سید بادشاہ!

میرے سید بادشاہ!
تمہارا تخت اور اختیار پانچ برس تک سلامت رہے۔ میں تمہارے یا تمہارے ساتھیوں کی طرح پڑھا لکھا اور سوجھ بوجھ والا تو نہیں ہوں لیکن میں نے سنا ہے کہ تم نے سولہ کروڑ میں سے ہم جیسے پندرہ کروڑ کے لئے سو دن میں بہت سے بڑے اور اچھے کام کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ خدا تمہیں اپنے ارادوں میں کامیاب کرے۔
سید بادشاہ! مجھ جیسے کروڑوں لوگوں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وزیرِاعظم ہاؤس کے اخراجات میں چالیس فیصد کمی ہوتی ہے یا نہیں ہوتی۔ سرکاری عمارتوں پر چراغاں کم ہوتا ہے یا زیادہ۔ وزیر اور جرنیل لینڈ کروزر میں سفر کرتے ہیں یا سولہ سو سی سی کی گاڑیوں میں۔ایئرپورٹوں پر ارکانِ پارلیمان کے خصوصی کاؤنٹر رہتے ہیں یا نہیں رہتے۔وزیر فرسٹ کلاس میں سفر کرتے ہیں یا اکانومی میں۔ نیب یا پیمرا خودمختار رہتے ہیں یا کسی کے تابع۔ مذہبی مدارس کا نصاب بدلتا ہے یا نہیں بدلتا۔ روزگار کا کمیشن بنتا ہے یا نہیں بنتا۔
سید بادشاہ! تمہاری بڑی مہربانی کہ تم نے کم سے کم اجرت چھ ہزار روپے ماہانہ کرنے کا وعدہ کیا ہے لیکن اگر تم واقعی میرے جیسے کروڑوں لوگوں کے لئے کچھ کرنا چاہتے ہو تو بس اتنا کرو کہ کاغذ پنسل لے کر بیٹھ جاؤ اور چھ ہزار روپے ماہانہ میں چار افراد کے گھر کا بجٹ بنا دو تاکہ مجھے یہ بات سمجھ میں آ جائے کہ اتنے پیسوں میں گھر کا کرایہ کیسے نکلتا ہے۔ دو وقت کے لئے آٹا کیسے خریدا جاتا ہے۔دو بچوں کی فیس اور بیوی کی دوا دارو کہاں سے ملتی ہے۔ایک ایک جوڑا کپڑا کیسے دستیاب ہوتا ہے۔ مہینے بھر کا مٹی کا تیل اور بجلی کا بل اور ویگن کا آنے جانے کا روزانہ کرایہ کس طرح پورا پڑتا ہے۔
سید بادشاہ! میں نے چار برس تک پیسے جوڑ جاڑ کر ایک ماہ پہلے ایک پرانا ٹی وی خریدا ہے تاکہ میرے بچوں اور بیوی کی شام اچھی گذر جائے لیکن جلد ہی مجھے احساس ہوگیا کہ میں نے ٹی وی نہیں بلکہ عذاب مول لے لیا ہے۔ بچوں نے سوالات پوچھ پوچھ کر ناک میں دم کردیا ہے۔
ابا! تم بینک سے موٹر سائیکل خریدنے کے پیسے کیوں نہیں لے لیتے۔ ابا! یہ بینک تو گھر بنانے کے لئے بھی پیسے بانٹ رہے ہیں۔ تم کیوں انکے پاس نہیں جاتے۔ ابا! تعلیم اور صحت کی انشورنس کتنی سستی مل رہی ہے۔ ہم انشورنس کیوں نہیں خرید سکتے۔ ابا! موبائل فون رکھنا کتنا آسان ہے۔ ہمارے پاس کیوں نہیں ہے۔
سید بادشاہ! تمہیں تو معلوم ہے کہ زندگی کو جنت بنانے والے ان اشتہاروں سے سولہ میں سے پندرہ کروڑ لوگوں کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ہماری تو اتنی بھی اوقات نہیں کہ بینک کا چوکیدار ہمیں اندر ہی جانے دے۔ کیا تم ہمیں ہمارا ہی ننگا پن یاد دلانے والے ان اشتہاروں کو بند نہیں کرواسکتے؟
سید بادشاہ! کل شام میری بیٹی مجھے بتا رہی تھی کہ تمہاری تقریر کے بعد تمہاری ایک ساتھی شیری رحمان ایک انٹرویو میں کہہ رہی تھی کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہر غریب کی ٹیبل پر کم ازکم دو وقت کی روٹی ہو۔ میں سوچنے لگا کہ پاکستان کے کتنےگھرانوں میں ٹیبل ہوگی اور پھر خود ہی ہنس پڑا۔
سید بادشاہ!
میں نے سنا ہے کہ تم نے اپنے سو دن والے پروگرام میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے بھی کچھ کہا ہے۔
سید بادشاہ! جس دن تم ہمیں چھ ہزار روپے ماہانہ میں گزارے کا بجٹ بنانا سکھا دوگے۔ پاکستان میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کا درخت بھی سوکھنا شروع کردے گا۔
سید بادشاہ! تمہیں خدا نے موقع دیا ہے کہ اس وطن میں سیدوں کی شان پھر سے بحال کرو۔ ورنہ تو ہم نو سال سے ایک سید صدر کو دیکھ ہی رہے ہیں۔


