بچپن کے دُکھ

کون ہے جسے اپنا بچپن عزیز نہیں؟ معصوم شرارتوں سے بھرپور بچپن جسے یاد کر کے یقیناًً ہر کوئی ہنستا ہو گا۔ میرے جیسے انسان کی تو ہر لمحہ خواہش ہوتی ہے کہ کاش کبھی بچپن کے وہ دن لوٹ آئیں



جہاں سپنا سجایا تھا
جہاں بچپن بتایا تھا
جہاں پیڑوں کے سائے میں گھروندا ایک بنایا تھا!


انسان اپنے بچپن کو یاد کرے اور سکول کا بے فکرا زمانہ یاد نہ آئے یہ تو ہو ہی نہیں سکتا، نیچے دی گئی تصویریں بھی کسی بچے کی یادگاریں ہیں جو انجانے میں پیپر یا ہوم ورک کرتے ہوئے محفوظ ہو گئیں ہیں۔ ان تصویریں پر لکھی گئی تحریر کو غور سے پڑھیں پہلی لائن سے آخری لائن تک۔




 


گرميوں ميں جب سب گھر والے سو جاتےتھے
دھوپ کي اُنگلي تھام کے ہم چل پڑتے تھے
ہميں پرندے کتنے پيار سے تکتے تھے
ہم جب ان کے سامنے پاني رکھتے تھے
موت ہميں اپني آغوش ميں چھپاتي تھي
قبرستان ميں جا کر کھيلا کرتے تھے
رستے ميں اِک ان پڑھ دريا پڑتا تھا
جس سے گزر کر پڑھنے جايا کرتے تھے
جيسے سورج آکر پياس بجھائے گا
صبح سويرے ايسے پاني بھرتے تھے
اُڑنا ھم کو اتنا اچھا لگتا تھا
چڑياں پکڑ کر اُن کو چوما کرتے تھے
تتلياں ہم پر بيٹھا کرتيں تھيں
ھم پھولوں سے اتنے ملتے جلتے تھے
ملي تھي يہ جواني ھم کو رستے ميں
ھم تو گھر سے بچپن اوڑھ کے نکلے تھے


بچپن کے دُ کھ کتنے اچھے تھے
تب تو صرف کھلونے ٹوٹا کرتے تھے
وہ خوشياں بھي جانے کيسي خوشياں تھيں
تتلي کے پر نُوچ کے اُچھلا کرتے تھے
مار کے پاؤں ہم بارش کے پاني ميں
اپني ناؤ آپ ڈبويا کرتے تھے
چھوٹے تھے تو مِکرو فريب بھي چھوٹے تھے
دانہ ڈال کے چڑيا پکڑا کرتے تھے
اب تو اِک آنسو بھي رُسوا کر جائے
بچپن ميں جي بھر کے رُويا کرتے تھے
خُوشبو کے اُڑتے ہي کيوں مرجھايا پھول
کتنے بھولے پن سے پوچھا کرتے تھے
کھيل کود کے دن بھر اپني ٹولي ميں
رات کو ماں کي گُود ميں سويا کرتے تھے


