بلاگ پہ آمد کا بہت بہت شکریہ
Showing posts with label تعلیم. Show all posts

ببلو, رکشہ اور نومولود بچی

بھارت کے علاقے بھرت پور کے رہائشی رکشہ ڈرائیور ببلو معاشی اور سماجی لحاظ سےکمزور سہی لیکن ’بیٹی‘ ان کے لیے ایک نعمت ہے۔

ببلو دلت ہیں اور بھرت پور میں سائیکل رکشہ چلاتے ہیں۔ انہیں گزشتہ ایک ماہ سے اپنی نومولود بیٹی کو سینے سے لگائے بھرت پور شہر میں رکشہ چلاتے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس نوزائیدہ کے پیدا ہوتے ہی ماں کا سایہ اٹھ گیا۔گھر میں کوئی اور نہیں جو اس ننّھی پری کا خیال رکھ سکے۔

ہوا کے تھپیڑوں اور رکشے پر جھولتي زندگی کی مشکلات نے اس ننھی پری کو بیمار کر دیا۔ وہ دو دن سے بھرت پور کے سرکاری ہسپتال میں داخل ہے۔

ببلو، ننھی بیٹی اور رکشہ، انسانی رشتوں کی ایسی مثلث بناتے ہیں جس سے بیٹی کو نظر انداز کرنے والے اس معاشرے میں امید کی کرن دور سے ہی نظر آتی ہے۔

ببلو اور ان کی بیوی شانتی کو گزشتہ ماہ ہی پندرہ سال بعد پہلی اولاد کے طور پر بیٹی نصیب ہوئی تھی۔ مگر جلد ہی اس ننھی پری کو ماں کے سکھ اور شفقت سے محروم ہونا پڑا۔

ببلو نے بتایا کہ خون کی کمی کے باعث شانتی کی حالت بگڑی اور وہ زچہ بچہ دونوں کو ہسپتال لے گیا۔

ببلو کا کہنا تھا ’ڈاکٹر نے خون لانے کے لئے کہا، میں خون لے کر آیا، لوٹا تو پتہ چلا کہ شانتی کی سانس ہمیشہ کے لیے اکھڑ گئی، میری آنکھوں کے آگے اندھیرا پھیل گیا‘۔

’خود کو ننھی بیٹی کی خاطر سنبھالا‘، یہ کہتے کہتے ببلو کی آنکھیں بھر آئیں۔ انہوں نے بتایا کہ کس مشکل سے انہوں نے بیوی کی آخری رسومات کے لیے پیسے جمع کیے۔

اپنی بیوی کی موت کے بعد بیٹی کی پرورش کی ذمہ داری ببلو پر آن پڑی۔ انہوں نے بیٹی کو کپڑے کے جھولے میں ڈال کر اپنی گردن سے لٹکا لیا۔

بھرت پور نے یہ منظر دیکھا ہے جس میں ببلو رکشے چلا رہا ہے، گلے میں نومولود بیٹی کو لٹکائے ہوئے ہے اور پیچھے سواریاں بیٹھی ہیں۔ ببلو کہتا ہے ’ہمدردی کے الفاظ تو بہت ملے، لیکن اسے کوئی مدد نہیں ملی۔ رشتہ داروں نے بھی کوئی مدد نہیں کی‘۔

ببلو کے کندھے پر بوڑھے والد کی ذمہ داری بھی ہے۔ وہ کہتے ہیں ’کبھی کبھی کرایے کے کمرے میں والد کے ساتھ بیٹی کو چھوڑ جاتا ہوں، بیچ بیچ میں اسے کھلانے لوٹ آتا ہوں۔ یہ شانتی کی امانت ہے، اس لیے میری ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے‘۔

ببلو کا ایک کمرے کا گھر کرایے کا ہے۔ وہ پانچ سو روپے ماہانہ کرایہ دیتا ہے۔ پھر ہر روز اسے تیس روپے رکشے کے لیے کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ ان مشکلات کے درمیان ببلو رکشا چلا کر بیٹی کے لیے باپ کی ذمہ داری بھی نبھا رہا ہے۔

ببلو کا کہنا ہے کہ ’شانتی تو اس دنیا میں نہیں ہے لیکن میری خواہش یہ ہے کہ اس کی وراثت پھولے پھلے، میرا خواب ہے اسے بہترین تعلیم ملے۔ ہمارے لیے وہ بیٹے سے بھی بڑھ کر ہے‘۔

بہت سے لوگ اپنی لڑکی کو لاوارث چھوڑ جاتے ہیں کیونکہ انہیں بیٹی بوجھ لگتی ہے لیکن ببلو کی کہانی بتاتی ہے بیٹی کو پالنے کے لیے ہستی اور حیثیت ہونا ضروری نہیں۔ بس باپ کے دل میں اس کی خواہش ہونا کافی ہے۔ بشکریہ بی بی اسی اردو
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

پاکستانی اور امریکی مسلمان میں فرق

پاکستانی اور امریکی مسلمان میں فرق

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

طبیب کی نصحیتیں

طبیب کی نصحیتیں
حجاج بن یوسف نے اپنے دور کے مشہور طبیب سے فرمائش کی کہ اسے طب کی کچھ اچھی اچھی باتیں بتائے۔


اُس مشہور طبیب نے کہا؛۔
  1. گوشت صرف جوان جانور کا کھاؤ۔
  2. جب دوپہر کا کھانا کھاؤ تو تھوڑا ٹائم سو جاؤ اور شام کا کھانا کھا کر چلو، چاہیے تمہیں کانٹوں پر چلنا پڑے۔
  3. جب تک پیٹ کی پہلی غذا ہضم نہ کر لو دوسرا کھانا نہ کھاؤ، بھلے تمہیں تین دن ہی کیوں نہ لگ جائیں۔
  4. جب تک بیت الخلاء نہ جاؤ، سونے کے لئے مت لیٹو۔
  5. پھلوں کے نئے موسم میں پھل کھاؤ، جب موسم جانے لگے تو پھل کھانا چھوڑ دو۔
  6. کھانا کھا کر پانی پینے سے بہتر ہے کہ زہر پی لو یا پھر کھانا ہی نا کھاؤ۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

سکہ باقاعدہ

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک گیر مالیاتی خواندگی کا پروگرام شروع کیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک معلوماتی کتابچہ “سکہ باقاعدہ“  (پیسے کا بہتر استعمال) کے نام سے سٹیٹ بینک آف پاکستان کی ویب سائٹ پر اردو اور انگریزی زبان میں موجود ہے۔

تمام نئے اور چھوٹے کاروباری احباب سے گذارش ہے کہ وہ اس کتابچہ کا ضرور مطالعہ کریں تاکہ آپ روزمرہ کا مالی لین دین کا بہتر ریکارڈ رکھ سکیں اور کسی مالی بے ضابطگی (فراڈ) سے بچ سکیں۔

سکہ باقاعدہ کا مطالعہ مندرجہ ذیل لنک سے کیا جا سکتا ہے۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

پاکستان 600 افغان طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے لئے وظائف دے گا

پاکستان 600 افغان طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے لئے وظائف دے گا 
حکومت پاکستان مالی سال 13-2012ء کے دوران 600 افغان طلبہ کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لئے وظائف فراہم کرے گی۔