بشکریہ -

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

لوڈشیڈنگ کی وجہ

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

موجودہ حکومت اور امریکی کردار

صدر، پارلیمنٹ اور فوج ۔ کردار کیا ہو گا کے بعد پاکستان امریکہ کے بڑھتے ہوئے کردار کے بارے میں لکھنا لازمی ہو گیا ہے، اس وقت پاکستان میں ہر گلی کوچے اور کھوکھے پہ یہی باعث جاری ہے کہ نئی حکومت کے ساتھ امریکی رویہ کیسا ہو گا، اصل میں دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن کے کردار امریکی اہمیت اور حمایت انتہائی اہم ہے۔ امریکہ کی یہی خواہش ہے کہ صدر مشرف کو برقرار رکھا جائے اور پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ یوں ہی جاری و ساری رہے۔ اسی لئے الیکشن نتائج کے فوراََ بعد امریکہ کی شدید خواہش تھی کہ پیپلز پارٹی مسلم لیگ ق کے ساتھ مل کر حکومت بنائے مگر آصف علی زرداری نہ مانے اور انہوں میاں نواز شریف کے ساتھ مل کر اعلان مری کیا جس سے سب کے منہ بند تو ہو گئے لیکن سوال یہ ہے کہ اب آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف مل کر امریکی کردار کے حوالے سے کن باتوں پر کیا فیصلہ کریں گے اور پھر ان کے نتائج کیا نکلیں گے۔ ابھی یہ بھی دیکھنا ہے کہ امریکہ صدر مشرف سے اپنے تعلق پر نظر ثانی کرتا ہے یا نہیں اور موجودہ حکومت سے کوئی اتحاد قائم کر سکے گا یا نہیں ان سب باتوں کا جواب کچھ ہی دنوں میں سامنے آ جائے گا جب امریکہ کے نائب وزیر خارجہ جان نیگروپونٹے اور اسسٹنٹ سیکریٹری آف سٹیٹ رچرڈ باوچر کی پاکستان کے غیر اعلانیہ دورے سے واپسی ہو گی۔ واضح رہے کہ یہ دونوں صاحب اس وقت پاکستان کے دورے پر ہیں جب پاکستان میں امریکی سفیر این پیٹرسن بھی اسلام آباد میں موجود نہیں ہیں۔
میرے خیال سے امریکہ موجودہ حکومت پر اپنا اثر و رسوخ تیزی سے استعمال میں لائے گا، اور وہ موجودہ حکومت کو اپنا اتحادی بنانے کی ہر ممکن کوشش کرے گا کیونکہ صدر بش کے دور اقتدار کا سورغ غروب ہونے کے قریب ہے اس لئے ان دونوں شخصیت کی پوری کوشش ہو گی کہ وہ صدر بش کے لئے ایک واضح راہ متعین کرکے جائیں اور اس تسلسل کو برقرار رکھیں۔ دراصل امریکی اپنی جنگ پاکستانی سرحدوں کے اندر پاکستانیوں کے ذریعے لڑنا چاہتے ہیں۔ امریکی حکام یہ بخوبی جانتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ہی صدر بش کو سہ بارہ کامیابی دلا سکتی ہے۔ کیونکہ صدر بش دو بار پہلے بھی اسی عنوان کے تحت کامیابی حاصل کر چکے ہیں اور اس سارے پراسیس میں پاکستان کا کردار انتہائی اہم رہا ہے۔
اگر یہ سارا منظر نامہ ترتیب نہ پا سکا تو دوسری صورت میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا کیس ری اوپن کر دیا جائیگا، نیو کلیئر کے اثاثہ جات کے حوالے سے سوالات کھڑے ہوں گے، نیوکلیئر ہتھیار انتہا پسندوں کے ہاتھ لگنے کی باتیں شروع ہو جائیں گی اور یوں پاکستان کے خلاف محاذ کھول کر موجودہ حکومت کو دبانے کی کوشش کی جائے گی، یہ محاذ تب تک کھلا رہے گا جب تک حکومت امریکی مفادات کی نگہبانی کا اقرار نہیں کر لیتی۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

صدر، پارلیمنٹ اور فوج ۔ کردار کیا ہو گا

وزیراعظم کے انتخاب یا حلف کے ساتھ ہی اعلان مری کے مطابق کی ججز کی بحالی کے لئے الٹی گنتی شروع ہو چکی ہے۔ وزیراعظم گیلانی نے انتخاب کے فوراََ بعد ججز کی آزادی کا حکم دے کر صدر مشرف کے خلاف باقاعدہ جنگ کا آغاز تو کر دیا ہے مگر اس کی انتہا کیا ہو گی۔ کیا صدر مشرف عدلیہ کی بحالی کو آسانی سے قبول کر لیں گے؟ بہرحال صدر اور پارلیمنٹ کے درمیان تصادم کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے اور اگلے تیس دنوں میں نئی حکومت کے لئے سب سے بڑا مسئلہ یہی ہو گا کہ وہ اس معاملے کو کتنی خوش اسلوبی سے حل کرتی ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے فیصلے کیا ہوں گے، صدر مشرف کیا کریں گے اور سپریم کورٹ پر کس کا حکم چلے گا۔ وزیراعظم گیلانی نے حلف اٹھانے کے ساتھ ہی واضح کر دیا ہے کہ صدر مشرف پارلیمنٹ کا حصہ ہیں۔ یعنی اب صدر مشرف خود کوئی فیصلہ نہیں کر سکیں گے پارلیمنٹ جو بھی فیصلہ کرے گی وہ انہیں قبول کرنا پڑے گا۔ بہرحال یہ تو وقت بتائے گا کہ عدلیہ پر کس کا حکم چلے گا لیکن اگر ماضی پر ایک نظر دوڑائی جائے تو ایسے فیصلے ہمیشہ سے افواج پاکستان کرتی آئی ہے۔ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے یوں تو واضح اعلان کیا تھا کہ فوج کا اب سیاست میں کوئی کردار نہیں ہو گا لیکن انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ صدر اور فوج کے درمیان فاصلے پیدا ہونے کا تاثر غلط ہے۔ ماضی کے تجربات پر نگاہ دوڑائی جائے تو آخری اور حتمی فیصلہ فوج ہی کرتی آئی ہے۔ اس بار شاید یہ ہو کہ وہ اس سارے پراسیس میں کوئی اہم کردار ادا نہ کریں بلکہ دور بیٹھ کر اپنی رائے کا اظہار کریں اور جب تک بات ملکی سلامتی تک نہ آ جائے کوئی قدم نہ اٹھائیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اس سیاسی پس منظر میں کون سا منظر ابھر کر سامنے آتا ہے۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

