ہے۔ تب ہمارے لئے کوئی بات نفع یا گھاٹا نہیں ہوتی۔ بس ایک ہی شے پیشِ نظر ہوتی ہے  “ اللہ کی محبت“ اور اللہ نے اپنی محبت کا طریقہ بتا دیا۔” اللہ سےمحبت اللہ کےرسول سےمحبت، اللہ اور اُسکے رسول کی خوشنودی اللہ کی مخلوق سےمحبت “۔ یہی ہماری زندگی کے تمام مسائل کا حل ہے۔ ”محبت سےمراد اللہ کے فیصلوں کو تسلیم کرنا بھی ہے۔ یہی ہماری زندگی اور یہی ہماری زندگی کا حاصل“۔
جسکو اللہ سےقربت حاصل ہوجائے، وُہ اُس قربت کو لوگوں سے چھپاتا ہے۔ ایک ملامتی فقیر نے اپنی موج میں آکر بیان کیا، ”نبی کے لئے نبوت کا اظہار لازم  ہےاور ولی کے لئے ولائیت چھپانا ملزوم“(١)۔
حوالہ جات: (١) فرمائش مرتبہ اعجاز الحق صفحہ٥٥


(فرخ نور)

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

امتناعِ قادیانیت آرڈیننس نمبر ٢٠ مجریہ ١٩٨٤ء

١٩٨٤ء میں جنرل ضیاءالحق مرحوم کے دور میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے مطالبہ پر جنرل ضیاءالحق نے امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا جس کی رو سے قادیانیوں کو شعائر اسلام استعمال کرنے سے روکا گیا۔ اس طرح مسلمانوں کے تمام مکاتبِ فکر کے علمائے کرام، سیاسی جماعتوں کی شراکت عام مسلمانوں کی قربانیوں سے اللہ تعالٰی نے اس مسئلہ کو حل کیا۔ اس کا تمام تر سہرا اور کریڈٹ عام مسلمانوں کو جاتا ہے جو آج بھی عقیدہ ختم نبوت پر جان نچھاور کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔


سلام ہے ختم نبوت کے ان پروانوں پر


امتناعِ قادیانیت آرڈیننس نمبر ٢٠ مجریہ ١٩٨٤ء
قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کو خلاف اسلام سرگرمیوں سے روکنے کے لئے قانون میں ترمیم کرنے کا آرڈیننس
چونکہ یہ قرین مصلحت ہے کہ قادیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کو خلاف اسلام سرگرمیوں سے روکنے کے لئے قانون میں ترمیم کی جائے۔
اور چونکہ صدر کو اطمینان ہے کہ ایسے حالات موجود ہیں جن کی بنا پر فوری کاروائی کرنا ضروری ہو گیا ہے۔
لہذا اب ٥ جولائی ١٩٧٧ کے اعلان کے بموجب اور اس سلسلے میں اسے مجاز کرنے والے تمام اختیارات استعمال کرتے ہوئے صدر نے حسب ذیل آرڈیننس وضع اور جاری کیا۔


حصہ اول ابتدائیہ


١۔مختصر عنوان اور آغاز نفاذ
(١) یہ آرڈیننس قدیانی گروپ، لاہوری گروپ اور احمدیوں کی خلاف اسلام سرگرمیاں (امتناع و تعزیر) آرڈیننس ١٩٨٤ء کے نام سے موسوم ہو گا۔
(٢) یہ فی الفور نافذالعمل ہو گا۔


٢۔ آرڈیننس عدالتوں کے احکام اور فیصلوں پر غالب ہو گا۔
اس آرڈیننس کے احکام کسی عدالت کے کسی حکم یا فیصلے کے باوجود موثر ہوں گے۔


حصہ دوم


مجموعہ تعزیرات پاکستان
(ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء) کی ترمیم
٣۔ ایکٹ نمبر ٤٥ بابت ١٨٦٠ء میں نئی دفعات ٢٩٨۔ب اور ٢٩٨۔ج کا اضافہ
مجموعہ تعزیراتپاکستان (ایکٹ نمبر ٤٥، ١٨٦٠ء میں باب ١٥ میں، دفعہ ٢٩٨ الف کے بعد حسب ذیل نئی دفعات کا اضافہ کیا جائے گا یعنی ۔۔۔
٢٩٨۔ب بعض مقدس شخصیات یا مقامات کے لئے
مخصوص القاب، اوصاف یا خطابات وغیرہ کا ناجائز استعمال
(١) قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود ‘احمدی‘ یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے۔
(الف) حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ یا صحابی کے علاوہ کسی شخص کو امیرالمومنین، خلیفتہ المومین، خلیفتہ المسلمین، صحابی یا رضی اللہ عنہ کے طور پر منوب کرے یا مخاطب کرے۔
(ب) حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ مطہرہ کے علاوہ کسی ذات کو ام المومنین کے طور پر منسوب کرے یا مخاطب کرے۔
(ج) حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان (اہل بیت) کے کسی فرد کے علاوہ کسی شخص کو اہل بیت کے طور پر منسوب کرے یا مخاطب کرے یا۔
(د) اپنی عبادت گاہ کو ‘مسجد‘ کے طور پر منسوب کرے یا موسوم کرے یا پکارے۔
تو اسے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہو گا۔


(٢) قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود ‘احمدی‘ یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری، یا مرئی نقوش کے ذریعے اپنے مذہب میں عبادت کے لئے بلانے کے طریقے یا صورت کو اذان کے طور پر منسوب کرے یا اس طرح اذان دے جس طرح مسلمان دیتے ہیں تو اسے کسی قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا مستوجب بھی ہو گا۔


٢٩٨۔قادیانی گروپ وغیرہ کا شخص جو خود کو مسلمان کہے
قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود ‘احمدی‘ یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو بلاوسطہ یا بالواسطہ خود کو مسلمان ظاہر کرے یا اپنے مذہب کو اسلام کے طور پر موسوم کرے یا منسوب کرے یا الفاظ کے ذریعے خواہ زبانی ہوں یا تحریری یا مرئی نقوش کے ذریعے اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے یا دوسروں کو اپنا مذہب قبول کرنے کی دعوت دے یا کسی بھی طریقے سے مسلمانوں کی مذہبی احساسات کو مجروح کرے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین سال تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانے کا بھی مستوجب ہو گا۔


٤۔ ایکٹ نبر ٥ بابت ١٨٩٨ء کی دفعہ ٩٩۔الف کی ترمیم
مجموعہ ضابطہ فوجداری ١٨٩٨ء (ایکٹ نمبر ٥ بابت ١٨٩٨ء) میں جس کا حوالہ بعدازیں مذکورہ مجموعہ کے طور پر دیا گیا ہے دفعہ ٩٩، الف میں، ذیلی دفعہ (١) میں
(الف) الفاظ اور سکتہ ‘اس طبقہ کے‘ کے بعد الفاظ، ہند سے، قوسین، حروف اور سکتے اس نوعیت کا کوئی مواد جا کا حوالہ مغربی پریس اور پبلی کیشنز آرڈیننس ١٩٦٣ء کی دفعہ ٢٤ کی ذیلی دفعہ (١) کی شق (ی ی ) میں دیا گیا ہے شامل کر دئیے جائیں گے، اور
(ب) ہندسہ اور حرف ‘٢٩٨۔الف کے بعد الفاظ، ہندسے اور حرف‘ یا دفعہ ٢٩٨۔ب یا دفعہ ٢٩٨۔ج‘ شامل کر دئیے جائیں گے۔ یعنی ۔۔