سکالر شپ کے حصول کے خواہشمند طلبا ء کا تحریری امتحان ہفتہ کو کابل میں پاکستانی سفارتخانہ میں ہوا۔
پاکستان سال 2009ء سے وزیراعظم پاکستان کی طرف سے افغان طلباء کے لئے سکالر شپ سکیم کے تحت سکالر شپ فراہم کر رہا ہے۔
حکومت پاکستان دوران تعلیم افغان طلباء کے تمام اخراجات بشمول ٹیوشن فیس، رہائش، کھانے پینے کے علاوہ افغانستان سے پاکستان اور واپسی کے سفری اخراجات بھی فراہم کرے گی۔
اس سکیم سے اب تک 1500 سے زائد افغان طلباء مستفید ہو رہے ہیں، سکیم کے تحت دونوں ہمسایہ ممالک کے عوامی رابطوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

سات شہزادوں کی کہانی

سات شہزادوں کی کہانی 
اس تصویر میں سات شہزادے ہیں۔ یہ تمام شہزادے دو مختلف ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔


تصویر نمبر 1 میں نظر آنے والے شہزادے کا تعلق برطانیہ سے ہے۔ یہ برطانیہ کے شاہی خاندان کا چشم و چراغ ہے۔ اس کا ملک حالت جنگ میں نہیں لیکن اس کے ملک کا ایک اور ملک ارجنٹائن کے ساتھ تنازع چل رہا ہےیہ اپنی خوشی سے اس سال کے شروع میں محاذ جنگ پر پہنچا۔ 6 ہفتے وہاں تعینات رہا۔ خود ہیلی کاپٹر اڑا کر اپنے وطن کے فوجیوں کے ساتھ میدان جنگ میں شامل ہوا۔

تصویر نمبر 2 میں نظر آنے والے شہزادے کا تعلق بھی اول الذکر شہزادے کے ساتھ ہے، یہ اس کا چھوٹا بھائی ہے۔ اس نے بھی سخت فوجی ٹریننگ حاصل کی اور سنہ 2007ء میں اپنے وطن کے 9500 فوجیوں کے ساتھ افغانستان کے میدان جنگ میں 10 ماہ تک اپنی خوشی سے تعینات رہا۔ وہاں اگلے مورچوں پر جنگ لڑتا رہا۔ 10 ماہ بعد اسے زبردستی واپس بلا لیا گیا۔ اب بھی اس کا کہنا ہے کہ وہ جلد از جلد دوبارہ افغانستان جا کر اپنا مشن مکمل کرنا چاہتا ہے۔
کیا اس کے بغیر اس کے ملک کے فوجی جنگ لڑنے سے انکاری تھے؟
ہرگز نہیں ، وہ صرف دکھانا چاہتا تھا کہ وطن کی خاطر عیش بھری زندگی کو قربان کر سکتا ہے۔

باقی پانچ شہزادوں کا تعلق ایک ملک پاکستان سے ہے۔ جو اس وقت حالت جنگ میں ہے اور چاروں طرف سے دشمنوں سے گھرا ہوا ہے۔ اس ملک پر آئے دن ڈرون حملے ہوتے ہیں، خود کش حملے جہاں کا معمول ہیں، جس کی فوج کے ہزاروں جوان جامِ شہادت نو ش کر چکے ہیں۔

کچھ عرصہ پہلے کی بات ہےکہ اس ملک کے سینکڑوں فوجی جوان سلالہ چیک پوسٹ حملے میں شہید کر دیئے گئے۔ کسی شہزادے کے دل میں اپنے وطن کے سرفروشوں کے لئے درد کی لہر نہ اٹھی۔ کچھ ہی دنوں بعد 139 فوجی جوان گلیشئر کے نیچے دب کر شہید ہو گئے۔ لیکن ۔۔۔۔ کسی شہزادے کو اپنے عیش و آرام سے اتنی فرصت نہ ملی کہ جا کر اس جائے حادثہ کا دورہ ہی کر سکتا ۔
 ان کا تعلق کسی شاہی خاندان سے تو نہیں۔۔۔لیکن ٹھاٹ کسی بھی شاہی خاندان سے زیادہ ہیں۔ ان کی زندگی کا مقصد وطن کی خاطر جان قربان کرنا نہیں بلکہ صرف اقتدار اور پیسہ ہے۔

یہ سب کچھ دیکھ کر مجھے بتایئےکہ کیا آپ کا رب سے شکوہ کرنا مناسب ہےکہ وہ اس امت پر مہربان نہیں ہے؟
اور کیا اس ملک پر کوئی ڈرون حملے کی جرات کر سکتا ہےجس کے شاہی خاندان کے نوجوان اپنی آزادی کی حفاظت کے لئے جان تک دینے کو تیار ہوں؟   از دیوانہ مجنوں