قوم کا ڈر دور کیجئے

محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نظر بندی
اکبر بگٹی کا قتل
کراچی حادثہ
لال مسجد و جامعہ حفصہ آپریشن
سوات و بلوچستان آپریشن
ایمرجنسی
ججوں کی برطرفی اور نظر بندی
محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت
ًایسے پے در پے واقعات سے پاکستانی قوم اپنے حال اور مستقبل سے بہت ڈری ہوئی ہے۔ میرے خیال سے آصف علی زرداری، میاں نواز شریف ملکی اور قومی مسائل کے بارے لاپراہ نہیں ہیں، انہیں ان مسائل کا پورا ادراک ہے۔ ان کے ساتھ ساتھ نومنتخب وزیراعظم مخدوم یوسف رضا گیلانی بھی یقیناََ نئے جذبے سے لیس ہیں اور یہ ان مسائل کے حل کے لئے دن رات محنت بھی کریں گے۔ ان سے پہلے سابقہ حکمرانوں نے بھی اپنے تئیں ان مسائل کے حل کے لئے پوری کوشش کی ہو گی، اس لئے نئے حکمرانوں کو مل بیٹھ کر سوچنا ہو گا کہ کانٹا کہاں ہے کیونکہ کہیں نہ کہیں ایسی خرابی ہے کہ قدم آگے نہیں بڑھ رہے۔ کوئی جھول ہے کہ مصرع وزن میں نہیں اور سُر ٹوٹ رہا ہے۔
اسے میرے جیسا کمزور ایمان مسلمان بے برکتی بھی کہہ سکتا ہے اور کوئی پڑھا لکھا پاکستانی ناقص منصوبہ بندی کہہ سکتا ہے۔ اس وقت ہماری حالت جوگنگ مشین پر کھڑے اس شخص کی سی ہے جو جوگنگ مشین پر کھڑا جوگنگ کر رہا ہے اور زور مار رہا ہے، پسینے میں شرابور ہو رہا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کئی کلو میٹر بھاگ چکا ہے لیکن جب تھک کر مشین کے اوپر سے اترتا ہے تو دیکھتا ہے کہ وہ تو وہیں کھڑا ہے جہاں مشقت سے پہلے کھڑا تھا۔ اس موقع پر منیر نیازی کا شعر یاد آ گیا، پیش ہے۔


منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ


ایک پاکستانی ۔۔۔۔۔ میں یا کوئی اور ۔۔۔ حکمرانوں کی خدمت میں عرض کرتا ہے کہ اصلاح احوال پر قوم جس قدر اس وقت تیار ہے اس سے پہلے نہ تھی کیونکہ وہ اپنے حالات سے ڈر گئی ہے انہیں بدلنا چاہتی ہے لیکن ظاہر ہے اس کے لئے اسے لیڈر شپ اور مدبر قیادت کی ضرورت تھی جسے انہوں نے آپ کی صورت میں پا لیا ہے، اسی لئے عوام نے آپ کو دوتہائی اکثریت سے نوازا ہے اب یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ عوام کو  کسی مثبت اور مفید تبدیلی کی طرف لیکر چلیں، ایک ایسی تبدیلی جس کے سرے پر روشنی کی لکیر دکھائی دیتی ہو۔
مشرقی پاکستان کے سانحے کے بعد قوم ایک بار پھر پگھلی ہو ئی ہے، انتہائی خطرناک اور نہایت ہی تشویشناک قومی مسائل کی وجہ سے قوم کی حالت کم و بیش ویسی ہی ہے جس طرح مشرقی پاکستان کے سانحے کے وقت تھی، آپ کی دوتہائی اکثریت اسی شدت احساس کا عملی نتیجہ ہے۔
اس پگھلی قوم کو لیڈر کسی بھی شکل میں ڈھال سکتے ہیں، یہ آپ کے لئے ایک انمول موقع ہے اسے ضائع مت کیجئے اور اس ڈری قوم کا ڈر دور کیجئے اسے امید دلائیے یہ آپ کا فرض بھی ہے اور ڈیوٹی بھی، یہ دوتہائی اکثریت اسی لئے ہے۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

بزنس اور حکومت کے کنکشن






















 



