مفت ٹکٹ

سفر۔ آخری
ٹکٹ۔ مفت
سیٹ۔ محفوظ
مسافر کا نام۔ عبداللہ ابن آدم
عرفیت۔ انسان
شناخت۔ مٹی
پتہ۔ روئے زمین

سفر کی تفصیلات

روانگی۔ از دنیا
منزل۔ آخرت
مدت سفر۔ چند ثانیے، جس میں چند لمحوں کے لئے دو میٹر زیرزمین پرواز
پرواز کا وقت۔ وقت اجل
ریزرویشن۔ یقینی

ضروری ہدایات
تمام مسافران سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ ان لوگوں کو اپنی نظر میں رکھیں جو ان سے پہلے آخرت کی طرف سفر کر گئے ہیں۔ مزید تفصیلات کے لئے بغور پڑھ لیں جو کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں درج ہے، ان پر عمل کریں اگر کچھ سوالات درپیش ہوں تو جواب کے لئے علماءامت سے رجوع کریں۔

کتنا سامان سفر ساتھ لائیں
ہر مسافر اپنے ساتھ پانچ میٹر سفید لٹھا اور تھوڑی سی روئی لے جا سکتا ہے لیکن وہ سامان جو درحقیقت آپ کے کام آئے نیک اعمال، صدقہ جاریہ، نیک صالح اولاد اور وہ علم جس سے دوسرے نفع حاصل کر سکیں۔ اس کے علاوہ کسی قسم کا دیگر سامان ساتھ لانے کی کوشش کی گئی تو اس کے ذمہ دار آپ خود ہوں گے۔ تمام مسافران سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ پرواز کے لئے ہر وقت تیار رہیں۔ پرواز سے متعلق مزید معلومات کے لئے فوری طور پر کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے رابطہ کریں۔ آپ کی سہولت کے لئے دوبارہ عرض ہے کہ آپ کی سیٹ ریزرو ہو چکی ہے۔
ہمیں امید ہے کہ آپ سفر کے لئے تیار ہوں گے، ہماری نیک تمنائیں اور دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔
خدا آپ کا حامی و ناصر ہو۔
 

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

یہ ڈنمارک والے کون ہیں؟

روزنامہ جنگ کے معروف کالم نگار عظیم سرور اپنے کالم ‘یہ ڈنمارک والے کون ہیں؟‘ میں لکھتے ہیں کہ لندن میں 10دن قیام کے بعد شکاگو کے لئے روانہ ہوا تو ایک بار پھر کوپن ہیگن آنا ہوا۔ اس مرتبہ ایئرلائن نے ایک دن کے لئے ہوٹل میں ٹھہرایا یہ ہوٹل سچا فائیو اسٹار ہوٹل تھا۔ اس کے کمرے میں دنیا بھر کی آرام و خوبصورت کتابچہ ”ڈنمارک میں رہنے کے آداب“ رکھا تھا۔ یہ کتابچہ انگریزی، ڈینش، فرانسیسی اور جرمن زبانوں میں تھا جو ڈنمارک کے محکمہ سیاحت کی طرف سے شائع ہوا تھا۔
یہ کتابچہ بہت دلچسپ تھا اس میں ایک باب میں بہت سی ہدایات تھیں۔ کہا گیا تھا اگر آپ ڈنمارک کے قیام کے دوران میں کسی ڈینش کے گھر مہمان بن کر جائیں تو وہاں آپ کو ان باتوں کا خیال رکھنا ہوگا۔
(1) جب آپ کو کوئی ڈینش شخص اپنے گھر بلائے اور وہاں آپ دیکھیں کہ کوئی خاتون گھر داری کے کام میں مصروف ہے تو اپنے میزبان سے یہ مت پوچھیں کہ آپ کی شادی کو کتنا عرصہ ہوگیا؟ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ بغیر شادی کے رہ رہے ہوں۔ آپ کے اس سوال سے ان کے دل کو صدمہ پہنچے گا۔
(2) آپ اگر خاتون خانہ سے بات کریں تو ان کو مسز فلاں کہہ کر نہ مخاطب کریں امکان اس بات کا ہو سکتا ہے کہ وہ ان صاحب کیساتھ ویسے ہی رہ رہی ہوں۔ آپکی اس بات سے ان خاتون کو دکھ ہوگا اور آپ اس طرح بداخلاقی کے مرتکب ہوں گے۔
(3) اگر آپ اپنے میزبان کے گھر میں کسی بچے کو دیکھیں تو اس بچے کی ذہانت یا شکل و صورت کی تعریف کرتے ہوئے اپنے میزبان سے یہ نہ کہیں کہ آپ کا بچہ بہت خوبصورت ہے یا ذہین ہے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ بچہ اس میزبان کا بچہ نہ ہو بلکہ خاتون خانہ کا بچہ ہو۔ اس طرح ایک جانب آپ کے میزبان کو دلی دکھ پہنچے گا اور ہو سکتا ہے معصوم بچے کو بھی صدمہ ہو۔ اس لئے اس سلسلے میں حد درجہ احتیاط سے کام لیں۔
(4) آپ کسی دفتر میں کسی خاتون سے ملیں تو ان سے یہ مت پوچھئے کہ آپ کے شوہر کیا کام کرتے ہیں؟ یا آپ کے شوہر کا نام کیا ہے؟ ہو سکتا ہے وہ خاتون کسی کے بھی ساتھ ایسے ہی رہ رہی ہوں آپ کے سوال کی صورت میں ان کو دکھ پہنچ سکتا ہے۔
(5) اگر آپ کسی بزنس کے سلسلے میں کسی ڈینش سے ملیں اور وہ آپ کو کھانے وغیرہ پر مدعو کر لے تو گفتگو میں احتیاط سے کام لیں۔ کسی سے یہ مت پوچھیں کہ کیا آپ کے والد حیات ہیں؟ ہو سکتا ہے اس کو معلوم ہی نہ ہو کہ اس کا والد کون تھا اس صورت میں زندگی اور موت کی معلومات کیسے ہو سکتی ہیں؟ آپ یہ سوال کر کے اپنے میزبان کو ذہنی اور دلی صدمہ پہنچانے کے مرتکب ہو سکتے ہیں۔
(6) کسی بھی ڈینش خاتون کو خط لکھتے ہوئے ان کے نام کے ساتھ مسز تحریر نہ کریں کیونکہ اکثر خواتین مسز ہوئے بغیر مسز ہوتی ہیں آپ کے ان کو مسز لکھنے سے ان کو انتہائی صدمہ ہوگا اور وہ دکھی ہو جائیں گی۔
”ہدایت نامہ سیاح ڈنمارک“ پڑھ کر میرے اوسان خطا ہوگئے۔ الٰہی یہ کیسا ملک ہے؟ اس ملک کے بارے میں جب یہ سنتے تھے کہ یہ سیکس فری ملک ہے تو اس قسم کا کوئی خیال کبھی نہ آیا تھا کہ معاشرے میں اکثریت ہر اخلاقی بندھن سے آزاد ہوگی پھر یہ خیال آیا کہ یہ لوگ جو کسی سوشل معاہدے کے بغیر میاں بیوی کی حیثیت سے رہ رہے ہیں کیا انسان کہلانے کے مستحق ہیں؟ جانوروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایسی آزادی ان کے ہاں ہوتی ہے لیکن پھر جانور ایسے معاملات میں نہ حساس ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کو کسی بات پر دلی صدمہ یا دکھ ہوتا ہے۔ ڈنمارک کے 17اخباروں نے جو خاکے شائع کئے ہیں تو ان کے بارے میں وہ اخبار دلیل یہ دیتے ہیں کہ یہ اظہار رائے کی آزادی ہے اس صورت میں انہیں اس بات کی پروا نہیں کہ اس سے دنیا کی ڈیڑھ ارب آبادی کو دلی اور روحانی صدمہ پہنچتا ہے ڈنمارک کی حکومت بھی اپنے اخبار والوں کو اظہار کا حق دیتے ہوئے اس بات کو کوئی اہمیت نہیں دیتی کہ اس سے دنیا کے مسلمانوں کے جذبات و احساسات کو ٹھیس پہنچے گی بس انہیں اپنے جانوروں جیسی زندگی گزارنے والے لوگوں کے جذبات کا اتنا خیال ہے کہ ہر سیاح کو ”آداب ڈنمارک“ سکھاتے ہیں۔
ہمارا خیال ہے ہمیں انفرادی طور پر ڈنمارک کے سفارت خانے اور حکومت کو خط لکھ کر یہ بتانا چاہئے کہ ہم ان اخبار کے مالکان، صحافیوں اور خاکے بنانے والوں پر مقدمے دائر کرنا چاہتے ہیں اور ان مقدموں کے لئے ہمیں ان تمام لوگوں کی ولدیت کی ضرورت ہوگی۔ برائے مہربانی ان لوگوں کی ولدیت فراہم کی جائے۔ دوسری صورت میں ہم ان کے نام کے ساتھ ”ولد نامعلوم“ لکھیں گے یا نام کے ساتھ انگریزی کا حرف "B" یا اردو کا حرف ”ح“ لکھ دیں گے۔ پھر ہم دیکھتے ہیں ڈنمارک کے سفارت خانے اور حکومت ان خطوں کے کیا جواب دیتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے جن لوگوں نے یہ خاکے شائع کئے ہیں یہ سب لوگ اسی قبیل کے فرزند ہوں گے جن کے جذبات کے بارے میں ڈنمارک کا محکمہ سیاحت، ہدایت نامہ شائع کر کے ہوٹلوں اور دفتروں میں سیاحوں کے لئے رکھتا ہے۔
ایک سوال علمائے کرام سے کہ جب ڈنمارک میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو آزاد روی کی پیدائش ہیں تو کیا ایسے لوگوں کے ہاتھ کا بنایا ہوا مکھن کھانا حلال ہوگا یا حرام؟

