Deadlock


Deadlock - Concept with Beautiful Example


آجکل کی ہماری سیاست خاص کر صدر مشرف اور میاں نواز شریف کی یہی صورتحال ہے جو اس تصویر میں نظر آ رہی ہے، ہر بار شکار کو آسانی سے ہڑپ نہیں کیا جا سکتا۔ کبھی کبھی شکار کانٹا بن کر شکاری کے گلے میں اٹک جاتا ہے، ایسے موقعوں پہ شکاری اپنی زندگی بچانے میں ہی عافیت سمجھتا ہے اور ترنت وہاں سے بھاگ نکلتا ہے۔
١٠ستمبر کو بھی کچھ ایسی ہی صورتحال پیش آنے والی ہے۔ یہ صدر مشرف اور اس کی لش پس وردی کے لئے بہت بڑا امتحان ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس کانٹے کا کیا بنتا ہے یہ حلق میں اتارا جا سکتا ہے کہ نہیں ۔۔۔۔ آپ کا کیا خیال ہے؟

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

سارہ منیر کی سالگرہ

میری پیاری بیٹی سارہ منیر اللہ کے فضل و کرم سے پورے تین سال کی ہو گئی ہے۔ بیٹیاں اللہ کی رحمت ہوتیں ہیں اس لئے پیاری بھی بہت لگتی ہیں۔ سارہ جوں جوں بڑی ہوتی جا رہی ہے اس کے معصوم اور نرم گرم سوال بھی بڑے ہوتے جا رہے ہیں، اس لئے اب کوئی کام کر لے تو فورا کہتی ہے “دیکھو بابا میں بڑی ہو گئی ہوں“ اور بابا اس کی اس معصوم ادا پر صدقے واری ہو کے رہ جاتا ہے۔
١٤ اگست کی رات کو بازار میں بڑی بھیڑ ہوتی ہے اور اہم عمارات کو دلہنوں کی طرح سجایا ہوا تھا میں طٰہ اور سارہ کو گھماتے  ہوئے جب الفلاح بینک اور میزان بینک کی عمارتوں کے سامنے پہنچا (دونوں عمارتیں واقعی دلہن کی سجی سنوری ہوئیں تھیں) تو سارہ نے کہا
بابا آج کس کی شادی ہے؟  (اس نے اب تک شادی بیاہ پر ہی عمارتوں کو سجا ہوا دیکھا تھا)
آج پاکستان کی شادی ہے بابا، ١٤ اگست ہے نا، آزادی کا دن اس لئے
کس کا ١٤ اگست؟
ہمارا ١٤ اگست، پاکستان کا ١٤ اگست
خوش ہو کے، ''ہمارا ١٤ اگست ہے، ہمارا پاکستان ہے۔''






بیٹیاں پھولوں کی طرح ہوتی ہیں
بیٹیوں کے بارے میں دو نظمیں








تپتی زمیں پر آنسوؤں کے پیار کی صورت ہوتی ہیں

چاہتوں کی صورت ہوتی ہیں

بیٹیاں خوبصورت ہوتی ہیں

دل کے زخم مٹانے کو

آنگن میں اتری بوندوں کی طرح ہوتی ہیں

بیٹیاں پھولوں کی طرح ہوتی ہیں

نامہرباں دھوپ میں سایہ دیتی

نرم ہتھیلیوں کی طرح ہوتی ہیں

بیٹیاں تتلیوں کی طرح ہوتی ہیں

چڑیوں کی طرح ہوتی ہیں

تنہا اداس سفر میں رنگ بھرتی

رداؤں جیسی ہوتی ہیں

بیٹیاں چھاؤں جیسی ہوتی ہیں

کبھی بلا سکیں، کبھی چھپا سکیں

بیٹیاں اَن کہی صداؤں جیسی ہوتی ہیں

کبھی جھکا سکیں، کبھی مٹا سکیں

بیٹیاں اناؤں جیسی ہوتی ہیں

کبھی ہنسا سکیں، کبھی رلا سکیں

کبھی سنوار سکیں، کبھی اجاڑ سکیں

بیٹیاں تو تعبیر مانگتی دعاؤں جیسی ہوتی ہیں

حد سے مہرباں، بیان سے اچھی

بیٹیاں وفاؤں جیسی ہوتی ہیں






پھول جب شاخ سے کٹتا ہے بکھر جاتا ہے
پتّیاں سوکھتی ہیں ٹوٹ کے اُڑ جاتی ہیں
بیٹیاں پھول ہیں
ماں باپ کی شاخوں پہ جنم لیتی ہیں
ماں کی آنکھوں کی چمک بنتی ہیں
باپ کے دل کا سکوں ہوتی ہیں
گھر کو جنت بنا دیتی ہیں
ہر قدم پیار بچھا دیتی ہیں
جب بچھڑنے کی گھڑی آتی ہے
غم کے رنگوں میں خوشی آتی ہے
ایک گھر میں تو اُترتی ہے اداسی لیکن
دوسرے گھر کے سنورنے کا یقیں ہوتا ہے
بیٹیاں پھول ہیں
ایک شاخ سے کٹتی ہیں مگر
سوکھتی ہیں نہ کبھی ٹوٹتی ہیں
ایک نئی شاخ پہ کچھ اور نئے پھول کھِلا دیتی ہیں۔۔۔۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

ججو' ہمیں نجات دلاؤ

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

نظریہِ پاکستان

فرخ نور صاحب کی پاکستانی بلاگ پر یہ پہلی تحریر ہے، فرخ نور کا تعلق لاہور سے ہے اور یہ آج سے پاکستانی بلاگ پر لکھا کریں گے، ان کی تحریر پڑھنے سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ  موصوف لفظوں کو چن کر ان کا استعمال کرنا اچھی طرح جانتے ہیں۔ آپ ان کی تحریر پڑھیئے اور اپنی آراء سے آگاہ کیجیئے، کیونکہ کسی بھی لکھاری کے لئے قارئین کی آراء ہی اس کا سب سے قیمیتی اثاثہ ہوتا ہے۔


 


نظریہِ پاکستان
نظریہ کسی قوم کی بنیاد ہوتا ہے۔ پاکستان کی بنیاد اسلام ہے۔ موجودہ دور میں ایک فضول بحث چل پڑی ہےکہ دوقومی نظریہ ایک ضرورت تھی، سیاسی نعرہ تھا۔ ایسا کہنےوالےلوگ نہ تو دور اندیش ہیں اور نہ ہی عاقبت اندیش۔ وہ علمی حوالے سےکچھ نہیں جانتے۔ بس وہ لوگ قابل رحم ہیں۔ دو قومی نظریہ ہماری تاریخ ہی نہیں بلکہ ہمارے شاندار مستقبل کی جانب ایک واضح اشارہ ہے۔
آج کےمغرب مزاج دانشور نظریہِ پاکستان پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ ”اس میں دوسروں کے لئے برداشت نہیں ہماری تاریخ کا آغاز ٧١٢ء سےہو یا ٥٠٠٠ء ہزار برس قبل سے، ہم نےطرز تعمیر میں ترقی نہیں کی، موسیقی و مصوری میں کوئی جدت رونما نہیں ہوئی۔ نظریہ پاکستان کےخلاف کوئی بات کہی نہیں جاسکتی، ورنہ یہ جرم تصور کیا جاتا ہے“ (١)۔ یہ تمام وُہ سوالات ہےجنکی کوئی بنیاد نہیں۔
مغرب میں بھی ایک نظریہ ہے۔ Democracy جو عرب شاہی ریاستوں کو برداشت نہیں کر پاتا۔ اُن پر مسلسل جمہوریت کا زور دیا جاتا ہے۔ آزادی رائے بھی اُنکے ہاں ایک نظریہ ہے۔ جس میں اخلاقیات نام کی کوئی چیز موجود نہیں اور اِسکےخلاف بات کرنےوالا پابند سلاسل ہی ہوتا ہے۔ مغرب اپنےنظریات ہم پر زبردستی ٹھونس رہا ہے۔ مگر ہم نےاپنا نظریہ، وطن عزیز کی حدود سےباہر مسلط نہیں کیا۔ ہمارا نظریہ ایسا نہیں جو کسی پر مسلط ہو سکے۔ یہ قبولیت کا عمل ہے۔ اِ س میں شدت تو نہیں مگر no compromise بھی ہے۔
نظریہِ پاکستان: ”ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں۔ جو کبھی یکجا نہیں ہوسکتی۔ لہذٰا برصغیر کےمسلمانوں کےلئے ایسا خطہ ہو جہاں پر وُہ آزادی سے اِسلام کی تعلیمات کےمطابق زندگی بسر کرسکیں۔ جہاں پر دیگر اقلیتوں کو تحفظ حاصل ہو۔
اس مکمل نظریہ میں کوئی بھی لفظ ایسا نہیں جو شدت رکھتا ہو۔ اسلام عقیدہ ہے اور عقیدہ پر کوئی compromise نہیں ہوسکتا۔ بلکہ اس نظریہ میں جارحانہ رویہ ہے ہی نہیں۔ بلکہ یہ دفاع کا نتیجہ تھا اور آج دفاع کی ہی علامت ہیں۔ مسلط کرنےکی بات ہی نہیں بلکہ شخصی آزادی کا واضح اظہار ہے۔
جو افراد آج اس نظریہ کے بدلنےاور مسخ کرنےکی تگ و دو میں ہیں۔ وُہ نہیں جانتے کہ اِسکو تبدیل کرنے کے لئے اُنکو نہ جانےکیا کچھ کرنا پڑےگا۔ حتی کہ اِسکو مسخ کرنے کے لئے ایک صدی بھی کم ہیں۔ کیونکہ یہ کرلینا ناممکن ہے۔
ہماری بنیاد دو قومی نظریہ تھی اور پاکستان کا مطلب لاالہ الااللہ (اللہ کےسوا کوئی نہیں)۔ پاکستان اور اسلام کےمعنٰی ایک ہی ہوئے۔ ہر سچا مسلمان محب وطن پاکستانی بھی ہے (محب وطن ہونے کے لئے ہمیں کسی certificate کی ضرورت نہیں۔ جو اللہ اور اسکے رسول سےمحبت کرتا ہے وُہ پاکستان سے بھی محبت کرتا ہے۔ جو اللہ پر یقین رکھتا ہے وُہ پاکستان کے وجود پر یقین رکھتا ہے۔)۔گویا مسلمان اور محب وطن ایک ہی ہے۔ مراد پاکستان کا مطلب کیا ؟ پر حملہ، عقیدہِ اسلام  پر حملہ ہے۔ جو کوئی بھی مسلمان گوارہ نہیں کرسکتا۔
پاکستان کا پرچم اسی بات کا عکاس ہے۔ سفید تارہ: روشنی اور علم کا اظہار ہے۔ جو اسلام کی بنیادی تعلیم ہے۔ تارہ کے پانچ کونے، پانچ ارکان اسلام: توحید، نماز، روزہ، زکواٰة اورحج ہیں۔ پانچ کونوں والا تارہ صبح کےستارہ کا اظہار کرتے ہوئے قرآن کو بیان کرتا ہے۔ سفید ہلال: قمری مہینہ اور اسلام کی علامت ہے۔ ٤٥ درجے پر ہلال کو خم دینے سے مراد نیا طلوع ہونے والا چاند، تعمیرِ ترقی اور ایک نئی قوم کا دُنیا پر ابھر جانےکا علمبردار ہے۔ سبزرنگ: مسلمانوں کی اکثریت اور سفید رنگ اقلیتوں کی علامت۔ سبز اور سفید کا امتزاج امن اور ترقی کرنےکی علامت ہے۔
یہاں سبز اور سفید رنگ واضحتاً دو قومی نظریہ اور ہلال و ستارہ لاالہ الااللہ کا واضح اظہار ہے۔ کتنا وسیع ترجمہ ہمارے پرچم کا ہے۔ جو دُنیا کےکسی اور پرچم کا نہیں۔ یہ بات یہاں تک محدود نہیں دو قومی نظریہ کا واضح عکاس بھارتی پرچم بھی ہے۔
چکرا: اِسکو عظیم بُدھی بادشاہ ( موریا خاندان کا تیسرا فرمانروا) وردھامنا اَشوک اعظم (٢٧٢ قبل مسیح تا٢٣٢ قبل مسیح) سےمنسلک کیا جاتا ہے جو ٩١ویں صدی میں موہنجوداڑو اور ہڑپا کی کھدائی سےملا تھا۔ یہ بدُھ مت کا مذہبی نشان ہے۔ یہ پہیّہ ہندوستانی مذاہب کے چکری زندگی (سات جنموں) کے نظریہ کا اظہار ہے۔ پھر اس چکرا کے بیچ ٢٦ لکڑی کےستون ہیں جن کے باعث پہیہ گھوم سکتا ہے۔ ٢٦ ہندوستانی ریاستوں اور صوبوں کی علامت ہے۔ نارنجی رنگ ہندومت اور اِس سےاَخذ مذاہب (بُدھ مت، جین مت، سِکھ مت) کا ترجمان ہے۔ سبز رنگ ہندوستانی مسلمان ایک قوم کےطور پر اور سفید رنگ اس بات کا علمبردار ہے کہ ہندوستان میں امن رہے اور دونوں مذاہب اسلام اور ہندو اتحاد کےساتھ رہیں۔
لہذٰا دو قومی نظریہ کو ختم کرنےسے پہلے ہندوستانی پرچم کو بدلا جائے۔ جو آج بھی ہندو اور مسلمانوں کو دو الگ قومیں ثابت کر رہا ہے۔
بات پرچم کی حد تک ہی نہیں پچھلے ٦٠ برس دو قومی نظریہ کا واشگاف اظہار ہے۔ پاکستان کا ایٹمی طاقت بننے کا ہر مرحلہ دو قومی نظریہ کےباعث ہی ہوا۔ ١٩٤٧ء میں جو سرحد کی ایک لکیر کھینچی گئی تھی وُہ ایک لکیر نہیں تھی۔ بلکہ اِس ملک کی سرحدوں کی بنیادوں میں پاکستان سےمحبت کرنےوالوں کا خون موجود ہے۔ یہ حد خون سےکھینچی گئی تھی۔ یہ کسی جنگ کا خون نہیں تھا۔ امن اور سکون چاہنے والوں کا خون تھا۔ یہ بات پڑھنے والوں کے لئےمعمولی سی ہوگی کہ خون کی لکیر کیا معنی دیتی ہے۔ جب وقت آئےگا تب اِس خون کی بھی سمجھ آ جائےگی۔ بات اتنی ہی کافی ہے ”قربانی کبھی رائیگاں نہیں جاتی“  تاریخ انسانی کی سب سے بڑی ہجرت کا وسیع پیمانے پر قتل عام دو قومی نظریہ اور نظریہِ پاکستان کا عملی نمونہ تھا۔
محمدبن قاسم کا فتح سندھ نظریہِ پاکستان ہی تھا۔ محمود غزنوی کا ہندوستان پر ٧١ حملےکرنا دو قومی نظریہ ہی تھا۔
لفظ پاکستان کیا ہے؟ پاک وطن، سبز ہلالی پرچم پاک وطن۔ دارالحکومت: اسلام آباد، یہ بھی مستقبل کی ایک عظیم الشّان داستان ہے۔ ذرا پاکستان اور اسلام آباد کو دوقومی نظریہ اور لاالہ الااللہ کے تناظر میں دیکھے تو اللہ نے ہر چیز بڑی بامعنی اِس ملک کےلئےرکھ چھوڑی ہے۔ اسلام آباد لاالہ الااللہ کےمعنی شفاف الفاظ میں دے رہا ہے۔
پاکستان اور اسلام ایک دوسرے کے متضاد ہو ہے نہیں سکتے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا تصور اقتدار اعلٰی (اس ملک کا حقیقی حکمران اللہ تعالٰی ہی ہے، اقتدار کےاختیارات امانتًا استعمال کیے جاتے ہیں) اسلامی تشخص کا ترجمان ہے۔ صدر اور وزیراعظم مسلمان ہونا، نظریہِ پاکستان ہی ہے۔ یہ ملک اللہ نے ہی بنایا اور اس کی تخلیق کے پیچھے ایک بہت بڑا راز ہے۔
آج ہمیں صرف اور صرف اپنا اخلاقی معیار بلند کرنےکی ضرورت ہے۔ کیونکہ ہمیں ایک مہذب ترین قوم کی حیثیت سے دُنیا پر حکمرانی کرنی ہے۔ مجھےاقبال کا ایک شعر یاد آرہا ہی۔