 



































8 7 6 5 4 3 2 1
ایضاً تین سال کےلئے کسی ایک قسم کی سزائے قید اور جرمانہ ایضاً ناقابل ضمانت ایضاً ایضاً بعض مقدس شخصیات کےلئے مخصوص القاب، اوصاف اور خطابات وغیرہ کا نا جائز استعمال ٢٩٨۔ب
ایضاً ایضاً ایضاً ایضاً ایضاً ایضاً قادیانی گروپ وغیرہ کا شخص جو خود کو مسلمان ظاہر کرے یا اپنے مذہب کی تبلیغ یا تشہیر کرے ٢٩٨۔ج


مکمل تحریر اور تبصرے >>>

امتناع قادیانیت بل

١٩٧٤ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے تحریک ختم نبوت کو دبانے کی کوشش کی لیکن ناکامی ہوئی جس کے بعد قومی اسمبلی کو خصوصی کیمٹی کا درجہ دیا اور اس مسئلہ پر بحث شروع کی۔ قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا ناصر کو قومی اسمبلی میں بلایا گیا، ان کا بیان ہوا، مولانا مفتی محمود نے قائد حزب اختلاف کی حیثیت سے اٹارنی جنرل یحٰیی بختیار کے ذریعہ جرح کی۔ مرزا ناصر نے واضح طور پر اعلان کیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نہ ماننے والے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ لاہوری گروہ کے مرزا صدرالدین کو بلا گیا ان دونوں پر تقریبا ١٣ دن جرح ہوئی بالآخر قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد منظور کر لی۔ اس طرح ٧ستمبر ١٩٧٤ء وہ تاریخی دن قرار پایا جب نوے سالہ پرانا مسئلہ حل ہوا۔ امت مسلمہ نے سکون کا سانس لیا اور عقیدہ ختم نبوت کو فتح و بلندی عطا ہوئی۔مجلس عمل تحفظ ختم نبوت اور اپوزیشن کے درج ذیل افراد کی طرف سے مولانا شاہ احمد نورانی نے قادیانوں کو غیر مسلم اقیلت قرار دینے کی قرارداد پیش کی ۔۔۔۔
نام درج ذیل ہیں۔
مولانا مفتی محود، مولانا عبدالمصطفٰی ازہری، مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی، پروفیسر غفور احمد، مولانا سید محمد علی رضوی، مولانا عبدالحق اکوڑہ خٹک، چوہدری ظہور الہی، سردار شیرباز خان مزاری، مولاناظفر احمد انصاری، عبدالحمید خان جتوئی، صاحبزادہ احمد رضا خان قصوری، محمود اعظم فاروقی، مولانا صدر الشہید، مولانا نعمت اللہ، عمرہ خان، مخدوم نور محمد، جناب غلام فاروق، سردار مولا بخش سومرو، سردار شوکت حیات خان، حاجی علی احمد تالپور، راؤ خورشید علی خان، رئیس عطا محمد خان مری
بعد میں درج ذیل افراد نے بھی تائیدی دستخط کئے۔
نوابزادہ میاں ذاکر قریشی، غلام حسن خان، کرم بخش اعوان، صاحبزادہ محمد نذر سلطان، میر غلام حیدر بھروانہ، میاں محمد ابراہیم برق، صاحبزادہ صفی اللہ، صاحبزادہ نعمت اللہ خان شنواری، ملک جہانگیر خان، عبدالسبحان خان، اکبر خان مہمند، میجر جنرل جمالدار، حاجی صالح خان، عبدالمالک خان، خواجہ جمال محمد گوریجہ۔


اپوزیشن کی جانب سے پیش ہونے والی قرارداد


جناب سپیکر
قومی اسمبلی پاکستان
محترمی!
ہم حسب ذیل تحریک پیش کرنے اجازت چاہتے ہیں۔
ہرگاہ کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ قادیان کے مرزا غلام احمد نے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی ہونے کا دعوٰی کیا، نیز ہرگاہ کہ نبی ہونے کا اس جھوٹا اعلان، بہت سی قرآنی آیات کو جھٹلانے اور جہاد کو ختم کرنے کی اس کی کوششیں اسلام کے بڑے بڑے احکام کے خلاف ورزی تھیں۔
نیز ہر گاہ کہ وہ سامراج کی پیداوار تھا اور اس کا واحد مقصد مسلمانوں کے اتحاد کو تباہ کرنا اور اسلام کو جھٹلانا تھا۔
نیز ہرگاہ کہ پوری اُمت مسلمہ کو اس پر اتفاق ہے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار، چاہے وہ مرزا غلام احمد مذکور کہ نبوت کا یقین رکھتے ہوں یا اسے اپنا مصلح یا مذہبی رہمنا کسی بھی صورت میں گردانتے ہوں، دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔
نیز ہرگاہ کہ ان کے پیروکار چاہے انہیں کوئی بھی نام دیا جائے۔ مسلمانوں کے گھل مل کر اور اسلام کا ایک فرقہ ہونے کا بہانہ کر کے اندرونی اور بیرونی طور پر تخریبی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔
نیز ہرگاہ کہ عالمی تنظیموںکی ایک کانفرنس میں جو مکہ مکرمہ کے مقدس شہر میں رابطہ عالم اسلامی کے زیرانتظام ٦ اور ١٠ اپریل ١٩٧٤ء کے درمیان منقعد ہوئی اور جس میں دنیا بھر کے تمام حصوں سے ١٤٠ مسلمان تنظیموں اور اداروں کے وفود نے شرکت کی، متفقہ طور پر رائے ظاہر کی گئی کہ قادیانیت اسلام اور عالم اسلام کے خلاف ایک تخریبی تحریک ہے جو ایک اسلامی فرقہ ہونے کا دعوٰی کرتی ہے۔
اب اس کو یہ اعلان کرنے کی کاروائی کرنی چاہیے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار انہیں چاہے کوئی بھی نام دیا جائے، مسلمان نہیں اور یہ کہ مومی اسمبلی میں ایک سرکاری بل پیش کیا جائے تاکہ اس اعلان کو موثر بنانے کے لئے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی ایک غیر مسلم اقلیت کے طور پر ان کے جائز حقوق و مفادات کے تحفظ کے لئے احکام وضع کرنے کی خاطر آئین میں مناسب اور ضروری ترمیمات کی جائیں۔