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

لگا ڈیموکریسی میں داغ!!!


 


HERO :
President Bush & Musharaf

HEROINE :

Banzeer  


VILLAIN:

Sharif, Qazi, Imran

SCRIPTED IN :

USA

SHOOTED IN :

Pakistan

CHARACTER ACTOR :

Amin Fahim

FRIENDLY APPEARANCE :

Saudi King

FRAUDY :

Asif Ali Zardari


COMEDIAN :

Shaikh Rasheed

SUPPORTING ACTOR :

Fazal ur Rahman

CHARACTERLESS ACTORS :

Chaudharies

DANCERS :

Sherry Rehman, Kashmala Tariq

MUSIC BY :

MQM

ACTION BY :

Pak Army

SUSPENSE BY :

Chief Justice

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

ہاں دھاندلی کرائی تھی!

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

ڈنمارک کا بائیکاٹ کریں

ڈنمارک نے جس طرح مسلمانوں کے جذبات سے کھلواڑ کیا ہوا ہے اس کے جواب تمام مسلم ممالک کو چاہیے کہ وہ احتجاجاََ وہاں سے اپنے سفیر واپس بلا لیں، مسلم امہ کو بھی چاہیے کہ وہ ڈنمارک کی پروڈکٹ کا بائیکاٹ کریں۔
یاد رہے کہ ڈنمارک کا پروڈکٹ کنٹری بارکوڈ (barcode) ٥٧٠ سے ٥٧٩ تک کا ہے جس کی ایک مثال نیچے تصویر میں دی گئی ہے اور نیچے ڈنمارک کی چند مشہور پروڈکٹ دی گئی ہیں۔


 


مکمل تحریر اور تبصرے >>>

پاکستان کے قاتل قتل ہو گئے

پاکستان کی تقسیم میں جو لیڈر شریک تھے وہ سب قتل ہو کر مرے۔
تقسیم پاکستان کے تناظر میں لکھی گئی حقیقت پر مبنی ایک تحریر ۔۔۔۔۔ لنک