سبق پھر پڑھ عدالت کا، صداقت کا، شجاعت کا
لیا جائےگا کام تجھ سےدُنیا کی امامت کا

یہی وُہ اللہ کا راز ہے جسکو عیاں ہونا باقی ہے۔ مرکز بدلتے ہیں اور نیا مرکز ہمارا منتظر ہے۔ بس ہمیں اِس قابل بننا ہے۔
ایک ہجرت اللہ کےحکم سے حضرت موسٰی کےدور میں ہوئی، ایک ہجرت مکہ سےمدینہ میں ہوئی اور ایک ایسی ہی ہجرت ١٩٤٧ء میں ہوئی۔ کہتے ہیں تاریخ اپنے آپکو دہراتی ہے۔ (History repeats itself) تاریخ گواہ ہے جب کٹھن حالات کے باعث اللہ کےدین کی خاطر ہجرت کی گئی تو وُہ نئی پناہ گاہ دُنیا کا مرکز بن گئی ۔ محبت رواداری اورتہذیب دُنیا کو سکھلائی گئی۔ پیغام ِ اسلام تیزی سےدُنیا میں پھیلا۔
Vexilology (پراچم کا علم) کےمطابق صرف چار ممالک کے جھنڈے متوازی لٹکائے جاتے ہیں۔ عمودی لٹکایا جانا ممنوع  ہے مگر دیگر تمام ممالک کےعَلم عمودی لٹکائے جا سکتے ہیں۔ سعودی عرب کلمہ طیبہ کی بنیاد پر، برازیل اپنےقومی نصب العین ORDEM & PROGRESSO ، سری لنکا اپنےسیلون حکمرانوں کے آزاد دور (١٨١٥ء) میں شیر اور تلوار کی علامت کے باعث اور پاکستان کسی تحریر کے باعث نہیں، ایک مقدس نظریہ کے باعث ہے۔ دراصل ان تمام کےmotto بالکل وسط میں ہیں۔ یہ بات یہاں تک ہی نہیں۔ نظریہ پاکستان ہمارے فنِ تعمیر ات میں بھی نمایاں ہے۔ مینار پاکستان کی Archeology کو سمجھیئے تو وہاں بھی ہلال اور تارہ وہی ترجمانی کر رہے ہیں۔ جو الحمراء اور ایوان اقبال کےکانفرنس ہال عکاسی کر رہے ہیں۔ سامعین کی نشستوں کی ترتیب ہلال کی مانند ہے۔ سٹیج کہیں صرف تارہ تو کہیں پانچ کونوں والےتارہ کی واضح علامت ہے۔ موسیقی و مصوری میں ہم سے یہ سوال کیا جاتا ہے کہ اِن شعبوں میں ہم نےکوئی نئی جدت پیدا نہیں کیں۔ نعت گوئی اور قوالی ہمارے ہاں کی ہی جدت ہے، جو نظریہ اسلام  بھی ہے۔ غزل بھی اس زمرہ کا ایک حصہ شمار ہو جاتی ہے۔ مصوری میں فن خطاطی ایک نئی جدت ہے۔ فریر ہال صادقین کی خطاطی، اسلم کمال کلام اقبال کی مصورانہ تشریح کےسلسلہ میں (میرے خیال سے ابھی بقید حیات ہیں۔)، حافظ محمد سدیدی مرحوم کی خطاطی کا کمال قطب الدّین ایبک کا مزار، مینار پاکستان، مسجد شہدائ، جامع مسجد منصورہ لاہور، حافظ محمد دہلوی کے ہمارے آغازی نوٹوں اور سکوں پر خطاطی اور خانہ کعبہ کے غلاف پر خطاطی ہمارے اس شعبہ میں ترقی یافتہ ہونےکی علمبرداری ہے۔ اسکے علاوہ بھی حنیف رامے مرحوم، خورشید عالم گوہر آج کےنامور ترین خطاط ہیں۔ ہماری مساجد، تقریبی ہال، عجائب گھر اِن نادر نمونوں سے بھرپور ہیں۔ جن کا ذرہ ذرہ پاکستان کے ہی معنی دے رہا ہے۔
اعتراض کرنے والےاعتراض کرتے ہیں وُہ فن کی خوبی سے نا آشنا ہوتا ہے۔ میں پاکستان کے کس کس موضوع کو بیان کروں ۔ ٢٧ رمضان المبارک خود ایک کہانی کا پیش خیمہ ہے جو زوال سےعروج کی جانب کے سفر کا اظہار ہے، دُعا کا نتیجہ بھی ہے۔ اس ملک کا ذرہ ذرہ پکار رہا ہے۔ پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ۔ مجھےتو اقبال کی ایک نظم یاد آ پڑی ہے۔


لاالہ الااللہ
خودی کا سِرِّ نہاں لاالہ الااللہ
خودی ہے تیغ، فَساں لاالہ الااللہ
یہ دَور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے۔
صنم کدہ ہے جہاں، لاالہ الااللہ
کِیا ہے تو نےمتاعِ غرور کا سَودا
فریب سُود و زیاں، لاالہ الااللہ
یہ مال و دولتِ دُنیا، یہ رشتہ و پیوند
بُتانِ وہم و گُماں،لاالہ الااللہ
خِرَد ہوئی ہے زماں و مکاں کی زُنّاری
نہ ہے زماں نہ مکاں، لاالہ الااللہ
یہ نغمہ فصلِ گُل ولالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں، لاالہ الااللہ
اگر چہ بُت ہے جماعت کی آستیوں میں
مجھے ہے حُکمِ اذاں،لاالہ الااللہ
(ضرب کلیم از علامہ محمد اقبال)
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

نواز، شہباز وطن واپس آسکتے ہیں

بی بی سی اردو کی خبر کے مطابق پاکستان کے سپریم کورٹ نے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف کی آئینی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے انہیں وطن واپس آنے کی اجازت دے دی ہے۔
یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے سنایا۔
اس سے قبل سماعت کے دوران وفاق کے وکیل احمد رضا قصوری نے کہا کہ شریف خاندان رضاکارانہ طور پر اپنی مرضی سے ملک سے باہر گئے ہیں۔ اس پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے صدر مشرف کی کتاب ان دا لائن آف فائر کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس میں لکھا گیا ہے کہ سابق وزیراعلٰی پنجاب میاں شہباز شریف ملک سے نہیں جانا چاہتے تھے۔ عدالت نے صدر مشرف کی کتاب احمد رضا قصوری کے حوالے کی اور انہیں متعلقہ صفحات پڑھنے کو کہا اور ان کے بیان کو ریکارڈ کا حصہ بنا لیا۔
عدالت کے استفسار پر احمد رضا قصوری نے بتایا کہ میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کی واپسی سے متعلق کوئی منفی عدالتی فیصلہ موجود نہیں ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر کوئی منفی عدالتی فیصلہ موجود نہیں ہے تو وہ وطن واپس آ سکتے ہیں۔
وفاق کے دوسرے وکیل راجہ ابراہیم ستی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اٹھائیس مئی انیس سو اٹھانوے سے ملک میں ایمرجنسی لاگو ہے۔ اس پر عدالت نے ابراہیم ستی سے کہا کہ وہ ذرا سوچ کر بیان دیں کیونکہ ان کا یہ بیان انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس کے دوررس نتائج ہو سکتے ہیں۔
عدالت کے پوچھنے پر اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم نے ایمرجنسی سے متعلق بیان کی وضاحت کے لیے بیس منٹ کی مہلت مانگی جس پر عدالت کی کارروائی بیس منٹ کے لیے ملتوی کر دی گئی۔ اپنی عدالت میں واپسی پر اٹانی جنرل نے کہا کہ ملک میں انسانی حقوق بحال ہیں اور کوئی ایمرجنسی نہیں۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا تھا کہ عدالت اس آئینی پٹیشن کا فیصلہ آج ہی کرنا چاہتی ہے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ چند روز بعد لارجر بینچ کے کچھ جج صاحبان تعطیلات کی وجہ سے دستیاب نہ ہوں۔
صبح کی کارروائی کے دوران سات رکنی بینچ نے کہا تھا کہ حکومت کی طرف سے عدالت میں جمع کرائی جانے والی دستاویزات معاہدہ کی ذیل میں نہیں آتیں اور انہیں صرف عہد نامہ کہا جا سکتا ہے۔
سماعت کے آغاز میں نواز شریف خاندان کے وکیل جسٹس فخرالدین جی ابراہیم نے پٹیشنوں کی حمایت میں دلائل دیئے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل پندرہ کے تحت ملک کے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جب چاہے بلا کسی روک ٹوک کے وطن واپس آ سکتا ہے۔
پٹیشنوں کے خلاف دلائل دیتے ہوئے وفاق کے وکیل احمد رضا قصوری نے کہا کہ شریف خاندان کی طرف سے دائر کی جانے والی پٹیشنیں قابل سماعت نہیں ہیں۔ عدالت کے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ایک دوست ملک سے شریف خاندان کے معاہدوں کی اصل کاپیاں حاصل کر لی ہیں۔
اس پر بینچ میں شامل جسٹس محمد رضا خان نے کہا کہ ان دستاویزات کو معاہدے نہ کہا جائے کیونکہ ان پر صرف ایک فریق کے دستخط موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان دستاویزات کو زیادہ سے زیادہ عہد نامے کہا جا سکتا ہے۔
شریف خاندان کی جلاوطنی سے متعلق پٹیشنوں کی سماعت کرنے والے سپریم کورٹ کے لارجر بینچ کے سربراہی چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کر رہے تھے جبکہ جسٹس جاوید اقبال، جسٹس سردار محمد رضا خان، جسٹس فقیر محمد کھوکھر، جسٹس ایم جاوید بٹر، جسٹس ناصرالملک اور جسٹس راجہ فیاض احمد بینچ کے دیگر ارکان میں شامل تھے۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنماء اور کارکن آج کی سماعت میں بہت دلچسپی لے رہے تھے۔ پارٹی کی ایک مرکزی رہنماء تہمینہ دولتانہ اور حمزہ شریف عدالت کے اندر موجود تھے جبکہ مسلم لیگ کی قیادت کے کئی ارکان رہا ہونے والے لیگی رہنماء مخدوم جاوید ہاشمی سے انکے بھائی کے انتقال پر تعزیت کے لیے ملتان میں ہیں۔
اٹارنی جنرل ملک محمد قیوم کے علاوہ وفاق کی نمائندگی احمد رضا قصوری اور راجہ ابراہیم ستی کر رہے تھے جبکہ جسٹس (ریٹائرڈ) فخرالدین جی ابراہیم شریف خاندان کے وکیل ہیں۔
یاد رہے کہ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف نے دو مختلف آئینی درخواستوں میں عدالت سے استدعا کی تھی کہ ملک میں رہنا اور اگلے انتخابات میں حصہ لینا شریف برادران کا بنیادی حق ہے اور حکومت ان کی ملک واپسی میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہ کرے۔