مزید تفصیل یہاں



مکمل تحریر اور تبصرے >>>

تم ہنستی اچھی لگتی ہو

اے دوست میری کیوں روتی ہو
کیوں دکھ کو من میں بوتی ہو
یوں دل کو رنجور نہ کرو
اور آنکھوں سے غم دور کرو
غم بن مانگے مل جاتے ہیں
سب جھولی بھر کے پاتے ہیں
تم جوں جوں اس کو پاؤ گی
کندن بنتی جاؤ گی
تم جب بھی دکھ کو سہتی ہو
اور تنہا تنہا رہتی ہو
میں بھی تنہا ہو جاتی ہوں
اور غم کے تحفے پاتی ہوں
یہ جو تمھاری آنکھیں ہیں
یہ مجھ کو کتنی پیاری ہیں
تم جانتی اگر اے دوست میری
یوں چپکے چپکے نہ روتیں
جس کو پی پی کر تم جیتی ہو
یہ تم کو توڑ کے رکھ دیں گے
اور تنہا چھوڑ کے چل دیں گے
میں اسی لئے تو کہتی ہوں
تم ہنستی اچھی لگتی ہو





صباء رشید ۔۔ تونسہ شریف، ڈیرہ غازیخان

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

مینڈیٹ اور دوتہائی اکثریت

کل ہوٹل سے روٹیاں لینے گیا تو ہوٹل والے نے ایک اخبار میں روٹیاں لپیٹ کر دے دیں، گھر آتے ہوئے راستے میں یونہی اخبار پر نظر پڑی تو ایک نہایت سے اہم خبر میری منتظر تھی، واضع رہے کہ یہ اخبار روزنامہ جنگ ١٦مارچ ١٩٩٨ کی اشاعت ہے، خبر نہایت دلچسپ ہے جو ایک لمحہ ضائع کئے بغیر آپ کی نظر کر رہا ہوں۔


بڑے چوروں کا احتساب ہو رہا ہے لیکن انہیں سزا کیسے ملے گی، لوٹ مار کے ثبوت مانگے جا رہے ہیں۔ ٢٣ کروڑ سامنے پڑا ہے پھر بھی کہا جاتا ہے کہ ثبوت کی ضرورت ہے، یہ آخر ثبوت نہیں تو اور کیا ہے، قانون دان بتائیں یہ کیسا نظام ہے؟
آج جو چور ہیں وہی دندناتے پھر رہے ہیں۔ ذرا سوچیں جسکے پاس ٢٣ کروڑ روپے نکلے ہیں اس نے کتنے ارب روپے زرداری اور بینظیر کو دیئے ہوں گے، میں تبدیلی کا وعدہ پورا کر کے چھوڑوں گا، کشتی کو بھنور سے ضرور نکالیں گے۔ 
ماڈل ٹاؤن لاہور میں وزیراعظم میاں نواز شریف کا مسلم لیگی وفود سے خطاب


کمال ہے یہ شخص ١٩٩٧ میں بھی تبدیلی کی یوید لیکر آیا تھا اور ٢٠٠٨ میں بھی۔
خزانہ اس وقت بھی خالی تھا، آج بھی خالی ہے۔
لوٹ مار اور کرپشن کی باتیں اس وقت بھی تھیں، آج بھی ہیں۔
بہت بڑا مینڈیٹ اس وقت بھی پاس تھا، دوتہائی اکثریت آج بھی ہے۔
اس مینڈیٹ کو ٹھوکر مارنے والا پاور میں اس وقت بھی تھا، دوتہائی اکثریت میں بھی وہی تخت نشین ہے۔
بڑے مینڈیت کے پانچ پورے اس وقت نہیں ہوئے، دوتہائی اکثریت کو دیکھتے ہیں، کیا رنگ لاتی ہے۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

١٢ ربیع الاول

آج ١٢ ربیع الاول کا دن ہے، ہم تمام مسلمانوں کے لئے انتہائی بابرکت اور پاکیزہ دن، یہ دن صرف ایک دن یا رسم نہیں بلکہ یہ تجدید عہد کے ساتھ ساتھ خود کا احتساب کرنے کا بھی دن ہے، اس میں صرف رنگ برنگی برقی قمقمے، جھنڈیاں لگانا یا جلوس نکالنا کافی نہیں ہے۔ بلکہ اس دن کہیں اکیلے بیٹھ کر سوچنا چاہیے کہ ہم کیا ہیں؟ اور کیا کر رہے ہیں؟ گزری زندگی کا جائزہ لینا چاہیے، آنے والے دنوں کے بارے میں سوچنا چاہیے اور سیرت مصطفٰے صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں اپنے دن و رات کو ڈھالنے کا عہد کرنا چاہیے۔ اللہ تعالٰی قرآن مجید میں فرماتے ہیں کہ


لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃحسنۃ لمن کان یرجوااللہ والیوم الآخر۔ (پارہ 21 ع 18 الاحزاب)
بیشک تمہیں رسول اللہ کی پیروی بہترہے ۔ ہراس شخص کیلئے جو اللہ اور آخرت کے دن پر یقین رکھا ہے۔