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

انتخابات کے بعد

روزنامہ جنگ کی تحقیق کے مطابق پاکستان میں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر 1970ء میں پہلے عام انتخابات ہوئے 18 فروری 2008ء کو 9 ویں انتخابات تھے ۔ انتخابات کے بعد نئی جمہوری حکومتوں کے قیام میں سب سے زیادہ عرصہ 1970ء میں لگا جب 2سال 8ماہ 18 دن بعد مرکز میں حکومت قائم ہوئی اور ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھایا۔ 1990ء کے انتخابات میں نئی حکومت کے قیام میں سب سے کم عرصہ لگا اور صرف 11 دن بعد میاں محمد نواز شریف نے وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اٹھا کر مرکز میں حکومت قائم کی ۔ 1970ء کے انتخابات کے بعد حکومت میں تاخیر کا بنیادی سبب مشرقی پاکستان کی علیحدگی تھی۔ 7/ دسمبر 1970ء کو قومی اسمبلی کے انتخابات ہوئے جبکہ 17 دسمبر 1970ء کوصوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہوئے۔ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ نے اکثریت حاصل کی تھی لیکن حکومت کے قیام پر اتفاق نہ ہونے سے اسمبلی کا اجلاس نہ بلایا جاسکا۔ 16/ دسمبر 1971ء کو سقوط ڈھاکا کا سانحہ رونما ہوا۔ 20 دسمبر 1971ء کو ذوالفقار علی بھٹو نے باقیماندہ پاکستان کے صدر اور سویلین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے عہدے سنبھالے۔ انتخابات کے ایک سال 3 ماہ 18 دن بعد بالآخر 14 اپریل 1972ء قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا جس میں باقیماندہ پاکستان کے ارکان قومی اسمبلی نے حلف اٹھایا اور ذوالفقار علی بھٹو کو اسمبلی کا اسپیکر منتخب کیا گیا ۔ حلف اٹھانے والوں میں مغربی پاکستان کے 114 اور مشرقی پاکستان کے دو ارکان قومی اسمبلی نور الامین اور راجہ تری دیورائے شامل تھے۔ بعدازاں 30 اپریل 1972ء کو صوبائی اسمبلیوں کے بھی اجلاس منعقد کئے گئے اور یکم مئی 1972ء کو سندھ اور سرحد میں اور 2مئی 1972ء کو پنجاب اور بلوچستان میں صوبائی حکومتیں قائم کر دی گئیں۔پنجاب میں ملک معراج خالد، سندھ میں ممتاز علی بھٹو، سرحد میں مفتی محمود اور بلوچستان میں سردار عطاء اللہ مینگل وزیر اعلیٰ بنے۔ 17/ اپریل 1972ء کو عبوری آئین منظور کیا گیا جس کے تحت 14 اگست 1973ء سے پہلے اسمبلی کو نہیں توڑا جا سکتا تھا۔10/اگست 1973ء کو اسمبلی نے متفقہ آئین کی منظوری دی۔ 12/اگست کو اس کی توثیق کی اور 14/اگست 1973ء کو یہ متفقہ دستور نافذ ہوا۔ اُسی دن ذوالفقار علی بھٹو نے وزارت عظمٰی کا حلف اٹھایا۔ 15/اگست 1973ء کو صاحبزادہ فاروق علی قومی اسمبلی کے اسپیکر بنے۔ انتخابات کے بعد نئی حکومت کے قیام میں تاریخ پاکستان کے دولخت ہونے کا عظیم سانحہ تھا۔ 1988، 1990، 1993اور 1997کے عام انتخابات کے بعد نئی حکومتوں کے قیام میں کوئی زیادہ تاخیر نہیں ہوئی اور 1سے 16دنوں کے اندر مرکز میں حکومتیں بن گئیں البتہ کچھ صوبوں میں مزید ہفتہ ڈیڑھ ہفتہ کی تاخیر سے حکومتیں قائم ہوئیں کیونکہ ان چاروں انتخابات کے بعد کوئی زیادہ سیاسی جوڑ توڑ کی ضرورت نہیں پڑی۔ البتہ اس سے قبل 1985ء کے غیرجماعتی انتخابات کے بعد حکومتوں کے قیام میں خاصی تاخیر ہوگئی۔ 25/فروری 1985ء کو قومی اسمبلی کے انتخابات ہوئے اور 28/فروری 1985ء کو صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات ہوئے۔ مرکز میں حکومت تقریباً 26 دن بعد 23/مارچ 1985ء کو قائم ہوئی اور محمد خان جونیجو نے وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اُٹھایا۔ پنجاب میں ایک ماہ 8دن بعد یعنی 9/اپریل 1985ء کو میاں محمد نوازشریف نے وزارت اعلیٰ کا حلف لے کر حکومت تشکیل دی۔ سندھ میں سید غوث علی شاہ نے 6/اپریل1985ء کو، سرحد میں جہانگیر ترین نے 7/اپریل 1985ء کو اور بلوچستان میں جام میر غلام قادر نے 6/اپریل1985ء کو وزرائے اعلیٰ کی حیثیت سے حلف اُٹھاکر صوبائی حکومتیں قائم کیں۔ 1970ء کے انتخابات کے بعد حکومتیں قائم کرنے میں سب سے زیادہ تاخیر2002ء کے عام انتخابات کے بعد ہوئی کیونکہ مسلم لیگ (ق) کو مرکز میں حکومت بنانے کے لیے سادہ اکثریت حاصل نہیں تھی۔ حکومت سازی کے لیے پیپلز پارٹی اور دیگر آزاد ارکان کو توڑنے کے لیے خاصا وقت لگ گیا اور تقریباً ایک ماہ 13دن بعد 23/نومبر2002ء کو میر ظفر اللہ خان جمالی نے وزارت عظمٰی کا حلف اُٹھاکر وفاقی حکومت تشکیل دی۔ دو دن بعد 25/نومبر2002ء کو متحدہ مجلس عمل کے اکرم خان درانی نے سرحد میں اور 6 دن بعد 29/نومبر2002ء کو مسلم لیگ (ق) کے چوہدری پرویز الٰہی نے پنجاب میں صوبائی حکومتوں کے سربراہ کی حیثیت سے حلف اُٹھایا۔ سندھ میں اکثریتی جماعت پیپلز پارٹی کو حکومت نہیں بنانے دی گئی اور جوڑ توڑ کی وجہ سے یہاں حکومت بنانے میں اور زیادہ تاخیر ہوگئی۔ بالاخر 2ماہ 6دن کی تاخیر کے بعد 16/دسمبر 2002ء کو سردار علی محمد خان مہر نے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حلف اُٹھایا۔ 1988ء میں قومی اسمبلی کے انتخابات 16/نومبر جبکہ صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات 19/نومبر کو منعقد ہوئے۔ صرف 16/دن بعد 2/دسمبر1988ء محترمہ بے نظیر بھٹو نے وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اُٹھایا جبکہ 2/دسمبر1988ء کو ہی پنجاب میں میاں محمد نوازشریف نے، سندھ میں سید قائم علی شاہ نے اور آفتاب احمد شیرپاؤ نے سرحد کے وزرائے اعلیٰ کی حیثیت سے حلف اُٹھایا۔ البتہ بلوچستان میں حکومت بنانے میں تاخیر ہوگئی۔ انتخابات کے تقریباً 2/ماہ 16/دن بعد نواب اکبر بگٹی وزیراعلیٰ بنے۔ 1990ء میں قومی اسمبلی کے انتخابات 24/اکتوبر اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات 27/اکتوبر کو منعقد ہوئے۔صرف 11دن کے بعد 6/نومبر1990ء میں میاں محمد نواز شریف نے وزیراعظم کا حلف اُٹھاکر مرکز میں حکومت قائم کی۔ اُسی دن سید مظفر حسین شاہ نے سندھ کے وزیراعلیٰ کا منصب سنبھالا۔ 8/نومبر کو غلام حیدر وائین نے پنجاب اور 7/نومبر کو میر افضل خان نے سرحد کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حلف اُٹھایا۔ اس مرتبہ بھی بلوچستان حکومت کی تشکیل میں قدرے تاخیر ہوگئی اور تقریباً 20/دن بعد تاج محمد خان جمالی نے وزارت اعلیٰ کا حلف اُٹھاکر بلوچستان کی حکومت تشکیل دی۔ تاخیر کی وجہ مطلوبہ اکثریت کا نہ ہونا اور سیاسی جوڑ توڑ تھی۔ 1993ء میں قومی اسمبلی کے انتخابات 6/اکتوبر اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات 9/اکتوبر کو منعقد ہوئے۔ اس مرتبہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے صرف 13دن بعد 19/نومبر 1993ء کو وزارت عظمٰی کا حلف اُٹھایا اور 11سے 12دن میں چاروں صوبائی حکومتیں بھی قائم ہوگئیں۔ 20/نومبر1993ء کو میاں منظور وٹو نے پنجاب میں، اُسی دن سید صابر علی شاہ نے سرحد میں اور میر ذوالفقار علی مگسی نے بلوچستان میں وزرائے اعلیٰ کا منصب سنبھالا۔ 21/نومبر1993ء کو سید عبداللہ شاہ سندھ کے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے۔1997ء میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات پہلی مرتبہ ایک ہی دن 3/فروری1997ء کو منعقد ہوئے۔ 17/فروری1997ء کو میاں نوازشریف نے دوبارہ وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اُٹھایا۔ 20/فروری کو میاں شہباز شریف نے پنجاب میں، 22/فروری کو لیاقت علی خان جتوئی نے سندھ میں، 21/فروری کو سردار مہتاب احمد خان عباسی نے سرحد میں اور 22/فروری 1997ء کو سردار اختر خان مینگل نے بلوچستان میں وزرائے اعلیٰ کی حیثیت سے حلف اُٹھاکر حکومتیں تشکیل دیں۔ 18/فروری 2008ء کو منعقد ہونے والے 9/ویں عام انتخابات کے نتائج کا سرکاری اعلان جمعہ 22کو متوقع ہے لیکن انتخابات میں جس طرح تقسیم شدہ مینڈیٹ آیا ہے اس سے کسی بھی سیاسی جماعت کو مرکز میں حکومت تشکیل دینے کے لیے سادہ اکثریت بھی حاصل نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کو اگرچہ نشستوں کی تعداد کے حوالے سے برتری حاصل ہے لیکن مرکز میں حکومت کے قیام کے لیے اُسے بہت سی ایسی مشکلات کا سامنا ہے، جو شاید پہلے کسی بھی سیاسی جماعت کو نہیں کرنا پڑا۔ حالات سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ نئی منتخب حکومتوں کے قیام میں غیرمعمولی تاخیر بھی ہوسکتی ہے۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