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

ہم صرف امریکہ کے فرنٹ لائن اتحادی ہیں

سیدھی سے بات ہے زندہ رہنے کے لئے کھانا ضروری ہے۔ سانس لیتی جو مخلوق سبزی، چارہ شوق سے کھاتی ہے وہ سبزی خور کہلاتی ہے اور جس کی نبض چلنے کا دارومدار محض گوشت پے ہوتا ہے وہ مخلوق گوشت خور کہلاتی ہے۔ بھوک انسان کے قابو میں نہیں، اس کے سامنے جو کچھ بھی آئے وہ ہڑپ کر جاتا ہے اس لئے ہمہ خور کہلاتا ہے۔ جو کچھ نہیں کھاتا وہ کوئی ولی، درویش ہا پھر شوگر کا مریض ہی ہو سکتا ہے۔
ہمہ خوری کے باوجود انسان کی گوشت خوری اور سبزی خوری کا تناسب نکالا جائے تو اس کی شرح ٧٠ اور ٣٠ کی بنتی ہے۔ گوشت انسان کے لئے مرغوب ہو چکا ہے جس کی وجہ سے آلودگی نے بھی اس چسکے کا گھر دیکھ لیا ہے جو انسان کو لگ چکا ہے۔ ابتداء جانوروں کے کچے گوشت سے ہوئی جو آہستہ آہستہ آلودہ ہونا شروع ہو گئی۔ نیوٹریشنسٹ بتاتے ہیں کہ جتنی غذائیت، لذت، وٹامنز اور طاقت کچے یا نیم بریاں گوشت میں ہوتی ہے وہ مکمل پکے ہوئے یا گلے ہوئے گوشت میں نہیں ہو سکتی۔ انسان یہی کچا گوشت عرصہ دراز تک کھاتا رہا، آج بھی مچھیرے بھون کر یا پکا کر مچھلی کھانے کو مچھلی کی توہین سمجھتے ہیں، وسطی افریقہ کے بہت سے قبائل آج بھی کچا گوشت کھاتے ہیں یا زیادہ سے زیادہ دھوپ میں خشک کیا ہوا گوشت کھانے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔
وقت نے چند قدم مزید لئے۔ گوشت آگ پر براہ راست بھون کر کھایا جانے لگا، اس سے لذت میں اضافہ ہوا لیکن اس کی تاثیر اور وٹامنز مرنے لگے۔ بھنے ہوئے گوشت کے بعد ہنڈیا میں ڈال کر گوشت کو گھی میں بگھار دیا جانے لگا، اس سے بھی چسکے میں تو اضافہ ہوا لیکن وٹامنز اور غذائیت اسی قدر کم ہو گئے۔ بگھارے ہوئے گوشت میں بعدازاں تیز مرچوں، پیاز لہسن اور ادرک کا اضافہ کر کے اس کی طاقت مزید کم کر دی گئی۔ کھانوں نے مزید ترقی کی۔ مرچ، ادرک، پیاز، ٹماٹر کے ساتھ گھی میں بگھارے ہوئے گوشت کی اصل غذائیت کا مزید ستیاناس مارنے کے لئے گرم مصالحوں نے امریکہ جیسا کردار ادا کیا۔ اب ہنڈیا میں جب چوب چینی، دار چینی، چاروں نمک، ہلدی، فلفل سیاہ، زیرہ سفید، کالی مرچ، مرچ کلاں، لونگ، دھنیا اور دیگر مصالحہ جات کا پسا ہوا آمیزہ ڈالا جاتا ہے تو اس کی لذت میں تو اضافہ ہو جاتا ہے لیکن غذائیت، وٹامنز اور طاقت کا وہی حال ہوتا ہے جو عراق میں صدام حسین یا افغانستان میں طالبان کا ہوا۔
کھانے کا مزید بیڑا غرق ان ککوں، باورچیوں، شیفوں اور فارغ بیٹھی گھریلو خواتین نے کیا جنہوں نے پگمنٹس میں ذرا ذرا سی تبدیلی کر کے لاکھوں رنگ بنا دیئے۔ کمپیوٹر کی انسٹنٹ آرٹسٹ، کورل ڈرا یا اڈوب فوٹو شاپ کھول کر دیکھ لیں چاروں پگمنٹس کے باہمی ملاپ اور ان کے تناسب کو بدل بدل کر آُپس میں ملاتے جائیں تو پچیس لاکھ کے قریب رنگ بن جاتے ہیں۔ گوشت کے ساتھ بھی یہی ہوا، کھانے کی کوئی بھی کتاب اٹھا کر دیکھ لیں سب سے زیادہ ڈشیں گوشت کی ہی ملتی ہیں، ادرک گوشت، آلو گوشت، بھنڈی گوشت، کریلے گوشت، ٹینڈے گوشت، دو پیازہ گوشت، دال گوشت، بینگن گوشت، چنے گوشت وغیرہ وغیرہ حتٰی کہ گوشت گوشت کی ڈش بھی موجود ہے۔
کہا جاتا ہے کہ مغل شہشاہ اکبر اعظم اور شہزادہ سلیم کے دور کا باورچی گوشت کی اڑھائی ہزار مختلف ڈشیں پکا سکتا تھا۔
گوشت کی آلودگی کا یہ سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔ آئے روز کوئی نہ کوئی نئی ڈش تیار ہوتی ہے اور انجام کار یہ ہوا کہ دن بدن امراض معدہ، اور دل کے مریضوں کی تعداد بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ شوگر کنٹرول سے باہر ہوتی چلی جا رہی ہے، کولیسٹرول قابو میں نہیں آتا، بلڈ پریشر نے الگ ناک میں دم کر رکھا ہے، مستقل سر درد کی شکایت بڑھ گئی ہے، جگر خون پیدا کرنا بھولتا جا رہا ہے اور ہر چوتھا آدمی جوڑوں کے درد کا رونا روئے جاتا ہے۔ معدے کا السر اور بواسیر اس کے علاوہ ہیں۔ انسان کا یہ انجام صرف اس لئے ہوا ہے کہ یہ لذت اور چسکا بڑھانے کے چکر میں گوشت سے سارے وٹامنز اور غذائیت نچوڑے چلا جا رہا ہے۔ قدرت کی دی ہوئی نعمتوں میں اپنی فنکاری کرنے کا یہ انجام تو ہونا ہی تھا۔ آپ کسی بھی چیز کو آلودہ کر کے دیکھ لیں ان کا انجام برا ہی ہو گا۔ مثال کے طور پر بدلتے ہوئے موسموں کو لیجیئے یہ قدرت کا سب سے حسین اور انمول تحفہ ہے۔ گرمیوں میں ائیر کنڈیشنروں نے گرمی کو آلودہ کر دیا اور سردیوں میں ہیٹروں نے سردی کو آلودہ کر دیا۔ انٹرنلی ائیر کنڈیشنڈ یا انٹرنلی ہیٹیڈ دفاترمیں کام کرنے والے اور کنٹرول ٹمپریچر کی گاڑیوں میں سفر کرنے والے افراد کی قوت مدافعت ایک عام آدمی کے مقابلے میں پچاس فیصد کم ہوتی ہے۔
بات صرف کھانے پینے اور موسموں تک محدود رہتی تو کوئی بات نہیں تھی لیکن ہم نے تو بہت آگے بڑھ کر موسمی تہواروں کو بھی آلودہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ کبھی شب برات پر رات بھر عبادت کی جاتی تھی اور موم بتیاں روشن کی جاتی تھیں لیکن آج آتش بازی کو ہی دعاؤں کی قبولیت کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے۔ کبھی عید کو محمود و ایاز کا مٹانے کا تہوار سمجھا جاتا تھا لیکن آج عیدیں محض غریب طبقے کے لئے خود کشی اور خود سوزی کا تہوار بنتی جا رہی ہیں۔ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا تہوار انتہائی عقیدت و محبت کا تہوار ہے لیکن اس میں بھی جھمر اور دیگر لوازمات شامل کر کے اسے آلودہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے یوم پیدائش پر ڈھول کی تھاپ پر جھمر مارتے اور ایک دوسرے پر نوٹ نچھاور کرتے ہوئے میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ خدارا آنے والی نسلوں کے لئے عقیدت، محبت اور احترام کے ان تہواروں کو تو اپنی اصل شکل میں رہنے دیں، انہیں تو آلودہ نہ کریں۔
کسانوں کے لئے جشن بہاراں کا تہوار تھا لیکن اس کی نسبت بسنت سے جوڑ کر اسے بھی آلودہ کر دیا گیا اور یہ ویلنٹائن ڈے تو کبھی ہمارے تہواروں میں شامل ہی نہ تھا۔
قارئین کرام! خود شکار کر کے کچا گوشت کھانے والے شیر کو صرف پانچ مرتبہ کسی فائیو سٹار ہوٹل کا “آلودہ“ یعنی روسٹ گوشت کھلا دیں تو وہ بلی بن جاتا ہے اور پھر عمر بھر کسی پر ہاتھ اٹھانے کے قابل نہیں رہتا۔ یہ ایام ویلنٹائن اور بسنت بھی آلودہ تہوار ہیں۔ ہم نے اگر اپنے تہواروں کی حفاظت نہ کی اور یہ آلودہ تہوار پانچ مرتبہ ہی منا لئے تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں بلی بننے سے روک نہیں سکے گی۔
لیکن ٹھہریے مجھے یہ بتائیے، کیا پہلے ہم شیر ہیں؟؟
جی نہیں ہم تو صرف امریکہ کے فرنٹ لائن اتحادی ہیں۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

کیا ہم بے ایمان قوم ہیں؟

We are corrupt as a nation.
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

خود کو اور اپنے گھر والوں کو بچاؤ

خود کو اور اپنے گھر والوں کو بچاؤ 
زنا کرنے والا شخص فقط فحش عمل ہی نہیں کرتا!!!! 
بلکہ وہ دوسروں کا مقروض بن جاتا ہے۔ 
اور یہ قرض اُسکی اولاد یا اہلخانہ میں سے کوئی نہ کوئی چکا ہی دیتا ہے۔

 حضرت امام شافعی فرماتے ہیں 
پاک دامن رہو، تمھاری عورتیں بھی پاک دامن رہیں گی۔ 

بیشک زنا ایک قرض ہے اگر تم نے اسے لیا تو ادائیگی تیرے گھر والوں سے ہو گی۔ 
اگر تو عقلمند ہے تو اس کو جان لے۔ (جو زنا کرتا ہے وہ اپنے گھر کی طرف راستہ دیتا ہے)
 اگر آپ اپنے لئے ایک نیک بیوی اور نیک بیٹی کی آرزو رکھتے ہو تو دوسروں کی ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کو بھی عزت دینا سیکھو کیونکہ قرآن پاک میں ہے کہ
“ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لئے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لئے ہیں۔ اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لئے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لئے ہیں۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