 


جلاوطنی کے معاہدے میں ہے کیا؟


عوام الناس کی سہولت کے لئے بی بی سی اردو نے اس معاہدے کا اردو ترجمہ کیا ہے جسے یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔(اصل معاہدے کی کاپی یہاں ہے)



معاہدے کی تفصیل
بدھ کے روز میاں نواز شریف اور میاں شریف کی وطن واپسی میں رکاوٹیں ختم کرنے کی استدعا سے متعلق آئینی درخواستوں کے سلسلے میں حکومتی موقف سپریم کورٹ میں داخل کرایا گیا۔
حکومتی موقف کے ساتھ حکومت نے اس مبینہ معاہدے کی نقول بھی منسلک کی ہیں جس پر، حکومت کے مطابق، میاں نواز شریف، میاں شہباز شریف اور ان کے خاندان کے بیس دیگر افراد نے دسمبر دو ہزار کو ملک بدری کے وقت دستخط کیے تھے۔
حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ میں جمع کرائی جانے والی نقول کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اس معاہدے پر دو دسمبر سن دو ہزار کو دستخط کیے تھے جبکہ میاں شہباز شریف کے دستخطوں کے ساتھ پانچ دسمبر سن دو ہزار کی تاریخ درج ہے۔
میاں نواز شریف، میاں شہباز شریف اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کے علاوہ ان دستاویزات پر کوئی اور دستخط نہیں ہیں۔ بائیس کے بائیس افراد کی طرف سے دستخط کیے جانے والے معاہدوں کی تحریر ایک جیسی ہے اور میں صرف نام اور دستخط مختلف ہیں۔
سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے دستخطوں کی حامل انگریزی تحریر کی اردو تلخیص ذیل میں دی جا رہی ہے:

معاہدے کا اردو متن
’میں، محمد نواز شریف، اس بات کا اقرار کرتا ہوں کہ پاکستان میں جیل سے رہائی کے سلسلے میں میری طرف سے جینٹلمین میری منظوری سے مذاکرات کر رہے ہیں۔ میں اس بات کا بھی اقرار کرتا ہوں کہ میں مذاکرات کے طریقہِ کار اور نتائج سے پوری طرح مطمئن ہوں اور یہ کہ مجھے مذاکرات کے عمل کے دروان پوری طرح باخبر رکھا گیا ہے اور یہ کہ میں مذاکرات کے دوران اٹھائے جانے والے ہر اقدام اور اس کے نتائج سے پوری طرح متفق ہوں۔
میں اقرار کرتا ہوں کہ اس ملک میں جانے پر، جس کے بارے میں میں نے رضامندی ظاہر کی ہے، میں کسی ایسے کام یا سیاسی سرگرمیوں، کسی بھی اور نوعیت کی سرگرمیوں سے دس سال تک اجتناب کروں جو پاکستان کے مفادات کے خلاف ہو یا پاکستان میں میری قید سے متعلق ہو۔
میں اس بات سے بھی رضا مند ہوں کہ میں دس سال تک پاکستان سے باہر رہوں گا اور میری رہائش اس ملک میں ہو گی جس کا میں نے انتخاب کیا ہے۔ تاہم مجھے اس ملک سے باہر جانے کی اجازت ہو گی بشرطِ میں اسی ملک میں واپس آنے پر آمادگی ظاہر کروں۔
میں اس بات کا بھی اقرار کرتا ہوں کہ میں کسی بھی فریق پر جنٹلمین یا پاکستان میں اپنی رہائی سے متعلقہ ملک کا نام ظاہر نہیں کروں گا اور یہ کہ اگر اس ملک سے کہیں اور جاؤں کو تو ایسا صرف ان کی منظوری سے کروں گا۔ میں اس بات کا بھی اقرار کرتا ہوں کہ معاہدے میں شریک کسی بھی فریق یا جنٹیلمین کو اس سلسلے میں کسی بھی دعوے سے بری الذمہ سمجھتا ہوں‘۔
اس کے علاوہ حکومت نے عدالت کے سامنے میاں شہباز شریف کے دستخطوں کی حامل اس مفاہمت کی نقل بھی جمع کرائی ہے جس پر انہوں نے چھبیس جنوری سن دو ہزار تین کو سعودی عرب سے امریکہ جاتے وقت دستخط کیے تھے۔ اس تحریر میں انہوں نے اپنے امریکہ کے دورے کا مقصد فوری طبی امداد کو بیان کیا تھا۔
اس تحریر میں انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ طبی امداد کے خاتمے پر واپس سعودی عرب آ جائیں گے۔ انہوں نے اس بات کا بھی اقرار کیا تھا کہ وہ اور ان کے ساتھ جانے والے امریکہ میں اپنے قیام کے دوران نہ تو کوئی انٹرویو دیں گے اور نہ ہی میڈیا سے رابطہ رکھیں گے یا کوئی بیان دیں گے۔ بشکریہ بی بی اردو

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

سنیتا ولیمس مشرف بہ اسلام؟

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

ہم دستور ساز اسمبلی کو دنیا کیلئے مثالی بنائیں گے . . . .. قائد اعظم

گیارہ اگست1947ء کو پہلی دستور ساز اسمبلی کے افتتاحی اجلاس سے قائد اعظم کا تاریخی خطاب


 خواتین و حضرات! آپ نے مجھے اپنا پہلا صدر منتخب کرکے جس اعزاز سے نوازا ہے میں اس کیلئے تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔ یہ ایک عظیم تر اعزاز و افتخار ہے۔


1۔ جو یہ خود مختار اسمبلی کسی بھی شخص کو عطا کرسکتی ہے۔ میں ان لیڈروں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے میرے اور میری خدمات کے بارے میں توصیفی تقریریں کیں اور اپنے اپنے تاثرات بیان کئے۔ میں صدق دل سے امید کرتا ہوں کہ آپ کی حمایت اور تعاون سے ہم اس دستور ساز اسمبلی کو دنیا کیلئے مثالی بنائیں گے۔ دستور ساز اسمبلی کو دو خاص فرائض سرانجام دینے ہیں۔ پہلا پرمشقت اور ذمے داری کا کام پاکستان کے مستقبل کا دستور بنانا ہے اور دوسرا فریضہ پاکستان کی وفاقی مقننہ کیلئے مکمل طور پر خود مختار ادارے کے طور پر کام کرنا ہے۔ہمیں پاکستان کے وفاقی قانون ساز ادارے کے لئے ایک عارضی دستور اختیار کرنا پڑا ہے۔ آپ اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ یہ بے نظیر انقلاب جس کے نتیجے میں اس برصغیر میں دو آزاد اور خود مختار مملکتوں کا منصوبہ منصئہ شہود پر آیا اور اس کی تخلیق ہوئی۔ اس کی دنیا کی تاریخ میں کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ اس پر نہ صرف ہم خود حیران ہیں بلکہ میرا خیال ہے ساری دنیا حیران ہورہی ہے۔ یہ انقلاب اس عظیم برصغیر کے مختلف النوع باشندوں کے علی الرغم ایک زبردست اور لامثال منصوبے کے تحت لایا گیا اور اس کے متعلق اہم ترین بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ ہم نے پرامن طور پر ہرممکن طریق سے ایک ارتقائی عمل کے ذریعے حاصل کیا۔