بجلی کی ضرورت، مستقل مسئلہ

توانائی کی حصول بارے ایک پاکستانی انجینئر کے خیالات پڑھنے کے لئے اس لنک سے TIF فائل لوڈ کیجیئے۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

مادری زبانوں کا عالمی دن

 آج پوری دنیا میں مادری زبانوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ انسانی معاشرے میں نقل مکانی، مختلف تہذیبوں کی جانب ہجرت اور آبادکاری ایک طرف تہذیبوں کے ملاپ کا باعث بنی تودوسری جانب اس ادغام سے رفتہ رفتہ کئی تہذیبوں کا خاتمہ بھی ہوا جس کا اثر وہاں بولی جانے والی زبانوں پر بھی پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں بولی جانے والی 6912 زبانوں میں سے 516 ناپید ہوچکی ہیں۔ زمانے کی جدت اور سرکاری زبانوں کے بڑھتے ہوئے استعمال سے مادری زبانوں کی اہمیت ماند پڑ رہی ہے۔
عالمی سطح پر سب سے زیادہ استعمال ہونے والی زبان چینی جبکہ سرکاری سطح پر سب سے زیادہ استعمال ہونے والی زبان انگریزی ہے۔ عالمی دن کے حوالے سے ”جنگ“ ڈیولپمنٹ رپورٹنگ سیل نے مختلف ذرائع سے جو اعداد و شمار حاصل کئے ہیں ان کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی مادری زبان چینی ہے جسے 87 کروڑ 30 لاکھ افراد بولتے ہیں جبکہ 37 کروڑ ہندی، 35 کروڑ ہسپانوی، 34 کروڑ انگریزی اور 20 کروڑ افراد عربی بولتے ہیں۔ پنجابی گیارہویں اور اردو بولی جانے والی زبانوں میں 19 ویں نمبر پر ہے۔ اقوام متحدہ کے انفارمیشن سینٹر اسلام آباد کے اعداد و شمار کے مطابق عالمی سطح پر 7 سے 8 ہزار زبانیں بولی جاتی تھیں تاہم اب یہ زبانیں آہستہ آہستہ کم ہوتی جا رہی ہیں۔ کل بولی جانے والی زبانوں کا نصف ایسی زبانیں ہیں جنہیں 10 ہزار افراد سے زائد استعمال میں نہیں لاتے۔ سی آئی اے فیکٹ بک کے مطابق پاکستان میں سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان پنجابی ہے جسے 48 فیصد افراد بولتے ہیں جبکہ 12 فیصد سندھی، 10 فیصد سرائیکی، انگریزی، اردو اور پشتو 8,8 فیصد، بلوچی 3 فیصد، ہندکو 2 فیصد اور ایک فیصد براہوی زبان کا استعمال کرتے ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ زبانیں پاپوانیوگنی میں بولی جاتی ہیں جہاں کل زبانوں کا 12 فیصد یعنی 820 زبانیں بولی جاتی ہیں جبکہ 742 زبانوں کے ساتھ انڈونیشیاء دوسرے، 516 کے ساتھ نائیجیریا تیسرے، 425 کے ساتھ بھارت چوتھے اور 311 کے ساتھ امریکا پانچویں نمبر پر ہے۔ آسٹریلیا میں 275 اورچین میں 241 زبانیں بولی جاتی ہیں۔ انٹرنیٹ ورلڈ اسٹیٹ کے اعداد و شمار کے مطابق انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ 38 کروڑ صارف انگریزی زبان کا استعمال کرتے ہیں جبکہ 18 کروڑ صارف چینی، 11 کروڑ 30 لاکھ اسپینش، 8 کروڑ 80 لاکھ جاپانی اور 6 کروڑ 40 لاکھ فرانسیسی زبان کا استعمال کرتے ہیں۔ دنیامیں سب سے پہلی زبان ایک لاکھ قبل مسیح میں شروع ہوئی جبکہ لکھی جانے والی زبانوں میں چینی اور یونانی قدیم زبانیں ہیں۔