٧ ستمبر ١٩٧٤ء کو منظور ہونے والی تاریخی ترمیم
قومی اسمبلی کے کل ایوان پر مشتمل خصوصی کیمٹی متفقہ طور پر طے کرتی ہے کہ حسب ذیل سفارشات قومی اسمبلی کو غور اور منظوری کے لئے بھیجی جائیں۔
کل ایوان کی خصوصی کیمٹی اپنی رہمنا کیمٹی اور ذیلی کیمٹی کی طرف سے اس کے سامنے پیش یا قومی اسمبلی کی طرف سے اس کو بھیجی گئی قراردادوں پر غور کرنے دستاویزات کا مطالعہ کرنے اور گواہوں بشمول سربراہان انجمن احمدیہ ربوہ اور انجمن احمدیہ اشاعت اسلام لاہور کی شہادتوں اور جرح پر غور کرنے کے بعد متفقہ طور پر قومی اسمبلی کو حسب ذیل سفارشات پیش کرتی ہے۔
(الف) کہ پاکستان کے آئین میں حسب ذیل ترمیم کی جائے۔
(اول) دفعہ ١٠٦ (٣) میں قادیانی جماعت اور لاہوری جماعت کے اشخاص (جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں) کا ذکر کیا جائے۔
(دوم) دفعہ ٢٦٠ میں ایک نئی شق کے ذریعے غیر مسلم کی تعریف درج کی جائے مذکورہ بالا سفارشات کے نفاذ کے لئے خصوصی کیمٹی کی طرف سے متفقہ طور پر مسودہ قانون منسلک ہے۔


(ب) کہ مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ٢٩٥ الف میں حسب حسب ذیل تشریح درض کی جائے۔
تشریح:- کوئی مسلمان جو آئین کی دفعہ ٢٦٠ کی شق (٣) کی تصریحات کے مطابق محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کے تصور کے خلاف عقیدہ رکھے یا عمل یا تبلیغ کرے وہ دفعہ ہذا کے تحت مستوجب سزا ہو گا۔


(ج) کہ متفقہ قوانین مثلا قومی رجسٹریشن ایکٹ ١٩٧٣ء اور انتخابی فہرستوں کے قواعد ١٩٧٤ء میں منتنحبہ اور ضابطہ کی ترمیمات کی جائیں۔


(ہ) کہ پاکستان کے تمام شہریوں خواہ وہ کسی بھی فرقے سے تعلق رکھتے ہوں، کے جان و مال، آزادی، عزت اور بنیادی حقوق کا پوری طرح تحفظ اور دفاع کیا جائے گا۔


(قومی اسمبلی میں پیش کئے جانے کے لئے)
آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مزید ترمیم کرنے کا بل
ہرگاہ یہ قرین مصلحت ہے کہ بعدازاں درج ذیل اغراض کے لئے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین میں مزید ترمیم کی جائے۔
لہذا بذریعہ ہذا حسب ذیل قانون وضع کیا جاتا ہے۔
١۔ مختلف عنوان اور آغاز نفاظ
(١) یہ ایکٹ آئین (ترمیم دوم) ایکٹ ١٩٧٣ء کہلائے گا۔
(٢) یہ فی الفور نافذالعمل ہو گا۔


٢۔ آئین کی دفعہ ١٠٦ کی شق (٣) میں لفظ فرقوں کے بعد الفاظ اور قوسین ‘اور قادیانی جماعت یا لاہوری جماعت کے اشخاص (جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں)‘ درج کئے جائیں گے۔


٣۔ آئین کی دفعہ ٢٦٠ میں ترمیم، آئین کی دفعہ ٢٦٠ میں شق (٢) کے بعد حسب ذیل نئی شق درج کی جائے گی یعنی ‘ جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے پر قطعی اور غیر مشروط طور پر ایمان نہیں رکھتا یا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی بھی مفہوم میں یا کسی بھی قسم کا نبی ہونے کا دعوٰی کرتا ہے یا جو کسی ایسے مدعی کو نبی یا نبی مصلح تسلیم کرتا ہے وہ آئین یا قانون کی اغراض کے لئے مسلمان نہیں ہے۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

معنٰی لفظ

لفظ کے معنٰی کچھ اور ہیں ۔۔۔۔
مفہوم کچھ اور ہی جانا جاتا ہے ۔۔۔۔
قصور ہمارا نہیں ۔۔۔
قصور تو لفظ کا ہوا ۔۔۔۔
جو اپنی پہچان کھو چکا ہے ۔۔۔۔
ہرگز نہیں ۔۔۔۔
لفظ کبھی اپنی پہچان نہیں کھوتا ۔۔۔۔
جب قوم ہی شناخت کھونا چاہتی ہے ۔۔۔۔
تو آغاز میں وہ لفظ کی پہچان کھو دیتی ہے ۔۔۔۔
نظریہ کھو دیتی ہے ۔۔۔۔
پھر خطہ بھی کھو دیتی ہے ۔۔۔۔
سوچیئے ۔۔۔۔
لفظ کی پہچان جانیئے ۔۔۔۔
ورنہ آپکی پہچان نہیں رہے گی ۔۔۔۔


 



فرخ نور

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

[youtube:http://www.youtube.com/watch?v=j8R4vwyQoRc]

 


خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے
کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں ، میری انتہا کیاہے
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
مقام گفتگو کیا ہے اگر میں کیمیا گر ہوں
یہی سوزِ نفس ہے اور میری کیمیا کیا ہے
نظر آئیں مجھے تقدیر کی گہرائیاں اس میں
نہ پوچھ اے ہمنشین مجھ سے وہ چشمِ سرمہ سا کیا ہے
اگر ہوتا وہ مجذوب فرنگی اس زمانے میں
تواقبال اس کو سمجھتا مقامِ کبریا کیا ہے
نوائے صبحگاہی نے جگر خوں کردیا میرا
خدایا جس خطا کی یہ سزا ہے وہ خطا کیا ہے


 