2۔ اس اسمبلی میں اپنی بالکل پہلی کارروائی کے موقع پر میں کوئی طے شدہ اعلان نہیں کرسکتا مگر جو باتیں اس وقت میرے ذہن میں آئیں گی وہ کہوں گا۔ سب سے پہلی اور ضروری بات جس پر زور دوں گا۔ یاد رکھئے کہ اب آپ ایک خود مختار ادارہ ہیں اور آپ کو سب اختیارات حاصل ہیں۔ اس لئے آپ پر یہ ایک نازک ترین ذمے داری آن پڑی ہے کہ آپ کو کس طرح اپنے فیصلے کرنے ہیں۔ میں پہلی توجہ اس بات پر دوں گا اور بلاشبہ آپ مجھ سے اتفاق کریں گے کہ کسی حکومت کا اولین فرض یہ ہے کہ وہ ملک میں لا اینڈ آرڈر (نظم و ضبط) قائم کرے تاکہ اس کے شہریوں کی جان و مال اور مذہبی عقیدوں کا تحفظ ہوسکے۔ دوسری بات جو میرے ذہن میں آتی ہے وہ ایک بہت بڑی برائی ہے جس میں ہندوستان مبتلا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ دوسرے ملک اس برائی کی گرفت سے آزاد ہیں، مگر میرا یہ خیال ہے کہ ہماری حالت اس معاملے میں بہت ہی خراب ہے۔ یہ رشوت اور رشوت خوری کی لعنت ہے۔ حقیقت میں یہ ایک زہر ہے۔ ہمیں فولادی ہاتھ سے اسے کچلنا ہوگا اور مجھے امید ہے کہ جتنی جلد ممکن ہو اس اسمبلی کو مناسب اقدامات کرنا ہوں گے۔ چور بازاری (بلیک مارکیٹنگ) ایک اور لعنت ہے۔ ہاں! مجھے معلوم ہے کہ وقتاً فوقتاً چور بازاری کرنے والے پکڑے بھی جاتے ہیں اور انہیں سزا بھی ہوتی ہے۔ عدالتیں انہیں قید کی سزائیں بھی دیتی ہیں اور بعض اوقات صرف جرمانے کئے جاتے ہیں۔ اب آپ کو اس دیوہیکل شیطان سے عہدہ برآ ہونا ہے جو اس وقت معاشرے کا بھیانک ناسور ہے۔ مصیبت کی اس حالت میں جب ہم خوراک اور دیگر ضروریات زندگی کی قلت کا مسلسل سامنا کررہے ہوں تو جو شخص چور بازاری کرتا ہے وہ نہ صرف ایک بڑے جرم بلکہ انتہائی بھیانک جرم کا ارتکاب کرتا ہے۔ یہ بلیک مارکیٹئے حقائق سے باخبر، بڑے ذہین اور بالعموم ذمے دار لوگ ہوتے ہیں اور جب وہ چور بازاری میں ملوث ہوجاتے ہیں تو میرے خیال میں وہ سخت ترین سزاؤں کے مستحق ہوتے ہیں کیونکہ وہ کنٹرول کے سارے قواعد و ضوابط اور نظام کو تہ و بالا کرکے اشیائے خوردنی اور لازمی اشیاء کی قلت پیدا کرکے بڑے پیمانے پر قحط، بھوک حتیٰ کہ موت کا باعث بنتے ہیں۔ اس کے بعد جو بات میرے ذہن میں آتی ہے اس کا تعلق ان چیزوں سے ہے جو ہمیں ورثے میں ملی ہیں، دیگر تمام اچھی اور بری چیزوں کے سات یہ برائی ہے۔ یہاں پھر یہ میراث اور ترکے میں ملی ساتھ چلی آتی ہے جس کا تعلق سفارش اور اقربا پروری ہے۔ میں یہ بالکل واضح کردینا چاہتا ہوں کہ میں کسی قسم کی سفارش اور اقربا پروری کو بالواسطہ اثر و رسوخ ہو یا بلاواسطہ، ہرگز برداشت نہیں کروں گا۔ میں جہاں بھی کہیں دیکھوں گا کہ یہ برائی کم تر یا زیادہ ہورہی ہے، اسے یقیناً گوارا نہیں کروں گا۔ مجھے معلوم ہے کہ خاصی تعداد میں ایسے لوگ بھی ہیں جو ہند کی تقسیم اور پنجاب اور بنگال کی تقسیم پر بالکل رضامند نہیں تھے۔ اس کے خلاف بہت کچھ کہا جاچکا ہے مگر جبکہ یہ قبول کیا جاچکا ہے ہم میں سے ہر ایک کا یہ فرض ہے کہ خلوص نیت کے ساتھ اسے قبول کرکے آبرو مندانہ معاہدے کے مطابق اس پر عمل کریں۔ اب یہ حتمی ہے اور ہم سب اس کے پابند ہیں لیکن آپ کو یاد رکھنا چاہئے جیسا کہ میں نے کہا یہ عظیم انقلاب جو آیا، بے مثال ہے۔ کوئی بھی شخص ان احساسات کو بہ خوبی سمجھ سکتا ہے جو دو قوموں میں ایک اکثریت اور دوسری اقلیت میں پائے جاتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ جو کچھ ہوا کیا اس کے علاوہ بھی کچھ ممکن اور قابل عمل تھا؟ یہ تقسیم ہونی ہی تھی۔ دونوں طرف، ہندوستان اور پاکستان میں ایسے لوگ ہوں گے جو اسے پسند نہ کریں اور اس سے اتفاق نہ کریں لیکن میری فیصلہ کن رائے میں اس کے علاوہ کوئی دوسرا حل نہیں تھا اور مجھے یقین ہے کہ مستقبل میں تاریخ اس کے حق میں فیصلہ دے گی۔ علاوہ ازیں جیسے جیسے ہم آگے بڑھیں گے حقیقی عملی تجربے سے یہ ثابت ہوگا کہ ہندوستان کے دستوری مسئلے کا یہی واحد حل تھا۔ متحدہ ہند کا کوئی بھی نظریہ کبھی کام نہیں آسکتا تھا اور میرے تجزیئے کے مطابق وہ ہمیں خوفناک تباہی کی جانب لے جاسکتا تھا۔ ہوسکتا ہے وہ نظریہ درست ہو، ہوسکتا ہے درست نہ ہو، اسے دیکھنا ہوگا۔ اسی طرح اس تقسیم میں اقلیتوں کے مسئلے سے بچنا ناممکن تھا خواہ اس مملکت میں ہو یا دوسری میں، اسے نظرانداز بھی نہیں کیا جاسکتا اور اس کا کوئی دوسرا حل بھی نہیں ہے۔ اب ہمیں کیا کرنا چاہئے؟ اگر اب ہم پاکستان کی عظیم مملکت کو خوشحال اور مرفہ الحال بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں کامل طور پر یہاں کے لوگوں، خصوصاً غریب عوام کی فلاح و بہبود پر توجہ مرکوز کردینی چاہئے۔ اگر ہم ماضی کو فراموش کرکے اور دیرینہ رنجشوں کو دفن کرتے ہوئے باہمی تعاون سے متحد ہوکر کام کریں گے تو یقیناً کامیاب ہوں گے۔ اگر آپ اپنے ماضی کو بدل ڈالیں اور مل جل کر اس جذبے سے کام کریں کہ آپ میں سے ہر ایک قطع نظر اس سے کہ ماضی میں اس کا آپ سے کیا تعلق تھا، قطع نظر اس سے کہ اس کا رنگ، نسل اور عقیدہ کیا ہے وہ اول و آخر اس مملکت کا مساوی حقوق و فرائض کے ساتھ شہری ہے تو آپ ایسی ترقی کریں گے جس کی کوئی حد نہیں ہوگی۔ میں اس پر بہت زیادہ زور نہیں دے سکتا۔ ہمیں اس جذبے کے ساتھ کام شروع کردینا چاہئے اور وقت گزرنے کے ساتھ اکثریتی اور اقلیتی گروہوں کے یہ تمام زاویئے بدل جائیں گے کیونکہ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے آپ میں پٹھان ہیں، پنجابی ہیں اور شیعہ و سنی وغیرہ ہیں اور ہندوؤں میں آپ دیکھیں برہمن، ویشنواس، کھتری ہیں۔ علاوہ ازیں بنگالی، مدارسی وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب امتیازات مٹ جائیں گے۔ حقیقت میں اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ ہند میں یہ امتیازات حصول آزادی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھے ورنہ اس کے بنا ہم سب بہت پہلے آزاد ہوچکے ہوتے۔ کوئی بھی طاقت کسی دوسری قوم کو خصوصاً چار سو ملین (چالیس کروڑ) باشندوں کو محکوم نہیں رکھ سکتی۔ نہ آپ کو کسی نے فتح کیا ہوتا اور اگر ایسا ہو بھی جاتا تب بھی کوئی غیر طاقت ایک طویل عرصے تک آپ پر حکومت نہ کرسکتی یہ جو کچھ ہوا آپ کے اس افتراق کے باعث ہوا۔ لہٰذا ہمیں اس (نااتفاقی و افتراق) سے سبق سیکھنا چاہئے۔ آپ اب آزاد ہیں۔ آپ اپنے مندروں میں جانے کیلئے آزاد ہیں، آپ اپنی مسجدوں میں جانے کیلئے آزاد ہیں یا اس مملکت پاکستان میں کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کیلئے آزاد ہیں۔ آپ کا تعلق خواہ کسی بھی مذہب، عقیدے یا مسلک سے ہو اس کا مملکت کے کاروبار سے کوئی تعلق نہیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ کچھ عرصہ قبل انگلستان کے احوال ہند سے بھی زیادہ ابتر تھے۔ رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ ایک دوسرے کے درپے آزار تھے حتیٰ کہ اب بھی کچھ ایسی مملکتیں موجود ہیں جہاں یہ امتیاز برتا جاتا ہے اور کسی خاص طبقے پر پابندیاں لگائی جاتی ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ ہم ایسے ایام میں آغاز نہیں کررہے ہم ایک ایسے زمانے میں کاروبار مملکت کا آغاز کررہے ہیں جب ایسا کوئی افتراق نہیں ہے۔ کسی ایک طبقے یا دوسرے میں کوئی امتیاز نہیں۔ کسی ایک ذات یا مسلک میں اور دوسرے میں کوئی تصادم نہیں۔ ہم اس بنیادی اصول پر آغاز کررہے ہیں کہ ہم سب ایک ہی مملکت کے برابر کے شہری ہیں۔ انگلستان کے لوگوں نے وقت کے گزرنے کے ساتھ صورتحال اور حقائق کا سامنا کیا اور ان پر ان کی حکومت کی طرف سے ذمے داری کا جو بار ڈالا گیا اسے پورا کرنے لگے اور وہ اس آگ سے قدم بہ قدم گزرے۔ آج تم انصاف سے کہہ سکتے ہو کہ وہاں رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ موجود نہیں۔ اب کیا موجود ہے؟ یہ کہ وہاں کا ہر فرد مملکت کا شہری ہے، برطانیہ عظمیٰ کا برابر کا شہری اور وہ سب ایک قوم کے رکن ہیں۔ اب میرا خیال ہے ہمیں ا س مقصود غائی کو اپنے سامنے رکھنا چاہئے اور آپ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دیکھیں گے کہ ہندو، ہندو نہیں رہے گا اور مسلمان، مسلمان نہیں رہیں گے۔ مذہبی نقطہ نظر سے نہیں کیونکہ یہ ہر شخص کا اپنا اپنا عقیدہ ہے بلکہ سیاسی اعتبار سے ایک مملکت کے شہری ہونے کی حیثیت سے۔ پس حضرات! میں نہیں چاہتا کہ آپ کا مزید وقت لوں۔ ایک بار پھر آپ کا شکریہ اس اعزاز و افتخار کے کیلئے جو آپ نے مجھے بخشا۔ میں ہمیشہ عدل و انصاف اور مساوات کے رہنما اصولوں، جنہیں سیاسی زبان میں بلا تعصب یا بدگمانی، بالفاظ دیگر بیجا طرف داری اور حمایت کے، اپنا منصبی فرض انجام دوں گا۔ مکمل غیر جانبداری میرا اصول ہوگا اور مجھے یقین ہے کہ میں آپ لوگوں کی مدد اور تعاون سے پاکستان کو مستقبل میں دنیا کی ایک عظیم ترین قوم بنتے دیکھ سکتا ہوں۔ بشکریہ روزنامہ جنگ

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

صدر کے عہدے کا انتخاب

صدر کے عہدے کیلئے انتخاب، عہدے پر فائز صدرکی میعاد ختم ہونے سے زیادہ سے زیادہ 60 دن (دو ماہ) اور کم سے کم 30 دن (ایک ماہ) قبل کر لیا جائے گا۔ مگر شرط یہ ہے کہ اگر یہ انتخاب مذکورہ بالا مدت کے اندر اس لئے نہ کرایا جا سکتا ہو کہ قومی اسمبلی توڑ دی گئی ہے تو یہ اسمبلی کے عام انتخابات کے 30 دن (ایک ماہ) کے اندر کرایا جائیگا۔ صدرکا خالی عہدہ پر کرنے کے لئے انتخاب عہدہ خالی ہونے کے 30 دن (ایک ماہ) کے اندر کرایا جائے گا مگر شرط یہ ہے کہ اگریہ انتخاب مذکورہ بالا مدت کے اندر اس لئے نہ کرایا جا سکتا ہو کہ قومی اسمبلی توڑ دی گئی ہے تو یہ اسمبلی کے عام انتخابات کے 30 دن (ایک ماہ) کے اندر کرایا جا سکے۔صدر کے انتخاب کے جواز پرکسی عدالت یا دیگر ہیئت مجاز کی طرف سے یا اس کے سامنے اعتراض نہیں کیا جائے گا۔
 
صدر کا انتخابی ادارہ
صدر کا انتخابی ادارہ دونوں ایوانوں کے ارکان اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان پر مشتمل ہو گا۔

صدر کے انتخاب کی اہلیت
صدر مسلمان ہوگا 45 سال یا اس سے زائد عمر ہوگی اور قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہونے کا اہل ہو اور کسی منفعت بخش عہدے پر فائز نہ ہو اور نہ کسی دوسری حیثیت میں ہو جو اس کی خدمات میں اس کومعاوضے کا حق ہو۔ صدر کے عہدے پر فائز کوئی شخص اس عہدے کیلئے دوبارہ انتخاب کا اہل ہوگا لیکن کوئی شخص دو متواتر میعادوں سے زائد اس عہدے پر فائز نہیں ہوگا اوریہ دستور کے تابع ہوگا۔ صدر کا عہدہ دستور کے تابع جس دن وہ عہدہ سنبھالے گا پانچ سال تک مدت ہو گی۔ مگر شرط یہ ہے کہ صدر اپنی میعاد ختم ہونے کے باوجود اپنے جانشین کے عہدہ سنبھالنے تک اس عہدے پر فائز رہیں گے۔