بشکریہ روزنامہ جنگ

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

ایک پرچی کی مار

جو کام ایک طاقتور فوجی حکومت درجنوں الٹے سیدھے قوانین بنا کر اور کروڑوں روپے خرچ کر کے آٹھ سال میں نہ کر سکی، وہ کام پاکستان کے غریب اور بےبس عوام نے صرف ایک پرچی کی مدد سے ایک دن میں کر دکھایا۔
پاکستان کی حالیہ تاریخ میں سیاسی احتساب کی ایسی مثال شاید ہی کہیں ملے۔ یہ ایسا احتساب تھا جو ایوان صدر سے شروع ہوا اور اس پولنگ سٹیشن تک پہنچا جہاں صدر مشرف نے اپنے حمایتیوں کے حق میں اپنا ووٹ ڈالا۔
طاقت کے بل بوتے پر غرانے والے، غریب پاکستانیوں کو جاہل اور ان پڑھ کہنے والے اور خود کو مختار کل سمجھنے والے چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر انہیں غریبوں کی جوتیوں کے نیچے آ گئے ہیں۔
لیکن 18 فروری کے انتخابات میں عوام نے طاقت اور غرور کے برج ہی نہیں الٹے، پاکستان کے وفاق کو بھی ایک نئی زندگی دی ہے۔ اگر وہ دھاندلی کے خلاف اس قدر پکا عزم نہ دکھاتے یا دہشتگردی کے خوف سے گھروں میں دبکے بیٹھے رہتے تو آج پاکستان بھر میں نظر آنے والے ہنستے مسکراتے چہرے یا تو گھروں میں بند وفاق کی یکجہتی کا سوگ منا رہے ہوتے یا مغربی سفارتخانوں کے باہر ویزوں کی قطاروں میں نظر آتے۔
صدر مشرف کے جو چند حمایتی اب بھی کچھ کہنے سننے کے قابل رہ گئے ہیں اب یہ دلیل دے رہے ہیں کہ ان کو صاف اور شفاف انتخابات کرانے کی شاباش ملنی چاہئیے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے میں آپ پر گولی چلاؤں، نشانہ خطا ہو اور میں آپ سے اپنے غلط نشانے کی داد چاہوں۔
اٹھارہ فروری کے انتخابات میں جس قدر بھی دھاندلی ممکن تھی، وہ ہوئی۔ صرف پنجاب میں ہی صوبے کے چونتیس اضلاع میں سے بائیس میں مقامی حکومتوں نے مسلم لیگ قاف کی کامیابی کے لیے دن رات ایک کیا ہوا تھا۔ ان بائیس میں سے کم از کم چودہ ایسے تھے جہاں مقامی ناظمین کے رشتہ دار قاف لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے تھے۔ پولنگ والے دن بھی جس قدر داداگیری ممکن تھی، ہوئی۔
لیکن عوام نے طے کر رکھا تھا کہ اب بہت ہو چکی۔ اور یہ امر فوج کی موجودہ قیادت پر بھی پولنگ سے قبل ہی عیاں ہو چکا تھا۔ بینظیر بھٹو کے قتل سے پہلے تک آئی ایس آئی کراچی اور صوبہ سرحد میں، ایم آئی اندرون سندھ اور بلوچستان میں جبکہ انٹیلیجنس بیورو پنجاب میں مثبت نتائج کے متلاشی تھے۔
لیکن پچھلے سال ستائیس دسمبر کے بعد سے ان کی سرگرمیاں مسلسل محدود نظر ہوتی دکھائی دیں۔ یہ واضح اشارہ تھا کہ صدر مشرف کی جو بھی خواہش ہو، فوجی قیادت یہ سمجھ چکی ہے کہ اٹھارہ فروری کے انتخابات خراب ہونے کی صورت میں حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔
اگر فوجی قیادت جیسا ہٹ دھرم طبقہ بھی یہ ماننے پر مجبور ہو گیا ہے کہ اب ان کی سیاسی مسیحائی کسی بھی بیمار کو قبول نہیں تو فوجی طالع آزماؤں کے سیاسی انقلابیوں کو چاہئیے کہ وہ اپنی ناکام سیاست کو خاموشی سے دفن کر کے زبان خلق پر توجہ دیں کیونکہ عوام نے ثابت کر دیا ہے کہ زبان خلق میں ایسے ایسے سبق پنہاں ہیں جو پڑھنے والے کو لافانی کر سکتے ہیں۔
پہلا سبق تو یہ ہے کہ عوام کو کبھی جاہل یا ان پڑھ نہیں سمجھنا چاہیے۔ پاکستان کی فوجی قیادت آج تک اسی غلط فہمی میں مثبت انتخابی نتائج کی تلاش میں رہی، یہاں تک کہ ان کی یہ خام خیالی ملک کو بارہا تباہی کے دھانے پر لے آئی۔ صدر مشرف نے کہا کہ قبل از انتخابات سروے نہیں ہونے چاہئیں کیونکہ پاکستانی اتنے ان پڑھ اور ذات برادری کے شیطانی چکر میں پھنسے ہیں کہ وہ اپنا برا بھلا نہیں جانتے۔
شاید انہی جاہل لوگوں میں سے بہت سے اب یہ سوچ رہے ہوں کہ فوجی حکمران کبھی کبھی اپنے ہی پھیلائے ہوئے جال میں ایسے پھنس جاتے ہیں کہ وہ اپنا بھلا برا بھی بھول جاتے ہیں۔ ویسے بھی موجودہ انتخابی نتائج کے بعد اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ پڑھا لکھا کون ہے اور جاہل کون ۔
دوسرا سبق ہمیں یہ ملتا ہے کہ ضلعی اور قومی سیاست دو مختلف جانور ہیں اور ان کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکنے والا بالاخر ٹھوکر کھاتا ہے۔ ذات برادریوں کی جو سیاست مقامی انتخابات کی روح ہوتی ہے قومی سطح پر اس کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔
یہ سبق صرف سیاستدانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ میڈیا کو بھی سیکھنا چاہیے۔ یہ ایک حیران کن بات تھی کہ عدالتی بحران، بینظیر بھٹو کے قتل، اشیاء خورد نوش کی قلت اور بجلی اور گیس جیسے بحرانوں کی موجودگی میں تمام کا تمام مقامی میڈیا مسلم لیگ قاف کی سیاست کی مضبوطی کا اندازہ اس کی ضلعی حکومتوں سے رشتوں کی بنیاد پر لگا رہا تھا۔
پاکستانیوں نے جس سیاسی سنجیدگی کا ثبوت دیا ہے اس کے بعد اس حقیقت کو قبول کرنا چاہیے کہ ذات برادری کی سیاست کی جگہ گلی محلہ تو ہو سکتے ہیں لیکن قومی اسمبلی یا سینیٹ نہیں۔
تیسرا سبق ہمیں ان تجزیوں سے ملتا ہے جن کے مطابق توقع کی جا رہی تھی کہ بینظیر بھٹو کے قتل سے اٹھنے والی ہمدردی کی لہر پاکستان پیپلز پارٹی کو سیدھا ایوان اقتدار میں لے جا ٹپکے گی۔ ایسا نہ صرف پنجاب میں کہیں دیکھنے میں نہ آیا بلکہ سندھ میں بھی کہیں کہیں مسلم لیگ فنکشنل کو سیٹیں گئیں۔
اس میں شک نہیں کہ بینظیر بھٹو کے قتل پر پورے ملک میں سوگ ہوا، دوست دشمن سبھی غمگین ہوئے اور آج بھی لوگ انہیں یاد کر کے آنسو بہاتے ہیں۔ لیکن انتخابی نتائج میں یہ نظر آیا کہ ایک سیاسی رہنما کے لیے لوگوں کے غم کو اس کے سیاسی وارثوں کی حمایت نہیں سمجھا جا سکتا۔
بےشک پاکستانی ووٹر آٹھ سال سے ایک انتہائی مغرور آمریت کی گرفت میں رہا لیکن سیاسی طور پر اٹھارہ فروری کے انتخابات میں وہ جوان نظر آیا۔ اس نے ثابت کر دیا کہ وہ اپنے سیاسی فیصلے دل و دماغ سے کرتا ہے نہ کہ جذبات سے۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا یہی کچھ پاکستان کے سیاستدانوں کے بارے میں بھی کہا جا سکتا ہے؟
انتخابات انتقال اقتدار کا صرف دیباچہ تھے۔ ابھی پوری کہانی باقی ہے۔ نتائج سے صاف ظاہر ہے کہ ملک سیاسی طور پر بٹ چکا ہے۔ وفاقی سطح پر جو بھی کھچڑی بنے، صوبائی نتائج بتاتے ہیں کہ سندھ میں پاکستان پیپلز پارٹی، پنجاب میں مسلم لیگ نواز اور سرحد میں عوامی نیشنل پارٹی کی قیادت میں صوبائی حکومتیں بنیں گی۔ رہا بلوچستان تو وہاں آج تک کیا ہوا اور کیا نہیں، اس کی آج تک کس نے پرواہ کی؟
یہ بھی واضح ہے کہ نئی حکومت کے لیے اقتدار کی سیج پر پھول نہیں سجے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ سیاسی، اقتصادی اور سماجی سطح پر جو مشکلات نئی حکومت کو ورثے میں ملیں گی اس سے پہلے شاید کسی نئی حکومت کو اتنے مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑا ۔
گویا مخلوط حکومت تو بن جائے گی لیکن جب اس کے سر پر مشکلات کا پہاڑ ٹوٹے گا تو کیا وہ متحد رہ سکے گی؟ پاکستان پیپلز پارٹی حکومت کا سب سے بڑا حصہ ہو گی اور مسلم لیگ نواز اس کی سب سے بڑی حمایتی جماعت۔ کون کہہ سکتا ہے کہ مشکل وقت میں آج کی محبت کل کی نفرت نہیں بنے گی۔
اور یہ تو معلوم نہیں کہ شریف زرداری محبت پنجاب سندھ محبت میں تبدیل ہو سکے گی یا نہیں لیکن اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ ان میں جھگڑا باآسانی دو صوبوں کے بیچ جھگڑے کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
عوام نے اس بار تو وفاق کو اپنی فوجی و سیاسی قیادت کی مجرمانہ حماقتوں سے بچا لیا لیکن کیا وہ دوبارہ ایسا کر پائیں گے؟
عامر احمد خان، بشکریہ بی بی سی اردو

