ایس ایم ایس بدعا

‘‘ اللہ سے دعا‘‘

جو مجھے بھول جائے


اس کا موبائیل ٹوٹ جائے


چارجر جل جائے


اس کی سم بلاک ہو جائے


اس کا ایس ایم ایس کام نہ کرے


اسے لوکل کال پر رومنگ پڑے


مس کال کرے تو موبائیل ہینگ ہو جائے


سافٹویئر اڑ جائے


ڈسپلے ڈم ہو جائے


ہمیشہ کارڈ ڈالتا رہے


اور کارڈ بھی جلدی ختم ہو جائے ۔۔۔۔۔! (آمین)۔


 


 


مزید ایس ایم ایس کے لئے یہاں کلک کیجیئے
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

بندر کے ہاتھ میں ماچس اور۔۔۔


کارٹون ۔۔۔ مزمل اقبال


اخبار ۔۔۔ معلوم نہیں

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

میاں عبدالباری

تحریک پاکستان کے سرفروش اور کفن بردوش رہنما میاں عبدالباری مرحوم جب انگریز گورنر کی برطرفی کے مطالبہ کے سلسلے میں ١٩٤٩ء میں وزیراعظم لیاقت علی خان کے ساتھ مذاکرات کے سلسلے میں کراچی گئے۔ میاں صاحب نے جب وزیراعظم کے سامنے جب اپنا نقطہ نظر بیان کیا تو لیاقت مرحوم نے سب سے پہلے انہیں خان ممدوٹ اور حمید نظامی کے اشاروں پر رقص کرنے کا طعنہ دیا۔ جب یہ وار خالی گیا تو لیاقت علی خان نے میاں صاحب کو سیدھا سادھا مولوی سمجھ انہیں ان کے موقف سے ہٹانے کے لئے گورنری، وزارت اور سفارت جیسی مقناطیسی پیشکش کی لیکن اس مرد قلندر نے ایک لمحہ تامل کے بغیر اس پیشکش کو ٹھکرا دیا اور لیاقت علی خان کو غضبناک لہجے میں جواب دیتے ہوئے کہا۔

خان صاحب ۔۔۔۔ آپ ایک درویش سے اس کی درویشی چھین لینا چاہتے ہیں باری بکاؤ مال نہیں ہے اور آپ باری کو اپنے راستے سے ہٹانا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اپنی آمرانہ چلن بدلیں اور جماعت کو اپنی زرخرید لونڈی بنانے کی بجائے جمہوری اصولوں کے مطابق اس کو قوت حاکمہ کا درجہ دیں اس کے بعد آپ دیکھیں گے کہ باری آپ کے راستے سے خودبخود ہٹ جائے گا۔
نوٹ۔ اس وقت آپ مسلم لیگ کے صوبائی صدر تھے۔


افسوس پاکستان میں جمہوری اصولوں کی سربلندی اور اسلامی قوانین کے نفاظ کا خواب دیکھنے والے میاں عبدالباری ٢٨ اکتوبر ١٩٦٨ء کو ایک ایسی دنیا میں چلے گئے جہاں سے کبھی کوئی لوٹ کر نہیں آیا۔


اس وقت کی موجودہ سیاسی جماعتوں کو دیکھیں تو ١٩٤٩ء سے ٢٠٠٧ء تک کچھ نہیں بدلا، وہی آمرانہ چال چلن، وہی سیاسی ہتھکنڈے۔ وہی نورا کشتی۔ آج آمریت کی گود میں بیٹھ کر جمہوریت کا راگ الاپنے والوں کے سامنے کوئی دیوار نہیں ہے کاش ہر سیاسی جماعت میں میاں عبدالباری ہوتا جو ان آمریت پسندوں کو للکارتا مگر


وہ لوگ ہم نے ایک ہی شوخی میں کھو دیئے


ڈھونڈا تھا آسمان نے جنہیں خاک چھان کر

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

کون ہوں میں؟

مجھے نہیں خبر ۔۔۔۔
کون ہوں میں ۔۔۔۔؟
کیا میں چودھویں کا چاند ہوں
یا ۔۔۔ اماوس کی رات!
میں عشق کا عین ہوں
یا ہوں فراق کی بات!
قہقوں کی کوئی گھڑی!
یا اشکوں کی اک لڑی
کوئی حسیں سا خواب!
یا اک مستقل عذاب
کوئی بند کتاب ہوں
یا ۔۔۔ بولتا ہوا پہلا باب ہوں!
آہ و بکا کرتی تصویر ہوں
یا رنگوں کی ڈھلتی تحریر ہوں!
میں سراسر اندھیرا ہوں
یا ۔۔۔ پیکر سویرا ہوں!
کوئی ہے جو میرا پتہ لا دے
مجھے، مجھ تک پہنچا دے



غلام فاطمہ شاہ ۔ ڈیرہ غازی خان

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

گونگوں کا شہر

 کچھ نہ پوچھو کہ یہ شہر گونگوں کا ہے
لوگ سن کر بھی یاں کچھ نہیں بولتے
دیکھتے ہیں مگر لب نہیں کھولتے
ان کو ڈر ہے یہی، وہ جو بولے کبھی
ان کی آواز بھی
ان صداؤں میں شامل کہی جائے گی
ہم نے گر کچھ کہا (ان کو ڈر ہے یہی)
نام ان کے تبھی
ان گواہوں کی فہرست میں خودبخود
لکھ لئے جائیں گے
جو کہ حق کی گواہی میں مارے گئے
سچ کی دیوی کے چرنوں پہ وارے گئے
اس لئے لوگ یاں سچ نہیں بولتے
دیکھ کر بھی زبانیں نہیں کھولتے
ہم کہ اس شہر میں
زہر امروز پی کر
اگر چپ رہے
کل ہماری نسوں میں یہی زہر
آگ بن کر اتر جائے گا
پھر یہ آتش فشاں
خامشی کے نشاں
کون جانے کہ کب پھٹ پڑیں
کون لیکن سنے ہم اگر کچھ کہیں
اس لئے چپ رہیں
کچھ نہ بولیں کہ یہ شہر بہروں کا ہے
کچھ نہ پوچھیں کہ یہ شہر گونگوں کا ہے

عائشہ نگہت

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

اور لائن کٹ گئی


ایک پاکستانی اخبار ‘نوائے وقت‘ روزانہ ایک ایک دن گن کر ہمیں یہ باور کرانے کی کوشش کر رہا ہے کہ ہم من حیث القوم انتہائی بے حسی کا شکار ہیں، کیونکہ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان جنہوں نے ہالینڈ کی نسبت پاکستان کو ترجیح دی اور دن رات انتھک محنت کر کے پاکستان کو ایٹمی قوت کا نام دیا۔ انہیں ان کی ناقابل فراموش خدمات کے صلے میں نظر بند کر دیا گیا ہے۔ نوائے وقت کے مطابق آج ان کی بے قدری کو ١٣٤٢ دن ہو گئے ہیں۔


کچھ دن پہلے مولانا کوثر نیازی مرحوم کی کتاب ‘اور لائن کٹ گئی‘ میرے مطالعے میں رہی، اسی کتاب کا ایک اقتباس ملاحظہ کیجیئے۔


ڈاکٹر قدیر نے وزیراعظم ذولفقار علی بھٹو کو فون پر اطلاع دی کہ وہ ہالینڈ واپس نہیں جا رہے بلکہ پاکستان ہی میں رہ کر یورینیم کی افزودگی کا پلانٹ لگائیں گے۔ میں نے دیکھا کہ وزیراعظم کا چہرہ خوشی سے دمک اٹھا، انہوں نے میز پر اپنے مخصوص انداز میں مکہ مارت ہوئے کہا۔۔ ''I WILL SEE THE HINDU BUSTARDS NOW''

بھٹو کی بیٹی کا یہ بیان پڑھیئے کہ


اقتدار میں آ کر عالمی ایٹمی ایجنسی کو ڈاکٹر قدیر تک رسائی دوں گی۔

مجھے اب تک یقین نہیں آ رہا کہ یہ اسی بھٹو کی بیٹی کے الفاظ ہیں جس کا چہرہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی رضا مندی کا سن کر خوشی سے دمک اٹھا تھا۔ مولانا کوثر نیازی مرحوم ‘اور لائن کٹ گئی‘ میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ


میرا یقین ہے کہ کوئی بیرونی قوت کتنی ہی بااثر کیوں نہ ہو حالات پیدا کرنے کی اہل نہیں ہوتی، حالات ہم خود پیدا کرتے ہیں۔ بیرونی قوتیں اپنے اپنے مفادات کے ماتحت ان سے فائدے اٹھاتی ہیں۔