نماز پڑھنے کے پیسے

اگر نماز پڑھنے کے بھی پیسے ملا کرتے تو آج ہم سب پانچ وقت کے نمازی ہوتے۔
یقین نہیں رہا کسی بھی مسلمان کو کہ اللہ بھی موجود ہے۔

Is the End Of Eman
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

اللہ کو راضی کر لو

کسی نے کہا بچپن ایک بار ملتا ہے، خوب کھیل کود کر لو۔
کہیں سے آواز آئی جوانی دیوانی ہے سارے مزے لوٹ لو۔
کوئی بولا کالج اور یونیورسٹی لائف ایک بار ملتی ہے خوب موج میلہ کر لو۔
لیکن!!!!!
افسوس کوئی یہ نہیں کہتا کہ زندگی ایک بار ملتی ہے اللہ کو راضی کر لو۔


تمام عالم اسلام کو حج اور عید کی خوشیاں مبارک ہوں
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

مچھر کا خوف

جو لوگ دل میں اللہ کا خوف نہیں رکھتے، اللہ اُن کے دل میں اُس چیز کا خوف پیدا فرما دیتا ہے جسے انسان حقیر سے حقیر سمجھتا ہے۔
جیسا کہ
“مچھر“
آج انسان ایک مچھر کے ہاتھوں اتنا بےبس ہو چکا ہے کہ اپنے گھر میں بھی محفوظ نہیں۔
یہ وبا نہیں اللہ کا عذاب ہے
مگر ہم لوگ بجائے اس کے کہ اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں، سچے دل سے توبہ کریں، ہم اپنی ناقص عقلوں سے اس سے بچاؤ کے طریقے ڈھونڈ رہے ہیں۔
آج جتنا رش ہسپتالوں میں ہے اگر یہی رش مسجدوں میں آ جائے تو انشاءاللہ یہ عذاب اللہ کی رحمت سے ٹل جائے گا۔
اللہ ہم سب کو ہدایت عطا فرمائے ۔۔۔ آمین
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

وقار

اپنے جسم کے وقار کے لئے اپنا سر اونچا رکھو اور اپنی ذات کے وقار کے لئے اپنی نظریں اور لہجہ ہمیشہ نیچا رکھو!!!

اللہ پاک آپ کو ہمیشہ دنیا و آخرت میں عزت دے ۔۔۔ آمین
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

End of Love




کسی نے ماں کے کندھے پر اپنا سر رکھ کر پوچھا:
"ماں" کب تک اپنے کندھے پے سونے دے گی؟

ماں نے ہنستے ہوئے کہا:
جب تک لوگ مجھے کندھوں پے نہ اٹھا لیں






مکمل تحریر اور تبصرے >>>

سوچ کا فرق

کنگ ایڈورڈ اور شاہ جہان، دونوں کی بیویاں ایک ہی بیماری سے فوت ہوئیں، دونوں ہی اپنی بیویوں سے بہت پیار کرتے تھے۔

لیکن سوچ کا فرق دیکھیں

شاہ جہان نے اپنی بیوی کی یاد میں اُس دور کے کروڑوں روپے خرچ کر کے تاج محل بنوایا۔

جبکہ

کنگ ایڈورڈ نے اپنی بیوی کی یاد میں میڈیکل کالج بنوایا تاکہ اُس کی بیوی جس بیماری سے فوت ہوئی اُس سے دوسروں کو بچایا جا سکے۔

سوچ کا یہی فرق قوموں کے عروج اور زوال کا سبب بنتا ہے۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

قصہ ایک مال دار کا

ایک شخص نے بہت مال جمع کیا تھا اور کوئی ایسی چیز نہیں تھی جو اس نے منگا نہ لی ہو۔ اس نے ایک عالی شان محل بنایا جس کے دو دروازے تھے۔ ان دروازوں پر غلام محافظ مقرر تھے۔ اس نے محل مکمل ہونے کے بعد اپنے عزیز و اقارب کی ایک شان دار دعوت کی۔ وہ ایک عالی شان تخت پر بیٹھا تھا اور لوگ کھانا کھا رہے تھے اور وہ دل میں کہہ رہا تھا کہ ہر چیز کا اتنا بڑا ذخیرہ جمع ہوگیا ہے کہ کئی سال تک خریدنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ یہ خیال دل میں تھا کہ ایک فقیر پھٹے پرانے کپڑوں میں اس کے دروازے پر آیا اور زور سے دروازے کو پیٹنا شروع کیا۔ غلام دوڑے ہوئے باہر آئے کہ یہ کون نامعقول ہے۔ غلاموں کے دروازہ کھولنے پر فقیر نے ان سے کہا کہ جاؤ! اپنے مالک کو میرے پاس بھیج دو۔ غلاموں نے کہا کہ وہ تیرے جیسے فقیر کے پاس کیوں آئیں گے؟ اس نے کہا کہ ضرور آئیں گے، اس سے جاکر تو کہو۔ غلام آقا کے پاس گئے اور سارا قصہ سنا یا۔ آقا نے کہا کہ تم لوگوں نے اسے مزہ نہ چکھایا۔ اتنے میں فقیر نے اور زور سے دروازہ پیٹنا شروع کردیا۔ غلام دربان پھر دروازے پر آئے۔ فقیر نے کہا کہ اپنے آقا سے کہو کہ میں موت کا فرشتہ (ملک الموت) ہوں، اس کی روح قبض کرنے آیا ہوں۔ یہ سن کر ان کے ہوش اڑ گئے اور آقا سے جاکر کہا۔ اب آقا کے اوسان خطا ہوئے، غلاموں سے کہا کہ اس سے کہو کہ فدیہ لے لے یا کسی اور کی روح قبض کرلے۔ اتنے میں فقیر اندر پہنچ گیا ۔اور بولا کہ میں تیری جان نکالے بغیر نہیں جاؤں گا۔ آقا نے کہا کہ یہ میرا سارا مال اسباب لے لے اور مجھے چھوڑ دے۔ پھر مال کی طرف منہ کرکے کہنے لگا کہ تجھ پر لعنت ہو ۔ تونے مجھے اپنے رب کی عبادت سے روک دیا اور اتنا وقت نہ دیا کہ میں یکسو ہوکر نماز پڑھ سکتا اور اللہ کی عبادت کرتا اور اللہ کی خوشنودی کے لئے غریبوں اور ضرورت مندوں کی مدد کرتا۔ اللہ تعلی نے مال کو بولنے کی قوت عطا کردی۔ مال کہنے لگا تو مجھ پر لعنت ملامت کیوں کرتا ہے۔ تو میری ہی وجہ سے بڑے بڑے سرداروں اور بادشاہوں تک پہنچ جاتا تھا جبکہ نیک لوگ دروازے ہی سے بھگادئے جاتے تھے۔ میری ہی وجہ سے تو حسین و جمیل عورتوں کی صحبت حاصل کرتا تھا۔ میری ہی وجہ سے تو بادشاہوں کی طرح رہتا تھا اور برائی کے کاموں میں رقم خرچ کرتا تھا۔ تو اگر خیر کے کاموں میں مجھے خرچ کرتا تو آج تیرے کام آتا۔ اس کے بعد ملک الموت نے اس کی روح قبض کرلی۔
تحریر - نا معلوم
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

Female Co-worker accused Aurat Foundation Official for Sexual Harassment

خواتین کے حقوق کے نام نہاد مرد محافظوں کا اپنے ہی ادارے کی ایک خاتون کو جنسی ہراساں کیے جانے کا انکشاف، متاثرہ خاتون نے عورت فاؤنڈیشن کی مرد انتظامیہ کے خلاف تحریری شکایت جمع کرا دی، مرد سی او او کی جانب سے پولیس ایف آئی آر کٹوانے سے باز رکھنے کیلئے ملزم کی عارضی معطلی کا ڈھونگ اور پراسرار تحقیقاتی کمیٹی کا قیام۔ انسانی حقوق اتحاد کا واقعے سے لاعلمی کا اظہار۔