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

پاکستانی سروے

پاکستانی بلاگ پر کئے گئے سروے اور ان کی تفصیل


پاکستانی بلاگ پر کیا گیا پہلا سروے


سانحہِ لال مسجد، ذمہ دار کون؟
پہلے سروے کے حصے میں کل ٢١ ووٹ آئے جس کے مطابق
٨ افراد نے اس سانحہ کا ذمہ دار مشرف حکومت کو قرار دیا ہے۔
٩ افراد نے لال مسجد انتظامیہ کو۔
٣ افراد نے دونوں کو۔
١ نے اس سے لا علمی کا اظہار کیا۔



دوسرا سروے


مشرف، بھٹو ملاقات ۔ فائدہ کس کا؟
اس سروے کے حصے میں ١١١ ووٹ آئے جس کے مطابق
٥٦ افراد کے مطابق اس ملاقات کا فائدہ پرویز مشرف کو ہو گا۔
٣٣ افراد نے محترمہ بینظیر بھٹو کو
١٩ افراد نے کہا ہے کہ یہ ملاقات دونوں کے فائدے میں ہے جبکہ ٣ افراد نے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔



تیسرا سروے


پاکستان کا اگلا صدر کون ہو گا؟
٢٤٣ افراد نے پرویز مشرف کے حق میں ووٹ دیئے ہیں۔
٢٦ افراد نے جسٹس (ر) وجیہہ الدین کو ملک کا آئندہ صدر قرار دیا۔
جبکہ ١١ افراد مخدوم امین فہیم کو پاکستان کا اگلا صدر دیکھنا چاہتے ہیں۔



چوتھا سروے


کیا صدر مشرف پندرہ نومبر تک وردی اتار دیں گے؟
٤٢ افراد نے صدر مشرف پر اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ صدر صاحب ١٥ نومبر تک وردی اتار دیں گے۔
٧٤ افراد نے کہا ہے کہ جی نہیں ایسا نہیں ہو گا۔
١٠١ افراد نے کہا کہ وہ اعتبار کھو چکے ہیں، اب ان پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔
١٩ افراد نے اس سلسلے میں لاعلمی کا اظہار کیا۔



پانچواں سروے


(ایمرجنسی کے بعد کی صورتحال) اس نازک صورتحال میں ایسا کون ہے جو امن و سلامتی سے پاکستان کو اس بحران سے نکال کے لے جائے گا؟
٨ افراد نے کہا کہ ایسی صلاحتیں صرف صدر پرویز مشرف میں ہیں۔
١٨ افراد نے وکلاء اور سٹوڈنٹ کے حق میں ووٹ دیئے۔
١٩ افراد نے پاکستانی پیپلز پارٹی پر اعتماد کا اظہار کیا۔
٥ افراد نے مسلم لیگ نون کے حق میں ووٹ دیئے۔
٢١ افراد نے عمران خان کے بارے میں کہا کہ صرف اسی میں ایسی خوبیاں ہیں جو اس بحران کو اپنے قابو میں کر سکتے ہیں۔
٣ افراد نے ایم ایم اے کو اپنا نجات ہندہ قرار دیا۔
یہاں مسلم لیگ ق کے حق میں کوئی ووٹ نہیں پڑا، اور ٨ افراد رائے دی کہ ان میں کوئی بھی ایسا نہیں جو امن و سلامتی سے پاکستان کو اس بحران سے نکال کے لے جائے۔



چھٹا سروے


بینظیر بھٹو کی ہلاکت میں کون ملوث ہو سکتے؟
٦ افراد نے القاعدہ پر الزام عائد کیا۔
٤ افراد نے چوہدری برادران کو ذمہ دار قرار دیا۔
٨ افراد نے پرویز مشرف کو۔
٥ افراد نے الطاف حسین۔
٧ افراد نے لاعلمی کا اظہار کیا۔
جبکہ میاں نواز شریف پر کسی نے انگلی اٹھانے کی جرات نہیں کی۔



ساتواں سروے


پاکستان میں ہونے والے الیکشن کے بعد حکومت کون بنائے گا؟
١ افراد نے متحدہ مجلس عمل کو حکومت میں دیکھنا چاہتا ہے۔
٥٣ افراد پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کے خواہاں ہیں۔
١ افراد پاکستان مسلم لیگ ق کے بارے نیک خواہشات رکھتا ہے۔
٦٠ افراد نے پاکستان پیپلز پارٹی کے حق میں ووٹ دیئے ہیں۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

کل آج اور کل

کچھ خواب، کچھ اندیشے، کچھ سوال
 اعتزاز احسن


 


 


عہد جوانی میں دیکھے تھے
کیسے کیسے خواب سہانے
ان خوابوں میں ہم لکھتے
اکثر خوشیوں کے افسانے

 


ایک نئی دنیا کی کہانی
ایک نئی دنیا کے ترانے
ایسی دنیا جس میں کوئی
دکھ نہ جھیلے بھوک نہ جانے

 


لگتا تھا ہم سب نے دیکھے
اس دھرتی کے درد انجانے
سوچا تھا کہ سب نکلیں گے
غربت کے سب پاپ مٹانے

 