مکمل تحریر اور تبصرے >>>

موجودہ اور سابقہ حکومت ۔۔۔ اعداد و شمار کیا کہتے ہیں

میں نے منو بھائی کے پچھلے چند کالموں میں سے نئی اور پرانی حکومتوں کے چند اعداد شمار اکھٹے کئے ہیں جنہیں پاکستانی بلاگ کے قارئین کے لئے یہاں پیش کئے جا رہے ہیں۔
صدر مشرف کی زیرنگرانی چلنے والی شوکت عزیز و نگران حکومت نے تمام تر قواعد و ضوابط نظر انداز کر کے قومی اسمبلی سے منظور کرائے بغیر تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور تیل کی سرمایہ کار کمپنیوں کو ١٣٦ ارب روپے کی سبسڈی دے دی، ان کمپنیوں کے لئے قومی بجٹ ٨۔٢٠٠٧ میں وزیرمملکت برائے خزانہ عمر ایوب خان نے گزشتہ سال جون میں بجٹ تقریر کے دوران ١٥ ارب روپے کی سبسڈی دینے کا اعلان کیا تھا۔ سابق حکومت کے ان اقدامات کی وجہ سے نئی حکومت کو بجٹ سے قبل ہی ٣٩٦ ارب روپے کے خسارے کا سامنا ہے اور موجودہ مالی سال کے دوران کے لئے دیے جانے والے محاصل کے ہدف ١٠٢٥ ارب روپے میں بھی ابھی تک ٣٥ ارب سے زائد کی کمی کا سامنا ہے۔
قومی بجٹ کے حوالے سے شوکت عزیز حکومت کے ٣ سالہ پالیسیوں پر مبنی بجٹ کی تیاری کی منصوبہ بندی نے ملک کی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے اور نئی حکومت ایک بار پھر قرضوں کی ری شیڈولنگ کر کے قوم پر مزید قرضوں اور سود کا بوجھ لادنے کی تیاریاں کر رہی ہے۔
گزشتہ ٨ سالوں کے دوران حکومت نے مجموعی طور پر سود کی مد میں ١٩ ارب روپے کی رقم غیر ملکی اداروں اور بینکوں کو ادا کی ہے، یہ رقم مل کر اور اصل قرضوں کی شرح ٤٢ ارب روپے ڈالر سے بہت زیادہ ہے۔ قرضوں کی ری شیڈولنگ کی وجہ افراط زر میں اضافہ کے باعث روپے کی قدر مسلسل کم ہو رہی ہے مگر حکومت جان بوجھ کر روپے کی قدر ڈالر کے مقابلہ میں باقاعدہ کم ہونے کا اعلان نہیں کر رہی۔ روپے کی قدر کم ہونے کے اعلان سے زرمبادلہ میں کمی اور غیر ملکی تجارتی ادائیگیوں کی شرح میں بے تحاشہ اضافہ ظاہر کرنا پڑے گا۔
اس وقت حکومت کو ٢٥ ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کا سامنا ہے اور تیل کی کمپنیوں کے کاروبار میں شریک سرمایہ کاروں نے گزشتہ برس ٢٠٠ ارب روپے کا منافع کمایا اور حکومت کو ٥٤ ارب ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

ہوتا ہے شب و روز تماشہ میرے آگے


 



''اب تمام فیصلے پارلیمنٹ میں کئے جائیں گے''    زرداری، نواز، گیلانی pakiez.com


مکمل تحریر اور تبصرے >>>

یہ دولت کے بھوکے رواجوں کی دنیا


 


یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دنیا
یہ انسان کے دشمن سماجوں کی دنیا
یہ دولت کے بھوکے رواجوں کی دنیا

یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے؟

ہر اک جسم گھائل ہر اک روح پیاسی
نگاہوں میں الجھن دلوں میں اداسی
یہ دنیا ہے کہ عالم بدحواسی

یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے؟

یہاں اک کھلونا ہے انسان کی ہستی
یہ بستی مردہ پرستوں کی بستی
یہاں پر تو جیون سے موت ہے سستی

یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے؟

جلا دو اسے پھونک ڈالو یہ دنیا
مرے سامنے سے ہٹا لو یہ دنیا
تمھاری ہے تم ہی سنبھالو یہ دنیا

یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے؟

ساحرلدھیانوی

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

سچ تو یہ ہے

پاکستانی عوام کی نگاہ میں ٩ مارچ کی تاریخ دو خاص واقعات کے باعث اہم حیثیت کی حامل بن گئی ہے۔ ایک ٩ مارچ وہ تھی جس دن صدر مشرف کا چیف جسٹس افتخار چوہدری کے سنگ قضیہ نا مرضیہ شروع ہوا تھا۔ اب یہ ایک اور مئی ٩ مارچ ہے جس تاریخ میں جمہوریت کے حوالے سے بڑا دن کہا جا رہا ہے بشرطیکہ شراکت اقتدار کے عہد و پیمان باندھنے والی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں پی پی پی اور پی ایم ایل ن اعلان مری کے معاہدوں کو آخر تک عملاََ انجام دے کر اسے بڑا دن بنائے رکھیں۔ اعلان مری میں کئی اہم فیصلے کئے تو گئے ہیں لیکن اہم یہ ہے کہ آیا یہ اعلامیہ قابل عمل ہو گا یا نہیں؟
سب سے اہم یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ حلف اٹھانے کے تیس دنوں کے اندر پارلیمنٹ سے قرارداد کے ذریعے معزول ججوں کو بحال کروایا جائے گا۔ یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا واقعی اس وقت طلب امر کو پارلیمنٹ کے ذریعے مقررہ مدت میں طے کیا جا سکے گا۔ علاوہ ازیں، اسے قرارداد کے ذریعے بحال کرنے کی بات کی جا رہی ہے جبکہ قرارداد کوئی قانون نہیں ہوتی بلکہ سفارش کا درجہ رکھتی ہے۔ موجودہ چیف جسٹس آف پاکستان عبدالحمید ڈوگر اور دیگر ایگزیکٹو ججز اسے مسترد کر کے غیر آئینی قرار دے سکتے ہیں۔ اس قرارداد کا مقصد موجودہ چیف جسٹس اور ایگزیکٹو ججوں کی برطرفی ہے۔ لہذا وہ اس کی آئینی حیثیت کبھی تسلیم نہیں کریں گے تو ایسی صورتحال میں قرارداد کی ‘قوت نافذہ‘ کیا ہو گی۔ ایسے حالات میں پولیس یا فوج کے ذریعے ہی عمل درآمد کروایا جا سکتا ہے۔ فوج تو اب لاتعلق ہو چکی ہے۔ لیکن یہ خدشہ ذہن میں جڑ پکڑنے لگتا ہے کہ قرارداد کی اس شق کو منوانے کی ضد کہیں عوام اور پولیس کے مابین تصادم اور تشدد کی آگ نہ بھڑکا دے۔ اس کے علاوہ موجودہ ججوں کو برطرف کر کے معزول ججوں کی لانے کی بات کرنا گویا صدر پرویز مشرف کے ساتھ ٹکراؤ کی بات کرنا ہے۔ یہ معزول جج اور ان کے حامی وکلاء صدر مشرف کے خلاف ہیں۔ چنانچہ ان کی بحالی کی صورت میں صدر کو برطرف کرنے کی کوشش کا تناؤ آمیز منظر بھی سامنے آ سکتا ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ سپریم کورٹ، پارلیمنٹ اور صدر ملک کے تین بنیادی ادارے ہیں۔ یہ تینوں طاقتور ادارے اگر آپسی تصادم کا شکار ہوگئے تو یہ پاکستان کے لئے کوئی اچھی صورتحال نہیں ہے۔ اس طرح چوتھا بنیادی ادارہ میڈیا بھی انتشار کا شکار ہوئے بنا نہیں رہ سکے گا۔ ایسے میں عملی سوچ یہ ہو گی کہ مصلحت کے پیش نظر ٹکراؤ کی صورتحال پیدا کرنے کے کے بجائے کوئی بیچ کا راستہ اختیار کیا جائے۔ یوں بھی ججز کی بحالی کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے اتنی جلد بازی کی ضرورت نظر نہیں آتی تھی۔ کم از کم نئی پارلیمنٹ کو تین ماہ تو چلنے دیا جاتا۔ لیکن  اس فیصلے کے پیچھے صدر مشرف سے ٹکراؤ کی خواہش کی جلدی نظر آتی ہے۔ مخدوم امین فہیم جیسی صلح پسند شخصیت کو اعلان مری میں شامل کرنے سے اجتناب کرنا اس کا ایک ثبوت ہے۔ صدر مشرف سے ان کی سیاسی مفاہمت تھی۔ اعلان مری کے مطابق ‘وزیراعظم وہ ہو گا جو پی پی پی اور پی ایم ایل ن دونوں کے مشترکہ ایجنڈے کو چلائے گا‘۔ تو اگر مخدوم امین فہیم اسے نہیں چلائیں گے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ صدر مشرف سے ٹکراؤ اور تصادم کا ارادہ ہے۔ پاکستان میں جمہوری اقدار کے فروغ کے لئے پارلیمنٹ کی تشکیل و خودمختاری اہم جزو ہے لیکن تصادم اور وہ بھی فوری تصادم اس مقصد میں رکاوٹ ہے۔ دوسری طرف پی ایم ایل ن وزارتوں میں حصہ لینے کی بات کر رہی ہے اور اس بات کا بھی عہد کیا گیا ہے کہ اسمبلی اپنی مدت پوری کرے گی لیکن ان سب وعدوں کے پیچھے کئی سوال تشنہ ہیں۔ کہیں جمہوریت کا خواب پھر خواب نہ رہ جائے۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