آج ایک بار پھر ‘مفاہمت‘ کے ذریعے ایسے حالات پیدا کئے جا رہے ہیں جس سے  بیرونی قوتیں کھل کھیل کر اپنے اپنے مفادات کے تحت فائدے اٹھا سکیں۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

اے امریکہ، اے امریکہ

کیوں ہے تو اسلام کا دشمن، کیوں ہے درپے امت مسلم
کیوں مطلوب ہوئی ہے تجھ کو، میرے وطن پہ خون کی رم جھم

پڑے گا خون ہمارا مہنگا
اے امریکہ، اے امریکہ

جرعے تیری ‘ایڈ‘ کے ہیں، ملکوں کے حق میں زہر پیالے
تیرے فاسد خون سے، جسم نوع انسانی پہ چھالے

تیری محبت کا پھل پھیکا
اے امریکہ، اے امریکہ

کہتے ہیں آزادی ملت، شیندوا ہیں تیرے ڈالر
سبق پڑھائے جو صیہونی، تو کرتا ہے اس کو ازبر

مت بن اسرائیل کا کھونٹا
اے امریکہ، اے امریکہ

پیٹا ہے تو ڈھول ہمیشہ حفظ حقوق انسانی کا
نسل کشی ہو گر مسلم کی، چھٹ جاتا ہے ڈول کا چوبہ

ہو جاتا ہے تجھ کو سکتہ
اے امریکہ، اے امریکہ

دہشت گرد و جنگجو مسلم، نام ہمارے تو نے رکھے
ٹکسال پرانی باطل کی ہے جس میں ڈھلے ہیں یہ نئے سکے

اب نہ چلے گا تیرا سکہ
اے امریکہ، اے امریکہ

ہم غازی بن کر اٹھے ہیں، تو لاکھ کہے جا دہشت گرد
گلزار بنائیں گے دنیا، کر دیں گے آتش باطل سرد

تو ہے ان سراب ہم دریا
اے امریکہ، اے امریکہ

مادے کی تو ریت پر قائم، ہم روحانی بنیادوں پر
تو ہے لٹو چھلکے پر، ہم رس اور گودے کے خوگر

تو ہے پتھر ہم ہیں تارا
اے امریکہ، اے امریکہ

کیا دبدبہ تیری قوت کا، کیا تیرے عزائم کا دم خم
گر جذبہ ایمان پیدا ہو، ہر فرد ہمارا ایٹم بم

یہ ہے خالق کل کا وعدہ
اے امریکہ، اے امریکہ

مت بھول کہ تو ہے لاوارث، وارث ہے ہمارا رب علٰی
ہے تل ابیب کا تو بردہ، ہم شاہ طیبہ کا ترکہ

تیری جبین پر غیر کا ٹیکہ
اے امریکہ، اے امریکہ

اک دیو استبداد ہے اس کے پیچھے شعلے برساتا
یہ نظام نو کا منصوبہ ہے کالا دھوئیں کا پردہ

ہم ہیں حقیقت، تو ہے دھوکا
اے امریکہ، اے امریکہ

لالہ صحرائی

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

ٹو ان ون


کچھ کہے، لکھے بغیر تین لنک حاضر ہیں، دیکھیئے اور فیصلہ کیجیئے۔


اردو تعلیم




شیعہ شناشی


پاکستانی بلاگ کا لنک '' آئیے ماتم کریں''


مکی بھائی کہاں ہیں آپ؟


 


آ عندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں
تو پکارے ہائے گل میں چلاؤں ہائے دل

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

پی ٹی سی ایل کی نئی پالیسی

روزنامہ جنگ کی خبر کے مطابق ملک بھر میں پی ٹی سی ایل نے چودہ سو روپے یا اس سے زائد اوسط ماہانہ بل والے ٹیلیفون کنکشنز پر جواب دینے والی (آنسرنگ ) مشینیں لگا دی ہیں۔اس سے جس ٹیلیفون پر کال کی گئی ہو تو کال مصروف ہونے کی صورت میں مشین آگاہ کرے گی کہ صارف جواب دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اس کال کا بل کال کرنے والے صارف کو ادا کرنا پڑے گا۔ اس طرح کال وصول نہ کرنے کی صورت میں بھی صارف کو بل ادا کرنا پڑے گا۔


پی ٹی سی ایل نے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے ٹیلیفون صارفین کی رضامندی حاصل کئے بغیر یہ جواب دینے والی مشینیں لگا دی ہیں جس کا مقصد  پی ٹی سی ایل کی آمدنی میں غیرقانونی طور پر کئی گنا اضافہ کرنا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی پی ٹی سی ایل ملک بھر میں ‌ڈائل اپ کالز کا دورانیہ کم کر کے 15 منٹ کرنے کا فیصلہ لیا ہوا ہے جس کے تحت انٹرنیٹ صارفین کو اب 15 منٹ کی کال چارج ہو گی اور فی کال چارجز 2.1 روپے ہوں گے۔ پی ٹی سی ایل کی نج کاری کے بعد نئی انتظامیہ صارفین کے لئے مسلسل تکیف دہ فیصلے کر رہی ہے۔ پی ٹی اے کو ان فیصلوں کا نوٹس لینا چاہیے کیونکہ پی ٹی سی ایل کے ان فیصلوں سے ٹیلیفون کے عام صارفین  پر غیرضروری اور غیرقانونی بوجھ  پڑ  رہا  ہے۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

اے خدا!

پروین شاکر مرحومہ کی ایک نظم جو انہوں نے ١٩٨٧ء میں لکھی ہے لیکن یہ آج بھی برمحل ہے، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ٢٠ سال گزرنے کے باوجود ان میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی۔ زمانہ بدل گیا، چہرے بدل گئے لیکن حالات جوں کے توں موجود ہیں۔
نظم ملاحظہ فرمائیے۔


٦ ستمبر ١٩٨٧ء کے لئے ایک دعا

اے خدا!
میرے پیارے سپاہی کی تلوار میں زنگ لگنے لگا ہے
اذانوں سے پہلے جو بیدار ہوتے تھے
اب دن چڑھے تک
چھپر کھٹ سے نیچے اترتے نہیں
دھوپ اگر سخت ہو جائے
بارش ذرا تیز ہو جائے تو
یہ جواں سال
گھر سے نکلتے نہیں
سرحدوں کے نگہبان اب کرسیوں کے طلب گار ہیں
اپنے آقا کے دربار میں
جنبش چشم و ابرو کی پیہم تلاوت میں مصروف ہیں
سر خمیدہ ہیں
شانے بھی آگے کو نکلے ہوئے
بس نصابِ تملق کی تکمیل میں منہمک!
میرا دل رو پڑا ہے
اے خدا!
میرے پیارے وطن پر یہ کیسی گھڑی ہے
تراشے ہوئے جسم
آسائشوں میں پڑے
اپنی رعنائیاں کھو رہے ہیں
ذہن کی ساری یکسوئی مفقود ہے
اہل طبل و علم
اہل جاہ و حشم بن رہے ہیں
اور اس بات پر
دیکھتی ہوں کہ مغرور ہیں!
اے خدا!
میرے پیارے سپاہی کو سرحد کا رستہ دکھا
عشق اموال و حبِ مناصب سے باہر نکال
اس کے ہاتھوں میں
بھولی ہوئی تیغ پھر سے تمھا!