 تحفظِ حقوقِ نسواں کی مشہورِ زمانہ تنظیم عورت فاؤنڈیشن جسکا سارا زور اسی بات پر ہوتا ہے کہ کسی طرح اسکو کوئی ایسا خواتین سے متعلق جھوٹا سچا کیس مل جائے جس کو اچھالنے سے پاکستان کو بدنام کیا جا سکے اور بدلے میں غیرملکی امداد کھری کی جائے، کے بارے میں حال ہی میں ایک ایسے شرمناک واقعے کا انکشاف ہوا ہے جس سے اس ادارے کا منافقانہ کردار مزید نکِھر کر بے نقاب ہوتا ہے۔

عورت فاؤنڈیشن کے اسلام آباد آفس میں دو ماہ قبل بھرتی ہونے والی خاتون نے اپنی تحریری شکایت میں اپنے باس عاصم خٹک پر مبینہ طور پر جنسی ہراساں کیے جانے کا الزام عاید کیا ہے۔ مقامی اخبار میں چھپنے والی رپورٹ کے مطابق عورت فاؤنڈیشن کا نیشنل کوآرڈینیٹر عاصم خٹک اپنی جونئیرخاتون کولیگ کو دفتری اوقات کے بعد بھی دفتر میں دیر تک رکنے پر مجبور کرتا تھا اور اس دوران جارحانہ انداز میں اظہارِ عشق کرنے کی کوشش کی گئی اور ناکامی پر متاثرہ خاتون کا منہ بند رکھنے ہر قسم کا حربہ آزمایا گیا جس میں ایموشنل بلیک میلنگ کرتے ہوئے خودکشی کی دھمکی تک شامل تھی۔ عورت فاؤنڈیشن کی مرد انتظامیہ نے خاتون کو آفیشل میٹنگ کا جھانسہ دے کر زبردستی ایک ریسٹورنٹ میں بھی بلایا جس پرخاتون کے سخت احتجاج ریکارڈ کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ واضح رہے کہ عورت فاؤنڈیشن کا عاصم خٹک اپنے آپ کو اے این پی کے راہنما اجمل خٹک کا رشتہ دار ظاہرکرتا ہے۔

اِس سارے وقوع میں عورت فاؤنڈیشن کے مرد سی او او نعیم مرزا کی اپنے پیٹی بھائی کو بچانے کیلئے کوششیں قابلِ دید ہیں جس نے متاثرہ خاتون کو پولیس میں ایف آئی آر کٹوانے سے باز رکھنے کیلئے عاصم خٹک کی عارضی معطلی کا نہ صرف ڈھونگ رچایا بلکہ ایک ایسی پراسرارتحقیقاتی کمیٹی بھی تشکیل دے ڈالی جسکے ارکان کا کسی کو علم ہی نہیں۔ اس سلسلے میں جب انسانی حقوق اتحاد جو کہ مختاراں مائی کیس میں میڈیا اور اعلی عدلیہ کے خلاف زہر اگلتا رہا، سے رابطہ کرکے حقائق جاننے کی کوشش کی گئی تو انکی جانب سے مکمل طور پر لاعلمی کا اظہار کیا گیا۔ شاید وہ اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ میڈیا ہی انکو "چراغ تلے اندھیرا" دکھائے اور عدلیہ سوموٹو ایکشن لیکر
انہیں باخبر کرے۔

دیکھنا اب یہ ہے کہ عورت فاؤنڈیشن اور انسانی حقوق اتحاد جو کے دور دراز علاقوں کی خواتین کو اپنے مزموم مقاصد میں استعمال کرنے میں خاصی مہارت رکھتا ہے وہ اپنے ہی ادارے میں کیے جانے والے بیہیمانہ واقعے سے کیسے نمٹتا ہے۔ آیا سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے ملزم کو حوالہ پولیس کرکے آزادانہ تحقیقات کراکر ایک اچھی مثال قائم کی جائے گی یا نعیم مرزا کی تشکیل شدہ تحقیقاتی کمیٹی کے ذریعے متاثرہ خاتون کو جھوٹا ثابت کرکے کیس کو رفع دفع کیا جائے گا۔ یہ تو وقت ہی بتائے گا لیکن مختاراں مائی، حلیمہ بھٹو اور اب اپنے ہی ادارے کی خاتون پر مجرمانہ حملے کی خبریں یہ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں کہ شاید عورت اس ظالم مرد معاشرے میں تو بچ جائے لیکن عورت فاؤنڈیشن میں نہیں۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

عبدالستار ایدھی احمدیوں کا ایوارڈ واپس کریں، جمعیت علماء برطانیہ

ویکفیلڈ (پ ر) جمعیة علماء برطانیہ کے قائدین مولانا عبدالرشید ربانی، مفتی محمد اسلم، مولانا اسلم زاہد، مولانا اسلام علی شاہ، مولانا امداد اللہ قاسمی، حافظ محمد اکرام، قاری ممتاز، قاری غلام نبی، مولانا قاری شمس الرحمن، مولانا ادریس، مولانا خورشید، مولانا خالد محمود حسین، مولانا رفیق احمد شاہ، مفتی خالد محمود، فیض الحسن، مفتی محمد حسین، قاری عبدالرشید رحمانی، مولانا محمد حسین، مولانا ابراہیم خان، مولانا عزیز الحق ہزاروی، مولانا نصیب الرحمن، مولانا جمیل احمد، بابو مشتاق، ایوب لہر، حاجی قمر عالم، مفتی عزیز الرحمن، حافظ انور، قاری حفیظ الرحمن، مفتی طارق، حافظ عمر فاروق، مولانا رشید راجہ، قاری محمد نیاز، ڈاکٹر اشرف لہر، مفتی طارق، شیر اعظم، مفتی طارق علی شاہ، قاری حضرت علی، مولانا شاہ رفیع الدین، مولانا عبدالشکور، حافظ صفدر و دیگر نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ اپنے آپ کو احمدی کمیونٹی کہنے والوں کا اسلام اور مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسلئے انہیں اسلام اور مسلمانوں کا نام استعمال نہیں کرنے دیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے بہادر اور نڈر قائد عوام مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں بغیر کسی دباؤ کے قائد ملت اسلامیہ مفتی محمود کی جانب سے پیش کردہ دلائل کے انبار کی روشنی میں تمام ممبران پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر مرزا غلام احمد قادیانی کو غیر مسلم قرار دیا تھا۔ انہوں نے مسلم ممبران پارلیمنٹ سے درخواست کی کہ وہ پارلیمنٹ کے ممبران اور وزرا کو ان کے بارے میں آگاہ کریں ۔انہوں نے کہا کہ عبدالستار ایدھی کے نمائندے نے ان سے ایوارڈ لیکر زیادتی کی ہے۔ اس لئے عبدالستار ایدھی کو فی الفور ایوارڈ واپس کردینا چاہئے۔ دریں اثناء ختم نبوت اکیڈمی لندن کے سربراہ مولانا عبدالرحمن باوا، ختم نبوت ایجوکیشن سینٹر برمنگھم کے مولانا امداد الحسن نعمانی، ختم نبوت سینٹر فارسٹ گیٹ لندن کے مولانا خالد محمد، اشفاق احمد، حاجی رفیق، یوکے اسلامک مشن علماء کونسل کے سیکرٹری مولانا اقبال اعوان، جمعیة العلمائے برطانیہ کے امیر قاری رضا الحق، مولانا گل محمد، مولانا احسان میر، قاری تصور الحق، مولانا قاسم، مولانا اکرام الحق خیری، اسلامک اکیڈمی مانچسٹر کے سیکرٹری مولانا مفتی فیض الرحمن اور برطانیہ بھر کے علمائے کرام اور آئمہ مساجد نے مرزا غلام احمد قادیانی کی جماعت کے پانچویں سربراہ مرزا مسرور کے پیس سمپوزیم کے خطاب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مرزا مسرور کو چاہئے کہ وہ دنیا میں امن قائم کرنے کی بات کرنے سے پہلے اپنے شہر چناب نگر میں امن قائم کریں۔ انہوں نے کہا کہ مرزا مسرور کو شکایت ہے کہ پاکستان کی اسمبلی نے مولویوں کے حق میں فتوے دیئے۔ ضیاء الحق مرحوم نے ان کے خلاف آرڈیننس نافذ کیا تویہ سب کچھ پاکستان کے مسلمانوں کے مطالبے پر کیا گیا اور انصاف کا تقاضا پورا کرتے ہوئے مرزا ناصر کو پارلیمنٹ میں آکر اپنا موقف پیش کرنے کا موقع فراہم کیا گیا اور پھر غیر مسلم اقلیت ہونے کا اعلان کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مرزا مسرور اور ان کی جماعت کو چاہئے کہ وہ امت مسلمہ کے فیصلے کو تسلیم کریں اور اسلام اور مسلمانوں جیسے ٹائٹل کا استعمال نہ کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عقیدہ ختم نبوت اسلام کی بنیاد اور ہمارے ایمان کا حصہ ہے اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔ بشکریہ جنگ