ایک طرف تھی جنتا ساری
ایک طرف تھے چند گھرانے
ایک طرف تھے بھوکے ننگے
ایک طرف قاروں کے خزانے

 


ایک طرف تھیں مائیں بہنیں
ایک طرف تحصیل اور تھانے
ایک طرف تھی تیسری دنیا
ایک طرف بے داد پرانے

 


ایک طرف سچل اور باہو
ایک طرف ملاء اور مسلک
ایک طرف تھے ہیر اور رانجھا
ایک طرف قاضی اور چوچک

 


ایک طرف امرت کے دھارے
ایک طرف تھے دھارے بھس کے
ساری دنیا پوچھ رہی تھی
بولو! اب تم ساتھ ہو کس کے؟

 


سوچا تھا ہم مل کر سارے
دنیا کو تبدیل کریں گے
دکھ اور درد کی یہ مسافت
طے ہم میل ہا میل کریں گے

 


سب بھائیوں کی سوچ تھی یکساں
ہاتھ میں ڈالے ہاتھ کھڑے تھے
سولی کو کچھ چوم چکے تھے
کچھ سولی کے ساتھ کھڑے تھے

 


آنکھوں میں سب خواب تھے روشن
ہاتھوں میں امید کا پرچم
دنیا ساری مٹھی میں تھی
لب پہ ترانہ، مدھم، مدھم

 


قدم سے اپنے قدم ملا کر
ابھی مسافت طے کرنا تھی
محکومی کے گیت ہم نے
آزادی کی لے بھرنا تھی

 


نیا سویرا آنے کو تھا
رات اندھیری جانے کو تھی
آزاد، اور آزادی بھی
تیری میری، آنے کو تھی

 


گرتی ہوئی دیوار کا لوگو!
باقی نہ تھا کوئی سہارا
لگنے کو تھا ایک ہی دھکا
ملنے پر بس ایک اشارہ

آج


 لیکن ہم تو بکھر رہے تھے
اور ہم کو احساس نہیں تھا
خواب ادھورے بھی رہتے ہیں
اس کا ہم کو پاس نہیں تھا

 


علم و ہنر کو چھوڑ کے ہم نے
اپنے اپنے مسلک پالے
رنگ و نصب، تہذیب اور مذہب
کیا کیا آپ تفرقے ڈالے

 


دیکھو دیکھو کتنے بیٹے
سرینگر میں کھیت ہوئے ہیں
دیکھو دیکھو کتنے بھائی
جھیل کی خونی ریت ہوئے ہیں

 


ہتھیاروں کی دوڑ لگی ہے
جنگ کرنے ہر فوج کھڑی ہے
مذہب اور تہذیب کے بل پر
قوم سے دیکھو قوم لڑی ہے

 


ایک مہذب قوم کو دیکھو
خود ہم نے بدنام کیا ہے
باقی جو کچھ بچا تھا اس کا
غیروں نے وہ تمام کیا ہے

 


دنیا کی تاریخ گواہ ہے
عدل بنا جمہور نہ ہو گا
عدل ہوا تو دیس ہمارا
کبھی بھی چکنا چور نہ ہو گا

 


عدل بنا کمزور ادارے
عدل بنا کمزور اکائیاں
عدل بنا بے بس ہر شہری
عدل بنا ہر سمت دھائیاں

 


دنیا کی تاریخ میں سوچو
کب کوئی منصف قید ہوا ہے؟
آمر کی اپنی ہی اَنا سے
عدل یہاں ناپید ہوا ہے

 


یوں لگتا ہے ایک ہی طاقت
ارض خدا پر گھوم رہی ہے
یوں لگتا ہے ہر اک قوت
پاؤں اس کے چوم رہی ہے

 


اس کی بمباری کے باعث
خوں میں سب لبریز ہوئے ہیں
مذہب میں شدت آئی ہے
خودکش جنگجو تیز ہوئے ہیں       
 

 