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

میرے عہد کا بچہ

میرے عہد کا بچہ
شاید ۔۔۔ تو بھی ہے سچا
مگر ۔۔۔ میرے پاس آ تو سہی
تُو مجھے کچھ بتا تو سہی
یہ کیسی تیری ادا ہے؟
تُو کیوں سب سے جدا ہے؟
یہ تیرا اندازِ جفا کیوں ہے؟
تُو سب سے خفا کیوں ہے؟
میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
ممتا کی چھاؤں میں ۔۔۔
ترے ماتھے پہ بوسہ دے کے
بھر لوں تجھے بانہوں میں
تجھے دور بہت آہوں سے
لے جاؤن گی ان راہوں سے
تُو نے کیوں کیا ہے فراموش؟
ہے آج بھی ممتا کی وہی آغوش
باپ کی شفقت بھی وہی
بہن، بھائی کی محبت بھی وہی
میرے بچے!
بہت ہی اچھے!
کیا تُو چاہتا ہے ۔۔۔۔؟
اپنے لئے، اپنا مرتب کردہ نصابِ حیات
بے شک! تجھے اجازت ہے
مگر ۔۔۔۔ تُو پڑھ!
فقط، میرا مرتب کیا ہوا پہلا باب
جس میں خدا کے نام کے بعد
اس کے سب احکام کے بعد
صداقت، امانت کے
شجاعت اور شرافت کے
سبق جب ازبر کر لے گا
سب کے دلوں میں تُو گھر کر لے گا
ضمیر فروشوں کے لئے، وطن فروشوں کے لئے
تُو عذاب بن جائے گا
ایسا شباب بن جائے گا
تُو محبتوں کی مالا، تُو عزتوں کا رکھوالا
تُو میرے خواب کی یوں تعبیر بن جائے گا
عزم و عمل کی تصویر بن جائے گا
تُو سیکھ جائے گا طریق سکندری کے
اور ۔۔۔۔ اسرار سارے قلندری کے
پھر۔۔۔۔تُو نکھر جائے گا، بےحد سنور جائے گا
ہر غریب ۔۔۔ ہو گا تیرا حبیب
مسکین و ضعیف سارے
ہوں گے قریب تمھارے
تُو یوں ۔۔۔۔ خود کو سنبھال لے گا
اندر کی سب تاریکیوں کو اُجال دے گا
تو ایسا کمال دے گا
میرا جمال دے گا
تُو ایسی مثال ہو گا
رُت لازوال ہو گا

غلام فاطمہ شاہ ۔ ڈیرہ غازی خان

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

کھر کی کھری کھری باتیں

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

اسرائیلی پارلیمنٹ کی سرکاری ویب سائٹ ہیک

روزنامہ جنگ کی خبر کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ کی سرکاری ویب سائٹ ہیک کر لی گئی ہے۔ہیکروں نے اہم قانون سازوں کے عہدے تبدیل کر دیئے ہیں۔پولیس میں واقعہ کی رپورٹ درج کرادی گئی ہے۔مشرق وسطیٰ کے خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ کی نیسیٹ نامی سرکاری ویب سائٹ ہیک کر لی گئی ہے اور وزیراعظم ایہود اولمرٹ اور سابق وزیر خارجہ اوراہم ہرچسن سمیت دیگر وزرا کے ریکارڈ میں ”فراڈیا“ اور ”جلد جیل جانے والے “ جیسے الفاظ شامل کردیے گئے ۔ اس کے ساتھ ساتھ متعدد قانون دانوں کے نام اور کوائف بھی مسخ کردیے گئے ہیں۔ اس واقعے کے بعد نیسیٹ حکام نے پولیس میں شکایت درج کرادی ہے۔ یاد رہے کہ وزیراعظم ایہود اولمرٹ کو آج کل کرپشن کے تحقیقاتی عمل سے گزرنے کے بعد شدید دباؤ اور تنقید کا سامنا ہے۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

بے نظیر کی واپسی، دھماکے اور کارٹون

پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بینظیر بھٹو جو ٨ سالہ خود ساختہ جلاوطنی کاٹنے کے بعد پاکستان واپس پہنچی ہیں، ان کی واپسی کے دس گھنٹے بعد ہی ان کی ریلی جو ایئرپورٹ سے مزار قائد کی طرف بڑھ رہی تھی پر دو خوفناک بم حملوں میں کم از کم ١٤٠ افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور ٥٠٠ کے قریب زخمی بتائے جا رہے ہیں۔
 بینظیر بھٹو نے ان حملوں کا ذمہ دار ضیاء الحق کے حامیوں کو قرار دیا ہے۔ اس سے پہلے ان کے شوہر جناب آصف علی زرداری نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ شدت پسندوں کو خطرہ نہیں سمجھتے بلکہ ان کے پیچھے موجود ان لوگوں کو پاور سمجھتے ہیں جو انہیں کٹھ پتلیوں کی طرح چلا رہے ہیں اور ان میں کچھ سابق آرمی آفیسر ہیں اور کچھ حاضر انٹیلیجنس آفیسر ہیں۔ میں انہیں اس کا الزام دیتا ہوں۔
یہ دھماکے کئے گئے یا کرائے گئے ان باتوں سے قطع نظر کہ ان دھماکوں کے ذمہ دار کون ہیں۔ میں نے مختلف اخبارات کے کارٹون اکھٹے کئے ہیں تاکہ کارٹوں کی زبانی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔



روزنامہ جسارت



روزنامہ پاکستان



روزنامہ اوصاف



روزنامہ جنگ



Dawn



Pakistan Times



روزنامہ نوائے وقت



روزنامہ امت



روزنامہ خبریں

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دنیا

یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دنیا
یہ انسان کے دشمن سماجوں کی دنیا
یہ دولت کے بھوکے رواجوں کی دنیا
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے؟
ہر اک جسم گھائل ہر اک روح پیاسی
نگاہوں میں الجھن دلوں میں اداسی
یہ دنیا ہے کہ عالم بدحواسی
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے؟
یہاں اک کھلونا ہے انسان کی ہستی
یہ بستی مردہ پرستوں کی بستی
یہاں پر تو جیون سے موت ہے سستی
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے؟
جلا دو اسے پھونک ڈالو یہ دنیا
مرے سامنے سے ہٹا لو یہ دنیا
تمھاری ہے تم ہی سنبھالو یہ دنیا
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے؟
ساحرلدھیانوی
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

حکمرانی نقشہ

محترمہ بے نظیر بھٹو کی آمد کے ساتھ ہی میرے ذہن میں مستقبل کی پاکستانی حکومت کا نقشہ ابھر رہا ہے جو کچھ یوں بنتا ہے۔

صدر۔ جنرل سے مسٹر بننے والے پرویز مشرف، ہمیشہ کی طرح ملک کے طاقتور ترین صدر
وزیراعظم۔ ڈیل کے تحت واضع ہے کہ وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو ہی ہوں گی، ایک بے اختیار وزیراعظم
چیف آف آرمی سٹاف۔ ملک کے دوسرے طاقتور ‘پرویز‘، اشفاق پرویز کیانی
سندھ۔ پر پی پی پی اور ایم کیو ایم کا قبضہ
سرحد۔ مولویوں کے حوالے
پنجاب۔ میں چوہدریوں کا راج
بلوچستان۔ کی حالت کے پیش نظر اس کا اللہ حافظ

یہ ہے اگلے الیکشن کے بعد بننے والی ‘قومی‘ حکومت کا نقشہ جس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیئے گئے ہیں اور آگے کی کھلی چھٹی ہے۔ اس لئے ہم اور آپ آج ہی مصلٰی (جائے نماز) سنبھال لیں اور دعا کریں کہ اللہ پاکستان کی خیر کرے اور اسے ہر آنے والی مصیبتوں سے بچائے ۔۔۔ آمین

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

اج تے ہوگئی بھٹو بھٹو


پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن محترمہ بینظیر بھٹو آٹھ برس کی خود ساختہ جلا وطنی کاٹنے کے بعد پاکستان واپس پہنچی ہیں۔اس دوران پاکستانی بلاگ پر لکھی گئیں ان کی شان میں چند تحریریں پیشِ خدمت ہیں۔


وڈیو کہانی
ادھّی وردی پالئی ساڈی بی بی نے
طاقتور حکمرانوں کی جبری رخصت
بے نظیر بھٹو کا انداز تکلم
مفادات کی جنگ
دو ٹھگوں کی کہانی
چند سیاسی لطیفے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے
سیاسی قتلوں کی تاریخ
حیران ہوں دل کو روؤں یا پیٹوں جگر کو
پاکستانی سیاست کے چمچے‘ لوٹے اور خوشامدی کلچر
بہترین مفاد میں


 


نوٹ۔ بے نظیر بھٹو کی واپسی کی تازہ ترین اپڈیٹ یہاں ملاحظہ کیجیئے۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

تھیم خود بنائیں


جی جناب، بالکل اب آپ اپنے بلاگ کے لئے ورڈ پریس ‘بلاگ تھیم‘ خود Generate کر سکتے ہیں۔ Widgets اور Tags کی خوبیوں کے ساتھ صرف چند سیکنڈوں میں تھیم تیار کی جا سکتی ہے۔
دو کالمی، تین کالمی، بلاگ نیم، سائیڈ بار کی چوڑائی، مینو لےآؤٹ، بیک گراؤنڈ، کلر، فانٹ غرض سب کچھ اب آپ کی دسترس میں، جیسے چاہیں جس طرح چاہیں، اُسی طرح تھیم کی سیٹنگ کر لیں۔


تھیم بنانے کے لئے یہاں کلک کیجیئے، اپنی تھیم اور تجربے سے ضرور آگاہ کیجیئے گا۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