جب سے انسان نے اس دھرتی پر قدم رکھا ہے رحمت خداوندی نے اسے اکیلا اور سرگرداں نہیں چھوڑا، بلکہ نوع انسانی کی رہنمائی کے لئے مختلف زمانوں میں، مختلف علاقوں میں اللہ تعالٰی نے اپنے برگزیدہ بندے بھیجے تاکہ لوگوں کو ہدایت ربانی سے بہرہ ور کرتے رہیں۔ اس سلسلہ انبیآء کی آخری کڑی خاتم النبیین رحمتہ اللعالمین، للعٰلمین تدیرا سراجاََ منیرا، محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے جن کی شریعت قیامت آنیوالی نسلِ انسانی کے لئے ایک کامل، جامع، محفوظ، روشن اور دائمی ضابطہ حیات ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم انسانیت کے معلم اور رہبر و رہمنا ہیں۔ آپ نے امت مسلمہ کو ایسے ضابطہ ہدایت سے نوازا ہے جو ہدایت کے مدارجِ اربعہ، ہدایتِ حسی، ہدایتِ عقلی اور ہدایت ربانی پر استوار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب مغرب میں الحاد و زندقہ کی ظلمیتیں وہاں کی تہذیب و تمدن پر گھٹاٹوپ اندھیروں کی صورت چھائی ہوئی ہیں اور یہ معرکہ ،سائنس و مذہب، اور معرکہ ، عقل و مذہب، جیسے تصورات ابھر رہے ہیں۔ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا پیغامِ ہدایت آج بھی اعتدال و توازن پر مبنی، مادی اور روحانی تقاضوں کی تکمیل کرتا، اور عقلی و دینی تقاضوں کا حسین امتزاج پیش کرتا ہوا نظر آتا ہے۔
آج کا یہ دن ہم سے یہ تقاضا کرتا ہوا نظر آتا کہ ہم اسلامی معاشرے کے فردِ کامل اور مصلح ہونے کی حثیت سے اپنے طرزِ عمل سے کائناتِ انسانی کو ایسی اثر انگیز فضا مہیا کریں جس سے یہ دنیا اُلفتوں اور محبتوں کا گہوارہ بن جائے اور صلاح و فلاح کا وہ عملی نمونہ پیش کریں جو محبت و الفت، حسنِ اخلاق، غم خواری و مواسات و رواداری و مدارات اور صدق و صفا کا پیکر ہو کیونکہ ایک مومن کی شخصیت ایک شجر سایہ دار کی سی ہے جس کی گھنی چھاؤں میں ہر محروم و مظلوم کو پناہ ملتی ہے۔


مکمل تحریر اور تبصرے >>>

بلاول ہاؤس دبئی

یہ تصویریں مجھے ایک ایمیل سے موصول ہوئی ہیں جس کے مطابق یہ عالیشان محل ‘موجودہ حالات میں‘ آصف علی زرداری کا ہے، کیا کوئی دوست اسے کنفرم کر سکتا ہے؟


 


مکمل تحریر اور تبصرے >>>

انسانی حقوق کے چمپئین

یہ ہیں انصار برنی، انصار برنی ٹرسٹ انٹرنیشنل کے چئیرمین۔ انسانی خدمت کے  چمپئین،  جنہیں جیل والے 'ملک الموت' کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ انسانی خدمت کے حوالے سے انصار برنی کی خدمات ناقابل فراموش ہیں، پاکستان میں کوئی مشکل گھڑی ہو یا شمالی علاقہ جات میں زلزلے کی تباہ کاریاں ہوں، اونٹ ریس میں استعمال (CHILD CAMEL JOCKEYS) ہونے والے بچے ہوں یا اومان میں پھنسے ہزاروں پاکستانی ہوں۔ انصار برنی  ہر جگہ پیش پیش رہے ہیں۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں امریکا نے انہیں حال ہی میں ہیرو کے خطاب سے بھی نوازا ہے۔
انصار برنی جب سے انسانی حقوق کے نگران وفاقی وزیر بنے ہیں تب سے کچھ نیا کرنے کے لئے بے چین تھے کہ کوٹ لکھ پت جیل  کے دورے کے دروان ان کی نظر ابراہیم عرف کشمیر سنگھ پر پڑ گئی،  پھر سکرپٹ کے مطابق پہلے صدر مشرف سے اس کو معافی دلائی گئی اور بعد میں اسے ایک ہیرو کے طور پر میڈیا میں پیش کیا گیا، جس نے اپنی زندگی کے قیمتی ٣٥ برس جیل میں گزارے وہی اسلام قبول کیا۔ اب اسے انسانی ہمدردی کی بنا پر واپس بھارت بھیجا جا رہا ہے۔ اس موقع پر انصار برنی نے کہا کہ ‘ہ مجھے ہمدردی کشمیر سنگھ سے نہیں بلکہ انسانیت سے ہے‘
یہ سب کرنے کے لئے دراصل انصار برنی کے پاس ایک معقول وجہ بھی تھی وہ دراصل وزارت سے فراغت کے بعد انسانی حقوق کمیشن کے چئیرمین بننا چاہتے تھے، اسی لئے انہوں نے خود کو انسانی حقوق کا چمپئین ظاہر کرنے کے لئے کشمیر سنگھ کی رہائی اور بھارت حوالگی کا ڈرامہ رچایا۔
اس موقع پر میں تو یہی کہوں گا کہ


جنیاں تن میرے لگیاں تینوں اک لگے تے توں جانڑے
غلام فریدا دل اوٹھے دیئے جتہے اگلا قدر وی جانڑے

کشمیر سنگھ کے بھارت پہنچتے ہی ایک نئے روپ میں سامنے آنا اور بھارت کی طرف سے کشمیر سنگھ کے جواب میں خالد محمود کی صورت میں ایک زناٹے دار تھپڑ سے امید ہے اب تک انصار برنی کا دماغ ٹھکانے پر آ گیا ہو گا، اگر اب بھی کوئی کسر رہ گئی ہے تو سربجیت سنگھ ہے نا! ایک گناہ اور سہی، نام بدنام تو ویسے بھی ہے ایسے بھی سہی۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