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

الیکشن 2008

آجکل ہر وقت ہر جگہ الیکشن کا چرچا ہے اس لئے سوچا ہے کہ آج کچھ الیکشن اور مقامی سیاست کے بارے میں لکھا جائے، ڈیرہ غازی خان کے سرداروں اور جاگیرداروں کا کردار ملکی سیاست میں ہمیشہ سے اہم رہا ہے۔ ضلع ڈیرہ غازی خان قومی اسمبلی کی تین اور اور صوبائی اسمبلی کی سات نشتوں پر مشتمل ہے۔اس کی مجموعی طور پر کل آبادی تقریباََ اٹھارہ لاک نفوس پر مشتمل ہے، اور مجموعی طور پر گیارہ لاکھ پانچ سو چوہتر رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد ہے جن میں چھ لاکھ پچیس ہزار آٹھ سو سولہ مرد اور چار لاکھ انناسی ہزار نو سو اٹھاسی خواتین ووٹر شامل ہیں، جبکہ الیکشن کے لئے ضلع بھر میں ٨١٤ پولنگ اسٹیشن اور ١٧٩٩ پولنگ بوتھ بنائے گئے ہیں۔ ضلع کی مجموعی طور پر ٥٩ یونین کونسلیں ہیں جن ٤١ تحصیل ڈیرہ غازی خان اور ١٣ تحصیل تونسہ شریف تحصیل ٹرائبل ایریا پانچ یونین کونسلوں پر مشتمل ہے۔
١٨ فروری کے قریب ہونے کی وجہ سے اس وقت ڈیرہ غازی میں انتخابی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہیں۔ الیکشن ٢٠٠٨ سے صرف چند دن قبل ڈیرہ غازی خان کی سیاست میں ڈرامائی تبدیلی سے الیکشن مہم میں مزید تیزی آ گئی ہے سات سال بعد سابق صدر سردار فاروق احمد خان لغاری اور ضلع ناظم سردار مقصود احمد خان لغاری کے درمیان صلح سے لغاری گروپ کی پوزیشن اب قدرے بہتر ہوئی ہے، تاہم کہا یہ جا رہا ہے کہ اس صلح میں صدر پرویز مشرف اور چودھری پرویز الہی نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مدمقابل سیاسی حریف سردار ذولفقار علی خان کھوسہ گروپ بھی اپنی کامیابی کے لئے بھرپور کوششیں کر رہا ہے، اس سلسلے میں کل ہی میاں شہباز شریف یہاں ایک بہت بڑے اجتماع سے خطاب کر کے گئے ہیں جس سے ق لیگ کے مایوس کارکنوں میں نئی جان پیدا ہو گئی ہے اور کھوسہ گروپ کو بھی بہت بڑی سپورٹ مل گئی ہے۔
سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ اپنے صاحبزادوں سردار سیف الدین خان کھوسہ اور سردار دوست محمد خان کھوسہ کی جیت کو یقینی بنانے کے لئے بھرپور محنت کر رہے ہیں۔ بہرحال دونوں روایتی حریفوں کے درمیان انتہائی کانٹے دار اور سخت مقابلے کی توقع ہے۔
قومی اسمبلی کے حلقہ این اے ١٧١ تحصیل تونسہ شریف پر مسلم لیگ ق کے امیدوار خواجہ شیراز، مسلم لیگ ن کے امیدوار میربادشاہ قیصرانی، پیپلز پارٹی کے امیدوار خواجہ مدثر محمود اور آزاد امیدوار سابق ممبر قومی اسمبلی سردار امجد فاروق خان کھوسہ کے درمیان انتہائی سخت مقابلہ ہے۔
قومی اسمبلی کے حلقہ این اے ١٧٢ سے مسلم لیگ ق کی ٹکٹ پر سابق صدر فاروق احمد خان لغاری امیدوار ہیں جبکہ ان کے مدمقابل مسلم لیگ ن اور ایم ایم اے کے حمایت یافتہ امیدوار حافظ عبدالکریم ہیں جو اپنی کامیابی کے لئے کوشاں ہیں، حافظ عبالکریم کو سردار ذولفقار علی خاں کھوسہ گروپ کی سپورٹ کے ساتھ ساتھ دینی و مذہبی جماعتوں کی بھرپور حمایت بھی حاصل ہے۔
قومی اسمبلی کے حلقہ این اے ١٧٣ پر سابق وفاقی وزیر سردار اویس احمد خان لغاری اور سردار ذولفقار علی خان کھوسہ کے صاحبزادے سابق چیئرمین ضلع کونسل سردار سیف الدین خان کھوسہ کے درمیان انتہائی سخت اور دلچسپ مقابلہ ہو گا۔ کیونکہ اس وقت دونوں کی پوزیشن مستحکم نظر آ رہی ہے، کسی کے بارے میں واضع طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اسی حلقے میں پیپلز پارٹی کے امیدوار سردار شبیر احمد خان لغاری کی انتخابی مہم بھی کہیں کہیں نظر آ رہی ہے، لگتا ہے وہ ان دونوں امیدواروں کے درمیان مقابلے کے لئے میدان خالی چھوڑنا چاہتے ہیں۔
ڈیرہ غازی خان شہر کی نشست حلقہ پی پی ٢٤٤ پر مسلم لیگ ق کے امیدوار سید عبدالعلیم شاہ جن کو سردار فاروق احمد خان لغاری کی حمایت حاصل ہے جبکہ ان کے مدمقابل سردار ذوالفقار علی خان کے چھوٹے صاحبزادے سردار دوست محمد خان کھوسہ اور پیپلز پارٹی کے امیدوار شبلی شب خیز غوری کے علاوہ آزاد امیدوار مینا احسان لغاری اور ایم ایم اے کے امیدوار عبدالعزیز بلوچ میدان میں ہیں۔
اس وقت پورے شہر میں انتخابی سرگرمیاں عروج پر ہیں، پورے شہر کی سڑکیں امیدواروں کے انتخابی پوسٹروں اور بینروں خصوصاََ شہر کے مین چوکوں پر بڑے پوٹریٹ نمایاں دکھائی دے رہے ہیں۔ شہر کے تمام ہوٹلوں، قہوہ خانوں، چوکوں، گلیوں اور گھروں میں ہر جگہ انتخابات کے بارے میں بحث و مباحثہ، تبصرے اور شرطیں لگائی جا رہی ہیں۔ شہر میں ہونے والی کوئی نماز جنازہ، قل خوانی اور دیگر اجتماعات و تقریبات میں تمام امیدوار موجود ہوتے ہیں اور تعزیت، ہمدردی اور اپنائیت کا احساس دلا کر کنویسنگ کرتے نظر آتے ہیں۔ موجودہ الیکشن انتہائی ٹاکرے دار اور عوام کے باشعور ہونے کی وجہ سے اب کی بار مقامی سردار ڈور ٹو ڈور عوام کے پاس جانے پر مجبور ہو گئے ہیں، اگر یہی لوگ اقتدار کے ایونوں تک عوام کے ساتھ لیکر چلتے تو آج یوں گلی گلی دروازے کھٹکاتے نظر نہ آتے، بہرحال اب دیکھنا یہ ہے کہ ١٨فروری کا دن ڈیرہ غازی خان کے سیاسی منظر نامے پر کیا تبدیلیاں لیکر آتا ہے۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

Valentine Special

١٤ فروری کی خوفناک جھلک


 


مکمل تحریر اور تبصرے >>>

بلا تبصرہ

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

ڈکٹیٹروں کے شوق



کالم نگار کا ٹھیک طرح سے معلوم نہیں، اندازِ تحریر سے لگتا ہے کہ جاوید چوہدری ہی ہیں۔


مکمل تحریر اور تبصرے >>>

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی بم سے ہو محفوظ خدایا میری

میں جو دفتر کے لئے گھر سے نکل کر جاؤں
روز مرہ کی طرح خیر سے واپس آؤں

نہ کوئی بم کے دھماکے سے اڑا دے مجھ کو
مفت میں جام شہادت نہ پلا دے مجھ کو

جو اڑا دے مجھے خودکش تو دعائیں دونگا
بے وضو پو کے چچا بش کو دعائیں دونگا

بیوی بچوں کو میری جان کی قیمت مل جائے
بیٹھے بیٹھے مرے گھر والوں کو دولت مل جائے

ہائے جن لوگوں سے کل تک تھی وطن کی زینت
آج وہ لوگ ہوئے قبر و کفن کی زینت

گھر مرا ہو گیا ویرانے کی صورت یارب
اور بدلی نہ کسی تھانے کی صورت یارب

ان پہ جائز ہے زبردستی حکومت کرنا
اور ہے جرم مجھے اپنی حفاظت کرنا

روزی ہم سب کی بچا روز کی ہڑتالوں سے
جان اور مال ہو محفوظ پولیس والوں سے

جب نہ اسکول کھیلیں گےتو پڑھیں گے کیسے
اور زندہ نہ رہیں گے تو بڑہیں گے کیسے

میرے اللہ لڑائی سے بچانا مجھ کو
اور سکھا دے کوئی بندوق چلانا مجھ کو

خیر سے لوٹ کے آئیں میرے ابو گھر میں
اڑ نہ جائیں دھماکے سے کہیں دفتر میں

رات دن جام ٹریفک نہ رہے سڑکوں پر
کوئی نالہ نہ گٹر بھر کر بہے سڑکوں پر

کلمہ گو کو مسلمان بنا دے یارب
نیک اور صاحب ایمان بنا دے یارب

نام اسلام کی حرمت کی بچا لے یارب
وقت کے سارے یزیدوں کو اٹھا لے یارب

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری




محشرلکھنوی

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

جیو مشرف

آیک آدمی مچھلی کا شکار کر کے لایا اور بیگم سے کہا کہ اسے پکا کر کھلاؤ۔
تو بیگم نے جواب دیا
نہ بجلی ہے، نہ گیس، نہ پانی ہے، نہ آٹا ہے اور نہ کوکنگ آئل ہے۔
آدمی مچھلی کو واپس دریا میں چھوڑ کر آ رہا تھا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مچھلی نے خوشی سے جھوم کر پانی سے اپنا سر باہر نکالا اور کہا ۔۔۔۔۔ ‘‘ جیو مشرف ‘‘

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

بلاگر حلقہ احباب