ورڈ پریس شارٹ کٹ کیز

کچھ دوست ہمیشہ شارٹ کٹ کی تلاش میں رہتے ہیں، ایسے ہی دوستوں کے لئے ‘ورڈ پریس شارٹ کٹ کیز‘ حاضر ہیں، ان کیز کو استعمال میں لا کر کم وقت میں ‘ڈھیر‘ سارا کام کیا جا سکتا ہے۔


WordPress Keyboard Shortcuts

# Bold: Alt+SHIFT+b
# Italics: Alt+SHIFT+i
# Link: Alt+SHIFT+a
# Blockquote: Alt+SHIFT+q
# Code: Alt+SHIFT+c
# Read More: Alt+SHIFT+t
# Unordered List (ul): Alt+SHIFT+u
# Ordered List (ol): Alt+SHIFT+o
# List Item (li): Alt+SHIFT+l
# Advanced Editor: Alt+SHIFT+v
# Publish the Post: Alt+SHIFT+p
# ins: Alt+SHIFT+s
# del: Alt+SHIFT+d
# Unquote/outdent: Alt+SHIFT+w
# Undo: Alt+SHIFT+u


 

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

عید کا خاص تحفہ

آپ کے موبائیل کے لئے عید کا خاص تحفہ، عید کے حوالے سے دو عدد رنگ ٹون حاضر خدمت ہیں۔ لوڈ کیجیئے اور دعا دیجیئے۔


اللہ اللہ ۔۔ فلم خدا کے لئے


مبارک عید مبارک


 


 


اپنے دوستوں اور  پیاروں کو ایس ایم ایس کرنے کے لئے عید ٹیکسٹ میسیج یہاں ملاحظہ کیجیے۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

تم آؤ تو ہم بھی عيد کريں

تم آؤ تو ہم بھی عيد کريں۔۔
حسرت ہے تمہاری ديد کريں
تم آؤ تو ہم بھی عيد کريں
کچھ روز تو دل کو چين ملے
کچھ روز تو مَن کا پھُول کِھلے
کہتے ہيں کہ عيد کی آمد ہے
ہم لوگ بھی تائيد کريں
تم آؤ تو ہم بھی عيد کريں
تم سے يہ اِک گذارش ہے
يہ اپنے دِل کی خواہش ہے
اِک بار ملو اِک بار ملو
ہر بار يہی تائيد کريں
تم آؤ تو ہم بھی عيد کريں
جب غم کے بادل چھائے تھے
اُس وقت بھی تم نا آئے تھے
اِس بار بھی تم نہيں آئے
سب دُشمن يہ تنقيد کريں
تم آؤ تو ہم بھی عيد کريں
مانا کہ ہم ديوانے ہيں
سب باتوں سے انجانے ہيں
جب اپنے ہی بيگانے ہيں
کيا غيروں سے اُميد کريں
تم آؤ تو ہم بھی عيد کريں
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

عید مبارک





معزز قارئین
اسلام علیکم!
پاکستانی بلاگ کی طرف سے آپ سب کو اور اہل خانہ کو دلی عید مبارک، اللہ آپ سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور نیکیوں بھری لمبی زندگی عطا کرے۔

اپنا بہت بہت خیال رکھیئے گا!
والسلام





اپنے دوستوں اور  پیاروں کو ایس ایم ایس کرنے کے لئے عید ٹیکسٹ میسیج یہاں ملاحظہ کیجیے۔
مکمل تحریر اور تبصرے >>>

صدقہ فطر (فطرانہ)

آج کل ہر طرف سے ایک ہی سوال پوچھا جا رہا کہ صدقہ فطر (فطرانہ) کتنا ہے، کب اور کس کس کو ادا کرنا چاہیے، اور کسے دینا چاہیے۔ آپ کی سہولت کے لئے ان سب سوالوں کے جواب یہاں دیئے جا رہے ہیں۔

صدقہ فطر فرض ہے۔ صدقہ فطر نمازِ عید سے قبل ادا کرنا چاہیے ورنہ عام صدقہ شمار ہو گا۔
‘‘حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر روزے دار کو بیہودگی اور فحش باتوں سے پاک کرنے کے لئے نیز محتاجوں کے کھانے کا انتظام کرنے کے لئے فرض کیا ہے جس نے نماز عید سے پہلے ادا کیا اس صدقہ فطر ادا ہو گیا اور جس نے نماز عید کے بعد ادا کیا اس کا صدقہ فطر عام صدقہ شمار ہو گا‘‘۔ (سنن ابن ماجہ)

صدقہ فطر ہر مسلمان مرد، عورت، آزاد، غلام، چھوٹے، بڑے سب پر فرض ہے۔
‘‘حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فطر کی زکوا  آزاد یا غلام، مرد یا عورت تمام مسلمانوں پر ایک صاع کھجور یا جو کی فرض کی تھی‘‘۔ (صحیح بخاری)

‘‘ حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ بواسطہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کی گلیوں میں ایک منادی کرنے کے لئے بھیجا کہ صدقہ فطر ہر مسلمان پر واجب ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت، آزاد ہو یا غلام، چھوٹا ہو یا بڑا دومد (نصف صاع) گیہوں میں سے اور اس کے سوا دوسری کھانے کی چیزوں میں سے صاع‘‘۔ (جامع ترمذی)
وضاعت ۔ صدقہ فطر کی فرضیت یہاں تک ہے کہ یہ اس پر بھی فرض ہے جس کے پاس ایک روز کی خوراک سے زائد غلہ یا کھانے کی چیز موجود ہے۔ اس صدقہ کی وجہ سے اللہ پاک دینے والے روزوں کو پاک کر دے گا، اور غریب کو اس سے بھی زیادہ دے گا جتنا کہ اس نے دیا ہے۔

صدقہ کی مقدار ایک صاع ہے جو پونے تین سیر یا ڈھائی کلو گرام کے برابر ہے۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کا صدقہ فطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو، غلام مرد، عورت، آزاد چھوٹے، بڑے ہر مسلمان پر فرض کیا ہے‘‘۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

گیہوں، چاول، جو، کھجور، منقہ یا پنیر میں سے جو چیز زیر استعمال ہو، وہی دینی چاہیے۔
‘‘حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم صدقی فطر ایک صاع غلہ یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو یا ایک صاع منقہ یا ایک صاع پنیر دیا کرتے تھے‘‘۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

صدقہ فطر ادا کرنے کا وقت آخری روزہ افطار کرنے کے بعد شروع ہوتا ہے‘ لیکن عید سے ایک یا دو دن پہلے ادا کیا جا سکتا ہے۔
‘‘حضرت نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ گھر کے چھوٹے بڑے تمام کی طرف سے صدقہ فطر دیتے تھے حتٰی کہ میرے بیٹوں کی طرف سے دیتے تھے اور ابن عمر رضی اللہ عنہ ان لوگوں کو دیتے تھے جو قبول کرتے اور عیدالفطر سے ایک یا دو دن پہلے دیتے تھے‘‘۔ (صحیح بخاری)

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

کھاؤ کھاؤ سب ملکر کھاؤ، آتے جاؤ کھاتے جاؤ

باپ کا ملک ہے، 90 ارب روپے کی کرپشن معاف، سیاستدان معاف، بیورو کریٹ معاف، عام معافی، معافی دینے والے کی کونسی جیب سے گیا ہے یا کونسا اس کا حق سلب ھوا ہے۔

 لال مسجد والوں نے ایسا کونسا گناہ کیا تھا جس پر معافی نہیں مل سکتی تھی، جس پر مزاکرات نہیں ہو سکتے تھے، انہیں کس جرم ناکردہ کی پاداش میں قتل کر دیا گیا۔


  جو چپ رہے گی زبان خنجر
 لہو پکارے گا آستین کا


اگر آٹھ سال کیبعد بھی ہونا تھا تو اس ٹوپی ڈرامے کا جو مشرف نے کیا کا حساب کون دے گا، ظاھر ہے کوئی نہیں، اسے بھی عام معا فی ملے گی، کیونکہ ملک تو ان کے باپ کا ہے،  پہلے تو صرف کرپشن تھی، لوٹتے تھے باہر چلے جاتے تھے، باری کا انتظار کرتے تھے، مگر مارتے نہیں تھے، اب تو مارتے بھی ہیں، کاٹتے بھی ہیں، لوٹتے بھی ہیں اور عام معافی بھی لیتے ہیں، شاید ہم جیسے  بے ضمیر، بے حس اور مردہ لوگوں کی سزا بھی یہی ہے۔