اقبال

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

میرا تعارف

مجھ سےکہا گیا کہ میں اپنا تعارف بھی کراؤں۔ سوچا کیا بیان کروں دوسروں کی ذات کا تعلق میرا تو تعارف نہ ہوا۔ اُنکی تعریف دراصل اپنےتعلق کی خوشامد ہوئی۔ جو مجھ کو گوارہ نہیں کہ لوگ مجھ کو خوشامد پرست کہیں۔ میرا تعارف میری گمنامی کی تحریریں ہیں۔ میرے نام کی پہچان میرا فکر ہے۔ فقر کی تلاش میں ہوں۔ متلاشی کا تعارف اُسکی منزل ہوتی ہے۔ میں تو ابھی منزل کی تلاش میں ہوں اور منزل کی تلاش کےلئےکسی مشعلچی کی رہنمائی ضروری ہے۔ ابھی تومنزل کی تلاش میں رہنما کی ضرورت باقی ہے۔
میرے قارئین کی رائے ہی میرا تعارف ہوگا۔ میں خود ابھی نہیں جانتا کہ میرا تعارف کیا ہے۔ یہ تعارف تو آپ نےطےکرنا ہے مجھےاُسکو بہتر سے بہتر انداز میں قائم رکھنا ہے۔ میرا نام ہی صرف میرا تعارف ہے باقی تو رواج ہے۔ ہر بات میں باتیں ہی پوشیدہ ہیں اور میرا انداز، الفاظ روائیتی نہیں ہیں۔ میرےلفظ ،لفظ میں وُہ بات پنہاں ہے۔ جو ماضی تھی، حال ہے اور مستقبل ہوگا۔
فرخ نور کے ہی معنی کےتعارف میں گھوم رہا ہوں۔ میرا ’ف‘ ہی فاعل کا آغاز ہے۔ جسکے بغیر لفظ ادھورے ہیں۔ بظاہر تو یہ ”مبارک روشنی“  کا ترجمہ ہے۔ ایک اور مفہوم بھی ہے ”اچھی خبر کا سچا راستہ ہوں میں“۔ یہ میرے نام کےمفہوم کا ایک تعارف ہے۔ لفظ فَرَّخ کےساتھ جب کوئی لفظ شامل ہو جائے تو اُس خوف کے دور ہونے کا ایک نام  بھی ہے۔ یوں روشنی سے خوف کےخاتمےکا نام بھی ہوں میں اور نور کا ترجمہ ہی یہی ہے۔ بس میں اسی کوشش میں ہوں میرا عمل بھی اچھی خبر کا سچا راستہ ہو اور میرا تعارف روشنی سےخوف کےخاتمےکا نام بھی ہو۔ مراد میرا تعارف خوش نوید کےساتھ سچ کا ساتھ ہو۔ دُعا کرتا ہوں اللہ مجھے میرے نام جیسا ہی کردار و باعمل بنا دے۔ میری تحریر میں یہی خاصا ہو۔
قارئین سے میری گزارش ہے وُہ مجھے ہمیشہ اپنی دُعاؤں میں یاد رکھیں۔اور میری فلاح و ہدایت کی دُعا کریں۔ درخواست یہ ہے کہ جب کبھی کوئی میری تحریر میں کوئی خامی محسوس کریں، کوئی اختلاف رکھتا ہو، کوئی بہتری کےلئے رہنمائی کرنا چاہتا ہو تو وُہ ضرور مجھےمطلع کریں۔ میرا مقصد آپ سب سے رہنمائی اور مدد حاصل کر کےسیکھنا ہے۔ آپ سب میرے پُرخلوص ساتھی اور دوست ہونگے جو مجھےکسی غلطی یا کوتاہی سے ہر حال بچائے رکھیں گے۔
میرا مختصر سا تعارف یہ ہےکہ میں ١٣ دسمبر١٩٨٣ء کو لاہور شہر میں پیدا ہوا۔ میرے خاندان کا تعلق کتاب کی تخلیق سےکتاب کی تجارت تک کا ہے۔ میں کوئی ادبی شخصیت نہیں ہوں، چند ادبی شخصیات کو معمولی سا جانتا ضرور ہوں مگر ادب کا کبھی بھی طالب علم نہیں رہا۔ اِس بات کا برملا اظہار میرے اکثر اِشعار کی غلطیوں سے ہو جایا کرےگا۔ جو میرے رفقاء دُرست کر دیا کریں گے۔ میں ابھی لرننگ پراسیس کا حصہ ہوں۔ کبھی کوئی غلطی رونما ہو جائے تو مہربانی کر کےمعاف بھی کر دیجئیےگا اور رہنمائی بھی فرمائیےگا۔ میں آپکا بہت مشکور ہو گا۔
(فرخ نور)

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

مصنوعی لبادے

کرتے ہیں زیبائش کبھی نمائش اور کبھی ستائش کے لئے ہم
اکثر آرزؤں کی یہ گرمائش بن جاتی ہے ہمارے لئے آزمائش نہ کہ آسائش
یہی ہے ہماری زندگی کی مصنوعی رہائش جہاں ہو پاتی نہیں ہماری افزائش
ہماری ہر فرمائش کسی نہ کسی آرزو کی اِک آرائش
کرتے ہیں جنکے لیئے بےشمار پیمائش، آخر پیدا کر لیتے ہیں اُنکے لیئے اِک گنجائش
آلائش کیلیئے پھر بھی ہمیں درپیش ہے ہر حال اِک فہمائش