جدول دوم۔ آرٹیکل 41 (3) صدر کا انتخاب
(1) چیف الیکشن کمشنر صدر کے عہدے کے لئے انتخاب کا انعقاد اورانصرام کرے گا اور مذکورہ انتخاب کیلئے افسر رائے شماری (ریٹرننگ افسر) ہوگا۔
(2) چیف الیکشن کمشنر مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے ارکان کے اجلاس اورصوبائی اسمبلیوں کے ارکان کے اجلاس کی صدارت کرنے کے لئے افسران صدارت کنندہ (پریذائڈنگ افسران) کا تقرر کرے گا۔
(3) چیف الیکشن کمشنر عام اعلان کے ذریعے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کے لئے، جانچ پڑتال کرنے کیلئے نام واپس لینے کیلئے اگر کوئی ہو، اور انتخاب کے انعقاد کیلئے اگر ضروری ہو وقت اور مقام مقررکرے گا۔
(4) نامزدگی کیلئے مقررہ کردہ دن کی دوپہر سے پہلے مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) یا کسی صوبائی اسمبلی کا کوئی رکن نامزدگی کا ایک کاغذ جس پر بحیثیت تجویز کنندہ خود اس کے اور بحیثیت تائید کنندہ مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) یا جیسی بھی صورت ہو، اسمبلی کے کسی دوسرے رکن کے دستخط ہوں اورجس کے ساتھ نامزد شخص کا ایک دستخط شدہ بیان منسلک ہو کہ وہ نامزدگی پر رضا مند ہے افسر صدارت کنندہ کو دے کر کسی ایسے شخص کو بحیثیت صدر انتخاب کے لئے نامزد کر سکے گا جو بحیثیت صدر انتخاب کا اہل ہو، مگر شرط یہ ہے کہ کوئی شخص تجویز کنندہ یا تائید کنندہ کی حیثیت سے کسی ایک انتخاب میں ایک سے زیادہ کاغذ نامزدگی پر دستخط نہیں کرے گا۔
(5) جانچ پڑتال چیف الیکشن کمشنر اس کی طرف سے مقرر کردہ وقت اور مقام پر کرے گا اور اگر جانچ پڑتال کے بعد صرف ایک شخص جائز طور پر نامزد رہ جائے تو چیف الیکشن کمشنر اس شخص کو منتخب شدہ قرار دے گا یا اگر اس شخص سے زیادہ جائز طور پر نامزد رہ جائیں تو وہ عام اعلان کے ذریعے جائز طور پر نامزد اشخاص کے ناموں کا اعلان کرے گا جو بعد ازاں امیدوار کے نام سے موسوم ہوں گے۔
(6) کوئی امیدوار اس غرض کیلئے مقرر کردہ دن کی دوپہر سے قبل کسی وقت اس افسر صدارت کنندہ کو جس کے پاس اس کا کاغذ نامزدگی داخل کرایا گیا ہو اپنا دستخطی تحریری نوٹس دے کر اپنی امیدواری سے دستبردار ہو سکے گا اور کسی امیدوار کو جس نے اس پیرے کے تحت اپنی امیدواری سے دستبرداری کا نوٹس دے دیا ہو مذکورہ نوٹس کو منسوخ کرنے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔
(7) اگر ایک کے سوا باقی تمام امیدوار دستبردار ہوگئے ہوں تو الیکشن کمشنراس ایک امیدوار کو منتخب قرار دے دے گا۔
(8) اگر کوئی بھی دستبردار نہ ہو یا اگر دستبرداریوں کے بعد دو یا زیادہ امیدوار رہ جائیں تو چیف الیکشن کمشنر عام اعلان کے ذریعے امیدواروں اوران کے تجویز کنندہ اورتائید کنندگان کے ناموں کا اعلان کریگا اور مابعد پیروں کے احکام کے مطابق خفیہ رائے دہی کے ذریعے رائے دہی منعقد کرنے کی کارروائی کرے گا۔
(9) اگر کوئی امیدوار جس کی نامزدگی درست پائی گئی ہو نامزدگی کیلئے مقرر کردہ وقت کے بعد فوت ہو جائے اور رائے دہی کے آغاز سے قبل افسر صدارت کنندہ کواس کی موت کی اطلاع مل جائے تو افسر صدارت کنندہ، امیدوار کی موت کے امر واقعہ کے بارے میں مطمئن ہو جانے پر رائے دہی منسوخ کر دیگا اور اس امر واقعہ کی اطلاع چیف الیکش کمشنر کو دے گا اور اس انتخاب سے متعلق تمام کارروائی ہر لحاظ سے اس طرح از نو شروع کی جائے گی گویا کہ نئے انتخاب کیلئے ہو۔ مگر شرط یہ ہے کہ کسی ایسے شخص کی صورت میں جس کی نامزدگی رائے دہی کی تنسیخ کے وقت جائز تھی مزید نامزدگی ضروری نہیں ہوگی۔ مزید شرط یہ ہے کہ کوئی شخص جس نے رائے دہی منسوخ ہونے سے پہلے اس جدول کے پیرا 6 کے تحت اپنی امیدواری سے دستبرداری کا نوٹس دیدیا ہو، مذکورہ تنسیخ کے بعد انتخاب کیلئے بحیثیت امیدوار نامزد کئے جانے کا نااہل نہیں ہوگا۔ رائے دہی کا انعقاد مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) اور ہر ایک صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں ہوگا اور متعلقہ افسران صدارت کنندہ ایسے افسروں کی اعانت سے رائے دہی کا انصرام کریں گے جس طرح کہ وہ چیف الیکشن کمشنر کی منظوری سے علی الترتیب مقرر کریں۔
(11) مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) اور ہر ایک صوبائی اسمبلی کے ہر ایک رکن کو جو خود کو مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) یا جیسی بھی صورت ہو اس صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں ووٹ ڈالنے کے لئے پیش کرے جس کا وہ رکن ہو (جس کا حوالہ بعد ازیں ووٹ دینے والے شخص کے طور پر دیا گیا ہے) ایک انتخابی پرچی جاری کی جائے گی اوروہ اپنا ووٹ اصالتاً پرچی پر مابعد پیروں کے احکام کے مطابق نشان لگا کر استعمال کریگا۔
(12) رائے دہی خفیہ رائے دہی کے ذریعے ایسی انتخابی پرچیوں کی وساطت سے ہو گی جن پر ایسے تمام امیدواروں کے نام حروف تہجی کے لحاظ سے درج ہوں گے جو دستبردار نہ ہوئے ہوں اور کوئی ووٹ دینے والا شخص اس شخص کے نام کے سامنے جسے وہ ووٹ دینا چاہتا ہو نشان لگا کر ووٹ دیگا۔
(13) انتخابی پرچیاں مثنیٰ کے ساتھ انتخابی پرچیوں کی ایک کتاب سے جاری کی جائیں گی ہر مثنیٰ پر نمبر درج ہوگا اور جب کوئی انتخابی پرچی کسی ووٹ دینے والے شخص کو جاری کی جائے تو اس کا نام مثنیٰ پر درج کیا جائے گا اور افسر صدارت کنندہ کے مختصر دستخط کے ذریعے انتخابی پرچی کی تصدیق کی جائے گی۔
(14) انتخابی پرچی پر نشان لگا دینے کے بعد ووٹ دینے والا شخص اسے انتخابی پرچی کے صندوق میں ڈالے گا جو افسر صدارت کنندہ کے سامنے رکھا ہوگا۔
(15) اگر کسی ووٹ دینے والے شخص سے کوئی انتخابی پرچی خراب ہو جائے تو وہ اسے افسر صدارت کنندہ کو واپس کردے گا جو پہلی انتخابی پرچی کو منسوخ کر کے اور متعلقہ مثنیٰ پر منسوخ کا نشان لگا کر اسے دوسری انتخابی پرچی جاری کرے گا۔
(16) کوئی انتخابی پرچی ناجائز ہوگی اگر (اول) اس پر کوئی ایسا نام، لفظ یا نشان ہو جس سے ووٹ دینے والے شخص کی شناخت ہو سکے یا (دوم) اس پر افسر صدارت کنندہ کے مختصر دستخط نہ ہو یا (سوم) اس پر کوئی نشان نہ ہو یا (چہارم) دو یا زیادہ امیدواروں کے نام کے سامنے نشان لگایا گیا ہو یا (پنجم) اس امیدوار کی شناخت کے بارے میں تعین نہ ہو سکے جس کے نام کے سامنے نشان لگایا گیا ہو۔
(17) رائے دہی ختم ہونے کے بعد ہرایک افسر صدارت کنندہ ایسے امیدواروں یا ان کے کارندگان مجاز کی موجودگی میں جو حاضر رہنا چاہیں، انتخابی پرچیوں کے صندوقوں کو کھولے گا اور انہیں خالی کرے گا اور ان میں موجود انتخابی پرچیوں کی جانچ پڑتال کرے گا ایسی پرچیوں کو مسترد کرتے ہوئے جو ناجائز ہوں، جائز انتخابی پرچیوں پر ہر ایک امیدوار کے لئے درج شدہ ووٹوں کی تعداد کا شمار کرے گا اور بائیں طور پر درج شدہ ووٹوں کی تعداد سے چیف الیکشن کمشنر کو مطلع کرے گا۔
(18) (ا) چیف الیکشن کمشنر انتخاب کا نتیجہ حسب ذیل طریقے سے متعین کرے گا یعنی
(الف) مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) میں ہر ایک امیدوار کے حق میں ڈالے ہوئے ووٹ شمار کئے جائیں گے۔
(ب) کسی صوبائی اسمبلی میں ہر ایک امیدوار کے حق میں ڈالے ہوئے ووٹوں کو اس صوبائی اسمبلی میں نشستوں کی مجموعی تعداد سے جس میں فی الوقت سب سے کم نشستیں ہوں ضرب دیا جائے گا اوراس صوبائی اسمبلی میں نشستوں کی مجموعی تعداد سے جس میں ووٹ ڈالے گئے ہوں تقسیم کیا جائے گا اور
(ج) شق (ب) میں محولہ طریقے سے شمار کردہ ووٹوں کی تعداد کو شق (الف) کے تحت شمار کردہ ووٹوں کی تعداد میں جمع کر دیا جائے گا۔
تشریح : اس پیرے میں ”نشستوں کی مجموعی تعداد “ میں غیر مسلموں اور خواتین کیلئے مخصوص نشستیں شامل ہیں۔ (2)کسی کسر کو قریب ترین کل میں بدل دیا جائیگا۔
(19) اس امیدوار کو جس نے پیرا 18 میں مصرحہ طریقے سے مدون ووٹوں کی سب سے زیادہ تعداد حاصل کی ہو چیف الیکشن کمشنر کی طرف سے منتخب قرار دے دیا جائے گا۔
(20) جبکہ کسی رائے دہی میں کوئی سے دو یا زیادہ امیدوار ووٹوں کی مساوی تعداد حاصل کریں تو منتخب کئے جانے والے امیدوار کا چناؤ قرعہ اندازی کے ذریعے کیا جائیگا۔
(21) جبکہ کسی رائے دہی کے بعد ووٹوں کا شمار مکمل ہو گیا ہو اوررائے شماری کا نتیجہ متعین ہو گیا ہو چیف الیکشن کمشنر فی الفور ان کے سامنے جو موجود ہوں نتیجہ کا اعلان کرے گا اور نتیجہ سے وفاقی حکومت کو مطلع کرے گا جو فی الفور نتیجہ کو عام اعلان کے ذریعے مشتہر کرنے کا حکم دے گی۔
(22) چیف الیکشن کمشنر اعلان عام کے ذریعے صدر کی منظوری سے اس جدول کی اغراض کی بجا آوری کے لئے قواعد وضع کرے سکے گا۔ دستور پاکستان 1973 کے مطابق صدر کا عہدہ پانچ سال کی میعاد کا ہے اور صدارت پر متمکن شخص صرف دو دفعہ اس عہدے پر فائز رہ سکتا ہے جس کی مجموعی میعاد دس سال بنتی ہے جب صدر کے پانچ سال میعاد میں چار سال دس ماہ مکمل ہو جاتے ہیں تو پانچویں سال کا گیارہواں ماہ صدر کے انتخاب کے لئے مقرر کیا گیا ہے اورانتخاب جدول دوم کے طریقہ کار کے تحت ہوتا ہے اگر قومی اسمبلی تحلیل ہو چکی ہو تو پھر یہ انتخاب پانچویں سال کے گیارہویں ماہ نہیں ہوتا بلکہ قومی اسمبلی کے دوبارہ منتخب ہو کر حلف لینے کے بعد 30 دن (ایک ماہ) کے اندر منعقد کیا جاتا ہے لیکن طریقہ کار جدول دوم میں دیا گیا اختیار کیا جاتا ہے۔
اس طریقہ کار سے ہٹ کر کوئی اورطریقہ کار اختیار کیا جائے یا مدت سے ہٹ کر کسی اوروقت پر صدر کا انتخاب کیا جائے تو نہ صرف یہ دستور سے روگردانی بلکہ دستور کوتوڑنے کی بات ہوگی۔ قانون و دستور کی فرماروائی کا یہ تقاضا ہے کہ دستور پاکستان 1973 کو ہر حال میں ملحوظ خاطر رکھا جائے اور صدارتی انتخاب دستور کے مطابق کرایا جائے۔ آئیے اب صدر جنرل پرویز مشرف کے صدر کے انتخاب دوسری مرتبہ کے بارے میں دیکھتے ہیں کہ آیا دستور کے تقاضے پورے کرنے کے حوالے سے ان کا انتخاب کب ہوگا۔
جنرل پرویز مشرف نے بطور صدرپاکستان 16 نومبر 2002ء کو آرٹیکل 42 کے تحت حلف اٹھایا اور آرٹیکل 44 شق (1) کے تحت پانچ سال کے لئے صدر منتخب ہوئے صدر جنرل پرویز مشرف کی دستوری میعاد 15 نومبر 2007ء کو پوری ہو رہی ہے مگر دستور کا صدارت کے انتخاب کا نسخہ یہ کہتا ہے کہ پانچویں سال کے پورے ہونے سے دو ماہ قبل اور ایک ماہ سے پہلے صدر کا انتخاب دوبارہ لازمی ہے لہٰذا اس طرح سے صدر پرویزمشرف کا دوسری مرتبہ صدر منتخب ہونے کے لئے انتخاب کا مہینہ گیارہواں مہینہ 15 ستمبر سے 15 اکتوبر 2007ء بنتا ہے ان 30دنوں (ایک ماہ) میں چیف الیکشن کمشنر نے جدول دوم کے تحت دوبارہ صدارتی انتخاب کا اعلان کرنا ہے اور یہ اعلان یکم ستمبر 2007ء سے ہوگا اور یہ سارا صدارتی انتخاب کا عمل 15 اکتوبر 2007ء تک مکمل ہو جائے گا۔
انتخابی ادارہ جو دونوں ایوانوں اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین پر مشتمل ہے اس انتخاب کے وقت 2002ء کے منتخب شدہ ارکان موجود ہوں گے جنہوں نے صدر پرویز مشرف کو اعتماد کا ووٹ دے کر صدر بنایا ہے دوسری پانچ سالہ مدت کیلئے بھی منتخب کریں گے مگر اس انتخاب کے حوالے سے حزب اختلاف کے سیاسی رہنما اس پر اعتراض کرتے ہیں کہ انتخابی ادارہ جس نے پہلے ہی صدر کو منتخب کیا تھا اب دوبارہ اسی ادارے کو دوبارہ منختب کرنا اخلاقی طور پر درست نہیں ہے یہ بنیادی طور پر بے وجہ دلیل ہے بصورت دیگر پھر دستور سے روگردانی کرنی پڑے گی اور دستور کو توڑ کر انتخاب کرانا پڑے گا دوسرے الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ دستور کو نہ ماننا دستور کی بنیادی روح کے خلاف ہے اور ہر شہری کا دستور کو ماننا فرض عین ہے لہٰذا صدر پرویز مشرف اور دوسرے امیدوار صدارت کے لئے 15 ستمبر سے 15 اکتوبر 2007ء تک صدارتی انتخاب میں جائیں گے اور جن کو ووٹوں کی اکثریت حاصل ہو گی وہی صدر منتخب ہو گا۔
سیاسی عمائدین ایک مسئلہ عمومی طور پر پیش کر رہے ہیں کہ اگر کوئی صوبائی اسمبلی توڑ دی جائے جو حزب اختلاف کی ہے تو پھر صدارتی انتخاب کیسے ہوگا اوراگر ہوگا تو وہ دستوری طور کیسے درست ہوگا اس ضمن میں یہ حوالہ دینا کافی ہے کہ صوبائی اسمبلی کے اراکین 1985 میں آٹھویں ترمیم کے حوالے سے صدارتی انتخابی ادارہ میں ڈالے گئے اور اگرایک تو کجا ساری صوبائی اسمبلیاں ٹوٹ جائیں اور قومی اسمبلی برقرار رہے تو انتخاب قانونی اور دستوری ہوگا اور وہ کسی مجاز عدالت یا فورم میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا لہٰذا اس کیلئے حوالہ 1974ء کو بھارت کا ایک کیس ہے جوصدر نے سپریم کورٹ کو بھیج کراس سے رائے لی اوراس میں سپریم کورٹ آف انڈیا کی مکمل عدالت نے صدر کے انتخاب کو ضروری قرار دیا باوجود کہ وہاں کی صوبائی اسمبلی ٹوٹے ہونے کے سبب اور یہ تحریر کیا کہ صوبائی اسمبلی ٹوٹے ہونے کے باوجود صدارتی انتخاب لازمی ہے اوراسی لئے صدر کے انتخاب کو کسی مجاز عدالت یا فورم میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا اور وہ کیس AIR 1974 Supreme Court Page 1682 ہے اور کوئی بھی اگر اس کا مطالعہ کرنا چاہے تو وہ پوری آگاہی حاصل کر سکتا ہے کہ صدارتی انتخاب بصورت صوبائی اسمبلی نہ ہونے یا ایک یا دو صوبائی اسمبلیاں ٹوٹنے سے اس پر اثر انداز نہیں ہوتی اور ہر حال میں صدارتی انتخاب کرانا ضروری ہے۔
دستور میں صدارت کے انتخاب کی یہ اسکیم نہ تو صدر جنرل پرویز مشرف نے لیگل فریم ورک آرڈر 2002ء (چیف ایگزیکٹو آرڈر نمبر 2202,24) کے تحت ڈالی ہے اور نہ ہی اس اسکیم میں 1973 سے لے کر آج تک کوئی ترمیم لائی گئی ہے۔ یہ خالصتاً 1973ء کے دستور کی اسکیم ہے جس میں آج تک کوئی تبدیلی نہیں لائی گئی لہٰذا اس سے یہ بھی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ کسی شخص کو مخصوص حالات میں صدر منتخب کرنے کے لئے خاص حالات پیدا کئے گئے ہیں جس کو بدنیتی پر مبنی کہا جا سکے۔