مکمل تحریر اور تبصرے >>>

کِھلتے دِل، کُھلتے خیال

محبت اِک حسین شے ہے مگر ہم اُسے نہیں جانتے
حسن کی تلاش فہم سے ہے مگر ہم اُسے نہیں مانتے

ہم اِس دُنیا میں آتے ہیں۔ زندگی میں سیکھتے ہیں اور پھر حاصل علم دوسروں کو سِکھا کر حقیقی راہ پر دُنیا سے کنار ہ کشی فرماتے ہیں۔ایسے ہی ہم ہر برس کچھ نیا جاننے کی کوشش میں بہت کچھ اپناتے ہیں۔ آہستہ آہستہ ہم اپنا علم نئی نسل کو منتقل کرتے ہیں۔ زندگی میں ہم جو کچھ پاتے ہیں۔اُس کو بالآخر بانٹ کر جانا ہے، ورنہ ہمارے بعد ورثہ بٹ جاتا ہے۔ ہر وُہ شےءجس کی فطرت بانٹنا ہے، وُہ ہمیں زندگی کی حقیقت کی طرف لیجاتی ہے۔ علم بانٹو، محبت بانٹو، خوشی بانٹو، یہی حقیقی دولت ہے، بانٹو اور بڑھاؤ۔

انسان عمر بھر حسن کی تلاش میں رہتا ہے۔ حسن کیا ہے؟ ہر انسان کا اپنا اِک معیار ہے۔ اطمینانِ قلب اگر حسن ہے تو تسکینِ ذہن لطفِ افکار ہے۔ نگاہئِ حسن جس کو ملی، اُسکی دُنیا ہی بدلی۔ حسن ذات سے باہر ہے، کسی شےءکی مرکوزیت میں حسن تو ہو سکتا ہے، ممکن ہے وُہ آپ کا قلبی لگاؤ ہو۔ قلبی واردات تو آپ کو ذات سے باہر لاتی ہے اور کسی اور ذات کی طرف لیجاتی ہے اور مخلوق خدا سے محبت کرنا سکھاتی ہے۔ خلقِ خداکی محبت آپ کو اللہ کی محبت کا رستہ دکھلاتی ہے۔ اللہ سے محبت کا رشتہ جب جڑ جائے تو خوف خوف نہیں رہتے بلکہ محبت بنتے ہیں۔

حسن کا تصور ملنا خدا کی بہت بڑی دَین ہے۔ زندگی کی حقیقت میں خوبصورت رنگ انسان کے دِلکش رویے اور خیالات ہیں جو اَمن اور سکون قائم رکھتے ہیں۔

انسان اپنی زندگی آئیڈئیل تھیوری یا ماڈل کے تحت گزارنا چاہتا ہے۔ ہمارے فلسفہ زندگی کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ ہم خامی کا خانہ اپنی تھیوری میں نہیں رکھتے۔ اپنے پیش کردہ ماڈل میں اگر حقیقی رنگ بھر دیں تو زندگی کو زندگی کے سبق سے سیکھا جاسکتا ہے۔

ہم تنقیدی نگاہیں رکھتے ہیں، حالات کی بہتری حوصلہ اور رہنمائی سے ہوتی ہے۔ ہم زندگی کو بڑے ہی محدود کینوس سے دیکھتے ہیں۔ انسانی چہرہ پر موجود تاثرات کو نہیں سمجھتے۔ شک کی نگاہ سے دوسروں کو دیکھتے ہیں۔ مگر غیر جانبدار ہو کر شک دور نہیں کرتے ۔

اکثر لوگ خود کو سیکولر کہتے ہیں۔ افسوس! میرا معاشرہ دو متضاد انتہاپرست گرہوں کی ضد کی شدت کے باعث بَٹ رہا ہے۔ کون جانے! سیکولر بننے کے لیے خود کو پہلے صوفی بنناہوتا ہے۔ لفظ صوف سے مراد کسی کے متعلق بغض ، حسد، کینہ اور نفرت دِل میں نہ رکھنا۔ اپنی مرضی مار دینا، اپنوں کی مرضی چھوڑ دینا اور حق بات کا بلا تعصب فیصلہ کرنا۔ اصل میں صوف ہے۔

ہمارے رویے اس لیے بھی بگڑتے ہیں ہم چھوٹے دِل رکھتے ہیں اور بند نگاہوں کی طرح تنگ ذہنوں میں اُلجھے رہتے ہیں۔

انسانی فطرت ہے کہ وُہ خواہشات رکھتا ہے، ایسے ہی خواہشات کی تکمیل غلطیوں کا مرتکب بناتی ہے۔ فطری خواہشات انسان کی معصوم خواہشات ہوتی ہے۔ ایسے ہی فطرتی غلطیاں معصوم انسانی غلطیاں ہوتی ہے۔ معصوم غلطیوں کو درگزر کریں بوقت ضرورت مصنوعی سرزنش سے غلطی کا احساس ضرور دلائیںمگر دِل کی میل صاف رکھیں۔ دِل بڑھنے لگے گا۔ برداشت آجائے گی۔

زندگی کو اپنے نقطہ نظر سے دیکھے مگر حالات کو دوسروں کی نگاہ سے دیکھے۔ ہم اختلافی مسائل کے بارے میں ایک رائے رکھتے ہیں۔ جن کے بارے میں آپ مخصوص سوچ (نفرت)رکھتے ہیں۔ اُن سے اُنکے خیالات بھی تو جانئے۔ تعصب سے پاک غیر جانبدارانہ سوچ ذہن کھولتی ہے۔ بڑھتے دِل، کُھلتے ذہن؛ بصیرت پاتے ہیں۔

گزشتہ برس میرے لفظوں نے اشعار کا روپ دھارا
نہیں جانتا ، کس کی دُعا سے میرا خیال خوب بڑھا

قیادت کو بصیرت کو چاہیے۔ خیالات ذاتیات میں محو ہو جائیں تو خیالات کا محور بصیرت سے محروم ہوتا ہے۔ قیادت حالات کے بھنور میں دھنستی رہتی ہے۔