مائیں، بہنیں لٹتی رہیں، مرتی رہیں، بھائی کٹتے رہے، مرتے رہے، رلتے رہے اور ھم سوتے رہے انجام تو یہی ہونا تھا کاش ہم اکٹھے اٹھیں اور جو لٹیرے زندہ ہیں ان کے گریبان چاک کریں اور اپنی جان، مال اور اپنے ملک کا حساب لیں ۔۔۔۔ ایک کاش اور کچھ نہیں

 جیسے لوگ

 ویسے حاکم

 کیا شکوہ کرنا


 


( Thanks by Noman from makepakistanbetter)

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

وڈیو کہانی

بے نظیر بھٹو صاحبہ کا ڈاکٹر قدیر خان کے بارے میں متنازعہ بیان۔


وڈیو کی کہانی، ان کی اپنی زبانی


 


[youtube:http://www.youtube.com/watch?v=msP2mPFbj2M]

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

٢٧ رمضان ۔ یوم پاکستان

آج ٢٧ رمضان ہے، یوم نزول قرآن، شب قدر کی برہان، یوم پاکستان
سبحان اللہ، یہ اللہ تعالٰی کا فیصلہ تھا کہ عظیم پاکستان ایسی مقدس ساعتوں میں وجود حاصل کرے، یہ ٢٧ رمضان یوم پاکستان ایک آفاقی اعلان تھا کہ پاکستان ایک اسلامی مملکت ہے۔ اس اسلامی ریاست کے ہر فرد کو اپنے طرز زندگی اور اسلوب زندگی کو قرآن و سنت کے تابع رکھنا ہے۔
ہر پاکستانی کو پوری دیانت و صداقت سے یہ فیصلہ تسلیم کرنا چاہیے اور اس فیصلے پر اصرار کرنا چاہیے کہ ٢٧ رمضان یوم پاکستان ہے، ہم پاکستانی ٢٧ رمضان کا دل و جان سے احترام کرتے ہیں۔ نزول قرآن کی یہ ساعت مقدس واجب التکریم ہے، ہمارے فکر ایمان، ہماری تہذیب، ہمارے تمدن اور ہماری ثقافت کی بنیاد اور اساس ہے۔ ہم پاکستانی اپنے ایقان اور ایمان کی روشنی میں ٢٧ رمضان، یوم نزول قرآن اور یوم پاکستان کا رشتہ قائم رکھنے پر اصرار کرتے ہیں، کیونکہ

٢٧ رمضان لازماََ اور یقیناََ یوم پاکستان ہے ١٤ اگست کو ہم رد کرتے ہیں!!!

٢٧ رمضان، قیام پاکستان ۔۔۔ یہ دن اہل پاکستان کے لئے یوم احتساب ہونا چاہیے، ہر پاکستانی کو دل کی گہرائیوں اور ایمان و یقین کی طاقتوں کے ساتھ غور کرنا چاہیے، خود اپنا احتساب کرنا چاہیے کہ ٢٧ رمضان المبارک کو قیام پاکستان کے بعد سے اب تک ہم نے کیا کیا ہے؟
ہم نے ان مقدس ساعتوں میں تعمیر پاکستان کا فریضہ کیسے انجام دیا۔
ہم نے اسلامی تہذیب و تمدن کی احیا، اسلامی ثقافت اور فروغِ اسلام کے لئے کیا پیش رفتیں کیں۔
٢٧ رمضان یوم پاکستان اور یوم عبادت ہے اس لئے اس دن ہر مسلمان اور ہر پاکستانی کو صلواة التسبیح کرنی چاہیے، اعتراف گناہ اور توبہ و استغفار کے بعد صراط مستقیم پر چلنے کی اللہ تعالٰی سے دعا کرنی چاہیے۔
یوم پاکستان پر رنگ رلیاں منانا روح اسلام کے منافی ہے، یوم پاکستان کو یوم خود احتسابی ہونا چاہیے اور آنے والے سال میں پاکستان کی فلاح و بہبود اور تعمیر و ترقی کے لئے منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

ادھّی وردی پالئی ساڈی بی بی نے

مزدور شاعر بابا نجمی کی ایک پنجابی نظم اور اس کا اردو



ادھّی وردی پالئی ساڈی بی بی نے
جرنل نال بنالئی ساڈی بی بی نے
اَسیں تے رانی ہار بناؤندے پھرنے آں
کچ دی گانی پالئی ساڈی بی بی نے
بھٹو جیٹری سوچ اجاگر کیتی سی
ہتھیں اوہ دفنا لئی ساڈی بی بی نے
گولی جیٹری تمّے نالوں کوڑی سی
خورے کنج چبالئی ساڈی بی بی نے
متھاّ کرلیا بھیڑا ویکھ چبارے دا
کیڑی اٹ لوالئی ساڈی بی بی نے
بند کرا کے اپنے وجدے ڈھولاں نوں
ٹلّی کیوں کھڑکالئی ساڈی بی بی نے
اچّن چیتی مکّے گڈی جاندی نوں
کوفے ول گھما لئی ساڈی بی بی نے
جنہاں ساڈے مردے رولے اوہناں توں
چنّی کیوں منگوالئی ساڈی بی بی نے


 




اردو ترجمہ:۔
ہماری بی بی نے جنرل سے تعلقات کی صورت میں آدھی وردی پہن لی ہے ہم تو اس کے لئے رانیوں جیسا ہار بناتے پھررہے ہیں مگر اس نے اپنے لئے کانچ کا ہار پسند کرلیا ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو نے جو سوچ اجاگر کی تھی ہماری بی بی نے وہ اپنے ہاتھوں سے دفنا دی ہے۔
جو گولی (ٹیبلٹ) تمّے سے بھی زیادہ کڑوی تھی وہ ہماری بی بی نے پتہ نہیں کیسے چبا لی۔
ہماری بی بی نے گھر کے چوبارے میں اللہ جانے کیسی اینٹ لگا دی ہے جس سے چوبارے کی خوبصورتی ماند پڑگئی ہے۔
ہماری بی بی کے نام کے ڈھول بج رہے تھے اس نے پتہ نہیں کیوں ڈھول پر ٹلی کو ترجیح دی۔
ہمار ی بی بی نے مکے کی طرف جاتی ہوئی گاڑی کو اللہ جانے اچانک کوفے کی طرف کیوں موڑ دیا ہے؟
جنہوں نے ہمارے مردے خراب کئے بی بی نے ان سے دوپٹہ کیوں مانگا؟

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

جوئیں پڑ جائیں تو ۔۔۔!!