جیراسک پارک

سائنس دان غلط کہتے ہیں کہ لاکھوں سال پہلے اس دنیا میں ایسی مخلوق بستی تھی جن کی خوراک انہی کے جنگل باسیوں سے ہزارہا گنا زیادہ تھی۔ ایسی خوش خوراک مخلوق آج بھی موجود ہے۔ جن کے ایک دن کا رزق باقی مخلوق کے سال بھر کے رزق سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ رزق کو جاننے والے جانتے ہیں کہ اس سے مراد صرف وہ خوراک نہیں ہوتی جس سے تن کا پیٹ بھرا جائے۔ ایسا حقیر رزق صرف بے زبان جانوروں سے تعلق رکھتا ہے۔ انسان کے رزق کی تعریف میں ہر وہ آسانی اور آسائش آجاتی ہے جس کی انسان خواہش پالتا ہے۔ جس کی جستجو کرتا ہے۔ اور جسے حاصل کرنے کے لئے بھاگ دوڑ، محنت اور سازشیں کرتا ہے۔ ہم پڑھے لکھے لوگوں نے خوامخواہ ان پڑھ جانوروں کو بدنام کرنے کی خاطر ان سے الٹی سیدھی کہانیاں وابستہ کررکھی ہیں۔ انہی کہانیوں میں سے ایک کہانی لاکھوں سال پہلے اس کرہ ارض پہ رہنے والے ”ڈائنوسارز“ کی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ڈائنوسارز کئی طرح کے ہوتے تھے۔ ہوتے سبھی دیوہیکل تھے۔ پہاڑ جیسے اونچے لمبے جسم، شہتیروں جیسے بڑے بڑے ہاتھ پاؤں، تلواروں جیسے نوکیلے دانت اور اندھے غاروں جیسے کبھی نہ بھرنے والے پیٹ۔ ان ڈائنوسارز کی کئی قسمیں بتائی جاتی ہیں۔ کچھ سبزی خور ہوتے تھے۔ وہ ناشتہ کرنے پہ آتے تو جنگل کے پانچ سو درختوں کی ہری کونپلیں اور کم عمر شاخیں پتوں سمیت چبا جاتے۔ باقی دن جگالی کرتے کرتے کوئی ڈیڑھ ہزار مزید پودے چٹ کرجاتے۔ شام تک آدھا جنگل ٹنڈمنڈ ہوجاتا۔ اگلی صبح وہ ساتھ والے جنگل میں جاپڑاؤ ڈالتے۔
گوشت خور ڈائنو سارز کو جگالی کی عادت نہیں تھی۔ جگالی کرنے والے جانوروں کے کاٹنے کے دانت نہیں ہوتے۔ منہ کے اندر چوڑی داڑھیں ہوتی ہیں۔ جو چکی کے پاٹوں کی طرح چلتی ہیں۔ گوشت خور ڈائنوسارز کے دانت نوکیلے ہوتے تھے۔ وہ کاٹتے اور ہڑپ کرجایا کرتے تھے۔ وہ قیلولہ کرنے کے بعد سر اٹھاکے دائیں بائیں جنگل میں چند قدم چلتے اور کسی جوہڑ کنارے گھونٹ گھونٹ پانی پیتے ہرنوں کے ادھے جتھے کو کھاجاتے۔ شام کو پیٹ میں بھوک اٹھتی تو بڑے بڑے ڈگ بڑھتے معصوم گائیوں کے گلوں کو جا دبوچتے۔ ایک گائے سے مشکل سے ان کے تین نوالے بنتے تھے۔ اڑنے والے ڈائنوسارز کی کتھائیں بھی مشہور ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے پر بہت چوڑے، پنجے مضبوط اور چونچیں لمبی ہوتی تھیں۔ وہ ایک اڑان اڑتے اور جہاں انہیں من بھاتی خوراک نظر آتی، وہاں جھپٹ کے بکریوں کے ریوڑ سے چند بکریاں پنجوں میں پکڑ کے اڑ جاتے۔ کہتے ہیں ان کے گھونسلے اونچی جگہوں پر ہوا کرتے تھے۔ ان کے گھونسلوں کے آس پاس چونڈی ہوئی ہڈیوں اور بچے کھچے چھیچھڑوں کے انبار ہوا کرتے تھے۔ ڈائنوسارز کی اور بھی کئی قسمیں بتائی جاتی ہیں۔ بہرحال ان سب ڈائنوسارز میں مشترک بات ایک تھی۔ جنگل کے باقی باسیوں کی نسبت وہ ہزار گنا زیادہ بھوک پالے ہوئے تھے۔ کہتے ہیں اسی بڑھی ہوئی بدمست اور بے لگام بھوک کے ہاتھوں وہ ہولے ہولے اس کرہ ارض کی بستی مٹا بیٹھے۔ نیست و نابود ہوگئے۔غلط کہتے ہیں۔
ساری سائنس اس بدمست، بے لگام اور ناختم ہونے والی بھوک کے نتیجے سے جو نتیجہ نکال رہی ہے وہ صحیح نظر نہیں آتا۔ سائنس فکشن لکھنے والوں نے کمال ہنرمندی سے لاکھوں سال پہلے مٹے ان ڈائنوسارز کے جین ڈھونڈلئے۔ کسی مچھر کے پیٹ میں خون کی بوند میں بند کسی ڈائنوسار کے خون خلیوں کے جین تلاش کرکے انہیں پھر سے ترتیب دے دیا۔ پھر کسی پھدکتے مینڈک کی شریانوں میں لاکھوں سال پہلے کے متروک ڈائنوسار کے جین ڈال کے نئے سرے سے ڈائنوسارز کی تخلیق کرلی۔ پھر ان ڈائنوسارز کو ایک خوش رنگ وسیع پارک میں مقید کرکے اس پارک کا نام جیراسک پارک رکھ دیا۔ اور دنیا کے سیاحوں کو وہاں سیر سپاٹے کے لئے بلوانے لگے۔ سائنس فکشن کی کہانی میں بھی جیراسک پارک کے ڈائنوسارز، ڈائنو سارز ہی رہے۔ وہ اپنی جبلت پر ڈٹے رہے۔ انسانوں کو پکڑ پکڑ کے اپنا پیٹ بھرتے رہے۔ میں صرف یہ سوچتا ہوں ان سائنس فکشن لکھنے والوں کو ڈائنو سارز دیکھنے اور دکھانے کے لئے سیاحوں کی منافع بخش سیاحت کی خاطر جس جیراسک پارک کا خیال آیا تھا۔ وہ اس خیال سے باز آجاتے اگر کبھی وہ کچھ دن خود سیاح بن کے ہی سہی ہمارے ملک پاکستان آجاتے۔ انہیں محسوس ہوتا وہ خیالی جیراسک پارک جس کے خد و خال وہ سوچے بیٹھے ہیں، وہ حقیقت میں اپنے تمام تر تناظر کے ساتھ یہیں موجود ہے۔