ڈاکٹر شیر افگن نیازی، وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور


بشکریہ روزنامہ جنگ

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

ہیرو ہنڈا سا رے گا ما پا چیلنج

زی ٹی وی کے پروگرام “ہیرو ہنڈا سا رے گا ما پا چیلنج“ کی ٹاپ نائین پوزیشن میں اس وقت تین پاکستانی ہیں۔ جن میں امانت علی، جیند شیخ اور مسرت عباس شامل ہیں۔
پچھلے دنوں اسی حوالے سے اپنی نوعیت کا ایک انوکھا پروگرام دیکھنے کو ملا، دونوں ملکوں میں دوریاں دور کرنے کے لئے اس آزادی پروگرام میں دونوں کی ملکوں کے آزادی کے حوالے سے گیت پیش کئے گئے جن میں جیند شیخ اور امانت علی کے گیتوں کو میں نے اپنے موبائل کیمرے میں محفوظ کر لئے، گو کہ ان وڈیوز کی کوالٹی انتہائی ناقص ہے لیکن میں امید کرتا ہوں کہ ان گیتوں کو سن کر اور ہر طرف لہراتے پاکستان اور انڈین پرچموں کو دیکھ کر آپ کو یہ خامی اتنی بڑی نہیں لگے گی۔

اے وطن پیارے وطن پاک وطن
اے میرے پیارے وطن


ہے جذبہ جنون تو ہمت نہ ہار
جستجو جو کرے وہ چھوئے آسماں
محنت اپنی ہوگی، پہچان کبھی نہ بھولو
سب کی نظروں میں ۔۔۔۔ پاکستان
کبھی نہ بھولو
پاکستان ہےتمہارا
پاکستان ہے ہمارا
اپنا گھر، اپنی سر زمیں
سب کچھ ہے بس یہیں
اتنا تو ہے ہم کو یقیں
ہے جزبہ جنون تو ہمت نہ ہار
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

١٥ اگست طٰہ منیر کی سالگرہ کا دن

آج ١٥ اگست ہے۔
ہندوستان کی آزادی کا دن
میری طرف سے تمام ہندوستانی بھائیوں کو مبارک ہو، خاص کر محفل والے اعجاز اختر صاحب کو دلی مبارک باد۔

١٥ اگست میرے لئے اس لئے اہمیت رکھتا ہے کہ یہ میرے بیٹے طٰہ منیر کی سالگرہ کا دن ہے،  ٰجو اللہ تعالی کے فضل و کرم سے پورے ایک سال کا ہو گیا ہے۔

طٰہ منیر جو اپنی ننھی منی اور معصوم حرکتوں سے اپنے بابا کو ہنساتا رہتا ہے۔
آپ تمام دوستوں کو اس کی اچھی سیرت، صحت اور لمبی زندگی کے لئے دعا کی درخواست ہے۔











اس سلسلے میں اردو محفل پر کھولا گیا دھاگہ
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

میرا، آپ کا اور ہم سب کا پاکستان

آج ٦٠ واں یوم آزادی ہے۔

میرے سامنے ٹیبل پر رکھے ٢٠٠٧ء کے کیلنڈر پر ١٤ اگست پر سرخ دائرہ بنا ہوا ہے۔ یہ وہی دن ہے جب دنیا کے نقشے پر اب سے ساٹھ سال پہلے سب سے بڑی اسلامی ریاست “پاکستان“ کی صورت میں نمودار ہوئی۔ یہ آزادی، یہ منزل، یہ دھرتی، یہ مملکت اور یہ ریاست عظیم قربانیوں کے نتیجے میں ہمارا مقدر بنی۔ انگریز بہادر یا ہندو بنیئے نے پلیٹ میں سجا کر ہمیں پاکستان نہیں دیا تھا بلکہ جمہوری جدوجہد کے نتیجے میں خونریز جنگ کے بعد یہ نعمت عظمٰی ہمارے حصے میں آئی ہے۔ اسی لئے ہم اپنا یوم آزادی انتہائی جوش و خروش کیساتھ مناتے ہیں۔ یہ وطن شہدائے تحریک پاکستان کا ثمر ہے۔ اسی لئے یوم آزادی مناتے وقت ہم انہیں محبت و عقیدت کا خراج پیش کرنا نہیں بھولتے۔ آج ٦٠واں یوم آزادی مناتے وقت بھی یوم اسی جذبے سے سرشار ہے کہ وہ اس مملکت خداداد پاکستان کو اقبال کے دیرنیہ  خواب کی حقیقی تعبیر بنا کر دم لے گی اور قائداعظم نے جو تصورات دیئے ہیں، ان کے رنگ بھرنے کے لئے کوئی وقیقہ فروگذاشت نہیں کیا جائے گا۔

آزادی کے بعد کا سفر پوری قوم کے سامنے ہے۔ عام طور پر کہا جاتا ہے کہ قوموں کی زندگی میں نصف صدی یا ٦٠ سال کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ یہ غلط تصور نجانے کہاں سے آیا کیونکہ قوموں کا ایک ایک لمحہ بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے، کسی ایک ساعت کی معمولی سے غلطی کا خمیازہ پوری قوم ہی کو نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔ اسی طرح  کسی بھی لمحے کا تاریخ ساز فیصلہ صدیوں کے سفر پر حاوی ہوتا ہے۔ پاکستان بننے کے بعد کئی نسلیں گزر چکی ہیں، جس نسل نے یہ وطن بنایا تھا شاید ہی اس کا کوئی نمائندہ زندہ ہو، دوسری نسل کو بنا بنایا پاکستان ملا تھا یا اس نے اپنے بچپن میں تحریک پاکستان کے چند مناظر دیکھے ہوں گے۔ یہ نسل بھی بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچ چکی ہے، جن ہاتھوں میں ابھی کاروبار حیات ہے، یہ اور بات ہے کہ اس کے بعد کی نسل بھی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چکی ہے۔ گویا پاکستان سے محبت کا ورثہ نسل در نسل منتقل ہو رہا ہے۔ یہ وہ محبت ہے جو کہیں دکھائی نہیں دیتی، اس کا رنگ فضاؤں میں کہیں بھی اپنا وجود نہیں رکھتا، اس کی خوشبو اپنی موجودگی کا کبھی احساس نہیں دلاتی، قومی ترانوں، درودیوار کی سجاوٹوں، یوم آزادی پر برقی قمقموں، قومی جھنڈیوں اور خوبصورت ملبوسات میں میں گھروں سے نکلنے والوں کو دیکھ کر جشن سامانی کا احساس ضرور ہوتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم میں وہ جذبہ بھی ہے جو ١٤ اگست ١٩٤٧ء کو جنوبی ایشیاء کی تاریخ اور جغرافیہ کو بدلنے کا سبب بنا ۔۔۔؟

زندہ قومیں آزادی کا دن یقینا بھرپور انداز میں مناتی ہیں لیکن کیا زندہ قومیں ایک دن جوش و خروش سے منا کر ٣٦٤ دن اپنے وطن عزیز کو تباہ و برباد کرنے پر لگی رہتی ہیں؟ یقینا ایسا نہیں ہو سکتا؟ پھر سوال یہ ہے کہ ہم آخر ١٤ اگست کو یوم آزادی شایان شان انداز میں منانے کے بعد اس ملک کو توڑنے پھوڑنے، خراب کرنے اور اپنی اقدار کی مٹی پلید کرنے پر کیوں لگے ہوئے ہیں؟ یہ خوبصورت وطن ہمارا اجتماعی گھر ہے تو ہم اسے سجانے کے لئے یوم آزادی کے منتظر کیوں رہتے ہیں؟ اس کے گلی کوچوں، بازاروں، سڑکوں، چوراہوں، قصبوں، اور شہروں کو امریکی باشندوں نے گندگی کا ڈھیر نہیں بنایا اور نہ ہی ہم اس صورت حال کا ذمہ دار بھارت، اسرائیل یا اتحادی افواج کو قرار دے سکتے ہیں۔ ان خرابیوں کے ذمہ دار ہم خود ہیں۔

ریاست تین ستونوں پر قائم رہتی ہے۔ کیا ہمارے ہاں یہ تین ستون مضبوط اور مستحکم ہیں؟