مصنوعی پن کی بات معمولی سی نہیں ہے اور نہ ہی مختصر۔ زندگی کے بہت سے پہلو مصنوعیت سے بھرپور ہوتے چلےجا رہے ہیں۔ ہماری آزادیاں، تربیت، رہنما، عقائد، احترام، اصول، رشتے، قدریں، نام پہچان، گھر، معاملات نہ جانے کیا کیا مصنوعیت کی وجہ سے اپنی اصل بنیادیں کھو رہے ہیں۔
مہمان کی بات صرف یہاں تک نہیں کہ اُسکو ایک اچھے برتن میں پانی پیش کیا جائے۔ مہمان کےمعنٰی رحمت ہے۔ تو پھر رحمت کو رحمت ہی سمجھنا چاہیے۔ جب ہمارے ہاں کوئی مہمان آتا تھا تو ہماری روایات تھیں کہ اسکو اپنے سے بہترکھانا مہیا کیا جاتا تھا۔ شاندار بسترا اور اپنا بہترین لباس پیش کیا جاتا۔ مہمان نوازی یہ نہیں کہ کسی کو Servent Quater میں رہنے دیا جائےاور کسی کو شاندار کمرہ میں رہائش دی جائے۔ جب کوئی مہمان ہے تو پھر اُسکے تمام درجات ایک مہمان والے ہی ہوتے ہیں۔ مہمان دراصل خاص ہوتا ہے۔ ایک مہمان ایسا بھی ہوتا ہے۔ جو خاص الخاص ہوتا ہے۔ اُس خاص مہمان کی آمد کے باعث دیگر مہمان تشریف لاتے ہیں۔ تو وہ خاص مہمان پہلے مہمان اور پھر میزبان  بھی ہے۔ یہاں درجہ کا احترام ضروری ہے۔ یہ ایک اور بات ہے مگرخاص مہمان، میزبان کے نزدیک تمام مہمان مرتبہ کےاعتبار سےمہمان ہی ہے اور ہر ایک اپنی جگہ خاص۔
ولی اللہ، مرشد کی تعلیم ہمیں قدرتی پن سے آشنا کرواتی ہے۔ مگر آج مریدین تعلیم پرعمل پیرا ہونے پر کم توجہ دیتے ہیں اور زیادہ توجہ اُنکے نام کو promote کرکے خود القابات حاصل کرنے پر رکھتے ہیں، توجہ خانقاہی اور راہبانیت کی رکھتےہیں، یہ مصنوعی پن ہے کہ دُنیا سےکٹ جائے۔ اصل بات تو یہ ہے کہ اُنکی تعلیمات کا خود عملی نمونہ بنے۔
ہمارے رشتے بھی مصنوعی ہوکر رہ گئے ہیں۔ بچے تایا، تائی، چچا، چچی، ماموں، ممانی، خالہ، خالو، پھوپھو، پھوپھا، دادا، دادی، نانا، نانی جیسےقریبی اور قابل احترام رشتوں کی شناخت نہیں جانتے تو اُن کا احترام اور مقام کیا جان پائیں گے۔ وُہ کیا جان پائیں گے کہ بہنوئی کا کیا مقام ہے، اُس سے بات کرنے کا کیاسلیقہ ہے۔ احترام مصنوعی پن نہیں بلکہ رشتے، ذات اور تعلق کے مقام کا درست تعین کرتا ہے۔ اہمیت اور قدر کا احساس دلاتا ہے۔ بچوں کو اِس بات (رشتوں) کا علم نہ ہونا۔ والدین کی نااہلی ہے جواز یہ نہیں کہ اُنکے ہاں اِنکا وجود نہیں یا تعلقات کی نوعیت کے باعث ایسا ہوا۔ بلکہ یہ تربیت کا لازمی جزو ہے۔ اگر اختلاف والدین کا ہے تو بچوں کو یہ تربیت دلائی جائے کہ وُہ رشتوں کی پہچان سیکھے۔ باپ کے چچا کا احترام دادا کی حیثیت سے ہی کرے۔ عید کارڈ آپس میں بانٹنا ایک اچھا ذریعہ تھا۔ جس سےرشتوں کی پہچان تو کم از کم چھوٹے بچوں کو ہو جایا کرتی تھی۔
آج ہم عالیشان گھر بناتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہماری مرضی کےخلاف کوئی مہمان کی حیثیت سےگھر نہ آئے۔ گھروں کو ہم ایک چھوٹی سی دُنیا نہیں دیکھنا چاہتےجہاں خوشی اور غم ہوں۔ ہم سکون کےمعنٰی صرف اور صرف سناٹا کے ہی لیتے ہیں۔ گھر کا سکون ہے کیا؟ گھر یہ نہیں کہ ایک مکان جہاں میاں، بیوی اور بچےرہائش پذیر ہوں۔ وُہ تنہائیاں ہیں۔ جہاں خاندان آباد ہو جہاں غم اپنوں میں گم ہو جائےاور خوشیاں آپس میں بانٹ کر مزید بڑھ جائے۔ اپنی ذات کےوجود کے لئےنہیں جیئے، بلکہ دوسروں کے لئے جیئے۔ یہ ہماری بنیادی کوتاہی ہے ایک قوم کےطور پر بھی۔ تبھی آج ہم دنیا میں تنہا ہوتے چلےجا رہے ہیں۔ ہم یہ تنہائیاں چاہتے کیوں ہیں یہ بھی ایک سوا ل ہے ”دراصل ہم اپنی چوری ،کرپشن کو دنیا سےچھپانا چاہتے ہیں جو ہم اپنوں کی پیٹھ میں چُھرا گھونپ کر حاصل کرتےہیں۔ دُنیا کےسامنے ہم پاکباز اپنے آپکو پیش کرتےہیں جبکہ خود کو اندر ہی اندر سےدوسروں کا مجرم مجھتےہیں“۔
ہم مسلسل تعلیمی نظام و نصاب کو ہدف ِتنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ ٹھنڈے دودھ کو پھونکےمارتے ہوئےدراصل حقیقت سےنظر چراتے ہیں۔ مصنوعی پن جاہل طبقہ کی پیداوار ہے۔ ایک غربت سے امارت حاصل کرنےوالا طبقہ اور دوسرا تعلیم یافتہ مگر بددماغ طبقہ اِن دونوں زرفشانی طبقوں میں ایک منفی قدر مشترک ہے بیجا غرور اور اَنا کی۔ جسکا مقصد دوسروں پر اپنا ایک تاثر قائم کر چھوڑنا۔ یہی تعلیم یافتہ طبقہ پڑھا لکھا اَن پڑھ جسکی توجہ صرف اور صرف اپنی نمائش تک ہی۔دُرفشانی نہیں۔
ہر قوم کےکچھ نظریات و عقائد ہوتے ہیں۔ اِسی طرح ہمارا بھی ایک بہت ہی جاندار دو قومی نظریہ ہے۔ جس کو آج بھرپور بےمنطق اور جاہلانہ مباحثہ سےمتنازعہ کر کے ایک بے بنیاد نظریہ پیدا کرنےکی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ تو حد ہو چکی ہے مصنوعی لبادے اُوڑھنے کی کہ پہلے وطن عزیز کےنظریہ کا لباس اُتار دیا جائےاور پھر کونسا لبادہ اُوڑھا جائے، اُسکی تلاش کی جائے۔
غریب شخص ہر طرح کی زیادتی برداشت کرتا ہے۔ مگر پھر بھی وہ اللہ پر بھروسہ کرتا ہے۔ صرف ایک کلمہ طیبّہ کےسہارے۔ مگر ظالموں نےوہاں بھی نہیں بخشا۔ تلفظ کی بحثوں میں پڑھ چکے ہیں۔ تلفظ کی درستگی ضرور ہونی چاہیئے۔ مگر اہل ایمان کو ایمان کےحوالے سےمایوس نہیں کرنا چاہیے۔ مگر آج ہم ایک دوسرے کو اُمید دِلانےکی بجائےصرف اور صرف مایوس کرنےکی درس و تدریس پر عمل پیرا ہیں۔
اُستاد قوم کا معمار ہوتا ہے۔ مگر چند اُساتذہ آج کےاُستاد کےمقام کو بھول چکےہیں۔ بس آج وہ بچوں میں مقبول رول ماڈل نہیں بننا چاہتے، بلکہ رنگ باز بن کر اپنے آپکو مقبول ثابت کر رہے ہیں۔ وُہ اُستاد کے افضل مقام کو بھول رہے ہیں۔ ساتھ ہی چند شاگرد اُستاد کی عزت کو بھی بھول رہے ہیں۔ تعلیم دینے والےکی بات کو توجہ سےسننا بھی ایک عبادت ہے۔ اللہ فیض احترام والےکوعطاء کرتا ہے۔
آج ہم جس آزادی کی بات کر رہے ہیں۔ دراصل وہ آزادی نہیں ایک اَندھا کنواں ہے۔ ہم کرپشن کی آزادی چاہتےہیں جبکہ آزادی کرپشن کی روک تھام ہے۔ بچےکی آزادی تربیت ہے، بےراہ روی نہیں۔
ہمارے سیات دانوں کےنعرے بھی مصنوعی ہیں۔ عوامی فلاح و بہبود کےاقدام کی بڑی بات کرتے ہیں۔ درحقیقت عوام کی خدمت کے نام پر اپنی جیبیں بھرتے ہیں۔ اپنی ہی عوام پر روز بروز ٹیکسوں کے بوجھ ڈالتے جاتے ہیں اور خود آرائشوں میں رہتے ہیں۔ اس کو انسانی خدمت کے جذبے سے سرشاری کہتے ہیں؟ ایک ضرب المثل ہے۔ ”شلیتےمیں میخ نہ رکھیئے، لشکر میں شیخ نہ رکھیئے“ مراد تھالی میں میخ سوراخ کردیتی ہے جبکہ دوران جنگ شیخ بزدلی دکھا دیتا ہے۔ بس یہی کہاوت ہمارے سیاست دان کی ہے۔ اُنکی تھالیوں میں بھی مصنوعی نعرے ہی ہیں جو بس اُنکی ذات میں خول کرتے ہی چلے جاتے ہیں اور لشکر میں لوٹے ہی لوٹے چلے آتے ہیں۔
والدین کو آج کل اپنے بچوں کی جسمانی صحت کی فکر لاحق رہتی ہے۔ کئی بیماریوں کا وجود پذیر ہونا کیوں ہے؟ مصنوعی خوراک، مصنوعی آب و ہوا، پولٹری فارم کی وُہ مرغی جسکی طبعی عمر کی حد ہی صرف تین ماہ سےزائد نہیں، ہماری خوراک بنتی ہیں۔ سبزیاں کیمیکل کا نتیجہ ہی۔ پیداوار کی زیادتی بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ مگر آج کی بھینس کا خالص دودھ بھی خالص نہیں لگتا۔ کیونکہ اُسکی خوراک جو مصنوعی ہو کہ رہ گئی ہے تو ملاوٹ والےدودھ کا کیا بنےگا؟ چند ڈبہ کےدودھ میں یوریا، بال الصّفا جیسی مضر اشیاءکا استعمال ہمارا کیا بنائےگا؟
ہمارے مزاج اور تعلقات بھی مصنوعی ہیں۔ کسی کے ہاں چلےجانا تو بس وہی مصنوعی باتیں ہی موضوعِ گفتگو رہ جاتی ہیں۔ مصنوعی انداز، ناز و نخرہ، برتنوں کی سجاوٹ۔ جبکہ تعلق دِل کی کشش سے ہوتا ہے۔ مگر دوسری جانب ملاقاتی بھی اکثر مصنوعی ہوتا ہے۔
ہم گھر میں پودے اپنی ذات کے لیئے نہیں رکھتے دوسروں کو دِکھانےکے لئے رکھتے ہیں۔ ہم پودے سےمحبت نہیں کرتی۔ بس ایک ضرورت سمجھ لیتےہیں، status کی۔ پودا بھی ایک جاندار ہے اور اسکی خدمت بھی کرنی چاہیے، دیکھ  بھال بھی کرنی چاہیے، جیسے ہم گھر میں پالتو جانور پا لتے ہیں۔ اسی طرح خریدنےوالے پودے کی پرورش کرنا بھی ہمارا ذمہ ہے۔
مصنوعی تصویر بنوا لینا بھی ایک خود فریبی ہے۔ تصاویر کاٹ کاٹ کر ایک بنا لینا ایک خود فریبی۔ بڑی شخصیت کےساتھ تعلق کی بے بنیاد بانگ لگا لینے کی جھاگ اندر ہی اندر سے بیٹھ جاتی ہے۔ یہ بات اسی طرح ہےکہ اپنا حسب نسب نوابوں، بادشاہوں سےمنسلک کرنا اور حقیقتاً ایسا نہ ہونا راصل اپنی اصل بنیاد پر ندامت کرنا۔ دانشمندی ہے کیا؟ دراصل یہ ایک احساس کمتری کا خوف ہوتا ہے۔یہ مصنوعی لبادے آخر کیوں ہم اپناتے ہیں یہ تو حقیقت سےنظر چُرانےوالی بات ہوئی۔