بینک دولت انڈیا


مزید فنی تصویروں کے لئے یہاں کلک کیجیئے۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

اپنا پسندیدہ Zong نمبر حاصل کیجئے


چائینا موبائیل کمپنی کے Zong نیٹ ورک کی جہاں بے شمار خوبیاں اور خصوصیات سامنے آ رہی ہیں وہاں سب سے بڑی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ آپ گھر بیٹھے آن لائن اپنا پسندیدہ نمبر اپنے نام کرا سکتے ہیں۔ اپنا پسندیدہ نمبر بک کرنے کے لئے یہاں کلک کیجیئے۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

میرا ڈیرہ غازی خان

میں نے، میرا ڈیرہ غازی خان کے نام سے ایک علاقائی بلاگ ترتیب دے رہا ہوں، جس میں ڈیرہ غازی خان اور سرائیکی وسیب کے حوالے سے معلومات اور دیگر مواد رکھا جائے گا، یہ بلاگ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے اور اس میں مزید تبدیلیاں کرنا باقی ہیں۔ دوستوں سے گذارش ہے کہ اس لنک کو اپنے بلاگ اور ویب میں معمولی سی جگہ کے ساتھ ساتھ اپنے قیمتی مشوروں سے بھی آگاہ کریں ۔۔۔۔ شکریہ

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

لوڈشیڈنگ، بارش، فصلیں اور دعائیں

کل ایک دوست کے ساتھ گپیں لگاتے ہوئے بات بجلی کی طرف چلی گئی جس نے آجکل ہر پاکستانی کا خانہ خوار کیا ہوا ہے اور سولہ کروڑ عوام مچھر کے ساتھ ساتھ صدر مشرف کو دعائیں دے رہے ہیں۔ بہرحال بات چل رہی ہے بجلی پر، میں نے کہا پرسوں جو بارش ہوئی ہے اس سے کچھ نہ کچھ فرق ضرور پڑے گا، ڈیموں میں معمولی سا اتار یقیناََ آیا ہو گا، ہو سکتا ہے آج کی رات ہم سکون سے سو سکیں، کاش ان بارشوں کا سلسلہ کچھ دن مزید چل پڑے تو اس سے انڈسٹری کو معمولی سا سہارا ضرور ملے گا ورنہ آجکل جو کچھ ہو رہا ہے اس کے ہولناک اثرات دو چار مہینوں میں سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔
دوست نے جواب دیا، ایسا نہ کہو، دعا کرو یہ بارشیں نہ ہوں، کیونکہ اس وقت فصلیں پک کر تیار ہو چکیں ہیں بارشوں سے انہیں ناقابل تلافی نقصان ہو گا، انڈسٹری چلے یا نہ چلے، بجلی ہو یا نہ ہو، پیٹ بھرنے کے لئے اناج کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ اناج نہیں ہو گا تو ہم کھائیں گے کیا؟
میں نے جواب دیا، بات تو تمھاری بھی سہی ہے مگر کارخانے چلیں گے تو غریب کے پاس پیسہ آئے گا، پیسہ جیب میں ہو گا تو ہی اناج ملے گا نا؟
باعث کے اس موڑ پہ پہنچ کر میں سوچ میں پڑ گیا کہ پاکستان کے حالات بد سے بدتر ہوتے چلے جا رہے ہیں، اس موقع پر بندہ دعا بھی کرے تو کس کے لئے کیونکہ ایک کے لئے مانگی گئی دعا دوسرے کے لئے بد دعا بن جاتی ہے۔ اس وقت ہماری حالت بھی اس غریب دیہاتی کی طرح ہے جس کی دو بیٹیاں تھیں، اس نے اپنی بیٹیوں کے ہاتھ پیلے کرنے کے لئے اپنی بیوی سے مشورہ کیا کہ دونوں کو جہاں بھی دیں گے ایک ہی جگہ دیں گے۔
جبکہ اس کی بیوی کو یہ بات پسند نہیں آئی، اس نے کہا نہیں ان دونوں کا بیاہ علحیدہ علحیدہ خاندانوں میں کریں گے۔ عورت راج کے تحت بیوی کی بات مان لی گئی اور ایک کی جٹ اور دوسری کی کمہار سے شادی کر دی گئی۔
دنوں، ہفتوں اور مہینوں بعد میاں بیوی اپنی بیٹیوں سے ملنے اور ان کا حال جاننے گھر سے نکلے، جٹ والی بیٹی کے گھر پہنچے تو اس نے کہا، ہم پر اللہ کا بہت بڑا کرم ہے، پچھلی فصل شاندار ہوئی تھی مگر اب پانی کی کمی کا سامنا ہے، آپ دعا کریں بارشیں ہوں اور پہلے کی طرح اس بار بھی زمینیں اچھی فصل دے سکیں۔ میاں بیوں بارش کی دعائیں کرتے وہاں سے روانہ ہوئے اور کمہار والی بیٹی کے ہاں پہنچے تو اس نے کہا، اللہ کا احسان ہے ہماری اچھی گزر بسر ہو رہی ہے، اس بار ہم میاں بیوی نے خوب محنت کر کے بہت سے برتن تیار کئے ہیں، بس آپ دعا کریں اس بار بارش نہ ہو ورنہ ہماری ساری محنت غارت چلی جائے گی۔
بس پھر کیا، میاں بیوی ایکدوسرے کا منہ تکنے لگے، میاں بولا، میں نے کہا تھا نا کہ دونوں کو ایک ہی خاندان میں دیں گے، اب بھگتو اور کرو ایک بیٹی کو آباد اور دوسری کو برباد۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