عدلیہ کے ساتھ کیا ہوا؟، حکومت اور عدلیہ میں کس طرح جنگ چھڑی رہی اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں سب آپ کے سامنے ہے۔

مقننہ ریاست کا دوسرا اہم ستون ہوتا ہے، کہنے کو تو ملک میں جمہوریت ہے اور پارلیمنٹ کام کر رہی ہے تو کیا قانون سازی بھی ہو رہی ہے؟ یا صرف فرد واحد کے منہ سے نکلے الفاظ ہی قانون بن جایا کرتے ہیں؟

انتظامیہ عوام کی خادم بننے کے بجائے حاکم بنی ہوئی ہے۔

میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کیس، بگٹی کے قتل، کراچی میں لا اینڈ آرڈر اور ریاستی دہشت گردی یا لال مسجد یا اس جیسا کوئی اور واقعہ نہیں دہرانا چاہتا، میں صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ ریاست کا کوئی بھی ستون ایسا ہے جسے توانا سمجھا جا سکے؟ اگر جواب نہیں میں ہے تو پھر کیا اس ریاست کے تابناک مستقبل کے حوالے سے ہمیں کسی خوش فہمی کا شکار رہنا چاہیے؟ یہ سوال ہمیں خود سے دریافت کرنا ہو گا اور اس کے جواب کی روشنی ہی میں ہم کسی حتمی نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں۔

قائداعظم محمد علی جناح پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ بنانا چاہتے تھے اور جمہوری جدوجہد کے نتیجے میں ہی میں انہوں نے دہری غلامی سے نجات دلا کر ہمیں آزدی کی نعمت سے سرفراز کیا۔ یہ اور بات ہے کہ پاک دھرتی میں شجر جمہوریت جڑیں نہیں پکڑ سکا اور پاکستان کو ایک جدید فلاحی اسلامی ریاست بنانے کا خواب اب بھی ادھورا ہے۔ ہمارے ساتھ آزادی حاصل کرنے والے ممالک کہیں سے کہیں پہنچ گئے ہیں، جاپان اور چین نے ہمارے بعد آزادی حاصل کی، آج ان کا شمار دنیا کی بڑی طاقتوں میں ہوتا، ہم اپنے وجود کو برقرار نہیں رکھ سکے۔ مشرقی پاکستان ہم سے الگ ہو گیا ہم نے اس اہم واقعہ سے بھی کوئی سبق حاصل نہیں کیا اور آج پھر سے ہم اسی سفر پر رواں دواں ہیں۔

ہم آزاد ہیں۔ آزادی کا دن منا رہے ہیں لیکن گھمبیر مسائل آج بھی ہمارا مقدر ہیں۔ غربت، جہالت، بیماری، بیروزگاری، پسماندگی اور کون سا مسئلہ ہے جو ہمیں درپیش نہیں۔ ہم نے ان مسائل کے حل کے لئے آج تک کیا کیا؟ حکومت کے دعوے اپنی جگہ لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ ہم پاکستان کو مثالی ریاست بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ کوئی شعبہ ایسا نہیں کہ ہم یہ کہہ سکیں کہ اس میں ہماری ترقی دنیا کے لئے قابل رشک ہے۔

پاکستان محض مشرف، شوکت عزیز، شجاعت، فضل الرحمٰن، قاضی حسین احمد، عمران خان، بے نظیر یا نواز شریف کا نہیں، یہ پاکستان پیارا پاکستان میرا، آپ کا اور ہم سب کا ہے۔ اس لئے آئیے آج یوم آزادی کے اس مبارک دن ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ ہم آئندہ  زبانی جمع خرچ سے کام نہیں لیں گے بلکہ اپنا سب کچھ قربان کر کے وطن کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے۔ اگر اس عہد پر عمل درآمد ہوا تو یقین کیجیئے کہ قائد اعظم کے پاکستان کو عظیم سے عظیم تر بنانے کا خواب جلد شرمندہِ تعبیر ہو جائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ انشاءاللہ
نوٹ۔ میری طرف سے تمام قارئین اور اردو کمیونٹی کو یوم آزادی مبارک کی خوشیاں مبارک ہوں۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

خوابوں، آرزوؤں اور امیدوں کی سر زمین

پاکستان خوابوں، آرزوؤں اور امیدوں کی سر زمین ہے جس کا مستقبل لامحدود اور روشن ہے۔ پاکستان کے ماضی ساٹھ سالوں پر نظر دورائی جائے تو اندھیروں اور اجالوں کا ایک طویل سفر نظر آتا ہے۔ قیام پاکستان کے وقت جذبے جوان تھے۔ امنگوں سے بھرپور لوگ تابناک مستقبل کے متلاشی تھے۔ ہر طرف اجالے ہی اجالے تھے۔ قائد اعظم کی شکل میں قوم کو اپنا مسیحا بھی میسر تھا مگر پھر نہ جانے اس ملک کو کس کی نظر لگ گئی۔ اہل اقتدار نے میوزیکل چیئرز کی گیم شروع کر دی اجالے دھندلانا شروع ہو گئے، اندھیروں کے مہیب سائے چھانے لگے اور پھر بات یہاں تک پہنچی کہ جمہوریت کی شمع ہی گل کر دی گئی۔ پاکستان کے اجالے کہیں کھو سے گئے۔ ہر آنے والے نے نظام حکومت کے نت نئے تجربے شروع کر دیئے اور یہ بھی اسی ملک کی کہانی ہے کہ پہلے ٢٦ سال تک اس ملک کا متفقہ آئین بھی نہ بن سکا۔ اس نوزائیدہ ملک کو قائم ہوئے ابھی ٢٥ سال بھی نہ ہوئے تھے کہ اسے دولخت کر دیا گیا۔ غرضیکہ اس ملک کے ماضی کے ہر موڑ پر اپنوں اور بیگانوں کی خود غرضیوں اور زیاتیوں کا ایک طویل سلسلہ نظر آتا ہے۔ ماضی کے ان اندھیروں سے نجات مشکل تو ہے ناممکن نہیں۔ قیام پاکستان کی ساٹھویں سالگرہ کی آمد آمد ہے اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اجالوں کی طرف سفر شروع کریں ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر تابناک مستقبل کی تعمیر کریں۔


 


 


 


 


ملتے جلتے عنوان


نظریاتی مملکت


ہیپی برتھ ڈے پاکستان


فرمانِ قائد


جشنِ آزادی


ہمیں تکمیل کی حد تک اسے تعمیر کرنا ہے


یوم آزادی مبارک

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

نظریاتی مملکت

پاکستان ایک ایسی نظریاتی مملکت ہے جس کے قیام میں نہ صرف پاکستان کے علاقوں میں رہنے والے افراد نے قربانیاں دیں بلکہ لاکھوں لوگ ہجرت کرکے یہاں پہنچے جس کا ایک ہی مقصد تھا کہ ایسے ملک میں پہنچیں جہاں پوری قوم ایک جسم کی مانند ہو اور ایک جگہ تکلیف ہو تو تمام لوگ اس کو محسوس کریں۔ قیام پاکستان کی تحریک میں جہاں قریبی علاقوں کے لوگوں نے قربانیاں دیں اور ہجرت کی وہاں پاکستان کی سرحدوں سے دور کے وہ علاقے جو بھارت کے اندر ہیں کے مسلمانوں نے بھی یہی نعرہ لگایا کہ “بن کے رہے گا پاکستان، لے کے رہیں گے پاکستان“ قیام پاکستان کے موقع پر مہاجرین کے علاوہ پنجاب، سندھ، سرحد، بلوچستان اور آزاد کشمیر کے مسلمانوں نے بھرپور جدوجہد کی اور اپنا فرض خوب ادا کیا ۔۔۔۔ لیکن قیام پاکستان کے فوری بعد غیروں اور بہت سے اپنوں کی سازشیں سامنے آنا شروع ہوئیں اور مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) و مغربی پاکستان (موجودہ باقی ماندہ پاکستان) کے درمیان اختلاف کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ آخر کار محب وطن پاکستانیوں کی جانب سے پاکستان کو متحد رکھنے کی کوششوں کے باجود ١٩٧١ء میں پاکستان دولخت ہو گیا (کر دیا گیا) بے شک اس عظیم سانحے پر ہر محب وطن آنکھ اشکبار تھی لیکن جب عملی اقدامات نہ ہوں تو آنسو کبھی بھی ہونی کو نہیں روک سکتے۔ ہر پاکستانی نے سانحہ مشرقی پاکستان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا لیکن تمام اظہارِ جذبات بے سود رہے اور عظیم قربانیوں کے بعد بننے والے پاکستان کے دو حصے ہو گئے اتنا بڑا سانحہ ایک ایسا موڑ تھا جہاں سے قوم کے نئے عزم کے ساتھ اپنے سفر کا آغاز کرنا تھا لیکن ہم نے اس سے کوئی سبق حاصل کرنے کی بجائے وہی طریقے روا رکھے اور آج پھر پاکستان ایک موڑ پر کھڑا ہے۔ آج پھر صوبائیت کا نعرہ لگایا جا رہا ہے، مذہب کے نام پر قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے، اندرونی اور بیرونی طور پر دہشت گردی کا سامنا ہے اس سب کے باوجود ہر لیڈر اور فرد اپنے ذاتی مفادات کے تحفظ کے لئے برسرپیکار ہے۔ پاکستان کے ساٹھ سال پورے ہونے کو ہیں اس اہم موقع پر ہمیں ماضی کی ناکامیوں، تلخیوں، نقصانات سے سبق سیکھتے ہوئے اپنی اناؤں کو ایک طرف رکھ کے آئندہ کے سفر کا آغاز کرنا گا۔


 


 


 


 