تعلیم اور جہالت کے درمیان فرق آپ جانتے ہی ہوں گے کہ یہ فرق یقینا سمندروں جتنا ہی ہو گا مگر اس کی ابتدا ایک نقطے سے ہی شروع ہوتی ہے۔ اس کے ایک طرف روشنی اور دوسری طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہوتا ہے۔
یہی حالت اور فرق انسانی عادات اور احساسات میں ہوتا ہے۔ مثلا حساس پن ایک شخص کی جبلت میں شامل ہوتا ہے، اگر ایک عورت انتہائی حساس ہو اور ساتھ میں تعلیم یافتہ بھی تو حساسیت کے اس پر ہمیشہ مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ وہ دوسروں کو تکلیف دینے سے ڈرتی ہے۔ وہ دوسروں کو پریشان کرنے سے ہچکچاتی ہے۔ وہ اپنے دکھ چھپا لیتی ہے۔ وہ حالات سے سمجھوتہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔ وہ انتہائی اقدام سے ہمیشہ گریزاں رہتی  ہے۔ وہ مسائل پر قابو پانے کے لئے اپنی دماغی استعداد، اور صالاحیتوں کا بھر پور استمعال کرتی ہے۔ وہ ممکنات کو اپنے حق میں موڑنے کی پوری کوشش کرتی ہے۔ تمام کوششوں اور اس کی صلاحیتوں کے استمعال کے باوجود ایک پڑھی لکھی عورت کا اپنے شوہر کے ساتھ نباہ نہیں ہو پاتا تو وہ انتہائی اقدام اٹھانے کی بجائے مل بیٹھ کر درمیانی راستہ نکالنے کو ترجیح دیتی ہے۔ صلح کے سارے دروازے بند بھی تو جائیں تو وہ زیادہ سے زیادہ اپنے شوہر سے علحیدگی اختیار کر لیتی ہے لیکن طلاق نہیں مانگتی اس کی نسبت ایک ان پڑھ عورت پر حساسیت کا اثر ہمیشہ منفی ہوتا ہے۔ وہ دوسروں کو تکلیف دے کر خوش ہوتی ہے۔ وہ دوسروں کو پریشان کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتی۔ وہ اپنے غم چھپانے کی بجائے ذرا ذرا سی تکلیف کا ڈھنڈورہ پیٹتی ہے۔ حالات سے سمجھوتہ کرنا اس کی سرشت میں شامل ہی نہیں ہوتا۔ وہ ذرا سی بات پر آگ بگولہ ہو جاتی ہے۔ معمولی سی شکایت کا تدراک وہ بات بات پر انتہائی اقدام اٹھانے کی دھمکی دیتی ہے۔ خود جل مرنے، بچوں سمیت نہر میں کود جانے، ترین تلے سر دے دینے یا زہر پھانک لینے کی دھمکیاں اس کی عادت بن جاتی ہیں۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر وہ روٹھ کر میکے جا بیٹھتی ہے۔ کوئی درمیانی راستہ نکالنے کی بجائے وہ اپنا آخری فیصلہ سنا دیتی ہے۔ اور اپنے شوہر سے فوری طلاق کا مطالبہ کر دیتی ہے۔
معاشروں کا حال بھی حساس عورت جیسا ہوتا ہے۔ اگر معاشرے مہذب اور تعلیم یافتہ ہوں تو وہاں آخری حدود کو نہیں چھوا جاتا۔ حالات کتنے ہی سنگین، مشکل اور کٹھن کیوں نہ ہوں معاملات کو نمٹانے اور مسائل کو حل کرنے کے لئے کوئی درمیانی راستہ نکالا جاتا ہے۔ انتہا پسندی کی بجائے میانہ روی اختیار کی جاتی ہے۔ ڈائریکٹ ایکشن کی بجائے ذیلی راستوں کو ڈھونڈا جاتا ہے۔ اور معاملے کی سنگینی کو کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اپنے دکھ کو چھپا کر حالات سے سمجھوتہ کرنے کے لئے خود کو تیار کیا جاتا ہے۔ لیکن ان پڑھ معاشروں میں حالات سے سمجھوتہ کرنے کو کمزوری سمجھا جاتا ہے۔ درمیانی راستے کی بجائے ڈائریکٹ ایکشن کیا جاتا ہے۔ ادویات سے علاج کرنے کی بجائے براہ راست میجر سرجری کر دی جاتی ہے۔ باتوں اور مذاکرات سے پیچیدگیاں دور کرنے کی بجائے آنسو گیس اور لاٹھی چارج  سے الجھنیں دور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بات بات پر نیا طوفان کھڑا کر لیا جاتا ہے۔ ایک ان پڑھ عورت ہو تو حساسیت سے وہ نہ صرف خود کو برباد کر لیتی ہے بلکہ اپنے گھرانے کو بھی تباہی کے کنارے پہنچا دیتی ہے لیکن ایک ان پڑھ معاشرے میں حساسیت رچ بس جائے تو پورا معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے۔
اب اپنے سیاسی کلچر پر نظر دوڑایئے۔ کسی شخص سے ایک کانسٹیبل تھانے میں سیدھے منہ بات نہ کرے تو اس کی شکایت کا مناسب طریقہ اپنانے کی بجائے فوری ایس ایس پی کی برطرفی کا مطالبہ کردیتا ہے۔ کسی شخص کو شکایت کسی محکمے کے ایک کلرک سے ہوتی ہے لیکن وہ استعفٰی کا مطالبہ محکمے کے ڈائریکٹر سے کر دیتا ہے۔ نکاسی ایک جمعدار سے نہیں ہو رہی ہوتی لوگ ڈنڈے اٹھا کر پورے واسا کو گھیر لیتے ہیں۔

موجودہ صورتحال دیکھیئے، درمیانی راستہ نکالنے کی بجائے ہمیشہ انتہائی اقدام اٹھایا گیا ہے!!!  نوازشریف کے خوف سے  سپریم  کورٹ کا فیصلہ ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا جاتا ہے، اسلام آباد کو سیل کرکے قانوں و انصاف کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں۔
دن رات عدلیہ کی آزادی کا راگ الاپنے والے پسند کا فیصلہ نہ آنے کی صورت میں عدلیہ کا گھیراؤ کر لیا جاتا ہے، عدلیہ کو آزاد کہنے والے ایک لمحے میں اسے ‘‘غلام گردش‘‘ سے تشبیہ دینے لگتے ہیں۔
پر امن احتجاج کو امن عامہ کا مسلہ بنا کر لاٹھی چارج شروع کر دی جاتی ہے۔
مسائل کو حل کرنے کی بجائے میڈیا کو دوشی ٹھہرا کر نشریات بند کر دی جاتی ہیں، میڈیا تو وہی دکھا رہا ہوتا ہے جو ہو رہا ہوتا ہے، ‘‘ہونی‘‘  کو ٹھیک کرنے کی بجائے دوسرے انتہائی اقدام کا راستہ اپنایا جاتا ہے۔
عجیب قوم ہیں، مشکل مگر سیدھا راستہ چننے کی بجائے ‘‘شارٹ کٹ‘‘ ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں،  نظام کو ٹھیک کرنے کی بجائے اس کے خاتمے کے درپے ہو جاتے ہیں۔ وردی کے مسلے پر کوئی درمیانی راہ نکالنے یا متحد ہو کر صدراتی مقابلہ کرنے کی بجائے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ صدر ‘‘فی سبیل اللہ‘‘ وردی اتار دیں۔ عجیب ذہنیت ہے دانت کے درد پر پورا جبڑا نکلوانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ اتنی سے بات سمجھ میں نہیں آتی کہ جوئیں پڑ جائیں تو سر سے بال ختم نہیں کرتے بلکہ سر سے جوئیں ختم کرتے ہیں۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

بس ایک صلح کی صورت میں جان بخشی ہے

رانا سعید دوشی کی یہ غزل آجکل کے حالات کی کیا خوب عکاسی کر رہی ہے، پڑھیئے اور اپنی رائے سے آگاہ کیجئے۔


 کہاں کسی کی حمایت میں مارا جاؤں گا
میں کم شناس مروت میں مارا جاؤں گا
میں مارا جاؤں گا پہلے کسی فسانے میں
پھر اس کے بعد حقیقت میں مارا جاؤں گا
میں ورغلایا ہوا لڑ رہا ہوں اپنے خلاف
میں اپنے شوقِ شہادت میں مارا جاؤں گا
مجھے بتایا ہوا ہے میری چھٹی حس نے
میں اپنے عہدِ خلافت میں مارا جاؤں گا
میرا یہ خون میرے دوستوں کے سر ہوگا
میں دوستوں کی حراست میں مارا جاؤں گا
میں چپ رہا تو مجھے مار دے گا میرا ضمیر
گواہی دی تو عدالت میں مارا جاؤں گا
بس ایک صلح کی صورت میں جان بخشی ہے
کسی بھی دوسری صورت میں مارا جاؤں گا

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

طاقتور حکمرانوں کی جبری رخصت

نوابزادہ لیاقت علی خان
وزیراعظم لیاقت علی خان قائداعظم کی وفات کے بعد مسلم لیگ کے طاقتور ترین لیڈر کے طور پر ابھرے۔ ان کے دور میں گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین تھے جو طبعََا کمزور تھے اس لئے لیاقت علی خان طاقت کے مرکز بن گئے۔ وہ مسلم لیگ کے صدر بھی تھے اور وزیراعظم بھی۔ ان کے دور میں صوبائی انتخاب ہوئے جن میں حزب اختلاف کو بہت کم سٹیں ملیں۔ اپنے سیاسی مخالفین کو نااہل کرنے کے لئے پروڈا کا قانون بنایا گیا۔ لیاقت علی خان کا احترام بھی بہت تھا لیکن اقتدار کی مرکزیت کے نقصانات اپنی جگہ تھے۔ لیاقت علی خان کا زمانہ شرافت کا دور تھا، اس لئے حالات میں زیادہ بگاڑ نہ ہوا۔ لیاقت علی خان طاقتور ترین حکمرانوں میں شمار ہوتے ہیں، انہیں لیاقت باغ کے جلسہ عام میں گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔


 