 


خبر نہیں کیا نام ہے اِس کا، خدا فریبی کہ خود فریبی

عمل سےفارغ ہوا مسلماں بنائے تقدیر کا بہانہ (١)



رشتے بھی مصنوعی انداز میں کرنےلگ گئے ہیں۔ جب رشتہ کےسلسلہ میں ہم بچی پہ نگاہ ڈالتے ہیں تو اعتراض کر بیٹھتے ہیں، دوپٹہ کیوں لیا، دوپٹہ کیوں نہیں لیا؟ ہم اُس میں عیب نکالتے ہیں؟ بھول جاتے ہیں کہ کل اللہ ہمیں اس کیفیت سےگزارے تو کیا ہوگا؟ دوسری جانب وہ بچی نفسیاتی مسائل کا شکار ہو کر اُلجھ سی جاتی ہے کہ وُہ دوپٹہ لےکر جائے یا دوپٹہ کے بغیر مزید میزیں سجا سجا کر تھک جاتے ہیں اور لوگوں کی باتیں سن سن کراُکتا جاتےہیں ۔ آخرخامی کہاں ہی؟ دونوں جوانب۔ رشتہ لینے والوں کو رشتہ کی قدر کا پتہ نہیں۔ بچی والوں کو فیصلہ کا علم نہیں۔ جو جس حال میں ہی۔ وُہ اُس حال میں ہی رہے۔ مصنوعی انداز نہ اپنائے جس کو منظور ہے اُسکو قبول بھی ہو ورنہ بعد میں مسائل ہی ہیں۔ اِنکے پیچھےاصل معیار ہمارا دولت کاہے، جو ناقص پیمانہ ہے۔
محبت کو ضد کی صورت میں حاصل کرلینا بھی ایک مصنوعی بات ہے۔ محبت دوسروں کی خوشی کی خاطر جینا اور مرتبہ و مقام کےاعتبار سےاحترام کرنا۔
ہم آپس میں تعلق بہن، بھائی کر رکھتے ہیں۔ مگر کوئی ہمیں بھائی یا sister کہہ یا لکھ دے تو ہم سر پٹا جاتے ہیں اور دل میں کہتے ہیں کہ ایسا کیوں کہا اُس نے۔ دراصل ہماری نگاہیں اور نیتیں مصنوعی پردوں کے باعث خراب ہو جاتی ہیں۔ مگر بےشمار افراد ایسے بھی ہیں جو اِس پر خوشی کا اظہار بھی کرتے ہیں۔
آج کے نئے بیشتر نامور نام، نامور ہو ہی نہیں سکتے۔ وُہ ناموریت ایسے ہی ہیں جیسے shooting کے دوران کیمرہ کےسامنے اپنا چہرہ کر لینا۔ تبھی آج کئی قابل لوگ خاموشی اختیار کرکےگمنامی کی منزلیں طےکر رہے ہیں۔
آج تو نوجوان اور دوشیزہ کا اظہار محبت بھی مصنوعی ہوگیا ہے۔ اُنکی توجہ ذات سےنہیں بلکہ ذات سےمنسلک دیگر کئی پہلوئوں پر ہیں۔
ہمارے لباس کا فیشن کیا آج ہماری ثقافت، مذہب اور موسمی حالات سےمطابقت کرتا ہے۔ ہمارا مصنوعی پن یہ ہے کہ ہم دوسروں کے پیچھےچلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہی حال ہمارے طرز تعمیر کا ہے۔
زندگی کے دِنوں کا قدرت کے دِنوں کےمقابلے پر تعین کر دیا ہے۔
شادی کےموقع پر خواتین اپنے چہروں کو سفید نقاب میں اُوڑھ دیتی ہیں۔ حسن سفید رنگت میں نہیں۔ خوبصورت نقش و نگار میں ہے۔ اگر محفل میں گہرے رنگ والا زیادہ نمایاں ہو تو شفاف رنگت کہاں گئی۔ خوبصورتی چہرہ کی کشش سے ہوتی ہے رنگت سے نہیں۔
ہم دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔ اِس خیال سےکہ کل وُہ ہمارے کام آئےگا۔ مگر یہ بھول جاتے ہیں ”نیکی کر دریا میں ڈال“ ہماری نیکی بھی دکھاوا ہے۔ دراصل مقصد اپنی تعریف کروانا ہے۔
دوستی جیسےخوبصورت رشتہ کو ہم نےمفاد کی نظر میں اُوجھل کر دیا ہے۔ جبکہ دوستی ایک ایسا تعلق ہے جو ہماری شخصیت کو متوازن بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
مصنوعی پن اور قدرتی پن کا فرق یوں ہی بیان ہوسکتا ہے:
شمالی علاقہ جات کےکسی پہاڑ کو دیکھیئے، کیمرہ کی آنکھ کا focus اور انسانی آنکھ کا دیکھنا ایک واضح فرق ہے۔ کیمرہ کی بات ادھوری اور نگاہ کی بات مکمل صورت ہوتی ہے۔ کیمرہ تصویر کو ہی لیتا ہے، ماحول کو نہیں جبکہ ماحول کی کیفیات محسوس کی جاتی ہیں۔ close کر لینا ناممکن ہے۔ یہی تو تاثیر کی بات ہے۔ آنکھ کی وسعت نظری بہترین اور زیادہ ہے۔ کیمرہ سےصرف وقت کو محفوظ کرلینا مصنوعیت ہیں۔ آنکھ سےدیکھنا، محسوس کرنا قدرتیت ہے۔آنکھ سے ہم پہاڑ کی باریکیوں کو بخوبی دیکھ سکتے ہیں۔ مگر کیمرہ سےایک تو پورا منظر فوکس نہیں کرسکتےاور نہ ہی ہر feature کو اُس میں سمو سکتے ہیں۔
افسوس ہا افسوس! آج ہم اتنا مصنوعی پن اختیار کر چکے ہیں کہ قابل بیان نہیں۔ زندگی کا ہر پہلو اِس سےمنفی سمت میں متاثر ہوا ہے۔ ان تمام الجھنوں کا حل عملی طریقہ کار ہے۔
اتنی گفتگو سے یہ ہرگز مراد نہیں کہ دُنیا یا ہمارے ہاں قدرتی پن کی قلت یا ناپیدگی ہے۔ دراصل ہمارے قدرتی عمل کو حوصلہ شکن کیا گیا جبکہ مصنوعی معاملات کو حوصلہ افزائی بخشی گئی۔ اکتوبر ٢٠٠٥ء کا زلزلہ، ستمبر١٩٦٥ء کی جنگ، اگست ١٩٤٧ء (٢) یہ تمام عوام کےقدرتی جذبات کے واضح عکاس ہیں۔ اکتوبر ٢٠٠٥ء میں جسطرح ہم نےاِنسانی جذبہء کا مظاہرہ کیا ۔ وُہ ہمیں مستقبل کی ایک مہذب، قابل اور احساس کرنےوالی قوم کا potential talent بتاتی ہے۔ بس ہمیں ایک مناسب تربیت کی ضرورت ہے۔ جو ہمیں دُنیا کی سب سےبہترین مہذب قوم بنا سکتی ہے۔ واقعہ زلزلہ اِس تربیت کا ایک مناسب موقع تھا۔ مگر سرکار نےعوام کےجذبات کو مجروح کر کے دبا ہی دیا۔ خدمت، انسانیت کی بھلائی، محبت، رواداری، احساس، مسلمان بھائی جیسےالفاظ کی تاثیر کو حاصل کرنے ہی نہ دیا۔ Practically یہ تعلیم کا موقع تھا جو صرف سیاسی جماعتوں اور سرکار کی projectionمیں ماند پڑگیا۔ یہ کیوں ضروری تھا کہ جب تک سرکاری سیاسی قائدین، کیمرہ میں موجود نہ ہوں تب تک متاثرین میں سیاسی جماعتوں کی امداد بانٹی نہ جائے۔ اتنے کڑے وقت میں بھی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد برقرار رکھی گئی۔ یہاں ہر وُہ شخص قابل تعریف اور سلام کا مستحق ہے۔ جس نے اپنے محدود ترین وسائل میں بھی انسانیت کے جذبے سے سرشار ہو کر بےلوث مدد کی۔ دُنیا کو دکھانے کے لئے آٹے کے تھیلے تقسیم نہ کئے بلکہ دل میں اللہ کا خوف تھا۔