آؤ مل کر کھاتے ہیں



آؤ مل کر کھاتے ہیں، آؤ مل کر کھاتے ہیں
گیت خوشی کے گاتے ہیں، آؤ مل کر کھاتے ہیں


جب وقت پڑا تو بھاگیں گے، جدہ اور لندن اپنا ہے
 مل کر بھوک مٹاتے ہیں، آؤ مل کر کھاتے ہیں


میں %10، تم 10 نمبر دونوں مل کر کچھ کر جائیں
 اک تازہ ڈھونگ رچاتے ہیں، آؤ مل کر کھاتے ہیں


گھوڑے لوٹے، سب آئیں گے تھیلے بھر بھر لے جائیں گے
اک اور دکان لگاتے ہیں، آؤ مل کر کھاتے ہیں


 تو عدل کا شور مچائے جا، میں ظلم کو عام کئے جاؤں
اس طرح سے کام چلاتے ہیں، آؤ مل کر کھاتے ہیں


 ہم ماضی میں بھی کھاتے تھے، اب اور زیادہ کھائیں گے
کب کہنے سے شرماتے ہیں، آؤ مل کر کھاتے ہیں


اس ملک سے اتنا پیار ہمیں، چپا چپا بیچیں گے ہم
اس ملک سے پیار نبھاتے ہیں، آؤ مل کر کھاتے ہیں


 ہے پہلے بھی لوٹا اس کو، پر قوم بھلا بیٹھی ہم کو
اک اور سبق سکھاتے ہیں، آؤ مل کر کھاتے ہیں


 


میرے گھوڑے بیتاب بہت، ڈربی کھولو میں آتا ہوں
ہر شہر میں ریس لگاتے ہیں، آؤ مل کر کھاتے ہیں


اک دوجے کے دشمن تھے یہ اے یاسر جی کچھ دن پہلے
اب دونوں یہ فرماتے ہیں، آؤ مل کر کھاتے ہیں


 


 


Yasir Ali۔ By


مکمل تحریر اور تبصرے >>>

یک جان دو قالب

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

سورج قید سے چھوٹ گیا

منو بھائی کے کالم سے لی گئی احمد عقیل روبی کی نظم ‘فرض کرو‘۔
‘سورج قید سے چھوٹ گیا‘  کے عنوان سے ایک فکرافروز منظوم ڈرامے کی ابتدا وہ ”فرض کرو“ کے عنوان سے اس نظم میں کرتے ہیں۔



