میرا اصل وطن مجھے واپس کر دو
جدہ، سعودیہ عرب میں مقیم میرے ایک عزیز محمد ریاض کو وطن سے بچھڑے ہوئے ٢٠ سال ہو گئے ہیں۔ اگرچہ انہیں وہاں ہر سہولت حاصل ہے اور وہ اطمینان سے اپنے روز و شب گزار رہے ہیں مگر ان کا دھیان آج بھی وطن کے گلی کوچوں میں بھٹکتا پھرتا ہے۔ اس پاکستانی نے پاکستانی بلاگ کے نام ایک میل میں جس حبِ وطنی، درد مندی اور خلوص کا اظہار کیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنے وطن کے بارے میں کیا سوچتے ہیں اور یہاں کے حالات پر کتنے سوگوار ہیں۔ محمد ریاض صاحب کی عمر کا ایک حصہ سعودیہ عرب میں گزرا ہے اور بظاہر ان کے ناطے اپنی مٹی سے منقطع ہو چکے ہیں لیکن وہ اس مٹی کی خوشبو سونگھنے کے لئے کتنے بے چین ہیں اس کا احساس ان کی تحریر پڑھ کر ہی کیا جا سکتا ہے۔ میرا دل چاہتا ہے اور کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ وطن واپس آ جاؤں اس دیس میں جہاں میرا بچپن اور لڑکپن ہنستے کھیلتے، اچھلتے کودتے اور معصوم شرارتیں کرتے گزرا ہے اور جن شہروں۔ قصبات اور دیہات کے لوگ ایک ہو کر رہتے تھے۔ دکھ سکھ میں شریک ہوتے تھے اور عمروں تک ساتھ نبھاتے تھے۔ میں وہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھوں۔ وہ گلیاں، وہ بازار اور وہ باغات جہاں میں اپنے ہم جماعتوں کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلا کرتا تھا اور پھر ہم سب مل کر کسی درخت کے نیچے امتحانوں کی تیاری کرتے تھے۔ جب کبھی محلے کا کوئی بزرگ ادھر سے گزرتا تھا تو احترام سے کھڑے ہو جاتے تھے اور ان کی ڈانٹ سر جھکا کر سنتے تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ کسی گھر میں کوئی مرگ ہو جاتی تو پورا محلہ سوگ میں ڈوب جاتا کئی روز تک چولہے نہیں جلتے تھے اور کسی گھر سے گانے کی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ کیا خوبصورت تھے وہ دن جب پہلوانی اور پہلوانوں کا بہت چرچا تھا۔ جگہ جگہ اکھاڑے قائم تھے اور بڑے بڑے پہلوان چمکیلے جمسوں کے ساتھ شام ڈھلے تک کسرت کیا کرتے تھے۔ ہم ان شہ زور پہلوانوں کے داؤ پیچ دیکھتے تھے اور خوش ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ لڑکوں اور نوجوانوں کا کوئی دوسرا مشغلہ اور شوق نہیں تھا۔ وہ منظر مجھے آج بھی یاد ہے کہ وطن عزیز سے جدائی کے موقع پر چھوٹے بڑے، اپنے پرائے دوست احباب سب کی آنکھیں پرنم تھیں اور وہ ہمیں الوداع کہنے کے لئے ریلوے سٹیشن پر جمع تھے اور ہماری کامیابی اور خیریت سے واپسی کی دعائیں مانگ رہے تھے۔ بیس سال بعد جب کبھی دل میں واپسی کا خیال آتا ہے تو اندر سے ایک آواز اٹھتی ہے ‘تم وطن چلے بھی جاؤ مگر وہاں کون تمہیں پہچانے گا؟ کون تمہیں دیکھے گا؟ اور کون تمھاری سنے گا؟ کوچہ بازار، چہرے مہرے سب کچھ بدلے بدلے، اجڑے اجڑے نظر آئیں گے۔ باغات کے ان ٹھنڈے ٹھار گوشوں پر ڈرگ مافیا اور جرائم پیشہ افراد نے قبضہ کر رکھا ہے، جہاں ہم امتحانوں کی تیاری کیا کرتے تھے ان گلی کوچوں میں موت کے سائے پھیلے ہوئے ہیں۔ جہاں ہم آنکھ مچولی کھیلا کرتے تھے وہاں اب لوگ چھوٹے بڑے کی تمیز بھول چکے ہیں۔ ہمسائے ایک ہی دیوار کے سائے میں اجنبیوں کی طرح رہتے ہیں اور اپنے اپنوں کے خون کے پیاسے ہو گئے ہیں۔ اکھاڑے اجڑ چکے ہیں، فن پہلوانی دم توڑ چکا ہے۔ درس گاہیں بارود خانے بن گئی ہیں۔ عبادت گاہوں کا احترام ختم ہو گیا ہے۔ انسان کی قدروقیمت باقی نہیں رہی۔ آنکھ سے حیا ختم ہو گئی ہے۔ فرقہ پرستی، نسلی تعصب اور لسانی اختلاف نے معاشرے میں زہر گھول دیا ہے۔ میں جاؤن تو کہاں جاؤں؟ ملوں تو کس سے ملوں؟ کہوں تو کس سے کہوں؟ سنا ہے اب کوئی محرم رہا ہے اور نہ کوئی محرم راز نظر آتا ہے؟ اس معاشرے کا حسن نظامت، پاکیزگی، محبت، چاہت، احترام اور دلنوازی و دلداری سب کچھ ختم ہو گئی ہے۔ جسے میں پیچھے چھوڑ آیا تھا مگر میری مجبوری یہ ہے کہ میرے تمام رشتوں کی جڑیں اسی مٹی سے پیوند ہیں اور یہ جڑیں کٹ نہیں سکتیں۔ میں ضرور واپس آؤں گا مگر اس سے پہلے اپنے ہم وطنوں، دانشوروں، سیاست دانوں اور حاکموں سے میری استدعا ہے میرا اصل وطن مجھے واپس کر دو۔