جدید فلسفہ کیا ہے؟ برٹرینڈرڈ رسل کا اصل focus کیا تھا؟ الفاظ کی تاثیر کو حاصل کرنا۔ آج کا فلسفہ حقیقت کی تلاش ہے، یونانی فلسفہ تخیلات پر مشتمل تھا، اِسلامی فلسفہ روحانیت کےوجود سےلبریز ہے۔ اِسی بنا پر اِسلامی فلسفہ کی بنیادوں کو رد نہیں کیا جاسکا۔ یہ ایک کُھلا تضاد ہے کہ حقیقت کی تلاش بھی ہے اور جھوٹ کوبنیاد بناتے چلےجا رہے ہیں۔ مصنوعی ہونا  بھی تو ایک جھوٹ ہے سچ قانون قدرت ہے۔
اسلام قانون قدرت کےمطابق ہے۔ اس کا احاطہ بڑا وسیع ہے۔ مگر آج ہمیں سب کچھ کمیونزم، مارکسزم، سوشلزم اور کمرشلزم میں نظر آتا ہی۔یہ مصنوعی نظام کبھی بھی ہماری زندگی کےمسائل کا، دُنیا کےمستقبل کا اَحاطہ نہیں کر پائےگا۔ اِنکی کامیابی کی مدتیں دہائیاں تو ہو سکتی ہے مگر صدی نہیں۔
یہ بات اسی طرح ہےکہ ١٠ سے ١٥ برس قبل ڈاکٹرز ماں کےدودھ سے بچاؤ کا عمل اختیار کیے ہوئےتھے۔ ٹیلی ویژن پر ماں کےدودھ کےنقائص بیان کرنے پر مباحثہ جاری کیئےگئے۔ جب وُہ نسل جوان ہو گئی تو آج ایک نئی بات کا آغاز ہوگیا ماں کےدودھ سے بہترین غذا کوئی نہیں۔ ڈبہ کےدودھ کو بند کیا جائے۔ اب یہاں تو سائنس بھی ناکام ہوئی۔ قصوروار کون؟ اسلام نےتو ماں کےدودھ کی تعلیم دی۔ مگر ہم نےایک نسل پر ناکام تجربہ کیا ذمہ دار کون؟ وُہ افراد جو موجودہ صدی کو سائنس کی صدی کہا کرتے تھے یا کمپنیز کی مارکیٹینگ کرنےوالے۔
مصنف بھی مصنوعی ہوتے چلے جارہے ہیں۔ جس کو بات کی سمجھ نہیں وُہ بھی کتاب تحریر کر دیتا ہے۔ کسی کی تحریر کو اپنےنام سےمصنوعی کر رہے ہیں۔ آخر یہ سب کرنےکا مقصد کیا ہے۔ علم کی تشہیر ہو تو ایک بات اگر علم کو موضوع بنا کر اپنی ذات کو projection دینا اصل مقصد بنا لےتو یہ اپنی ذات کی خوشامد پرستی کرنا ہے۔
آج کےنعت پڑھنے والےاور قوال کلام کو ایک عقیدت سے پڑھتے ہیں۔ مگر مختصر سے چند افراد اِسکو بھی کمرشل کر رہے ہیں۔ مگر دُکھ کی بات تو یہ ہےکہ چند سامعین بھی اِس معاملہ میں کمرشل ہو گئے ہیں۔ یہ بات ایسے ہی ہے جیسےکسی شاعر کو سمجھے بغیر واہ واہ کہہ دینا۔ چاہے وُہ بات حقیقتًا بڑی ہی اعلیٰ ہو۔ یہ بات اسی طرح ہے کسی کےصوفیانہ کلام کو سُن کر وجد طاری ہو جانا ایک حقیقت ہے مگر کچھ ناعاقبت اندیش لوگ وجد کی کیفیت کو ظاہر کرتے ہیں حقیقت میں طاری نہیں ہوتی۔ دھمال ڈالتے ہیں مگر جب دھمال پر کوئی توجہ نہیں دیتا تو کچھ دیر کےبعد فوراً ہی رُک جاتے ہیں۔ حقیقی دھمال کچھ اور ہی ہوتی ہے۔
دیدار کےدعوٰے ہم بڑے کرتے ہیں مگر اُسکی اہمیت سےواقف نہیں دیدار والا دیدار کی تشہیر نہیں کرتا، نمائش نہیں کرتا۔ اُسکی بات اور کلام میں ایک وصف کی بات ہوتی ہے۔ جو اوروں میں نہیں ہوتی۔ عالم کبھی بھی اپنا علم نہیں جھاڑتا۔ تازہ دم علم سیکھنےوالا ہی علم کو دوسروں پر تھونپتا ہے، جھاڑتا ہےاور لوگوں کو ڈراتا ہے۔ سمجھ دار کی بات ہمیشہ مثبت اور حوصلہ افزاء ہوتی ہے۔ منفی اور حوصلہ شکن نہیں۔ مصنوعی لوگ مایوسی کے اندھیروں میں ڈال دیتےہیں۔
نائیک بھی ایک مصنوعی لبادہ ہے میری یہ بات یقینا قابل اعتراض تصور ہو گی۔ مگر یہ مصنوعی پن وہی ہے۔ جو فلم ”خدا کے لئے“ تصور کیا جارہا ہے۔ عام افراد کے لئے اِسلام کا نچوڑ ہے۔ درحقیقت اسلامی نظریات کا کچومر کیا گیا ہے۔
شاتم رسول کے لئے عظیم الشّان ریلیاں اور تقریریں کیں جاتی ہیں۔ گستاخ رسول کے واصل جہنم کی بات کی جاتی ہے۔ مگر عملی قدم وہی اُٹھاتا ہے۔ جو عشق رسول سےلبریز ہو۔
مجھ سے یہ موضوع اختتام کی حد کو نہیں چھو رہا تھا۔ کیونکہ میں نےجہاں نگاہ دوڑائی، مجھ کو مصنوعی عمل ہی نظر آیا۔ شائد یہ کلامی گفتگو زیادہ مناسب ہو، موضوعات بےشمار اور احاطہ مشکل۔ بس ہمیں nature کو adopt کرنا ہے یہ کس طرح کرنا ہے یہ ایک سوال ہے۔
زندگی کی تیز رفتاری نے ہماری زندگیوں کو برباد کر دیا ہے۔ ذہنی الجھنوں، گھریلو مسائل، مزاجاً چڑچڑا، ضدی، غصیلا سا بنا دیا ہے۔ محبت کی بجائےنفرتیں پھیلنےلگی ہیں۔ ہم زندگی کی دوڑ میں اپنوں کو کھوتےجا رہے ہیں۔ دوسروں کی خاطر ہم کیوں جینا نہیں چاہتے۔ ہم خود غرض نہیں ہیں۔ حالات نے ہمیں مجبور کیا کہ ہم بےحس جائیں۔ ہم کسی غریب کی مدد کرنا چاہتے ہیں مگر چند ایسے بھی ہیں جو مدد کو مہینہ سمجھ لیتے ہیں۔ ہم زخمی کو ہسپتال لیجانا چاہتے ہیں۔ مگر خود تھانوں کےچکروں سےڈرتے ہیں۔ ہماری جینز میں قدرتی پن موجود ہے۔ ایک بچہ گاڑی کا شیشہ صاف کرتا ہے۔ اُس معصوم بچےکو چند سکّے ادا کر کے ہم بہت کچھ بانٹ دیتے ہیں۔ معاشرے میں حقیقی محبت، حلال رزق کی حوصلہ افزائی، محنتی اور جفاکش کےعزم کو بلند کرتے ہیں۔ غیرت مند بناتے ہیں۔ اور خود%D