یہاں، ہمارے جیراسک پارک میں ڈائنوسارز کی بہت ورائٹی ہے۔ لاکھوں سال پہلے تو ڈائنوسارز صرف تین قسم کے ہوتے تھے۔ سبزی خو ر، گوشت خور یا اڑنے والے۔ ہمارے جیراسک پارک کو ہر ڈائنوسار میں یہ تینوں صلاحیتیں موجود ہیں۔ پھر بھی ان کے شکار کا طریقہ الگ ہے۔ یہاں کا ہر ڈائنوسارز صبح آنکھ کھولتا ہے تو ہزارہا کھلنے والی کونپلوں کا آنے والا کل چبا جاتا ہے۔ صبح دفتر وقت کے بعد جب لنچ ٹائم آتا ہے تو اس وقت تک وہ ڈیڑھ ہزار کے لگ بھگ لوگوں کے حصے کا گوشت بھنبھوڑ چکا ہوتا ہے۔ شام کے ڈنر سے پہلے تک ہمارا ڈائنوسار اپنے مقام سے اڑ کر کسی نئے شکار تک بھی پہنچ جاتا ہے۔ آپ کو میری یہ بات بھی کہانی لگ رہی ہوگی۔ نہیں۔ یہ سچ کہہ رہا ہوں۔ آپ کو سند چاہئے۔ تو سنئے۔ ایک سو، ڈیڑھ سو روپیہ دیہاڑی دار مزدور نے اپنی ساری زندگی کی محنت کے ساتھ ہر طرح کی جمع تفریق کرکے اپنے بڑھاپے کے لئے جتنی دولت سوچی ہوتی ہے، وہ ہمارے یہاں کے ڈائنوسار کے عموماً ایک دن کے ایک قلیل عرصے کا منافع ہوتا ہے۔ پتہ نہیں آپ کو اس بات کا تجربہ ہے یا نہیں کہ اگر معاملہ ارب ہا روپیوں کی کمائی کا ہوتو ایک دو کروڑ کی کوئی گنتی نہیں رکھتا۔ یوں اگر کروڑوں میں بیوپار ہوتو دو تین لاکھ کے لئے کوئی تردد نہیں کرتا۔ لاکھوں کے سودے میں چند ہزار کی خاطر کون بحث کرتا ہے۔ ہزاروں کی بات میں لوگ چھوٹے نوٹ نہیں گنتے۔ مگر ہمارے سولہ کروڑ لوگوں کے اس جیراسک پارک میں پونے سولہ کروڑ لوگ انہی چھوٹے نوٹوں بلکہ سکوں کو گن گن کے جیتے اور مرتے ہیں۔ ان لوگوں کے لئے زندگی کا ہر نیا دن نئے سوال لے کر آتا ہے۔ صبح ہوتی ہے وہ انڈے گنتے ہیں۔ بچوں کی تعداد ذہن میں رکھ کے گھر میں موجود ڈبل روٹی کے توشوں کی گنتی کرتے ہیں۔ دوپہر کے کھانے کے لئے انہیں سوچنا پڑتا ہے کہ آج پیٹ بھرکر کھالیا تو کل کیا کریں گے۔ یہ مسکین سفید پوش لوگ نہ اپنا خالی پیٹ دوسروں کو دکھاتے ہیں نہ دکھانا چاہتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ زندگی گزارنے کی سعی میں ہزار محنت کے بعد بھی جو وہ خریدتے ہیں اس خریدی ہوئی ہر شے اندر سے کم از کم پندرہ فیصد ان کے خون پسینے کی کمائی ان کے اپنے پیٹ میں نہیں جاتی، کسی نہ کسی ڈائنوسار کے ایک لقمے کے لئے جمع ہوتی رہتی ہے۔ ایسے کم نصیب لوگ جو سولہ کروڑ لوگوں میں سے پونے سولہ کروڑ سے بھی زیادہ ہے، وہ یہ نہیں جانتے کہ بوند بوند ان کے جسم کا خون نکل نکل کے کس کے حلق میں جارہا ہے۔ کوئی دس ہزار مزدور، کلرک یا خوانچہ فروش ڈبل روٹی، انڈے، سگریٹ، گھی، تیل یا آٹا خریدنے کے بعد جتنا ٹیکس ادا کرتے ہیں ان سب کو ملاکے کسی ایک ڈائنوسار کے کسی چمکیلے ہوٹل کا ایک سرکاری ڈنر بنتا ہے۔ کوئی دو ہزار گاؤں کے کاشتکار لوگوں کی خریدی ہوئی کھاد، فصلوں کے بیج، کھیتوں کو لگائے پانی پہ خرچ ہوئی بجلی یا تیل، کیڑے مار دوائیوں کے حصول میں دی ہوئی جی ایس ٹی سے کسی ایک ڈائنوسار کے فارن ٹور میں کسی شاہانہ ہوٹل میں قیام کے دوران ایک رات کا بل بنتا ہے۔ یہ کم نصیب کچی بستیوں کے باسی اپنے پچاس ہزار گھروندوں کو بناتے بناتے جیراسک پارک کی انتظامیہ کو جتنی سلامی دے دیتے ہیں اس سے حکومت وقت کے کسی ایک ڈائنوسار کی حفاظت کے لئے بدیس سے منگوائی ایک بلٹ پروف گاڑی کی لاگت پوری ہوتی ہے۔ تاکہ ناانصافی کے ہر موسم میں یہ ڈائنوسار اپنی رعایا سے محفوظ رہیں۔ حیرت ہے۔ سائنس دان اب بھی بضد ہیں کہ ڈائنوسارز کا زمانہ لد گیا۔ ڈائنوسارز ہیں۔ اس جیراسک پارک میں تو وہ اتنی قوت اور اتنے دبدبے سے ہیں کہ اس بار انہوں نے سائنس کی ساری تھیوریاں غلط ثابت کردینی ہیں۔ اپنی حد سے بڑھی خوش خوراکی سے انہوں نے خود ختم نہیں ہونا۔ اپنے پالنے والوں کو ختم کردینا ہے۔ ایسا ہونا فطرت کے قانون کے خلاف بھی نہیں۔ اس لئے ہم جیراسک پارک کے وہ کوتاہ اندیش باسی ہیں جو اپنی رکھوالی کے لئے جب بھی گڈریے چنتے ہیں تو اپنے جیسی کوئی بھیڑ بکری نہیں چنتے۔ کوئی نہ کوئی ڈائنوسار چن لیتے ہیں۔۔۔ بشکریہ ابدال بیلا، روزنامہ جنگ