حسن زندگی کو توازن دیتا ہے۔ زندگی گزارنا کوئی آئیڈئیل تھیوری نہیں۔ دوسروں کو سمجھ کر ردعمل یوں دینا کہ معاملات سلجھ جائیں۔ خوبی کو خامی کے ساتھ قبول کرنا، حسنِ سلوک ہے۔ دوست ہماری مرضی کے مطابق نہیں ہوتے۔ ہم اُن کو خامیوں سمیت قبول کرتے ہیں۔ اُنکی خامی ہمارے لیے خامی نہیں رہتی۔

حسن الجبرا کی ایک ایسی مساوات ہے، جس کو ہم مساوی رکھتے ہیں۔ مصور تصویر میں متوازن رنگ بھرتا ہے، شاعر شعر کا وزن مدنظر رکھتاہے، مصنف جملوں میں تواز ن لاتا ہے، گلوگار آواز کے اُتار چڑھاؤ میں توازن رکھتا ہے، متواز ن غذا صحت لاتی ہے، متوازن گفتگو سوچ کو نکھارتی ہے، متوازن عمل شخصیت بناتے ہیں۔ انسان کا حسن عمل اور سوچ کا توازن ہے تو انسانی شخصیت خوبیوں اور خامیوں کا مرقع ہے۔ ایسے ہی معاشرتی مساوات معاشرے کا حسن ہے۔

اپنی زندگی کی نئی بہار کے موقع پر گزشتہ برس کی وُہ نئی نگاہ پیش کی۔ جو مجھ کو سلطان شہاب الدین غوری سے عقیدت مندانہ ملاقات کے دوران ملی۔

لوگ اُنکے مرقد کو صرف ایک مقبرہ سمجھتے ہیں۔
راہ ِ عقیدت میں جو نگاہ ملی، ہم اُس کومزار مانتے ہیں۔

یا اللہ آج میری زندگی کا نیا برس شروع ہوچکا ہے، ہم سب پر اپنا کرم فرمانا۔ نئی راہوں کے نئے دروازے کھولنا۔ ہمارے خیالات میں حسن کی نگاہ اور محبت کا جذبہ برقرار رکھنا۔ ہماری راہ منزل میں اپنی رہنمائی جاری رکھنا۔ ہم سب کو اعلیٰ اخلاق کا نمونہ بنانا۔ آپ سب کو کل سے شروع ہونے والا نیاعیسوی سال نیک تمناؤں اور دُعا کے ساتھ مبارک ہو۔
(2010 دسمبر 31) فرخ نور بتاریخ

نوٹ:
میرے لیے آپ سب دُعائے خیر فرمائیے گا۔ زندگی رہی تو اپریل میں نئی تحریر پر ہماری ملاقات ہوگی۔ گزشتہ پانچ برسوں میں پہلا موقع ہوگا کہ آپ کو نئے سال کا پہلا آرٹیکل 5 یا 6 جنوری کو نہیں ملے گا۔میرے امتحانات ہے، آپ سب دُعا کرنا۔
اس برس میں نے اپنے تمام جاننے والوں کو اُنکی تاریخ پیدائش کے مواقع پر دُعاؤں کے پیغامات بھیجے۔ مگر سات فیصد افراد کی تاریخ پیدائش کا مجھے علم ہی نہ تھا۔ لہذا میں اُن سے معذرت خواہ ہوں کہ اُن کو ای میل نہ کرسکا۔ ایسے ہی جن افراد کو عید کے مواقع پر ایس ایم ایس ملے ، اُن کے ساتھ خوشی کا جذبہ بانٹا۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

دُنیا میں اَمن

بقول خواجہ دل محمد دل
شبنم لٹا رہی ہے پھُولوں میں بھر کے موتی۔
بِکھرے ہیں کیا چمن میں ہر سُو سحر کے موتی۔
اٹھکھیلیوں سے تیری بادِ صبا یہ ڈر ہے۔
مٹی میں مل نہ جائیں سب برگِ تر کے موتی۔

امن کی تلاش میں کوئی ہماری امان میں نہیں۔ ایمان تو ہیں مگرمَن سکون میں نہیں۔دُنیا کی ہر تعلیم انسان کے مَن میں اَ من کے گُلشن کھلاتی ہے۔بہار میںکھلتے پھولوں کی خوشبو، چمن کوخوب مہکاتی ہے۔

مسائل کو حل کرنے کے لیے طویل مباحث کی ضرورت نہیں۔ اگردرکار ہے تو صرف ایک نکتہ کی پہچان محبت،کدورت نہیں۔جیسے کل زندگی ایک ہی نقطہ پر گھوم کرآغاز و اختتام ہوئی۔کلمہ توحیدکے نکتہ ئِ تسلیم سے زندگی میں راہ سلیم آئی۔جس سے انسان کی انفرادی زندگی کے ساتھ ساتھ اجتماعی زندگی بھی حسین ہوئی ۔جس روز ہم رضا ئے الہی کے تابع ہوئے، اُسی لمحہ زندگی اُلجھنوں سے نکل کر سلجھن بن گئی۔بقول خواجہ میر درد:

شادی کی اور غم کی ہے دُنیا میں ایک شکل
گل کو شگفتہ دِل کہو تم یا شکستہ دِل

آج اس دُنیا میں سکون و امن کیوں نہیں؟ تعلیم بہت ہے مگر رویوں میں بد امنی کیوںہیں؟ کہیںمعاش کی فکر نے ہمیں اُلجھا یا ،کبھی تعیش کی تمنا میںمضطرب مزاج بنایا۔ عجب بات ہے تمام مذاہب اخلاقیات کی تعلیم دیتے ہیں۔ مگر ہمارے رویے اخلاقیا ت سے عاری کیوںٹھہرتے ہیں؟ معاشروں میں رعونت پروان چڑھ چکی، مسلکی اختلاف پر مسائل کیوں؟ عبادت گاہوں میں نفرت کی اُٹھان اُٹھی۔ محبت نفرت میں کیسے ڈھلی؟ مفاد نے رنگت کچھ یوں بدلی۔دُنیا میں بکھیڑے دوسروں میں اپنے واسطے پیدا کیے۔

کچھ عاقل فرماتے ہیں، اپنے اندر امن پیدا کیجیے، دُنیا میں سکون دیکھ لیجیے۔ انسان کی ذات میں امن مذہب کی اخلاقی تعلیم اُبھارتی ہے۔انسانی شخصیت کی مرصع سازی مثبت تہذیبی سوچ، تربیت اور رویوں سے بنتی ہے۔جو معاشرہ کو رواداری،برداشت،محبت اور صداقت کا مرقع بنا کر اُجاگر کرتی ہے۔

  تعلیم صرف کسی سکول میں حاصل کرلینے کا نام نہیں۔ خاندانی ماحول سے معاشرتی ماحول میں جو رویے ہم پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ وُہ ہماری سوچ اور اذہانی کیفیات پر مسلسل منفی و مثبت تبدیلی پیدا کر تے ہیں۔آج میں جس معاشرہ میں رہتا ہوں۔ وُہ دولت کمانے سے جڑا ہے۔ تعلیم انسان اپنے آپ کو بنانے اور بدلنے کے لیے حاصل نہیں کر رہا،بلکہ ڈگریاں معاشی حالات بدلنے کے لیے اکٹھی کررہا ہے۔ اسی وجہ سے معاشرتی حالات تہذیبی اوراخلاقی تنزلی کا شکار ہیں۔