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

گوگل فون

گوگل تھری جی وڈیو کانفرنسنگ فون جو اگلے سال (٢٠٠٨) میں انہیں مارکیٹ میں سیل کے لئے پیش کرے گا۔


چند تصویریں


 




 


مزید تفصیل یہاں ہے۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

پاک فوج کے لئے


اے وطن کے نشیلے جوانو!
سارے رقبے تمھارے لئے ہیں

کوٹھیوں کے طلبگار ہو تم
پینشنوں کے پرستار ہو تم

اے کمیشن کی زندہ مثالو!
سارے عہدے تمھارے لئے ہیں

اڑ کے پہنچو گے تم جس جگہ پر
ساتھ جائے گی دولت یہ ساری

باب خیبر سے باب کراچی
ساری ہاؤسنگ سکیمیں تمھاری

تم ہو مالک گوادر سٹی کے
سندھ کی ساری زمینیں تمھاری

سی ڈی اے کے سبھی سیکٹروں پہ
سارے قبضے تمھارے لئے ہیں



 


 


یہ کس کا ‘‘کلللام‘‘ ہے اس بارے میں کچھ نہ پوچھیئے گا کیونکہ اس بارے میں خود لا علم ہوں، بس گھومتے گھماتے یہ میری میل بکس میں آ پہنچا اور میں نے اسے یہاں تک پہنچا دیا۔


مکمل تحریر اور تبصرے >>>

بلاگر حلقہ احباب