فرض کرو اِک موج اُٹھے اور دریا کو پی جائے
فرض کرو اِک چنگاری شعلہ بن کر لہرائے
فرض کرو پُروائی جھنجھلا کر، آندھی بن جائے
فرض کرو سوئی آنکھوں میں بیداری آ جائے
فرض کرو جو ناممکن ہے وہ ممکن ہوجائے



احمد عقیل روبی نے اس منظوم ڈرامے کے دوسرے ایڈیشن میں ایک نظم ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بارے میں بھی شامل کی ہے جو پیش کی جاتی ہے۔


منالو جشن کہ یہ جنگ جیت لی تم نے
وہ حرفِ لوح جہاں سے مٹا دیا آخر
جسے تمہاری نگاہیں غلط سمجھتی تھیں
مسل کے پھول سمجھتے ہو، مر گئی خوشبو
مٹا کے حرف سمجھتے ہو داستان نہ رہی
بدن کو مار کے خوش ہو کہ کھیل ختم ہوا
منالو جشن مگر اتنی بات یاد رہے
کہ پھول مرتا ہے خوشبو کو موت آتی نہیں
کہانی ختم بھی ہو جائے دل میں رہتی ہے
بدن مرے تو مرے، روح مر نہیں سکتی
وہ شخص دار پہ تم نے چڑھا دیا جس کو
بدن کی موت سے وہ شخص مر نہیں سکتا
وہ آنسوؤں میں ہے لرزاں، دلوں میں زندہ ہے
گلی گلی میں ہے چرچا ہے ذکرِ عام اُس کا
وہ پہلے ایک تھا اب بٹ گیا ہزاروں میں
وہ پھول بن کے کھلے گا صدا بہاروں میں
وہ شخص دار پہ تم نے چڑھا دیا ہے جسے
جوان و پیر و زن و طفل پیار کرتے ہیں
بہ صد خلوص دل و جاں نثار کرتے ہیں
وہ شخص دار پہ تم نے چڑھا دیا ہے جسے
دل و نظر میں لرزتی ہیں اُس کی تصویریں
ورق ورق پہ چمکتی ہیں اُس کی تحریریں
بدن کو مار کے خوش ہو کہ کھیل ختم ہوا
نہیں، یہ وہم و گماں ہے، نظر کا دھوکہ ہے
وہ دیکھو بپھری ہوئی بے نواؤں کی ٹولی
ہتھیلیوں پہ دھرے نقدِ جاں نکل آئی
وہ عورتوں کے کھلے سر، وہ ماتمی چہرے
ہجوم خورد و کلاں بن کے آہنی دیوار
رواں ہے جانبِ مقتل علم اُٹھائے ہوئے
لبوں پہ نام اُسی شخص کا سجائے ہوئے
وہ شخص دار پہ تم نے چڑھا دیا ہے جسے
وہ جا چکا ہے مگر درس دے گیا ہے ہمیں
کہ جراتوں سے قدم یوں اُٹھائے جاتے ہیں
جھکائے جاتے نہیں سر، کٹائے جاتے ہیں
منالو جشن کہ یہ جنگ تم نے جیتی ہے
بدن وہ ہار گیا تم نے روح ہاری ہے
منالو جشن کے کل تم پہ سخت بھاری ہے
گیا ہے آج وہ اور کل تمہاری باری ہے

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

اپریل فول

جب تم آئینے کے پاس جاتے ہو
تو آئینہ کہتا ہے
بیوٹی فل ۔۔۔ بیوٹی فل

اور جب تم آئینے سے دور جاتے ہو
تو آئینہ کہتا ہے
اپریل فول ۔۔۔ اپریل فول




پلیز کال می، اٹس ارجنٹ۔ ایک ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔
۔
۔
۔
۔
۔
آپ کا بلڈ گروپ چاہیے۔
پلیز منع مت کرنا
ورنہ!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!!
گدھا مر جائے گا۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

بلاگر حلقہ احباب