ملتے جلتے عنوان


ہیپی برتھ ڈے پاکستان


فرمانِ قائد


جشنِ آزادی


ہمیں تکمیل کی حد تک اسے تعمیر کرنا ہے


یوم آزادی مبارک

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

ہیپی برتھ ڈے پاکستان

ہیپی برتھ ڈے ٹو یو
ہیپی برتھ ڈے ٹو مائی لو
ہیپی برتھ ڈے پاکستان
خیر سے تو 60 سال کا ہو گیا۔ بول بتا سالگرہ پہ ہم تجھے کیا تحفہ دیں ۔ چلو ہم خود ہی انتخاب کر لیتے ہیں۔ ام م م م م م ۔۔۔۔ ایمرجنسی یا مارشل لا کا
دھماکوں کا ، بے گناہ انسانی لاشوں کا
انسانی حقوق کے سلب کرنے کا تغریروں کا ، لفظوں پر پہروں کا۔
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو
تو ہو گیا 60 سال کا
پر تو اتنا بوڑھا کیوں ہے
اتنی عمر میں تو اقوام کی مسیں بھی نہیں بھگتیں
اتنی تھکن
پس مردنی
تو زخمی کیوں ہے؟
تیرے ایک بازو کو کیا ہوا؟
تیرا ایک بازو کیوں کٹ گیا ؟
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو
ہیپی برتھ ڈے پاکستان
ارے ہم تیرے چاہنے والے
دل سے تجھ کو ماننے والے
تجھے نکھارنے والے
غربت ، بے روزگاری ، خودکشیاں ، لوڈ شیڈنگ ، صوبائیت ، لسانیت ، مذہبی تعصب ، گروہ بندی، رشوت ، طاقت ، ظلم ، قتل و غارت، چھینا جھپٹی ، نفسا نفسی ، دنگا ، قبضہ ، ڈنڈا ، بوٹ اور گولی ، خون کی ہولی، خون کی ہولی
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو
ہیپی برتھ ڈے پاکستان
یہ کون لٹیرے ہیں ؟تجھ کو کیوں یہ گھیرے ہیں ؟اپنے تیز پنجوں پر لگے آہنی ناخنوں سے تجھے نوچ رہے ہیں ۔ تیرے چہرے پر، کشادہ ماتھے پر خراشیں ہی خراشیں ہیں ۔ جسم ہے کہ زخموں کی آما جگاہ
اوہ ۔اوہ۔اوہ
تیرا تو لباس بھی خون سے تربتر ہے ۔
چلو پھر بھی کوئی بات نہیں ۔
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو
یہ کیک اتنا گندہ بدبو دار کیوں ہے؟۔
اس میں سے تو کروڑوں مظلوموں کے خون کی بو آ رہی ہے ۔ کیا یہ کیک پاکستانیوں کے گوشت سے بنایا گیا ہے ؟۔ اسے خون سے پکایا گیا ہے ؟ وہ خون جو ارزاں ہے ۔ وہ خون جس کی تیرے قیام سے لیکر آج تک کوئی قیمت نہیں ۔ جسے سڑکوں بازاروں ، مسجدوں مدرسوں گلیوں میں پانی کی طرح بہایا گیا ہے۔
یہ کینڈلز کی لو اتنی سرخ کیوں ہے ؟ جیسے لاکھوں شہدا کی قربانیاں شرمندہ شرمندہ پھڑ پھڑا رہی ہیں۔
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو
ہیپی برتھ ڈے پاکستان
کیسے گذرے تیرے 60 سال
کبھی سکھ کا سانس بھی لیا تو نے
71 ہو 07 ، رندے ہی چلا جا رہا ہے۔ جنگیں تجھ پر طاری مسلط ہی ہوتی رہیں؟ کیسے جدا ہوا تھا تیرا بازو ، جیسے کوئی درندہ لٹے پٹے جسم کو نیچے گرائے ایک ٹانگ دھڑ پر رکھے اور تھوڑے ادھڑے بازو کو جسم سے جدا کر دے ۔ کتنی تکلیف سے گزرا تو ، کتنی تکلیف میں ہے تو
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو
ہیپی برتھ ڈے پاکستان
تیرے بابا کی اولاد ، آج کراچی میں ایک نوالے کو ترستی ہے۔ بابا کا نواسہ ، ظالموں نے مار ڈالا ۔تو نے تو دیکھا ہے وہ منظر لے ہم تجھ کو ابھی معاف نہیں کرینگے ۔ اقتدار کی کشمکش ، تیرے چاند بدن پر ابھی تک لٹکتے جواہرات کی چھینا چھپٹی ، تیرے خزانے ، ہم نے لوٹنے ہیں ابھی اور لوٹنے ہیں۔
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو
ہیپی برتھ ڈے پاکستان
آج غیر تجھ پر آنکھیں نکال رہے ہیں حملہ حملہ پکار رہے ہیں، ہمیں اس سے غرض نہیں ، ہم کہ بونے چھوٹے قد والے ، اچھل اچھل کر آسمان کے تارے توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سب ہم پہ ہنستے ہیں ، ہمیں کسی کی کیاپروا ہم بہت ڈھیٹ ہیں بہت ہی ڈھیٹ ۔
ہیپی برتھ ڈے ٹو یو
ہیپی برتھ ڈے پاکستان
کچھ لوگ اس سالگرہ میں اور بھی موجود ہیں ، تیرے جیسے ، لٹے پٹے ، زخمی زخمی تنہا تنہا ، روتے بھی نہیں اور ہماری سر پر سجی لمبی لمبی ٹوپیوں ناک پر لگے سرخ گول نشانوں اور ماتھے پر پڑی لکیروں حتیٰ کے ہمارے سرخ ، سبز دھاری دار لباسوں کو دیکھ کر بھی نہیں ہنستے۔ یہ چپکے چپکے کیا کہہ رہے ہیں ۔ جیسے کوئی گیت
”ہم شرمندہ ہیں پاکستان
ہم شرمندہ ہیں میری جان“
چھوڑو، ان بھوکے ننگوں کو آؤ پاکستان ہمارے ساتھ ہماری مرضی کا رقص کرو ، ہماری ڈکٹیٹ کی گئی دھن پر ناچو امریکن دھن پر جھومو ، میں کہوں گا ، ہیپی برتھ ڈے ٹو یو تم بھی پکارو ہاں ہاں
ہیپی برتھ ڈے ٹو می
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

سورہ توبہ اور ورلڈ ٹریڈ سنٹر

ابھی چند لمحے پہلے مجھے ایک دوست نے ایس ایم ایس کے ذریعے انتہائی اہم معلومات دی ہیں، جسے میں آپ کے ساتھ شئیر کرنا لازمی سمجھتا ہوں۔
ایس ایم ایس
“ورلڈ ٹریڈ سنٹر تباہ ہوا تھا 2001/11/9  کو
قرآن پاک میں سورہ توبہ میں عمارتوں کے تباہ ہونے کا ذکر ملتا ہے۔ اس میں خاص بات یہ ہے کہ یہ سورہ گیارنویں پارے کی نویں سورہ ہے اور اس سورہ کے 2001 الفاظ ہیں اور یہاں ایک اور بات غور طلب ہے کہ اس سورہ میں ٹوٹل آیات کے نمبر ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی منزلوں کے نمبر جتنے ہیں یعنی 110۔
اللہ رب العزت پر یقین رکھو، اللہ ہی سب کچھ کرنے والا ہے ۔۔۔ بیشک۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

ٹام ٹینکریڈو اور ابرہہ کا لشکر

American History 150 Years Agoری پبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ٹام ٹینکریڈو نے اعلان کیا ہے کہ “امریکا پر دہشت گردوں کے امکانی ایٹمی حملے کو روکنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ مسلمانوں کو بتا دیا جائے کہ اگر ایسا کوئی قدم اٹھایا گیا تو مسلمانوں کے مقدس ترین شہروں مکہ اور مدینہ کے خلاف جوابی کارروائی کی جاسکتی ہے اور اگر وہ صدر کے منصب پر براجمان ہونے میں کامیاب ہوگئے تو خود فیصلہ کریں گے کہ ان مقامات کو کس طرح نشانہ بنایا جا سکتا ہے“۔ ٹام ٹینکریڈو جیسے بیمار ذہنوں کی طرف سے یہ ہرزہ سرائی کوئی نئی بات نہیں، وقتاّ فوقتاّ ان کے گندے عزائم سامنے آتے رہتے ہیں۔


ٹام ٹینکریڈو یقینا تاریخ اسلام سے واقف نہیں گا اور اس نے ابرہہ کا واقعہ بھی کبھی کسی سے نہیں سنا ہو گا۔ ٹام کی معلومات کے لئے میں یہاں یہ واقعہ درج کر رہا ہوں۔

ٹام ٹینکریڈو! یہ واقعہ آج سے چودہ سو سال قبل کا ہے، اس وقت امریکا کا وجود نہیں تھا پر تمھاری ذہنیت کا ایک حکمران ‘ابرہہ‘ یمن پر حکمرانی کرتا تھا، اس وقت یہ تمھارے امریکہ سے کئی گنا زیادہ طاقت ور تھا۔ اس نے عرب کے ایک بڑے خطے پر حکومت مستحکم کی ہوئی تھی، طاقت اور غرور کے نشے نے اسے چین نہ لینے دیا۔ اس کے دماغ پر بھوت سوار ہوا کہ پوری سر زمین عرب پر نہ صرف اس کا راج ہو بلکہ دوسرے مذاہب اپنی شناخت و حیثیت ختم کر کے سر زمین عرب کی اکلوتی مستحکم حکومت کا عقیدہ و مذہب اختیار کر لیں۔ اس مقصد کیلئے ابرہہ نے صنعاء میں تمھارے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی طرح ایک نہایت بلند و بالا گرجا تعمیر کیا۔ اس کی تعمیر پر بے پناہ دولت خرچ کی گئی ۔ یہ کلیسا تعمیر کرنے کے بعد ابرہہ نے آرڈر جاری کیا کہ آج کے بعد مکہ والے کعبہ کا طواف کرنے عرب نہیں جائیں گے بلکہ صنعاء والے کلیسا کا طواف کریں گے۔ کچھ ہی دنوں بعد ‘القلیس‘ نامی اس بلند و بالا گرجے میں پراسرار آتشزدگی ہوئی۔ جس کے نتیجے میں آسمان سے باتیں کرتی یہ عمارت بالکل ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی طرح دیکھتے ہی دیکھتے راکھ کا ڈھیر بن کر زمین بوس ہو گئی۔ ٹام ٹینکریڈو! تمھارے امریکا کی طرح یمن کی سپر پاور نے بھی اس کا الزام حجازی عربوں پر رکھتے ہوئے اعلان کر دیا کہ اپنے کلیسا کا انتقام لینے کیلئے ہم بیت اللہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔ ابرہہ جب اپنی طاقتور فوج لیکر نکلا تو پورا عرب اندر سے شدید کرب و الم کا شکار تھا لیکن منتشر ہونے اور ایک قیادت تلے نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس کا مقابلہ نہ کر سکا۔ اکثر عرب قبائل تو آج کے مسلمان ملکوں کی طرح سرے سے خاموش ہی رہے اور جن چند قبائل نے غیرت و حمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تھوڑا بہت مقابلہ کیا ان بے چاروں نے نہ صرف یہ کہ منہ کی کھائی بلکہ ان سب ہی سرداروں کو قیدی بنا کر ابرہہ اپنی فوج کے ساتھ مکہ تک لے آیا۔ ٹام ٹینکریڈو! ٢٨ فروری ٥٧١ء بروز ہفتہ کو ابرہہ نے مکہ پر حملہ کیا، اسے بھی تمھارے امریکا کی طرح اپنی مادی طاقت اور فوجی قوت پر بہت گھمنڈ تھا۔ ابرہہ کے لشکر نے جب حملہ کیا اور مکہ سے کوئی مزاحمت کرنے والا کھڑا نہ ہوا تو اللہ نے اپنے گھر کی حفاظت کے لئے چھوٹے چھوٹے پرندوں کی کچھ ٹولیاں بھیج کر سپر پاور کی فوج اور اس کے ہاتھی، گھوڑوں پر کیمیکل بموں کا ایسا زور دار حملہ کروایا کہ ان پرندوں کی چونچ اور پنجوں سے جو بم گرتا وہ اپنے ہدف کے پورے وجود سے آر پار ہو جاتا اور جس کو لگتا اس کا گوشت اور جوڑ کٹ کٹ کر اس کے وجود سے الگ ہونا شروع ہو جاتے۔
ٹام ٹینکریڈو! یہ تھا قدرتی ایٹمی پلانٹ میں تیار کردہ منی بموں کا ہلکا سا نظارہ جو تمھارے امریکی پلانٹوں سے کئی کروڑ ہزار گنا زیادہ طاقت ور ہے۔
ٹام ٹینکریڈو! اب دل تھام کے ابرہہ کا انجام بھی سن لو! ۔۔۔ ابرہہ وادی مغمس سے بھاگتا ہوا صنعاء جب واپس پہنچا تو اس وقت اس کے جسم سے گوشت کٹ کٹ کر گر رہا تھا۔ اللہ نے اسے نشان عبرت بنانے کیلئے اپنے وطن پہنچ کر اپنی قوم کے سامنے سسک سسک کر دم توڑنے کا موقع فراہم کیا تاکہ دنیا کو معلوم ہو جائے کہ خدا کی نشانیوں سے ٹکر لینے اور انہیں مٹا دینے کی ڈینگیں مارنے والوں کا کیا حشر ہوتا ہے۔
ٹام ٹینکریڈو! اگر تم بھی ابرہہ کا کردار نبھانا چاہتے ہو تو ہو اس کا انجام بھی سوچ لو ۔۔۔ کیونکہ تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

فرمانِ قائد

اب ہم پاکستانی ہیں۔ نہ بلوچی، نہ پٹھان، نہ سندھی، نہ بنگالی، نہ پنجابی ہیں ہمیں پاکستانی اور صرف پاکستانی کہلانے پر فخر کرنا چاہیے۔ ہم جو کچھ بھی محسوس کریں، جو بھی عمل کریں، جو بھی قدم اٹھائیں، پاکستانی اور فقط پاکستانی کی حیثیت میں۔ میں آپ سے کہتا ہوں کہ آپ جب کوئی نیا اقدام کریں تو پہلے رک کر ذرا سوچ لیں کہ یہ آپ کا ذاتی یا مقامی پسند و نا پسند کے زیر اثر ہے یا پاکستانی کی فلاح و بہبود کا خیال دوسری سب باتوں پر غالب ہے۔
کوئٹہ میونسپلٹی کی استقبالیہ میں ۔ ١٥ جون ١٩٤٨ء


 


 



ملتے جلتے عنوان


جشنِ آزادی


ہمیں تکمیل کی حد تک اسے تعمیر کرنا ہے


یوم آزادی مبارک


 

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

جشنِ آزادی



ابو! یہ آزادی کیا ہوتی ہے؟
بیٹے، اس سوال کا جواب تو خود مجھے آج تک نہیں مل سکا۔
پھر بھی، بتائیں نا۔
آزادی کہتے ہیں رہائی کو، یا خود مختاری کو۔
رہائی؟
ہاں، رہائی۔ جیسے کسی پرندے کو پنجرے سے رہائی ملتی ہے۔
اچھا؟ تو یہ جو جشنِ آزادی ہے، یہ ہم پرندے کی رہائی کا جشن مناتے ہیں؟
ارے نہیں۔
تو پھر؟
اصل میں اگست کی 14 تاریخ کو ہم سب رِہا ہوئے تھے۔


 


 





ََِِ

ملتے جلتے عنوان


ہمیں تکمیل کی حد تک اسے تعمیر کرنا ہے


یوم آزادی مبارک



مکمل تحریر اور تبصرے >>>

بلاگر حلقہ احباب