ایوب خان
لیاقت علی خان کے بعد آنے والے حکمرانوں غلام محمد اور سکندر مرزا کی اقتدار کی مدت کم تھی۔ لیاقت علی خان کے بعد ایوب خان مارشل لاء کی صورت میں طاقتور ترین حکمران بنے۔ انہوں نے ملک میں پارلیمانی نظام کا خاتمہ کر کے صدارتی نظام نافذ کر دیا، بنیادی جمہوریتوں کا نظام نافذ کیا اور صدارتی انتخاب میں محترمہ فاطمہ جناح کو ہرا دیا۔ صدر ایوب کے دور میں ان کی ذات میں طاقت کا ارتکاز اس قدر تھا کہ انہیں ‘‘لائل پور کا گھنٹہ گھر‘‘ کہا جاتا تھا کیونکہ ہر بازار اسی میں کھلتا تھا۔ ایوب خان کے زمانے میں ایبڈو کا قانون بنا۔ جس میں ہزاروں سیاسی کارکنوں اور سہروردی، دولتانہ اور ممدوٹ جیسے رہنماؤں کو ایبڈو کر دیا گیا۔ اکثر سیاسی رہنما سیاست سے لا تعلق ہو گئے۔
صدر ایوب اپنے پرتشدد اختتام سے اس لئے بچ گئے کہ انہوں نے خود ہی گول میز کانفرنس بلا کر اپنے کئے گئے اقدامات کی نفی کر دی اور صدارت کی جگہ پارلیمانی نظام کے نفاظ پر رضا مندی ظاہر کر دی۔ اس طرح صدر ایوب جیسا طاقتور حکمران بھی بالآخر صدر یحیٰی کے مارشل لاء کی صورت میں رخصت ہوا۔


 


ذوالفقار علی بھٹو
ذوالفقار علی بھٹونے پاکستان کا ایک بازو مشرقی پاکستان الگ ہونے کے بعد اقتدار سنبھالا۔ انہوں نے ملک کو 1973ء کا آئین دیا اور ملک ملک بھر میں ہر شعبے میں اصلاحات کیں لیکن انہوں نے پے در پے آئینی ترامیم کر کے عدلیہ کی آزادی محدود کر دی، پھر اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ ان کا رویہ ہر لحاظ سے غیر جمہوری تھا۔ ملک میں ایک طاقتور پارٹی کے قیام کے باوجود بھٹو اپنے چند انتہا پسندانہ واقعات کی وجہ سے غلط سمت میں بڑھتے رہے۔ 1977ء کے انتخاب میں وہ آسانی کے ساتھ سادہ اکثریت سے جیت سکتے تھے لیکن چند شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں نے دھاندلی کر کے سارے انتخابی عمل کو مشکوک کر دیا۔ اس دھاندلی کے نتیجے میں احتجاجی تحریک نے جنم لیا جس کے دوران مارشل لاء نافذ ہو گیا اور پھر بالآخر نواب محمد احمد خان قتل کیس میں بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔


 


ضیاءالحق
ذوالفقار علی بھٹو کے بعد جنرل ضیاءالحق بلا شرکت غیرے گیارہ سال تک پاکستان کے حکمران رہے۔ انہوں نے بھٹو کو سیاسی منظر سے ہٹانے کے لئے ہر حربہ اختیار کیا۔ سیاسی کارکنوں کو کوڑے مارےگئے، اخبارات پر سنسر شپ نافذ رہی، سیاسی مخالفین جیلوں میں بند رہے، عدلیہ کی آزادی محدود رہی۔
جنرل ضیاءالحق نے 1985ء میں غیر جماعتی انتخاب کروائے اور محمد خان جونیجو کو وزیراعظم بنا کر مسلم لیگ کو تشکیل دیا گیا۔ بعدازاں جنرل ضیاءالحق نے جونیجو حکومت اور اسمبلیاں توڑ کر پھر سے نئے انتخاب کروانے کا اعلان کر دیا۔
جنرل ضیاءالحق کے دور میں افغانستان میں افغان مجاہدین کی مدد کی گئی اور امریکہ کی آشیرباد اور عملی مدد سے روس کو بالآخر افغانستان سے نکلنا پرا لیکن اس جنگ کے اثرات اب بھی افغانستان پر خانہ جنگی کی صورت منڈلا رہے ہیں۔ جنرل ضیاءالحق 1988ء میں طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔


 


میاں نواز شریف
جنرل ضیاءالحق کے کنٹرولڈ ڈیمو کریسی کے نظام میں جونیجو، بے نظیر، نوازشریف، بے نظیر کے بعد جب نواز شریف دوسری بار وزیراعظم بنے تو وہ طاقتور ترین حکمران تھے۔ انہوں نے جنرل ضیاءالحق کے زمانے میں صدر کو اسمبلی توڑنے کے اختیار کو آٹھویں ترمیم ختم کر کے بے اثر کر دیا۔ صدر کے اختیارات وزیراعظم کو منتقل ہو گئے، ارکان پارلیمنٹ کے اختیارات محدود ہو گئے، سیاسی مخالفین کے خلاف مقدمات بنائے گئے، بے نظیر بھٹو کو کرپشن کے ایک مقدمے میں سزا سنائی گئی۔
نواز شریف جب دوسری بار اقتدار میں آئے تو انہیں بھاری مینڈیٹ ملا، تاہم انہوں نے اپنے سیاسی مخالفین کو ٹارگٹ بنائے رکھا۔ جبکہ اپنی پارٹی کے کسی رکن کا احتساب نہ کیا۔ نواز شریف کے دور میں جنرل جہانگیر کرامت نے نیشنل سیکورٹی کونسل کے قیام کی ضرورت پر ایک تقریر کی تو انہیں استعفٰی دینے پر مجبور کر دیا گیا۔ بعدازاں جنرل پرویز مشرف کو ہٹا کر جنرل ضیاء الدین کو چیف آف آرمی چیف بنانے کی کوشش کی گئی۔ جنرل پرویز مشرف کے طیارے کو پاکستان میں نہ اترنے کا حکم دیا گیا جس پر بالآخر فوج نے اقتدار سنبھال لیا۔


 


پرویز مشرف
جب 12 اکتوبر 1999ء  میں نواز شریف نے جنرل پرویز مشرف کو ہٹا کر آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل خواجہ ضیا الدین کو نیا آرمی چیف مقرر کرنا چاہا، اس وقت جنرل پرویز مشرف ملک سے باہر ایک سرکاری دورے پر گیے ہوئے تھے اور ملک واپس آنے کے لیے ایک کمرشل طیارے پر سوار تھے۔ تب فوج کے اعلی افسران نے ان کی برطرفی کو مسترد کر دیا اور جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کے اقتدار کا تختہ الٹ کر ان کو معزول کر دیا اور ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی اور تین سالوں میں الیکشن کروانے کا وعدہ کیا۔
20 مئی 2000ء میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے جنرل پرویز مشرف کو حکم دیا کہ وہ اکتوبر 2002ء تک جنرل الیکشن کروائیں۔ اپنے اقتدار کو طول دینے اور محفوظ کرنے کی غرض سے انہوں نے 30 اپریل 2002ء میں ایک صدارتی ریفرینڈم کروایا۔ جس کے مطابق 98 فیصد عوام نے انہیں آئندہ 5 سالوں کے لیے صدر منتخب کر لیا۔ البتہ اس ریفرینڈم کو سیاسی جماعتوں کی اکثریت نے مسترد کر دیا اور اسکا بائیکاٹ کیا۔ جنرل پرویز مشرف نے اپنے اقتدار کے راستے میں آنے والے بہت سے عہدیداروں کو بھی ہٹایا جن میں سپریم کورٹ کےجج حضرات اور بلوچستان پوسٹ کے ایڈیٹر بھی شامل ہیں۔
اکتوبر 2002ء میں ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ق نے قومی اسمبلی کی اکثر سیٹیں جیت لیں۔ یاد رہے کہ یہ جماعت اور جنرل پرویز مشرف ایک دوسرے کے زبردست ہامی ہیں۔ دسمبر 2003ء میں جنرل پرویز مشرف نے متحدہ مجلس عمل کے ساتھ معاہدہ کیا کہ وہ دسمبر 2004 تک وردی اتار دیں گے۔ لیکن وہ اپنے اس وعدے پر پورا نہیں اترے جن کا انہوں نے پوری قوم کے سامنے وعدہ کیا تھا۔ اس کے بعد جنرل پرویز مشرف نے اپنی حامی اکثریت سے قومی اسمبلی میں سترھویں ترمیم منظور کر والی جس کی روح سے انہیں با وردی پاکستان کے صدر ہونے کا قانونی جواز مل گیا۔ اور یوں صدر جنرل پرویز مشرف ملک کے طاقتور ترین حکمران بن گئے۔ ان کا دور حکمرانی تاحال جاری ہے۔ 6 اکتوبر کو صدارتی الیکشن ہونے جا رہے ہیں اور صدر مشرف وردی سمیت ایک بار پھر صدارتی امیدوار ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر وعدہ کیا ہے کہ وہ صدارتی الیکشن کے بعد وردی اتار دیں گے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کہانی آگے کیا رخ اختیار کرتی ہے، اس کے انجام کے لئے مجھے اور آپ سب کو انتظار کرنا ہو گا۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

ڈرنک وڈ مشرف

Drink with Musharraf


 


اسلام علیکم!