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

ابتدائے عشق ہے!



 


ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا


آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا


 


بحوالہ ۔ روزنامہ جسارت


 


مکمل تحریر اور تبصرے >>>

انجام گلستاں کیا ہو گا؟

خبر کے مطابق آصف علی زرداری کے خلاف دائر ٧ ریفرنسز میں سے ٥ کو خارج کر کے ان کے منجمد اثاثے بحال کر دیئے گئے ہیں، جن میں آصف علی زرداری کے ارسس ٹریکٹرز، پولو گراؤنڈ ریفرنسز میں منجمد اثاثے شامل ہیں۔ مزید یہ کہ آصف علی زرداری کے خلاف دائر ایس جی ایس ریفرنس بھی نیب نے واپس لے لیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آصف علی زرداری کے رائیٹ ہینڈ رحمان ملک کے بھی ضبط شدہ اثاثے بھی بحال کر دیئے گئے ہیں۔
واہ کیا بات ہے!
اِدھر اثاثے بحال ہو رہے ہیں۔
اُدھر عوام بے حال ہو رہی ہے۔


پاکستان زندہ باد
سیاستدان پائندہ باد
جیو مشرف


 


 


ہر شاخ پر الو بیٹھا ہے
انجام گلستاں کیا ہو گا

 

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

گیس کے وسیع ذخائر دریافت

روزنامہ جنگ کے مطابق وزارت ِپٹرولیم کے ترجمان نے بتایا کہ ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقے میں واقع سفید کوہ بلاک میں دوکنوؤں سے وسیع پیمانے پر گیس دریافت ہوئی ہے لائم اسٹون اور سینڈ اسٹون ایریا میں واقع یہ کنویں نجی کمپنی کے ہیں ۔ دونوں کنوؤں سے یومیہ ڈیڑھ کروڑ کیوبک فٹ سے زائد گیس کے ساتھ روز آنہ ایک سو بیس بیرل کنڈنسریٹ آئل بھی نکالا جارہا ہے۔ وزارت پیٹرولیم کے مطابق گیس کی اس دریافت سے سالانہ کروڑوں ڈالر کا زرِ مبادلہ بچانے میں مدد ملے گی ۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

روشن خیال مسلمان

ماڈرن اور روشن خیال مسلمان بش کے ساتھ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے دنیا کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔ یہ روشن خیالی ہماری سمجھ سے تو بالاتر ہے اگر کسی سمجھدار کی سمجھ میں کچھ آ رہا ہے تو ہمیں بھی سمجھا دیں کیونکہ ہم جیسے بنیاد پرستوں سے ایسی روشن خیالی نہ دیکھی جا سکتی ہے اور نہ ہی برداشت کی جا سکتی ہے۔


 


مکمل تحریر اور تبصرے >>>

زلزلہ اور سرخ فیتہ

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

بلاگر حلقہ احباب