شیر شاہ سوری اِک اَن پڑھ مگر مثالی حکمران تھا۔ مذہبی رواداری و عدل میں اپنی مثال آپ تھا۔ عوام سے ٹیکس وصول کرنے میں سختی برتتا تھا۔رعایا کے جان و مال، عزت و آبرو کا خود کو ذمہ دار سمجھتا تھا۔ اگر کسی گاؤں میں کوئی چوری ہوتی تو تمام سرکاری اہلکار جیب سے نقصان پورا کرتے ۔ اگر کوئی قتل ہوتا اور قاتل گرفت اور سراغ سے بچ رہتا تو سربرائہ گاؤں کے سر قتل تصور ہوتا اور سزا کا حق دار ٹھہرتا۔

اِک مرتبہ شہزادہ پان منہ میں ڈالے ، ہاتھی پر سوار ہوکر شہر سے گزرا ۔ اس دوران ایک کسان کی بیوی کو غسل خانہ میں نہاتا دیکھ کر اُس پر پان کی پچکار پھینک ڈالی۔ وُہ غریب خاتون شرم سے پانی پانی ہوگئی۔ کسان نے ڈرتے ڈرتے شہنشائہ ہند شیر شاہ سوری سے فریاد کی۔ بادشاہ بڑا نادم ہوا۔ آخر یہ انصاف کیا، شہزادہ کی بیوی جو کہ بادشاہ کی بڑی بہو بھی تھی۔ اُس ہی غسل خانہ میں نہائے گی اور کسان ہاتھی پر سوار ہوکر گزرتے ہوئے اُسی طرح پان کی پچکار پھینکے گا۔ کسان نے فوری طور اپنی درخواست واپس لے لی ۔اس خیال سے کہ بادشاہ کی بہواُ س کی بھی عزت ہے۔

شیر شاہی عہد میں باہر سے جب کوئی تاجر ہندوستان میں داخل ہوتا تو دو فیصد ٹیکس تجار ادا کرتے تھے اور حکومت اُنکے تمام جان ومال کے تحفظ کی ذمہ دار ہوتی تھی۔کسی بھی نقصان کی صورت میں حکومت خصارہ پورا کرنے کی ذمہ دار تھی۔ پشاور سے بنگال تک پانچ مختلف شاہراہیں بنوائیں، بیشمار شاہرات مرمت بھی ہوئیں۔ ان تمام گزرگاہوں کے کنارے سایہ دار اور پھل دار درخت سہولت سفر کی غرض سے لگوائے۔ ہر چند کوس کے فاصلے پر مساجد و مدارس کے ساتھ سرائیں بنوائیں۔ عوام کے تحفظ کے لیے پولیس پیٹرولیم (گشت) کو اس قدر چاک و چوبند رکھا جاتا کہ ایک اکیلی خاتون رات کے اندھیرے میں بلا خوف و خطر سفر کر سکتی تھی۔

امن کے لیے سربراہان مملکت اور انتظامیہ پر لازم ذمہ داری ہے کہ عدل و انصاف، روزگار اور معاشی سہولیات میسر کریں۔

کبھی کبھی قومی مفادات کمزور قوتوں میں بدامنی رکھتے ہیں۔ بڑی طاقتیں خود تو امن کی زندگی بسر کرتی ہے۔ مگر امن کے نام پر کمزور اقوام پر یلغار جاری رکھتی ہے۔ وسائل کے حصول کی جنگ ہمیں آپس میں لڑائے ہوئے ہیں۔ کشمکش کی یہ پالیسی کیا دُنیا کی خارجہ پالیسی بدلنے کی جرات رکھتی ہے؟ دُنیا میں بدامنی دو طرح کے خطوں میں پیدا کی گئی ہے۔ جہاں وسائل کی دولت ریل پیل رکھتی ہے، وہاں سیاسی ناسور بویا گیا۔ جو ممالک ذہانت کی دولت رکھتے ہیں، اُن میں علمی اور علاقائی تنازعات پید اکر رکھے ہیں۔ کسی کے جذبات کو کسی اور کے خلاف بڑھکایا جا رہا ہے۔

حالت تو یہ کہ مجھ کو غموں سے نہیں فراغ  دِل سوزش درونی سے جلتا ہے جوں چراغ
(سینہ تمام چاک ہے، سارا جگر ہے داغ ہے مجلس میں نام میرا میر بے دماغ (میر تقی میر

دُنیا میں یہ امن کیوں قائم نہیں؟ ایک خاندان میں دو اَن پڑھ عورتیں جو سازشیںبُنتی ہیں۔ اپنے اَنجانے وقتی خیال کی تکمیل کی خاطررشتوں میں خلیج پیدا کرتی ہیں۔ ویسے ہی دُنیا کی بین الاقوامی سیاست ہے۔

اگرتعلیم رشتوں میں پڑی دراڑوں کو بھر سکتی ہے تو دُنیا میں امن بھی لاسکتی ہے۔ یہ تب ہی ممکن ہے جب آپ کی سوچ مثبت اور تعمیری ہو۔ ہم سب اپنی اپنی کپیسٹی میں خود کو امن سے رکھے اور ماحول کو بھی پُر امن بنائے۔بقول حیدر علی آتش

اپنے ہر شعر میں ہے معنیِ تہ دار آتش وُہ سمجھتے ہیں جو کچھ فہم و ذکا رکھتے ہیں
کمیں ہر معنی روشن، مکاں ہر بیتِ موزوں ہے غزل کہتے نہیں، ہم چند گھر آباد رکھتے ہیں

ادیب ،شاعر جنسیاتی موضوعات کی بجائے حقیقی محبت کی پرتیں کھولیں، علماءو فقہاءمسلکی مباحثی اختلافات کو ہوا دینے کی بجائے ادائیگی ارکانِ اسلام و اخلاقی تعلیم دیں، اساتذہ کرام علمی فوقیت کے ساتھ ساتھ عملی تاثیر کا اثر بھی پیدا کریں۔ والدین سکول میں داخل کروا کر ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے کی بجائے عملی تربیت کا فریضہ سر انجام دیں۔ کیونکہ ایک صحت مند دماغ اَمن قائم رکھتا ہے۔ دولت کی کمائی کی بجائے ، مخلص لوگوں کو کمائے اور رشتوں کے احترام کو نبھائے ۔ یہ رحمت خداوندی ہے۔

امن کی ابتداءاپنے مَن سے شروع کیجیے،ذمہ داریوں کو اللہ کی پوچھ گچھ کے خوف سے احسن طریقہ سے نبھائے، دوسروں کو دیکھ کر جلنے کی بجائے، اُن  کے ساتھ مل کر تعمیری عمل کا حصہ بنے۔ دُنیا کی ہر قوم کو اُس کی روایات ، اقدار اور مذہب کے فخر اور شان سے جینے دیں۔ میرا گھر میں جو خوبصورت رویہ بھائی کے ساتھ ہے۔ ویسا خوب سیرت رویہ میرا ہمسایوں کے ساتھ بنے۔ یہی عمل ریاستوں کی سطح پر درکار ہے۔ دُنیا میں چند تخریبی ذہن اپنے مفاد کے حصول کی خاطر اس راہ میں رکاوٹ ہے۔ بقول میر تقی میر:

چلتے ہو تو چمن کو چلئے، سنتے ہیں کہ بہاراں ہے
پات ہرے ہیں، پھول کھِلے ہیں، کم کم بادو باراں

(فرخ نور)

 مشکل الفاظ کے معنی
برگ: پتا
تجار: تاجر کی جمع
ذکا: ذہانت
سرائیں: ریسٹ ہاؤس
مرصع: نگینوں کا جڑاؤ، آراستہ کرنا، خوش بیانی
مرقع:مجموعہ، فوٹو البم، خطاطی کے قطعات (نمونہ) رکھنے کی کتاب ،ایسی مرمت شدہ شے جس میں پیوند لگے ہو
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

بلاگر حلقہ احباب