مشرف کے چاہنے والوں سے معذرت کے ساتھ چند تصویریں پیش خدمت ہیں، ان پر میں کسی قسم کا تبصرہ نہیں کرنا چاہوں کیونکہ تصویریں خود بولتی ہیں۔ واضح رہے کہ یہ fake تصویریں نہیں ہیں کیونکہ ان تصویروں کے ساتھ ان کے لنک ساتھ دیئے گئے ہیں۔
































صدر مشرف چین کے سابق صدر ہوجنتاؤ کے ساتھ Great Hall of the People بیجنگ میں ۔ ٢٠ فروری ٢٠٠٦



اس سلسلے میں مزید تفصیل چین کی سرکاری ویب سائٹ پر دیکھی جا سکتی ہے۔



 


 بیگم صبا مشرف بھارت کے سابق صدر کے آر نارائن کے ساتھ
بیگم صبا مشرف بھارت کے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے ساتھ نیو دہلی میں

ان دونوں تصویروں کی مزید تفصیل یہاں موجود ہے۔



مکمل تحریر اور تبصرے >>>

دلہن کلب

اگر آپ کنوارے ہیں، دوسری شادی کرنا چاہتے ہیں یا آپکو اپنی شریک حیات بنانے کے لئے کوئی لڑکی پسند نہیں آ رہی تو خوش ہو جایئے، اب اس فکر میں خود کو دبلا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ‘دل والے دلہنیا لے جائیں گے‘ جی !!! اس کے لئے آپ کو صرف ملائیشیا کی ٹکٹ کٹوانی پڑے گی، جہاں کھلنے والے ‘‘دلہن پسند کیجیئے‘‘ کلب آج کل بہت شہرت پا رہے ہیں۔ ایک اخباری خبر کے مطابق ان کلبوں میں شادی کے خواہشمند آتے ہیں اور پھر سٹیج پر انکے سامنے شادی کی خواہشمند درجنوں لڑکیاں واک کرتی ہیں، جسکو جو لڑکی پسند آتی ہے وہ کلب انتظامیہ سے اسکی تفصیلات حاصل کر کے شادی کی آفر لڑکی تک پہنچا دی جاتی ہے اور پھر دونوں فریقین کی رضا مندی سے انہیں شادی کے بندھن میں باندھ دیا جاتا ہے۔ یوں ان کلبوں روز کئی جوڑے ازواجی بندھن میں بندھ رہے ہیں۔ ملائیشیا کے کلبوں میں اسوقت ویتنام کی ہزاروں لڑکیاں اپنے ہونے والے مجازی خدا کی راہ دیکھ رہی ہیں۔

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

عالمی یوم بزرگان


 


آج ساری دنیا میں بزرگ افراد کا عالمی دن '' بزرگ ترقی کی نئی طاقت'' کے عنوان تحت منایا جا رہا ہے۔ دنیا میں 60 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کی تعداد میں اضافہ عالمی آبادی کے مقابلے میں دوگنا سے زائد اضافہ ہو رہا ہے، مستقبل قریب اس میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ روزنامہ جنگ کے مطابق اقوام متحدہ کے ڈیپارٹمنٹ آف اکنامک اینڈ سوشل افیئرز پاپولیشن ڈویژن کے بریفنگ پیپر 2007ء کے مطابق 2005ء سے 2010ء کے عرصے کے دوران عمر رسیدہ افراد کی آبادی میں سالانہ 2.6 فیصد کا اضافہ ہورہا ہے، جوکہ عالمی آبادی میں اضافے کی سالانہ شرح1.1 فیصد کے مقابلے میں 2 گنا سے بھی زائد ہے، جبکہ مستقبل میں یہ فرق مزید وسیع ہونے کی پیشن گوئی ہے، جس کے مطابق 60 سال سے زائد عمر کے افراد کی آبادی میں 2025-30ء تک عالمی آبادی میں سالانہ اضافے کے مقابلے میں 3.7 گنا زائد اضافہ ہوگا۔ اس وقت دنیا کے 60 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کی تعداد 70 کروڑ 50 لاکھ ہے اور ماہرین کے مطابق یہ تعداد 2050ء تک بڑھ کر2 ارب ہوجائے گی۔ پاکستان میں 60 سال سے زائد بزرگوں کی تعداد 94 لاکھ ہے، جو کُل آبادی کا 6 فیصد ہے، جبکہ مجموعی طور پر اس وقت دنیا کی 11 فیصد آبادی بزرگ ہے۔ شرح کے اعتبار سے ترقی پذیر ممالک میں بوڑھے افراد زائد ہیں، جو کُل آبادی کا 21 فیصد ہیں، جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں ایسے افراد کی شرح کُل آبادی میں سے 8 فیصد ہے۔ 2050ء میں عالمی آبادی میں بزرگ آبادی کی شرح 22 فیصد یعنی دُگنی ہوجائے گی۔ اس وقت دنیا میں 9 میں سے ایک فرد 60 سال کا ہے، جبکہ 13 میں سے ایک 65 سال یا اس سے زائد عمر ہے۔ تعداد کے حوالے سے ترقی پذیر ممالک میں بزرگ زیادہ ہیں، جن کی تعداد 45 کروڑ 30 لاکھ ہے، جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ تعداد 25 کروڑ 20 لاکھ ہے۔ آبادی کے ماہرین کے مطابق 2050ء میں ترقی پذیر ممالک میں بزرگوں کی تعداد 3 گنا اضافے کے ساتھ ایک ارب 60 کروڑ اور ترقی یافتہ ممالک میں 60 فیصد اضافے سے 40 کروڑ ہوجائے گی۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ 80 سال یا اس سے زائد عمر کے معمر افراد کی آبادی میں اضافے کی شرح 60 سال یا اس سے زائد بزرگ افراد کے مقابلے میں 50 فیصد زائد ہے اور معمر افراد کی تعداد میں سالانہ 3.9 فیصد اضافہ ہورہا ہے۔ اس وقت دنیا کی معمر آبادی 9 کروڑ 40 لاکھ ہے۔ 2050ء میں یہ تعداد 4 گنا اضافے کے ساتھ بڑھ کر 39 کروڑ 50 لاکھ ہوجائے گی۔ اس وقت 60 سال سے زائد عمر کے 8 افراد میں سے ایک 80 سال یا اس سے زائد عمر کا ہے۔ 2050ء میں یہ تناسب 5 میں سے ایک ہوگا۔ دنیا میں ایسے افراد جو اپنی زندگی کی سنچری مکمل کرچکے ہیں۔ ان کی تعداد 3 لاکھ 10 ہزار ہے۔ اس وقت دنیا میں 82 بزرگ مردوں کے مقابلے میں 100 بزرگ عورتیں ہیں۔ مجموعی طور پر مردوں کے مقابلے میں بزرگ عورتوں کی تعداد 7 کروڑ زائد ہے۔ عورتوں کا تناسب 65 سال کی آبادی میں 4 کے مقابلے میں 3 جبکہ 80 سال یا اس سے زائد عمر آبادی میں 2 کے مقابلے میں ایک ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق ایسے بزرگ افراد جو بغیر جیون ساتھی تنہا زندگی گزار رہے ہیں، ان کی شرح 14 فیصد ہے۔ جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں تنہا بزرگ افراد کی شرح 25 فیصد اور ترقی پذیر ممالک میں 7 فیصد ہے۔ تنہا زندگی گزارنے والے بزرگوں میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہے۔ 60 سال سے زائد عمر کی 19 فیصد عورتیں اکیلی جی رہی ہیں، جبکہ اکیلے زندگی بسر کرنے والے مردوں کی شرح 8 فیصد ہے۔ غریب ممالک کے ایک کروڑ بزرگ افراد روزانہ ایک ڈالر سے کم پر گزارہ کررہے ہیں۔ سب صحارا افریقہ کے 60 لاکھ یتیم بچّوں کی دیکھ بھال ان کے دادا، دادی یا نانا، نانی کرتے ہیں۔


 

مکمل تحریر اور تبصرے >>>

بلاگر حلقہ احباب